Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 19)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

“بڑی مما میرے بالوں میں بھی آئلنگ کردیں “

آن فاطمہ جو صوفے پہ بیٹھی ہوئی تھی ۔علی نے وہاں آکر کہا ۔۔۔

“مام کو تو اس چڑیل کی آئلنگ ہی کرنی ہوتی ہے “

حرعین سامنے والے صوفے پر بیٹھے ہوئے قرت العین کے بالوں میں ناریل کے تیل کا مساج کر رہی تھی ۔۔۔۔

“ادھر دو بوتل “علی نے قرت العین کی طرف ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔

“یہ لیں بھائی “اس نے بوتل علی کی طرف بڑھائی ۔۔۔تو علی وہ لے کر آن فاطمہ کے پاس نیچے کارپٹ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

“بھائی آپ بہت کئیر کرتے ہیں اپنے بالوں کی خیر تو ہے ؟؟؟قرت العین نے مسکرا کر پوچھا ۔۔۔

“لڑکیاں انہیں سلکی بالوں پہ تو مرتی ہیں ۔کئیر تو کرنا پڑتی ہے “

“لو ہوگئی تمہارے بالوں کی تو آئلنگ ۔۔۔حرعین نے قرت العین کے لمبے بالوں کو جوڑے میں باندھا ۔۔۔۔

“کیسا جا رہا ہے تمہارا آفس ورک ؟علی نے قرت العین سے پوچھا ۔۔۔

“ٹھیک ہے ابھی تو سیکھ رہی ہوں گرینڈ پا نے مجھے ایک جلاد کے حوالے کر دیا ہے صبح سے لے کر شام تک کام کرواتا رہتا ہے “

” کام سیکھنے گئی ہو تو کام ہی کروائے گا “

“میں تو ہاتھ دھو کر سونے جا رہی ہوں “حرعین نے کہا ۔

“اوکے مام گڈ نائٹ!علی اور قرت العین نے اسے بیک وقت کہا ۔۔۔

“گڈ نائٹ “وہ کہتے ہی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔قرت العین بھی اپنے روم میں چلی گئی ۔۔۔۔

آن فاطمہ علی کے بالوں کا مساج کرنے لگی ۔۔۔۔

“بڑی مام اگر آپ کو نیند آئی ہے تو بس کردیں اتنا ہی کافی ہے “علی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے اسے روکتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“نہیں مجھے اچھا لگ رہا ہے اپنے بیٹے کے بالوں میں مساج کرنا “

وہ پیار بھرے انداز میں بولی۔

اور پھر سے مساج کرنے لگی علی آنکھیں بند کیے فاطمہ کے نرم ہاتھوں سے مساج کرواتے ہوئے سکون محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔

جبکہ علی کو اپنے پاس دیکھ آن فاطمہ کی آنکھوں سے چند موتی ٹوٹ کر اس کے بالوں میں آئل کے ساتھ ہی جذب ہونے لگے ۔۔۔

علی اس سب سے بے پرواہ سکون محسوس کر رہا تھا ۔۔۔جبکہ فاطمہ اسے قریب دیکھ برسوں کی تشنگی مٹا رہی تھی مگر اپنے لبوں کو تاعمر سئیے رکھنے کا وہ خود سے عہد کر چکی تھی ۔۔۔۔۔

ر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق لوئر دیر میں دہشتگردوں نے پاک فوج کی چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کیپٹن اکبر گیلانی زخمی ہوگئے ۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے دہشتگردوں کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا، پاک فوجی کی جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کی فائرنگ سے کیپٹن اکبر شدید زخمی ہوئے

دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کے ضلع دتوئی میں سرحدی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 فوجی شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے جوانوں کی شناخت 43 سالہ حوالدار سلیم عمر اور 35 سالہ لارنس نائیک پرویز عمر کے نام سے ہوئی۔

فوج کے محکمہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان مستقل طور پر افغانستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی طرف سے مؤثر بارڈر کنٹرول کو یقینی بنائے۔

پاک فوج نے جاری بیان میں کہا کہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں جنوبی وزیرستان کے قبائلی ضلع تحصیل تیزارہ کے علاقے نیو کلا میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 3 فوجی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

وانا میں پولیس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آوروں نے حملے میں راکٹ اور لائٹ مشین گنوں کا استعمال کیا۔ واضح رہے کہ اس طرح کے حملے حال ہی میں تواتر سے ہونے لگے ہیں۔

ٹی ۔وی پہ چلتی ہوئی نیوز دیکھ کر سب کی جان پہ بن آئی۔۔۔

جنت گیلانی کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے اپنے بیٹے اکبر کے زخمی ہونے کی خبر سن کر حرعین نے جلدی سے اکبر کے نمبر پہ کال ملائی ۔۔۔

جبکہ آن فاطمہ جنت گیلانی کی طبیعت کے زیر اثر فورا پانی لینے کچن کی طرف بھاگی ۔۔۔۔

عیسی گیلانی اور موسی گیلانی اس وقت آفس میں تھے ۔۔۔جبکہ علی ابھی گھر آیا تو جنت گیلانی کی خراب طبیعت دیکھ انہیں اٹھائے فورا گاڑی میں ڈالا ۔۔۔

انیقہ گیلانی اس کے ساتھ بیٹھیں تو وہ سب ہاسپٹل روانہ ہوئے ۔۔۔۔

حرعین کی کال چوتھی بیل پہ ریسو کر لی گئی ۔۔۔۔

“اسلام وعلیکم اکبر آپ ٹھیک تو ہیں “؟

اس نے فورا سے بیشتر سوال کیا ۔

“اب ٹھیک ہوں “اکبر کی تھوڑی درد بھری آواز سپیکر سے ابھری ۔

“آپ نے تو ہمیں پریشان ہی کردیا تھا “وہ فکرمندی سے بولی ۔۔۔

“یہ آن سے بھی بات کریں “اس نے فون روتی ہوئی آن فاطمہ کی طرف بڑھایا۔

“اکبر آپ ٹھیک ہیں نا ؟”اس کے نم لہجے میں چھپا کرب وہ پہچان گیا تھا ۔۔۔

“میں ٹھیک ہوں آن فاطمہ تم اپنا اور حرعین کا خیال رکھنا میں جلد آنے کی کوشش کروں گا “

ٹھیک ہے آپ بھی اپنا بہت سا خیال رکھیے گا پلیز ہم سب کے لیے “

حرعین نے اس سے فون لیا کیونکہ اس کے رونے میں شدت آگئی تھی ۔۔۔

“آن بس کرو وہ اور پریشان ہو جائیں گے تمہیں یوں روتا دیکھ۔۔۔۔

اس نے مائیک پہ ہاتھ رکھے کہا ۔۔۔۔۔

پیشنٹ کی شوگر لیول شوٹ کر گئی تھی اور بی۔پی بھی ہائی تھا ۔۔۔

ہم نے ٹریٹمینٹ کردی ہے پلیز آپ ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں ۔۔۔

میں نے یہ کچھ میڈیسن لکھ دیں ہیں ان کا باقاعدگی سے استعمال کروائیے گا ۔۔۔ڈاکٹر نے اپنے پیشہ ورانہ انداز میں کہا اور پریسکرپشن علی اکبر کی طرف بڑھائی ۔۔۔۔

“جی ٹھیک ہے “اس نے وہ پریسکرپشن لی اور ہاسپٹل کی فارمیسی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

انیقہ، جنت گیلانی کے پاس تھیں اب ان کی حالت قدرے بہتر محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔

“آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا جیٹھانی جی”

“اب اس عمر میں ایسی بیماریاں تو لگی ہی رہتی ہیں ۔۔۔

تم بتاؤ اکبر کی کوئی اور خیر خبر آئی ۔۔۔۔

جی حرعین بتا رہی تھی کہ اب اکبر ٹھیک ہے ۔پریشانی والی کوئی بات نہیں”

چلو شکر ہے اس پاک ذات کا جس نے میرے بیٹے کو سلامت رکھا ۔۔۔۔

اس کے علاؤہ مکھے آرزو کی فکر ہے ۔مرنے سے پہلے اس کے فرض سے سبکدوش ہو جاؤں”

ارے یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں ابھی تو آپ کو بہت سا جینا ہے اپنے پوتے پوتیوں کی شادی کروانی ہے ۔۔۔”ہم تو ایسے ہی منصوبے بنا لیتے ہیں ۔۔۔

ہمیں تو یہ اوپر والا ہی جانتا ہے کہ اگلا سانس لینے کی مہلت بھی ملے گی یا نہیں “

کہہ تو آپ ٹھیک رہی ہیں مگر ایسی مایوسی والی باتیں نا کریں میرے سامنے بس جلدی سے ٹھیک ہو جائیں تاکہ ہم گھر چل سکیں ۔۔۔۔

وقت گزرنے لگا اور ان کی دوستی کب محبت میں تبدیل ہوئی انہیں خود بھی پتہ نا چلا ۔۔۔۔۔

روز فون پر جب رات گئے تک چیٹنگ نا کرلیتے انہیں چین نہیں آتا ۔۔۔۔

اک بات کہوں گر سنتے ہو۔

تم مجھ کو اچھے لگتے ہو۔

کچھ چنچل سے کچھ چپ چپ سے

کچھ پاگل پاگل لگتے ہو۔

ہیں چاہنے والے اور بہت

پر تم میں ہے اک بات بہت۔

تم اپنے اپنے لگتے ہو۔

یہ بات بات پہ کھو جانا

یہ کہتے کہتے رک جانا۔

یہ کس الجھن میں لگتے ہو؟

جو بات ہے ہم سے کہہ ڈالو۔

اک بات کہوں گر سنتے ہو۔

تم مجھکو اچھے لگتے ہو ۔

آرزو نے یہ شاعری ٹائپ کیے اسے سینڈ کی ۔۔۔۔

آگے سے ہارٹ والے ڈھیر سارے ایموجیز وصول ہوئے ۔۔۔

اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔۔۔

وہ سد کے ریپلائے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔

چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن

کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن

رازوں کی طرح اترو میرے دل میں کسی شب ،

دستک پہ میرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن ۔

پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں ۔

بادلوں کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن ۔

خوشبو کی طرح گزرو میرے دل کی گلی سے

پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن ۔

گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے ۔

اس طرح میری رات کو چمکاؤ کسی دن ۔

میں اپنی ہر اک سانس اس رات کو دے دوں ۔

سر رکھ کہ میرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن ،

سد نے اسے پوئٹری بھیجی ۔۔۔۔جس کے ایک ایک لفظ کو وہ دل سے محسوس کرتے خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

“آرزو !!!!

“جی “وہ جو ابھی تک اسی شاعری کے سحر میں تھی اس کے آرزو والے مسیج پر ریپلائے کیا ۔۔۔

“کہیں باہر ملیں “؟

“وہ کیوں ؟”

“اتنی معصوم ہو نہیں جتنا بننے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔۔تم جانتی ہو میں کیوں ملنا چاہتا ہوں “

“اونہہہہہ ہوں ۔۔۔میں نہیں جانتی آپ کیوں ملنا چاہتے ہیں ؟.

“چلو ٹھیک ہے پھر صاف صاف بتاتا ہوں تمہیں دیکھنے کا تمہیں ملنے کا دل کر رہا ہے ۔۔۔۔

اب ٹھیک یا اور ڈیٹیل سے بتاؤں ؟

“اوکے سوچتے ہیں اس بارے میں “

“یہ تم اتنا بھاؤ کیوں کھا رہی ہو “؟

وہ تو مجھے کھانا چاہیے “””

“اب آپ سلیبرٹی نہیں رہے میرے وہ جو بن گئے ہیں ….بھاؤ کھانا تو بنتا ہے ۔۔۔۔

“یہ “وہ “کیا ہے اب ؟؟؟

“وہ کا مطلب آپ نہیں سمجھے ؟”

“نہیں بالکل بھی نہیں “

“ارے وہ کا مطلب میرے دوست بن گئے ہیں نا “آپ کیا سمجھے ؟؟؟؟

“سمجھا تو ٹھیک تھا مگر جواب تم نے غلط دیا “

آرزو نے اس کے میسج پہ صرف ہنسنے والے ایموجی سینڈ کیے ۔۔۔۔

تو پھر کب مل رہی ہو “؟

“جب آپ کہیں “

“تو پھر کل “؟

“اوکے مگر آفٹر یونی ورسٹی ٹائم “

“میرا امپورٹینٹ ٹیسٹ ہے کل “

“اوکے ڈن “

“کوئی ہیلپ چاہیے ؟”

“نو ۔۔۔۔آپ سے ہیلپ لی تو باتوں میں لیسن بھول کر بس آپ کو پڑھوں گی ۔۔۔

“”Is it true ???

سد نے سوال کیا۔

I don’t know…..

اس نے شرما کر فون ایک طرف رکھ دیا ۔۔۔۔

“میں نے اپنا سکھ چین سب ُلٹا کر کے خود بے چینیاں مول لیں ۔صرف آپکے لیے سد۔۔۔۔۔

اپنی نیندوں کا بھی ہوش نہیں ۔۔۔نیندیں لُٹا کہ میں صرف آپ سے وفائیں کرنے کا سوچتی رہتی ہوں ۔۔۔۔”

وہ تکیے پہ سر رکھے ہوئےخودی سے مخاطب تھی ۔۔۔۔۔

کہ موبائل پہ میسج نوٹیفکیشن دیکھ پھر سے اسے آن کیا ۔۔۔۔

“کچھ مبہم اشاروں میں تم نے آج مجھے جو کہا ہے۔۔اب تو مجھے بھی یقین ہونے لگا ہے کہ جو میرے دل میں ہے تمہارے لیے وہی تمہارے دل میں بھی ہے میرے لیے ۔۔۔”

“جواب دو ؟؟؟؟”

کیوں تم کو دیکھتے ہی دل دھڑکنے لگتا ہے۔۔۔کیوں دل تمہیں ہی سوچنے لگا ہے ؟؟؟؟

اس کا جواب ہے تمہارے پاس ؟؟؟؟سد کا ایک اور میسج موصول ہوا۔۔۔۔

گھما پھرا کر بات کرنا تو اور تھی آج اس نے جب ڈائیریکٹ پوچھا تو وہ چکرا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔

جواب دینے کی ہمت خود میں مفقود پائی۔۔۔۔۔

“جو محبت کاطوفان میرے دل میں اٹھ رہا ہے کیا تمہارے دل میں بھی وہی طوفان برپا ہے ؟؟؟؟

“سد گڈ نائٹ کل ملاقات ہوگی تو بتاؤں گی سب “

اس نے لاسٹ میسج کیے فون ایک طرف رکھا اور ٹیسٹ کی تیاری کرنے کے لیے کتاب اٹھائی۔۔۔۔وہ بے توجہیسے صفحوں کی ورق گردانی کرنے لگی ۔۔۔

ساری سطریں گڈمڈ ہونے لگیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔

دماغ ابھی بھی سد کے سوالات پہ الجھا ہوا تھا ۔۔۔۔

جتنا پڑھنے کی کوشش کرتی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔دل و دماغ عجب سی کیفیت میں مبتلا تھا۔۔۔۔

اس نے کتاب اور فون دونوں تکیے کے نیچے ڈال دئیے اور پھر خود کو ریلیکس کرنے کے لیے لیٹ گئی ۔۔۔۔

سوچیں ابھی بھی سد کے متلق تانے بانے ُبن رہی تھیں ۔۔۔۔

اسی کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ کب نیند کی وادیوں میں کھو گئی اسے خود بھی پتہ نا چلا ۔۔۔۔

“ہائے !

“ہیلو “

وہ یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر کھڑی ہوئی تھی کہ سد اسے وہاں سے پک کرنے آیا ۔۔۔۔

“چلیں ؟؟؟؟

“جی بالکل “

وہ دوسری طرف سے آکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تو سد نے گاڑی پھر سے سٹارٹ کی اور اپنی منزل کی طرف بڑھا دی ۔۔۔۔۔

“ہم کہاں جا رہے ہیں “؟

“مجھ پہ یقین نہیں ؟وہ ابرو اچکا کر سرد ترین لہجے میں بولا۔۔۔

“ن۔۔۔نہ۔۔۔نہیں ۔۔۔ایسی تو کوئی بات نہیں “وہ جلد ہی خود کو سنبھال گئی کہیں وہ اس سے ناراض نا ہوجائے ۔۔۔

“پھر کتنا اعتبار ہے مجھ پہ ؟اس کی گھمبیر آواز خاموش ماحول میں گونجی ۔۔۔۔

“خود سے بھی زیادہ “اس نے دل سے کہا ۔۔۔

“سچ؟”سد نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے جوش سے پوچھا ۔۔۔

آرزو نے پہلے اس کی گرفت میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھا پھر اس کے وجیہہ چہرے کو ۔۔۔۔پھر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

“سد آپ کو نہیں لگتا یہ سب کچھ زیادہ جلدی جلدی سے ہوگیا ؟؟؟

سد نے حیران کن نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

“مطلب ؟”

“میری بات کا کچھ غلط مطلب نا لیجیے گا ۔۔پلیز میں بس یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہمیں اسطرح اکیلے میں باہر نہیں ملنا چاہیے ۔۔۔۔

” Oh …come on Arzoo.

“میں کونسا تمہیں کسی ہوٹل کے روم میں تنہا لے کر جانے والا ہوں سب کے سامنے کھلے میں جا رہے ہیں ۔۔۔۔

اور ویسے بھی اگر تمہیں اکیلے روم میں بھی لے کر جاؤں تو اپنی حدود اچھے سے جانتا ہوں میں “

اس نے آخری بات زرا سپاٹ انداز میں کہی۔۔۔

“میں نے آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ آپ ناراض نہیں ہوں گے “

“میں بالکل بھی ناراض نہیں مگر تمہیں بھی بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے ۔۔۔اس دن بھی ہم دونوں تمہارے ہاسٹل کے روم میں تنہا تھے میں نے کچھ ایسا ویسا کیا ؟؟؟؟

“جو اب کروں گا “ویسے اگر کروں بھی تو۔۔۔۔۔۔؟

آرزو اس کی بات پر سٹپٹا کر باہر ونڈو کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔

چہرے پر سرخیاں گُھلنے لگیں تھیں ۔۔۔

“آؤ باہر “سد نے اس کی سائیڈ کا ڈور کھول کر اپنا ہاتھ آگے کیا تو آرزو نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا ۔۔۔

وہ دوسرے ہاتھ سے ڈور بند کیے ہوئے اسے اپنے ساتھ چلنے لگا ۔۔۔۔۔

“واؤ سد ۔۔۔۔۔”ہاؤ بیوٹیفل ! آرزو کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔۔۔۔

“یہ میں نے پہلی بار دیکھا ہے “بہت حسین ہے یہ سب “وہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لیے بولی ۔

“انگلینڈ آکر بھی میں یہ سمندر دیکھنے سے محروم رہ جاتی بہت پیاری جگہ ہے یہ “تھینکس مجھے یہاں لانے کے لیے ۔۔۔

“آؤ تمہیں اسے اور بھی قریب سے دکھاتے ہیں “تاکہ تمہیں کوئی حسرت نا رہ جائے ۔۔۔۔

وہ اسے ساتھ لیے ایک کروز کی طرف آیا جو چلنے کے لیے بالکل تیار تھا ۔۔۔۔

سب لوگوں کے ساتھ وہ دونوں بھی اس پر آگئے ۔۔۔۔۔

وہ بہت بڑا تھا ۔۔۔سب لوگ اندر کی طرف جانے لگے جبکہ سد اسے ساتھ لیے کروز کے بیرونی حصے میں آیا جہاں سے ساراسمندر صاف دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔ہلکے سبز اور نیلے رنگ کا ملا جلا اجلا شفاف پانی آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا ۔۔۔۔دور دور تک صرف پانی ہی پانی تھا کوئی ذی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔

ٹھنڈی ٹھنڈی چلتی ہوئی ہوا سے اس کے گھنگھریالی گیسو بار بار اس کے دلکش چہرے کا طواف کر رہے تھے ۔۔۔

سد نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بالوں کی آوارہ لٹیں اس کے کان کے پیچھے اڑسیں ۔۔۔۔

“آرزو !!!؟

“جی “وہ جو قدرتی نظارہ دیکھنے میں محو تھی اس کی آواز پہ چونک کر اس کی طرف مڑی ۔۔۔۔

“پیار کرتی ہو “؟

“کس سے ؟”وہ گلے میں موجود سکارف کو ٹھیک کرتے ہوئے بولی جو ہوا سے بار بار اڑ کر اسے تنگ کر رہا تھا ۔۔۔

“انجان مت بنو “وہ اس کی کلائی تھام کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے بولا۔۔۔۔

“میں کب بنی ؟دونوں کا چہرہ اس وقت ایک دوسرے کے بہت قریب تھے ۔۔۔۔

“کتنا پیار دو گی “؟

“یہ کیسا عجیب سا سوال ہے ؟”

وہ اس کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی تگ و دو میں تھی ۔۔۔

“جواب دو “سد کے چہرے کے تیکھے نقوش بلا کے سرد تھے۔۔۔۔

“می۔۔۔میں۔۔۔ آپ کو اتنا پیار دوں گی کہ آپ کو دیوانہ بنا دوں گی ۔۔۔۔

اس نے بمشکل الفاظ ادا کیے ۔۔۔۔

“ہنہہ۔۔۔۔۔۔دیوانی تو تم واقعی بن جاؤ گی میرے پیار میں “

وہ پراسرا سا مسکرایا ۔۔۔اور اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا ۔۔۔۔۔

اور خود گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا ۔۔۔اور ایک ہاتھ پاکٹ میں ڈال کر اس میں سے ایک نفیس سی رنگ نکالی ۔۔۔۔

“Will you marry with me…..

اور اپنا ہاتھ اس کے آگے پھیلایا ۔۔۔۔

وہ اس کی جلدبازی پہ دنگ رہ گئی ۔۔۔مگر پھر کھلکھلاتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا اور اپنا نازک سا ہاتھ اس کی چوڑی ہتھیلی پہ دھر دیا ۔۔۔۔

سد نے اس کی مخروطی انگلی میں وہ نفیس سی رنگ پہنا کر اس پہ نرمی سے اپنے لب رکھے ۔۔۔

وہ اس کے عمل پر سمٹنے لگی ۔۔۔گال دہک کر گلابی سے اناری ہوئے ۔۔۔۔دل دوسو کی سپیڈ سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔

“Thanks for giving me this honor….

وہ ممنون انداز میں بولا ۔۔۔۔

سد وہ دیکھیں نا کتنی پیاری جگہ ہے بالکل کارنر ہے کروز کا ۔۔۔۔ٹاٹئٹینک مووی میں ہیرو اور ہیروئن ویسے ہی کارنر پر کھڑے ایک یادگار پوز بناتے ہیں مجھے بھی بنانا ہے ۔۔۔۔وہ اس سے فرمائشی انداز میں بولی ۔

“اوکے “وہ دونوں کارنر کی طرف آئے ۔۔۔

آرزو آگے کھڑی ہوئی اور سد اس کے پیچھے ۔۔۔

آرزو نے اپنی دونوں بانہیں پھیلائیں تو سد نے بھی اس کی طرح دونوں بانہیں پھیلا دیں ۔۔۔۔

پھر اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں میں پیوست کیا ۔۔۔۔۔

“یہ کیا سد ایسا تو نہیں تھا ۔۔۔۔وہ سد کو اپنی پشت پہ اتنے قریب دیکھ جھٹپٹا کر بولی ۔۔۔۔

“آرزو اور سد کا کچھ تو نیا ٹچ ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔

آرزو نے مسکرا کر اپنا چہرہ دوسری طرف پھیرا جہاں سورج غروب ہورہا تھا ۔۔۔دور سے ایسا لگ رہا تھا سورج آدھا سمندر سے باہر ہے اور آدھا سمندر کی لہروں میں ڈوب رہا ہے ۔۔۔۔وہ یہ منظر دیکھتے مبہوت ہوئی ۔۔۔۔

سد نے اسے مسلسل مسکراتا ہوا دیکھا تو اس کے ضبط کی طنابیں ٹوٹنے لگیں ۔۔وہ جو اسے ہر وقت روتا ہوا دیکھنے کا خواہاں تھا اسے یوں مسکراتا دیکھ اسے برداشت نا ہوا ۔۔۔۔اسے کہاں گوارہ تھا کہ وہ اس کے سامنے مسکرائے ۔۔۔۔۔

اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے باپ کا مرا ہوا وجود دکھائی دیا ۔۔۔جو ترنگے میں لپٹا ہوا اس کے گھر آیا تھا مردہ حالت میں ۔۔۔۔اپنی دادی کی حالت یاد آئی جو اس کے باپ کی موت کا صدمہ برداشت نا کر پائی اور اپنے جوان بیٹے کی لاش دیکھ وہ بھی اسی کے ساتھ مر گئی۔۔۔۔

اپنی ماں کی حالت یاد آئی جو بھری جوانی میں ودھوا ہو چکی تھی اسے سفید ساڑھی پہنا دی گئی تھی اس کے سہاگ کی چوڑیاں توڑ دی گئیں تھیں ۔۔۔دنیا والوں نے اس پر رنگ حرام کردئیے تھے ۔۔۔۔اس نے انہیں کی بے رنگ زندگی کو دیکھ کر کینوس پر رنگ اتارنے شروع کردئیے ۔۔۔وہ کیسے بھول جاتا یہ سب ۔۔۔۔اس کے دماغ نے اسے اس کے یہاں آنے کا مقصد یاد دلایا ۔۔۔۔وہ پل بھر میں صدیوں کا سفر طے کیے حال میں لوٹا ۔۔۔۔۔

اس نے گہرا سانس لیے خود کو نارمل کیا ۔۔۔۔۔

“کیا کرسکتی ہو میرے لیے؟؟”Sid.

“جان دے سکتی ہوں”آرزو۔

” پھر جان ہی تو مانگ رہا ہوں “

“دے دو !

اس کے لبوں پہ رینگتی ہوئی پراسرار مسکراہٹ پل بھر میں وحشت زدہ آواز میں بدلی۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ خود کو سنبھال پاتی کسی نے اسے چلتے ہوئے کروز سے گہرے سمندر میں دھکا دیا ۔۔۔۔

چند لمحوں کا کھیل تھاوہ ہوا میں معلق لہراتی ہوئی سمندر کی گہرائیوں میں ڈوبنے لگی ۔۔۔۔۔

وہ سمندر کی لہروں میں ادھر سے ادھر ڈولنے لگی ۔۔۔ہاتھ پاؤں چلانے لگی خود کو بچانے کے لیے مگر سمندر کی تیز لہریں اسے اپنے ساتھ بہا کر لیے جا رہی تھیں۔۔۔۔اس کے ناک ،کان اور منہ میں پانی بھرنے لگا ۔۔۔سوئمننگ کے ساتھ اس کا دور دور تک کوئی واسطہ نا تھا ۔۔۔۔

زیادہ دیر تک وہ ان تیز لہروں کا سامنا نہیں کر پائی اور خود کو بے حال ہوتے ہوئے ان لہروں کے سپرد کردیا ۔۔۔۔۔