Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 15)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

یہ اسلام آباد کے ایک جانے مانے اور.مشہور ہوٹل.کا.منظر تھا….

وہ تینوں آج شاپنگ کے لیے نکلی تھیں. ..

انکی سیکنڈ ایئر اختتام پر تھی…

ٹیبل پر بیٹھتے ہی مقی نے فوراً مینیو اٹھا لیا…

بیرا آرڈر لینے آچکا تھا…

تینوں نے آرڈر لکھوایا اور انتظار کر نے لگیں. ..

کھانا آنے پر تینوں کھانے میں جت گئیں..کافی دیر گھومنے کی وجہ سے اب تینوں کو بھوک لگی تھی…

حارث اپنے دو دوستوں کے ساتھ ہاتھ میں سگریٹ لیے ہوٹل میں داخل ہوا اور اپنی آوارہ طبیعت کے باعث آس پاس کی لڑکیوں پر نگاہ دوڑانے لگا…

ابھی وہ اپنا یہ عمل جاری رکھے ہوئی ہی تھا کہ ایک جگہ ااکی نگاہ ٹھہر گئی…چہرے کو گھٹیا مسکراہٹ نے آن گھیرا…

وہ سگریٹ کا آخری کش لیتا ہوا اسے پھینک کر مسلنے لگا پاؤں سے اور پھر نمرہ لوگوں کے ٹیبل کی طرف بڑھ گیا…

وہ تینوں اس پاس سے بے پرواہ کھانے سے بھرپور انصاف کرنے پر تلی تھیں. ..لہذا اسکی آمد پر دھیان.نا گیا…

احساس تب ہوا جب وہ انکے سر پر کھڑا تھا…

ذہے نصیب..آج تو ڈاکٹر صاحبہ نے شرف بخشا اس مریض کو…

حارث نمرہ کے سامنے جا کر ٹیبل پر جھکتا ہوا بدتمیزی سے گویا ہوا…

نمرہ ایک دم کسی کی آمد پر باکھلا گئی…

نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو اسکا حلق.اندر تک کڑوا ہو گیا…

نمرہ نے پانی کے گلاس کو منہ سے لگایا…

سب کو.یہی لگا وہ گھبرا کر پانی پی رہی ہے…

نا محسوس انداز میں منہ پانی سے بھر کر اسنے گکاس سائیڈ پر کیا..اور حارث کی طرف دیکھا…

پُھر ر ر ر……

پانی سے بھرا منہ اسنے حارث پر خالی کر دیا. …

سارا پانی اسکی چہرے ہر جا پڑا…..

حارث اس اچانک حملے کے لئیے تیار نا تھا ..وہ ایک دم بوکھلا کر پیچھے ہٹا….

ایسا کرتے ہوئے وہ پیچھے گزرتی عورت جا کہ خاصی موٹی تھی اس سے جا ٹکرایا…

اور اوپر جا گرا…..

وہ عورت اٹھی…

چٹاخ….

ایک زور دار آواز فضامیں گونجی….

وہ حارث کو اپنے ہتھوڑے جیسے ہاتھ سے ایک تحفہ پیش کر چکی تھی…

بدتمیز…کمینا…

وہ گالیاں دیتی آگے بڑھ گئی…یہ سب اتنا اچانک اور روانی سے ہوا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نا.پایا..ئوش میں وہ تب آیا جب اپنے آس پاس کے لوگوں جو خود پر ہنستا پایا…

غصے سے اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا…جبکہ.نمرہ سے اپنی ہنسی قابو کرنا مشکل.ہو گیا تھا….

کیا ہوا مریض صاحب؟؟؟امید ہے دوا مل گئی ہوگی اپکو اپنی بیماری کی….

نمرہ نے ہنسی دبا کر کہا….

You bloody……..

حارث غصے سے چینخا تھا….

ابھی وہ بول نا پایا تھا کہ نمرہ کی آواز آئی…

شٹ اپ…اپنی زبان کے پھول ادھر مت جھاڑو…اپنی تربیت کہیں اور ھا کر دکھانا…اور آئندہ میرے منہ لگنے سے پہکے سوچ لینا…..

وہ یہ کہہ کر پلٹی ہی تھی کہ اسکو اپنی.کلائی پر کسی کی گرفت کا آحساس ہوا…اسکے برھتے قدم رک گئے…

اسے اندازہ.ہو چکا تھا یہ حرکت کس کی تھی..غصے اور نفرت کی شدید لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی….اسے آج تک کسی نے نا چھوا.تھا….تو اس نیچ انسان کی جرات کیسے ئوئی اسکی کلائی تھامنے کی..وہ پلٹی اور ایج زناٹے دار تھپڑ اسکے گال پر دے مارا…

یہ گناہ کرنے کی جرات مت کرنا دوبارہ…ہاتھ توڑ دونگی….

وہ غرائی تھی…اس کے بعد وہ رکی نہی کسی کو کچھ بھی کہنے کا.موقعہ.دیے بغیر چل.دی….اسکا موڈ تباہ ہو چکا تھا…

سیکنڈ ایئر کے پیپرز شروع.ہونے والے تھے..سب تیاری میں گم ئو چکے تھے….

اس سارے عرصے میں اسکی فرحان سے صرف تین چار بار بات ہوئی تھی..جو کہ صرف حال احوال تک.تھی…فرحان نے کوئی بھی ایسی بات نا.کی جس.سے اسے کچھ برا.لگے یا فرحان کا امیج خراب ہو…شاید وہ اشعر کی بات سمجھ چکا.تھا اور وقت دے رہا تھا…انکے درمیان کوئی بے تکلفی نا تھی اور نمرہ نے کبھی اسکو.سوچا.بھی نا تھا…اسکے لئے محض وہ ایک رشتہ دار تھا جس کے خلوص کو اسنے نا ٹھکرایا تھا…

نمرہ امروزیہ بیگم.کو اپنی اور فرحان کی بات کا.پہکے دن.سے ہی بتا چکی تھی..کہ وہ کبھی کبھار میسج کر کے خیریت وغیرہ پوچھ لیتا ہے….امروزیہ بیگم نے صرف اس سے اتنا کہا تھا…

بیٹا احتیاط سے…

انھوں نے بیٹی کو سمجھایا…

نمرہ انکی بات کا مطلب سمجھ چکی تھی…

بے فکر رہیں ماما…مجھے اپنی حدود کا پتا ہے اور اگلے کو بھی اسکی حد میں رکھنا.آتا ہے….

جس پر وہ مطمئن ہو گئی تھیں. …

پیپرز سے پہلے نمرہ نے کچھ دن کے لیے سب سوشل ایپس بند کر دئیے…

اس عرصے کے دوران.کو موبائل.سے دور رہی…

پیپرز ختم ہوئے تو کچھ دن کی چھٹیاں ہو گئیں. ..

لیکن تقریباً ایک ڈیڈھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی وہ حارث والا واقعہ نا بھول پائی تھی…اسے رہ رہ کر اسکی بدتمیزی یاد آتی…اس طرح اسکا ہاتھ پکڑنا…

اسنے مختصرا ً امروزیہ بیگم کو بتایا تھا سب….

آخری پیپر والے دن نومان اسکے پاس آیا تھا اپنے بھائی حامد کی منگنی پر اسے انوائٹ کرنے..اسنے بہت سے کلاس فیلوز کو بلایا تھا سو نمرہ نے بھی حامی بھر لی…

فرحان گھر پر موجود تھا..رضیہ بیگم تالیہ سمیت ابھی تک وہیں موجود تھیں. …

اور وہ انکی وجہ.سے خفت میں مبتلا…وہ صرف کام کے لیے کمرے سے نکلتا…اس کے علاوہ ہر وقت کمرے میں رہتا…آمنہ بیگم نے یہ بات محسوس کی تھی پر چپ رہیں. ..وہ خود بھی دیکھ رہی تھیں تالیہ اور رضیہ بیگم.کا فرحان کی طرف رجحان….

فرحان کے بہت اچھے دوست شرجیل کی منگنی تھی اور اسنے خصوصاً خود فون.کر کے اسکو دعوت دی تھی….شرجیل اسکا کلا س فیلو رہا تھا…

شرجیل حامد کا کزن تھا…اور حامد فرحان کا حریف..اس کے باوجود فرحان کی اور شرجیل.کی دوستی اچھی رہی تھی…دونوں نے کبھی حامد کی وجہ سے اپنے تعلقات خراب نا کئیے تھے….

اب بھی اسنے فرحان جو دعوت دی…کہ.اسکی اور حامد دونوں کی منگنی ایک ساتھ رکھی گئی تھی…

فرحان کو اسکا خلوص ٹھکرانا اچھا نا لگا سو اسنےحامد کی موجودگی کے باوجود ہامی بھر لی…اشعر اور برہان کو بھی بلایا گیا تھا…

حارث اور تالیہ کی.ملاقات حامد سے ایک کلب.میں ہوئی تھی…اس کے بعد دوستی ہو گئی…

حامد نے حارث اور تالیہ کو بھی منگنی

پر دعوت دی تھی جو دونوں نے فوراً قبال کر لی

جبکہ فرحان اس سب سے انجان تھا….

آج شرجیل کی.منگنی تھی..فرحان نک سک سے تیار کھڑا تھا….بلیو تھری پیس پہنے ,بال.جیل سے سیٹ کیے,کلائی پر مہنگی خوبصورت گھڑی باندھے ,,اپنی سحرانگیز پرسنیلتی لیے وہ کوئی شہزادہ لگ رہا تھا…

برہان نے شرکت کر نے سے فرصت سے انکار کر دیا تھا ….

جبکہ اشعر اپنی گاڑی میں آرہاتھا..

تیار ہو کر وہ نیچے آیا تو دیکھا تالیہ سجی سنوری سامنے کھری تھی…..

بلیک کلر کی ہاف سیلو ویسٹرن سٹائل میکسی پہنے جس کے آگے اور پیچھے کے گلے کی گہرائی برابر تھی…میک اپ کی مصنوعات میں اصلی چہرہ چھپ چکا تھا…

فرحان کی نظر اس پر پڑی تو قدرے حیرت ہوئی اسکی تیاری دیکھ کر…

اتنے میں حارث بھی خوشبوؤں میں نہایا لاؤنج میں آیا…

کہیں جارہے ہو تم.لوگ؟؟

فرحان حارث سے مخاطب ہوا…

ہاں…میرے بہت اچھے دوست حامد کی اور اسکی.کزن کی.منگنی ہے آج…

احمد انڈسٹریز کے پچاس فیصد کا مالک…

نام تو سنا ہی ہوگا…کافی مشہور ہے…

حارث اپنی دھن میں شیخی مارتا گیا..اس بات سے انجان کہ نام.کیا فرحان تو اسکی رگ رگ سے واقف تھا…

تمہاری کہاں کی تیاری ہے؟؟

اپنی کہہ کر جب فرحان کی طرف دھیان.دیا تو پوچھنا یاد آیا…

وہاں ہی جہاں کی تمہاری تیاری ہے..فرحان نے بےزاری سے جواب دیا…

کیا مطلب تم.جانتے ہو اسکو؟؟

اب کی بار حارث چونکا تھا…

ہمم..کلاس.فیلو تھے.میرے حامد اور.شرجیل..شرجیل سے دوستی ہے …

فرحان نے مختصر سا بتایا..

اور باہر نکل.گیا..

تالیہ ت

قریباً دورتی ہوئی اس کے پیچھے آئی…فرحان گاڑی کا.لاک کھولنے لگا تو.وہ فرنٹ ڈور کے ساتھ کھڑی ئو گئی گویا لاک کھلنے کا انتظار کر.رہی ہو…ِ

فرحان نے سوالیہ نگاہ اس پر ڈالی…

کھولو اسکو…ِاسنے فرحان سے کہا..

کیوں ؟؟.فرحان نے پوچھا…

کیا مطلب کیوں. .بیٹھنا ہے مجھے…

وہ بال.جھٹک.کر بولی…

تمہیں کیوں بیٹھنا.ہے؟؟

فرحان کے ماتھے پر شکنیں ابھريں…

تم.بھی وہیں جا.رہے ہو جہاں مجھے جانا.ہے..تو ساتھ ہی چليں گے نا…

فرحان کے جانے کا.سن.کراسکی باچھیں کھل گئی تھیں. …..

تمہیں یہ خوش فہمی کب.ہوئی.کہ.میں تمہیں لے کر جاؤں گا….ہٹو ساتھ سے…

یہ کیتے ہی فرحان گاڑی میں بیتھا اور گاڑی زن.سے نکال.کر لے گیا..

جبکہ تلیہ کاچہرہ توہین اور غصے سے لال بھبوکا ہو گیا….

سمجھتاکیا ہے خود کو….

پیسہ نا ہوتاتومجھے بھی ضرورت نا تھی منہ لگانے کی پر….اب توہتھیا کر رہونگی…

وہ سوچتے ہوئے مڑی تو حارث

آگیا..

کیا ہوا تمہیں لے کر نہی گیا تمہارا ہونے والا سرتاج…

اسنے اسکی غصے سے سرخ شکل کا جائزہ لیتے ہوئے مذاق اڑایا…

بکواس بند کرو…اورچلو..یہ کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھ گئی…

نمرہ ریڈ ہورہی تھی منگنی کے لیے…

مقدس کی امی کی.طبیعت خراب تھی سو وہ نا جا پائی…جبکہ.ایمن آرہی تھی…

نمرہ نے رائل بلیو کلر کر میکسی پہنی تھی جس کے ایک طرف اور ایک بازو پر سلور جوبصورت کام کیا گیا تھا..باقی میکسی سادہ تھی..پاوں کو چھوتی میکسئ کے نیچے اسنے ہیل پہنی تھی..بالوں کا جوڑا بنا کر سر پر دوپٹہ لیے ہلکے سے لپ گلوز اور مسکارے کے ساتھ وہ دلنشیں لگ رہی تھی…

گاری کی چابی لئے وہ باہر آئی تو ارسلان نک سک سے تیار ملا اسکو…

اوے چھاٹو تو کدھر؟؟تیری بھی.منگنی تو نہی آج؟؟

نمرہ.نے شرارت سے اسکا گال کھینچ کر پوچھا

ارسلان ابھی.میٹرک کے پیپرز دے کر فارغ ہوا تھا اور

اب رزلٹ کا انتظار تھا…

Omg..you are looking so pretty .

اسنے چھوٹتے ہی نمرہ کی تعریف کی…

کیا کام.ہے ؟؟؟

نمرہ نے آبرو اچکا کر پوچھا….

کیا آپی اب بندہ پعریف بھی نا کرے…

اسنے منہ.بنا کر کہا..

چل اوے..سیدھا کام.بتا..بری آپی پیاری لگ رہی ہے..ویسے تو یہی آپی بن بتھوڑی ہوتی ہے نا..نمرہ نے اسکا کان مروڑا تھا..

آئییییی…ظالم ..بتاتا ہون..

ہاں بولو..نمرہ نے اسکا کان چھوڑا …

آپی وہ ایکچولی علی نے پارٹی دی ہے سبکو..اپنی برتھ ڈے کی..اور میرے سب دوست اپنی اپنی گاڑیاں لے رہے ہیں. .اب کیا میں بچوں کی طرح ڈرائیور کے ساتھ جاؤں. ..پلیز آج کے لیئے گاری دے دیں…

اسنے انتہائی معصوم شکل.بنا کر نمرہ سے فرمائش کی…ایک تو نمرہ کی گاڑی نئی تھی دوسرا وہ جانتا تھا کاشان یا بابا سے بات کرے گا تو وہ نہی مانین گے سو وہ نمرہ کے پاس ہی ایا تھا..

واٹ….کیا.کہا..ابھی.ماما کو بتاتی ہون..نمرہ کو.حیرت ہوئی..

نہی پلیز. .اسنے نمرہ.کے منہ.پر ہاتھ رکھا..پلیز دیکھیں میں اتنے کام.کرتا ہوں اپکے..

اسنےایک اور وجہ.بتائی…

لیلکن تم.چھوٹے ہو..ایسے کیسے گاری دے دون..نمرہ کو پریشانی ہوئی..

افف اب بڑا.ئو گیا.ہوں…اور اپکو.پتا تو ہے ڈرائیونگ آتی ہے مجھے…

ارسلان جھنجلا کر بولا..ِ

پلیز پلیز..میں آپکو ڈراپ کر دیتا ہوں پک بھی کر لانگا..پلیز مان جائیں. .

وہ منت کرنے لگا جبکہ نمرہ سوچ میں پڑ گئی.

اوکے…پر ایک شرط پر…

نمرہ نے ہامی بھرتے ہوئے کہا..

ہر شرط منظور ہے. .

پلیز آرام سے اور دھیان سے چلانا..لرننگ لائیسنس ساتھ رکھنا..اور دیر مت کرنا…

نمرہ نے اسکو سمجھایا..

اوکے..تھینج یو آپی لو یو…

وہ خوشی سے بالا..

بس. بس مکھن نا لگاؤ زیادہ…

اور وہ دونوں باہر کی جانب برھ گئے..

نمرہ کو ارسلان نے مارکی میں ڈراپ کیا..اور نمرہ کئی بار.اسے ڈھیر ساری ہدایتیں چکی تھی….

اف آپی بس کردیں…نہی ٹھوکنے والا میں کہیں. ..بےفکر رہیں. ..

اسکی ہدایتو ں سے وہ جھنجلا اٹھا تھا…

زیادہ فضول مت بولو ورنہ ابھی گھر ڈراپ کر دوں گی…

نمرہ نے تیوری چڑھا کر دھمکایا…

نہی نہی اچھا سوری..اب آپ جائیں پلیز…

ارسلان نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے…

نمرہ گاڑی سے اتر کر اندر کو چل.دی جبکہ.ارسلان اپنے راستے چل.دیا….