Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 27)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 27)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
فرحان جب.سے آیا تھا اسکی نظروں کے.سامنے نمرہ کا سراپا گھوم رہا تھا. … اسکا.دل نمرہ طرف کھچ رہا تھا. .. شاید یہ نکاح کی.بدولت تھا..محرم ہونےکااحساس ہی اتنا.خوش کن تھا… وہ اب تک اپنی حالت سمجھنے سے قاصر تھا. …. وہ کیا چاہتا تھا؟؟اسے خود نا پتا تھا شاید……
کیا وہ واقعی اسکے ساتھ اچھی زندگی گزارنے کا خواہش مند تھا یا اسنے اسکی مدد کی تھی لوگوں کی باتوں اور طعنوں سے بچنے کے لیے..
کیونکہ اسکی پاکی پر اور اس کے کردار پر اتنا ہی بھروسہ تھا جتنا خدا کی ذات کا واحد ہونے ہر تھا….
اسنے.یہ.کیوں کیا تھا؟؟؟ بس دل.نے کہا.تھا اسے تھام لے…یہ موقعہ پھر آئے نا آئے..کیونکہ اسکو. کسی اور کاہوتے دیکھنا اسکے بس کی بات نا.تھی….جب سے اسکے رشتے کی.بات سنی.تھی اک.آگ.میں جھلس رہا تھا وہ….مگر آج وہ.مطمئن تھا…اور شاید خوش.بھی..
پر وہ کیا سوچتی تھی یہ.اس.کے چہرے کے تاثرات اسے اچھے سے. فرحان کو سمجھا چکے.تھے….پر اسے فکر نا.تھی….
نمرہ نماز کے بعد پھر سو گئی…دن.کو 9 بجے امروزیہ بیگم.نے.انکو جگایا تھا. .گھر میں گہماگہمی عروج پر تھی….
نمرہ کو.اپنا آپ تھکا تھکا سا لگا تھا…. یہ تھکان.جسمانی نا تھی..یہ روح کی تھکان تھی. …. وہ اپنی ماں کی خاطر اس شادی پر رضامند تو ہو گئی تھی مگر اسکا دل ویرانے کے گہرے گڑھے می نیچے نیچے جاتا جا رہا تھا. …آنے والی زندگی اسے کیا دکھانے والی تھی؟؟؟ ابھی اور کتنے امتحان باقی تھے؟؟؟ کیا اسکو بھی کبھی روحانی سکون نصیب ہونا تھا یا زندگی ایسے
ہی کٹ جانی تھی؟.
ایک ماہ بعد اسکے فائینل ائیر کے پیپر تھے. .اسکے پانچ سال کی محنت کا.انحصار اب انہی پر تھا … اسی.نتیجے پر اسکے مستقبل کا فیصلہ ہونا تھا …پر اب یہ.سب اچانک. ..وہ سمجھ نہی پارہی تھی کیا کرے کیا نا کرے….
اسکی سوچ کا تسلسل مقدس کی آواز نے توڑا تھا….
نمی..جلدی سے فریش ہو کر ناشتہ کر لے پھر پارلر جانا ہے….
اسنے اسکو.اٹھاتے ہوئے کہا تھا…
ہوں ہاں آتی ہوں. ..
اسنے آہستہ سے جواب دیا.ِ…
مقدس کو وہ بہت اداس لگی تھی….وہ جانتی تھی اسکی حالت پر اب وہ کچھ کہہ.کر.اسکا.دل.خراب نہی کرنا.چاہتی تھی…
نمرہ نے رونا.بلکل.بند کر.دیا تھا..وہ.اپنا.غم اپنے اندر ہی دبانے کی.کوشش.کر.رہی تھی.جیسے کسی سے کوئی امید نا رہی ہو…
سب بارات کے لیے تیار.تھے…برہان اور اشعر نی کافی وقت لگا کر فرحان کا کمرہ سیٹ کروایا تھا..انھوں نے.تازہ چمبیلی, موتیے اور گلاب کے پھولوں کی سیج بنوائی تھی..کمرہ پھولوں کی تازہ خوشبو سے مہک.رہا.تھا….
عریبہ ملٹی شیڈز کا.لہنگا سنبھالے اندر داخل.ہوئی تھی…وہاں.پر صرف اشعر.موجود تھا…
خوشبو کے جھونکے نے اسکا استقبال کیا تھا….
برہان بھائی!! اسنے.کمرے.میں ادھر اُدھر دیکھ کر آواز.دی تھی…اتنے میں اشعر سامنے نمودار ہوا…
اسنے اشعر کو دیکھ کر ایک دم نظریں جھکائی تھیں. …
وہ…برہان بھائی ….کہاں ہیں ؟؟؟.
اسنے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا تھا. …جبکہ اشعر اسکا جائزہ لینے میں مصروف تھا…..
ملٹی شیڈز کا پاؤں تک آتا لہنگا. ..ساتھ کام دار چولی اور ملٹی شیڈز کا ہی دوپٹہ, کندھے سے کچھ نیچے آتےبالوں کو رول کیا گیا تھا…آج وہ بیوٹیشن سے تیار ہوئی تھی اور میک اپ میں بہت جچ رہی تھی…..اشعر اسکو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا…..
عریبہ کو جب اشعر سے کوئی جواب نا ملا تو اسنے دوبارہ پوچھا….
برہان بھائی کہاں ہیں ؟؟؟
برہان بھائی تو نہی ہیں. ..میں ہوں..
اشعر نے شرارت سے کہا تھا…جبکہ عریبہ اسکی بات پر گڑبڑا گئی. …اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی….
اشعر اسکی اس طرح آنکھیں پٹپٹانے پر ہنس دیا….
تم بتاؤ کیا کام ہے؟؟ اسنے بالآخر اس پر رحم کھاتے ہوئے پوچھا تھا. ….
وہ دوسری گاڑی کی چابی ان کے پاس تھی..وہ چاہیے. …
عریبہ.نے انگلیاں مروڑتے ہوئے کہا تھا….
ابھی وہ کہہ ہی چکی تھی کہ.اشعر آگیا….
بھائی گاڑی کی چابی….آپ کے پاس تھی؟؟؟
عریبہ نے پوچھا تھا…
ہاں میرے پاس ہے..تم لوگ ہو گئے ریڈی؟؟؟
برہان نے پوچھا تھا..
جی بھائی!!
اسنے بس.اتنا جواب دیا….وہ مسلسل خود پر اشعر کی نظریں محسوس کر رہی تھی …جو اسکو خاصا پزل کر رہی تھیں. …
اچھا ٹھیک ہے چلا.میں بس آتا ہوں. ..
برہان نے اسکی مشکل آسان.کی اور وہ.وہاں.سے. دھڑکتے دل کے ساتھ بھاگنے کے.انداز میں باہر کو.لپکی تھی…..
پارلر میں انکو کافی وقت لگ گیا تھا….مہمان بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے شہر کا بہت بڑا اور مشہور. ہال بارات کے لیے بک کروایا گیا تھا. ..
کاشان انکو پک کرنے آیا تھا….ایمن.اور مقدس نمرہ لہنگا تھامے باہر آئی تھیں. …
وہ دونوں فل میک اپ میں لونگ میکسی پہنے بہت پیاری لگ رہی تھیں. ..نمرہ.کا لہنگا کافی بھاری کام والا تھا..اور اسکی ٹیل بھی.کافی لمبی تھی پیچھے سے…ہائی ہیل کی وجہ سے اسکو کافی جھنجلاہٹ ہو رہی تھی. ..
وہ گاڑی تک آئین تو.کاشان نے.نمرہ کو.ساتھ لگا کر اسما.ماتھا چوما. ….
ایک گرم آنسو اسکی پلکوں کی باڑ توڑ کر.جھلکا تھا…
بہت پیاری لگ رہی.ہو بل بتھوڑی…
اسنے شرارت سے ا
نمرہ کی ستواں ناک کو دبا کر کہا تھا..جس میں موجود خوبصورت نتھ اسکو حسین بنا.رہی تھی…..
کاشان بھائی.ایسا نا ہو یہ ادھر ہی دیلاب بہا دے اور تین.چار گھنٹوں کی محنت کا.کباڑا نکل جائے….
مقدس نے اسکے آنسو کو.دیکھ کر میک اپ خراب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا..نمرہ نے خفگی سے اسکو.دیکھا. …
ایمن نے نمرہ کو گاڑی میں بٹھایا اور وہ سب چل دیئے. ..
وسیع و عریض ہال کو انتہائی دیدہ زیب طریقے سےسجایا گیا تھا. ….
ساری ڈیکوریشن آف وائٹ کلر میں تھی…..
بارات آنے.کا.شور اٹھا تو سب بارات کو خوش.آمدید کہنے کو.لپکے.تھے….. انتہائی دھوم.دھام سے سب کا ویلکم کیا گیا…. برہان اور اشعر تو پراپر بھنگڑے ڈالتے داخل ہوئے تھے….سب کی خوشی دیدنی.تھی….
برہان.کو.اس طرح ناچتا دیکھ.کر.مقدس.نے.منہ کر بڑبڑایا تھا..”شکل سے ہی بندر لگتا ہے,”..حالانکہ وہ وائٹ شیروانی میں , بال.جیل.سے سیٹ کیے بلا کا ہینڈسم لگ رہا تھا….
فرحان بلیک شیروانی پہنے کسی شہزادے کی طرح رعب لیے آگے بڑھ.رہا.تھا…..
اس سب کے بعد.امروزیہ بیگم.نے انکو ن.رہ.کو.لے انے کا کہا تھا….
وہ دونوں باقی کزنز کے ساتھ نمرہ کو لانے چل دیں….
وہ کمرے.میں گئیں تو.نمرہ خاموشی سے اچھی بچی بن کر بیٹھی تھی….
چلیں جی آگئی.آپکی بارات….
مقدس نے شرارت سے کہا تھا…..
بارات یا موت کا پروانہ ؟؟؟.وہ تاسف سے بس.سوچ ہی.سکی…..
ایمن اور مقدس اسکے دائیں بائیں کو ہو.دیں جبکہ.باقی سب.اسکے.پیچھے.اسکا لہنگا اٹھا رہی تھیں. ..
وہ ہال میں اینٹر ہوئی تو.ہر ایک کی نگاہ اسکی جانب اٹھی تھی….
نگاہوں میں بھوپور ستائش ابھری تھی….
سلور کام سے بھری چھوٹی سے چولی. اور نیچے. برائیٹ ریڈ کلر کا نیٹ کا بہت زیادہ گھیر والا خوبصورت لہنگا جس کی.ٹیل بھی کافی.لمبی.تھی.جو لڑکیاں پیچھے سے اٹھا کر چل.رہی تھیں. ….لمبے بال أج خوبصورت ہائی جوڑے میں بند تھی جسکی بدولت اسکی صراحی دار گردن مزید نمایاں ہو گئی تھی…آگے سے ایک.ساہیڈ کا پف بنا.کر چند.لٹیں نکالی.گئی تھیں. …. ایک طرف خوبصورت سا جھومر لٹکائے اور ستواں ناک میں باریک.نتھ جس پر موتی بھرے ہوئے تھے…. اسکی اپنی گھنی.پلکیں اور پھر مسنوئی پلکیں مل.کر اسکی آنکھوں کو غضب کا خوبصورت بنا رہی تھیں. … پنکھڑی جیسے لبوں کو ہوٹ ریڈ کلر کی.لپسٹک سے سجایا گیا تھا…..
وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی یاشاید کوئی حور… وجہ شاید اسکا سوگوار حسن.تھا..اسکی آنکھوں کا.سوگ اسکو.مزید دلنشیں کر رہا تھا…. پانچ انچ کی.ہیل.پہنے وہ اچھی خاصی.لمبی.لگ رہی تھی….
آرام آرام سے کسی.شہزادی کی.سی شاندار.اور پروقار چال چلتی وہ آگے بڑھ.رہی تھی…..
فرحان کی.اسکی.نگاہ پڑی تو وہ حیران.رہ.گیا..اس قدر ٹوٹ کر روپ آیا تھا اس.پر…. اسکا دل بے.قابو.ہونے.لگا تھا…دھڑکن.تیز ہوئی تھی… اسکی.آنکھوں میں واضح پسندیدگی.اور ستائش ابھری تھی….
وہ سٹیج پر چڑھنے لگی تو فرحان نے ہاتھ آگے بڑھایا…. اسنے ایک دم نگاہ اوپر کو اٹھائی.تھی…دونوں کی نظریں ملی.تھیں اور یہ.منظر فوٹوگرافر نے پیشہ وارانہ مہارت.کے ساتھ فوراً قید کیا تھا….
نمرہ کا دل کیا اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکو نیچے کھینچ کر گرا.دے….
مگر کیا.کرتی…وہ چاہ کر بھی اسکا ہاتھ نا.تھامنے کی غلطی نہی کر سکتی تھیِِ…. ورنہ.کل.رات کی.حرکت. وہ ابھی بھولی نا.تھی….
اسکا بڑھا.ئو.اہاتھ.دیکھ.کر سب.نے.شور کیا..
ہو..ہو…تھام.لیں.بھابھی…
سب نے.ایک.آواز.ہو.کر.کہا.تھا….
نمرہ نے اپنا.یخ ٹھنڈا ہاتھ آہستگی سے اسکے ہاتھوں میں رکھا تھا….
اسکی ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس.کو.کے فرحان.چونکا.تھا….
شاید وہ گھبرا.رہی.تھی….
جبکہ.فرحان کا لمس نمرہ.کو.کانپنے.پر.مجبور کر گیا تھا….اسکے وجود میں سنسنی.خیز.لہر دوڑی تھی… اساک چھونا.نمرہ کی.برداشت سے باہر
تھا.اسکو اپنا وجود اپنا ٹھنڈا ہونے کے باوجود دہکتے کوئلوں کی زد میں جھلستا ہوا.محسوس.ہوا تھا…
وہ.سٹیج.پر چڑھی تو ایمن اور.مقدس نے اسکو بٹھانے میں مدد کی..فرحان کے ساتھ بٹھانے کے.بعد انھوں نے.اسکا.لمبا سل لہنگا سٹیج پر ایک طرف سیٹ کیا تھا…
لاکھ کوشش کے باوجود فرحان کی نظر بار بار بٹھک کر اسکے چہرے کا طواف کرنے کو.بضد.تھی…..
جبکہ نمرہ.نے دوبارہ اس پر غلطی سے بھی نگاہ ڈالنا گوارہ نا.کیا.تھا. …..
اسکے آس پاس کیا.ئو.رہا تھا…کون آرہا تھا کون.جا رہا تھا,کون.اس.سے مل.رہا.تھا.اور کون کیا.کہہ رہا.تھا.اسے.کچھ خبر نا.تھی…وہ.ہر.شے سے لاتعلق تھی….جسمانی طور پر وہاں ضرور موجود تھی مگر ذہنی طور پر وہ غائب تھی. ….
چونکہ.اب.شادی پوری تیاری اور دھوم دھام سے ہو رہی تھی لہذا اسکے یونی فیلوز. اور کچھ سینئر ڈاکٹر بھی مدعو تھے….
وہ سب نمرہ.کے.ساتھ تصویریں بنوانے.میں مشغول.تھے….
نومان بھی آیا ہوا تھا..وہ بھی باقیوں کے ساتھ سٹیج.پر آیا…
اتنی اچانک نمرہ کی شادی کا سن کر اسے دھچکا لگا تھا…مگر وہ یہ نا جانتا تھا کہ اسکی شادی “کس” سے ہورہی تھی…..
فرحان کو آج.دیکھ.کو.وہ چونکا تھا…. فرحان کی نظر اس.پر پڑی تو اسکے.چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی.جو نومان کا دل جلا گئی. ….
آج اسکی آنکھوں میں جیت کا جشن تھا جیسا تین.سال پہلے.نومان کی نظروں میں نمرہ کو ساتھ لے جاتے ہوئے تھا….وہ بالآخر آج پھر جیت چکا تھا…..
نعمان نے خود کو کمپوز کیا.تھا..اب.کوئی فائدہ بھی تو.نا.تھا.بھڑکنے.کا….اور ویسے بھی اب وہ.اس کھیل سے اکتا چکا.تھا اس کھیل سے…. وہ مزید فرحان کو نیچا دکھانے میں اپنا بھائی کا.ساتھ.نا.دینے کی.حامی.بھر.چکا.تھا….
وہ.سٹیج.پر آیا اور ان.دونوں کو خوشدلی.سے.مبارک.باد دی جو فرحان نے تو.بھوپور.مسکراہٹوں سے وصول کی مگر نمرہ نے.کوئی.جواب نا.دیا…
سب اسکو اچھے نصیب کی.دعا دے رہے تھے….
ہوں…اچھا نصیب… کاش آج.اس ڈولی.کی.جگہ میرا جنازہ اٹھ جاتا…
وہ تلخی.سے سوچنے.لگی…
سب لوگ کھانا.کھانے.گئے تو.فرحان اور.نمرہ.کو فوٹو شوٹ کے.لیے لے.جایا.گیا….
سر آپ پلیز میم کا.ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگائیں. …
فوٹوگرافر نے اسکو تاکید کی.تھی.جبکہ.اسکی.بات سن.کر ہاس کھڑی نمرہ کی.آنکھوں میں شعلے ابھرے تھے…..
سوری مگر میں مزید فوٹوز نہی بنوانا چاہتی…اسنے کاٹ کھانے.والے.لہجے.میں کہا.تھا…
بٹ.میم ابھی تو بامشکل تین چار پکس ہی.کلک کی.ہیں. .پورا ایلبم بنانا.ہے…
فوٹوگرافر نے.اس.سے.کہا.تھا..
اس.سے پہلے وہ.کچھ.کہنے.کے.لیے.لب.کھولتی وجاہت آفندی انکی طرف آ چکے تھے….
ہاں بھئی…کہاں.تک.پہنچا…
انہوں نے دونوں سے پوچھا…
سر وہ میم….
ابھی اسنے اتنا ہی.کہا.تھا کہ.فرحان بیچ میں بولا…
آپ کونسا پوز.کہہ.رہے تھے.؟؟
اسنے پوچھا.تھا…
سر.میم کے.ہاتھ پر کس.کریں..
فوٹوگرافر نے پیشہ وارانہ انداز میں کہا تھا…
اور فرحان نے ایک ہمحہ گزرے بغیر نمرہ کا.ہاتھ تھاما تھا…اور اپنے دہکتے لب اسکے.ہاتھ کی پشت پر رلھ دیے تھے..نمرہ تو بوکھلا.ہی.گئی تھی.اسکی اس جسارت پر….
اسکا لمس اسکو سن کر.گیا تھا…
اسے.لگا.تھا اسکی.روح فنا.ہونے.لگی.ہے…. جیسے وہ سانس نا.لے پائیگی…. مگر لبوں پر قفل تھا… شاید وہ لوگوں کی.موجودگی کی.خاطر.نا.بول.پائی.تھی….اور اسکی.اسی.مجبوری.کا.فائدہ وہ.اٹھا رہا تھا….
ایک کے.بعد ایک پوز وہ اسکو.بتا رہا.تھا…
سر میم کی.کمر.پر.ہاتھ.رکھیں. ..
اب.کی.بار روٹوگرافر نے نئی فرمائش کی.تھی…
نمرہ کا.دل.کیا.اسکا کیمرہ اسکے.سر میں دے.مارے اور بھاگ جائے….
فرحان نے نظریں.اسکی غیض و غضب سے لال چہرے پر سے ہٹا کر اسکی.کمر کو.دیکھا.تھا…چھوٹی سی.چولی.فٹنگ میں تھی….. نہایت نازک کمر نمایاں.تھی…. اگر کوئی.شاعر.ہوتا.تو.ضرور. اسکی.پتلی.کمر.پر شعر ضرور.کہتا….
فرحان نے آہستگی.سے اسکی.کمر.کو دونوں طرف سے چھوا تھا…نمرہ نے ایک دم اسکی.طرف دیکھا..اور فرحان نے.ہاتھوں پر زور ڈال.کر.اسکو.اپنے.سمت.کھینچا تھا…وہ ایک دم.اسکے.سینے پر آئی تھی….
ابھی.فوٹوگرافر نے.پک.کلک.کی.ہی.تھی کہ.نمرہ.نے.ایک.دم اپنی.باریک پینسل.ہیل کو کو.اٹھا.کر فرحان کے.پاؤں پر دے.مارا تھا اپنا پاؤں. …
فوٹوگرافر سے اسکی یہ حرکت.چھپی نا.رہ.سکی.تھی…وہ اپنی ہنسی بامشکل چھپاتا ادھر اُدھر.دیکھنے.لگا….فرحان ایک.دم.پیچھے ہوا.تھا…اسکے وہم و گمان میں بھی.نا.تھا.کہ.وہ جو.کب سے چپ.تھی یوں ہٹلر کا.روپ دھار کر حملہ.کر دے.گی….
ہیل باریک ہونے کی وجہ سے اسے کافی زور سے لگی تھی….
اسنے غصے سے.نمرہ.کی.جانب.دیکھا…..پر یہ.کہاں..اسکے.دیکھتے ہی.نمرہ.نے فخریہ مسکراہٹ اسکی.جانب اچھالی.تھی…جیسے وہ اندر تک سکون.میں ہو….
آنکھوں میں واضح.وارننگ.تھی.کہ.باز.آجاؤ.ورنہ اس سے بھی برا ہو.گا….
اسکی.مسکراہٹ دیکھ.کر فرحان کا.غصہ چھو ہوا تھا…. اسکی.واننگ کو.سمجھتے ہوئے فرحان بھی بھرپور انداز.میں مسکرایا تھا…
چیلنچ اور بھی فرحان شاہ.کو….شاید وہ.جانتی.نا.تھی.کہ.چیلنچ ایکسیپٹ کرنا.اور.پھر.جیتنا.فرحان کی.پسندیدہ. “عادت” تھی…..
چلیں دیکھتے ہیں نمرہ.فرحان آپ اس سے آگے اور کیا.کر سکتی.ہیں. ..
اسنے مسکرا کر سوچا تھا…اور نمرہ کا بازو.پکڑ کر اسے دوبارہ اپنی.طرف کھینچا تھا…جیسے ہی وہ اسکے قریب آئی فرحان نے اسکے گرد حصار تنگ کر.کے اسکے ماتھے.ہر اپنے.لب رکھ چھوڑے تھے….
نمرہ تو.ہکا.بکا رہ.گئی وہ.جو یہ سمجھی بیٹھی تھی کہ.اب وہ.اچھا سنق.سکھا.چکی.ہے اسکی اس.حرکت نے اسے شکست کا.منہ.دکھا.دیا….
کلک کی.آواز.سے.یہ.منظر قید ہوا تھا…
نمرہ کھولنے.لگی تھی شدید غصے سے… ہارنے کی عادت تو اسکو.بھی نا تھی تو اس شخص سے کیسے ہار مان لیتی. …… اسنے اپنا.ہاتھ جو.کہ.فرحان کے.سینے.ہر تھا آرام سے.نیچے کر اسکے پیٹ تک.لایا…اور ایک بھرپور زور سے چٹکی اسکو.کاٹی….
لمبے ناخنوں نے اس.نیک کام میں اسکا بھرپور ساتھ دیا تھا…
فرحان تو بلبلا ہی اٹھا تھا…. جیسے کسی.نے زور سے سوئی چبھو دی ہو…..
نمرہ پیچھے
ہوئی اور فوٹوگرافر کو کھا.جانے.والی گھوریوں سے نوازا کہ اب.اگر اور کہا.تو تمہاری بھی خیر نہی….
وہ بیچارہ بامشکل تھوک نگل سکا تھا…
اور نمرہ چلتی بنی…
جبکہ.فرحان کو سمجھ نا آرہا.تھا کہ.ہوا.کیا.تھا اس.کے ساتھ….وہ ایسی.عجیب و غےیب قسم.کی حرکتیں بھی کر سکتی تھی….وہ تاسف سے سوچتا ہی رہ گیا…
ایمن ہم جوتا چھپائی.کی.رسم.نہی کر سکتے کیا.جیسے. انڈین ڈراموں میں ہوتا ہے؟؟؟
مقدس.نے شوق سے پوچھا تھا. …
پاس.کھڑا برہان اسکی بات سن چکا تھا. …اس سے پہلے ایمن کچھ بولتی وہ بول پڑا..
لگتا ہےجوتے چھپانا.اور جوتے چھننا آپکا پسندیدہ مشغلہ.ہے!!!!
جبکہ اسکی آواز.سن.کر.مقدس.نے چونک.کر.ایک.طرف کھڑے برہان.کو.دیکھا تھا….
اسنے ایک.دم خشمگین.نگاہوں سے اسے گھورا…
اور.لگتاہے ماسی.پھتو بن کر دوسروں کی سننا آپ.کا.پسندیدہ مشغلہ ہے!!
وہ بھی مقی.تھی چپ رہنا کہاں آتا تھا اسکو…
اور ہاں.شاید لیڈیز.جوتے خریدنا.بھی..!!!!
اسنے.اس.کے لڑکیوں والے جوتے خریدنے.پر چوٹ کی.تھی حساب برابر.کیے بنا چین کیسے آتا اسکو….
اسکی بات سن کر برہان نے.اسکو.گھورا تھا….
میرے مشغلوں کو لے کر آپ کیوں اتنی پریشان.ہو.رہی.ہیں…
اسنے مسکراہٹ دبا.کر جان.بوجھ کر کہا.تھا….
تاکہ.وہ.مزید.تپ.کر.اسے کوئی.جواب.دے….
ہوں مجھے کیا.جو.مرضی.کریں…دس جوڑے خریدیں. …جہیز میں لے کر چلے جانا…
مقدس نے دانت دکھاتے ہوئے.کہا.تھا….
محترمہ جہیز.لڑکے نہی.لڑکیاں لاتی ہیں …
برہان.نے اسکا.مذاق اڑایا تھا…
مجھے پہلے ہی آپ سے یہی توقع تھی یعنی آپ بھی جہیز بٹورنے والوں میں سے ہیں. ..
مقدس نے افسوس سے کہا تھا…
ارے آپ.تو ایسے.پریشان.ہو رہی.ہیں جیسے آپ.سے جہیز بٹورنے والا ہوں میں. …پریشان نا.ہوں آپ.سے.شادی کا. فلحال کوئی.ارادہ نہی.میرا….
برہان نے انتہائی شریر لہجے میں کہا تھا..جبکہ.اسکی.بات پر مقی تو ہتھے سے ہی اکھڑ گئی…
ہیلا مسٹر XYZ وٹ ایور, میں کب أپ.سے شادی کو.مری.جا رہی.ہوں…. نہ.منہ.نا.متھا جن اُت تو
لتھا….
اسنے.منہ.کا.زاویہ بگاڑ کر کہا.اور چلتی.بنی…ایمن.تو.اس.ساری کاروائی کو.دیکھ کر منہ.ہی نا.بند.کر.سکی..ان.دونوں کی ایسی کونسی دشمنی تھی جو وہ ایسے تیسری جنگِ عظیم چھیڑے بیٹھی تھے….
جبکہ.مودس کی.بات سن.کر.برہان دانت.پیس.کر.رہ.گیا…وہ.اسکو.جن.کہہ.کر.گئی.تھی…
رخصتی کا وقت آیا تو ہر طرف ہلچل.سی.مچ گئی….کاشان.نے.قران پاک تھاما تھا…امروزیہ بیگم نے ایمن.جو.ایک.خوبصورت چادر دی جو اسنے.نمرہ.کو.اوڑھا دی….
کاشان.مے اسکے.سر پر قران. اٹھا رکھا.تھا..نمرہ.سے سب باری باری مل.رہے تھے…امروزیہ بیگم.سے.ملنے.لگی تو.انھوں نے.اسکی آنکھوں میں دیکھا….شکوہ بہت صاف عیاں تھا….. جیسے وہ.ان.سے خفا ہو…
انھوں نے آنسوؤں بھری آنکھوں سے.اس.کو.خود.میں بھینچ.لیا….اور انکا ایسا کرنے کی.دیر.تھی.کہ.نمرہ.کا.ضبط.بھی.جواب.دے.گیا…گرم.گرم آنسوؤں کی لڑی اسکی.آنکھوں سے بے.اختیار بہنے.لگی.اور اس.کے.بعد.بہتی گئی….
خوش.رہا..آباد رہو…اپنی ماں سے ناراض ہو.کر.تو.مت جاؤ…
انھوں نے اسکا چہرہ ہاتھوں کے.پیالے میں لے.کو کہا.تھا…
بیٹا.بھول.جاؤ.سب پرانی.باتیں. ..خود.کو.اذیت مت دینا..یہ میری گزارش.سمجھ.لو….
انھوں نے اسکا ماتھ چوما تھا…
نمرہ.نے انکا.ہاتھ چوم لیا…
اسکے بعد.ملک.سیال سے ملنے پر تو اسکی ہچکی.بندھنے.لگی…اسکا.دل.پھٹنے.لگا تھا…وہ اپنوں سے دور کیسے رہ پائیگی؟؟ کیا وہ واپس اس گھر.میں کبھی.نا آ پائیگی ہمیشہ کے لیے؟؟؟ جہاں اسکی زندگی کے اکیس سال.گزرے تھے…جہاں اس.کے بےتحاشا.لاڈ اٹھائے گئے تھے..جہاں پیار کرنے والے باپ کا شفقت بھرا سایا تھا تو جان.نچھاور کرنے والی.سہیلی جیسی ماں کا.ساتھ…. دنیا.کی نظروں سے بچانے والے بھائی.تھے…. جن.کی.نوک.جھونک سے اسکی زندگی حسین تو ہو جاتی تھی….
پر آج اسے جانا.تھا.یہ.سب.چھوڑ کر…. جس کی خاطر اسکو.یہ.سب.کرنا.پڑا تھا اگر وہ انسان.ستم گر کہ.بجائے چارہ گر ہوتا…. نفرت کے بجائے محبت نچھاور کرنے والا ہوتا…. تو.شاید اسکو اتنی تکلیف کا احساس نا ہوتا….
کاشان سے ملنے.کے.بعد وہ ارسلان کے.گلے.لگی تھی….جو.اب کافی لمبا ہو چکا تھا….
بس.کر دو.نا.بن.بتھوڑی…مجھے بھی.رولاؤگی. کیا….
اسنے.اسکو.ساتھ لگاتے ہوئے.کہا.تھا…اور پھر نرمی.سے.اسکے آنسو پونچھے کہ.میک.اپ.بھے.خراب.نا.ہو….
نمرہ.نے.اہنا.ہاتھ اسکے.ہاتھ میں رکھا اور اسکو.ایک چابی.تھما.دی…
یہ..یہ.تو تمہاری گاڑی کی.ہے.نا؟؟
ارسلان.نے آنکھوں میں الجھن لیے پوچھا تھا….پر وہ اسے کیوں تھما رہی.تھی…
نمرہ.نے ہاں میں سر.ہلایا تھا…
یہ آج سے تمہاری ہوئی….
اسنے.نم آنکھوں سے.مسکرا کر جواب.دیا تھا…
وہ جانتی.تھی اسکی.گاڑی ارسلان.کو.بہت پسند.تھی..ابھی.وہ.اتنا.بڑا.نا.ہوا تھا سو.اسکی اپنی.گاڑی نا تھی…سو.اسنے اہنی.کار اسکو.دے.دی..
پر آپی!!! ارسلان.نے.کچھ کہنا.چاہا…
چپ کرو…جو.میں کہہ.رہی.ہوں وہ.سنو.بس..زیادہ.بولا.نا آگے سے تو بابا کو بتاؤں گی….
نمرہ.نے اپنی مخصوص دھمکی.اسکودی تھی….
اس.کے بعد وہ مقی اور ایمن.سے ملی…
زیادہ ٹینشن نا.لینا.ایگزیمز کی…ہم جانتے ہے تو.ہی ٹاپ کرے گی..سو بس.ہنی مون پیریڈ انجوائے کرنا…
مقدس نے شرارت سے کہا.تھا…
نمی.دیکھ ہم.جانتے ہیں تیرے.دل.کی حالت. ..ہر پلیز تو ایک موقع اور دے دے فرحان بھائی کو… انھوں نے غلط کیا.اور شاید وہ شرمندہ بھی ہوں. .تو انکو معاف کر دینا….اور سب نئے.سرے سے شروع کرنا..
ایمن.نے اسکو.سمجھایا تھا…
ایمن تجھے لگتا.ہے اس.انسان.کو کوئی پچھتاوا ہے؟؟ مجھے تو.نہی.نظر.آیا..اور.معاف کرنے کی بات تو تب آتی ہے نا جب اسکو کوئی ملال ئو..وہ.معافی مانگنے والا بنے تو…
مگر ایسا تو کچھ ہے.ہی نہی…فرحان شاہ کیوں معافی مانگیں. ..انکی انا کا کیا بنے گا پھر؟؟؟
نمرہ نے تلخی سے کہا تھا….
اور کار کی جانب بڑھ گئی…
