Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 19)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

نمرہ کا.تیسرا سال.شروع ہو چکا تھا… اسکی پیسويں سالگرہ بھی چند ماہ بعد.تھی… ہمیشہ کی طرح دوسرے سال کا رزلٹ بھی شاندار آیا تھا…اسی وجہ.سے.وہ اپنے کالج میں کافی مقبول ہونے لگی تھی….

دن تیزی.سے گزر.رہے تھے. ..فرحان اکثر اس سے بات کرنے لگا تھا..نمرہ بھی اسکی باتوں کا جواب اچھے.سے دیتی…. اور یونی وغیرہ کی باتیں اس کو بتا دیا کرتی…

آج یہ ہوا…کل ٹیسٹ ہے…آج میرے ذرا کم.مارکس آئے..ایسے میں فرحان بھی.اسکی باتوں کو انجوائے کرتا تھا…

وہ ابھی لیپ ٹاپ لے کر بیٹھی تھی کہ میسج آیا..آج پورے ہفتے بعد اسکا میسج آیا تھا…

سلام دعا کے بعد سنے نمرہ سے پوچھا…

کیا.ہو رہا ہے؟؟

کچھ خاص نہی..آپ بتائیں. .

نمرہ نے خوشی سے جواب لکھا تھا…

میں تو چائے بنا رہا ہوں. ..

فرحان نے جواب دیا…

واو…اپکو اتی ہے چائے بنانے…

نمرہ نے خوشگوار حیرت سے پوچھا تھا…

آتی ہے تبھی بنا.رہا ہوں …بلکہ بہت اچھی آتی.ہے…

فرحان نے جواب دیا…

باقی کہاں ہیں سب؟؟

نمرہ نے پوچھا…

سب گئے ہیں آج نونی لوگوں کے گھر رات رہنے….میں اکیلا ہوں تبھی مشقت جاری ہے…

اسنے معصوم شکل کے ساتھ میسج.بھیجا…

نمرہ کھلکھلا اٹھی..

ہاہاہاہا… چلیں اچھے بات ہے اپنا کام خود کرنا…ویسے مجھے ذرا نہی پسند چائے بنانا…پر کیا.کروں بنانی پڑتی ہے..ماما بنواتی.ہیں. ..

نمرہ.نے اہنا دکھڑا رویا تھا…

پھر تو مسئلہ ہو جائے گا…

فرحان نے شرارت سے جواب دیا..

مسئلہ کیوں. .نمرہ.نے پوچھا.تھا..

دیکھو مجھے چائے کے کی ایڈکشن ہے اور تمہیں بنانے سے.بھی.کوفت ہوتی…مسئلہ سنگین ہے…

فرحان نے مسکراہٹ سے جواب دیا

نہی بنانے.سے.کوفت نہی ہوتی..بس یہ کہہ رہی موڈ نہی.ہوتا اکثر بنانے.کا…

نمرہ نے فوراً صفائی پیش کی…

چلو ایک کام کیا.کرو…

فرحان نے مشورہ دینے والے انداز میں کہا..

جی ؟؟نمرہ نے.اشتیاق سے پوچھا

تم روز.رات کو چائے بنا.یا کرو….تاکہ عادت ہو جائے…بعد میں دونوں کے لئے آسانی ہو جائیگی…

فرحان نے بڑے مشورانہ انداز میں جواب دیا تھا…آنکھوں میں شرارت قائم تھی…

کیا مطلب؟؟دونوں کو آسانی کیسے؟؟نمرہ نے حیرت سے پوچھا..

کچھ نہی..چھوڑو فلحال…

تم سوئی نہی ابھی تک؟؟

فرحان نے بات بدلی..

ہمم بس سونے لگی.ہوں…

اللہ حافظ…

نمرہ جواب دے کر سونے لیٹ گئی..جبکہ فرحان کی رات اب جاگتے ہی کٹنی تھی…

ایمن کی منگنی کی تاریخ رکھ دی گئی تھی… دو.ہفتے بعد اسکی منگنی تھی… وہ تینوں بہت خوش تھیں. ..ایمن کی مسکراہٹ چھپائے نہی چھپتی تھی… نمرہ.نے اسکی مسکراہٹ ہمیشہ برقرار رہنے کی دل.ہی دل میں دعا کی….

جبکہ مقدس بات بات پر اسکو سالار کے نام سے تنگ کرتی تھی….

ابھی اتنا بلش.کروگی تو سالار بھائی کے سامنے کیا کروگی…باقی کا بچا کر رکھو…

نمرہ نے آنکھ دبا کر کہا تھا….

بائے دا وے نمی تو بتا..تیری بات ہوئی فرحان بھائی.سے؟؟

ایمن نے پوچھا. .وہ سب خوش تھیں کہ فرحان اتنی جلدی اور آسانی.سے مان گیا تھا….

ہاں ہوئی تھی کل…

نمرہ نے نارمل سے انداز.میں جواب دیا تھا..

کیا بات ہوئی؟؟مقدس نے پوچھا تھا..اور نمرہ نے انکو بات. بتا دی..

اوے ہوئے…عادت ڈال لو چائے کی..دونوں کو آسانی ہوگی…

کیا بات ہے…مقدس نے شرارت سے کہا…

دیکھا ..میں نے کہا تھا ہی لائکس یو..لکھ لے تو…ایمن بھی فوراً چہک کر بولی تھی..

بس کرو تم لوگ… ایسا کچھ نہی..نمرہ نے صاف انکا.ر کیا..

بیٹا جی یہ تو انکے انداز ہی بتا رہے ہیں کیسا ہے اور کیسا نہی…

ایمن نے کہا تھا…

جبکہ نمرہ اس بات پہ مسکرا دی…

کیا واقعی؟؟ مطلب میں اور فرحان. ..

وہ سوچ کر دھیرے سے مسکرا دی…

اب تو آپ بلش کر رہی ہیں میڈم…

ایمن نے.موقع دیکھ کر اسکی بات اسی کو لوٹائی تھی…

بکو مت…اٹھو چلیں. .بھوک لگی ہے..

نمرہ کھڑی ہو گئی…

جبکہ مقدس اسکی بات پر ہنس دی تھی….

وہ ایمن اور مقدس کی بات کو چاہ کر بھی دل سے نہی نکال پا رہی تھی…

افففف کیا ہو رہا ہے مجھے….ایسا کچھ نہی ہے…وہ فرحان بھائی….

نہی..بھائی کہنے سے منع.کیا انہوں نے..پر کیوں. .کیا واقعی وہ …….

اور یہ سوچ ہی اسکو مسکرانے پر مجبور کر گئی…

آئیز تو دیکھ انکی..افففف.

اسکو مقدس کی پرانی بات یاد آئی جب اسکی فرحان سے پہلی بار بات ہوئی تھی اور مقی نے ڈی پی دیکھ کر کہا تھا..

اسنے.موبائل اٹھا کر فرحان کی ڈی پی کھولی…کیوں ؟؟

بھئی دل کر رہا تھا نا اسکا بس…😉

اب دوسری تصویر تھی… سکن جینز اور سکائے بلیو ڈریس شرٹ میں. .آنکھوں میں شرارت اور ہونٹوں پر مسکان لیے..شاید وہ کسی بات پر ہنس رہا تھا جب یہ تصویر لی.گئی تھی…

نمرہ نے بے اختیار اسکی آنکھوں میں جھانکا….پر اگلے ہی پل وہ نگاہ جھکانے ہر مجبور ہو گئی…اسے لگا وہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا جیسے….

اسکی آنکھوں میں کچھ تھا..تپش تھی..نمرہ چاہ کر بھی ان میں نا دیکھ پائی تھی…اسکا دل زور.سے دھڑکا تھا…

یہ..یہ کیا ہو رہا ہے..اسنے.ایک دم دل پر ہاتھ رکھا…اور فوراً تصویر ہٹا دی جیسے مزید دیکھتی تو اسکا راز ..راز نا رہتا..افشاں ہو جاتا…

فرحان ,برہان اور اشعر آج شاپنگ کرنے آئے تھے…. زیادہ تو وہ اون لائن ہی چیزیں منگوا لیتے تھے مگر آج موڈ ئوا تو وہ تینوں آسلام آباد کے لیے نکل گئے…فرحان اور اشعر شرٹس دیکھ رہے تھے برہان کی نظر. سامنے والی شاپ پر ڈسپلے ہوئے لیڈیز شوز پر پڑی….

شائیننگ گرے کلر کے وہ جوتے نہایت قیمتی اور نفیس تھے….اسکو ایک دم عریبہ کا خیال آیا تھا….

وہ سامنے والی شاپ پر چل.دیا..جوتوں کے پاس پہنچ کر اسنے جوتے اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ …

یہ.کیا….کسی نے پہلے ہی یاتھ برھا کر جوتا اچک لیا…

اسنے ایک.دم نظر اٹھا کر.سائیڈ پر دیکھا…

لائٹ پرپل کرتا ساتھ نفیس سی وائٹ کیپری اور وائٹ ہی دوپٹہ لیے …سرخ.و سفید رنگت اور خوبصورت نقوش کی حامل وہ لڑکی بڑے مزے سے جوتوں کا جائزہ لے رہی تھی…

ایکس کیوز می…یہ مینے پہلے دیکھے تھے..

اسنے مقدس کو مخاطب کر کے کہا تھا…ِ

مقدس نے نظر سامنے کھڑے چوبیس

پچیس سالہ مرد پر ڈالی…برہان اس سے لمبا تھا تو اسکو اسکے منہ کا جائزہ.لینے کے لئے منہ.کو ہلکا سا .اوپر کرنا پڑا… وہ بامشکل برہان.کے.کندھے تک آرہی تھی…

لیکن اٹھا تو مینے لیے نا..اب میرے ہو گئے…

اس نے شان بے نیازی سے کندھے اچکا کر کہا تھا…

جبکہ برہان کو ایک آنکھ نا بھایا تھا اسکا یوں کہنا…

ایسے کیسے آپ کے ہو گئے…مینے پہلے دیکھے ہیں تو پہلا حق میرا بنتا ہے…

برہان نے تیوری چڑھا کر کہا.تھا….

پر آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ.میں یہ جوتا اتھا چکی ہوں..اور اب میرا حق.بنتا ہے اس.پر..آپ کسی اور پر پہلا حق جما لیں …

.مقدس بول کر دوبارہ جوتا دیکھنے لگی..اسنے جوتا نیچے رکھا اقر ٹرائے کرنے کے لئے اپنے پیر سے جوتا اتارا ہی تھا کہ برہان نے جھک کر وہ جوتا اچک.لیا…

اب میرے.ہاتھ میں ہے..تو.میرا ہوا…

برہان نے دل جلانے والی مسکراہٹ لیے جتانے کے انداز میں کہا تھا…

یہ..یہ چیتنگ ہے..رکھیں واپس…

نقدس تلملا کر اٹھ کھڑی ہوئی…

اتنے میں سیلز گرل ان تک آئی…

میم..سر..یہ شوز اور بھی پیرز.ہیں. .میں لا دو دیتی ہوں. آپکو…

اسنے دونوں کو مخاطب کر کے کہا..ِ

اسکا مطلب صاف تھا کہ.ایک یہ لی.لے اور دوسرے کو وہ لا دیتی ہے…

ہاں آپ انکو اندر سے لا دين..یہ والا مجھے پیک.کروا دیں…

مقدس فوراً بولی…

اوکے میم…سیلز گرل مڑنے ہی لگی تھی جب برہان بولا…

نہی یہ مجھے چاہیے..آپ انکو اندر سے دوسرا دے دیں…

سیلز گرل نے حیرت سے اسکو دیکھا..پھر مقدس کو…

نہی.یہ.میرا ہے…

مقدس تیوری چڑھا کر بولی..

جی.نہی..یہ.میں لونگا..شی ول گیو یو این اددر…

اسنے.مقدس سے کہا..

نو..آئی ول ٹیک.دس..یو کین ہیو دا.اددر ون…

مقدس. اس کے ہاتھ سے جوتا لینے کی کوشش میں بضد ہوئی…جبکہ سیلز گرل ہونقوں کی طرح انکی شکل دیکھ رہی تھی…

دونوں کو لرتا دیکھ کر کہیں سے نہی.لگ رہا تھا وہ دو.میچور.انسان.ہوں. ..

دونوں ایک دوسرے کو کھا جانے والی.نظروں سے گھور.رہے تھے….

سر آپ یہ مجھے دے دیں. .

سیلز.گرل نے برہان سے جوتا مانگا…

اسنے جوتا اسکی طرف برھا دیا اور.چل.دی..

ایک اور.بالکل ویسا ہی جوتون کا جورا نکال کر اسنے.دونوں کو پیک کروایا..

جبکہ.مقدس اور برہان دونوں کی نظریں پہلے والے جوڑے پر مرکوز تھیں کہ وہ کس ڈبے.میں ڈالا گیا ہے…

دونوں پیک ہو چکے تو سیلز گرل نے انکو بلایا..

مقدس برہان.کے بڑھنے سے پہلے ہی بھاگ کر کاونٹر تک پہنچی…اس کی.اس سپیڈ سے بھاگنے پر آس پاس موجود لوگوں نے حیرت سے اسکو.دیکھا تھا.جبکہ.برہان خود حیران.ہو گیا تھا…

اسنے کاونٹر پر پہنچتے ہی پہلے جوڑے والا شوپر چھپٹا..اور پیسے رکھ دیے…

جوتے اٹھا کر وہ.پیچھے کو مری اور. دل جلانے.والی.مسکراہٹ لیے بریان کو دیکھا.اور ایک دم زبان.نکالی..😋😜😎😎

اور فوراً شاپ سے نکل گئی…برہان اسکی اس حرکت پر پیچو تاب کھاتا رہ گیا…جبکہ.سیلز گرل کے لیے اپنی ہنسی.روکنا مشکل.ہو رہا تھا…

برہان نے کاؤنتر پر بل.پے کیا.دوسرا جوڑا.اٹھایا اور چل.دیا…

باہر آ کر اشعر اور فرحان کے پاس گیا..

کیا.لینے گیا.تھا..یہ کس کے لیے…ہائے تو کب سے لیڈیز شاپنگ کرنے لگا… دیکھا.میں کہتا تھا.کوئی.چکر ہے باس…

اشعر شروع ہو چکا تھا…

عریبہ کے.لئے لیئے ہیں. ..

برہان.نے بتایا..

اتنا ٹائم.کیوں لگا..

اگلا سوال حاضر تھا..

بس کسی پاگل سے پالا پر گیا تھا…

برہان کی نظروں کے سامنے مقدس گھومی تھی….

ہیں کون؟؟ اشعر نے پوچھا…

بس کوئی.نہی چلا چلیں. ..

برہان نے منہ بنا کر کہا تھا…

عریبہ کا بی ایس کا دوسرا سال چل رہا تھا..چوتھا سیمسٹر شروع ہو چکا تھا….

وہ لاؤنج میں بیٹھی پڑھنے میں مصروف تھی…

ابھی.ابھی نہا کر نکلی.تھی.. کندھوں سے تھوڑے نیچے آتے بال گیلے ہونے کی وجہ سے کھلے ہوئے تھے..اور دوپٹہ ایک طرف پڑا ہوا تھا…

آس پاس سے بے خبر وہ پوری طرح نمیریکلز سالو کرنے میں محو تھی… آمنہ بیگم ,عالیان,ثابان اور برہان سب گروسری کرنے گئے تھے..جبکہ فرحان اپنے کمرے میں تھا…

اشعر فرحان سے بات کرنے آیا تھا..لان عبور کر کے وہ سیدھا لآؤنج میں آیا تھا….

لآؤنج میں عریبہ اکیلی بیتھی تھی..اشعر نے.ہلکے سے دروازہ ناک کیا..

عریبہ.نے نظر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا…

سامنے اشعر کو دیکھ.کر وہ ایک دم سیدھی ہوئی…

ڈارک براؤن بال کندھے سے ایک طرف ڈھلک رہے تھے ..کچھ آوارہ لٹیں خشک ہو کر بار بار چہر پر آرہی تھیں ….

اسنے ایک دم گھبرا کر. دوپٹہ اٹھانے کی ادھر ادھر ہاتھ مارا…لیکن. وہ وہاں ہوتا تو ملتا نا…دوپٹہ صوفے سے پھسل کر نیچے گر چکا تھا…

اشعر سے اسکی گھبراہٹ چھپ نا.سجی تھی..اسنے اپنی نظریں ایک دم جھکا.لیں…اور اسکی نظر نیچے پڑے دوپٹے ہر گئی…

نیچے گر گیا.ہے دوپٹہ تمہارا…

اس نے گویا اسجو بتا.کر اسکی.مشکل آسان کرنا چاہی..

عریبہ ایک.دم جھکی اور دوپٹہ اتھا کر خود ہر پھیلا لیا…

اسے عجیب لگنے لگا..ماحال.کو نارمل.رکھنے کے لئے اشعر فوراً بولا..

فرحان کہاں ہے؟؟

نظریں منوز.نیچے تھیں. .

وہ بھائی…اوپر..اوپر ہیں. .کمرے میں. .

عریبہ.نے بامشکل جواب دیا تھا…

اشعر کی.نگاہ بے اختیار اٹھی تھی….

اسنے اسکی بری بڑی خوبصورت آنکھوں میں دیکھا تھا…نیوی بلو کلر کی فراک سٹائل قمیض پہنے ساتھ کھلی سی شلوار…معصومیت اور جھجھک چہرے سے عیاں تھی…

اشعر کو ایک دم پیار آیا تھا اس پر..

وہ نظریں جھکا چکی تھی…

عریبہ اشعر سے کافی چھوٹی تھی تقریباً چھ سال….

لیکن آج پہلی بار وہ اسکو یوں دیکھ رہا.تھا…اسے اچھا لگا تھا اسکا یوں جھجھکنا. ..نظریں جھکانا…گھبرانا….

آج اشعر کو وہ بڑی بڑی لگی تھی…

حالانکہ وہ ابھی انیس سال کی تھی…اور اشعر اور فرحان دونوں چھبیس کے ہونے کو.تھے…

وہ ہولے.سے مسکرا کر اندر برھا اور فرحان کے کمرے کی طرف چل.دیا…

اسکے جانے کے.بعد عریبہ.نے بکس سمیتی اور کمرے.میں پڑھنے کا ارادہ کر کے اتھ بیٹھی…

ایمن کی منگنی گاؤں میں ہی رکھی گئی تھی…

نمرہ اور مقدس دونوں اس کے ساتھ اسکے گاؤں گئی تھیں. …

ایمن کے ابو نے خود

دونوں کے والدیں سے اجازت لی.تھی اور انکی زمی.داری اپنے سر لی تھی..تبھی دونوں کو آرام سے آنے.کی اجازت.مل.گئی…

رات کو وہ سب پہنچے تھے..منگنی کل.تھی..سو آج وہ ایمن کے ساتھ گاؤں گھومنے.نکل.گئیں. .سالار نے ان.تینوں کو پورا گاؤں گھمایا تھا.. سر سبزکھیت, پانی.کی بہتی ندیاں,ہرے بھرے درخت, یہ.سب ان.تینوں کو تازہ.دم.بنا رہا تھا…..

مجھے بھوک.لگ رہی ہے بہت اب تو…

مقدس سے رہا نا.گیا تو.بول.پڑی..

مجھے بھی…

نمرہ.نے کہا…

چلو پھر آج تم لوگوں کو گاؤں کا خالص کھانا کھلاتی ہوں. .

ایمن.نے مسکرا کر.کہا…

اسکی چچی.نے ساتھ ہی کھانا دے.دیا تھا.انکو…

مکھن,مکئی.کی.روٹی کے ساتھ ساگ اور لسی….

وہ سب ایک درخت کے سائے میں چادر بچھا جر بیٹھ گئے..ایمن کی.کچھ اور کزنز بھی ساتھ تھیں. ..

کھانا کھا کر مقدس اور نمرہ.تو.انگلیاں چاٹتی رہ گئیں. ..

اففا یمن مجھے.یہ.روز کھانا.ہے..

مقدس نے خوشی سے کہا.تھا…

ہاہاہا..سالار بھائی..آپکا کوئی اور بھائی.نہی غیر شادی شدہ؟؟

نمرہ.نے شرارت سے پوچھا. ..

فلحال.تو اس حال میں صرف معصوم ہی ہوں….پہلے میرا تو کچھ.کرو..

سالارنے ٹھنڈی آہ بھرنے.کی اداکاری کرتے ہوئے کہا.تھا…

ہاہاہا…آپکا بندوبست تو پکا ہے کل…

ہماری بہن.نے آخر ترس.کھا.ہی.لیا.آپ.پر…

نمرہ.نے ایمن کو کہنی ماری…

شکر ہے آپکی.بہن نے نظر کرم کی مجھ ہر..

سالار نے ایمن کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے.کہا.تھا..

اہم اہم…

نمرہ نے اسکو ایمن کو دیکھتے پایا تو تنگ کیا..جبکہ ایمن جھینپ گئی.تھی….اسکے گال گلابی.ہو چکے تھے…

اسی طرح گھومتے گھماتے شام ہو گئی…سب تھک ہار کر مغرب کے وقت گھر پہنچے..

اگلے دن.منگنی تھی سو کافی کام تھے…سو وہ.سب رات جلدی ہی سو گئے…

اشعر کمرے میں بیٹھا خاموشی سے سوچنے.میں مصروف تھا..اس دن.کے بعد وہ.کئی بار عریبہ.کو سوچ چکا.تھا..چاہ کر بھی اسکا خیال جھتک نا.پایا تھا..

اسکی ایک.بیٹ مس ہوئی…

اسے اچھی لگنے لگی تھی عریبہ…

پر وہ اسکو اشعر بھائی کہہ کر جب بلاتی تھی..اشعر جو.تب.فرحان کے دکھ.کا.احساس.ہو.تا تھا…

جب فرحان کو نمرہ.بھائی.کہتی تھی تو وہ.فرحان کا مذاق اڑاتا تھا..اب خود پر پری تھی تو.اسے اندازہ.ہو رہا تھا…

اشعر بھائی…

وہ زیرِ لب بڑبڑایا اور دھیرے سے.مسکرا دیا…

چلیں کچھ سوچتے ہیں عریبہ آفندی آپ کے بارے میں بھی….

.وہ سوچتے ہوئے مسکراتے لبوں سے آنکھیں موند گیاِ….