Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 14)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
وہ بیڈ پر اوندھے منہ تکیہ سر پہ رکھے گہری نیند میں سورہا تھا۔۔۔۔۔ خوبصورت سلکی بال بے ترتیبی سے اس کے ماتھے پر پڑے تھے جو اس کی وجاہت میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔۔۔
اچانک کمرے میں موبائل کی آواز گونجی تھی اس کے مغرور نقوش پر اک تناؤ آیا تھوڑی دیر تو وہ اگنور کرتا رہا مگر شاید دوسری طرف بھی کوئی ڈھیٹ تھا اس نے تنگ آکر ادھر اُدھر ہاتھ مار کر فون ڈھونڈا اور کان سے لگایا آنکھیں کھلیں تو بالکل اکبر گیلانی کی طرح بھوری کانچ سی آنکھیں جن میں اس وقت نیند کے خمار سے سرخ ڈورے نمایاں تھے ۔۔۔
“ہیلو علی اکبر گیلانی سپیکنگ!!!! “خمارآلود نیند سے بھری آواز میں اگلے بندے کا دل دھڑکاگیا تھا….
“ہیلو اے _اے تم اب تک سورہے ہو”شاکنگ لہجے میں پوچھا گیا ۔۔۔
“آج یونی نہیں آؤ گے کیا ؟؟؟؟
“کیوں میرے بغیر کیا یونی کو تالے لگ جاتے ہیں ؟اس نے انتہائی روڈ لہجے میں جواب دیا ۔۔۔۔مقابل موجود نمرہ صبح صبح اپنی بے عزتی پہ دانت پیس کر رہ گئی ۔۔۔۔۔
“اے_اے (علی اکبر)تم نے شاید مجھے پہچانا نہیں میں ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اپنا مکمل تعارف پھر سے دیتی ۔
“فون بند کرو ورنہ قسم سے واقعی خود کو پہچاننے کے قابل نہیں رہو گی ۔۔۔
“مگر میری “وہ واقعی کوئی ڈھیٹ ثابت ہوئی تھی جو اتنی بعزتی پہ بھی بات کرنے کیلیے مری جا رہی تھی ۔
“یار کیا ہے ساری نیند برباد کر کہ رکھ دی ۔۔۔۔”اس نے غصے میں تکیہ اٹھا کر زمین پہ دے مارا ۔۔۔۔
جو اندر آتی ہوئی حرعین کے پاؤں میں گرا ۔۔۔۔
“کیا ہوا ؟ میرے پرنس کو صبح صبح کس نے اتنا غصہ دلا دیا ۔۔۔۔؟
وہ پیار بھرے انداز میں پوچھ رہی تھیں ۔۔۔۔
“کیا یار مام آپ مجھے تھوڑا کم گُڈ لُکنگ پیدا نہیں کر سکتی تھیں ۔۔۔دنیا جہان کی لڑکیاں مجھے دیکھتے ہی میگنٹ (مقناطیس)کی طرح میری طرف کھنچی چلی آتیں ہیں ۔
آئی سوئیر مما میں انہیں دیکھتا بھی نہیں پھر بھی ۔۔۔۔
“واہ میرا بیٹا تو بڑا معصوم ہے “وہ اسی کے شرارتی انداز میں جواب دے رہی تھی ۔
“علی کتنی بار کہا ہے شرٹ پہن کہ رکھا کرو نظر لگ جاتی ہے “حرعین نے اسے گُھرکا ۔
“کیا مام میں نے کتنی محنت کی ہے ایسی باڈی شیپڈ بنانے میں اور آپ کہہ رہی ہیں میں لڑکیوں کی طرح اسے چھپا لوں ۔۔۔۔۔وہ لہجے میں حیرت سموئے بولا ۔۔۔۔
“تم تو پرانی موویز کے سلیمان خان ہو جو بات بنا بات پہ شرٹ اتار لیتا تھا ۔۔۔
“لڑکیاں مرتیں ہیں میری باڈی اور ہائیٹ پر ۔۔۔۔وہ تفاخر سے ڈریسر کے سامنے کھڑا اپنی باڈی کو دیکھتے ہوئے اپنے سلکی بالوں میں انگلیاں پھیر کر بولا ۔۔۔۔
چھ فٹ کو چھوتا ہوا قد اور کسرتی جسم۔۔مردانہ وجاہت سے بھرپور علی اکبر گیلانی کسی کے بھی دل کا سکون برباد کر دینے کی خوبیوں سے مالا مال تھا ۔۔۔۔
“آج اگر گھر ہو تو آکر سب کے ساتھ ناشتہ کر لو ورنہ یا تو یونی یا پھر پتہ نہیں تمہارے اور تمہارے بابا کے ایسے کونسے سے سیکرٹ کام ہیں جن کی وجہ سے تم دونوں اکثر راتوں کو گھر سے باہر رہتے ہو ۔۔۔۔
“وہ تو آپ کو بابا ہی بتا سکتے ہیں “
وہ واش روم کی طرف بڑھتے ہوئے بولا ۔
“تم اور تمہارے بابا دونوں ہی بڑے میسنے ہو مجال جو منہ سے کچھ پھوٹ جاؤ ۔۔۔ہمیشہ مجھے ایسے ہی چکر دیتے ہو “وہ خفگی بھرے انداز میں بولی ۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا اندر چلا گیا ۔۔۔۔
حرعین کو آج بھی وہ دن یاد تھا جب علی اکبر کی پہلی سالگرہ تھی ۔۔۔۔
“حرعین ابھی تک علی کو تیار نہیں کیا ؟”انیقہ گیلانی نے اس سے پوچھا ۔
“نہیں مما ابھی نہیں بس کرنے لگی ہوں ۔۔۔
علی پورے بیڈ پہ گھوم رہا تھا ۔۔۔اب وہ تھوڑا تھوڑا چیزوں کو پکڑ کر چلنے لگا تھا ۔۔۔۔
مما بس تھوڑی دیر میں آئی ۔۔۔
“اچھا زرا جلدی کرنا سب مہمان آچکے ہیں ۔”
“جی بس ابھی آئی ۔۔۔
“حرعین میرے کپڑے نکال دئیے ؟ اکبر نے روم میں آتے ہی عجلت میں پوچھا ۔
“اوہ سوری اکبر مجھے وقت ہی نہیں ملا ۔۔۔آپ کے بیٹے نے مجھے تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے ۔۔۔۔
“اچھا ٹھیک ہے میں خود ہی نکال لیتا ہوں “
کچھ ہی دیر میں وہ شاور لیے فریش ہو کر باہر آیا تو وہ تینوں ایک ساتھ تیار ہوکر باہر نکلے اور سیڑھیاں اتر کر نیچے آئے ۔۔۔
سارے گھر کو بلیو اور وائٹ بلونز اور ربنز سے ڈیکوریٹ کیا گیا تھا ۔
اکبر اور حرعین نے علی کا ہاتھ پکڑ کر اس کی پہلی سالگرہ کا کیک کٹ کیا تو آرزو نے پارٹی پاپرز پھاڑے ۔۔۔۔
خوب ہلہ گلہ کیا گیا ۔۔۔
شبنم گیلانی نے علی کے گلے میں سونے کی چین ڈالی تو عیسی گیلانی اور موسی گیلانی نے اسے قیمتی تحائف دئیے ۔۔۔
جنت گیلانی اور انیقہ نے بھی تحفے دئیے ۔۔۔پھر سب مہمانوں کو کیک کے ساتھ ساتھ دیگر ریفریشمنٹ پیش کی گئی ۔۔۔۔آج کا دن بہت یادگار تھا ۔۔۔۔
سب اپنی اپنی خوشیوں میں مگن تھے ۔۔۔۔۔
“اکبر صبح دارالامان جا کر غریبوں میں بھی کچھ تحائف تقسیم کر آئیں گے “
“جی ٹھیک ہے دادی جان”میرے پاس کل کا دن ہی ہے پھر پرسوں مجھے وزیرستان کے لیے نکلنا ہے وہاں میری ڈیوٹی لگی ہے “
اچھا ٹھیک ہے
برتھ ڈے پارٹی سے فراغت ملتے ہی سب اپنے اپنے روم میں سونے کے لیے چلے گئے ۔۔۔۔
“علی سو بھی گیا ؟اکبر نے روم میں آتے اسے سوتے ہوئے دیکھا تو پوچھا ۔
“جی تھک گیا ہوگا شاید یہ بھی “
حرعین نے کانوں سے آویزے نکال کر ایک طرف رکھے اور بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنائے اس کے پاس آکر بیٹھی ۔۔۔۔
“آپ سے ایک بات پوچھوں “؟
“ہمممم پوچھو “
“آپ کو اس کی یاد آتی ہے ؟”
“سچ کہوں یا جھوٹ “؟
“اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ یہ کہیں گے کہ آپ کو اس کی یاد آتی ہے تو یہ سن کر مجھے برا لگے گا تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے “
“وہ ایسی ہی تھی جسے سب یاد رکھیں ۔۔۔مجھے بھی وہ یاد آتی ہے “
“اکبر اگر کبھی آپ کو اس میں سے اور مجھ میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو آپ کسے چنیں گے ؟”
“حرعین تم مجھ میں میری جان کہ طرح ہو ۔۔۔
“اور آن مجھ میں دل بن کر دھڑکتی ہے ۔۔۔
“اگر جسم سے جان نکل جائے تو وہ بے جان ہوجاتا ہے ۔
اسی طرح دل کی دھڑکن رک جائے تب بھی وہ بے جان ہو جاتا ہے ۔
تم دونوں اسی طرح میرے لیے لازم و ملزوم ہو ۔۔۔”
“تم دونوں کی میری زندگی میں برابر جگہ ہے “
اگر عزت کی بات جائے تو میں نے ہمیشہ تمہیں اور تمہارے پیار کی عزت کی ہے ۔ایک عورت کے لیے سب سے بڑا اور قیمتی تحفہ عزت کے علاؤہ کچھ نہیں ۔۔۔اور میں نے وہ تحفہ تمہیں دیا ہے ایسا میرا ماننا ہے ۔
لیکن جہاں تک بات میرے پیار کی ہے تو …..وہ تھوڑی دیر رکا پھر بولا ۔۔۔۔
پیار انسان کو زندگی میں صرف ایک بار ہوتا ہے اور کسی ایک سے ہی ہوتا ہے ۔۔۔اگر انسان کہے کہ وہ ایک وقت میں دو لوگوں سے پیار کرتا ہے تو یہ سچ نہیں ۔۔۔۔
“تو کیا آپ فاطمہ سے پیار کرتے ہیں ؟
اس سے پہلے کہ وہ اس کے سوال کا جواب دیتا اس کے فون کی بیل نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا ۔۔۔۔
“ایکسکیوز می !وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
اس کے ہیڈ کوارٹر سے کال تھی اسے اگلے لائحہ عمل کے لیے ساری تفصیل سے آگاہ کر رہے تھے ۔۔۔
جب تک وہ واپس آیا حرعین سو چکی تھی ۔۔۔
اس نے لائٹ آف کی اور آکر حرعین کے ساتھ لیٹ گیا ۔۔۔اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھے پھر آہستگی سے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔
علی اکبر کی پہلی سالگرہ کے بعد شبنم گیلانی اور اکبر گیلانی دونوں دارالامان میں غریبوں میں تحائف تقسیم کرنے کے لئے گئے ۔۔۔۔
وہاں سب لوگوں کو شبنم گیلانی تحائف بانٹ رہی تھیں کہ اکبر ایک قدرے خاموش جگہ پہ گیا کال سننے کے لیے تو اس کی نظر چادر میں لپٹے ہوئے وجود پہ پڑی ۔۔۔۔اسے اس ہستی پہ آن فاطمہ ہونے کا ُشبہ گزرا اس نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس کے قریب گیا مگر شاید وہ اس کی آہٹ پہچان چکی تھی اسی لیے اس نے وہاں سے دوڑ لگا دی ۔۔۔۔
وہ فی الوقت تو خاموشی سے وہاں سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔بنا کسی ٹھوس ثبوت کے اسے کسی انجان کے بارے میں پوچھنا وہاں کسی سے مناسب نہیں لگا ۔۔۔۔
مگر اس کی سکس سینس اسے بار بار ایسا کرنے پہ اکسا رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے شبنم گیلانی کو گھر چھوڑا اور واپس وہاں آیا اور دفتر سے اس کے بارے میں معلومات لیں تو اس کا شک یقین میں بدل گیا۔۔۔۔۔
جب انہوں نے اس کے آن فاطمہ ہونے پہ مہر لگا دی ۔۔۔۔۔
وہ اپنا نکاح نامہ انہیں دکھائے وہاں سے واپس لے کر آ رہا تھا ۔۔۔
آن فاطمہ نے پہلے تو اسے سامنے دیکھ بے رخی سے منہ موڑ لیا مگر نکاح نامہ دکھانے کے بعد وہاں کے معتبر افراد اسے وہاں رکھنے کے لیے قائل نہیں ہوئے ان کے مطابق اگر اس کا شریک حیات اسے وہاں سے لینے آیا ہے تو اسے چلے جانا چاہیے ۔۔۔
وہ مردہ قدموں سے آکر اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔۔
“سچ کہتے ہیں کوئی نہیں مرتا کسی کی جدائی میں “
“تو تم کونسا مر گئی ؟؟؟
“میری سانسیں تو اس لیے چل رہی ہیں کیونکہ آپ کی چل رہی ہیں۔
“اچھا چلو کھانا کھاؤ چھوڑو یہ سب میں نے بھی صبح سے کچھ نہیں کھایا تمہیں ڈھونڈھنے کے چکروں میں “
اکبر نے برگر کو پیکنگ میں سے نکال کر اس کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔
“,اگر نا کھاوں تو ؟”
“چپ کر کہ کھالو ورنہ !!!
“ورنہ کیا ؟؟؟
“اپنا یہ جھوٹا ڈرامہ یہ فکر اپنی دوسری بیوی کے لیے سنبھال کر رکھیں ۔۔۔مجھ پہ ان کا کوئی اثر نہیں ہونے والا ۔۔۔۔
“میری یہ فکر جھوٹی لگ رہی ہے ؟؟؟
“اگر میں کہوں کہ میری ہر فکر بس تمہارے لیے ہے تو ؟؟؟؟
“تو پھر میں کہوں گی کہ آپ سے بڑا جھوٹھا انسان اس دنیا میں اور کوئی نہیں “
اکبر نے اس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر اسے اپنے قریب کرنا چاہا ۔۔۔
“چھوڑیں مجھے ۔۔۔ہاتھ بھی مت لگائیں ۔۔۔۔
زرا مجھے بھی دکھاؤ وہ ڈکشنری جو نئی ایجاد ہوئی اور بس تم نے ہی پڑھی ہے جس میں لکھا ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے دور رہے ۔۔۔۔۔
“اس ڈکشنری کا صفحہ اسی دن پھٹ گیا تھا جس دن آپ نے میرا مان توڑا تھا ۔۔۔۔۔
اچھا ہم ملیں ہیں اس خوشی میں میٹھا تو بنتا ہے ۔۔۔
یہ کیا ہے ؟یہ تو مٹی کی پلیٹ میں کھیر ہے ۔۔۔۔
“ہاں اس مٹی کی پلیٹ میں کھیر انگلی سے کھانے میں بہت مزہ آتا ہے ۔
آؤ میں تمہیں بتاؤں کیسا ذائقہ ہوتا ہے ۔ایسے کھانے میں ۔۔۔
اکبر نے انگلی میں کھیر لگا کر آن کے منہ میں ڈالنی چاہی۔۔۔۔
“نہیں کھانی مجھے ۔۔۔۔وہ بھی آپ کے ہاتھ سے ۔۔۔۔
“تو پھر اپنے طریقے سے منہ میٹھا کرواؤں ۔۔وہںذو معنی انداز میں بولا ۔۔۔
“آپ نے حرعین کو بتایا تو نہیں کہ وہ اس کا بیٹا نہیں “وہ اس کی بات نظر انداز کیے اپنی بولی ۔۔۔۔
“نہیں کسی نے اسے کچھ نہیں بتایا ۔۔۔۔
“اسے کبھی بھی کوئی نہیں بتائے پلیز میں اس سے یہ خوشی چھین نہیں سکتی ۔۔۔۔
“آپ اس کے پاس واپس چلے جائیں اکبر میں آپ کی یادوں کے سہارے باقی زندگی کاٹ لوں گی ۔۔۔۔
“جو میں نے آپ سے کی ہے آج میری پریت امر کر دو”
“تم خود پاگل ہو یا مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے ۔۔۔میں تم سے پیار کرتا ہوں تمہیں اپنے ساتھ لیے بنا کہیں نہیں جاؤں گا میں “
وہ گاڑی کے سٹئیرنگ پہ ہاتھ کی گرفت مضبوط کیے بولا۔۔۔
گاڑی ادھر سے ادھر ڈولنے لگی ۔۔۔۔۔
“میں مر جاؤں گی مگر کبھی واپس نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے اگر ایک ساتھ زندہ نہیں رہ سکے تو کیا ہوا ایک ساتھ مر تو سکتے ہیں ۔۔۔ایک ساتھ مر کر پریت امر ہو جائے گی ۔۔۔۔۔
اکبر نے گاڑی کا رخ تبدیل کیا۔۔۔۔
“اکبر آپ پاگل ہو گئے ہیں ؟؟؟
وہ ِچلا کر بولی اور اس کا بازو کھینچا ۔۔۔۔
“تو پھر چل رہی ہو واپس ؟؟؟
“چل رہی ہوں “بالآخر اس نے حامی بھر لی ۔۔۔۔ایک سال کی جو دوری اکبر نے کاٹی تھی اس کے خیال میں اب اسے اکبر کے صبر کا مزید امتحان نہیں لینا چاہیے تھا ۔۔۔۔
“مگر میری ایک شرط ہے “
“اب وہ کیا ہے ؟”
“آپ حرعین کو کبھی نہیں بتائیں گے کہ وہ بچہ میرا ہے ۔۔۔۔
“اور کچھ ؟
“اور آپ میرے ساتھ ایک دن رہیں گے اور اس کے ساتھ دو دن ۔۔۔
“بہت ہی فضول شرط ہے “اس نے گاڑی کا موڑ کاٹتے ہوئے کہا ۔۔۔
“نہیں منظور تو نکالیں مجھے گاڑی سے “وہ دھمکی آمیز انداز میں بولی۔
“تمہارا دم نکال دوں گا اپنے ہاتھوں سے اگر پھر سے جانے کی بات کی ۔۔۔۔
اس بار وہ اس کی گردن دبوچ کر دانت پیستے ہوئے غرایا ۔۔۔۔
آن فاطمہ کو اپنی گردن کی رگیں پھولتی ہوئی محسوس ہوئی اس کی سخت گرفت میں ۔۔۔۔اور سانسیں رکتی ہوئیں ۔۔۔۔
اس کا یہ جنونی انداز آج اس نے پہلی بار دیکھا تھا ۔۔۔۔
“آئندہ فضول بولنے سے پہلے سو بار سوچنا ۔۔۔وہ تنبیہی انداز میں بول کر اپنا ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا گیا ۔۔۔۔
آن فاطمہ گہری سانس لینے لگی ۔۔۔اور سانس ہموار کرنے لگی۔۔۔۔
“جتنا تمہارا بیٹا میرا ہے اتنا ہی حرعین کا بیٹا بھی میرا ہی تھا ۔۔۔۔
تم نے میرے غم کو نہیں سمجھا میں نے ان ہاتھوں سے اس ننھے فرشتے کو دفنایا تھا ۔۔۔۔میں اس کی موت کے غم میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔اسے دفنا کر آیا تھا غمگین تھا ۔۔۔خود کو ملامت کر رہا تھا کہ میں نے انجانے میں اپنے ہاتھوں سے اپنے نومولود بچے کی جان لے لی ۔۔۔
اور تم نے مجھے سمجھنے کی بجائے میرا غم بانٹنے کی بجائے مجھے اکیلا چھوڑ دیا ۔۔۔۔بتاو کس کس کا غم مناتا اکیلے میں ۔۔۔۔سب نے اپنا اپنا سوچا کسی نے یہ نہیں سوچا میرے دل پہ کیا گزرتی ہے ۔۔۔
میں کیا چاہتا ہوں ؟
میرا دل کیا چاہتا ہے ۔
ہر انسان نے مجھے اپنی مرضی سے چلانا چاہا ۔۔۔۔جیسے میں ہر انسان کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہوں ۔۔۔میں بھی انسان ہوں میرا بھی دل ہے ۔میری بھی پسند ہے ۔۔۔۔
حرعین نے مجھے پیار کیا ۔۔۔۔میں نے اس کے پیار کو عزت دی ۔۔۔۔
“اور تم !!!! تم چاہتی تو جب میں سچ پوچھا تھا مجھے بتا سکتی سب ۔۔۔
مگر نہیں تمہیں تو اپنے پیار کا امتحان لینا تھا کہ وہ تم پہ یقین رکھتا ہے یا نہیں ۔۔۔۔
لے لیا امتحان ؟؟؟؟
ہوگئی تسلی ؟؟؟؟
ہمیشہ جو تم دونوں نے چاہا میں نے وہی کیا ۔۔۔۔۔
“مگر اب سے جو میں کہوں گا تم دونوں وہی کرو گی ۔۔۔بہت ڈھیل دی تم دونوں کو اور بہت اٹھالیا ناجائزہ فائدہ تم دونوں نے میرا ۔۔۔اب سے وہی ہوگا جو میں کہوں گا “سمجھی تم “؟
“نہیں پیار مجھے تم دونوں میں سے کسی سے “
وہ تلخ لہجے میں دھاڑا ۔۔۔
“کیوں کیا کوئی تیسری ڈھونڈھ لی ہے ؟؟؟؟
“کہیں وہ پرکٹی کبوتری تانیہ تو نہیں ؟؟؟
آن فاطمہ نے گھمبیر ماحول میں چھائی ہوئی تلخی کو دور کرنے کے لیے شرارت بھرے انداز میں کہا ۔
“اگر یہ جوک تھا تو بہت ہی واہیات تھا “وہ سرد مہری سے بولا۔
آن اس کا بدلتا ہوا روپ دیکھ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔
اکبر آن فاطمہ کو گھر واپس لایا تو سب اس سے اچھے سے ملے ۔۔۔۔
جنت گیلانی شبنم گیلانی نے اسے خوب پیار کیا ۔۔۔انیقہ گیلانی جو اسے پہلے ناروا سلوک روا رکھے ہوئی رہتی تھی جب سے اس نے حرعین کو اپنا بیٹا سونپا تھا ۔۔۔انیقہ گیلانی کی نظروں میں اس کی قدر و منزلت بڑھ گئی تھی ۔۔اب انہوں نے بھی اسے نارمل انداز میں بلانا شروع کردیا تھا ۔۔۔
جبکہ حرعین بھی آن فاطمہ سے اچھے سے ملی اور اس سے اظہار افسوس کیا ۔۔۔اسے لگا تھا کہ اس حادثے میں آن فاطمہ کا بچہ اللّٰہ کو پیارا ہو گیا تھا اس لیے ۔۔۔۔۔
بس تب سے اکبر ہمہ وقت سنجیدہ رہنے لگا۔۔۔اور اپنے من کی کرتا ۔۔۔۔۔
بیس سال گزار دئیے ہیں ۔حرعین کے بچے علی اکبر اور قرت العین ہیں ۔جبکہ آن فاطمہ کے دو جڑواں بچے حیدر اور عائشہ ہیں ۔
آرزو کی ماں ثوبیہ فوت ہوچکی ہے اس لیے وہ بھی گیلانی ہاؤس میں رہتی ہے۔
