Qafs-E-Ana By Gohar Nayab Readelle50306 Qafs-E-Ana (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Ana (Episode 10)
Qafs-E-Ana By Gohar Nayab
(حال)
آمنہ.بیگم نے.اسکو.عریبہ کے کپڑے لا.دیئے. .وہ چینج کر کے باتھروم سے نکلی تو انہیں اپنا منتظر.پایا…
اسکی خوبصورت آنکھیں بے تحاشا سرخ تھیں. ..اسکے چہرے کی حالت.صاف بتا.رہی تھی اسنے گزشتہ شب کیسے گزاری ہے….
انہیں اس.پر بےاختیار ترس.اور پیار آیا تھا…
بیٹا لیٹ جاؤ…وہ.اسکو.بیڈ.پر لے گئی تھیں. ..
اسے.بٹھا کر کمبل.اوڑھا دیا تھا….
پھر ٹرے سے سوپ کا.پیالہ اٹھا کر اسکی طرف بڑھایا….
نمرہ کو بے اختیار اپنے ماما یاد آئئ.تھیں. …
دو.آنسوؤں کے ننھے قطرے اسکی آنکھوں سے نکل.کر رخسار ہر بہہ گئے…
پر وہ اب نا.رونے کا.تہیہ کر چکی تھی..وہ.ٹھان چکی تھی کہ.اب.خود.پر کسی کو ترس نا.کھانے.دے.گی…سو اسنے ایک لمحہ گزرنے سے پہلے آنسو بےدردی سے رگڑ دیئے…
اور چپ.چاپ سوپ پینے لگی…ویسے بھی وہ.بہت اچھے سے اس.بات سے واقف تھی کہ.کھانے.جو نا.کرنے سے یا بھوک.ہڑتال کرنے.کا سراسر اسی کو نقصان ہو گا…اسنے فرحان شاہ.کا.جینا.حرام کرنے کی.ٹھانی.تھی اور ایسا.کرنے کے.لیے اسکو دماغ اور طاقت کی اشد ضرورت تھی…سو اسنے خود.پر.ظلم.کرنے کے.ارادے.کو ترک کیا..اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا سوپ پی.لیا…
اس کے بعد سر درد.کی گولی دی تھی.اسکو آمنہ بیگم نےِ..
آنٹی میں لے کونگی..اسکو تھوڑی شرمندگی.ہوئی تھی….
تم میری بیٹی ہو… اس لیے تکلف.کیسا. .انھوں نے پیار سے لہا…
نمرہ.کو دکھ ہوا.تھا انکا.اتنا خلوص دیکھ کے…..
کاش فرحان تم ایسے نا ہوتے….اسکے.دل کے کسی کونے.نے چھوٹی سی خواہش.کی تھی….
پر.کاش!!!!!!!
آمنہ.بیگم.نے.اس.سے کل والی واقعے کے.متعلق کوئی.سوال.نا.کیا…نمرہ.کو لگا تھا شاید وہ.جاننا.چاہیں اور پوچھیں. ..پر وہ جانتی.تھیں. ..انکو اپنے خون.ہر اعتبار تھا…نمرہ.کی تربیت پر بھروسہ تھا…سو انہوں نے کچھ بھی نا.پوچھا…
ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ عریبہ آئی تھی…
امی بھابھی کے بابا آئے ہیں. .سیال انکل…
اسنے ماں کو.بتایا…
کیا واقعی؟؟؟
نمرہ.ایک دم سیدھی ہوئی…
جی…وہ.دادا.جان.کے ساتھ ہیں حویلی میں. ..
نمرہ.نے ایک سیکنڈ لگائے بغیر بیڈ سے چھلانگ لگائے تھی….
میں. جاتی ہوں…وہ.بولی…
ابھی نہی بیٹا….ابھی تھوڑا.رک جاؤ….
آمنئ.بیگم.نے اسکو منع.کیا…
اسنے انکو دیکھا تھا….
بڑوں نے کوئی بات کرنی ئوگی تبھی.ابا جان انجو یہاں نہی لائے…
تھاڑا رک.جاؤ وہ آئیگے تمہارے پاس..فکر مت.کرو….
انھوں نے اسکو.سمجھایا تھا…اور نمرہ سمجھ بھی گئی تھی…
جی…وہ.بس اتنا کہہ کر بیٹھ گئی…
اسکا دل.زور زور سے دھڑک رہا تھا جانے.اب کیا.ہو.گا…ِپریشانی تو.آمنہ بیگم.کوبھی ئوئی تھی…
نمرہ کے.با با.کل گاؤں نہی تھے ورنہ اسکو یقین تھا وہ.سب کبھی نا ہو پاتا…اسکے بابا.ہوتے تو.کسی کی جرت نا ئوتی وہ اتنی بے بس نا.ہوتی…
پر اب سوچنے سے کچھ بدل تو.نہی.سکتا تھا…اسکا ہاتھ تھما.دیا.گیا تھا اس شخص کے ہاتھ میں. … اسکی.مرضی اور خواہش.کے برعکس….نکاح تو ئو چکا.تھا…وہ اسکی.منکوحہ تھی اب…اور.دنیا کی.نظروں میں اب تو.ایک.رات اسکے.ساتھ بھی گزار چکی تھی…
اسے ئ
ہر راستہ بند لگا تھا…ہر طرف جیسے نا امیدی تھے…. اسے.اپنا آپ بندھا ہوا.لگا تھا.
..وہ اب.اسکا شوہر تھا..اس پر حق رکھتا تھا..اسکے تمام جملہ حقوق اب اسکے.نام.تھے…اور اسکی.مرضی کے بغیر تو.اب کوئی اسکو.ساتھ نا.لے.کے.جا.سکتا تھا…
یہ.سوچ کے ہی اسنے.جھرجھری لی.تھی….
نہی!!تم کچھ.نہی ہو.میرے.لیے..نہی مانتی.میں تمہیں اپنا کچھ.بھی.اور.نا.ہی.اس شادی.کو…
لاوا.دوبارہ ابلنے.لگا تھا اس.کے.اندر….
لیکن آپ ایسا.کیسے.کر.سکتے ہیں ِِآپ.نے اتنا.بڑا فیصلہ کر.لیا وہ.بھی.میری اکلوتی بیٹی کی زندگی کر بارے میں. …آپ نے میرے آنے کا.انتظار تو.کیا.ہوتا….
ملک.سیال.اس.وقت.شدید جلال میں ملک وجاہت سے.مخاطب.تھے…
میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ.قدم اٹھایا.ہے…وہ میری بھی بیٹی ہے..نواسی.ہے میری… اور فرحان سے بہترین کون.ہو سکتا ہے اس کے لیے؟؟کیا.اپکو اطمینان نہی ہم.پر؟؟
ملک وجاہت نے.بھی جواب دیا تھا
…
آپ.امروزیہ کے چچا ہیں اور میرے بھی..میں بہت عزت کرتا ہوں آپکی…پر میں یہ بھی جانتا ہوں. وہ میری بیٹی ہے اور وہ کبھی ایسی کوئی حرکت نہی کر سکتی…آپ نے اس لوفر انسان کی بات کا یقین کیا اور اپنی.نواسی اور پوتے کا.نہی؟؟ میں اسکو چھوڑوں گا نہی..
وہ شدید اشتعال امیز لہجے میں گویا ہوئے. .
اسکا انتظام ہم.کرچکے ہیں پہلے ہی..اور جہاں تک بات یقین کرنے کی ہے تو ہمیں کسی کی بھی بات کی.یا کسی بھی ثبوت کی یا کسے دلیل کی ضرورت نہی…
نمرہ اور فرحان میرا خون ہیں. ..ِ. انکی تربیت ہم.نے کی ہے..امروزیہ نے.کی.ہے..آپ.نے.کی.ہے…
انھوں نے.نہایت اطمینان سے جواب دیا..انکا جواب سن کر ملک.سیال.بھی قدرے ٹھنڈے پڑے تھے..انکو اطمینان ہوا تھا….
لیکن آپ جانتے ہیں نمرہ اس شادی کے لیے راضی نہی تھی…اسکی مرضی شامل نہی….
وہ بولے….
جانتا ہوں مگر یہ بھی جانتا ہوں وہ.کیوں راضی نہی ہے…
انکے چہرے پہ بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی تھی…
آپ.فکر مت.کریں. .میں آپکو یقین دہانی کرواتا ہوں وہ بہت خوش رہے گی فرحان کے ساتھ..بس کچھ وقت چاہیے ان.دونوں جو..
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولے تھے…
پر…فرحان کے ساتھ بھی غلط کر دیا آپ.نے..شاید وہ کسی کو پسند کرتا ہو..کیا سوچا.ئوا.ہو.اسنے …اسکی زندگی ہے.. اور ایسے اچانک.شادی …. میں اپنی بیٹی ایسے تو کسی.کے.سر.مسلط ہرگز نہیں کر سکتاِ…….
وہ ابھی بھی اپنے نقطے ہر قائم تھے…
میری اکلوتی اور لاڈلی بیٹی ہے ..ایک ہی.تو ہے اسکی بھی ایسی سوگوار شادی…ایسے کیسے….
تو آپ کیا.چاہتے ہیں ؟؟ملک.وجاہت نقطے پر آئے…
جو سب ہوا ایسے نہی ہونا چاہئے تھا…..
ملک سیال بولے..
اسکا تو بہت آسان حل ہے برخوردار. …
ملک وجاہت بولے
کیا مطلب؟؟
ملک سیال مے نا.سمجھی سے انکو.دیکھا..
مطلب یہ کہ.ہم نمرہ.اور فرحان کی شادی کروائیں گے…دھم دھام سے..سب رسموں کے ساتھ رواج.کے.مطابق اپنی بڑی بہو کو لائیں گے حویلی میں. …
اسکی شان.کے مطابق….
انھوں نے آسان
سا.حل بتا.دیا.تھا…
کیا.خیال.ہے آپ کا؟؟
وہ سیال صاحب سے.مخاطب ہوئے…
بات.تو.سہی ہے اپکی..انھوں نے بھی اتفاق ق کیا..
تو بس.ٹھیک.ہے.پھر.دیر کس بات.کی.شادی.کی.تیاریاں شروع.کریں. ..
انھوں نے خوشی سے حکم دیا تھا….
آج سے ٹھیک دو ہفتے بعد.ہم بارات.لے کر.آئیں گے.اپنے.پوتے کی…اپنی.لاڈلی پوتی کو.لینے….
پر آپ نے نمرہ.کر فرحان کے ساتھ کیوں بھیج دیا نکاح کے بعد….
ملک سیال نے.پوچھا….
وہ اسکی.بیوی.ہے اب ….اسی.کے ساتھ ہرے گی..اور نکاح کا.رشتہ کافی.ہوتا.ہے..آپ.بھی اس.بات.سے اچھی طرح واقف.ہیں. …
انہوں نے انکو باور کروایا تھا…
انھوں نے بہت.سوچ سمجھ کر نمرہ اور فرحان جو ایک کمرے میں ہی ٹھہرایا تھا..وہ جانتے تھے اگلے دن.ملک.سیال آئیں گے.ہی اور نمرہ.رونا دھونا.بھی.کرے گی….جبکہ فرحان بھی ابھی اس شادی کو فوراً قبول نہی کر لے گا…
اگر ایسے میں وہ ان.دونوں کو.الگ رکھتے تو کوششوں سے نکاح رخصتی سے پہلے ہی ختم بھی ہو سکتا تھا…اور ایسا ہونے سے روکنے کے.لیے انکو.ایسا.کرنا.پڑا…
اب سب پر یہ بات واضح تھی کہ.وہ.فرحان کی بیوی ہے اسکے ساتھ ایک کمرے.میں رات بھی.رہ چکی.ہے…
وہ الگ بات تھی.کہ.ان.دونوں کے.درمیان نا.کچھ تھا.اور.نا.ہی کچھ ہوا تھا ہر دنیا تو.اس.بات سے.انجان تھی نا…
میں نمرہ کو.لے کر جاؤں گا پھر….
ملک.سیال نے انکو بتایا.تھا.
ٹھیک ہے…آپ لے جائیں.
چلیے بلال کے گھر چلتے.ہیں. ..
نمرہ بھابھی داداجان بلا.رہے ہیں. .
عریبہ اسکو.بلانے آئی تھی…
وہ تو جیسے تیار.بیٹھی.ہو فوراً کھڑی ہوئی.تھی
وہ جلدی جلدی سیڑھیاں پھلانگنے لگی..ابھی وہ آخری سے ایک سیڑھی.اوپر.تھی کہ ایک دم.سائیڈ پر.موجود ڈرائینگ روم.کے.دروازے.سے فرحان نکل کر سیڑھیوں پر آیا..
وہ ایک دم.اسکے.سامنے آنے.سے.بھو کھلا.گئی.اور توازن برقرار.نا.رکھ سکی..ابھی.وہ.زمین بوس.ہونے کا.سوچی.ہی.بیٹھی.تھی.کہ اسکو اپنی کمر.کے گرد کسی کے بازوؤں کی قید کا احساس.ہوا…
اسنے جھٹ سے آنکھیں کھول. دیں…اسکے چہرے کے.سامنے اندھیرا تھا…تھوڑے حواس قابو.میں آئے تو اسکو سمجھ آیا ..اسکے چہرے کے.سامنے فرحان کا چوڑا سینہ تھا…شرٹ کا اوپر کا بٹن کھلا.ئوا.تھا…نمرہ نے ذرا سی آنکھیں اوپر اٹھائی تھیں. …اسے اپنے.ماتھے پر فرحان.کی.سانسوں کا احساس.ئوا تھا…جبکہ.فرحان نے اسکی طرف دیکھا تھا…
اسکی گھنی پلکوں کے سائے.میں موجود ان شرارتی آنکھوں کو..پر.آج وہاں ہمیشہ والی.شرارت.بلکل.نا.تھی… آج اسکی.آنکھیں ہمیشہ والی.بولتی آنکھیں نا.تھیں. .زندگی سے بھرپور. ِِِ..
اسکے.دل کے کسی.کونے.سے.صدا.آئی.تھی…کہ وہ.ان.انکھوں کو.چھولے اپنے.لبوں سےِ…چوم.لے انکو…واپس زندگی لے آئے.ان.میں. …یہ آنکھیں. …
ہاں یہی آنکھیں تو اسکی خواہش.بنی.تھیں کبھی…پر اسنے اپنے ہاتھوں سے اس.خواہش.کا گلا.گھانٹا تھا….
اسنے عشق کیا تھا ان.آنکھوں سے اور.ان خوبصورت.آنکھوں کی مالکن.سے…
وہ آج بھی شاید انکے عشق.میں گرفتار تھا…اور یہ حقیقت اس ہر ایک بار پھر آشکار ہو چکی تھی…
ہاں وہ آج بھی عشق.کرتا تھا اس.سے…انا جتنا بھی روک لیتی پر حقیقت تو حقیقت تھی..وہ سو بار انکار.کرتا..نا مانتا..دل کو روند دیتا..پر سچ یہ ہی تھا…وہ آج بھی اس.میں بستی تھی…بلکہ اب شاید اسکے.عشق.میں اضافہ ہو.چکا تھا..
وہ کھونے لگا تھا.اس.منظر میں. .اسکے حسن.میں. ..وہ نمرہ.کی آنکھوں ہر جھک.رہا.تھا..جھکتا جا.رہا.تھا…
فرحانے وہ….
اشعر ڈرائینگ روم سے نکلتے ہوئے اپنی ہی دھن.میں بول.رہا تھا..
وہ.فرحان کو.اکثر فرحانے کہہ کر بلاتا تھا…
ابھی وہ اتنا ہی بولا.تھا کہ اسکی نظر سامنے اٹھی..جہاں نمرہ فرحان کے حصار میں قید تھی..اور فرحان تو جیسے بے خودی کے عالم.میں تھا…اسکا چہرہ بہت قرین تھا نمرہ.کے چہرے کے….اےک انگلی کا.فاصلہ تھا …وہ تو جھک چکا تھا اسکی آنکھوں. پر….
کہ اچنک اشعر کی آواز سے سکوت ٹوٹا تھاِ…وہ دونوں جیسے ہوش.کی دنیا میں واپس آئے تھے….
اشعر ایک دم.شرمندہ ہوا تھا…
اوہ..وہ…
اسے.بات نا بن پڑی. تو وہ.مڑنے لگا..جبکہ.نمرہ نے فرحان کو دھکا.دے کر.خود.کو اسکی گرفت سے رہائی دلوائی تھی…وہ آنکھوں میں بے تحاشا نفرت اور غصہ لیے پیچھے.ہوئی تھی…اور فرحان کو کچھ بھی کہنے کا.موقعہ ایئے بغیر.آخری سیڑھی اتر کر ڈرائنگ.روم میں داخل ہو.گئی…
ہاں بول کیا.قیامت.آئی.ہے؟؟؟…
اشعر جو.واپسی.کے لیے مڑا.ہی تھا اسکی آواز.ہر رک گیا..
اور واپس فرحان کی طرف پلٹا..
ہاہاہاہا…لگتا ہے بہت غصہ آرہا ہے جناب کو….
اشعر.نے اسکی ٹانگ کھینچی تھی…
رومینس ڈرا بیڈروم.تک.رکھا کريں نا مسٹر پرفیکٹ!!!
اسنے اسکو بڑی عقل مندانہ نصیحت کی …
تو کبھی اپنے گھر بھی ٹک جایا کر….
فرحان نے جل کر کہا تھا….
ہاہاہاہا. …میں نا آتا تو کیا پتا کوئی اور آجاتا…اندر اسکا باپ بیٹھا ہے….سیال انکل لینے آئے ہیں اپنی بیٹی جو اور آپ ادھر بڑی فرصت سے……
اسنے فرحان کو یاد دلایا..
ہاں تو…انکل کی بیٹی ہے تو میری بھی بیوی ہے ….
فرحان بھی انجانے.میں بات جتا.گیا تھا…
اوہ اب یاد آگیا بیوی ہے… کبھی اسکو.ٹھکرا کر انکار کر.دیتا ہے انا.کی تسکین.کے لیے اور اب حق.جتانا.نہئ.بھولا..سہی.ہے تو بھی…
اشعر بول.کر رکا.نہی.چل.دیا..
اشعر اسے بہت کچھ باور کروا.گیا تھا….وہ باتیں جو کسی.کو.نا.پتا تھیں (یہ صرف فرحان کا خیال تھا)
اسے خود پر ایک دم غصہ آیا…
کیوں بےخود ئوا.میں ِ…کیا کرنے.جارہا.تھا….
اسنے.زور سے ہاتھ سیڑھیوں کی لکڑی.کی خوبصورت گرل پر دے مارا……
وہ آب.بھی.انکاری.تھا…اسکا دماغ دل.کی.نفی کر رہا.تھا.ِ
نہی کچھ نہی.ہے میرے دل میں اس کے.لیے…
اسنے.خود کو.جیسے سمجھایاتھا…
انا کی تسکین کویہ خیال اچھا تھا…
حالانکہ اس سے حقیقت بدل.نہی جانی.تھی..ہر اسکو اپنے “فرحان شاہ” ہونے کا غرور تھا…وہ کسی کے آگے کیوں جھکے؟؟ جس کو اسکا ساتھ چاہیے اسے خود جھکنا ہو گا..
نمرہ ڈرائنگ میں داخل.ہوتے ہی بھاگ کر ملک سیال.سے لپٹ گئی…
پاپا….
وہ سسکی تھی..
وہ جو نا رونے کا پکا.ارادہ کر.کے اٹھی تھی..ااپر ایک لمحے مزید قائم.نا.رہ.سکی تھی..
انکے ساتھ لگتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی…
اور ایسا.روئی کہ.وہاں موجود سب لوگوں جی آنکھیں بھی.بھانے.لگیں. .اتنا درد تھا اسکی.سسکیوں میں. …
بس بیٹا.بس…
ملک.سیال.نے اسکو اپنے ساتھ بٹھا یا.تھا…
پاپا.مجھے..مجھے…
ابھی.وہ.بولنے ہی لگی تھی کہ اسکی نظر سامنے موجاد ملک وجاہت پر پڑی…
وہ جو کہنا چاہتی تھی کہ.مجھے لے جائیں. .واہس لے جائیں یہاں.سےِِ
وہ.اک.دم.رک.گئی..
ملک وجاہت نے ہمیشہ اس سے شفقت اور پیار ہی برتا تھا ہر کل پہلی بار انہوں نے اسکی ایک نا سنی تھی…اسکو جا مان.تھا وہ کل کہیں کھو گیا تھا…اسکو.دکھ ئوا تھا ِِجب اسنے.اپنی سچائی بتانا.چاہی..پر اسے موقع نا.دیا.گیا..پھر اسنے لاکھ.منتیں کی تھیں. کہ اسکی نکاح نا.کیا.جائے وہ.بےقصور تھی ہر اسکے باوجود اسکی ایک نا.چلی…
اسکا.مان.ٹو ٹ چکا.تھا..وہ اس بات سے انجان.تھی کہ وہ جو ملک وجاہت کو انجان سمجھ رہی.ہے کل سے وہ انجان.نا.تھے..ایک ایک بات سے واقف تھے.وہ…
ملک.وجاہت کو تھوڑا دکھ ہوا تھا.ِوہ.بہت لاڈ سے ان سے اپنی باتیں منوا لیتی تھی…
جی بولو.بیٹا….
ملک.سیال نے.اس.سے کہاِ
ہاپا.مجھے ساتھ لے جائیں. .لے جائیں ادھر سے..مجھے ماما اور آپ کے ساتھ رہنا ہے….
وہ دوبارہ.رو دینے.کو.تھی..
اوکے ..اوکے. ِِرونا.نہی..آپ میرے ساتھ ہی جاؤگی…
انھوں نے اسکو.یقین دلایا..
اور وہ تو یہ بات سن.کر جیسے نہال.ہو گئی تھی… خوشی اوے بے یقینی.کی لہر اسکے پورے جسم.میں گزری.تھی…
کیا اتنی جلدی.اللہ.نے اسکی.سن
لی؟؟
اب پتا چلے گا فرحان کو.اور نانا.جان.بھی.نہی روک.سکتے اب تو…
وہ اصل بات سے انجان بیٹھی خوش.ہو.رہی تھی…
تھوڑی دیر بعد وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے….
فرحان بھی تب تک دقبارہ اندر آچکا.تھا….
بنرہ نے اسکو دیکھتے ہے فوراً پلکیں جھکا لی تھیں. ِوہ جو.کچھ دیر پہلے والی بات بھلائے اپنی.ہی خوشی میں مست تھی..ایک.دم اسکو سامنے دیکھ کر اسکا حکق.تک کڑوا ہو.گیا…
وہ بھی ملک.سیال.کے.ساتھ کھڑی ہو.گئی..
ہننن…بڑا.آیا…
اب مزا آئے گا اسکو.. میں کبھی بھی واہس.آنے.کی غلطی.نہی.کرونگی..بلکہ اس پر خلع.کا کیس کر دونگی.ماما بابا کو.ساتھ ملا کر..کچھ ٹائم.تو لگے گا لیکن.ہو.جائے انشاءاللہ. .پھر دیکھنا…دل.تو کر رہا.ہے ہراسمنٹ.کا.بھی ایک.کیس بنوا.کر اندر.جروا دوں…ویسے دھوکہ دھی کا کیس تو سیریس میں بنتا ہے نمرہ…
وہ اپنے ہی خیالوں میں گم شیخ چلی کے انڈوں کی ٹوکری اٹھائے مگن تھی…
ایک دم.وہ ہوش میں آئی…
عریبہ اور آمنہ بیگم اس سے گلے لگ کر ملیں….
اسنے غلطی.سے.بھی فرحان پر دوبارہ نگاہ ڈالنا گوارہ نا.کی.تھی..جیسے وہ.تو وہاں تھا ہی نئی..اسکا تو کوئی وجود ہی.نا.تھا..
اور.یہی بات فرحان کو کِھلی تھی…
اس.کی.ادائے.بے نیازی…
وہ ایسے ہی تو اسکی.ذات کی نفی کوتی تھی…اور یہی.بات تو فرحان کی انا.کو.ٹھیس.پہنچاتی تھی….
پر.وہ ایسا کر.جاتی تھی..
اب.بھی وہ.بڑے آرام.سے.باقیوں سے ملی.اور.باہر.نکلنے.لگی…
ہماری دلہن کا.خیال.رکھئیے گا…
آمنہ.بیگم.مے.اسکو.پیار.سے دیکھ.کر.بولا تھا اس.کے.پاپا کو
وہ جو.پکا.ہی واپسی کا.رستہ ناپے بیٹھی.تھی..انکی اس.بات.کو.سن.کر.نمرہ.کو.تھوڑا….عجیب.لگا..کیا مطلب تھا.اس.بات.کا؟؟وہ.سمجھ نا.ہائی…
پتا.نہی…اسنے سر جھٹکا…
وہ.کچھ.سمجھنا.بھی نہی.چاہتی تھی…
جاؤ جاؤ..آرام.سے.جاؤ..جتنا.اگنور کرنا.ہے کرلوِِآنا تو.لوٹ.کر.یہیں ہے تمہیں میرے.پاس.اب…مسز فرحان ِ..
فرحان کے چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ آئی تھی..وہ جانتا تھا وہ.انجان ہے اس بات ست کہ.محترمہ.پراپر دلہن بن.کر واپس آنے کے لیے ہے تو.واپس.جا.رہی.ہیں. ..
اسکو.ہنسی آئی تھی اس جھلی.پرِ..
(ماضی)
ملک.وجاہت.کی طبیعت.سنبھل گئی تو انکا.ڈسچارج کر.دیا.گیا تھا…
وہ.گاؤں جا.چکے.تھے…
کل.ویک اینڈ.تھا اور.
نمرہ لوگوں.نے انکی طبیعت پوچھنے گاؤں جانا.تھا..
رات کو وہ جلدی سو.گئی تھی اور.اب فجر کے وقت اٹھ گئی…نماز پڑھ کر اسنے بکس کھول.لیں اور پڑھنے.لگی…
سب گھر والے آرام.سے اٹھے…
اور.ناشتہ.وغیرہ.کر کے وہ.لوگ 12.بجے نکل.گئے تھے…
عصر کے وقت وہ لوگ حویلی پہنچے تھے…
فرحان اس بات.سے انجان.تھا کہ.وہ.لوگ آرہے ہیں. ..
اس دن کےبعد سے وہ مزید اس.کے بارے میں سوچنے لگا تھا…حالانکہ ایسے کبھی نا.ہوا.تھا کہ ایسے کوئی اس کے حواسوں پر سوا.رہو جائے…
وہ اس دن بھی اس سے کوئی بات نا.کر.پایا تھا..ایک.تو.امروزیہ بیگم.اوپر سے نمرہ کا اسکو” بھائی”
کا.لقب دے دینا….
وہ تو بے چارہ.سوچتا ہی رہ گیا…کیسے اس بھائی چارے.سے پیچھا چھڑائےِ…..
نمرہ تو کب کی اسکو.بھول.بھال.چکی تھی…
ملک.وجاہت اب بلال آفندی کے ہی.گھر میں تھے…جب سے انکی طبیعت بگڑی تھی فرحان نے انکو اکیلے نا.رہنے دیا.تھا…اور.نا.ہی.بلال آفندی مانے.تھے.سو.وہ.وہیں شفٹ.ہو گئے تھے…
نمرہ انسے ملی.اور طبیعت وغیرہ کو پاچھ کر اب.وہ.عریبہ.کے.ساتھ آگئی تھی…عریبہ اسکو اپنے.کمرے میں لے گئی.جبکہ.امروزیہ اور آمنہ بیگم ل ڈرائنگ روم میں بیٹھ گئی تھیں. ..
فرحان آفس سے.گھر آیا تو سیدھا.اپنے روم میں چلا.گیا….
چینج کرنے.کے.لیے الماری کھولی..سامنے اسکو کالا کرتا.نظر آیا..
اسنے وہی نکال.لیا…
چینج.کر.کے باہر.آیاِ.بال سیٹ کیےکرتے کے…بازو.موڑ.کر پیچھے.کو ہاف.فولڈ کر.لیے..جس سے اسکے کثرتی بازوؤں کے بال بھی آدھے.دکھنے لگے تھے….
وہ نیچے گیا.تو آمنہ بیگم کو.کچن.میں پایا..
آمنہ بیگم.نی.ٹرے میں سنیکس.رکھ کر عریبہ کو آواز دی ہر وہ نا.سن.پائی…
وہ صوفے سے اٹھا اور عریبہ کو بلانے.کی.غرض سے اسکے کمرے کی طرف.چل.دیا کہ.امی.کو کام.ہو گا.کوئی…
دروازہ تھوڑا.سا کھلا.تھا ِ.اندر سے مدھم سی آواز آئی تھی اسکو..وہ.سیدھا.کمرے.میں چلا.دیا..اسنے.دروازہ.کھول.کر.نظر.سامنے دوڑائی.تو وہ ٹھٹک گیا….
کیا.وہ.واقعی سامنے تھی یا اسکی نظروں کا.دھوکہ.تھا؟؟؟؟
عریبہ….وہ.اتنا.ہی.کہہ پایا.کیانکہ.سامنے.موجود سرپراٸز.نے.اسکو.اور.کچھ کہنے.
لائق نا.چھوڑا تھا…
جی.بھائی؟؟
عرینہ.فوراً بولی…
جبکہ.نمرہ.نے بھی.اسکے تعاقب.میں نظریں اٹھائی.تھیں. ..
وہ..امی.بلا.رہی تھیں ِ..اسنے.عریبہ.کو.بارمل.سے انداز.میں بتایا..
اچھا.میں آتی ہوں ابھی نمرہ…
یہ کہتے ہی.وہ اٹھ کھڑی ہوئی..
اسلام علیکم! !!
نمرہ نے فوراً فرحان کو.سلام.کیا تھا..وہ.اسے پہچان.چکی تھی…
وعلیکم اسلام!!…ِ فرحان نے.بہت شائستہ.لہجے.میں جواب.دیا.تھا..جبکہ.عریبہ جا.چکی.تھی…
آپ لوگ کب.آئے؟؟اور.کوئی بات نا.بن.پڑی تو.اسنے یہی پوچھ.لیا …
(ظاہر ہے بات.کرنے.کا.بہانہ تو.چاہیے تھا
)
آج شام.ہی.آئے ہیں ہم…
نمرہ.نے فوراً جواب.دیا…
ماما.بھی آئی ہیں ابھی؟؟.فرحان نے.ایک.اور سوال.دغا…
جی..وہ اس.روم.میں تھیں آنٹی کے ساتھ…
نمرہ.مے.اسکو.روم.بھی بتا دینا.ضروری.سمجھا.تاکہ.وہ.جائے.اور.مل.لے…
او اچھا..
وہ.اتنا.ہی کہہ سکا..
اسٹڈیز کیسی جارہی.ہیں تمہاری؟؟
اس نے بہت عام.سے انداز میں سوال.کیے تھے.مبادا.دل.کا راز نا عیاں.ہو.جائے…
نمرہ.کو قدرے حیرت ہوئی..انکی ایسی تو کوئی بے تکلفی نا.تھی.کبھی..اور دوسری بار ہی.مل.رہے.تھے دونوں. .
فرحان نے.”آپ” سے “تم” کا.سفر.محض.چند.لمحوں میں طہ کر لیا.تھا…
الحمدللہ بہت.اچھی….
اسنے.خوشدلی.سے.جواب.دیا تھا…
اتنے.مے عریبہ آگئی..اس کے.ہاتھ میں ٹرے تھی…
جبکہ.فرحان واپسی.کو ہو لیا..
عریبہ.کو تھوڑا.عجیب لگا تھا اسکا ابھی.تک.ادھر.ئونا..کیونکہ.وہ کبھی کسی کزن سے فری.نا.ہوا.تھا نا.فضول.بات.کرتا.تھا.پر.نمرہ کے ہاس وہ.اب.تک.کھڑا.تھا ہعنی.وہ بات کر رہا.تھا یقیناً اس.سے..
خیر کیا.ہوا پھر..
اسنے.سر جھٹکا تھا…اور وہ.دونوں دوبارہ باتیں کرنے.لگیں. .جبکہ.فرحان اپنے.کمرے کی طرف بڑھ.گیا…
