Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Ana (Episode 12)

Qafs-E-Ana By Gohar Nayab

(حال)

نمرہ گھر آچکی تھی.امروزیہ بیگم.کے گلے لگ کر ایک.بار پھر وہ بہت روئی تھی لیکن.سب سے مل کر اب وہ کافی ریلیکس تھی…

کھانا کھا کر اسے سونے کے لیے بھیج.دیا گیا..اسنے سوچا مقی اور ایمن سے بات کرے پر تھکن.کی و

جہ سے نیند غالب آگئی ..

صنح بھی وہ کافی لیٹ جاگی تھی..

ناشتا وغیرہ کر کے وہ فارغ ہوئی تو امروزیہ اس کے کمرے میں آئیں…

بیٹا شاپنگ شروع.کر دو بس.یہی دو تین دن.ہیں. .اپنی پسند کے کپڑے لے.لو ریڈی میڈ ہی اب آرڈر دینے کا تو وقت نہی…

انھوں نے نمرہ.کو مخاطب کر کے کہا…

جبکہ.نمرہ.مے حیران.نظروں سے انکو دیکھا.جیسے مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو. ..

کیا مطلب.ماما؟کونسی شاپنگ

؟؟

اسنے خالی آنکھوں سے سوال.کیا تھا…

تمہاری شادی کی شاپنگ..

امروزیہ بیگم نے عام سے انداز میں کہا تھا…

کک..کیا؟؟وہ ایک.دم.کھڑی ہوئی تھی جیسے چارسوچالیس واٹ کا کرنٹ کا جھٹکا لگا ہو..

امروزیہ بیگم تو گڑبڑا گئیں کہ پتا نہی کیا ہو گیا ہے…

مم..میری..میری شادی؟؟؟کک…کب؟؟

لفظ

اسکا ساتھ نا دی رہے تھے زبان.لڑکھڑائی تھی…

ہاں تمہاری شادی..کب کیا مطلب..اگلے ہفتے..فرحان سے…

انھوں نے اسپر گویا بم پھوڑا تھا

ماما آپ..یہ آپ مزاق کر رہی ہیں نا؟؟

وہ ایک.دم.آگے ہوئی اور امروزیہ کے ہاتھ تھام.لئے..

انھوں نے اسکا ہا

تھ نرمی سے اپنے ہاتھ می

لیا.تھا..انھیں اندازہ ہو گیا کہ شاید وہ پوری بات نہی جانتی…

بیٹھا ادھر…

انھوں نے اسکو بیڈ پر سامنے بٹھا یا…براؤن.کلر کر کی شارٹ شرٹ ساتھ کھلا.سافلیپر پہنے وہ بہت نازک.سی گڑیا

.لگ رہی تھی…

ماما جھوٹ کہہ رہی ہیں نا آپ؟؟اسنے بھیگے لہجے میں پوچھا تھا..آنکھیں پرسنے.کو پھر سے جیسے بے تاب ہو.رہی تھیں. .

نہی…یہی سچ ہے…تمہیں شاہد معلام.نہی لیکن تمہارے بابا اسی لیے لائے ہیں تمہیں ساتھ تاکہ تمام رسم و رواج کے مطابق باقاعدہ شادی کی جائے..وہ تو صرف نکاح تھا…

انھوں نے لہجہ ذراسخت کر کے اسکو بتایا..جانتی تھیں اگر نرمی کی تو وہ نہی مانے گی…لہزا دل پر پتھر رکھ کر شختی سے گویا ہوئیں. ..

نن..نہی..نہیں. ..نہی ماما ایسے کیسےِ.بابا مجھے لے آئے ہیں. .اب میں نہئ جاؤگی بس..

وہ بضد ہوئی بچوں کی طرح. ..

امروزیہ بیگم.کے دل کو سخت تکلیف ہوئی تھی…

نمرہ..تمہارا نکاح ہوا ہے اور اب شادی ہے..رخصتی ہے اس ہفتے اور نکاح سے بڑا سچ کچھ نہی.ہوتا..

وہی اب تمہارا گھر ہے..فرحان شوہر ہے اب تمہارا..اور یہی حقیقت ہے…

انھوں نے اسکو یاد کروایا تھا.

ماما…

امروزیہ بیگم نے اسکو دیکھا تھا..اسکے نین موٹے موٹے آنسوؤں سے دوبارہ بھر چکت تھے..اسنے ایک.جھٹکے سے ماں کا ہاتھ چھوڑا تھا..جیسے اعتبار.اٹھ چکا.ہو…بھروسہ.ٹوٹ.چکا ہو..مان مٹ چکا ہو…جیسے اسکو ان..سے ایسی امید نو.تھی..دھچکا لگا تھا اسکو ان.کے منہ سے وہ.سب.سن.کے..وہ جو بہت آرام سے خلع لینے کی سوچ.کو بھرپور.خاطر.میں لارہی تھی اسکو.اندازہ نا.تھا ابھی تو مزید ستم باقی ہیں. ..

نکاح ہوا.پے تو نکاح ختم بھی تو ہو سکتا ہے نا..

اسنے دوبارہ سے کسی امید کے تحت ہمت کی اور گویا ہوئی.

ماما ….میں. .میں خلع.لینا چاہتی ہوں. ..

اسنے اپنے دل میں پنپتی خواہش.کو الفاظ دے ہی.دہئے آخرِِ.

کیا؟؟دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟؟کیا بکواس.کر رہئ ہو؟؟

اسکی.بات.سن کر تو امروزیہ کو جیسے پتنگے ہی لگ.گئے…

آپ..آپکو.شادی کروانی ہے نا میری..آپ کسی سے بھی کروا.دیں میں اف تک نا کروں چاہے کسی کا ڈرائیور دھوبی یا.نوکر ہی کیوں نا ہو…پر پلیز..اس شخص کے سامنے مت جھکائیں مجھے. …میری عزتِ نفس کو مت روندیں….

وہ بےبسی سے التجا کرنے لگی

جبکہ امروزیہ بیگم کی.سوئی خلع پر اٹکی تھی..

سوچنا.بھی مت ایسا…کیا کمی ہے فرحان میں ؟؟ اللہ کا دیا سب ہے..دولت پیسا جائیداد..شکل و صورت کا لاکھوں میں ایک..پڑھا لکھا ہائیلی کوالیفائیڈ…سب سے بڑھ کرگھر.کا لڑکا ہے…شروع سے دیکھا بھالا ہے…اور پھر تم.بھی تو اچھے سے جانتی ہو…

آخری بات انھوں نے نمرہ کو باور کروانے کو کہی..جبکہ وہ سامنے پتھر بنی حیرت کی مورت تھی…

مم..ماما .سب جانتے ہوئے بھی؟؟.آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں. .اس شخص کی.انا سے کیا.نا واقف ہیں آپ؟؟ٹھکرا چکا ہے وہ مجھے…دھتکار دیا تھا…میری ذات.کی کرچیاں کی ہیں اسنے…صرف مجھے نیچا دکھانے کے لیے کہ تم.کیا چیز ہو..بہت غرور ہے اسکو اپنے “فرحان شاہ” ہونے.پر…

میں ایسے مرد کا

ساتھ نہئ چاہتی…

انجانے.میری اسکے زخم کریدے جا.چکے تھے ..وہ زخم جو وہ 2 سال پہلے ڈھانپ چکی تھی..بھول جانا چاہتی تھی..کیا لچھ نا

کیا تھا ان.زخموں سے جان چھڑانے کے لیے..پر آج پھر وہ ہرے ہو چکے تھے..دوبارہ.خون رسنے لگا تھا..اسے لگا تھا اسکی روح کا زرہ.زرہ درد میں ہے…روح پر دئیے گئے زخم مٹائے نہی مٹتے…

امروزیہ بیگم کو ترس آیا تھا اس پرِ.جانتی تھیں وہ خود پر مضبوط نظر آنے کا خول چڑھا چکی ہے جبکہ اندر سے وہ آج بھی ٹوٹ پھوٹ کا.شکار تھی…انہوں نے اسکو کھینچ کر خود میں چھپا لیا..اسکا ماتھا چوما..اسکے بال چومے..

شش..چپ..میں جانتی ہوں بیٹا

سب جانتی ہوں. ..

پر یہ نہی جانتی اسنے ایسا.کیوں کیا تھا..

صرف اتنا

جانتی ہوں کہ میری بیٹی محبت نہی عشق کرتی تھی اس سے..اور عشق اپکا پیچھا نہی چھوڑتا. .محبت مٹ سکتی ہے عشق

نہی..

نمرہ ترپ کر پیچھے ہوئی..

نہی ماما..میرے دل میں اب اس شخص کے لیے صرف اور صرف نفرت ہے…بے تحاشا نفرت…میں. میں کیسے…آپ مت کریں یہ ظلم…میرا اللہ جانتا ہے میں بےقصور ہون…

اسنے دوبارہ کوشش کی تھی

بیٹا.جانتی ہوں. .میرا بچہ میرا مان.ہے..مجھے پتہ ہے میری بیٹی سمجھدار ہے وہ ایسی کوئی حرکت کر ہی نہی سکتی…اسے ماں باپ کی عزت کی اور اپنی عزت کی پرواہ ہے..اس لیے بیٹا میں منت کرتی ہوں تمہاری..چپ چا

پ یہ شادی کرلو..

انھوں نے.نمرہ کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے..

ماما..😰😭💔

اسکو.جھٹکا لگا اسنے فوراً انکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لئیے…

بیٹا ہماری عزت رکھ لو..تم جانتی ہو طلاق لینا آسان نہی..طلاق یافتہ کی زندگی بھی ایک آزمائش ہوتی ہے..معاشرہ جینے نہی دیتا..میں نے شروع سے تمہیں اعتماد دیا..بھروسہ دیا…اعلیٰ تعلیم دلاوائی کوئی روک ٹوک نا کی بلکہ آزادی دی کیونکہ مجھے تم پر آعتبار ہے..مگر آج میری بات مان.جاو

لڑکی جتن بھی پڑھی لکھی ہو خوبصورت ہو.نیک سیرت ہو طلاق

یافتہ کا

ٹیگ لگ جانے کے بع

د یہ لو

گ کچھ نہی دیکھتے..اور نا آج تک ہمارے خاندان.میں کسی نے خلع لی یا طلاق…اس معاملے میں میں تمہارا ساتھ بالکل نہی د

ونگی..جہاں تک رہی فرحان کی بات تو عورت کو.خدا نے اتنی صلاحیت دی ہے کہ وہ مرد کو بدل سکے…

تم بھی اسکو بدل دینا.اپنی محبت سے..اپنی چاہ سے…اسکی انا کے سامنے چھوڑ دینا

اپنی انا…اور سچ بھی یہی ہے .کہ مرد کی انا کا مقابلہ کرنے والی عورت بےوقوف ہوتی ہے..پہلے کی بات سمجھ آتی ہے تم ٹھیک تھی تب.کیو

نکہ تب وہ تمہارا کچھ نا لگتا تھا سو عزت نفس چھوڑنے کا سوال آتا ہی نہئ مگر اب وہ محرم ہے..عورت کو بہت قربانیاں دینی پڑتے ہیں گھر بسانے کے لیے. .مرد کی ہاں میں ہان ملانا ہی کامیابی ہے…

انھوں نے اسکو سمجھایا تھا..

تو یعنی آپ مجھے اسکی جی حضوری کرنے کو کہہ رہی ہیں ؟؟

نمرہ نے منہ کا زاویہ بگاڑ کر پوچھا…

ٹھیک ہے میں کرلونگی شادی..آپ شرمندہ تو مت کریں ماما…

اسکا.اشارہ انکے جڑے ہاتھوں جی طرف تھا..وہ ماں تھیں کیسے بیٹی کی بربادی چاہ سکتی تھیں. .

اس سے.آگے بولنے کو کچھ نا تھا اسکے پاس سو وہ اٹھ کر باتھ روم جا چکی تھی..جبکہ امروزیہ بیگم بھی لمبی سانس خارج کر کے اٹھ گئیں. ..

(ماضی)

نمرہ…

وہ.زیرِ لب بڑبڑایا….

نہی یو سکتا ہے کوئی اور.نمرہ.ہو..اسنے ذہن سے خیال.کو.جھٹکا کیونکہ.نمرہ.اور.فرحان میں ایسی.تو.کوئی بے.تکلفی نا.تھی کہ.بات میسجز تک پہنچ جائے…

پر بیڑا.غرق ہو.اس تجسس کا…وہ.بھی.تجسس.میں اگیا.کہ.دیکھنا تو چاہیے اور نا چاہتے ہوئے بھی اسنے موبائل اٹھالیا..سکرین ہر کوئی لاک.نا.تھا…سو.اسنے با.آسانی سامنے.موجود میسج پڑھ لیا..

Sure..thats nice of you Bhai…

دوسرا.میسج

I mean “Farhan” bhai.

نمرہ.کو.تھوڑا عجیب لگا تھا.اسکا.اس.طرح کہنا..کہ.تم.مجھے صرف “فرحان” کہہ سکتی ہو…

وہ معصوم ضرور تھی.مگر بےوقوف نا.تھی تبھی فرحان کی.بات ہر اسکا.ماتھا.ٹھنکا تھا…

سو.اسنے بھی فرحان کے.نام.کو.اسی.کی طرح

“Farhan”

لکھ.کر ساتھ خصوصً بھائی.لکھ کر میسج.بھیجا.گویا.باور کروا.رہی ہو…

اشعر کی.نظر سامنے میسج.ہر پڑی..اسنے اوپر کا.میسج.دیکھا.اور.پھر وہ.اوپر کرتا.ہی چلا.گیا..چیٹ.زیادہ.نا.ہونے.کے سبب وہ آرام.سے ساری پڑھ چکا.تھا…

اسے چہرے ہر چرارتی مسکراہٹ ابھری تھی…

تو.یہ بات ہے..دل آگیا.ہے لگتا. ہے ہماری.بہن پر…

وہ حقیقتاً خوش.ہوا.تھا..نمرہ.سے.ملے.ہوئے اسکو بھی.زیادہ عرصہ.نا.ہوا تھا.مگر وہ.اسکو.بہت اپنی اپنی.لگی تھی..جس طرح مان.سے وہ.اسکو.اشعر.بائی بلاتی تھی…

وہ.اسے اپنی.بہن ہی.تو.سمجھنے لگا تھا…

پر فرحان کا.یوں کہنا.اور نمرہ.کا.آگے سے پھر بھائی.کہنا..اسکی ہنسی رکے.نہی.رک.رہئ تھی…فرحان کسی سے ایسے کہہ ریا تھا..یہ اسکے.لیے نہایت حیران.کن.بات تھی وہ شروع دن.سے بچپن.سے ساتھ تھے..اسنے لڑکیوں کو.تو.فرحان کے پیچھے آتا ضرور.دیکھا.تھا پر.یوں فرحان کو.کبھی.کسی لڑکی کی طرف برھتے وہ.پہلی بار دیکھ رہا تھا..وہ.چھوٹی سی نازک سی گڑیا اس اکڑو انسان.کو.اپنے آگے لگائے پھر رہی تھی..اشعر کے لیے یہی بہت.تھا.اسکی.ٹانگ کھینچنے.کے.لیے…

اتنے.میں فرحان واپس مڑا..ہاتھ میں فائل تھامے..

اشعر ایک دم سیدھا ہوا..موبائل ویسے ہی رکھ دیا..فرحان نے فائل.اسکو تھمائی..

لے.اورجا اب نکل شاباشِ..فرحان نے جان چھڑانے والے انداز می1کہا..

اشعر جانتا تھا پہلی بار.بات کر رہا ہے تبھی اتنا بے صبری کا مظاہرہ کر ریا.ہے.پر وہ بھی اشعر تھا ایسے کیسے بخش دیتا..

اسنے فائل تھام لی مگر.اٹھا.نہی..

یار ایک.دو پوائنٹس دیکھنے ہیں بس..ادھر ہی دیکھ کے.رکھ.چلا.جاتا.ہوں…اسنے.بات بنائی..

جبکہ فرحان موبائل اٹھا چکا.تھا..ایک.دم.ہاتھ رکا…نکل ..فوراً مجھے سونا.ہے..

اسمے.اشعر کو.نکالنا چاہا..

چل.بےِ.آرام.سے سو.جا.بےشک..

چلا جاؤں گا..ایسا بھی کیا.ہے؟؟

اشعر.مر.ذرا.آنکھیں سکیڑ کر پوچھا.تھا..

فرحان کو ایک دم.احساس ہوا..

اشعر کا.ہوا میں چھوڑا ہوا تیر بالکل.نشانے پر جا لگا تھا..

کیا مطلب کیا ہے؟؟کچھ.ھی نہی..بیٹھا رہ..

فرحان نے کندھے اچکا کر کہا.گویا فرق ہی نا پڑتا ہو.جبکہ.اشعر کے لیے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو گیا.تھا..وہ سائیڈ پر موجود صوفے پر آرام سے بیٹھ گیا اور فائل دیکھے.کی.اداکاری کرنے.لگا..

دھیان ہنوز فرحان کی طرف تھا..

فرحان بیڈ پر نیم دراز ہوگیا..اسے لگا اشعر اب کام میں مصروف ہے سو.اسنے میسج.کھولا. .

سامنے

“Farhan bhai”

اسکو منہ.چڑا رہا تھا…اسکے چہرے.کا زاویہ بگڑا جو اشعر نے بہے غور سے دیکھا تھا اور وہ حد درجہ کوشش کر رہا تھا اپنی.مسکراہٹ چھپانے کی..

فرحان کا دل کیا اپنا.سر پیٹ لے..دیوار میں دے مارے سر اپنا…بال نوچ لے..

کیا.وہ واقعی اتنی معصوم تھئ ؟؟اتنی انجان تھی یا.جان کر.بھی.انجان بن رہی تھی…

فرحان کی ایک.دم نظر سامنے اٹھی.جہاں اشعر دل جلانے والی مسکراہٹ لیے اسکو ہی دیکھ رہا تھا…

کیا تکلیف ہے تجھے اب؟؟

وہ تپ کر بولا

کچھ نہی” فرحان بھائی.”.

اسنے فرحان بھائی پر زور دیا..

فرحان نے ایک دم حیرت سے اسکو دیکھا اور پید سے چھلانگ لگائی..اگلے لمحے اشعر کی گردن.اسکی مضبوط گرفت میں تھی…

اوے کھوتے چھوڑ..اب اگر بھائی وہ بنا نے.پر تلی ہے تو میرا کیا قصور؟؟

وہ چینختے ہوئے بولا..

تو میرا.موبائل چھان.رہا تھا…

فرحان نے اسکی گردن.دبائی…

نہی.بالکل.نہی..وہ.تو.بس.اتفاقیہ نظر.پڑ گئی.تو دیکھا.جناب بھابی.سے بات کرنے میں مشغول ہیں. .

اشعر نے دانتوں کی.بھرپور نمائش.کی جبکہ.فرحان مسکرانے لگا اور.گرفت ڈھیلی کر.دی..اشعر فوراً سرک کر سائید.پر.ہوا..

باس.سین.کیا.ہے؟؟سیدھی بات.بتا.ِ

اسنے فرحان سے پوچھا

سین.کیا.ہونا.ہے..

فرحان نے.کندھے اچکائے..

تونے بھائی.نہی بننا.تو سیدھا.بول.نا

بہن.نہی بیوی بنانا.ہے…

اشعر نے اسے مشورہ دیا

اچھا شکریہ مجھے تو پتا.ہی نا تھا ایسا کہنا.ہے..

اب جان.چکا.ہے تا منہ.بند.رکھنا.اپناِ.اور جا.اب

فرحان نے اب اسکو نکالا..

ہائے دوست دوست نا رہا..اشعر کی دہائیاں عروج پر تھیں. ..

سامنے سے آتی عریبہ اسکی بات سن چکی تھی..وہ ہولے سے مسکرا دی..اشعر کی نظر اس پر پڑی ..عریبہ اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ.اشعر سر جھٹک کر سیڑھیاں اترنے لگا..