Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 26)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

مقدس اور ایمن کو فون کر کے امروزیہ بیگم نے بلا لیا تھا..وہ جانتی تھیں

وہ اس وقت پریشان ہے انسے مل.کر باتی

کر کے وہ دل ہلکا کر لے گی…اور. اسکی شادی کی شاپنگ بھی کرنی تھی…اسکے موڈ سے ہرگز نا لگ رہا تھا کہ وہ شاپنگ کے لیے رضامند ہو گی… جبکہ ایمن.اور مقدس اسکی پسند اچھی طرح جانتی تھیں. ….

وہ بیڈ.پر بیٹھی تمام حالات کو سوچ کر اپنا خون.جلا.رہی تھی جب ایک دم دروازہ کھلا اور وہ دونوں اندر ٹپکی تھیں. ..

نمرہ انکو دیکھ کر خوشگوار حیرت سے دوچار ہوئی..اسے اس وقت کسی سننے والے کی سخت ضرورت تھی جس کو وہ حال ِدل کہہ.سکتی….

تم دونوں ؟؟؟.

وہ خوشی سے انکے گلے لگی….

ہاں تو تو نے کیا.سمجھا…تو اتنی.آرام سے پیچھا.چھڑا.لے گی چڑیل…ایک تو.نکاح کر آئیں محترمہ ہمارے بغیر ہی اوپر سے اب شادی پر بھی نا آتے کیا…. نا.بھئی میں کھانا مس نہی کر سکتی تیرے ولیمے کا…

مقدس نے ئاتھ جھاڑ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا…جبکہ.اسکی بات ن کر نمرہ پھر سے اشک بہانے کی تیری کرنے لگی…اسی ایسا.کرتے دیکھ کر ایمن نے مقی کو کہنی ماری…تو.ایک دم.اسنے اہنی زبان.دانتوں تلے دبائی…

امروزیہ بیگم کچھ بات انکو.بتا.چکی.تھیں. ..

دیکھ اب.اگر تو روئی.نا تو.میں نے.چھتر اتار کر تیری چھترول کر دینی ہے…سمجھی…

ایمن.نے اس بار تیوری چڑھا کر کہا.تھا….

اسنے.نرمی.سے.نمرہ کا.ہاتھ اہنے ہاتھ میں لیا..

دیکھ نمی… مانتے ہیں یہ اچھا.نہی.ہوا.مگر جو.ہونا تھا.ہو گیا.ِبدلہ نہی جا سکتا.ِسمجھ اس بات کوِ….ہمت نا.ہار…سب.اچھا.ہو.گا…یہ سب ہونا لکھا تھا اور اسکو ایسے ہی ہونا.تھا…تو کمزور کیوں کر رہی ہے خود کو..تو بہادر ہے..تو ہم سب کا.حوصلہ ہے….

ایمن نے.اسکو.سمجھایا.تھا…

ایمن میں پھر کیوں ہار گئی؟؟ اس بار پھر قسمت کو مجھ ہر رحم نا.آیا… اب کی بار تو میں بے قصور تھی…اس بار تو کوئی خطا.سرزد نا ہوئی تھی..پھر بھی! !!!!

اسنے بچوں کی طرح سوال.کیا تھا…

نمی دیکھ یہ.اللہ.کی آزمائش سمجھ کر برداشت کر…اللہ کن.بندو کو آزماتا ہے ؟؟

اسنے.نمرہ.سے سوال کیا تھا…

اپنے پسندیدہ بندوں کو. .نمرہ نے جواب دیا..

بالکل سہی..اور پھر ان بندوں کو اجر بھی تو ملتا ہے….

نمرہ نے ہاں میں سر ہلایا…پھر کیوں ناامید ہو.رہی ہے….جسکا جہاں نصیب لکھا ہوتا ہے وہ اسے کسی بھی طرح مل جاتا ہے..پھر چاہے حالات کیسے ہی کیوں نا ہوں. …

ایمن نے کہا…

پر…پر میں کیسے اس کے ساتھ؟؟کیسے رہوں گی…

نمرہ کے لہجے میں بےچینی تھی جبکہ فرحان کا ذکر کرتے ہوئے اسکی آنکھوں میں حقارت اتری تھی…

میں نہی.رہ.سکتی..نہی برداشت کر سکتی…کیوں نا میں فرحان سے بات کروں ؟؟

اسنے ایک.دم سوالیہ نظروں سے انکو دیکھا تھا؟؟؟

کیا بات کرے گی تو؟؟کہ تو اس کے ساتھ نہی.رہ.سکتی… بےوقوف نا بن…

مقدس نے.کہا.تھا..

نن..نہی…میں اس سے کہوں گی کہ…

نمرہ.نے.اتنا کہہ کر تھوک.نگلا…

کہ؟؟؟؟

ایمن.نے.ابرو اچکا کر پوچھا. ..

کہ.وہ یہ.نکاح ختم.کر.دے..طلاق دے دے.مجھے….

نمرہ.نے.جملہ.مکمل.کیا…

کیا؟؟؟ تو.پاگل.تو.نہی.ہوگئی..پی وی تو نہی رکھی بہن؟؟

مقدس نے.اسکو جھنجھوڑا تھا…

ہاں تو اور کیا.کروں. … وہ کب.میرے ساتھ کا خواہشمند تھا….تھونپا گیا ہے مجھے اس کے سر…زبردستی مسلط کر دیا گیا ہےِ..وہ انکار کر چکا تھا صاف لفظوں میں. .اور اس کے باوجود اس کے سر.پر سوار ہوجاؤں میں ؟؟؟ میری عزت نفس قطعی یہ بات گوارہ نہی کرتی…

نمرہ نے.غصے سے کہا.تھا…

لیکن پھر اسنے خود.کیوں کہا.وہ.نکاح کے.لیے.تیار ہے؟؟ کیونکہ جیسا تو سوچ رہی ہے.شاید اب ویسا نا ہو…

ایمن.نے اہنا خیال.ظاہر.کیا.تھا…

اور.نمی تو اس.سے خود رابطہ کرے گی؟؟ اور.اگر وہ.نا.مانا تو؟؟ تو اسکی.منت کرے گی کیا؟؟ اور سوچ ذرا اس بات.سے آنٹی کو کتنا دکھ.ہو.گا؟ انکے منع.کرنے کے.بوجود تو ایسا.کرے گی.جب؟؟

ایمن.نے.اسکو باز رکھنا.چاہا تھا…اور وہ باز آ بھی گئی…

ہاں نہی..میں کیوں اسکی.منت.کروں. .میں ہرگز اس کے آگے نہی.جھکوں گی…بلکہ.اسکی زندگی وہ جہنم بناؤں گی کہ.وہ خود.مجھے چھوڑنے پر رضامند ہو.جائے…

نمرہ نے سوچ سمجھ.کر بالآخر فیصلہ کیا تھا…

لو جی تو پہلے سے سوچی بیٹھی ہے کہ ٹکنا نہی.ہے.تو نے ادھر..چپ کر جا اب…اور چل شاپنگ کرنی ہے…ایسے دلہن بنے گی.کیا…

ایمن.نے اسکو.کھینچ.کر.بیڈ سے کھڑا کیا تھا…

کالا جوڑا لے کر دینا.مجھے.شادی کے.لیے…تاکہ میں فرحان شاہ کی زندگی میں کالک گھول دوں..

نمرہ.نے.کہا.تھا..

ہاہاہا.ویری فنی…مقدس.نے.مذاق آڑایا جواباً نمرہ نے اسکو خونخوار نظروں سے گھورا تو وہ ایک.دم چپ.ہو گئی…

وہ اس وقت کمرے میں راکنگ چیئر پر بیٹھا گہری سوچ میں مصروف تھا…

اگر وہ وہاں وقت پر نا پہنچتا تو؟؟؟ اگر اسکو ذرا سی دیر ہو.جاتی تو کیا ہو سکتا تھا..وہ اس سے آگے نا سوچ سکا…

بےوقوف لڑکی..میسج دھیان سے تو دیکھتی کہ جانا کہاں ہے؟؟

وہ بڑبڑایا تھا

لیکن.جو بھی تھا.وہ.اس بوت.کا.اقرار کر.رہا تھا کہ.وہ اسکی.وجہ.سے.مصیبت میں پھنسی تھی…اسکی وجہ.سے ہی سب اس پر انگلیاں اٹھا رہے تھے…شاید اسی وجہ.سے اسنے نکاح کے لیے حامی بھر لی…یا.شاید دل.کے ہاتھوں مجبور ہو.کر…اسنے.یہ موقع گنوانا.گوارہ نا.کیا.تھا…. اسکے اندر ایک اطمینان تھا…شاید اسکو پا لینے کا.اطمینان کہ.وہ.اب.اسکی.تھی…

اسکو نمرہ.کے آنسو یاد آئے تھے…دل میں چبھن ہوئی تھی…ناجانے.کیوں وہ اسکو اب تک صرف آنسو.ہی.دے پایا تھا؟؟؟

وہ چاہ کر.بھی اسکی.خوشی.نا.دے.سکتا تھا…

اسکو ہاتھ لگانے پر اسکا رویہ یاد آیا..وہ.دھیرے سے مسکرا دیا…پہلی بار ہاتھ پکڑنے پر وہ بہت کچھ کہہ گئی تھی اور دوسری بار ہاتھ لگانے پر وہ بپھر گئی تھی..ناجانے آگے.کیا.ہونے.والا.تھا؟؟؟

وہ ان.سب سوچوں میں گم.تھا کہ.اشعر اندر آیا…

سالے صاحب خیریت..اکیلے اکیکے.مسکرایا جا رہا.ہے؟؟ اسنے.اسکو.چھیڑاتھا…

لگتا ہے بھابھی کی.یاد آرہی.ئوگی…دیکھ.میں سمجھ سکتا.ہوں…

مگر دیکھ تیری والی تو تین چاردن بعد ادھر ہوگی..مگر میرا کیا؟؟ چار ہفتے سوچ ذرا…

اشعر کی دہائی عروج.پر تھی جب فرحان.نے.اسکی.گردن.پکڑی…

منگنی کے بجائے شادی ہو رہی ہے یہی کافی ہے ذیادہ مت.پھیل….

فرحان نے.اشعر کو باور کرایا….

چھوڑ ظالم انسان..پتانہی نمرہ بے چاری کے ساتھ کیا.کرے.گا…جب مجھے.نہی.بخش سکتا…

دیکھ پہلے.کی بات اور تھی.ہر اب.میری شادی ئونے.والی.ہے..تو.میری حسن گردن سے جلنا چھوڑ دے..اور خبردار جو آئندہ میری گردن پکڑی..اب.اس پر تیرا حق نہی…

اشعر.نے.کالر جھاڑ کر کہا.تھا….

جبلہ.فرحان کی.سوئی نمرہ “بےچاری” پر ہی اٹکی تھی. ..

بےچاری؟؟ وہ ہٹلر تجھے بے چاری لگتی ہے؟؟؟

فرحان کو تو.جیسے صدمہ ہوا تھا….

استغفار. ..میں بتاتا ہوں اسکو.کہ.تو.ہٹلر.کہتا پھر رہا ہے اسے؟؟ انے دے ذرا…وہ لڑائیاں ڈلوائوں گا…

اشعر نے.منہ.پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا…

ہاں تو بی جمالو کا کردار ہی.نبھانا…

سوٹ کرے گا تجھے…

فرحان اسکو مذاق.اڑاتا اٹھ کھڑا ہوا ..جانتا تھا وہ.اب دماغ چاٹ کر ہی دم لے گا…سو اسنے اٹھنے میں ہی عافیت جانی….

چل شاپنگ بھی کرنی ہے دولہا صاحب…..

اشعر.نے.اسکو.یاد دلایا…

ہوں کچھ دیر تک نکلتے ہیں. ..

فرحان نے جواب دیا…

نمرہ کی.ساری.شاپنگ ایمن.اور.مقدس کر رہی.تھیں. .وہ.بس ہوں ہاں میں جواب دیتی…جیسے.اسکو.رتی برابر دلچسپی نا.تھی…حالانکہ وہ.شادیوں کی.شاپنگ بہت شوق.سے کرتی تھی….اسنے بہت.کچھ سوچ رکھا تھا اپنی.شادی کے.متعلق….. بارات کا.جوڑا کیسا ہو گا…ولیمے پر وہ.کیا.پہنے.گی…جیولری کیسی.ہو.گی…مویوں پر کیسا.میک.اپ.ہو.گا…. وہ جب.بھی بات.کرتے وہ انکو اپنے ویوز دیتی تھی…اسی وجہ.سے.ایمن اور.مقدس اسکی ہسند.اور.خواہشات سے آگاہ تھیں. ..سو وہ لوگ وہ سب لے رہی تھیں. .جانتی تھیں وہ اپ سیٹ ہے تبھی اسکو کوئی فرق نہی پڑ رہا….

انھوں نے مہندی کے لئے برائیٹ یلو کلر کا خوبصورت غرارہ لیا تھا….ساتھ گھٹنوں تک آتی چولی…جس پر بہت پیارا گوٹا لگا

تھا..ساتھ دوپٹے کی کناریوں پر بھی گوٹے کا.کام تھا…

مہندی کے لیے پھولوں کے زیوارت ہی.لیے تھے….

بارات کے لیے لہنگا انکو زیادہ پسند آیا..ویسے بھی نمرہ انکو بتا چکی تھی وہ لہنگا چولی ہی پہنے گی اپنی بارات پر….

اٹھتے سرخ رنگ کا.بہت ذیادہ گھیر والا خوبصورت اور بھاری لہنگا. کس پو سلور کلر کا کام تھا…ساتھ چوٹی.سی چولی…جو.پیٹ تک آتی تھی..اور ادھر سے ہی نیچے لہنگا شروع ہو.جاتا….

بارات کے دن.کے لیے انھوں نے.نتھ لی.تھی بہت خوبصورت. ….

مہندی اور بارات کی.شاپنگ کر کے وہ.دونوں ہلکان ہو.گئیں تو یہ تہ پایا کہ ولیمے کی اور باقی شاپنگ کل کی جائے…

کھانے.پینے اور ری فریشمنٹ کے بعد. انکی طبیعت بہال.ہوئی تو وہ نمرہ کے لاکھ نا نا کرنے کے باوجود اسکو پارلر لے گئیں. …وہ پہلے پارلر کم.ہی جاتی تھی اور جاتی بھی تو بال کٹوانے…جو اب اسنے.سال.بھر سے نا.کٹوائے تھے…

ایمن اور مقدس.نے.جب اسکا برائیڈل فیشل.کرنے کا.کہا.تو وہ انکو چھوڑ کر جانے.لگی…مگر پھر انھوں نے.کیسے.اسکو.پکر کر زبردستی بٹھایا.وہ وہی جانتی تھیں. ..سارے فیشل.کے دوران.بھی وہ عجیب و غریب قسم کے منہ.بناتی رہی…پارلر والی.بھی.اسکو دیکھ کر ہنسنے.لگی..جبکہ.ممرہ.کے چہرے.کا.زاویہ بگڑا تھا….

شادی.کی.تیاریاں عروج پر تھیں. ..پوری حویلی کی چکاچوند دیکھنے لائق.تھی….ایک.ایک چیز کا بھرپور تیاری کی.جا رہی.تھی…. ملک وجاہت سختی سے ہر چیز.کی.خود.نگرانی.کر رہے تھے…

آخر کو حویلی کی.پہلی.شادی تھی وہ بھی سب سے بڑے اور.لاڈکے بیٹے کی..ِِوہ کسی بھی قسم کی کوئی کمی نا رہنے دینا چاہتے تھے…پیسہ پانی کی طرح بہایا جا.رہا.تھا……

آج.مہندی.تھی اور مہندی حویلی سے اسلام آباد.سیال ہاؤس لے کر جانی.تھی….پہلے سوچا گیا کہ شادی گاؤں میں ہی کی جائے نگر ملک.سیال.کا.کہنا تھا وہ اپنی بیٹی کو اپنے گھر سے رخصت کرنا چاہتے ہیں. .لہذا انکی خواہش کا.احترام کرتے ہوئے یہی تہ پایی تھا.کہ مہندی ادھر سے ادھر لے کر جائی جائے گی….

عصر کا.وقت آن پہنچا.تھا..مغرب سے پہلے نکلنا تھا…سب اپنی اپنی تیاریوں میں لگ گئے….

اشعر, برہان , زریاب اور فرحان سب نیے ایک.جیسے سفی کرتے پہنے تھے….

ساتھ. رنگ.برنگی چنری گلے میں ڈالے وہ بہت سحر انگیز لگ رہے تھے….جبکہ فرحان کے.گلے میں پیلا دوپٹہ تھا….

عریبہ نے ہلکے سنز رنگ کا شرارہ پہنا تھا…ساتھ جالی کا دوپٹہ لیے, مہندی سے سجے ہاتھوں اور اپنی تمام تر.معصومیت کے ساتھ وہ.اشعر کے دل.کے تار چھیڑ رہی تھی…….

کچھ دیر میں سب مہندی لے کر نکل پڑے……گاڑیوں کی ایک.نا ختم ئونے والی.قطار تھی..تقریباً ہورا گاؤں ہی.مرعو تھا…

ساٹھ پینسٹھ گاڑیوں کا.یہ.کارواں روڈ پر ایک ٹرین.کی.طرح لگ رہا تھا…..

نمرہ یار اوپر تک.لگوا.مہندی!!

ایمن.اب.تنگ آچکی.تھی اس.لڑکی.سے..دو دن.میں اسنے.نخرے کر کر کے ان.دونوں کو محال کر رکھا تھا…. وپ کسی چیز.میں نا.حصہ.لے رہی.تھی نا.کوئی بات سنتی.تھی…اب.بھی دھکے.سے اسکو.مہندی لگو رہی.تھیں وہ.دونوں ساتھ بٹھا.کر..

ایمن نے.خود.اسکی.قمیض کی.کھلی.سی.آستین پکڑ کر.کندھے تک.پیچھے.کر دی.تاکہ.کہنیوں سے.اوپر بھی.مہندی لگوائی.جا.سکے…اسکے ایسے کرنے سے.ایمن.کے.ئاتھ نمرہ.کے.بازوؤں کو.لگے تو.اسنے جھٹکے.سے.ہاتھ ہیچھے.کر نا چاہا ساتھ ہی وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنسی تھی……

وہ.دونوں ہکا بکا اسکو.دیکھنے.لگیں کہ اسکو کیا ہوا ہے؟؟

مت.کر.گدگدی ہوتی ہے…

نمرہ.نے.ہنستے ہوئےبازو پیچھے.کیا.تھا…جبکہ.اسکی بات سن.کر باقی.سب.بھی.ہنسنے.لگے….

یہ گدگدیاں نا.ساری.تمہاری.نکل.جانی.ہیں. .ذرا شادی.تو.ہونے.دو….

مقی نے.اسے.کہنی.مار کر کہا.تھا…جبکہ.اسکی.بات.سن کر نمرہ.کے.کھکھلاتے ہونٹ ایک.دم سکڑے.تھے……

یعنی.اسکو.مقی کی بات.پسند نا.آئی تھی…..

مہندی.لگوا کر وہ فارغ ہوئیں. تو اس.کے.بعد انہوں نے.نمرہ.کا.تھوڑا بہت.میک اپ وغیرہ کیا…چہرے پر بیس بنا کر نیچرل پنک لپسٹک اور ساتھ ڈارک آئی.لائینر.جو.اسکی خوبصورت آنکھوں کو.مزید نمایاں کر رہا تھا…لمبے بالوں کی.ڈھیلی ڈھالی چوٹی بنا کی.کندھے پر ڈالے تھی. جب کہ.چند لٹیں اس کے حسین چہرے کو چام رہی تھیں. ..اور پھر چوٹی میں تازہ.موتیے کے.پھول لگائے گئے تھے….ہاتھوں پر بھی گجرے اور.ماتھے پر پھولوں کی بندیا….

اس.پر انکی سوچ سے.بڑھ کر نکھار آیا تھا…امروزیہ.بیگم کی.تو.آنکھیں بھر آئیں…وہ بالکل موم کی.گڑیا لگ رہی تھی….

ایمن اور.مقدس.نے.بھی ایک جیسے غرارے پہنے تھے….اور ساتھ گجرے.پہنے وہ.دونوں بھی دیکھنے والی آنکھ کو.خیرہ کر رہی تھیں. …

اتنے میں لڑکے والے.مہندی لا چکے تھے… فنگشن لان میں ارینج کیا.گیا.تھا….وہ.دونوں اسکو بٹھائے

خود باہر کو لپکی تھیں. …

فرحان کو دیکھ.کر ان.دونوں کی.نظروں میں ستائش ابھری.تھی….

مقی نے.جھٹ سے.ایمن.کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا…

کیا.کر.رہی.ہے ہٹا اسکو؟؟

ایمن.نے.اسکا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا. ..

تو مت دیکھ اتنی.پیارے لڑکوں .تیری منگنی ہو چکی ہے..بے.شرم……میں تو چلو سنگل ہوں. . میرا حق بنتا ہے…

مقدس نے بڑے.پتے کی بات کی.تھی…

چل.ہٹ وڈی آئی.سنگل….. سنگل.ہونے.کا.یہ.مطلب.کہ.رج کےلڑکے تاڑو…

ایمن.نے تیوری.چڑھا کر کہا.تھا…

دیکھ.توجل.نہی میری آزادی.سے اچھا.نا… میں تو.آنکھیں ٹھنڈی کروں گی … مقدس.نے.کندھے اچکا.کر.کہا.تھا…

استغفار مقی..تجھے نہی لگتا تو زیادہ ہی ٹھرکی ہوتی جا رہی.ہے…

ایمن.نے.کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا تھا.

اسے ٹھرک.نہی.کہتے اچھا نا…

اتنا.کہہ کر وہ.آگے.بڑھ گئی…ابھی.وہ.چل.ہی.رہی.تھی.کہ.اسکی نظر.سامنے.فرحان کے ساتھ چلتے برہان پر پڑی. ..اسکے ماتھے پر ایک دم بل پڑے. ..

یہ.دیکھا دیکھا.لگتا ہے!!!

اسنے.برہان کو دیکھ کر سوچا تھا جو فرحان سے کافی مشابہت رکھتا تھا…

فرحان کو. سٹیج پربٹھایا گیا تھا… چونکہ نکاح ہو چکا تھا اس لیے انکو مہندی ایک ساتھ تھی.ِِ

ایمن اور.مقدس.عریبہ اور.کچھ اور.لڑکیوں کے ساتھ نمرہ کو لینے اندر بڑھ گئیں. …

نمرہ صوفے پر ایک

طرف بیٹھی لیپ.ٹاپ کھولی.بیٹھی تھی…

لاحول ولا… نمرہ آج تو.ضائع.ہو.جائے گی میرے ہاتھوں. ….یہ.کیوں کھول رکھا ہے….منہوس مہندی ہے تیری..مہندی سمجھتی.ہے….

ایمن نے چڑھ کر کہا.تھا….

جبکہ.عریبہ.آگے بڑھ کر نمرہ کے گلے.لگ گئی…

آپ بہت بہت.بہت.زئادہ پیاری لگ رہی.ہیں. ..بھائی تو.گئے کام سے..عریبہ.نے.شرارت.سے لہا تھا..جبکہ.اسکی آخری بات.سن کر نمرہ نے کوئی.تاثر نا.دیا.تھا….

عریبہ بیڈ سے پنک نیٹ کا باریک دوپٹہ اٹھانے مڑی تو.نمرہ ایمن.کے.پاس.جا.کے.بولی…

ایمن.مجھے.نہی.جانا پلیز…

اسنے.رونی شکل بنا.کر کہا.تھا..جبکہ.آنکھیں واقعی.نم ہونے.لگی.تھیں. ..ایمن.کو.بے اختیار اس پر.پیار آیا..

اوہو.نمی..میں اور مقی.تیرے ساتھ رہیں گے نا.بالکل…کیوں گھبرا رہی.ہے…

ایمن.نے.اسکو.دلاسا.دیا…

نا بھئی.میں تو ادھر ادھر گھوموں گی…

مقدس نے.فوراً دامن.بچایا تھا…

دھر فٹے منہ…تو تاڑ نا.ذرا.لڑکے پھر.میں دیکھتی ہوں تجھے…

ایمن.نے اسکا.کان پکڑا تھا…

میں اسکے.ساتھ نہی.بیٹھوں گی…

نمرہ.نے شدید نفرت سے کہا.تھا….

چپ.کر پاگل..سن.لے گی.عریبہ…

ایمن.نے فوراً اسکو چپت.لگائی…پھر عریبہ.نے نیٹ.کا.وہ.دوپٹہ انکو دیا..جو.ایمن.نے.نمرہ.پر. گھونگھٹ کی طر2ڈال.دیا…پیلے رنگ کےکپڑوں اور سیٹ دوپٹے پر پنک کلر کا باریک گھونگھٹ بہت اٹھ.رہا.تھا… نمرہ کا چہرہ اس میں نظر ضرور آرہاتھا….مگر بارک.سے پردے کے پیچھے….

اور وہ اسکو.لیے باہر کی.طرف بڑھ گئیں. .جبکہ.نمرہ.کس طرح یہ بھاری قدم.اٹھا.رہی.تھی یہ.اسکا دل ہی جانتا تھا.

وہ نمرہ.کو درمیان میں لیے لان.میں آئیں تو ہر ایک کی.نگاہ اس سمت اٹھی تھی….

جیسے جیسے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سٹیج کے قریب بڑھ رہی تھی اسکا دل.مٹھی.میں جکڑا جا رہا تھا….دل.کیا.کہ.ہاتھ چھڑا.کر بھاگ جائے..نکل.جائے.یہاں سے کہیں دورِ.اور دوبارہ واپسی کی طرف نگاہ نا اٹھائے…

سب کے.چہروں پر واضح خوشی.دیکھ.کر.اسکے دل میں کچھ ٹوٹا تھا….

وہ اس.قدر تکلیف سے دوچار تھی.جب.کہ.یہ.سب.یہاں ہر چیز سے بےفکر خوشیاں منا رہے تھے!!!!!!

کسی کو اسکا احساس.نا.تھا..اسکے احساسات کی.قدر نا تھی کہ وہ کس حال میں ہے. …کیسے آنسوؤں کو بامشکل ضبط کیے وہ خود پر قابو پانے کی تگ و.دو میں ہے!!!!!!

پر یہاں سب کو.دیکھ.کر تو نا.لگتا تھا.کسی کو.اسکی پرواہ بھی ہو.گی…یہاں تو.جیسے.جشن.کا.سماں تھا…

فرحان نے.نگاہ سامنے.کو.اٹھی تو ٹھٹک ہی.تو.گیا.تھا…اس.قدر حسن اور.کشش.شاید.ہی.کسی.لڑکی میں دیکھی تھی اسنے…. وہ ٹکٹکی باندھے اسکو.دیکھتا گیا جیسے ہوش.میں نا.ئو….گلابی کپکپاتے لب…اسکی ادھر ادھر ہوتی پلکیں اسکی گھبراہٹ کا ثبوت تھیں. ….

نازک سا.سراپا…آج اسنے ہیل نا.پہنی تھی.بلکہ.کھسے پہنے تھے اسکے باوجود.اسکا.دراز.قد.نمایاں تھا…گوری صراحی گردن میں ابھری ہوئی کولر.بون اور.اس پر بہت.باریک.سی.گولڈ.کی.چین چمک.رہی تھی…… گوری نازک.کلائیوں میں موجود.تازہ گجروں کی اٹھتی مدہم سی خوشبو اسکے پورے سراپے کو مہکا رہی تھی…..

وہ سٹیج پر ایمن کا.ہاتھ تھام.کر چڑھی.تھی..فرحان کھڑا.ہوا …اسنے اہنا.ہاتھ آگے بڑھایا.ہی.تھی.کہ.نمرہ.نے.ایمن.کا.ہاتھ اور.مضبوطی سے.جکڑ لیا..فرحان نے نا محسوس.انداز میں ہاتھ واپس کھینچ.لیا.مگر اسکے.موڈ کا.بیڑا.غرق.کرنے میں وہ کامیاب رہی تھی …اسکی آنکھوں میں غصہ ابھرا تھا اور یہ.بات نمرہ.کو.اندر.تک سکان.دے.گئی..اسنے.فوبارہ.سب.کے.سامنے.بھری.محفل میں اسکا ہاتھ جھٹلایا تھا…. اور وہ.اس بار خوش.تھی….جبکہ.فرحان پہلے تو.ایک دم طیش.میں آیا.پھر نمرہ کا.سکون.دیکھ.کر.وہ.سمجھ گیا.وہ کیا.چاہتی.ہے…

سو اگر وہ.مزید غصہ کرتا.تو.یقیناً نمرہ کے لیے مسرت.کا.باعث بنتا اسکا چڑنا…..نمرہ.نے ایمن.کا.ہاتھ.تھاما.ہوا تھا سی.طرح. ..فرحان کے چہرے پر شیطانی.مسکراہٹ ابھری..اسنے ایک دم ہاتھ آگے کر کے ایمن.کے ہاتھ سے نمرہ کا.ہاتھ نکال کر تھام لیا…یہ.سب ایک لمحے.کے.دسویں حصے میں وہ.کر چکا تھا..جبکہ.نمرہ تو سمجھ ہی نا پائی ہوا.کیا تھا…جب دیکھا تو وہ اسکا.نازک ہاتھ اپنے مضبوط مردانہ.ہاتھ میں زور سے.جکڑی کھڑا تھا…

نمرہ نے ایک.دم اسکو.خونخوار.نظروں سے گھورا جیسے ابھی دانتوں سے چیر پھاڑ دے گی…

جبکہ فرحان نے.ااکی.طرف دیکھنے کی زحمت نا.کی.تھی وہ جان کر انجان بنا اسکا.ہاتھ تھامے لکڑی کے جھولے تک لایا جسے پورا پھولوں کی لڑیوں اور بتیوں سے سجایا گیا تھا….

وہ.اس.پر.بیٹھا.اور.نمرہ.کو.بھی.ساتھ.بٹھا.دیا….نمرہ نے اپنا.ہاتھ کھینچنا چاہا تھا…فرحان نے نگاہ اسکی جانب اٹھائی …اسکی آنکھوں میں واضح موٹے موٹے موتی جمع تھے…..اسے نہائت نرمی سے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا…نمرہ.نے.ایک.دم.ہاتھ پیچھے کھینچ.کر دوپٹے تلے چھپا دیا جیسے اگر باہر رہا تو کہیں وہ پھر سے تھامنے کی جسارت نا کر لے.

فرحان سے اسکی یہ حرکت.چھپی.نا.رہی.تھی….

انکے بیٹھتے ہی امنہ بیگم انکے پاس آئیں اور نمرہ کے ماتھے.ہر پیار دیا…اس کے بعد ان.دونوں کے ہاتھوں پر نوٹ رکھ کر مہندی لگنے لگی…..

سب ان.دونوں کی.طرف متوجہ.تھے…اشعر .کی امی نے فرحان کو گلاب جامن.کھلایا …وہ پورا ہڑپنے لگا تھا کہ.انھوں نے.اس کے.سر پر چپت لگائی…

اسنے آدھا کھایا…اور باقئ کا ادھا انہوں نے نمرہ.کی طرف بڑھا دیا….

نمرہ کو سمجھ.نا آئی وہ کیا.کرے….

وہ قطعی فرحان کا جھوٹاکھانا تو دور کی.بات چھونا.بھی.نا.چاہتی تھی……

اب سب کے.سامنے وہ.کیسے.منا کرتی…ابھی.وہ.اسی کشمکش میں تھی کہ.فرحان اسکی طرف ہلکا.سا جھکا.تھا…

نمرہ ایک.دم بوکھلا کر پیچھے کو ہوئی

فرحان اسکے کان کے قریب ہو کر بولا.تھا…

کھالو..اچھوت نہی.ہوں.ِ..

اسنے دانت دبا کر کہا.تھا…جبکہ نمرہ اسکی.اس حرکت سے کانپنے.لگی تھی…اسکو فرحان کی سانسیں اپنے کان پر واضح محسوس ہوئی تھیں. …..

ابھی وہ.پیچھے ہو.ہی.رہا.تھا.کہ.سب کزنز.کی آواز.بلند ہوئی…

ہو..ہو!!! سب نے اسکی.اس.حرکت پر ہوٹنگ کی تھی …..

فرحان پیچھے.ہوا تو نمرہ نے اسکی طرف حقارت سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو …اچھوت سے بھی بدتر ہو..!!!!!

فرحان نے غصے سے.لب بھینچے تھے…اور سامنے دیکھنے.لگا…

اتنے میں اشعر اور برہان بھی وہاں آگئے تھے….

جبکہ ایمن اور. مقی نمرہ.کے ساتھ ہی کھڑی تھیں….

اہمِم..کیسی ہیں بھابھی جان!!!

اشعر نے شوخی.سے پوچھا تھا…

اگر بہن بنا.کر پوچھیں گے تو ضرور بتاؤں گی…!!

نمرہ.نے جتا کر کہا.تھا..

اب تو بھابھی کے منصب پر فائض ہو چکی.ہو.نا…

اشعر نے اسے فرحان کے.حوالے.سے کہا.تھا….

جبکہ نمرہ کا.اسکی بات سن.کر جیسے حلق کڑوا ہوا تھا…

اب آپ اگر یہ لقب تھونپنے پر تلے ہیں تو میں کیا کر سکتی ہوں…. خیر اس لحاظ سے حال.نا.ہی ہوچھا جوئے تو.بہتر.ہے…

نمرہ نے تڑخ کر جواب دیا تھا…

اسکی.بات پر فرحان مٹھی بند کی.جیسے قابو کر رہا ہوِ..

اشعر کو.بات سنگین ہوتی محسوس ہوئی تو.فوراً بات بدل.دی…

برہان کی.نظر ایک دم سامنے.مقدس پر.پڑی..اسی.وقت مقدس نے.بھی اسکی طرف دیکھا….

دونوں کی.نظریں چار ہوئیں. ..برہان.نے نظروں کا.زاویہ بدلا..مگر اگلے ہی پل کچھ یاد آنے ہر فوراً اسنی.مقدس کی طرف دوبارہ دیکھا….

مقدس کو.بھی یاد آچکی.تھی انکی.پہلی.ملاقات…. اسنے ایک.دم.منہ منہ کا زاویہ بگاڑا تھا….. وہ ادھر ادھر دیکھنے.لگی جیسے برہان.کو.دیکھا ہی نا.ہو…ِ

برہان اسکی.اس حرکت پر بامشکل ہنسی روک.سکا.تھا…