Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 30) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 30) Last Episode
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
“تم چینج کر لو “سلطان نے قرت العین کو کمرے میں آتے ہی سپاٹ انداز میں کہا۔
قرت العین نے اس بات پر گھور کر اسے دیکھا ۔
پھر گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔
“آپ نے آج میری تعریف بھی نہیں کی ،مجھے بتایا بھی نہیں کہ ریسپیشن پر میں کیسی لگ رہی تھی اور نا ہی مجھے پیار ۔۔۔۔اس نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔
اس کی بات پر سلطان نا محسوس انداز میں مسکرایا۔۔۔مگر اسکے دیکھنے سے پہلے مسکراتے ہوئے لب سمٹ گئے
“جاؤ جلدی چینج کر کہ آؤ ۔۔مجھے ائیر پورٹ پر چھوڑنے نہیں جاؤ گی “وہ عجلت میں کہتے ہوئے کبرڈ کے اوپر رکھا بیگ نیچے اتارتے ہوئے بولا ۔
“کیاکہا آپ نے ؟؟؟
“ادھر زرا میری طرف دیکھ کر بات کریں ۔اس کے سر پر بم پھوڑ کر خود کتنے مزے سے سامان بیگ میں ڈال رہا تھا۔
اس نے لڑاکا انداز میں کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا
“دیکھو قرت العین میں تمہیں پہلے سے ہی جانے کے بارے میں بتا چکا تھا ۔اب فضول ضد نا کرو اور خوشی خوشی مجھے الوداع کرو “
ورنہ وہاں جا کر خیال میں تمہارا یہی غصیلا خفگی بھرا چہرہ نظر آئے گا ۔
“پلیز قرت !!!وہ لجاجت سے بولا۔
وہ کبرڈ میں سے ایک سوٹ لیے پاوں پٹختی ہوئی واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
تھوڑی دیر میں واپس باہر آئی۔
منہ ہنوز پھولا ہوا تھا ۔
“جانے سے پہلے ملو گی نہیں “سلطان نے اپنی دونوں بازوں وا کیں ۔
“اس کی ضرورت نہیں آپ کو “وہ نروٹھے انداز میں کہتے ہوئے روم سے باہر نکلی تو سامنے ہی ابراہیم آفندی اور عابدہ آفندی کھڑے تھے ۔وہ بھی چینج کر چکے تھے۔
“ہوگئے ریڈی “؟
ابراہیم آفندی نے پوچھا۔
“جی ڈیڈ ” چلیں ؟؟؟
“ہاں بالکل “
وہ سب ائیر پورٹ کی طرف نکل گئے ۔۔۔۔
سامان اندر جا چکا تھا چیکنگ کے لیے ۔
“اوکے تو پھر اللّٰہ حافظ!
سلطان نے اپنے والدین کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
“اللّٰہ حافظ!سلطان اپنا اور قرت العین کا بہت بہت دھیان رکھنا۔
عابدہ آفندی نے قرت العین کو گلے لگاتے ہوئے کہا ۔
قرت العین نے حیرت زدہ نظروں سے سلطان کی طرف دیکھا ۔
جس کی بتیسی پوری باہر تھی ۔
“آپ مجھے تنگ کر رہے تھے ؟
وہ غصے میں آکر بولی ۔
“سلطان تم نے اسے بتایا نہیں ؟؟؟ابراہیم آفندی نے اس سے پوچھا ۔
سلطان نے نفی میں سر ہلایا۔
“سوری ڈیڈ آپ کی بہو ٹریجڈی کوئین بنی ہوئی تھی ۔اور مجھے اسے ستانے میں مزہ آ رہا تھا۔
سوچا سرپرائز دوں گا “وہ سر کھجا کر خفیف سا مسکرایا۔۔۔
“سلطان مت تنگ کیا کرو ہماری بہو کو ۔
عابدہ آفندی نے اسے پیار بھری ڈانٹ پلائی ۔
اوکے پھر ہم چلتے ہیں آپ بھی اپنا بہت سا خیال رکھیے گا ۔
ارمان کو میں اپنے جانے کا بتا چکا ہوں ۔سلطان نے کہا ۔
“ہممممم یہ بھی ٹھیک ہے۔”
اچھا اللّٰہ نگہبان !!!عابدہ آفندی نے دعائیہ انداز میں انہیں الوادع کیا۔
وہ دونوں جہاز میں سوار ہوئے۔۔۔۔
“بہت برے ہیں آپ “
“کیا یار تمہیں سرپرائز دینا تھا ۔سوچا آرام سے ہنی مون منائیں گے ۔
“ہم جا کہاں رہے ہیں “؟
“میں نے سوچا ہمارے پاکستان میں اتنی خوبصورتی چھپی ہے ۔لوگ بیرون ممالک سے یہاں آتے ہیں سیر کرنے تو ہم اپنے ملک کو چھوڑ کر دوسروں کے ملک کیوں جائیں ۔میں تمہیں اپنے ملک کی ان جگہوں پر لے کر جاؤں گا جہاں آج سے پہلے تم کبھی بھی نہیں گئی ہوگی ۔۔۔۔
“گھر چلیں “عابدہ آفندی نے ابراہیم آفندی سے کہا۔
“ہم بھی اپنے دونوں بیٹوں کی ذمے داری سے فارغ ہوگئے کیوں نا ہم بھی کہیں گھومنے چلیں۔
“یہ اس عمر میں آپ کو کیا شوق چرایا ؟وہ دھیمے سے مسکراتے ہوئے کہنے لگیں۔
” گھومنے پھرنے کی کوئی عمر تھوڑے ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔وہ دونوں ائیر پورٹ سے نکل کر اب وہاں کے قریبی پارک میں آہستہ آہستہ چل رہے تھے ۔
“آج تو تھک گئے “اب میرا خیال ہے گھر چل کر آرام کریں ۔رات بہت ہوگئی ہے ۔
“ارے گھر ارمان اور عائشہ ہیں ۔ان دونوں کو انجوائے کرنے دو کچھ وقت مجھے بھی دو ۔”بیٹھو نا کچھ دیر یہاں ۔ابراہیم آفندی اسے بینچ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے خود بھی بیٹھے ۔
“چلیں ٹھیک ہے ۔”کہتے ہی وہ بھی بیٹھ گئی۔
“دل چاہ رہا ہے ہم بھی کچھ وقت ساتھ گزاریں ۔عرصہ ہی ہوگیا ہے یوں ساتھ بیٹھے ۔”ابراہیم صاحب نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔
“جب بچے بڑے ہو جائیں تو کہاں وقت ملتا ہے۔
“ارے جب بچے چھوٹے تھے تب بھی آپ کہاں وقت دیتی تھیں ۔وہ پرانا شکوہ بھی یاد دلا گئے ۔۔۔۔
“آپ نے تو روم کو بدل کر رکھ دیا ۔کیسا چھوڑ کر گئی تھی اور آپ نے کیسا سجا دیا۔سچی بہت پیارا لگ رہا ہے ۔”عائشہ نے روم کو توصیفی انداز میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“روم کے علاؤہ بھی کوئی آپ کی توجہ کا منتظر ہے ۔۔۔
وہ مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا۔
وہ اچنبھے سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
“ار۔۔۔ما۔۔۔۔ن۔۔۔۔وہ ٹکڑوں میں اسکی بولتی ہوئی نگاہوں سے گھبرا کر بولی ۔۔۔
“میری سٹڈیز ۔۔۔۔مجھے ابھی پڑھنا ہے
“تو میں نے کب روکا ؟
“لیکن پیار کی پڑھائی بھی تو ساتھ ساتھ چل سکتی ہے۔سامنے سمندر ہو اور بندہ پیاسا رہ جائے ۔یہ کہاں کا انصاف ؟؟؟وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولا۔
“وہ مجھے نا بہت نیند آ رہی ہے “کہتے ہی اس سے اپنا ہاتھ چھڑوایا ۔۔۔۔
“ایسی بھی کیا جلدی ہے میڈم میکسی تو چینج کر لیں ۔ایسے ہی برائیڈل ڈریس میں سونا ہے ۔
وہ جو خود پر کمفرٹر ڈال چکی تھی ۔
ارمان کی بات پر شرمندہ ہوئی ۔
“مجھے نہیں کرنا چینج “وہ منہ تک کمفرٹر اوڑھ گئی۔۔۔
ارمان نے مسکرا کر اس کی حرکت ملاحظہ کی ۔
اس کے موبائل پر میسج نوٹیفکیشن آئی تو اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا ۔۔۔
کوٹ اتار کر ایک طرف رکھتے ہوئے وہ چینج کرنے چلا گیا ۔
واپس آیا تو سادہ سے ٹراؤزر اور شرٹ میں تھا ۔
“کس کا میسج تھا “؟
عائشہ نے کمفرٹر سے منہ باہر نکالے پوچھا ۔
“میڈم کو تو نیند آ رہی تھی ,,یہ ایک دم بیویوں والی جاسوسی کیسے جاگ اٹھی ؟؟؟اس نے اپنا تکیہ درست کرتے ہوئے لیٹ کر پوچھا ۔
“جو پوچھا ہے وہ بتائیں مجھے میرے دھیان سے مت بھٹکائیں۔۔۔۔
“اوہ تو آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ،آپکو لگتا ہے میری کسی گرل فرینڈ کا میسج ہوگا ۔۔۔یہ لیں دیکھ لیں ۔کس گرل فرینڈ کا ہے ۔اس نے اپنے موبائل کی سکرین اسکے سامنے کی ۔
“یہ تو سلطان بھائی کا میسج ہے “
جی انہیں کا ہے بھائی اور بھابھی دونوں ہنی مون پر گئے ہیں ۔۔۔۔۔
“اوہ اچھا “وہ کہتے ہی واپس منہ پر کمفرٹر لینے لگی ۔۔۔
“میں بھی چاہتا تھا تمہیں کہیں ہنی مون پر لے کر جاؤں مگر میری جاب کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ میں اتنا لمبا ٹورر افورڈ نہیں کر سکتا ۔
میرا مطلب ہے مجھے اتنی چھٹیاں نہیں مل سکتی ۔
“آپ کیاجاب کرتے ہیں ؟میں نے تو کبھی آپ سے پوچھا ہی نہیں “
بڑی جلدی نہیں یاد آگیا آپ کو پوچھنے کا ۔
“بتائیں بھی “””
“میں جو جاب کرتا ہوں اس کے بارے میں بتانے کا حق تو میں خود کو بھی نہیں رکھتا کحجا کہ کسی اور کو بتانا ۔
“تم بس اتنا یاد رکھنا تمہارا ارمان کبھی کچھ برا نہیں کر سکتا “
“تمہیں مجھ پر یقین تو ہے نا ؟؟؟ارمان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کیا ۔۔۔۔
“خود سے بھی زیادہ “
“بے شک ہم کچھ دن پہلے ہی ملے مگر مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ہم صدیوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔عائشہ نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
“دنیا میں آنے سے پہلے ہی ہمارا رشتہ جڑ چکا تھا ۔ہم ازل سے ہی ایک دوسرے کے لیے بنے تھے اسی لیے ایک دوسرے سے مل گئے ۔اور اب ابد تک یونہی ہمیشہ ساتھ رہیں گے “ارمان نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔وہی گرے آنکھیں جن کا وہ اسیر تھا۔
پھر تھوڑا سا جھکا اور ان آنکھوں کو نرمی سے چھوا ۔۔۔۔
اس کی تو سیٹی گم ہو گئی تھی ارمان کی جسارتوں کو بڑھتے دیکھ آنکھوں سے شروعات کی مگر اب وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھو رہا تھا ۔۔۔۔
“ارمان پلیز “اس نے ارمان کے سینے پر ہاتھ رکھے اسے روکنا چاہا ۔۔۔
“شششششش۔۔۔۔۔۔
مگر ارمان نے اسے اپنی مضبوط گرفت میں لیتے ہوئے اس کی تمام مزاحمتوں کو ناکام بنا دیا ۔۔۔۔
سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے لیمپ کو بھی ہاتھ بڑھا کر آف کردیا ۔۔۔
“ہماری شریک حیات بہت حسین ہیں اتنی حسین کے مجھے اپنے حسن سے گھائل کر چکی ہیں ۔اس حسن کو خراج تحسین پیش کرنا تو بنتا ہے “…
وہ اس کے کانوں کے قریب سحر پھونک رہا تھا ۔
عائشہ سانس کھینچ کر رہ گئی ۔۔۔
اس نے ہینڈل گھمایا تو کلک کی آواز سے دروازہ کھلا۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی اپنے کمرے میں قدم رکھا اور سامنے دیکھا وہ اس کے بستر پر پورے طمطراق سے موجود تھی ،وہ چند پل ساکت رہ گیا۔دل کی بے چین دھڑکنوں کو قرار ملنے لگا ۔۔۔اسے اپنی نظروں کے سامنے بالکل اپنی پسند میں ڈھلے دیکھ ۔۔۔۔
وہ میکسی تبدیل کر چکی تھی اسی کی پسند کا مشرقی لباس زیب تن کیے ،ہاتھوں میں بھر بھر چوڑیاں پہنے۔
وہ اس کے کنگ سائز بیڈ پر ٹیک لگائے پاؤں سمیٹ کر بیٹھے ہوئے ہی سو گئی تھی ۔شاید اس کے انتظار میں ۔
علی نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی۔۔میک اپ سے ممبرا شفاف و شاداب،بے داغ چہرہ ،گھنی پلکوں کی باڑ گالوں کو چھو رہی تھی ۔گھنگھریالے بال کچھ پشت پر تھے کچھ شانے پر اور چند ایک آوارہ بل کھاتی ہوئی لٹیں گالوں پر گری ہوئی تھیں ۔یہی لاپرواہی اس کے نوخیز حسن کو مزید پرکشش بناتی تھی۔
شاید وہ خود بھی اپنے حسن کی اہمیت سے ماورا تھی ۔
علی اکبر دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے ہوئے اس کے پاس آیا ۔۔۔
شرٹ کے کف کو کہنیوں تک موڑے وہ آرام دہ انداز میں اس کے پاس کر بستر پر بیٹھا
اس کے ایک ایک نقش کو آنکھوں کے زریعے دل میں اتار رہا تھا۔
اسے اتنے قریب سے دیکھتے ہوئے اسے اپنے رگ و پے میں سکون سرائیت کرتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔
ایک ہاتھ میں چشمہ پکڑے ہوئے تھی ۔
جو شاید سونے سے پہلے اس نے اتار کر ایک طرف رکھ دیا تھا
علی نے آہستگی سے اس کے ہاتھ سے چشمہ نکال کر ایک طرف رکھا۔
پھر اسے بانہوں میں بھرا اور روم سے باہر قدم بڑھا دئیے ۔۔۔۔
اس نے خود کو کسی کی پناہوں میں ہوا میں معلق محسوس کیا تو جھٹ سے آنکھیں کھولیں ۔۔۔
وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے اسے لے کر باہر کی جانب بڑھ رہا تھا۔
“یہ۔۔۔کیاکر رہے ہیں ؟؟؟
“کہاں لے جا رہے ہیں ؟؟؟
مجھے ن۔ن۔نیچے ۔۔۔اتار۔ریں۔۔۔۔اس نے ڈرتے ہوئے کہا ۔معا کہیں وہ اسے چھوڑ ہی نا دیں ۔
“کچھ دیر میں پتہ چل جائے گا سب ،تمہیں اغواء کر کے نہیں لے جا رہا اور نا ہی کوئی تم میرے لیے کوئی غیر ہو ۔اگر یاد نا ہو تو انفو کے لیے بتا دیتا ہوں کہ ہماری شادی ہوچکی ہے ۔تمہیں کہیں بھی لے جانے کا حق رکھتا ہوں “وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔
وہ لب بھینچ گئی اس کی بات پر ۔
اتنے قریب ہونے پر اسے علی کے وجود سے اٹھنے والی کلون کی دلفریب مہک اپنے نتھنوں میں گھستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔اسے پاگل بنا رہی تھی ۔۔۔
علی نے اسے گاڑی کے قریب لاکر نیچے اتارا ۔۔۔اور اس کے لیےفرنٹ ڈور کھولا ۔
وہ اندر بیٹھی تو اسنے دوسری طرف آ کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔
کچھ ہی دیر میں وہ اپنی منزل مقصود پر تھے ۔علی اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے سمندر کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔
وہ اس کی مضبوط گرفت میں اپنا ہاتھ دئیے خاموشی سے چلنے لگی ۔۔۔
نظریں اسی کے چہرے پر تھیں۔اسے کچھ بھی ہوش نہیں تھا کہ وہ اسے کہاں اور کیوں لے کر جا رہا تھا ۔یاد تھا تو بس اتنا کہ اس کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھا ۔وہ اسے اپنے ساتھ محسوس کر پا رہی تھی ۔یہی احساس ہی اس کے لیے کافی تھا ۔کہ اس وقت وہ دونوں ساتھ ہیں۔
وہ مخصوص راہداری سے چلتے ہوئے بحری جہاز میں سوار ہوئے ۔۔۔۔
وہ اسے اپنے ساتھ لیے بحری جہاز کے سب سے اوپر والے فلور پر لے کر آیا۔۔۔
اسے ایک چئیر گھسیٹ کر اس پے بٹھیایا۔۔ ہ
اور پھرخود اسکے سامنے والی چئیر پر بیٹھ گیا ۔۔۔
“کیسا لگا یہاں کھلی فضا میں آکر ؟
اس نے علی کی گھمبیر آواز سنے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔
پھر اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائی۔۔۔
چاروں طرف دور دور تک گہرا سمندر تھا۔۔۔۔سیاہ رات میں چمکتا ہوا چاند سمندر کی لہروں پر اپنی چاندنی بکھیر رہا تھا ۔۔۔لہروں نے شور برپا کر رکھا تھا۔۔۔۔
ستارے پورے آب وتاب سے چمک رہے تھے ۔۔۔۔۔
“بہت پیارا ہےسب “وہ دل سے محسوس کرتے ہوئے بولی ۔
“اور میرے بارے میں کیا خیال ہے ۔وہ ایک دم لہجہ بدلتے ہوئے بولا۔
آرزو نے ٹھٹھک کر دیکھا۔۔۔اس کی نظروں میں شوخی ،مونچھوں تلے عنابی لبوں پر رقص کرتی دلکش مسکراہٹ ، چہرے کے ہر انداز میں شگفتگی ،وہ اسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
علی نے اس کی ساکت نظروں کے آگے چٹکی بجائی ۔۔۔۔
“سوال کا جواب نہیں دیا ۔۔۔
“آپ بہت برے ہیں آپ کو پتہ ہے ،آپکی بے اعتنائی پر میں کس کرب اور تکلیف سے گزری ہوں یہ میں ہی جانتی ہوں۔آپ کا نظر انداز کرنا مجھے سخت برا لگا ۔ایک بار مجھے ۔۔۔۔اس کے پوچھنے کی دیر تھی جو کتنے دنوں سے خود پر بندھ باندھے ہوئے تھی ۔ایک دم پھٹ پڑی اور ایک ہی سانس میں شکووں کے انبار لگا دئیے ۔۔۔۔۔
جانتا ہوں اور سمجھتا بھی بہت خوب ہوں۔
“تم اتنی اچھی لگ رہی تھی دل کیا تمہیں تنگ کروں۔مجھے کیا پتہ میری بے رخی تم پر اس قدر ظلم ڈھائے گی۔
علی اکبر کے اتنے محبت اور نرمی سے کہنے پر اس کی آنکھیں لبالب آنسووں سے بھر گئیں۔۔۔
“میں نے کیا کہا جو تم رونے لگی ؟وہ حیرت سے دوچند ہوگیا۔
“اتنے پیار سے جو بات کر رہے تھے مجھے رونا آگیا ۔۔
“میرا ارادہ تو تمہیں ساری زندگی یونہی پیار کرنے کا ہے تو پیار میرے ہر بار پیار کرنے پر یونہی رویا کرو گی۔؟؟؟
وہ بے اختیار مسکرا دی۔”ایک بات پوچھوں ؟؟؟وہ اس کے گال کو نرمی سے چھو کر بولا۔
“جب میں واپس آتا ہوں تو تم تمہارے چہرے پر چمک آجاتی ۔۔۔وہ کیوں ؟؟
وہ اس کے سوال پر منجمد ہوئی ۔۔۔
جب میں گھر سے جاتا تو تمہارا چڑ جانا ۔۔۔۔وہ سب کیا ہے ؟؟؟علی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔۔۔
اور اپنی تھائی پر بٹھایا ۔۔۔۔
اس سوال پر بھی لاجواب تھی ۔یعنی وہ بھی اس میں آنے والے بدلاؤ کے بارے میں جان چکا ہے ؟؟؟
میرے چھونے پر پگھل جانا وہ کس سلسلے کی کڑی ہیں زرا بتائیے تو ؟؟؟
اب اس کی کمر پر اپنے دونوں ہاتھوں کا حصار باندھے پوچھ رہا تھا ۔
“اور وہ جو آپ نے مجھے تِل تِل ترسایا اس کا حساب کون دے گا ؟؟؟وہ اس کے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے خود خفگی سے چہرہ پھیر گئی ۔۔۔
“سارے حساب ہی تو چکانے کا وقت آچکا ہے “اس کی خمار زدہ آواز سنائی دی تو وہ اس کے حصار میں کانپ کر رہ گئی۔۔۔۔
“آپ میں ہمت ہے حساب چکانے کی ؟وہ نچلا لب دانت میں دبا کر ایک آنکھ بلنک کیے شرارتی انداز میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
اس کی ذومعنی بات اور دلکش انداز پر آرزو کو اپنی دھڑکنوں کا شور اپنے کانوں میں سنائی دیا ۔۔۔۔
اسے کہاں امید تھی کہ اسے اپنے ہی کیے گئے شکوے اپنے اوپر بھاری پڑنے والے ہیں ۔۔۔۔
“ویسے آپ بہت نمکین ہیں بالکل اس سمندر کے پانی کی طرح “وہ اس کے لب کو اپنے انگوٹھے سے سہلا کر بولا۔نظریں اس کے لبوں پر جمی تھی ۔
“If you don’t mind I want to check it again .
کہیں Taste بدل تو نہیں گیا ۔۔۔۔
“اس کی مبہم بات پر آرزو نے آنکھیں پٹپٹا کر اسے دیکھا ۔مگر بات سمجھ آنے پر حق دق رہ گئی۔۔۔۔
“وہ ۔۔۔وہ تم ۔۔۔۔تھے ۔۔۔۔ ؟؟؟وہ چلا کر بولی اور اسے ہنستے ہوئے دیکھ کے اس کے چوڑے سینے پر مکے برسانے لگی ۔۔۔۔۔
Let’s do something crazy ….
علی نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کہا اور اسے بھی اپنے ساتھ بحری جہاز کے کنارے پر لایا ۔۔۔۔
Let’s jump .
علی نے اسے سمندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اندر کود جانے کے لیے کہا ۔
“Are you crazy ?
مجھے سوئمنگ نہیں آتی ۔۔۔وہ گہرے پانی کو دیکھ کر ڈرتے ہوئے بولی ۔
Don’t worry….
You are my life ۔
اور اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے کون جانے دے گا ؟؟؟پہلے بھی بچایا تھا جب میں یکطرفہ جزبات رکھتا تھا ۔اس بار کیسے کچھ ہونے دوں گا جب مجھے تمہارے جذبات کے بارے میں علم ہو چکا ہے ۔”وہ مسکرا کر بولا ۔۔
وہ سمندر میں کود گیا ۔
چند سیکنڈ میں سطح پر ابھر کر اوپر آیااور اپنے گیلے بالوں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی پیشانی سے پیچھے کی طرف کیا ۔۔۔
Come on..,.
اس نے ہاتھ سے اسے کودنے کے لیے اشارہ کیا ۔۔۔۔
آرزو نے بنا سوچے سمجھے اس کے کہنے پر سمندر میں چھلانگ لگا دی تھی ۔کیونکہ اسے اپنے شریک حیات پر پورا بھروسہ تھا وہ اسے کبھی بھی کچھ بھی نہیں ہونے دے گا ۔
اس کے جمپ لگاتے ہی علی نے اس کے قریب جاتے اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔
وہ گہرے سانس لینے لگی ۔پھر تھوڑی دیر بعد نارمل ہوئی ۔کیونکہ علی نے اسے سمندر کی سطح پر سوئمنگ کے زریعے اوپر کیے رکھا تھا۔۔۔
وہ خود اسکی سانسیں روک کر اسے سمندر کی گہرائی میں لے گیا ۔۔۔۔
اسے پانی میں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔بس محسوس ہو رہی تھی تو اسکے منہ زور جذباتوں کی شدت ۔۔۔وہ اس کے شانوں پر ہاتھ رکھے اس کی سخت ترین گرفت پر مچل رہی تھی۔۔اسکی گرفت کتنی محبوبانہ تھی۔کیسی دیوانگی تھی اس کی شدت میں ۔اس کے تن بدن میں تلاطم برپا تھا ۔۔۔۔چند فسوں خیز لمحات یونہی بیت گئے ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ اسے آزاد کرتے ہوئے واپس سطح پر لایا ۔۔۔۔دوپٹہ کہیں پانی کی لہروں کے ساتھ بہہ گیا تھا۔
“بہت بے شرم ہو تم “وہ اپنے لبوں کو رگڑ کر بولی ۔۔۔۔
“اچھا یہ بات تو بہت پرانی ہے کچھ نیا بتائیں ….وہ اسے ایک بار پھر سے قریب کرتے ہوئے بولا۔۔۔
“مجھے کوئی بات نہیں کرنی “شرم کے باعث گالوں پر گلال بکھرا۔۔۔بھیگے عارض لرزنے لگے ۔۔۔۔۔وہ اس کی شوخ نگاہوں کی تاب نہ لا سکی۔۔اس گھڑی اس کا وجود طوفانوں کے زد میں گھرا کپکپا رہا تھا ۔۔۔اس کی آنکھوں میں جزبات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آباد تھا۔۔۔اس کی نظروں کی تپش سہارنا دوبھر ہونے لگی ۔۔۔۔۔
مقابل کی دھڑکنیں معمول سے زیادہ تیز تھیں ۔اس کا شرماتا لجاتا ہوا سحر کن روپ دیکھ کر ۔۔۔
دونوں واپس اندر آئے ۔۔۔علی نے ایک رات کے لیے بحری جہاز کا اوپری حصہ بک کروا رکھا تھا اور یہاں کسی کو بھی نا آنے کا حکم دے رکھا تھا ۔۔۔
وہ ایک تختہ نما جگہ پر ایک ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھے لیٹا اور دوسرا بازو پھیلادیا۔۔۔
آرزو اس کی نظروں کی زبان سمجھتے ہوئے اس کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئی ۔۔۔
دونوں کھلے آسمان کے نیچے لیٹے تھے ۔۔۔وہ سیاہ آسمان پر تنی ستاروں کی چادر اوڑھے ہوئے تھے ۔۔۔
تازہ ہوا آرزو کے نم گھنگھریالے بالوں سے اٹھکھیلیاں کر رہی تھی ۔۔۔۔
“میں نے سوچا سمندر کے پانی میں ہی ہم دونوں پہلی بار قریب آئے تھے ۔تو اسی سمندر کو گواہ بنا کر ہم ایک ہو جائیں “وہ سحر انگیز آواز میں بول کر اس کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔۔
اس کی گرم سانسیں اپنے شانے پر محسوس کرتے ہوئے اس کی سکن جیسے جھلستی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
“آپ مجھ سے بھی اچھی لڑکی ڈیزرو کرتے ہیں “وہ کچھ یاد آنے پر آہستگی سے بولی ۔
“مگر مجھے کوئی اچھی نہیں صرف تم چاہیے تھی ۔
“سب آپ کا مذاق بنائیں گے میں آپ سے عمر میں بڑی ہوں “ایک اور دل میں آیا سوال کیا۔
“مجھے کسی کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا زندگی میری ،بیوی میری، فیصلہ میرا “
“میں قد میں بھی بہت چھوٹی ہوں ۔آپ کے ساتھ بالکل بھی جچتی نہیں “
وہ کہتے ہی آنسو بہانے لگی ۔۔۔۔
اس نے آرزو پر جھک کر اس کی لرزتی ہوئی پلکوں کو اپنے لبوں سے کھولا۔۔۔۔
“یار تم دنیا کی پہلی بیوی ہو گی جو اپنی کمیاں اپنے شوہر کو گنوا رہی ہو “
“آپ نے مجھے چچا جان کے کہنے پر اپنایا تھا ؟؟؟
“آج ہی سارا کچھ جان لینے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں “؟
وہ اٹھ کہ اس کو دیکھ کر بولا۔
“چلیں پھر آپ کو سب تفصیل سے بتاتے ہیں “وہ اسے بانہوں میں بھر کر دو تین سیڑھیاں نیچے اترتے ہوئے ایک روم کی طرف لے گیا۔۔۔۔
آؤ کائنات بانٹ لیں
تم میرے ،باقی سب تمہارا۔
اس نے رومانوی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے شعر پڑھا۔
“میں نے تو اظہار محبت اپنے عمل سے کردیا آپ کب کریں گی ؟؟؟
“بتاؤ کب سے یہ محبت والا حادثہ پیش آیا۔۔۔۔
“جب سے نکاح ہوا اس کے اگلے ہی پل ۔
“بالکل مشرقی بیویوں کی طرح جیسے ارینج میرج میں ہوتا ہے ۔لڑکیاں کسی کو بھی جانے بغیر اپنے مجازی خدا کو اپنا تن من دھن سب سونپ دیتی ہیں ان کی وفادار بن جاتی ہیں۔ہر پل ان کی توجہ کی خواہاں ہوتی ہیں ۔
مجھ پر بھی یہ حادثہ تب ہی رونما ہوا جب مجھے آپ کے نام لکھ دیا گیا۔
الفاظ کے ذریعے اظہار محبت کرتے ہوئے آرزو کے حسین چہرے پر جیسے دھنک کے ساتوں رنگ بکھر گئے ۔۔۔
“اچھا جی “علی اس کی بات سن کر دلفریب انداز میں مسکرا اٹھا ۔۔۔۔
اس کی لو دیتی شوخ نگاہیں،شرارتی لب ،محبت لٹاتے الفاظ ،اس کا دلکش لب ولہجہ اس پر علی کا وجیہہ سراپا اس کی دھڑکنوں کو بڑھا گیا ۔۔۔۔
آرزو نے شرماتے ہوئے نچلا لب دانتوں تلے دبایا ۔محبت کے اصل رنگ کرنے خالص ہوتے ہیں جس پر بھی اتریں اس پر گہری چھاپ چھوڑ جاتے ہیں،وہ بھی اب محبت کے اصل رنگوں سے واقف ہوئی تھی ۔محبت کے رنگ میں رنگنے کے بعد وہ بھی انہیں معطر جذبات سے گزر رہی تھی۔وہ اسے اپنے ساتھ لیے بستر پر گرا ،،،،اس کی بے قراریوں اور تمناؤں کا پندار اب چھلکنے لگا تھا ۔۔ان پر بندھ باندھنا مزید اب اسے اپنے بس میں نا لگا۔۔۔۔
آرزو نے اس کی سحر زدہ قربت سے فرار کے لیے سعی کی مگر شاید وہ اس کا ارادہ بھانپ چکا تھا ۔اسے خود سے مزید قریب کیے۔۔ آہستہ آہستہ اسے اپنے جذبات اور شدتوں سے آشنا کروانے لگا ۔۔۔
“آج تو ہماری بیگم کیا غضب ڈھا رہی تھی اس ساڑھی میں “
“تم نا مجھے اتنی آزاد گھومتی ہوئی بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی ۔
اکبر نے حرعین سے کہا جو ساڑھی تبدیل کرنے جا رہی تھی ۔
“پہلے تعریف پھر یہ اچھا نا لگنا ۔۔۔دونوں متضاد باتیں ہیں ایک بات پر قائم رہیں ۔۔
وہ کان میں موجود نفیس سے ٹاپس اتار رہی تھی ۔
اکبر نے قریب آتے ہی اس کا ہاتھ ہٹایا اور خود ٹاپس اتار کر ایک طرف رکھے ۔
“خیر ہے مجھے آج آپکی حالت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ۔بڑے سالوں بعد یہ روپ واپس کیسے لوٹ آیا …حرعین نے ہنستے ہوئے کہا۔
“پیار کرنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی بس دل جوان ہونے چاہیے ۔اور آپکے اس روپ کو دیکھ کر جوان دل نے پھر سے انگڑائی لی ہے “
“کچھ شرم کریں آپ کے پوتی پوتے کھلانے کے دن قریب ہیں۔
“وہ بھی کھلا لیں گے ۔پہلے آپ کو تو کوئی نئی مصروفیت سے نواز دیں ۔
وہ اس کا ہاتھ تھامے بیڈ تک لایا۔
علی کی بھی شادی ہوگئی ،اور قرت العین کی بھی آپ تو بالکل فارغ ہیں ۔پھر کیا خیال ہے آپ کا اس بارے میں ۔
“نا۔۔۔۔بالکل بھی نہیں بہت برا خیال ہے ۔لوگ مذاق اڑائیں گے میرا بڈھی کو اس عمر میں یہ کیا سوجھی ۔
آپ ایسا کریں یہ فرمائش لے کر نا آن کے پاس جائیں ۔اس نے دوسرا راستہ دکھایا ۔۔۔
ارے وہ ابھی فارغ نہیں ابھی حیدر کی شادی ہونی باقی ہے ۔اس کے پاس ابھی مصروفیت موجود ہے ۔
“اکبر پلیز فضول باتیں مت کریں ۔
وہ بے وقت کی فرمائش پر گھبرا کر بولی ۔
سلطان اور قرت العین کل ہی اپنی منزل پر پہنچے تھے ایک دن ریسٹ کرنے کے بعد جب وہ دونوں باہر نکلے تو ایک گائیڈ نے انہیں وہاں کے بارے میں بتانا شروع کیا ۔۔۔۔
“سر یہ وادیِ بایون سوات اور کالام سے کچھ ہی فاصلے پر واقع ہے جو کہ کئی حسین اور پر فضا گاؤں پر مشتمل ہیں یہاں کے مناظر دیدنی ہیں جب آپ اس کی چوٹی پر پہنچ جائیں گے تو نیچے موجود گاؤں اور وادیاں آپ کو جو منظر پیش کریں گی درحقیقت وہی آپ کے ہنی مون کو یاد گار ترین بنانے کا سبب بن جائيں گے- یہاں تک پہنچنے کے لیے آپ کو وادی سوات کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کے لیے اسلام آباد اور پشاور سے بہترین ترین روڈ تعمیر ہو چکے ہیں اور اس کے علاوہ رہائش کے لیے اعلیٰ پائے کے ہوٹل بھی موجود ہیں-
پاسو کون کے جنگلات کے حسین ترین مناظر تک پہنچنے کے لیے آپ کو وادی ہنزہ کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو کہ گلگت سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور سڑک کے ذریعے دو گھنٹوں میں پہنچا جا سکتا ہے جب کہ اسلام آباد کے راستے بائي ائير یہ مسافت 45 منٹ تک کی ہے- آرٹ کے حسین نمونوں کی صورت میں ان درختوں کے حسین مناظر آنکھوں کو بہت بھلے لگتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس جگہ کا سکون اور خاموشی ہنی مون کے لیۓ ایک خاص تحفہ قرار پاتے ہیں-
اس جگہ کا یہ نام اس کے قریب موجود ایک ہوٹل کی وجہ سے رکھا گیا ہے وادی ہنزہ پہنچ کر ایگل نیسٹ سے ڈوبتے سورج کا نظارہ کرنا ایک ایسا منظر ہے جس کو تاعمر یاد رکھا جا سکتا ہے- بلندی سے ڈوبتے سورج کی شعاعیں اس وادی کے حسن کو اور بھی بڑھا دیتی ہیں-
یہ وادی چترال میں واقع ہے اور اس جگہ کا سب سے حسین پہلو یہ ہے کہ یہاں اب تک سیاحوں کا رش جمع نہیں ہوا- اس وجہ سے یہ جگہ اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ موجود ہے اس کے مناظر دل کو لبھانے والے ہیں جہاں بڑے بڑے پہاڑی سلسلے موجود ہیں اس جگہ پر سفر کرنے کے لیے آپ کے پاس اپنی سواری کا ہونا ضروری ہے- اگرچہ یہاں کے راستے اور روڈ بہت اچھے نہیں ہیں اس کے قریب ہی وادی گازن بھی قابل دید ہے- اس کے علاوہ درہ تھوئي کے پہاڑ ی سلسلے گلگت تک پھیلے ہوئے بہت حسین مناظر پیش کرتے ہیں-
اس وادی میں ہنی مون کے لیے جانے والے جوڑے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایڈونچر کا شوقین ہو اور اس کو نئی سے نئی جگہیں دریافت کرنے کا شوق ہو- اس وادی میں براستہ ہنزہ جایا جا سکتا ہے اور اس وادی تک جانے کے لیے ضروری ہے کہ ۔۔۔
“بس بس بہت ہوگیا بہت شکریہ آپ کے گائیڈ کرنے کا “سلطان نے اس کا شکریہ ادا کیا اور قرت العین کے شانے پر ہاتھ رکھے اسے اپنے بازو کے حصار میں لیے آگے بڑھنے لگا ۔
“یہ جگہ واقعی جنت کا نظارہ ہے۔بہت ہی حسین جگہ ہے “قرت العین نے توصیفی انداز میں کہا۔
“ہم کب تک رہیں گے یہاں “اس نے ویسے ہی عام سے انداز میں پوچھا ۔
“تین ماہ “سلطان مسکرا کر بولا ۔
“اتنا لمبا ہنی مون کون کرتا ہے “,؟
وہ حیرت انگیز لہجے میں بولی ۔
“ہم کرتے ہیں نا اور کون “؟
وہ شانے اچکا کر شرارت بھرے لہجے میں بولا۔
“قرت العین نے اس کے سینے پر مکا برسایا ۔۔۔
مگر اس نے قرت العین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل والے مقام پر رکھ لیا۔
“دل کرتا ہے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ تمہارے ساتھ گزار دوں “
وہ پیار بھرے انداز میں بولا
“میں بھی “قرت العین نے جوابا ہولے سے ہنس کر کہا ۔
وہ دونوں ایک دوسرے کی قربت میں حسین لمحات کالطف اٹھاتے ہوئے آگے بڑھنے لگے ۔۔۔۔
“سدھانت اگروال مر گیا”
“کس نے مارا اسے ؟؟؟حرعین نے حیرانگی سے پوچھا۔
“علی کے ہاتھوں “وہ فقط اتنا ہی بولا۔
“اگر آن کو پتہ چلا کہ اسکے بھتیجے کی موت علی کے ہاتھوں ہوئی ہے تو وہ شاید علی کو کبھی معاف نا کرے ۔”
“کوئی بھی ماں اپنے بیٹے سے زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتی وہ اسے معاف کردے گی ۔اکبر نے سپاٹ انداز میں کہا۔
ٹھیک ہے علی آن کو بھی بڑی مما کہتا تھا ۔اور اسے حرعین کی طرح ماں کا ہی درجہ دیتا تھا ۔مگر اکبر کی بات سن کر وہ چونک گئی ۔۔۔
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟؟؟
کوئی بات ہے جو آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں “””
اکبر نے گہرا سانس لیا اور اللّٰہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہوئے اور دل میں آن سے بھی ۔۔۔
کیونکہ آج وہ اس کا کیا گیا وعدہ اسی کے لیے پھر سے توڑنے والا تھا ۔
“حرعین میری بات تحمل سے سننا ۔۔۔
پلیز کوئی شدید ری ایکشن مت کرنا ۔ایسا کرنے سے پہلے یہ جان لو کہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ تھا اور ہمیشہ تمہارے ساتھ ہی رہوں گا ۔
“مجھے بہت بے چینی ہو رہی ہے اکبر پلیز جو بھی کہنا ہے کھل کر کہیے یوں پہیلیاں مت بُھجوائیے ۔۔۔۔وہ تڑپ کر بولی ۔
علی کو تم نے پیدا نہیں کیا وہ اصل میں آن کی اولاد ہے “
اکبر کے منہ سے نکلنے والے الفاظ بم بن کر اس کے اعصاب پر گرے ۔۔۔۔کہ اسکا پورا وجود ایک بار جھنجھنا اٹھا ۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی لڑیوں کی صورت جاری ہوئے ۔۔۔
اکبر نے آگے بڑھ کر اسے تسلی دیتے ہوئے خود میں سمیٹ لیا۔
آپکی طبیعت زیادہ خراب ہے تو آپ کا سر دبا دوں؟؟؟
آپ مجھے منانے کی بجائے خود روٹھ کر بیٹھ گئے ہیں ۔۔۔آن اس کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے بولی “ٹھیک ہے سر دبا دو میرا ۔۔۔۔اکبر نے کہا ۔۔۔
وہ دوسری طرف سے اس کے پاس آکر بیٹھ گئی اور اکبر کا سر دبانے لگی آن کے قرب سے پھوٹتی مہک اکبر کو بے بس کئے دے رہی تھی۔۔۔ کیسا فیل ہو رہا ہے ؟ اب درد کچھ کم ہوا ؟؟؟
“ہمممم بہت اچھا محسوس ہو رہا ہے۔
اکبر نے مسکرا کر کہا۔
کیا مطلب ؟؟ آپ کو سر میں درد نہیں تھا ؟؟؟
“آپ یہ بہانہ بنا رہے تھے ؟؟؟وہ حیرت انگیز لہجے میں کہنےلگی۔
” اب آپ کو پاس لانے کے لئے بہانوں کی ہی ضرورت پڑنے لگی ہے ۔اپنے آپ کیوں نہیں آجاتیں ۔۔۔۔”وہ محبت بھری نگاہوں سے دیکھ کر بولا۔
“اکبر آپ اس عمر میں بھی بالکل ویسے ہی ہیں “وہ مسکرا کر بولی ۔
“ہم تو تاعمر آپ کو ایسے ہی پیار کرتے رہے گے ۔وہ اسے اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لے کر بولا۔۔۔
“علی تم اسے خود بتاؤ گے تو ٹھیک رہے گا “
“ورنہ اسے یہ بات کہیں اور سے پتہ چلی تو وہ شاید برداشت نہیں کر پائے گی ۔
“ٹھیک ہے مام میں انہیں بتا دوں گا ۔
اس نے حرعین سے کہا۔۔۔۔
وہ کچھ ہی دنوں میں خود کو سنبھال چکی تھی اور اس میں سب سے اہم کردار اکبر کا تھا ۔جس نے اس سارے عرصے میں اسے اپنی توجہ کا مان بخشا تھا ۔کہ وہ جلد ہی نارمل روٹین پر لوٹ آئی تھی ۔۔۔۔
“مجھے پتہ ہے کہ تمہیں سچائی پتہ چل چکی ہے ‘حرعین نے علی کی طرف دیکھ کر کہا۔
وہ حیران کن نظروں سے اپنی ماں کو دیکھنے لگا ۔۔۔
وہ اسکی آنکھوں میں امڈنے والے سوال کوپڑھ چکی تھی ۔
مجھے تمہارے ڈیڈ نے بتایا سب کچھ آن کے بارے میں بھی اور تمہارے بارے میں بھی ۔
“مام مگر مجھے اس سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔میرے لیے آپ ہی میری مام ہیں اور ہمیشہ رہیں گی ۔
وہ حرعین کا ہاتھ پکڑ کر بولا ۔
“مجھے پتہ ہے میرا بیٹا میرا ہی ہے ۔مجھ سے پیار کرتا ہے ۔مگر اس کا بھی تو سوچو جو جانے کتنے سالوں سے تڑپ رہی ہوگی کہ ایک بار اس کا بیٹا اسے ماں کہہ کر بلائے ۔
آج مجھے پتہ چلا کہ وہ کیوں حیدر کے ہوتے ہوئے بھی تمہیں ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھتی تھی ۔
وہ بہت عظیم عورت ہے علی ۔جس نے اتنی بڑی قربانی دی ۔اسکی جگہ اگر میں ہوتی تو اپنی پہلی اولاد کسی کو بھی نا دیتی ۔ٹھیک ہے وہ سمجھتی ہوگی کہ اسکی وجہ سے میرا نقصان ہوا میری گود اجڑ گئی ۔مگر اسمیں اس کا کوئی قصور نہیں تھا ۔یہ تو قدرت کا فیصلہ تھا۔
اور اس نے قدرت کے فیصلے پر سر جھکایا۔وہ اپنے امتحان میں سرخرو ہوئی ۔میں بھی اپنے امتحان میں سرخرو ہونا چاہتی ہوں ۔اس نے آس بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
اسلام وعلیکم مام !
وہ لاونج میں موجود تھی ۔حرعین اور آن دونوں تھری سیٹر صوفے پر بیٹھی منہمک انداز میں نیوز سن رہی تھی ۔جس میں فوج کے بارے میں کچھ بتایا جارہا تھا ۔۔۔۔
اس نے مام کہا تو آن فاطمہ سمجھی کہ اسنے حرعین کو سلام کیا ۔
اس نے دل میں اسکے سلام کا جواب دیا ساتھ اس کی درازی عمر کی دعا کی ۔
“آپ سے کہہ رہا ہوں مام آپ نے جواب نہیں دیا ۔۔۔
وہ آکر آن کے ساتھ والی خالی جگہ پر بیٹھ کر بولا ۔
آن نے اچنبھے سے اپنے خوبرو بیٹے کے چہرے کی طرف دیکھا ۔
جو نین نقوش میں ہو بہو اکبر کی کاپی تھا ۔کبھی کبھی تو وہ اسے اکبر سے بھی خوبرو دکھائی دیتا شاید وہ اسکا بیٹا تھا اسی لیے ۔۔۔۔
“وعلیکم اسلام !آن نے محبت بھرے انداز میں جواب دیا ۔۔۔
I love both of you….
اسنے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
حرعین نے آن کا ہاتھ دبا کر چھوڑا ۔۔۔اور وہاں سے اٹھ کر اندر چلی گئی ۔۔۔
آن اسے جاتے ہوئے دیکھ حیرت میں مبتلا ہوئی ۔ابھی تو ٹھیک تھی میرے ساتھ نیوز دیکھ رہی تھی اچانک کیا ہوا ۔وہ سوچ کر رہ گئی ۔۔۔۔
“مام !!!علی کی آواز قریب سے کان میں سنائی دی تو اس نے دیکھا ۔۔۔
پھر سے مام بلانے پر ۔۔۔۔
اسے گڑبڑ کا احساس ہوا ۔۔۔۔
“مام مجھے سب پتہ چل چکا ہے ۔وہ آن کی گود میں سر رکھے لیٹا ۔۔۔
اسکی بات سن کر آن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے جو علی کے چہرے پر گرے ۔۔۔۔
وہ فورا اٹھ کر بیٹھا اور اپنی انگلیوں سے ان کے آنسو پونچھے۔۔۔
“کس نے بتایا تمہیں “؟آن نے تھوڑی دیر بعد خود کو سنبھالتے ہوئے ہوچھا۔
“مام پلیز یہ مت پوچھیے گا ہے کوئی اللّٰہ کا بندہ “
وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔
آن نے اسے مسکراتے ہوئے دیکھ اس کے گال پر ہاتھ رکھے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھا ۔
وہ بیٹھے بیٹھے آن کے گلے لگا ۔۔۔۔
I am always with you…Mom.
وہ اسے قیمتی متاع کی طرح خود میں بھینچے اپنی برسوں کی تشنگی مٹانے لگی ۔۔۔۔
علی نے مناسب موقع دیکھ کر آن فاطمہ کو ساری سچائی سے آگاہ کردیا ۔۔۔۔
گیارہ سال بعد !!¡!
یہ میری گڑیا ہے …..آریز علی نے کومل کو اپنی طرف کھینچا ۔جس نے پنک کلر فراک پہنی ہوئی تھی اور بالوں کو دو پونیوں میں قید کر رکھا تھا ۔
“بکواس مت کرو “یہ میری گڑیا ہے “احراز آفندی نے اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔
“تم دونوں جھگڑ کیوں رہے ہو “؟
پیچھے سے مومل نے آکر اپنی باریک سی آواز میں پوچھا تو دونوں نے چونک کر دیکھا ۔۔۔
آریز علی نے چونک کر مومل کو دیکھا جس کے نچلے ہونٹ کے نیچے تل تھا ۔
اس نے فورا کومل کا ہاتھ چھوڑا ۔۔۔
اور بھاگ کر مومل کے پاس آیا ۔۔۔
“کہاں تھی تم ۔۔۔؟؟؟تمہیں سمجھ کر میں نے اس احراز کی کومل کو پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔وہ مومل پر برسنے لگا ۔۔۔
آریز علی کی بچپن سے ہی مومل سے دوستی تھی ۔وہ جب بھی اپنی پھپھو قرت العین اور عائشہ کے گھر آتا ۔یونہی مومل پر اپنی دھونس جماتا ۔
جبکہ احراز آفندی جو ارمان اور عائشہ کا بیٹا تھا وہ ہر وقت کومل کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا جاتا ۔
سلطان اور قرت العین کی دو جڑواں بیٹیاں تھیں ۔کومل اور مومل ۔۔۔جبکہ علی اور آرزو کا بیٹا آریز علی تھا۔
حیدر بھی اب شادی شدہ تھا ۔۔۔۔۔
ان بچوں میں ایک اور بچے کا اضافہ ہوا تھا اور وہ تھا حزیفہ اکبر ۔۔۔حرعین اور اکبر کا سب سے چھوٹا بیٹا ۔۔۔۔ انیقہ،جنت ،عیسی اور موسی گیلانی سب اپنے اپنے وقت پر خالق حقیقی سے جا ملے تھے ۔بیتا وقت انہیں اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ۔۔۔۔
یہ دسمبر کی ایک سرد شام تھی سب گیلانی ہاؤس میں جمع تھے ۔آج ان تینوں کی ویڈنگ اینیورسری تھی ۔۔سلیبریشن کے بعد سب لان میں جمع تھے ۔
بچے گارڈن والی سائیڈ کھیل رہے تھے ۔
حیدر اپنی جاب کی وجہ سے دوسرے شہر میں تھا اسی لیے نہیں پہنچ سکا ۔
درمیان میں آگ جلائے ۔۔۔۔سب اس کے گرد موجود تھے ۔۔۔ایک طرف آن اکبر اور حرعین تینوں بیٹھے تھے ۔
قرت العین اور سلطان اکٹھے تھے ۔
“ارمان تمہارے اس گٹار کا کیا فائدہ جب تم اس کا استعمال ہی نہیں کرتے ۔
“لاؤ ابھی کیے دیتے ہیں استعمال “اس نے ہاتھ بڑھا کر گٹار پکڑا ۔۔۔اور اس کی تاروں کو چھیڑا تو کئی ساز بج اٹھے ۔
سکونت بھرے ماحول میں ارتعاش ابھرا ۔۔۔۔
“اب گانا کون سنائے گا “؟,قرت العین نے پوچھا ۔
“ارمان اور کون ؟عائشہ نے اسے دیکھ کر کہا ۔۔۔
“اگر اپنے کانوں کی سلامتی چاہتے ہو مجھے تو گانا گانے سے معاف ہی کرو تو اچھا ہے ۔”اس نے جان چھڑوانا چاہی۔
“مجھے گانا گانا نہیں آتا بس گٹار بجانا آتا ہے ۔
“بابا آپ سنائیں نا ؟؟؟عائشہ نےارمان کو چھوڑے اکبر سے فرمائش کی ۔۔۔۔
“نہیں بیٹا جی گانا گانے کا ہم سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ۔اکبر نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
حرعین اور آن نے پہلے ہی سر نفی میں ہلانے شروع کردئیے کہیں وہ انہیں نا کہہ دئیے ۔۔۔
اکبر نے چھپ کر آن کی کمر پر پیچھے سے ہاتھ رکھا تو ۔اس نے گھور کر اسے دیکھا ۔۔۔اور نظروں میں تنبیہہ تھی ۔۔۔کہ بچے کیا سوچیں گے ۔
مگر وہ خود کو لاپرواہ بنا ظاہر کرنے لگا ۔۔۔۔
“انہیں بھی گانا نہیں آتا ۔۔۔قرت العین نے سلطان کے بارے میں بتایا ۔۔۔
“یہ جو اتنا میسنا بن کر بیٹھا ہے تب سے کوئی اسے بھی پوچھ لے ۔۔۔۔
ارمان نے علی کی طرف دیکھ کر شوشا چھوڑا ۔۔۔۔
وہ گھنی مونچھوں تلے مبہم سا مسکرایا ۔۔۔۔
آرزو بھی اسے مسکراتے دیکھ بولی ۔
“گا دے نا گانا ۔۔۔مجھے لگتا ہے کہ آپ بہت اچھا گاتے ہوں گے ۔۔۔۔
“ارے اب تو بھابھی جی نے بھی فرمائش کردی دی گُھنے انسان پھوٹ دے منہ سے “ارمان نے شرارتی انداز میں کہا ۔۔۔۔
“میں میسنا اور گھناہوں تو ۔۔۔تو کیا ہے ۔
فراڈئیے انسان ۔۔۔۔
“چل اب زیادہ بھاؤ مت کھا اور شروع کر ۔۔ارمان نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی کہی ۔۔۔۔
علی دانت پیس کر رہ گیا ۔۔۔۔
“میرا ساتھ دینا ہوگا تمہیں “وہ آرزو کی طرف دیکھ کر بولا اور اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔۔
ارمان نے کھڑے ہوکر گٹار کی دھن چھیڑی تو علی نے ان سروں پر اپنی سحر انگیز آواز کا جادو جگانا شروع کیا ۔۔۔۔
“ہونٹوں سے چھو لو تم
میرا گیت امر کردو۔
بن جاؤ میت میرے
میری پریت امر کر دو ۔
علی نے آرزو کے آگے ہاتھ کیا تو اس نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دھر دیا۔۔۔۔
اکبر نے اپنا ایک ہاتھ آن کے آگے پھیلایا ۔تو دوسرا حرعین کے آگے دونوں نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھے ۔۔۔۔اور دونوں نے اپنے سر آسودگی سےاکبر کے شانے پر ٹکا دئیے ۔۔۔
سلطان کو سرد موسم میں شال اوڑھے بیٹھا تھا قرت العین کے گرد اپنی شال کا حصار باندھا ۔۔۔۔
ارمان جو گٹار بجا رہا تھا۔عائشہ نے اس کے شانے پر اپنی تھوڑی رکھتے ہوئے اسے پیار بھری نظروں سے دیکھا۔
نا عمر سیما ہو۔ناجنموں کا بندھن ۔
جب پیار کرے کوئی دیکھے صرف من۔
نئی ریت چلا کر تم ۔یہ ریت امر کردو۔
وہ رکا تو آرزو کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
جگ نے چھینا مجھ سے ۔
مجھے جو بھی لگا پیارا۔
آرزو نے من میں اپنا پاپا حسن گیلانی اور ثوبیہ کو یاد کرتے ہوئے الفاظ ادا کیے ۔۔۔۔
سب جیتا کیے مجھ سے ۔
میں ہر دم ہی ہارا۔
علی اور آرزو دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
تم ہار کے دل اپنا میری جیت امر کر دو ۔
ہونٹوں سے چھو لو تم ۔۔۔۔
میرا گیت امر کر دو۔
میری پریت امر کر دو۔۔۔۔۔
(ختم شد )
