Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 20)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

Here’s a long epi for you guys!!!

ایمن کی.منگنی بہت دھوم.دھام سے ہوئی تھی..ان.سب نے.بہت انجوائے کیا تھا…. اسنے پنک کلر کی. فل کام والی میکسی زیب تن.کی تھی…نازک.سی جیولری اور میک اپ نے اسے حسن.کو چار چاند لگا دیئے تھے…سالار تو اسے دیکھ.کر کتنے ہی پل پلکیں نا جھپکا پایا تھا…. وہ دونوں ایک.دوسرے سے محبت.میں مبتلا ہو چکے تھے….

انگوٹھی پہنانے کی رسم ادا ہونے کے بعد وہ.سب خوش گپیوں میں مصروف تھیں. ..مقدس نے شام کی فنکشن کے حساب سے بلیک اور سلور شرارہ پہنا تھا جو اس کے دودھیا رنگ کو مزید ابھار رہا تھا….ہونٹوں پر پنک لپسٹک لگائے وہ کوئی پری. معلوم ہو رہی تھی…جبکہ نمرہ نے گرین اور پنک کلر کے.شیڈز میں شارٹ شرٹ اور ساتھ کیپری پہنی تھی… لمبے سیاہ بالوں کی میسی بریڈ بنائے…پاؤں میں نازک ہیل نے اسکے لمبے قد کو کچھ مزید لمبا کر دیا تھا….

منگنی کی رسم اختتام پزیر ہوئی تو نمرہ اور مقدس ایمن کو اسکے کمرے میں لے آئیں. .اسے ادھر چینج کرنے کا کہہ کر وہ.دونوں باہر نکل گئیں. .ایمن نے اپنے ساتھ لائے سوٹ کیس سے ایک پرنٹڈ سوٹ نکالا اور بدلنے کی غرض سے باتھروم چل.دی…ابھی وہ باتھ روم کے اندر نا گئی تھی کہ.ایک دم روم کا دروازہ بند ہعنے کی آواز آئی..

اسنے فوراً مڑ کر آنے والے کو دیکھا…آنے.والا سالار تھا… وائٹ شیروانی میں ملبوس… عنابی ہونٹوں پو تراشی ہوئی مونچھیں. … اور خاصا وجہہ لگ رہا تھا…

ایمن وہیں رک گئی. .آنکھوں میں سوال ابھراتھا…سالار دروازہ بند کر کے اسکی طرف قدم بڑھانے لگا…

أپ؟؟ادھر؟؟؟خیریت؟؟؟

ایمن.نے اسکو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر سوال کیا تھا….

وہ اسکے بالکل قریب آچکا تھا…دونوں کے درمیان ایک قدم کا فاصلہ باقی بچہ تھا..جو کہ سالار نے قائم رکھا تھا…

اسنے محبت بھرے نگاہ ایمن کے چہرے پر ڈالی…اور اسکا ایسے کرنے سے ایمن نے اختیار نظریں جھکا گئی….

اتنی حسین منگیتر کے ہوتے ہوئے خیریت کیسے ہو سکتی ہے؟؟

سالار نے سینے ہر دونوں ہاتھ باند کر مسکرا کر کہا.تھا..جبکہ ایمن اسکی بات سن.کر کچھ مزید خود.میں سمٹ گئی….

آپ..آپ جائیں کوئی آجائے گا ؟؟ایمن نے اسکو یاد کروایا…

ہاہاہا…در کیوں رہی ہو اتنا..جا رہا ہوں. .بس.تمہیں دیکھنے.آیا تھا….

سالار نے اسکی جھجک دیکھ کر کہا تھا…

اب جائیں پلیز…

ایمن دوبارہ گویا ہوئی…

اوکے جی اپکا حکم سر آنکھوں پر…

بائے دا وے بہت پیاری لگ رہی ہو…

اسنے مسکرا کر اسکی تعریف کر ہی دی…

ایمن کا رخسار ایک دم گرم ہوا تھا…جیسے سارا خون ادھر اکٹھا ہو گیا ہو…

شکریہ…

اسنے جواب دیا…

بس شکریہ؟؟ چلو یہ.بتا دو میں کیسا لگ رہا ہوں. ..

سالار نے شوخی سے پوچھا تھا…

آپ..آپ بس سہی.لگ رہے ہیں. ..

ایمن.نے بالکل اس دن کی طرح جواب دیا جیسے پہلے اسکے پوچھنے ہر دیا تھا…

ہاہاہاہا…آج بھی بس سہی لگ رہا ہوں. ..ِمیں تو اس امید کے ساتھ آیا تھا کہ.شاید اب آپ کے.دل میں ہماری ترقی ہو گئی ہو…

سالار نے دکھی چہرہ بنا کر کہا.تھا…

ترقی ذرا آرام سے ہو گی..محنت درکار ہوتی ہے ترقی کے لیے…

ایمن.نے جواب دیا اور فوراً باتھ روم.میں گھس گئی..جبکہ.سالار مسکراتا ہوا باہر کی.طرف بڑھ گیا..

عریبہ اور ,فرحان اس وقت فرحان کے.کمرے میں بیٹھے.تھے..عریبہ.کا.ٹیسٹ تھا اور اس مشکل.ہو رہی تھی تبھی فرحان اسکو سوال.سمجھا رہا تھا….

اسنے اسکو ایک دو سوال سمجھائے اور باقی خود کرنے کو.کہا…..

فرحان ساتھ ہی اپنا موبائل اٹھا کر بیٹھ گیا تھا….

اسنے میسنجر کھولا تو.نمرہ.نے.سٹیٹس لگایا ہوا تھا ..اسنے کھول.کر دیکھا…

وہ ایمن کی.منگنی کی تصویر تھی…ایمن اور سالار درمیان میں کھڑے تھے جبکہ.نمرہ اور.ایمن ان کے آس پاس…

نمرہ ایمن اور مقدس سے ذرا لمبی.تھی اوپر سے ہیل….

کالج اور سکول میں بھی جب وہ فیئر ویل.پر ہائی ہیل پہن کر جاتی تو وہ.دونوں اسکو مارنے.لگتیں…ایک بار تو.مقدس نے پیچھے لگ کر اس سے ہیل اتروائی تھی…

فرحان نے زوم کر کے پکچر دیکھا….

اسنے نمرہ.کو میسج کیا..

تمہاری ہائیٹ کتنی.ہے؟؟؟

نمرہ جو کہ اس وقت کتابوں میں سر گھسائے بیٹھی کوفت کا.شکار ہونے.لگی تھی ایک.دم اسکا میسج.دیکھ کر کھل اٹھی تھی….

وہ انجانے میں اس کے.میسج کاا.نتظار کرنے لگی.تھی…

میسج دیکھ کر نمرہ.کو حیرت ئوئی…یہ.کیسا.سوال.تھا…

خیر اسنے جواب لکھا…

میری 5 فٹ ساڈھے چھ انچ ہے..

کیوں ؟؟؟

ساتھ سوال بھی.کیا.گیا…

ویسے پوچھی…

کافی اچھی.ہے تمہاری ہائیٹ. ..

فرحان نے جواب.دیا..

اپکی.کتنی.ہے.؟؟؟.نمرہ.نے.بھی.

موقع دیکھ کر پوچھ لیا…

میری 6 فٹ 2 انچ…

فرحان نے جواب.دیا…

او تیری…اتنی.لمبی…

نمرہ.کا.منہ کھل.گیا…

آپ کیا.عالم چنے.سے.مقابلہ لگا کر پیدا ہوئے تھے؟؟؟

اسنے ساتھ یہ بھی.لکھ.دیا….

ہاہاہا..نہی.اب اتنی.بھی.نہی.ہے…

تم.سوٹ کروگی میرے ساتھ..

فرحان نے.مسکرا کر جواب لکھا..جبکہ.اسکا.میسج.پڑھ کر.نمرہ کی.ایک.بیٹ مس ہوئی…

تو کیا.وہ.اسکو.صاف اشارہ دے رہا تھا؟؟؟

نمرہ کو سمجھ نا.آئی.کیا.کہے…

کیا ہوا؟؟.

جب جواب نا.آیا تو فرحان نے پھر.میسج.کیا…

عریبہ نے دو تین بار کوشش کی مگر اس سے نہی.ہو.رہا تھا…

اشعر اسی.وقت فرحان کے.روم میں آیا….

وہ سیدھا.فرحان کے پاس گیا…

کیا.ئو.رہا ہے؟؟اسنے موبائل.پر جھانکا…

بھائی یہاں سے نہی.ہو.رہا…

عریبہ.کی آواز اسکی.سماعت میں پری..اسنے ایک.دم سامنے.دیکھا تو عریبہ بیٹھی تھی چہرے ہر پریشانی نمایاں تھی…

ریڈ کلر کا پرنٹڈ سوٹ پہنے جو اسکی گوری رنگت پر خوب جچ.رہا تھا…

ادھر لے آؤ..فرحان نے کہا…

میں کروا.دیتا ہوں. .ادھر دکھاؤ..اشعر نے گویا فرحان کی.مشکل آسان.کی…

ہاں یار دیکھ کیا غلطی کی.ہے اب…

فرحان نے اشعر سے کہا…

جبکہ عریبہ.فرحان کی بات پر پھولا سا منہ لے کر اشعر کی طرف دیکھنے لگی..اشعر جا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اسکو سوال.سمجھانے لگا…

فرحان ہنوز.موبائل.پر مصروف تھا….

کچھ نہی…وہ.ماما بلا.رہی.ہیں میں جاؤں؟؟ نمرہ سے جب کوئی جواب نا بن.پڑا.تو بہانہ.بنایا..جبکہ فرحان اسکا.میسج پڑھ کر اسکا بہانہ خوب سمجھ چکا.تھا

وہ کھلکھلا کر مسکرا دیا….

جاؤ…

اسنے اس پر ترس کھاتے ہوئے.میسج.لکھا..

نمرہ نے سکھ کا سانس لیا..اور موبائل.رکھ دیا..اسکا دل زور زور سے.دھڑک.رہا.تھا….خوشی اس کے چہرے سے عیاں تھی..وہ.اندر.تک کھل اٹھی.تھی….

تو.کیا وہ.اسکو.اپنانا.چاہتا تھا؟؟؟

یہ.سوچ ہی اسکو شرمانے پر مجبور.کر گئی…

جبکہ.فرحان مسکرا رہا تھا…

اس.دوران.اسکی نظر.سامنے.بیتھے اشعر اور عریبہ.پر پڑی…

اشعر. پورے دھیان سے عریبہ.کو.سمجھا.رہا تھاِ…

فرحان مسکرا دیا اور اتھ کھڑا ئوا…

وہ اندر ڈریسنگ روم.کی طرف برھا تھا…

اشعر.عریبہ.کو.سمجھا.چکا.تو.اسنے.سوالیہ نگا عریبہ.پر ڈالی؟؟

آئی سمجھ؟؟

اسنے.پوچھا تھا..

جی.بھائی..آگئی..تھینک.یو…

عریبہ.نے خوشی.سے.کہا.تھا…

جبکہ.اشعر کی.سوئی تو “بھائی”.پر ہی اتک گئی…

ہائے میری قسمت..سب ہی بھائی بنا لیتی ہیں. ..

اسنے.گہری سانس.لے کر عریبہ کو.دیکھا…..

عریبہ.نے نگاہ اٹھائی تو اسے خود.کو دیکھتا پایا….

وہ فوراً ادھر ادھر.دیکھنے لگی…

اشعر کو ایک دم ہنسی آئی اسکے اس عمل پر…جسے اسنے کیسے روکا یہ وہی جانتا تھا…

وہ اٹھ.کھڑا ہوا اور فرحان کی.طرف چل.دیا جبکہ.عریبہ نے بکس سمیٹی اور روم.سے نکل گئی…

وقت گزر رہا تھا…نمرہ.کا.تیسرا.سال ادھا ہو نے کو تھا…

اسے بری طرح فرحان کی عادت ہونے.لگی تھی..وہ اسکے میسج.کا.بے چینی سے انتظار کرتی تھی….

وہ جب جب اس.سے مذاق.کرتاِ….اس سے باتیں کرتا…وہ کتنے ہی گھنتے اسکی باتوں کو سوچنے لگی تھی….. وہ بری طرح اسکی طرف راغب ہو.رہی.تھی….

اسکے.عشق.میں مبتلا.ہونے لگی تھی…اس.کے.لئے یہ احساس , یہ جذبہ بالکل نیا تھا.. اپنی ساڈھے انیس سالہ زندگی میں پہلی بار وہ کسی لڑک.سے ایسے. بات کر رہی تھی…..کسو کو اتنی اہمیت دینے لگی تھی..ہر بات اس کو بتانے لگی تھی..ہر خوشی میں فرحان اسکی خوشی کو دوبالا کر دیتا..ہر غم.میں وہ اسکو دلاسہ دیتا ….

اس دوران نمرہ.کے دو تین کافی اچھے رشتے بھی آچکے تھے مگر اسنے ابھی صرف پڑھائی کو ترجیح دینے کا.کہہ.کر.منع.کر دیا…اسکے والدین بھی.چاہتے تھے.پہلے تعلیم مکمل ہو جائے پھر شادی. کا سوچا.جائے….

وہ فرحان کو دل میں بسانے لگی تھی..اور رہی.سہی.کسر مقدس.اور ایمن.نے.ہوری.کر دی تھی…وہ اسکو.یقین دھانی.کرواتی تھیں کہ.فرحان اس.پر مر مٹا ہے..اسے پسند کرتا ہے..اوپر سے فرحان کے ڈھکے چھپے الفاظ….

اس.نے.ابھی تک کھل.کر ہچھ نا.کہا.تھا نا.ہی.نمرہ.نے کچھ بولا تھا جیسے اسکا انتظار کر رہی ہو…

وہ.سونے کے.لئے لیتی.ہی تھی کہ فرحان کا.میسج آیا…

اسنے فوراً میسج کھولا تھا…

سامنے ایک آڈیو میسج.تھا…نمرہ.نے پلے کیا….

~رات یوں دل میں تیری بھولی ہوئی یاد آئی

جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے

جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِنسیں

جیسے بیمار کو بے وجھے قرار آجائے

نمرہ.نے گانا سنا تو وہ.ایک دم سیدھی ہوئی دل.جیسے باہر آنے کو بے تاب تھا…

آج سے پہلے.کبھی.فرحان نے اسے کوئی.گانا.یا شعرہرگز.نا.بھیجا.تھا….

تو کیا اظہار.کو وقت آن پہنچا.تھا..کیا.وہ.اسکو.اپنے دل کی.بات بتانے والا تھا..؟؟؟

نمرہ کو کچھ سجھائی.نا.دے رہا تھا…

اسنے جواب.میں سوالیہ نشان.بھیجے.تھے..

??????????

فرحان نے اسکا میسج دیکھا تو مسکرا.اٹھا.ِِوہ اس وقت اسکی حالت سمجھ رہا تھا….

گانا سنو..کافی اچھا ہے…

اسنے.میسج.لکھا..

جی.سنا ہے…

نمرہ نے جواب.دیا..

کیسا لگا..؟؟.اسنے پوچھا

اچھا ہے بہت…

نمرہ.نے.کہا.تھا…

پہ آپ..آئی.مین آپ.نے.کیوں بھیجا مجھے؟؟؟

اسنے.ہمت.کر.کے.سوال.کر ہی.ڈالا…

کہ.شاید وہ کہہ.دے میرے.دل.کی.بھی یہی حالت ہے…یہ بول میرے دل.کی عکاسی کرتے.ہیں. …

دل میں امید جاگی.تھی.وہ.کہہ.دے گا…

اچھا.لگا تو بھیج دیا…

فرحان نے.جواب.دیا…

اسکا جواب پڑھ.کر نمرہ کی.مسکراہٹ سمٹی تھی….

اچھا..

اسنے محض.اتنا.جواب دیا…

کیوں تم.نے کیا سمجھا؟؟

فرحان نے اگلا میسج.کیا..جیسے اس.سے اگلوانا چاہ.رہا ہو…کہ.وہ.بول.دے ہاں فرحان شاہ.تم.میرے دل میں رہنے لگے ہو..اپنے اپنے.لگنے لگے ہو…

مگر وہ بھی.نمرہ.تھی..اسکا.میسج.دیکھ.کر وہ بھی کچھ کچھ سمجھ چکی.تھی اسکی.بات.کو…

میں نے.کچھ نہی.سمجھا…

اسنے بھی سیدھا پھیکا سا جواب دیا…

دونوں ایک.دوسرے سے اگلوانا.چاہ.رہے تھے.مگر دونوں کو اپنی.”میں” عزیز.تھی…

میں کیوں. .وہ بولے ….

دونوں اس وقت ایک.ہی حالت میں. تھے…مگر ماننے سے.انکاری…

کتنے ہی.پل.دونوں میں خاموشی چھائی.رہی….

پھر بالآخر نمرہ.نے سونے کی.غرض سے اللہ حافظ لکھا اور کئی سوچیں لئیے لیت گئی….نیند پھر بھی دونوں کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی…

اگلے دن نمرہ.نے بے صبری سے ایمن.اور مقی کا.نتظار.کیا.تھا….

ابکے آتے ہی اسنے ساری بات ان.دونوں کو بتا دی…

دیکھا..کہا.تھا.نا …ِ

I told you..he is nuts on you Nimra …

ایمن.نے چہک کر کہا.تھا…

ہائے نمی نا.کر..واقعی یہ.گانا بھیجا انھوں نے.تجھے….

وہ بھی رات کو ….لگتا.ہے جناب آپ کے لئے ترپ رہے تھے تبھی رہا نہی.گیا اور گانے.کے.ذریعے بتا دیا….

مقدس.نے اپنی.رائے دیِ..

مگر یار.اگر.ایسا.ہے تو وہ.بولتے کیوں نہی.کچھ…صاف بتا کیون.نہی.دیتے؟؟؟

بمرہ.نے اہنی.الجھن ان.کے سامنے رکھی…

ہاں یہ.بات تو.میں بھی.سوچ رہی ہوں..وہ صاف کنفیس کیون نہی.کر رہے نمی…

ایمن.نے سوچتے ہوئی کہا.تھا…

بے وقوف..صاف ظاہر ہے اسکی اس بات سے

“تم.نے کیا.سمجھا”

کہ.وہ چاہتے ہیں نمرہ پہلے.بولے..

مقدس نے.انکو کہا.تھا…

ہان نمی…لگ تو یہی رہا ہے کہ وہ.تجھ سے اگلوانا.چاہ رہے…

ایمن.نے بھی مقدس کی ہاں میں ہاں ملائی.تھی….

جبکہ نمرہ.نے بھی ان.سے اتفاق کیا…

پر یار..ایسے..میرا.مطلب ہے میں کیسے کہہ سکتی ہوں. …انھوں نے صاف کہا.تو.نہی.نا.کہ.وہ پسند کرتے یا ایسا کچھ…ایسے.میں میں کیسے کہہ سکتی ہوں. .اگر وہ آگے سے کہ.دیں ایسا کچھ نہی تو؟؟؟

نمرہ.نے اپنا خیال ظاہر.کیا…

بالکل.سہی کہا نمی…تو.بالکل کچھ نہی.بولے گی…اگر ان.کے دل میں کچھ ہے تو وہ کہیں گے…تو بس.انتظار کر…

اور بات بھی.ذرا کم.کم.کیا کر..بس جو پوچھیں اسکا ٹو دی پوائنٹ جواب دے دیا.کرِِخود میسج. بھی مت کرنا…….

ذار ترپا.نا.اسکو..اپنی اہمیت کا احساس دلوا…

مقدس نے بڑی دادیوں والے انداز میں اسکو کام کی.بات بتائی….

واہ واہ..آپ کب سے اتنی سمجھ دار ہو گئی.ہیں. .اس معاملے میں اتنی ایکسپرٹ…. چکر.کیا.ہے؟؟

ایمن.نے اسکی تانگ کھینچی …

نمرہ اور ایمن.دونوں کو اسکی.بات سہی لگی تھی….

کوئی.چکر نہی فلحال.تو…کتنی.کمینی ہو.دونوں. .ایک نے.منگنی کر لی.دوسری بھی اتنا ہینڈسم بندہ پیچھے لگائے پھر رہی ہے…ذرا جو کوئی میرا بھی خیال.کر لو…میں ہرگز سنگل نہی مرنا چاہتی…

مقدس نے اپنا دکھڑا رویا تھا..جس پر نمرہ اور ایمن قہقہہ لگائے بغیر نا رہ سکیں. …

امروزیہ بیگم نے اسکو بتایا کہ.وہ ویک اینڈ پر حویلی جا رہے ہیں. ..ِیہ سن کر تو وہ خوشی سے نہال ہی ہو گئی…مسکراہٹ تھی کہ سمٹ ہی.نہی رہی تھی اس کے چہرے سے…

خیریت.ہے حویلی جانے کا سن.کر اتنی.خوشی…

امروزیہ بیگم کی نظروں سے بچ نا پائی تھی وہ…

جی.ماما..بس ویسے کافی ٹائم ہو گیا نا گئے ہوئے…دل کر رہا تھا آوٹنگ کا اس لیے…

اسنے بات بنا.کر اصیل وجہ چھپا لی تھی….

اسنے اپنے دو تین سب سے پسندیدہ کپڑے رکھے…

پوری رات اسکو نیند نا آئی تھی..فرحان سے ملاقات کا.سوچ سوچ کر ہی وہ بے قابو دل کو لگام ڈالنے کی ناکام کوشش کرتی رہی…پر دل کس.کی سنتا.ہے؟؟؟.ایک بار جہاں لگ.جائے.پھر بری مشکل.سے سنبھلتا ہے..اسکا دل بھی نہی.سنبھل.رہا تھا..دھڑکن بےتاب تھی…

جیسے تیسے رات گزری اور اگلے دن.وہ نکل.گئے..دوپہر تک وہ حویلی پہنچ گئے…

وہ سیدھا.اپنے نانا کی حویلی.ہی گئی تھے…

ماما میں عریبہ سے ملنے چلی جاؤں؟؟

پہنچتے ہی اسنے سوال کیا…

اسنے.فرحان کو اپنی آمد کا.نا بتایا تھا…وہ اچانک اسکے سامنے جا کر اسکے تاثرات انجوائے کرنا چاہتی تھی….

ابھی تو آئی.ہو..تھوڑا آرام کر لو..باقیوں سے مل.لو..پھر شام.کو چلی جانا…

امروزیہ.بیگم.نے اسکی تھکن کا.سوچ کر کہا تھا….

اوکے. ..نمرہ نے تابعداری کا مظاہرہ.کیا…

شام.ہوتے ہی وہ بلال آفندی کی.حویلی کے گیٹ پر کھڑی تھی…

گیٹ کھلا تھا سو وہ سیدھا اندر گھس.گئی…لان میں سامنے فرحان بیٹھا چائے پی رہا تھا….گیٹ کی طرف اس کی بیک تھی سو وہ نمرہ.کو.نا دیکھ پایا…

لیکن کتے کی بھونکنے کی آواز نے اسکو.مڑنے.پر.مجبور.کر دیا…

اس کا.مطلب صاف تھ اکہ.گھر.میں کوئی باہر کا.بندہ داخل ہوا تھا ورنہ.وہ.گھر.کے افراد سے واقف تھا …..نمرہ ایک.دم.کتے کے بھانکنے.سے بوکھلا.گئی اور سہم.کر گیٹ کی طرف تقریباً بھاگتے ہوئے بڑھنے لگی جیسے ابھی کتا.کھل.جائیگا اور اسے کاٹ لے گا…

فرحان.کی.نظر سامنے.واپسی کا.راستہ.تہ.کرتی نمرہ پر پڑی….

خوشگوار.حیرت.نے اسے آن گھیرا تھا…

جبکہ.نمرہ تقریباً گیت کے قریب تھی..

فرحان نے فوراً کتے کے سر پر ہاتھ پھیرا….

ایسا کرنے سے کتے نے فوراً بھونکنا بند کر دیا…

رک جائیں ڈاکٹر صاحبہ…

فرحان نے شرارت سے نمرہ.کو بلند آواز.میں پکارا…

نمرہ ایک دم.اسکی آواز.سن.کر پلتی تھی….چہرہ بالکل سفید پر چکا تھا…

فرحان کو اسکی معصوم سہمی شکل.دیکھ کر ہنسی آئی اور اس پر پیا ر بھی….

آجاؤ..کچھ نہی.کہے گا…

فرحان پھر سے اس سے مخاطب ہوا….

جبکہ.نمرہ اسکی بات سن.کر چھوتے قدم اٹھاتی آگے بڑھنے.لگی…

آجاؤ..ادھر.سے..

فرحان نے.سائید.سے انے کا.اشارہ کیا..ہاتھ پکڑ کر لانے کی غلطی اس.نے دوبارہ.نہی.کی.تھی…

نمرہ جب گزر گئی تو وہ بھی اسکی طرف پلٹا….

سامنے لیمن کلر کا خوبصورت شارٹ فراک کے ساتھ جینز.پہنے وہ چہرہ جھکائے گھبراہٹ سے انگلیاں مروڑ.رہی تھی…

آپ تو بہت ڈرپاک نکلیں ڈاکٹر صاحبہ. …

فرحان نے اسکے ڈرنے.پر چوٹ کی….

مم..مجھے کتوں سے ڈر لگتا ہے…

نمرہ نے بامشکل کہا.تھا..

ہاہاہا اوکے اوکے..بیٹھو..گھبراو نہی..فرحان نے کرسی کی طرف اشارہ کیا…

نمرہ بیتھ گئی ..فرحان اس.کے سامنے.بیتھ کر اسکو دیکھنے.لگا…..

کپکپاتے سرخ ہونٹ. .اوپر نیچے ہوتی .گھنی پلکوں کی جھالر….کھلی ہوئی رنگت..اور ہمیشہ کی طرح ستواں ناک میں ننھا سا ٹمٹماتا ہوا نگ….

فرحان دلچسپی سے اس پری کا جائزہ.لے.رہا تھا..نمرہ.نے پلکیں اٹھائی تو فرحان کو خود کو دیکھتے پایا…وہ.ایک.دم.نگاہ.جھکا گئی…اسکی اس حرکت پر فرحان.کی ایک بیٹ مس ہوئی تھی…

اسکا دل کیا.وہ یونہی.اسکے سامنے.بیٹھی.رہے اور وہ اسکو.تکتا رہے….

وقت یہیں تھم جائے اور یہ لمحہ.ہمیشہ.کے.لیے ساکن.ہو جائے…

قید.کر لے اس.لمحے کو وہ اپنی آنکھوں میں. ..اسکو خود میں چھپا لے….صرف وہ ہو..اور دشمنِ جاں ہو…

~اِک.توں ہو ویں,اک میں ہو واں

دوئیں رَل کے,جگ نو.بُھل جائیے نی

جبکہ.نمرہ.کا.حال بھی.مختلف نا.تھا..وہ.پہلی.بار.یوں اسکے.اتنے.نزدیک تھی…اکیلی…صرف وہ.اور فرحان تھے..اور ڈھلتی شام کی.خوبصورتی تھی….لیکن اس.کے.باوجود اسکی.ہمت.نا.تھی اسکی.آنکھوں میں دیکھنے.کی…وہ.گھبرا رہی تھی…..

فرحان کی.نظروں کی.تاب نا.کا.پائی.تھی…فطری جھجک.اور حیا آڑے ارہی تھی….

عریبہ…سب.لوگ کہاں ہیں ؟؟؟

نمرہ.نے تھوک نگلتے ہوئے پوچھا تھا…

جبکہ.اسکے.بولنے.سے سکوت ٹوٹا تھا..فرحان واپس آیا تھا اپنی دیوانگی سے….

وہ.اسکی حالت بخوبی.سمجھ رہا تھا…

سب.اندر ہیں. .آجاؤ..

وہ بھی کھڑا ہو گیا اور وہ.دونوں ہم قدم.ہو. کر اندر کی.طرف بڑھنے.لگے..

وہ.فرحان کے کندھے سے تھوڑا سا.اوپر.آتی تھی…

اسکے ساتھ قدم با قدم.چلنا… وہ تو جیسے نہال.ہو.گئی تھی…یہی تو خواہش تھی.اسکیِ.کہ.یہ.شخص اس.کا.ہاتھ تھام.کر قدم.ملا کر چلے…

آمنہ.بیگم اس وقت لآؤنج کے دروازے.میں آئی تھیں. .سامنے فرحان کے ساتھ نازک.سی.نمرہ.کو.آتے دیکھ.جر وہ.تو جیسے خوشی.سے.پھولے نا سمائی.تھیں. .وہ.دونوں لگ.ہی.اتنے پیارے رہے تھے ایک ساتھ…انکے دل.کی خواہش.مزید پختہ.ہوئی.تھی اور.جلد.ہی.بات.کرنے.کا سوچ کر وہ.آگے کو بڑھی تھیں. ..

نمرہ ان.سے ملی. .انھوں نے اسکا ماتھا چوما.تھا…

اس کے.بعد وہ اسکو اندر.لے گئیں. .

باقی سب سے ملنے.کے.بعد وہ عریبہ.کے ساتھ ہو.لی…جبکہ فرحان اپنے.بے لگام دل کو لگام ڈالنے.کی.غرض سے وہاں سے اتھ کھرا.ہوا اور کمرے میں چل.دیا..اگر وہ.مزید وہاں رہتا تو.کچھ بعید.نا.تھا.کہ.اسکی.چوری پکڑی جاتی….