Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 9)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

نیا دن نئے احساسات کے ساتھ طلوع ہوا۔۔۔۔

سب ڈائننگ ٹیبل کے گرد بیٹھے ناشتہ شروع کر چکے تھے ۔۔۔۔

گھر کی خواتین سب کو سرو کرنے کہ بعد خود بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئیں ۔۔۔۔

“جنت زرا دیکھو اکبر اٹھا یا نہیں؟ ابھی تک نہیں آیا ۔۔۔

“جی امی جان میں ابھی دیکھتی ہوں ۔۔۔”

“ارے ادھر کہاں جا رہی ہو بھئی اکبر میرے کمرے میں ہے “

شبنم گیلانی نے جنت کو اکبر کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تو کہا ۔۔۔۔

“وہ کیوں “؟

“بتاتی ہوں ابھی “وہ اسے آنکھوں سے فی الوقت چپ رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔

“اچھا امی جان ہم چلتے ہیں آفس کا وقت ہو گیا “عیسی گیلانی نے شبنم گیلانی سے کہا ۔۔۔۔

پھر موسی اور عیسی دونوں آفس کے لیے نکل گئے ۔۔۔

سامنے سے ہی اکبر اپنے آرمی یونیفارم میں ملبوس نک سک سے تیار نیچے اتر رہا تھا ۔۔۔۔

“اسلام وعلیکم !اس نے وہاں موجود خواتین کو مشترکہ طور پر سلام کیا ۔

“وعلیکم السلام !

شبنم گیلانی ،جنت اور انیقہ تینوں نے بھی جوابا کہا ۔۔۔

جبکہ حرعین چوری چھپے اس پہ نظر ڈال رہی تھی ۔۔۔۔

جودھا نے حسرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔

“کتنے پیارے لگتے ہیں نا آپ !”۔۔۔۔وہ یہ بات دھیمی سی آواز میں بولی آواز اتنی دھیمی تھی کہ بمشکل اسے اپنے کانوں میں سنائی دی ۔۔۔۔

“بیٹھو بیٹا ناشتہ شروع کرو “جنت نے اس کے لیے چئیر گھسیٹ کر پیچھے کرتے جگہ بنا کر کہا ۔۔۔

“مام آپ پلیز آرام سے بیٹھ کہ ناشتہ کریں میں کر لوں گا ۔۔۔۔

وہ انہیں اٹھ کر کام کرتے ہوئے دیکھ کہ بولا ۔۔۔

“اکبر بیٹا کوئی مسلہ ہے تو مجھے بتاؤ رات کو وہ سب کیا تھا؟

بالآخر شبنم گیلانی نے بات شروع کی ۔

اکبر نے خائف نظروں سے سامنے موجود حرعین اور جودھا کو دیکھا ۔۔۔

جو دونوں ہی نظریں ُچرا رہی تھیں ۔

“آپ بڑی ہیں سب سمجھتی ہیں آپ ہی کوئی حل نکالیں .میری تو سمجھ سے باہر ہے میں کیا کروں “اس نے بیزاری سے کہا اور پاس پڑے ہوئے جگ سے جوس شیشے کے گلاس میں انڈیلا۔۔۔۔

گلاس بھر کہ منہ سے لگایا ۔۔۔

حرعین نے قاشوں میں کٹے ہوئے سیب کی پلیٹ اس کی طرف بڑھائی جسے اکبر نے پکڑ کہ اپنے سامنے رکھا ۔۔۔

پھر گلاس ٹیبل پر رکھا اور ایک سیب کی قاش اٹھا کر منہ میں ڈالی ۔۔۔۔

جودھا نے سینڈوچ کی ٹرے اس کے سامنے کی تو اکبر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا ۔۔۔۔

وہ دل مسوس کر رہ گئی ۔۔۔۔

“بیٹا جی تو ہمارا یہ فیصلہ ہے جب آپ گھر آؤ تو ایک دن حرعین کے پاس رکو تو دوسرے دن اس بچی کے پاس “

“جی ٹھیک ہے جیسا آپ کو مناسب لگے “وہ جوس کا گلاس ختم کیے وہاں سے اٹھا ۔

“مگر اکبر کے کمرے میں صرف میں رہوں گی یہ نہیں “حرعین نے اپنے حق میں کہا ۔۔۔۔

“تو یہ کہاں رہے گی ؟شبنم گیلانی نے پوچھا ۔۔۔۔

جنت اور انیقہ خاموش تھیں اس معاملے میں ۔۔۔۔

“اسے حرعین والا روم دے دیں ۔۔۔۔”اکبر نے مشورہ دیا ۔۔۔۔

اس کی بات پہ حرعین نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔

“ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں”بالآخر حرعین نے اکبر کے کمرے میں رہنے کے لیے اپنے کمرے کی قربانی دے دی ۔

“تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟شبنم گیلانی نے جودھا سے پوچھا ۔

“نہیں “اس نے نفی میں سر ہلایا۔

“آج رات اکبر میرے ساتھ رہیں گے “…حرعین نے جودھا کی طرف کاٹ دار نظروں سے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

“شادی پہلے میری ہوئی تھی تو اکبر پہلے میرے پاس رکیں گے “

جودھا بھی تلخ لہجے میں بولی۔

“شروع ہوگیا ان کا “اکبر نے سر جھٹک کر اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا اور مسڈ کالز چیک کرنے لگا ۔۔۔۔

“حرعین کمرے والی بات تمہاری مانی ہے اور یہ بات بچی ٹھیک کہہ رہی ہے قاعدے سے دیکھی جائے تو پہلے نکاح اس کا ہوا ہے تو اکبر آج رات اس کے پاس رکے گا کل تمہارے ساتھ ۔۔۔۔اب میں دوبارہ کوئی بحث سننا نہیں چاہتی اس بارے میں ۔۔۔آئی بات سمجھ میں ؟؟؟وہ زرا تیز آواز میں بولیں ۔۔۔

“اوکے ایوری ون اللّٰہ حافظ “

وہ کہتے ہی وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔

آج حرعین نے دن میں اپنا سارا سامان اکبر کے کمرے میں منتقل کرلیا تھا ۔۔۔سارے کپڑے وغیرہ اس کی کبرڈ میں جگہ بنائے رکھ لیے تھے ۔۔۔۔

جودھا کہ پاس تھا ہی کیا وہاں رکھنے کے لیے بس شبنم گیلانی کے چند سوٹ جو وہ کئی ماہ سے پہن رہی تھی ۔۔۔۔

اکبر ڈیوٹی سے واپس آ چکا تھا ۔۔۔

جودھا نے اسے کئی بار رات کو کافی پیتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔

اسی لیے وہ کچن میں اس کے لیے کافی تیار کر رہی تھی ۔۔۔۔

جب اچانک اسے کچن کے باہر کسی چیز کے گرنے کی آواز سنائی دی۔۔۔

وہ باہر گئی تو کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔

واپس آکر مگ میں کافی ڈالی اور کمرے کی طرف آئی جہاں اکبر بستر پہ نیم دراز تھا ٹانگ پہ ٹانگ رکھے پاؤں کو مسلسل ہلا رہا تھا ۔۔۔ایک ہاتھ میں دیوار پہ نسب ایل ۔ای۔ڈی کا ریموٹ کنٹرول تھا ۔۔۔

وہ منہمک انداز میں ایل ۔ای۔ڈی پہ چلتی ہوئی نیوز دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

جودھا نے مگ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور دوسری طرف آکہ بیٹھ گئی ۔۔۔۔

اکبر نے مگ اٹھا کر منہ سے لگایا اور کافی کا ایک گھونٹ بھرا ۔۔۔۔

مگر فورا ہی چہرے کے زاوئیے بگڑے ۔۔۔

“پیو اسے “اس نے وہی مگ جودھا کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔

“مگر یہ تو میں آپ کے لیے لائی تھی “

“آئیندہ ایسی کوشش بالکل مت کرنا کیونکہ میں نمک والی کافی بالکل نہیں پیتا “

اس نے مگ واپس وہیں رکھا جہاں سے اٹھایا تھا ۔۔۔

“مگر میں نے تو نمک نہیں ڈالا ۔۔۔اس نے شرمندگی سے کہا ۔۔۔۔

اور اپنی غلطی ڈھونڈھنی چاہی کہ کہاں اس سے چوک ہوئی ۔۔۔۔

مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا ۔۔۔۔

“اب آئے گا مزہ جب اکبر کے ہاتھوں اس خوبصورت چڑیل کی درگت بنے گی ۔۔۔ہائے کتنا مزہ آئے گا جب اکبر اسے روم سے باہر نکالے گا ۔۔۔حرعین سے کہاں برداشت تھا کہ اس کا شوہر کسی اور کہ کمرے میں رہے ۔۔۔ سوچ سوچ کہ ہی اس کا برا حال تھا ۔۔۔

اسی لیے اس نے جودھا اور اکبر کو دور کرنے کے لیے یہ ترکیب آزمائی ۔۔۔۔

اکبر نے ریموٹ سے ایل ۔ای۔ڈی ۔آف کی ۔

اور تکیہ درست کیے ٹھیک سے لیٹ گیا ۔۔۔۔

“سو جاؤ لڑکی رات بہت ہوگئی ہے اور ہاں لائٹ آف کردو “

“اک بات کہوں گر اجازت ہے “

وہ ہلکی سی آواز میں بولی ۔

“ہممممم……اکبر نے کہا ۔

“آپ مجھے میرے نام سے کیوں نہیں بلاتے ؟”

“حرعین کو تو آپ اس کے نام سے بلاتے ہیں ۔۔”

“کیونکہ مجھے وہ نام پسند نہیں۔۔ہمارے مذہب کا نہیں “

“جب تم نے اسلام قبول کر ہی لیا تھا تو نام بھی بدل لیتی “

“کبھی کسی نے اس طرف توجہ دلائی ہی نہیں “

“تو آپ مجھے مجھے اپنی پسند کا نام دے دیں ۔۔۔۔

“تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں کہ تمہارے والدین کا دیا نام تم سے ِچھن جائے گا ۔۔۔۔

“جب اپنے گھر والوں کا دیا مذہب بدل سکتی ہوں تو نام کیوں نہیں ؟

“آپ بتائیں کیا نام ہو ؟

“ہمممم۔۔۔۔وہ چند لمحے سوچنے لگا ۔۔۔

پھر ایک نظر اس کے سراپے پہ ڈالی ۔۔۔

بیضوی سرخ وسفید پرکشش چہرہ بڑی بڑی گرے آنکھیں ،ستواں ناک جس میں پڑی ہوئی نتھلی اسے مزید دلکش بنا رہی تھی باریک سے گلابوں کی پنکھڑیوں جیسے لب ،متناسب سراپا ۔۔۔مگر سادہ سی ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیض میں ملبوس تھی جس کا رنگ اب ماند ہو چکا تھا ۔۔۔۔اور اسے سائز میں کافی کُھلی لگ رہی تھی ۔۔۔سر پہ اچھے سے دوپٹہ جمائے ہوئے تھی۔۔۔۔

“میں نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا اس نے کیا پہنا ہوا ہے ۔۔۔اب یہ میری ذمہ داری ہے مجھے اس کی ضرورت کی اشیاء کا خیال رکھنا چاہیے تھا ۔۔۔اس نے دل میں سوچا ۔۔۔۔

“تمہارے پاس کپڑے نہیں ہیں اور “

وہ جو سوچ رہی تھی کہ وہ اس کا نام بتانے والا ہے اس سے کپڑوں کا سن کر ایک دم چپ کی چپ ہی رہ گئی ۔۔۔

پھر سر جھکائے ہوئے ہی بولی ۔۔۔

وہ دادی جان کے کپڑے ہیں کچھ میرے پاس وہی پہنتی ہوں ۔

“تمہارا نام آن فاطمہ کیسا رہے گا ؟”

اس نے جودھا کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔

“بہت پیارا ہے “اس نے پھر سے اکبر کی بات بدلنے پہ چونک کر دیکھا اور اس کے سوال کی بابت پہ جواب دیا ۔

“فاطمہ ہمارے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی بیٹی تھیں جو جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

تم اس نام کا مان رکھنا ۔۔۔۔

“جی ضرور”

ابھی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ فون بیل نے اکبر کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔

“جی سر “

وہ چھوٹتے ہی بولا ۔

“چھوٹو گینگ کو لے کہ پولیس بہت پریشان ہے شاید ہمیں اس معاملے میں ان کی مدد کرنی پڑے جب بھی اس سلسلے میں کوئی بات ہوگی تم بھی اس مشن میں ہمارے ساتھ جاؤ گے ۔۔۔

“یس سر “

“میں آج ہی ساری ڈیٹیلز پتہ کرتا ہوں اس بارے میں تاکہ بعد میں کوئی پریشانی نا ہو ۔

اس نے فون رکھا اور خود بستر سے نکل کر باہر نکلنے لگا ۔۔۔۔

“تم سو جاؤ مجھے کچھ کام ہے میں بعد میں آ جاؤں گا آن فاطمہ”وہ کہہ کر رکا نہیں باہر نکل گیا۔۔۔

“آن فاطمہ “وہ اس کے دئیے ہوئے نام کو بار بار دہرانے لگی ۔۔۔۔۔۔

اور بستر پہ بیٹھی گھٹنوں پہ سر رکھے اسی کے بارے میں سوچتے ہوئے نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔۔۔۔۔

کچا جمال اور کچا مورو کے علاقے میں جس جزیرے پر ڈاکوؤں کا گروہ موجود ہے وہ سن 2010 کے سیلاب کے بعد دریائے سندھ میں ابھرا۔ اس کی لمبائی دس کلومیٹر اور چوڑائی تین کلومیٹر ہے۔ اسے چھوٹو گینگ کی مناسبت سے چھوٹو جزیرہ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ علاقہ ویسے تو ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان کا حصہ ہے تاہم یہاں سے رحیم یار خان کی سرحد بہت قریب ہے۔

یہ ڈاکوؤں کا ایک گروہ ہے جو دریائے سندھ کے ایک طرف جنوبی پنجاب کے ایک دورافتادہ علاقے میں موجود ہے۔

یہ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان اور ساتھ واقع صوبہ سندھ کے ڈیڑھ سو کلومیٹر تک کے کچے کے علاقے کے درمیان موجود درجنوں گروہوں میں سے ایک سرکردہ گروہ ہے۔

اس گروہ کے سرغنہ غلام رسول عرف چھوٹو ہیں جو اس خطے میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے سرگرم ہیںاندازے کے مطابق تین سو سے زائد ہے جن کا ذریعۂ معاش اغوا برائے تاوان کی وارداتیں، بھتہ خوری اور ڈکیتیاں ہے۔

اب چھوٹو گینگ میں لنڈ سیکھانی ڈیرہ غازی خان کے خالد اور اسحاق گینگ اور مظفر گڑھ کا جاکھا گینگ بھی شامل ہو چکے ہیں۔

یہ ڈاکو انتہائی تربیت یافتہ ہیں اور پولیس مقابلوں میں شدید مزاحمت کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

پیدا ہو جاتا ہے۔

اسی وجہ سے سنہ 2005 میں چھوٹو گینگ نے خود کو اس وقت کافی دباؤ میں پایا تھا جب انھوں نے قریبی انڈس ہائی وے سے 12 چینی انجینیئروں کو اغوا کیا بعد میں انھوں نے ان انجینیئروں کو بغیر کسی تاوان کے رہا کر دیا

اس کے آفیسر نے اسے اس کیس کے بارے میں کچھ ڈیٹیلز فراہم کیں ۔۔۔۔

اکبر ان معلومات کو ذہن میں رکھے باقی سب کے ساتھ مل کر آگے کا لائحہ عمل ترتیب دینے لگا ۔۔۔۔

رات گئے گھر سے نکلا وہ دوپہر کو گھر واپس آیا ۔۔۔۔

“پانی “جودھا ٹرے میں گلاس سجائے اس کی طرف بڑھا رہی تھی ۔۔۔

وہ جو تھکاوٹ کے باعث صوفے کی پشت سے سر لگائے ہوئے تھا اسے دیکھ اٹھ کر بیٹھا ۔

“تیار ہو جاؤ اور حرعین سے بھی کہو ۔۔۔”

“جی “وہ نا سمجھی سے بولی ۔

“اف یار ایک بار کی کہی گئی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی تمہیں ؟

وہ جھنجھلا کر بولا ۔

“شاپنگ پہ جانا ہے تم اور حرعین دونوں تیار ہو جاؤ “

“مگر آپ تھکے ہوئے ہیں آرام کرلیں “

“جاؤ جتنا کہا ہے اتنا کرو “

“جی اچھا “

حرعین تیار ہو جائیں اکبر نے کہا ہے کہ شاپنگ پہ جانا ہے ۔وہ اس کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے بولی ۔

“تم بھی جاؤ گی “؟

“ہممممم ۔۔۔اکبر نے دونوں کو کہا ہے “

“ٹھیک ہے جاؤ “

اکبر باہر گاڑی میں بیٹھے ہوئے ان کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔

کہ دونوں سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دیں ۔

حرعین نے تیزی سے لپک کر فرنٹ سیٹ کا ڈور کھولے اندر بیٹھی ۔

اور آن فاطمہ پچھلی سیٹ پر۔

اکبر نے گاڑی سٹارٹ کی اور وہ کچھ ہی دیر میں شہر کے ایک بہترین شاپنگ مال میں تھے ۔۔۔۔۔

“تم دونوں نے جو بھی لینا ہے لے لو بل میں پے کردوں گا ۔۔۔

اور ہاں دیر مت لگانا زرا جلدی واپس آؤ میں یہیں انتظار کروں گا ۔۔۔۔وہ گراؤنڈ فلور پہ کافی شاپ کے پاس کھڑے ہوئے بولا ۔

وہ دونوں چلتی ہوئی اپنی من پسند شاپس میں چلی گئیں ۔۔۔۔۔

وہ مال موجود کیفے میں کافی سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ سامنے بوتیک پہ ڈمی پر لگے ہوئے ایک خوبصورت ڈریس پہ اس کی نظر پڑی ۔۔۔۔

اس کی نظروں میں ستائش ابھری ۔

یہ پہلی بار تھا کہ اسے کسی چیز میں دلچسپی محسوس ہوئی ۔۔۔۔

وہ کافی ختم کیے اس شاپ میں گیا اور اسے قریب سے دیکھا وہ ایک بلیک لانگ فراک تھا میکسی سٹائل میں جس کے گلے اور دامن پہ باریک نفیس موتی ڈائمنڈ کی طرح جگمگا رہے تھے ۔

دوپٹے کے کناروں پہ بھی باریکی سے دیدہ زیب کام کیا گیا تھا ۔

“اسے پیک کر دیں “

“جی سر “

“آپ کے پاس سیم یہی ڈریس کا ایک اور پیس ہوگا “؟

“شیور سر “

اوکے تو پھر یہ دونوں ہی پیک کردیں “

اکبر نے دونوں ڈریس پیک کیے ۔۔۔اور واپس اپنی جگہ پہ آکر بیٹھے ان دونوں کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ دونوں چلی آئیں ہاتھوں میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگز لیے ۔۔۔

اکبر نے کاونٹر پہ سارا بل ادا کیا ۔۔۔۔

پھر وہ لوگ گھر آئے ۔۔۔۔

گاڑی سے نکلتے ہوئے اکبر نے دونوں کو ان کے سامان کے ساتھ ساتھ ایک ایک اور بیگ تھمایا تو وہ دونوں اسے چونک کر دیکھنے لگیں ۔۔۔۔

“یہ تم دونوں کو میری طرف سے شادی کا تحفہ “

وہ کہہ کر اندر بڑھ گیا ۔۔۔

جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے منہ دیکھنے لگیں پھر دونوں ہی سر جھٹک کر اس کے پیچھے اندر گئیں ۔۔۔۔

اکبر لاونج میں موجود سب کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو گیا ۔۔۔۔

عیسی اور موسی دونوں بھی آفس سے لوٹے وہاں موجود تھے ۔۔۔۔جبکہ انیقہ اور جنت چائے کا اہتمام کیے سب کو شام کی چائے پیش کر رہی تھیں ۔

وہ دونوں اپنے اپنے روم میں چلی گئیں ۔

“آج کچھ سپیشل کیا جائے اکبر کے لیے اس نے چٹکی بجا کر آئیڈیا سوچا ۔۔۔۔

اور کچن میں جا کر جانے کیا بنانے لگی ۔۔۔۔۔

مجھے کچھ کام کرنا ہے پلیز کوئی ڈسٹرب نا کرے اکبر اپنا لیپ ٹاپ لیے چھت پہ چلا گیا ۔۔۔۔

اور وہاں موجود جھولے پہ بیٹھا کچھ سرچ کرنے لگا ۔۔۔۔۔

کام کرتے ہوئے اسے رات کے تقریبا بارہ بج چکے تھے ۔

جب وہ واپس اپنے روم میں آیا ۔۔۔۔

اس نے ہینڈل گھمایا اور دروازے کو آہستگی سے کھولا کہ کہیں حرعین کی نیند خراب نا ہو جائے ۔۔۔۔

مگر اپنے کمرے میں قدم رکھا تو حیران رہ گیا ۔۔۔کمرے کی حالت مکمل طور پر بدل چکی تھی ۔۔۔

حرعین نے اپنے مطابق کمرے کی سیٹنگ چینج کی ہوئی تھی اور کمرے میں جابجا جدید قسم کی ڈیکوریٹڈ کینڈلز لگائی ہوئیں تھیں ۔کمرے میں پھیلی کینڈلز کی مدھم سی روشنی نے ماحول کو رومان پرور بنا رکھا تھا ۔۔۔

وہ خود شیشے کے سامنے کھڑی اپنے شانوں تک آتے بالوں کو برش سے سلجھا رہی تھی ۔۔۔۔

اکبر نے اسے دیکھا آج وہ اسی کے دئیے بلیک ڈریس میں ملبوس تھی ۔۔۔۔

لائٹ سا میک اپ کیے ہوئے بہت کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔۔۔

اکبر نے اس نازک اندام پہ نظر ڈالی جو سہج سہج کر ہیلز میں مقید پاؤں کے ساتھ قدم اٹھاتے ہوئے اس کے پاس آ رہی تھی ۔

“آئیں دیکھیں آج میں نے آپ کے لیے کھانے میں کیا بنایا ہے “

وہ پہلی بار حق سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے صوفے کی طرف آئی ۔۔۔

اکبر نے دوسرے ہاتھ میں موجود لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور اس کے ساتھ بیٹھا ۔۔۔۔

حرعین نے ٹیبل پر کھانے کی ڈشز رکھ کر اس کے گرد پھولوں کی پتیوں سے سجاوٹ کی تھی اور یہاں بھی کینڈلز لگائیں تھیں ۔

وہ سب ڈشز پر سے لِڈ اٹھا کر ایک طرف رکھنے لگی ۔۔۔۔

بریانی ،نرگسی کوفتے،شامی کباب ،مٹن کڑاہی ،روٹی رائتہ سلاد سوفٹ ڈرنک ۔۔۔

“رات کے اس وقت اتنا ہیوی کھانا نہیں کھا سکتا میں پلیز ۔۔۔۔”وہ تو اتنا سب دیکھ کر ہی اپنے آپ کو ان ِفٹ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔

“اچھا چلیں ٹھیک ہے میرے ہاتھ سے تھوڑا سا کھا لیں ۔۔۔حرعین نے تھوڑی سی بریانی ایک پلیٹ میں نکالی اور چمچ بھر کر اس کے منہ کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔

اکبر نے اس لڑکی کی طرف دیکھا جو ہمیشہ سے ہی اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈھتی تھی مگر وہ اسے ان دیکھا کر دیتا تھا ۔۔۔۔

پہلے وہ اس کے لیے نا محرم تھی شاید اسی لیے اسے بڑھاوا نہیں دیتا تھا ۔۔۔

مگر آج وہ اس کی نصف بہتر کے روپ میں پورے قد سے اس کے سامنے براجمان تھی ۔۔۔وہ کیسے اس کی اشتیاق بھری نگاہوں سے رنگ چھین لیتا ۔۔۔۔

کیسے اسے اب اس کے حق سے محروم کیے دیتا ۔۔۔آخر کب تک ؟؟؟

کب تک وہ اس کی توجہ کی طلبگار رہے گی ۔۔۔۔

اس کے جزبات کو سوچ کر اکبر کا دل پسیجا ۔۔۔۔

اس نے حرعین کی بڑھائی ہوئی بائٹ منہ میں ڈالی ۔۔۔

پھر دوسرے چمچ سے وہ حرعین کو کھلانے لگا ۔۔۔۔

اکبر کی پہلی بار پیش قدمی پہ اس کا دل خوشی سے جھوم اٹھا ۔۔۔۔

خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا پھر حرعین نے سارا کھانا سمیٹ کر روم فریج میں ہی رکھ دیا ۔۔۔۔

“پہلے مجھے بتا دو لینے دو کہ اس ڈریس میں تم کیسی لگ رہی تھی ۔۔۔۔

وہ اپنا نائٹ ڈریس لیے چینج کرنے ڈریسنگ روم میں جانے لگی تو اکبر کی آواز پہ رکی ۔۔۔

اکبر اس کے پاس آیا اور اسے گود میں اٹھا کر بستر پہ لے کر آیا ۔۔۔۔

اس کی حددرجہ قربت پہ حرعین کا جسم ہولے ہولے لرزنے لگا ۔۔۔۔

روم کی لائٹ آف کیے وہ اس نازک اندام کو نازک طریقے سے خود میں سمیٹنے لگا ۔۔۔۔۔آج کی رات حرعین کی زندگی کی سب سے خوبصورت ترین رات تھی جب اس نے اپنے عشق کو پا لیا تھا ۔۔۔۔

دوسری طرف آن نے ساری رات آنکھوں میں کاٹی ۔۔۔۔

جانے کیوں اسے ساری رات نیند ہی نہیں آئی ۔۔۔۔۔

فجر کی نماز اداکی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی بجائے وہ سجدے میں گر گئی ۔۔۔۔

جائے نماز پر گڑگڑا کر رونے لگی ۔۔۔۔

جائے نماز اس کے اشکوں سے تر ہونے لگی ۔۔۔۔

سانس گلے میں سے اٹک اٹک کر نکلنے لگا ۔۔۔۔آواز بھی بھاری ہوگئی ۔۔۔سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

اس نے اٹھ کر دوپٹے سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔۔۔اب آنکھوں کے کنارے جلنے لگے ۔۔۔۔دادی جان کہتی ہیں کہ نماز پڑھنے سے دعا مانگنے سے سکون ملتا ہے مگر مجھے کیوں نہیں مل رہا ؟

وہ قرآن پاک کھولے اسے ریل پر رکھے اس کی تلاوت کرنے لگی ۔۔۔

مگر دل بار بار رکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔

پھر سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔

“اللّٰہ تعالیٰ میرا دل کیوں بدل گیا ہے ؟؟؟

جس لمحے سے مذہب بدلا میرا دل بدل گیا ۔

دادی سچ کہتی ہیں ایک سچا مسلمان کبھی کسی کے لیے دل میں نفرت نہیں رکھتا ۔اسے صبر کی تلقین کی گئی ہے۔

“میرا دل بھی اسی وقت بدل گیا تھا ۔۔۔میں سچے خلوص سے اس دین میں آئی ہوں ۔بے شک میرا پاکستان آنے کا ارادہ نیک نہیں تھا میں اس خاندان سے بدلہ لینے کے لیے آئی تھی جنہوں نے ہمارے ہنستے بنستے خاندان کو بکھیر دیا ۔۔۔۔

میں بھی ویسے ہی انہیں بکھیر دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔

“مگر کیا کروں اس دل نے بغاوت کردی ۔۔۔۔

میں نے اکبر سے متاثر ہو کہ دین اسلام قبول کیا ۔۔۔مگر جب سے اس دین کو جانا مجھے اس کی حقیقت پہ یقین ہو گیا ۔۔۔یہی دین سچا ہے باقی سب باطل ۔۔۔۔۔

اللّٰہ تعالیٰ میں آپ کی دل سے شکر گزار ہوں آپ نے مجھے اس قابل سمجھا اور میرا شمار ہدایت کاروں میں سے کر دیا ۔۔۔۔

میں نے اپنے بھائی کا بدلہ لینے کا ارادہ اسی لمحے ترک کر دیا تھا جب میں نے کلمہ پڑھا تھا ۔۔۔۔

مجھے میرے صبر پہ قائم رکھنا ۔

وہ قرآن پاک مکمل پڑھ چکی تھی اب دوہرائی کر رہی تھی ساتھ ساتھ شبنم گیلانی سے تفسیر پڑھ رہی تھی اسی لیے وہ سب اچھے سے جاننے لگی تھی ۔۔۔

“میں پہلی بار آپ سے دعا مانگ رہی ہوں مجھے میرے شوہر کے دل میں تھوڑی سی جگہ دے دیں ۔۔۔۔

میں زیادہ نہیں مانگتی بس تھوڑا سا اسے میرا کردیں ۔۔۔۔

مجھے اس کا جسم نہیں چاہیے ،،اس کی روح کو میری روح سے جوڑ دیں ۔۔۔

دعا مانگتے ہوئے اس کی کنپٹیوں کی رگیں بری طرح پھپھڑانے لگیں ۔۔ایسے لگا رہا تھا دماغ پھٹ جائے گا ۔۔۔۔

وہ شبنم گیلانی کی دی گئی ایک چھوٹی سی سورت کو زبانی یاد کرنے لگی ۔۔۔

کیونکہ آج کا کام یہی تھا کہ اس نے وہ سورت یاد کر کہ شبنم گیلانی کو زبانی سنانا تھی ۔۔۔

صبح جب حرعین کی آنکھ کھلی تو اس نے ارد گرد نگاہ دوڑائی مگر کمرہ خالی تھا ۔۔۔اس کا مطلب اکبر جا چکا تھا ۔۔۔۔

کیونکہ اس کا یونیفارم جو ہینگ کیا گیا تھا وہ غائب تھا ۔۔۔۔

وہ اپنے بال سمیٹتے ہوئے لبوں پہ مسکان لیے بستر سے نیچے اتری اور دوسرے کپڑے لیے واش روم کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں تیار ہو کہ باہر آئی تو ٹی وی پر نیوز چل رہی تھی اب لاؤنج میں ہی تھے اور نیوز سن رہے تھے وہ بھی سب کے ساتھ مل کر بیٹھ گئی اور نیوز سننے لگی ۔۔۔۔

چھوٹو گینگ کے پاس جدید اسلحہ بڑی مقدار میں موجود ہے جس میں طیارہ شکن توپین بھی شامل ہیں۔ ماضی میں یہ گروپ راکٹ لانچر، جی تھریز، لائٹ مشین گن، سب مشین گن، دستی بم اور ٹینک شکن باروری سرنگیں بھی استعمال کرتا رہا ہے

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں جرائم پیشہ گروہ چھوٹو گینگ کے خلاف فوج، پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن جاری ہے

مذکورہ گینگ کا اہم گینگسٹر ضلع راجن پور میں اپریل میں آرمی کی سربراہی میں ہونے والے ضرب آہن آپریشن کے دوران گرفتار ہوگیا جس کے نتیجے میں سرغنہ غلام رسول چھوٹو سمیت دیگر اراکین نے بھی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔۔۔۔۔

اکبر بھی اسی لیے گیا تھا ….موسی نے سب کو بتایا ۔۔۔۔

سب کے چہرے خوشی سے تمتمانے لگے اپنے ملک کے بیٹے کی کارکردگی پر ۔۔۔

چار دن گزر چکے تھے اسے گھر سے گئے ہوئے مگر ابھی تک وہ لوٹ کر نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

اس کی آنکھیں اب تھکنے لگیں تھیں اس کا انتظار کرتے کرتے ۔۔۔۔

اکبر نے کال کر کہ گھر اطلاع کر دی تھی کہ اسی کیس کے سلسلے میں اسے کچھ دن لگ جائیں گے اسی لیے سب گھر والے مطمئن تھے ۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں کھڑکی کھولے تاروں بھرے آسمان کو تکتے ہوئے اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔

“آپ نہیں جانتے میں نے آپ کے لیے خود کو کتنا بدل لیا “

جس طرح یہ چاند اس دھرتی سے دور ہے اسی طرح آپ بھی میری پہنچ سے بہت دور ۔۔۔

وہ کھڑکی کو یونہی کھلا چھوڑے ہوئے اپنے بستر پہ آکر لیٹی اور وہیں لیٹے ہوئے کھڑکی سے نظر آتے ہوئے چاند کو دیکھنے لگی ۔۔۔

چاند کی چمکتی ہوئی چاندنی میں بھی اسے اکبر کا ہر وقت سپاٹ سا رہنے والا چہرہ دکھائی دینے لگا ۔۔۔

اسی کے چہرے کو خیال میں دیکھتے ہوئے وہ جانے کس وقت سو گئی اسے خود بھی خبر نہیں ہوئی ۔۔۔۔

تہجد کی اذان پہ اس کی جاگ کھلی ۔۔۔

“تہجد کے وقت مانگی گئی دعائیں ضرور مستعجاب ہوتی ہیں “شبنم گیلانی کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجتے۔۔۔۔۔

وہ بلا ناغہ نماز تہجد ادا کرتی ۔۔۔۔

ابھی وہ بستر سے نکلنے ہی لگی تھی کہ اپنے پاس کچھ محسوس ہوا ۔۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کرسائیڈ لیمپ روشن کیا ۔۔۔۔

اکبر کا چہرہ سامنے تھا ۔۔۔۔آنکھیں بند کیے وہ پوری طرح اس کے دل پر قابض ہوا ۔۔۔۔

“اف اب میں کھلی آنکھوں سے بھی خواب دیکھنے لگی “وہ ہلکی سی چپت اپنے سر پہ مار کر بولی ۔۔۔۔

مگر نظریں ابھی بھی اکبر کے وجیہہ چہرے پر ٹکیں تھیں ۔۔۔

آن نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال کو چھوا جہاں ہلکی سی بئیرڈ تھی ۔۔۔

اسے سچ میں اس کی بئیرڈ چھبھی ۔۔۔

“آپ سچ میں ہیں ؟وہ آنکھوں میں تحیر لیے اسے پوچھ رہی تھی ۔۔۔

ہمممم۔۔۔۔۔۔اکبر نے یکایک آنکھیں کھول کر کہا ۔

وہ بدک کر پیچھے ہٹی۔۔۔۔