Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 13)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

اشعر کمرے سے جا چکا تو فرحان نے دوبارہ موبائل پر توجہ مرکوز کی… جہاں نمرہ نے اسکو فرحان بھائی کے لقب سے نوازا.تھا…

What about your studies ?

فرحان سے اور کوئی بات نا بن پڑی تو یہی پوچھ لیا…

Studies are tough but achi jarae hain…

نمرہ نے جواب دیا…وہ ابھی تک فرحان کی پچھلی بات کو لے کر تذبذب کا شکار تھی…

اسے اب عجیب سے وہم.نے آگھیرا تھا…کہ پتو نہی وہ کیا چاہتا ہے؟مجھسے بات کرنے کا مقصد کیا ہے؟؟باتیں بنانا اسکو اتا نہی تھا سو سیدھا کام کی بات پر آئی وہ.

Apko koi kaam tha??

اسنے اگلا.میسج.بھیجا…

فرحان جو ابھی اگلی.بات سوچ ہی.رہا تھا دوبارہ اسکا میسج آنے پر چونکا..اور میسج پڑھ کر رپلائی لکھنے لگا…

Han socha aunty ki kheriat pooch loon..wo aae thi tw dada jaan ki wajah se kaafi upset hui theen..

اسنے نیا.بہانہ گڑا تھا…

Oh sahi..Mama ab theak hain bilkul..Allah ka shukar hai..

اسنے جواب دیا

Oh thats good.

فرحان نے میسج.لکھ کر سینڈ.کر دیا.

Haveli kb ana hai??

ساتھ ہی.نیا.میسج گیا..

نمرہ.کے ماتھے ہر شکنیں ابھریں..وہ واقعی بات کو تول دے.رہا تھا..

Abhi koi plan nhi .

Or koi bat poochni apko?

نمرہ.نے ہوچھا

Umm nahi..

فرحان نے.جواب.دیا..

Okay then.mama ne sirf isliye permit kia tha k shayad apko kuch poochna ho..

نمرہ نے جواب.دیا..

فرحان نے اسکا.میسج.پڑا تو اسکے.ماتھے ہر بل.پڑےِ..

عجیب لڑکی ہے..

اور اسنے آنٹی کو.بھی بتا دیا…

Actually i am not allowed to talk to strangers…so

ساتھ ہی دوسرا میسج آیا..

سٹرینجر؟؟میں سٹرینجر ہوں اس.کے لیے…حد ہے..خود.کو سمجھتی کیا ہے یہ؟؟؟اسے حقیقتاً غصہ آیا تھا کیونکہ.اسکو.ایسے جواب کی امید ہرگز.نا تھی..

Ok thanks..but for your kind information,family members strangers nhi hotey..

اسنے.بھی.جتا دینا ضروری سمجھا..

نمرہ کو میسج پڑھ کر عجیب لگا پر ہر خیال کو جھٹک کر اسنے

ALLAHHAFIZ

لکھ.دیا…

فرحان غڈے دے پیچ و تاب کھاتا.رہ.گیا..اگے بات کرنا اسکو.فضول لگا سو موبائل آف کر کے بیڈ پر پٹخا .

آج ایمن کے پھپھو کے بیٹے کی منگنی تھی..تھوڑی دیر پہلے ہی وہ لوگ گاؤں پہنچے تھے…

سب سے ملنے.ملانے کے بعد وہ فنگشن کے لیے تیار ہونے.لگی…چھوٹا.سی فیملی.گیدرنگ تھی…زیادہ لوگ نا تھے…

اسنے آف وائٹ کلر کی خوبصورت موتیوں کے ہلکے سے کام والی گھٹنوں تک آتی شرٹ.ساتھ اف وائٹ ہئ کلر کی سگریٹ پینٹ اور آف وائٹ نیٹ کا دوپٹہ لیا تھا..بلکل ہی ہلکےسے میک اپ نے اسکو چمکا دیا تھا…بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں پر مڑی ہوئی پلکوں کی جھالر..باریک لبوں پر گلابی لپسٹک اور کانوں میں وائٹ جھمکے…وہ بہت جازب نظر آرہی.تھی…تیار ہو کر سر پہ سلیکے سے دوپٹہ اوڑھےوہ باہر آئی …سامنے کوئی.نا.دکھا تو وہ کچن میں چل دی کہ.وہاں ہونگے شاید..کچن میں اسکی چاچی موجود تھیں (سالار کی.امی).

ماشاءاللہ. .میری بیٹی کتنی.پیاری لگ رہی ہے..

انھوں نے ایمن کی بلائیں لیں…

چچی جان کوئی کام.ہے تو مجھے بتا دیں.

اسنے چاچی کع مخاطب کیا..

نہی کوئی کام نہی.بھئی ہماری بیٹی اتنے عرصے بعد آئی ہے اور آتے ہی کام پر لگا دیں. .تم آرام سے ادھر بیٹھو اور یہ کھیر کھاؤ..

انھوں نے اسکو سامنے موجود چارپائی پر بٹھا دیا اور کھیر کا باؤل اسکی طرف بڑھا دیا..

نہی ابھی.موڈ.نہی کھانے کا.اور ویسے بھی.بور ہی ئو رہی ہوں. .

ایمن نے انکو مسئلہ بتایا…

موڈ کیوں نہی دیکھو ذرا کیسے پیلی ذرد ہو رہی ہو.ایک تو آجکل کی.پڑھائیاں..ڈاکڑی کی پڑھائی کوئی آسان کام تھوڑی ہے…کھاؤ.شاباش…

انکے محبت سے.کہنے پر ایمن نے کھیر کا پیالہ تھام لیا اور کھانے.لگی..کھیر واقعی لذیذ تھی…

میں تو کہتی ہوں کچھ دن.میرے پاس رہ..دیکھنا کیسے صحت بناتی ہوں تیری…سوکھا پتا ہوتی جارہی ہے…دیسی گھی اور مکھن کھلاؤں گی لگاتار ..تازہ لسی پینا…بھلی چنگی ہو جائیگی…کتابوں سے مغزماری کرنے کے لیے جان.چاہیے…اور وہ تیری ہے ننھی سئ…

انھوں نے اسکو.رغبت سے کھاتے دیکھ.کر ایک.اور باؤل بھر.کے تھما دیا…

نہی.بس..یہ کافی ہے.میں نہی.کھا سکتی اتنا…

ایمن.نے انکو.روکا…

اب.انکو کیا.بتاتی کہ جن.کھانوں کے.وہ.نام لے.رہی.ہیں انکو کھانا اسکے.لئیے کتنا مشکل.ہے…

اتنے میں نوکر اندر.آیا..چونکہ تقریب.تھی گھر.میں سو سب کاموں میں جٹے تھے…

بیگم.صاحبہ…سالار بیٹے کہڑے مانگ رہے.ہیں شام کے لیے …

ہاں وہ اوپر رجو کو دئیے تھے سب کے استری کرنے کے لئے..

ایک تو یہ لڑکا..اب ادھر دیکھوں یا جا.کے.کپڑے دوں.اس نواب.ذادے کو…

کچن کا اتنا.کام دیکھ.کر وہ جھنجلائیں…

آپ دے آئیں ادھر میں کام.کردیتی ہوں مجھے بتا دیں. ..

ایمن نے انکی مشکل آسان کرنا چاہی…

بیٹا ادھر کی تجھے سمجھ نہی آنے والی..

انکا اشارہ کچن.میں ہوتے کاموں کی طرف تھا..نوکروں کی نگرانی کرنا..

تو جا کے اوپر سے کپڑے اٹھا کر جلدی سے.سالار.کے کمرے میں رکھ آ..جا میری دھی…

انھوں نے ایمن کو اپنی طرف سے آسان سا کام کہا…

حالانکہ.یہ کام سنتے ہی اسکی جان.پر آبنی..

مم..میں جاؤں. .

اسنے.گھبرا کر سوچا…

دل میں آیا انکار کر دے پر پھر خیال.آیا انھوں نے پہلی.بار.کوئی.کام.کہا.ہے اب برا لگے گا سو ہمت کر کے اٹھ کھڑی ہوئی…

اور کچن.سے نکل.گئی…

سیڑھیاں چڑھ کر سائیڈ پر موجود استری والے کمرے میں گئی..سامنے ہی آف وائٹ کرتا.لتک.ریا تھا..باقی اور کوئی لڑکوں کے.کپڑے نا.تھے..اسنے وہ.کرتا.اتارا اور سالار کے کمرے کی طرف چل دی….

کمرے میں جا کر دیکھا تو وہاں.کوئی نا.تھا..اسنے کمرے کا.جائزہ.لیا..وہ تقریباً ڈھائی سال.بعد گاؤں آرہی تھی…

کمرہ بہت صاف ستھرا اور سیٹ تھا…آف.وائٹ اور نیوی بلیو کومبینیشن.سے سجا….ساممے جہازی.سائز بیڈ تھا جس پر نیوی بلیو ہی بیڈ شیٹ بچی تھی…نرم و مائم کارپٹ میں اسکو اپنے پاؤں دھنستے ہوئے محسوس ہو رہے تھے..کمرے میں ایک مخصوص خوشبو.تھی…ایمن کو وہ سالار کی خوشبو لگی تھی..اسنے گہری سانس لے کر خوشبو کو اندر اتارنا چاہا…

وہ کمرے میں موجودگی

طرف بڑھ.گئی..سامنے ہی کرتا ہینگ کر کے وہ آگے بڑھ گئی جہاں ایک.دروازہ تھا…دروازہ کمرے سے آگے موجود ٹیرس میں کھلتا تھا.. وہ سیدھا ٹیرس کی طرف چل.دی..سامنے یر طرف سر سبز لیلیتے کھیت تھے… ہلکی ہلکی.ہوا شام.کی.خنکی.اور تازہ سبز کھیت کی تروتازگی…دور کھڑا سورج بھی اب.واپسی کا سوچ کر آہست آہستہ واپسی کے.مراحل.طہ کر رہا تھا…وہ دروازے کے سامنے.سے مٹ کر ٹیرس کے دوسرے سرے کی.طرف چل.دی .دھیان.ہنوز سامنے.موجود دل.موہ.لینے والے.منظر کی.طرف تھا..

سالار اجلت.میں کمرے میں داخل.ہوا..وہ.شاور پہلے.ہی.لے چکا.تھا..اسکی.نظر سامنے ہینگ کرتے شلوار پر پڑی..وہ سیدھا.ڈریسنگ میں گیا اور کپڑے لیے..اچانک.نظر سامنے اٹھی ٹیرس.کا.دروازہ.کھلا.تھا..

یہ کسنے.کھالا؟؟اسنے.خودکلامی کی…

سامنے.کوئی.نظر نا.آیا….شاید ملازم کھول گئے..اسنے سوچتے ہوئے دروازہ جلدی سے بند کر کے لاک کر دیا…گھر میں ابھی.بہت.سے کام.تھے سو وہ اجلت میں باتھ روم.گھس گیا…چینج.کرنے کے غرض سے….

ایمن کچھ دیر.ویسے ہی.کھڑی رہی .ِپھر اسے وقت کا.احساس.ہوا اور واپسی.کا.سوچتے ہوئے قدم دروازے کی.طرف بڑھا دئیے…

پر یہ.کیا..دروازہ تو بند تھا..اسکولگا شاید ئوا سے بند ئو گیا ہو…وہ قریب گئی اور ہینڈل پر ہاتھ رکھ کے دروازہ.کھولنا.چاہا ہر وہ آگے سے لاک تھا…

اسے پریشانی ہوئی…

یہ.کسنے.کیا..ابھی تو کھلا.تھا…افِ.

اسنے.اپنے موتھے پر ہاتھ.مارا…

ناک کرتی ہوں. …

کچھ.سوچ جر.اسنے.دروازہ.ناک.کیا….

پر آگے سے ہنوز خاموشی تھی….

سالار چینج کر کے.نکلا اور ڈریسنگ کے.سامنے.کھڑا.ئو.گیا..ابھی.اسنے.برش اٹھانے کو.ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ.اسکو ٹک ٹک کی.آواز آئی جیسے کوئی.دروازہ.ناک.کر رہا ہو..پر وہ آواز روم کے دروازے.کی.نا تھی..اسنے چونک.کر ادھر.ادھر.نگاہ دوڑائی..اتنے.میں پھر آواز آئی ساتھ ہلکی.سی.کسی.کے بولنے.کی.آواز بھی تھی…

کوئی ہے؟؟

ایمن سر تھامے پریشان.کھڑی دروازہ کھلنے کا ویٹ.کر رہی.تھی…

سالار.نے.آواز کا.تعاقب.کیا تو وہ اسے ڈریسنگ سے آگے موجود ٹیرس سے آتی محسوس.ہوئی..وہ چوکنا ہوا..

ادھر.کون.ہو.سکتا ہے…اسنے آگے.بڑھ کر دروازے کا.لاک.کھولا.اور ذرا سا سائیڈ پر ئوگیا تاکہ.وہ نظر نا آئے…

دروازہ کھلنے کی آواز سے ایمن فوراً آگے بڑھی اور اندر داخل ہونے.ہی لگی تھی کہ.ایک.دم.کسی نے اسکو.سائیڈ پر کھینچاِ..

اہ ہ..وہ چیخنے لگی تو.فوراً منہ.پر کسی کا.ہاتھ رکھنے کا.احساس ہوا…اسنے بڑی بڑی آنکھیں پھاڑ کر سامنے.دیکھا..اسکا اوپر کا.سانس.اوپر اور نیچے کا.نیچے رہ.گیا تھا..

پر یہ.کیا.سامنے.سالار.تھا..اسے دیوارسے.لگائے جہاں اور.کوئی.نا دیکھ سکتا تھا…اسکا ایک ہاتھ ایمن کے منہ.ہر تھا.جبکہ.دوسرے ہاتھ کی.مضبوط گرفت میں ایمن.کی.کلائی.تھی…

وہ.سمجھا تھا پتہ.نہی کون ہو گا ہر.سامنے.ایمن.کو.دیکھ.کر وہ حیران.ئوا..اور پلک.جھپکنا بھول گیا…دونوں ایک دوسرے.کو.حیرانگی.سے دیکھنے.میں بلکہ.گھورنے میں مصروف تھے..ایمن.کو منہ.پر ہاتھ ہونے.کے.سبب سانس رکتا ہوا.محسوس.ہوا اپنا..

اونن…اسنے سالار کا ہاتھ جھٹکا.جو اسکے منہ پر تھا…

سالار نے.ہاتھ ہٹا.لیا..ایمن.زور زور سے سانس لینے لگی…جبکہ.سالار محو سا اسکو پلکیں جھپکائے بغیر دیکھنے.میں مصروف تھا جیسے آنکھوں میں منظر قید.کر.رہا.ہو..

آف وائٹ ہی کلر کے کپڑوں میں اسکو وہ.کوئی پری ہی معلوم.ہوئی.تھی…

ایمن سانس بحال کر.کے.فارغ ہوئی.تو.سامنے نظر اٹھی.جہاں وہ دنیا.و.مافیا.سے بےگانہ اسکو دیکھنے.میں مصروف تھا..

اسنے اسکو.ہوش.میں لانا.ضروری.سمجھا…

ایک.دم.ماتھے.پر بل.ڈالے گویا ہوئ…

کیا.کر رہے.تھے ؟؟میرا سانس بند ئو.جاتا تو؟؟ائسے کرتا ہے کوئی.بھلا؟؟😡

جبکہ.سالار اسکے.الفاظ سن.کر حوش.میں آیا..

محترمہ مجھے الہام ہونا.تھا.کیا.کہ.آپ وہاں.موجود ہونگی؟؟

اسنے.الٹا.سوال.دغا…

ہاں.تو.بندہ.لاک.لگانے.سے پہلے.دیکھ.لیتا ہے.نا ایک بار کے اگر دروازہ کھلا.ہے تو کوئی ہو سکتا ہے…

ایمن نے.اپنی لاجک پیش کی..

ہاں.تو جانے.والا بندہبھی سامنے.رہے تو.دکھے.نا..مجھے.تو.کوئی سامنے.نہی.دکھا تھا..

سالار بھی.اسکی.کے انداز میں اسکو.چڑا کر.بولا..

ایمن خود آگے.چلی.گئی تھی اسکو اپنی.غلطی کا.احساس ہوا…

By the way,what were you doing here in my room??

سالار.نے بات.بدلی..

ایمن نے پلکیں اٹھا کر اسکو دیکھا جو سامنے آف وائٹ کلر.کا.کرتا.پہنے.بازو کے.کف فولڈ کیے بہت وجہہ لگ.رہا تھا…

وہ..وہ میں. ..

اسے اپنی.طرف ہی.دیکھتا.پا.کر وہ گڑبڑائی..کلائی ابھی تک سالار کے ہاتھ میں تھی…

جی..وہ آپ؟؟؟آگے؟؟؟

سالار نے اسی.انداز.میں پوچھا

میں وہ اپکے کپڑے دئیے تھے چاچی.نے.وہ رکھنے آئی.تھی…

ایمن.نے اعتماد سے.جواب.دیا…

اوہ.تو.کپڑے تو ادھر ہیں آپ ٹیرس پہ کیا.کر.رہی.تھیں ؟؟

پھر سے سوال.کیا.گیا..

دیکھنے.گئی تھی.بس…

ایمن.نے جواب دیا..

کیا.دیکھنے گئی تھیں ؟؟سالار بات کو.طول دیتا.جا رہا.تھا..اسکو.اچھا.لگ.رہا.تھا.اس سے.مخاطب ئونا…

بس ویسے دیکھنے.گئی.تھی…کھیت وغیرہ..

اسنے.جواب.دیتے.ہوئے.ہاتھ ہلانا چاہا ..مگر یہ.کیا..اسکا.ہاتھ ابھی.بھی سالار کی گرفت میں تھا. جو کہ.دونوں بلکل.فراموش.کر چکے تھےِ..

دونوں کو ایک.دم اپنی آکورڈ پوزیشن.کا.احساس ئوا تھا..

سالار.نے اسکی.کلائی فوراً آزاد.کر دی.اور زرا.پیچھے ہو کر فاصلہ بڑھا دیا انکے درمیان.کا..جبکہ ایمن ذرا جھجھک.کر نظریں جھکا گئی..

اوہ یعنی.آپ میرا کمرہ چھان.رہی تھیں. .

سالار نے جان.کر اسکو تنگ.کیا..

ایمن.نے اسکی بات سنتے ہی حیرت سی نظریں فوراً اٹھا کر اسکی.طرف دیکھا..

نن..نہی تو..میں تو ویسےِ.

اسنے.جواب.دیا..

نہی..او اچھا.پھر.آپ اپنا کمرہ.دیکھ.رہی تھیں. ..

سالار نے مسکراہٹ لیئے دوبارہ کہا..

مم..میرا.کمرہ؟؟

ایمن.الجھی…

اب.محترمہ بہت جلد آپکو آنا تو ادھر ہی.ہے..اچھا ہے دیکھ لیں آسانی.ئوگی.نعد.میرا دونوں کو…

اسنے سینے ہر دونوں ہاتھ.باندھے اسکو.کہا..

جبکہ.ایمن اسکی بات.سن.کر.ایک دم لال ٹماٹر ہونے.لگی…وہ.ادھر ادھر.دیکھنے.لگی…

اچھی لگ رہی.ہیں. .سالار نے تھوڑا سا جھک

کر آہستہ سا کہا..اسکے ایسا کرنے سے ایمن ذرا پیچھے کو.جھکی..

تھینکس. ..

اسنے جلدی.سے جواب دیا اور سائیڈ سے نکل.کر باہر کر طرف بھاگی…

سالار اسکا ایسا کرنے.ہر قہقہ لگاتا دوبارہ.مخاطب ئوا..وہ.روم.کے دروازے پر پہنچ چکی.تھی..

سنیں تو..

اسنے.دوبارہ.مخاطب.کیا..

ایمن.اسکی آواز.سن.کر پیروی کو بریک لگا کر رکی..اور.مڑی..

جی؟؟

اسنے.پوچھا. .

آپ نے بتایا.نہی.میں کیسا لگ رہا ہوں. .

اسنے آنکھوں میں شرارت لیئے سوال.کیا..

آپ؟؟امم آپ..بس سہی لگ رہے ہیں. .

ایمن نے شرارتی آنکھوں سے کہا.اور یہ جا.وہ.جا..

جبکہ.سالار اسکی بات.ہر دوبارہ اپنا قہقہہ نا روک سکا..

فرحان سے بات کیے کافی دن گزر.چکے تھے..دوبارہ اسنے میسج نہی کیا تھا…نمرہ کو کبھی خیال آتا کہ شاید اسکو برا لگا ہے نمرہ کا ایسے غیر کہنا اسکو …..اسنے اسکے گھر والوں کا بھی سبکا پوچھا اسکی ماما کی بھی طبیعت پوچھی اور نمرہ نے اتنا لیا دیا سا جواب دیا..

افف کیا.سوچ رہے ہونگے اتنی تنگ نظر اور ill_mannered ہوں میں. .

وہ جھنجلائی…

میں سوری کر لوں؟

؟

نہی رہنے دوں..اگر دوبارہ.میسج آیا تو…ہر شاید اب وہ کریں ہی نا…

ناجانے اسکو کیا سوجھی کہ فوب.اٹھا جر فرحان کو میسج کر دیا..

How are you??

فرحان جو کہ اس وقت آفس میں بیٹھے ایک بہت ضروری میٹنگ کے ہوائنٹس دسکس کر رہا تھا ..موبائل ہر ایک سرسری نگاہ ڈالی ہر سامنے سکرین پا جو نام اسنے دیکھا وہ اسکی توجہ ہر چیز سے غافل کرنے کو کافی تھا..

اسنے جلدی سے پروجیکٹ فائل ڈسکس کر کے بھیج دی اور موبائل اٹھایا..

اس دن نمرہ کے رویے نے اسکو شدید غصہ دلایا تھا …

اور اسنے دوبارہ اس سے خود.بات نا کرنے کا تہیہ کیا تھا…

اسکا اس طرح غیر کہنا اسکو برا لگا تھا…اس سے کبھی کسی لڑکی نے ایسے بات نا.کی.تھی…اور نا اسکو عادت تھی کسی کے آگے لگنے کی…

ہر اب یہ چھٹانگ بھر کی لڑکی اور اسکا نخرہ…وہ تو تپ کر رہ گیا تھا…

ہونہہ. .فرحان شاہ سے ایسی روڈنس.. اگر پسند کرتا ہوں اسکا ہرگز یہ مطلب نہی کہ اتنی توہین برداشت کرونگا…

محترمہ آپکو اپنی محبت میں گرفتار کروا کر ہی دم کونگا اب تو…

نمرہ کا میسج دیکھ جر اسجو کافی حیرت ہوئی اسے امید نا تھی ایسے وہ خود اسکو یاد کرے گی..یعنی وہ اسکے متعلق سوچتی ہے…وہ اندر تک خوش ہوا تھا…

اور نمرہ سے بات کرنے لگا..

نمرہ نے عریبہ اور ثوبان وغیرہ جے بارے میں پوچھا اور جلدی ہی بات ختم کر دے…ہر فرحان کے کئے اتنا بھی کافی تھا…

وہ یونی میں بیٹھی تھی جب اسکو فرحان کا میسج آیا..

ہیں آج پھر؟؟وہ تھوڑی پریشان ہوئی..

دعا سلام کر کے فرحان نے ادھر ادھر کی باتیں کیں. .اسی دوران مزاق بھی کیے اسنے نمرہ سے ایک دو…

جس پر وہ مسکراہٹ چھپائے نا چھپا پائی….

مقدس کی نظر اس ہر گئی تو وہ سکرین دیکھے مسکرائی جا رہی تھی…

اسے اسکو فیل نا ئونے دیا اور ایک جھٹکے سے موبائل اسکے ہاتھ سیے جھپٹا…نمرہ اس حملے کے لیے تیار نا تھی سو وہ بچا نا سکی…

مقی کی نظر سامنے سکرین پر پڑی تو وہ ششدہ رہ گئی…

او تیری..اِنا سوہنا منڈا..یہ..یئ تو وہی ئے نا.ننی جو تیرے گھر آیا تھا؟؟تو اس سے بات کرتی ہے؟؟تونے بتایا نہی..تو تو کہہ رہی تھےمی تو پہلی بار ملی تھی..میسنی ادھر پورا سین سیٹ ہے اور ہمیں بتانا بھی گوارا نہی کیا…

وہ سٹارٹ ہوئی تو اپنی ہی دھن میں بولتی چلی گئی….

چہ تو جر ذرا..بریک لگا زبان جو..پڑول پی رکھا ہے کیا؟؟

اسکی باتیں سن کر نمرہ غصے سے لال پیلی ہو گئی….

پھر بتا کیا سین ہے..یہ موبائل چیخ چیخ کر تیری بےوفائی کی داستان سنا رہا ہے…ہائے یہ دن دیکھنے سے پہلے میں مر کیوں نہی گئی؟؟ِ

مقدس کی اداکاری عروج پر تھی.

دھر فٹے منہ…نمرہ نے اسکو ایک چپت لگائی..

ئائے ظالم…وہ اپنا سر سہکانے لگی…

اب بک بھی آگے…وہ دوبارہ الرٹ ہوئی…

یار کوئی سین نہی ہے … کزن برادر ہیں میرے …اور پھر اسنے شروع سے ساری بات ان دونوں کے گوش گزار کر دی کیسے فرحان کا میسج آیا پھر ننرہ کا میسج کرنا…

تو یہ سب ہمیں اب بتا رہی ہے نمی. ..

ایمن خفا ہوئی..

کم آن یار اب ایسی بھی کوئی بات نہی..مینے سوچا ایکسپیرینس ئو جائے گا…

نمرہ نے دانت نکالے..جبکہ مقی اپنی کھوجی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اب سٹارٹ سے ساری چیٹ پڑھنے میں مصروف تھی…

اہمم..یہ کیا نمی؟؟

یو کین کال می فرحان. ..

مقدس کے ئاتھ وہ میسج لگا..

ادھر دے تو..یہ پرانی ہے فرسٹ ٹائم والی..

اسنے موبائل لینا چاہا..

جبکہ ایمن بھی اب چیٹ کی طرف متوجہ ئوئی..

نمی مجھے تو کچھ اور ہی لگ رہا ہے…

ایمن نے اپنی رائے دی..

کیا مطلب؟؟

نمرہ کے ماتھے ہر شکنیں ابھریں. ..

یار ایسے بلاوجہ کے میسج کرنا..گاؤں میں بگی ایک ہی بار ملی ئے تو بس..پھر بھائی کہنے پر اسنے شاید کہا.ہے کہ نام سے بلا سکتی..آئی تھنک ہی لائکس یو..

ایمن بولی

واٹ…نو وے..نمرہ جو اسکی بات سننے کے ساتھ برگر کھا رہی تھی اسکو ایک دم یہ سن کر ہچکی لگ گئی…

ہائے اللہ کتنے ہینڈسم ہیں افف..آئیز دیکھی تو نے…

مقی نے فرحان کی ڈی ہی سامنے کی..

نہی مینے نہی دیکھی..نمرہ جھٹ سے بولی..

اور ایسی کوئی بات نہی ایمن یار..ہی از نائس..بس ویسے ایز اے کزن بات کر لیتے ہیں. یار…

شاید ..مجھے جا لگا مینے کہہ دیا…

ایمن نے کندھے اچکائے…

اوئے ئوئے..اتنا ہینڈسم منڈا آپ کے پیچھے….

مجھے تو اس دن ہی اندازہ ہو گیا تھا جیسے یہ دیکھ رہا تھا تجھے..بھائی صاب دل ہار چکے ہیں. .

مقی نے آنکھ دبا کر کہا…

توبکواس.کرتی رہ میں جارہی ہوں..منہ تو بند ہونا.نہی تیرا…بندہ بات نا کرے تیرے آگے..افلاطون

نمرہ اٹھ کھڑی ہوئی…

چور کی داڑھی میں تنکا…

مقدس بھی کب چپ ہونے والی تھی…