Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 18)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
گھر أکر وہ سیدھا اپنے روم میں گئی تھی…دماغ سخت کوفت کا شکار تھا…کپڑے وغیرہ بدل کر وہ لیٹ گئی…اور بے چینی سے پہلو بدلنے لگی….
کیا میں نے سہی کیا؟؟
اسنے خود سے پوچھا تھا
نہی..مجھے ایسا نہی کرنا چاہیے تھا…
وہ تو صرف میری ہیلپ کرنا چاہ رہے تھے…میں.اتنی ہائپر ہو گئی اور انکو سنا دی… اگر انھوں نے ماما کو بتا دیا تو؟؟؟
اتنے میں موبائل بجنے.لگا …ایمن اسے ویڈیو کال کر رہی تھی..اسنے کال اٹھائی…
کیا کر رہی ہے؟؟
اسنے پوچھا تھا…
بس سوچ رہی ہوں. ..
نمرہ مے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا…
کیا؟؟وہی جو آج شاندار کارنامہ سر انجام.دیا آپ نے؟؟؟
ایمن نے پوچھا…
نمرہ جانتی تھی اسکا اشارہ کس طرف ہے…
اتنے میں مقی کی.کال آنے لگی…
اب تینوں موجود تھیں. ..
ہیلو گائز..کیسی تھی انگیجمنٹ…جلدی بتاو..پورا دن.انتظار کیا میں کب واپس آو کب میں سارا حال جانون…مینیو میں کیا کیا تھا؟؟
مقدس چھوٹتے ہی شروع ہو چکی تھی…
اچھا ہی تھا…
ایمن نے جواب دیا..
مقدس کی نظر خاموش بیٹھی نمرہ پر پڑی…
تجھے کونسا صدمہ لگا ہے؟؟
مقدس نے پوچھا..
صدمہ لگا تو نہی شاید پر کسی کو صدمہ دے ضرو آئی ہیں یہ محترمہ…
ایمن نے خفگی سے کہا..
کیا مطلب ..کیا ہوا اسکو؟؟کسکو صدمہ دیا؟؟؟
اسنے حیرت سے پوچھا…
اسکے پوچھنے کی دیر تھی کہ ایمن نے الف تا ے ساری روداد اسکو تفصیل سے سنا ڈالی…
واٹ……
سب جان کر مقدس تقریباً چیخی تھی…
نمی ..آر یو ان یور سینسس؟؟؟
دماغ چل گیا تھا کیا تیرا؟؟تو نے فرحان کی انسلٹ کی وہ بھی اتنی بڑی محفل میں. ..سب کے سامنے…
اسکو تو جیسے خود صدمہ لگ گیا تھا…
سٹاپ اٹ گائز…اس نے سب کے سامنے ہاتھ پکرا میرا…اس …بالکل اس حارث کی طرح…
نمرہ نے تمہید باندھی تھی….
ہاں تو اسکی اتنی ایکسٹریم کی سزا دی تو نے…
مقی نے غصے سے پوچھا…
ایک منٹ…تو کس سے ملا رہی ہے ان کو؟؟اس حارث سے..کم آن نمرہ…میں تجھے اتنا بےوقوف نہی سمجھتی تھی…انھوں نے تیرئ مدر کرنے کی خاطر تیری آسانی کے لیے کہا …
تجھے فرحان بھائی حارث جیسے لگے کہیں سے…؟؟؟
مشرق کو مغرب کیوں بنا رہی ہے..چل مانا کہ غلط کیا انھوں نے…پر سوچ ایک بار…تجھے ان میں اور حارث میں فرق نہی دکھا؟؟
میں نے. صرف آج دیکھا انکو.. اور مجھے بہت ڈیسنٹ لگےوہ..جبکہ تو تو مل چکی ہے..جانتی ہے..بات کر چکی ہے..کبھی انھوں نے کوئی غلط بات کی تجھ سے ؟؟ہاں؟؟؟
ہم لڑکیاں اگلے انسان کی ایک نظر.سے پہچان جاتی ہیں کہ.وہ ہمیں “کس” نظر.سے دیکھ رہا ہے؟؟
انکی نظروں میں کچھ غلط دیکھا تو نے اپنے لئیے؟؟.پہکے کبھی ؟؟یا اب..ایون جب انھوں نے تیرا ہاتھ پکڑا تب بھی انکی صاف نیت انکی آنکھوں سے عیان تھی..پھر تجھے کیوں نا دکھی؟؟
ایمن نے اسکو بہت کچھ باور کرایا تھا…
جبکہ نمرہ کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں. ..
یار..مینے تو..پتہ.نہہ.کیسے ہو گیا..مجھے سخت غصہ آیا ہوا تھا اس حارث کو سامنے دیکھ کر…جب انھوں نے ایسا کیا تو مجھے ان پر بھی ویسا غصہ آگیا…یہ کیا کیا مینے…کہان کا غصہ کہاں نکال دیا…
افف ..میرے خدایا..اس خبیث انسان کا غصہ ایک شریف انسان پر نکال دیا…اب..اب کیا کروں گی میں ؟؟
اسنے تقریباً روتے ہوئے پوچھا تھا…
حد ہے نمی ویسے…جب وہ کہہ رہے تھے وہ چھوڑ دینگے تو مان.کیوں نہی گئی تو…سونے پہ سہاگہ اتنے ہینڈسم بندے کی اتنی عزت افزائی کر ڈالی تو….
مقدس کو غم کھائے جا رہا تھا…
میں. .میں ایکسکیوز کر لونگی انسے…
نمرہ نے حل پیش کیا…
اور تیرے خیال سے وہ آسانی سے مان جائنگے؟؟
مقدس نے پوچھا..
ہان نمی تو سوری بول دے..ہی ول ایکسیپٹ اٹ…
ایمن نے مشورہ دیا..
اچھا چل.اب پریشان نا ہو..سوچتے ہیں
کچھ..فل حال مائنڈ کو ری لیکس کر..اور نکال اس دوسرے خبیث کو ذہن سے…
مقدس بولی…
اور پھر کال.بند ہو گئی…
میں سوری کر لونگی..ہاں یہ ٹھیک ہے…پر کیا وہ مانین گے؟؟
کیا کر دیا مینے..ماما کے ساتھ گھر بھی آئے وہ..اس کے بعد بھی ملے مجھے..ہمیشہ اتنی عزت کرتے ہیں….عقل کدھر گھاس چرنے گئی تھی میری جو اتنی سنا دین…
عریبہ کو.پتا چلا تو کیا سوچے گی…
وہ سر تھام.کر بیٹھ گئی…
اسی لیے غصے کی.ممانعت کی گئی ہے..انسان. اکثر غصے میں ایسا قدم اٹھا جاتا ہے جس کا مداوا پھر ممکن نہی ہوتا…نمرہ کے حواس پر بھی غصہ چھایا تھا مگر ستم ظریفی یہ کہ وہ غصہ غلط وقت پر اورغلط انسان.پر وہ اتار چکی تھی…..
فرحان شام سے سڑکوں پر بلاوجہ گاری دوڑا رہا تھا …اسکا بس نہی.چل رہا تھا اس دنیا کو آگ لگا دے….
اگر کوئی اور شخص اس کے ساتھ ایسے پیش آتا یا کوئی بھی اور لرکی ہوتی تو شاید وہ دوبارہ اسکو تکنا بھی گوارا نا کرتا..یا شاید اسکو اتنا فرق نا پڑتا….پر اسکی تزلیل اس نے کی تھی جس سے وہ کبھی ایسی امید نا رکھتا تھا…اور جس سے امید نا ہو..وہ شخص ایسا کرے تو تکلیف زیادہ ہوتی ہے..اسکا بھی یہی حال تھا…وہ اس لڑکی سے محبت کرنے لگا تھا..اچھی لگتی تھی اسکو وہ…اس کے آگے بچھ رہا تھا وہ…بہانے سے پی سہی مگر اسکا حال احوال پوچھتا تھا وہ…اسکے متعلق سوچتا تھا…
مگر آج…
اسنے سٹیرنگ کو زور سے پکڑا تھا
کیوں
کیا تم.نے ایسا؟؟کیوں ؟؟؟؟
خود مجھے ساتھ چلنے کا کہا…آاور پھر سب کے سامنے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا….
فرحان کو اسکی آنکھوں میں موجود نفرت یاد آئی جو ہاتھ پکڑنے پر در آئی تھی….
ٹھیک ہے نہی پکرنا چاہیے تھا ہاتھ..مگر وہ فطری عمل تھا..
اسکو رومنے کی ایک کوشش…
تم نے سب کے سامنے میرے کردار کو مشکوک بنایا جیسے میں تو لٹیرا تھا…یا روزانہ زبردستی تمہارا ہاتھ تھامتا ہون….
تم نے اچھا نہی کیا میری جان…بئت غلط کیا…میرے سامنے اس نومان کو اہمیت دی…مجھے شکست خور بنا دیا…جو سالوں میں کبھی نا ہوا آج تمہاری وجہ سے وہ.ہوا…
فرحان کو حامد اور نومان کی تمسخر بھری نگاہیں یاد آئیں…وہ اندر تک سلگ اٹھا…
تمہیں میں بتاؤں گا انکار کسے کہتے ہیں. ..نفرت کیا ہوتی ہے…بےعزتی کیا ہوتی ہے…جسٹ ویٹ.
فرحان نے کار ایک طرف روکی تھی…اور خود کو ری لیکس کرنے کی کوشش میں گہرا سانس لیا..وہ آنکھیں موند کر سر سیٹ کی بیک سے ٹکا گیا..
اشعر اسکے کہنے کے باوجود اسکو اکیلا چھوڑ کر نا گیا تھا..فرحان کی گاڑی نکلنے کے بعد وہ اپنی گاڑی لیے اسکے پیچھے پیچھے تھا شام سے…فرحان اتنے گھنٹے روڈوں پر بے وجہ گاڑی دوڑا رہا تھا…وہ پورے شہر کو کوئی دس بار طواف کر چکا تھا…
اشعر اب جھنجلا چکا تھا…فرحان نے گاڑی روکی تو اسنے سکان کا سانس لیا..آرام سے اپنی گاڑی پیچھے لگا کر وہ نیچے آیا…
گاڑی کے پاس پہنچ کر وہ فرحان کی سائیڈ والی کھڑکی پر جھکا…
شکر ہے تو نے بریک تو لگائی…ورنہ آج تو لگ رہا تھا گاڑی نے نہی جیسے تونے خود پیٹرول پی رکھا ہو…
اشعر نے کہا تھا…
جبکہ فرحان اسکی آواز پر چونکا تھا…آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ سامنے کھڑا تھا..ہلکی سی مسکراہٹ لیے…
تو..تجھے منع کیا تھا نا…
فرحان کے ماتھے پر نل پڑے..جبکہ اشعر فوراً ناک پر ہاتھ رکھتا ذرا.پیچھے کو سرکا…
جیسے ناک بچا رہا ہوِِ…
دیکھ تو جو بھی بول پر میں نہی جاؤنگا اپنی دلھن..میرا مطلب ہے اپنے جگر کو لیے بغیر..اور خبردار جو میری ناک پر دوبارہ اپنی منحوس نظر ڈالی…
اشعر نے انتہائی معصومیت سے کہا تھا..فرحان بااختیار مسکرا اٹھا تھا…
اسکو مسکراتا دیکھ کر جیسے اشعر کی جان.میں جان آئی…وہ دوڑتا.ہوا دوسری سائیڈ کا دروازہ کھول کر بیٹھ گیا…
فرحانے صاف بات بتا…
اشعر نے کسی لگی پٹی کے بغیر پوچھا. ..
فرحان نے ایک گہرا سانس لیا..چہرے پر دکھ کا منصر تھا…
اور اسنے سب اشعر کو بتا دیا….
تو نے دیکھا نہی اس حامد کمینے کو..اور وہ نومان…چھوڑوں گا نہی اسکو میں. …
نمرہ کو بھی قیمت تو چکانی ہو گی…فرحان دوبارہ غصے میں آنے لگا تھا..مگر اب غصہ پہلے کی نسبت قدرے کم تھا…
فرحان…میری جان ٹھنڈے دماغ سے سوچ. ..غصہ سب تباہ کر دیتا ہے…
اور تو نے نمرہ کا ہاتھ کیوں پکڑا آخر..جب وہ کہہ چکی تھی نہی آنا تو پھر روکنے کی وجہ؟؟؟
اشعر نے اس.سے پوچھا تھا
اگر اسکو نہی آنا تھا تو.مجھے میسج کیوں کیا کہ ڈراپ کر دو….خود.میسج کیا.نا..میں گیا تھا کیا.پیچھے ؟؟؟ پر نہی..ان.محترمہ کے تو.مزاج ہی نہی ملتے..سمجھتی کیا ہے خود کو….کبھی سٹرینجر تو.کبھی بھائی..اور پھر ایسے بلا.کر تزلیل کر دینا….میں کوئی مری جا رہا تھا یا زبردستی کے جا رہا تھا….
یہ تو صاف سازش ہے…خود کہہ کر مکر جانا…اور پھر میری نظروں کے سامنے وہ اس نومان کے ساتھ گئی.ہے..دیکھا تھا کیسے جتاتی نظروں سے دیکھ رہاتھا…
فرحان نے نفرت سے کہا تھا…
یار دیکھ..ٹھیک ہے اسنے بلایا تجھے..پھر نہی آئی..غلط کیا…لیکن اب اتنا غصہ مت کر..ہو سکتا ہے وہ خود پریشان.ہو تب…اسکا لہجہ عجیب تھا تھوڑا…اور بس منع کر دیا تو چھور دے…اور اتنی بری بات نہی.ہے میرے بھائی…حامد اور نومان کا پتہ ہے تجھے…نمرہ کو تو نہی نا پتا..اسنے تیری سہوکت دیکھی صرف کہ تو لیٹ ہو جائے گا تبھی شایہ پچھتا گئی ہو اور اس کے ساتھ شلی گئی ہو…ہاتھ پکڑنے پر اسکا غصہ فطری تھا..کوئی بھی عزت دار لڑکی ایسی بات برداشت نہی کرتی…
سوناؤ فورگیت ایوری تھنگ ایند ریلیکس…
اشعر اسکو سمجھا رہا تھا اور فرحان سمجھ بھی رہا تھا..
اور تو موقع دیکھ کر اسکو.بتا دینا کہ تو ہسند کرتا ہے اسکو..دیٹس اٹ…
اشعر نے مشورہ دیا…
ہوں…بتا دونگا…
گد چل اب چلین…
اشعر نے اسکا.کندھا تھپکا کر پوچھا…
کدھر؟؟فرحان نے پوچھا..
میرا ولیمہ کھانے…
شو روم چلتے ہیں اور کدھر..یہ جو ونڈسکرین پر ظلم ڈھایا ہے اپ نے..پھر گھر بھی جانا ہوگا..
اشعر لہہ کر اٹھ گیا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا…
فرحان اب قدرے ری لیکس ہو چکا تھا.
اگلی صبح کا اسنے بےچینی سے انتظار کیا تھا…سورج کی کرنیں پرتے ہی وہ خلافِ معمول جاگ گئی تھی…
وہ دن چڑھنے کا شدت سے انتظار کر رہی تھی…ابھی 9 ہی بجے تھے جب اس سے مزید انتظار نا ہوا..
اسنے.موبائل نکالا اور ہمت کر کے بالآخر میسج لکھ ہی ڈالا….
Can we talk??
Please
فرحان جو کہ ابھی. کچی نیند میں
تھا میسج لی بیپ سے جاگ گیا…رات حویلی واپس آتے آتے انکو دو بج گئے تھے…
لہذا اسکا ابھی اور سونے کا موڈ تھا..
اسنے بے زاری سے موبائل اٹھایا
اور میسج دیکھنے.لگا…
سانے اسکامیسج دیکھ کر اسکی حیرت کی انتہا نا رہی…کل تک.وہ ایسے پھنکار رہی تھی اس پر اور آج یہ معصومیت. …
وہ سمجھنے سے قاصر تھا…دل کیا کوئی جواب نا دے مگر پھر وہی خیال..نجانے کیا بات ہو گی..کیا کہنا ہو گا؟؟
سو اسنے بھی رپلائی کر دیا..
Sure.
نمرہ اسکے میسج کی ہی منتظر تھی…
Actually i want to say sorry…
i am extremely sorry…
مجھے اپسے ایسے بات نہی کرنی چاہیے تھی..آپ تو میری مدر کر رہے تھے اور میں نے کسی اور کا غصہ آپ پر نکال.دیا اوور ری ایکٹ کر گئی میں…..اپکی انسلٹ کر دی..پلیز معاف کر دیں……
نمرہ نے میسج لکھ کر دھڑکتے دل سے بھیج دیا…
فرحان جو بےچینی سے.منتظر تھا…اسنے میسج پڑھا تو اسکو یقین نا آیا…
یہ اچھا ہے رات.کو زلیل کرو اور صبح کو پہنچ جاؤ …
اسنے تلخی.سے سوچا..مگر اسی پل اسکو اشعر کی باتیں یاد آئیں…سہی کہہ رہا تھا وہ..اسکا ہاتھ پکڑ کر طیش دلانے کا زمہ.دار میں ہی تھا…
Its okay …
غلطی میری بھی ہے..مجھے اس طرح روکنا نہی چاہیے تھا تمہیں. ..
ائی سیم سوری ٹو…
فرحان نے میسج بھیجا…
اسکامیسج پرھ کر نمرہ تو چہک ہی اٹھی..اسے ہرگز امید.نا تھی وہ.اس طرح اتنی.جلدی.مان.جائے گا اور اسکو معافی مل جائے گی…
Thank you so much farhan bhai.
نمرہ نے فوراً اسکا شکریہ ادا کیا…
ان ہوں…اتنی بھی جلدی کیا ہے…ابھی میں نے ایکسیپٹ نہی کی تمہاری اپولوجی…
فرحان نے مسکراہٹ لیے میسج لکھا..اسکو موقع مل چکا تھا…
جی..کک..کیا ..کیا.مطلب؟؟ آپ ابھی بھی ناراض ہیں مجھ سے؟؟.
نمرہ جو کہ خوشی سے ناچنے لگی تھی ایک دم سے اسکی خوشی ماند پڑی..وہ روہانسی ہوئی..
ہاں..ناراض تو ہوں. ..
فرحان نے شرارت سے جواب دیا..
مت ہوں نا پلیز..سوری کر تو رہی ہون فرحان بھائی..ایسا کیا کروں کہ آپ مان جائیں ؟؟
نمرہ نے بےبسی سے پوچھا..گویا اسکو منانا اس وقت دنیا کا اہم تریں کام تھا…
اممم..ایک راستہ ہے تو..
فرحان نے جواب دیا..
کیا؟؟بتائیں مجھے..
نمرہ نے اشتیاق سے پوچھا تھا..
تم اھر یہ بھائی بلانا بند کر دو تو سوچ سکتا ہوں تمہاری اپولوجی ایجسیپٹ کرنے کے بارے میں. ..
فرحان نے جواب دیا..مسکراہٹ ہنوز قائم تھی…
نمرہ نے اسکا میسج دیکھا تو حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر دوبارہ پڑھا…
تو. فرحان بھائی کیا بلاؤں پھر؟؟؟
اسنے انتہائی معصومیت سے پوچھا تھا
تم بس فرحان بلا لیا کرو…مجھے اچھا لگے گا….
فرحان نے جواب دیا…
فرحان. .پر ایسے کیسے؟؟
نمرہ نے پھر سوال.کیا..
نو ایسے ویسے..بس جو کہا ہے وہ.کرو تو سوری بھی قبول کر لونگا میں. .ورنہ.تمہاری.مرضی..
فرحان نے مصنوعی لاتعلقی ظاہر کی…
نہی نہی سہی ہے…میں بلاؤنگی…
نمرہ نے فوراً میسج کیا مبادا وہ پھر نا بگڑ جائے…
کےا بلاوگی؟؟
فرحان نے شرارت سے پوچھا…
وہی…
نمرہ نے جواب دیا..
کیا وہی. ؟
فرحان شوخ ہوا تھا…
وہی جو آپ نے کہا ہے…
نمرہ نے میسج کیا..
مینے کیا کہا ہے نمرہ؟؟
فرحان نے پھر سے پوچھاِ.شوخی آنکھوں میں تھی…
افف..آپ کو پتا ہے.نا..فرحان. .
وہ جھنجلائی تھی…جبکہ.فرحان
کو مزہ آرہا تھا اسکو تنگ کر کے…
میں جارہی ہوں. .بائے…ایند ونس اگین تھینک یو سو مچ مجھے معاف کر نے کے لیے…
اللہ حفظ…
آخری میسج لکھ کر نمرہ.نے فون رکھ دئا…مبادا پھر نا میسج آجائے…
وہ اسکی باتیں سوچ کر ہولے سے مسکرا دی..
آج اسکو اچھا لگا تھا وہ..اسکا بات کرنا..معاف کرنا اسکی بات سننا..اپنی.کہنا…پہلی بار وہ سوچ رہی تھی اسکے متعلق….اور اچھا سوچ رہی تھی…
…اپنے خیالات سے وہ تب باہر آئی جب ارسلان نے اسکو بلابلا کر گھر سر پر اٹھا لیا تھا
…خیالات جھٹک کر وہ باہر چل.دی..اب اسکی صنح سہی معنوں میں روشن ہو چکی تھی
