Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 6)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

” حرعین تم ابھی تک ایسے ہی بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔ پلیز ہمت کرو بیٹا ابھی سے ہمت مت ہارو تھوڑا وقت لگے گا لیکن تم دیکھنا سب ٹھیک ہوجائے گا مان جائے گا اکبر۔۔۔۔۔۔”

انیقہ اس وقت اپنے مجازی خدا موسی کے لئے پانی لینے کے لیے باہر آئیں تو حرعین کے کمرے کی لائٹ آن دیکھ کر اسی کے کمرے میں آ گئیں۔۔۔۔۔۔ رونے کے باعث اس کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں۔۔۔

” مما وہ نہیں مانے گا ۔۔۔۔۔۔۔”

حرعین نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں اپنی والدہ سے کہا تو انیقہ کو اس کی حالت پر بہت ترس آیا۔۔۔۔۔

وہ گاڑی میں پچھلے 2 گھنٹوں سے بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا ۔۔سیگریٹ کا دھواں پوری گاڑی میں پھیل چکا تھا ۔۔۔۔

” میں چاہتی ہوں اب تمہارے اور حرعین کے نکاح کے فرض سے سبکدوش ہو جاؤں۔۔۔تاکہ مرنے میں آسانی ہو ۔۔۔۔شبنم گیلانی کے ہاسپٹل میں کہے گئے الفاظ ابھی بھی اس کے کانوں میں گونج رہے تھے ۔۔۔۔۔

جینز اور ٹی شرٹ پہنے ۔۔۔ بڑھی ہوئی بئیرڈ ۔۔ سفید رنگت ۔۔۔ آنکھیں سرخی مائل جیسے کئی راتوں سے سویا نہیں ہو ۔۔ چہرے پہ بے انتہا سنجیدگی لیے ہوئے تھا ۔۔۔وہ وجیہہ ترین مردوں کی صف میں اول نمبر پر تھا۔۔۔۔

اب اس کی گاڑی کا رخ مسجد کی جانب تھا۔۔۔۔۔

صبح کے 6 بجے کا وقت تھا جب حرعین کی آنکھ کھلی رات اسے پتہ ہی نہ چلا وہ کب روتے روتے سو گئی کمرے میں وہ اکیلی تھی۔

ایک بار پھر اسے اپنی قسمت پہ رونا آیا بیڈ پر بیٹھی وہ اپنا سر گھٹنوں میں دیے پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔۔

پھر ہمت کیے اٹھی اور ہر غم بھلائے اپنی قسمت کا فیصلہ اللّٰہ تعالیٰ پہ چھوڑے شاور لینے چلی گئی ۔۔۔۔۔

” حرعین بی بی آپ کو باہر سب ُبلا رہے ہیں ناشتے کے لئے ۔۔۔”

حورین واش روم سے نکل کر شیشے کے سامنے کھڑی یونیورسٹی کے فئیر ویل پارٹی میں جانے کے لئے جلدی جلدی تیار ہو رہی تھی بیل باٹم پلازو پر گھٹنوں تک آتی فراک پہنے شانے تک آتے بالوں کو کیچر میں قید کیے وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔

” آ رہی ہوں آنٹی آپ چلیں ۔۔۔۔۔”

حرعین تھوڑا ملازمہ کی جانب مڑی اور جواب دیا۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ اپنی تیاری مکمل کیے باہر آئی تو سب ڈائننگ ٹیبل کے گرد موجود تھے ۔۔۔۔

انیقہ اس کی والدہ ،جنت اس کی تائی جان ،موسی گیلانی اس کے والد،عیسی گیلانی اس کے تایا جان ، اور شبنم گیلانی اس کی دادی جان ۔۔۔

اس نے صرف جوس پینے پر اکتفا کیا ۔۔

اس نے جب محسوس کیا کہ وہ ہی اس وقت سب کی مرکز نگاہ بنی ہوئی ہے تو اس نے گھبرا کر سب پر ناقدانہ نگاہ ڈالی ۔۔۔۔

“آج سے پورے دو ماہ بعد جب اکبر چھٹی پر آئے گا تب تم دونوں کے نکاح کی تقریب رکھ لی جائے گی۔

شبنم گیلانی نے اس بات کہ ذریعے گویا اس کے سر پہ بم پھوڑا ۔۔۔۔

“کیا سچ میں ؟وہ خود پر قابو نہ رکھ پائی اور جھٹ پوچھ بیٹھی ۔۔۔

شبنم گیلانی نے تائیدی انداز میں سر اثبات میں ہلایا اور خفیف سا مسکرا دیں ۔۔۔۔

حرعین کی تو دلی مراد بر آئی تھی ۔۔۔یہ بات سن کر اس کی باچھیں کھل گئیں ۔۔۔۔اور دل میں لڈو پھوٹنے لگے۔۔۔

وہ سرشاری کی کیفیت میں مبتلا تھی۔۔۔۔

سب اس کے چہرے کے پر خوشی کے رنگ بخوبی محسوس کر پا رہے تھے

دو ماہ بعد :

آج کی صبح روشن اور چمکدار تھی۔موسم تبدیل ہو رہا تھا۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں موسم کو خوشگوار بنا رہی تھیں گھر میں ایک شور سا برپا تھا ہر کوئی ناشتے کے بعد آج نکاح میں پہنے جانے والے کپڑوں کی تیاریوں میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔

عیسی گیلانی کیٹرنگ کا انتظام دیکھ رہے تھے ،جبکہ موسی گیلانی ڈیکوریشن اور مہمانوں کی سٹنگ کا۔

جنت گیلانی اپنے کمرے میں تھی جب کہ شبنم گیلانی۔۔ اکبر کے ساتھ نکاح سے پہلے غرباء میں کچھ چیزیں تقسیم کرنے گئیں تھیں۔ اُس دن کے بعد سے حرعین کا اکبر سے سامنا نہ ہوا تھا۔ وہ مطمئن تھی اس رشتے پہ۔مگر کہیں دل میں ڈر بھی تھا اکبر کے روئیے کو لے کہ۔ نکاح کا انتظام گھر میں ہی کیا گیا تھا۔

جلد ہی سب لوگ تیار ہو کے گیلانی ہاؤس کےہال میں آ گئے ۔حرعین بھی اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھی ۔۔۔ایک ماہر بیوٹیشن اسے تیار کر چکی تھی ۔۔۔کسی پرسنل ریزن کی وجہ سے وہ اسے جلدی تیار کیے وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔اس وقت حرعین ایک قد آدم آئینے کے سامنے بیٹھے اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

اُس نے سرخ رنگ کا بنارسی شرارہ زیب تن کیا تھا جو کہ جنت نے اپنی بہو کے لیے پسند کیا تھا۔۔۔۔کانوں میں چھوٹے چھوٹے جھمکے ،گلے میں گلوبند اور کلائیوں میں جڑاو کنگن پہنے ،بالوں کا جوڑا بناکر نفاست سے کیا گیا میک اپ اس کے حسن کو مزید دو آتشہ بنا رہا تھا۔ہمیشہ سادہ سی رہنے والی حرعین آج سجی سنوری پہلے سے بہت مختلف لگ رہی تھی۔ وہ خود کو دیکھتی ہوئی مُسکرائی ۔۔

اور باہر جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھی کہ ایک دم سے اُس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا وہ گِر جاتی مگر کوئی اُس کی کے چہرے پہ سیاہ رنگ کا بھاری کپڑا ڈالے اسے اپنی گرفت میں لے گیا ۔۔۔۔

اس کے منہ پہ کلوروفارم والا رومال رکھے اسے بے ہوش کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔اس نے مقابل سے خود کو چھڑوانے کے لیے بھرپور مزاحمت کی مگر بے سود وہ تھوڑی ہی دیر میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی ۔۔۔۔

اکبر گیلانی نے آف وائٹ کلر کی شیروانی پہن رکھی تھی جس میں وہ وجاہت کا شاہکار لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔

شبنم گیلانی نے سب انتظامات چیک کیے اور سب ٹھیک دیکھ کر گہرا سکون بھرا سانس لیا ۔۔۔سبھی مہمان آچکے تھے اکبر ہال میں بنے سٹیج پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔۔

انیقہ گیلانی اور جنت گیلانی دونوں حرعین کو لینے اس کے کمرے کی طرف بڑھنے لگیں تو ثوبیہ اپنی جگہ سے اٹھی اور ان دونوں کو روکا ۔۔۔۔

“آپ رکیں میں لے کہ آتی ہوں ۔۔۔۔”

ان دونوں نے مسکرا کر اسے اندر جانے کا راستہ دیا ۔۔۔۔۔

ثوبیہ نے حرعین کے کمرے میں قدم رکھا تو اسے چہرے پر گھونگھٹ اوڑھے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔

“تم نے تو ہم سے بھی چہرہ چھپا لیا ۔۔

لگتا ہے ہماری دیوارنی جی سب سے پہلے اپنا چہرہ اپنے دلہا میاں کو دیکھانے کا اشتیاق رکھتی ہیں “

اس نے گھونگھٹ میں چھپے ہوئے ثوبیہ کے سوال پر صرف اثبات میں سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا ۔۔۔۔

ثوبیہ اس کا بھاری لباس اٹھائے اسے چلنے میں مدد دیتے ہوئے اپنے ساتھ باہر سٹیج تک لائی ۔۔۔۔

سرخ زرتار عروسی لباس ،اور خوشبوؤں میں بسا بسایا وجود دھڑکتے دل سے سب کے درمیان موجود تھا ،

کچھ ہی دیر میں اس کے بیٹھنے کے بعد مولانا صاحب نے نکاح کا آغاز کیا۔۔۔

حرعین بنت علی حیدر کیا آپ کو اکبر گیلانی ولد موسی گیلانی

بعوض حق مہر پانچ لاکھ روپے، سکہ رائج الوقت اپنے نکاح میں قبول ہے۔

مولانا صاحب نے پوچھا ۔۔۔

شدید مخمصے کا شکار ہوئی “وہ”

اکثر پاکستانی ڈراموں میں دیکھا تھا کہ اس وقت لڑکیاں قبول ہے کہتی ہیں ۔۔۔اگر یہ غلط ہوا تو ؟

گھونگھٹ اوڑھے ہوئے “وہ” اسی کشمکش میں پھنسی ہوئی تھی کہ کیا جواب دے ۔

جب پیچھے سے حرعین کی والدہ انیقہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

“بولو بیٹا قبول ہے “

اس کی سانس میں سانس آئی ۔۔۔

“قبول ہے “دھیمی آواز میں کہا گیا ۔۔۔

جو بمشکل ہی مولانا صاحب کو سنائی دیا ۔

تین بار یہی کلمات دہرائے گئے ۔۔۔

پھر وہی کلمات دلہا بنے اکبر گیلانی نے ادا کیے ۔۔۔۔

چاروں طرف بارکباد کا شور ُاٹھا۔۔۔

حرعین جو چکراتے سر اور لڑکھڑاتے قدموں سے وہاں پہنچی اپنی بچپن کی محبت اکبر گیلانی کے پہلو میں کسی اور کو دلہن کے روپ میں سجے دیکھ توازن برقرار نا رکھ سکی اور لہراتی ہوئی نیچے گری ۔۔۔۔۔

سب کی نظریں اس پر پڑیں تو وہاں موجود ہر فرد بھونچکا رہ گیا۔

اکبر گیلانی کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔۔۔

سب سے پہلے انیقہ گیلانی بھاگ کر اس کے پاس پہنچی ۔۔۔۔اور اسے سہارا دئیے اٹھایا ۔۔۔۔

وہ خود کو سنبھال کر زخمی ناگن کی طرح پھنکارتی ہوئی دلہن پر جھپٹی ۔۔۔۔۔

“کون ہو تم ؟؟؟میں تمہاری جان لے لوں گی ۔۔۔اکبر صرف میرا ہے ۔۔۔

صرف میرا ۔۔۔۔۔وہ پھولے ہوئے سانسوں سے اسے جھنجھوڑتے ہوئے غرائی۔۔۔۔

دلہن نے اس کے جھنجھوڑنے پر حرعین کے دونوں شانوں پر ہاتھ رکھے اسے خود سے پیچھے دھکیلا ۔۔۔۔

دھکا اتنا زور کا تھا کہ وہ اچانک اس افتاد پر خود کا توازن برقرار نا رکھ سکی ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ پھر سے گرتی انیقہ گیلانی نے اپنی بیٹی کو سہارا دیا ۔۔۔۔

“رام قسم !!!ہمیں ہاتھ بھی لگایا نا تو ہاتھ کے ساتھ ساتھ تمہارا منہ بھی توڑ کر رکھ دیں گے ۔۔۔۔

اتنے سارے لوگوں کے سامنے ہماری شادی ہوئی ہے ۔۔۔اب اکبر صرف میرا ہے ۔۔۔۔۔

اس کی دھمکی آمیز چنگھاڑتی ہوئی آواز سب کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔

سب کے دماغ تو اس کے “رام قسم”کے الفاظ پر ہی اٹک کر رہ گئے تھے ۔۔۔۔

اس نے چہرے پر پڑا گھونگھٹ ہٹا کر کہا ۔۔۔۔۔۔

سفید و سرخ رنگت اوپر سے گرے آنکھیں ۔۔۔۔۔حُسن کے لحاظ سے وہ لڑکی کسی پرستان کی مخلوق لگی ۔۔۔۔

“اے لڑکی تم ہندو ہو ؟؟؟؟

گھر کی سربراہ شبنم گیلانی جو کب سے خاموش تماشائی بنی سب دیکھ رہی تھیں۔۔۔بالآخر زبان پر پڑے ہوئے قفل کو توڑے ۔۔۔اس پر دھاڑیں ۔۔۔۔۔۔

وہاں موجود ہر شخص ساکت ہوا ۔۔۔۔

اکبر کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق نظر آئی وہ تو اسے یوں اچانک سامنے دیکھ سکتے میں آ گیا۔۔۔۔

چاروں طرف جیسے خاموشی چھا گئی ۔۔۔۔ہر کوئی اس کے جواب کا منتظر تھا

“ہم ہندو ہیں یا مسلمان اس کیا فرق پڑتا ہے ؟شادی تو ہماری ہی ہوئی ہے نا ۔۔۔وہ تفاخر بھرے انداز سے بولی ۔

“اے لڑکی بکواس بند کرو مولوی صاحب نے نکاح نامے پر حرعین کا نام لکھا ہے ۔اور نکاح نامے کے الفاظ میں بھی حرعین کا ہی نام لیا گیا تھا ۔۔۔تو شادی میری بیٹی کی ہی ہوئی ہے انیقہ گیلانی نے تلخ انداز میں کہا۔”

“مولوی صاحب آپ ہی انہیں بتائیں سچ کیا ہے ؟؟؟وہ ابرو اچکا کر بولی ۔

“جو نکاح کے لیے قبول ہے کہے اور جو دستخط کرے اصل میں نکاح اسی کا ہوتا ہے نام خواہ کسی کا بھی ہو ۔۔۔مولوی صاحب نے وضاحت کی ۔۔۔۔”

“اگر یہ لڑکی ہندو ہے تو اس کا نکاح کسی مسلمان سے کیسے ہو سکتا ہے ؟ موسی گیلانی نے رعب دار آواز میں کہا ۔

“میں مسلمان ہوں “کوئی شک ہے تو کلمہ سنا دوں ؟وہ لڑکی پختہ لہجے میں بولی ۔۔۔۔

“تم یہاں کیسے ؟؟؟؟

وہ جو کب سے خاموش تماشائی بنا سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اس کی طرف بے یقینی سے دیکھ کر بولا

“تم جانتے ہو اسے “؟؟؟؟انیقہ گیلانی کی درشت آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔

اسے چھوڑ کیسے دیا انہوں نے ؟؟؟

کیا اس کی کوئی غلطی نہیں تھی ؟؟

اب یہ لڑکی میرے نکاح میں آچکی ہے میں اس کے بارے میں کوئی بھی غلط بات کر کہ بنا تحقیق کیے اس کا کردار سب کی نظروں میں مشکوک نہیں کرنا چاہتا۔۔۔یہ نا ہو مجھے بعد میں پچھتانا پڑے ۔۔۔اس سے تو میں اکیلے میں نپٹوں گا ۔۔۔وہ دل میں سوچ رہا تھا ۔۔۔۔

“تم اس خوبصورت چڑیل سے شادی کرنا چاہتے تھے نا اسی لیے مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے تھے” ۔۔۔۔وہ رندھے لہجے میں جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگی ۔۔۔۔

“ایسی کوئی بات نہیں ،جیسا تم سوچ رہی ہو”اس نے اپنے کردار پر لگے ہوئے الزام کی صفائی پیش کرنا چاہی ۔۔۔

“ٹھیک ہے میں مان لیتی ہوں کہ تم اسے نہیں جانتے تو اپنی سچائی ابھی ثابت کرو ۔۔۔۔۔

“اگر ایسا کچھ نہیں تو ابھی کہ ابھی حرعین سے نکاح کرو “انیقہ گیلانی نے اپنی بیٹی کے لیے یہ کڑوا گھونٹ بھرنے کا سوچا ۔۔۔

“لیکن اکبر کا نکاح تو ہوگیا “جنت گیلانی نے حیرت سے کہا ۔۔۔۔

“تو کیا ہوا ۔۔۔اسلام میں مردوں کو چار شادی کرنے کی اجازت ہے “

اکبر جو اس وقت دوہری مشکل کا شکار تھا ۔۔۔۔۔کچھ اس جس نے نکاح دھوکے سے نکاح کیا تھا اسے بھی مزہ چکھانا تھا اور کچھ اپنے بڑوں کی خوشی کے لیے بھی اس نے ایک فیصلہ لیا۔۔۔

“مولوی صاحب آپ حرعین سے میرا نکاح پڑھائیں “وہ سپاٹ انداز میں بولا۔۔۔۔اس وقت اس کا چہرہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا ۔

How dare you?????.

“یہ تم کیا کر رہے ہو ؟؟؟میرے ساتھ ایسا مت کرو ۔۔۔۔میں تمہیں کسی کے ساتھ بانٹ نہیں سکتی ۔۔۔تم صرف میرے ہو ۔۔۔۔وہ ِچلاتی ہوئی اکبر پر چھپٹی۔۔۔۔۔

اکبر نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ میں قابو کیا ۔۔۔۔

اسے صوفہ پر اپنے ساتھ بٹھا کر قابو کیا ۔۔۔تاکہ وہ اس کاروائی میں زیادہ خلل نہ ڈالے ۔۔۔۔

وہ اس کی مضبوط گرفت میں بری طرح مچل رہی تھی ۔۔۔

مگر جب اکبر کے ہاتھوں پہ نظر پڑی جہاں اس کے ہاتھوں کو وہ اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لیے ہوئے تھا ۔۔۔

وہ اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گئی۔۔۔۔مگر نظریں اس پہ ہٹنے سے انکاری تھیں ۔۔۔۔

آف وائٹ شیروانی زیب تن کیے وہ کسی ریاست کے مغرور شہزادے سے کسی طور کم دکھائی نہ دے رہا تھا ۔۔۔

“آپ شروع کریں “اس نے مولانا صاحب کو خاموش دیکھ کر کہا ۔

مولانا صاحب نے نکاح کے کلمات دہرائے ۔۔۔پھر دونوں طرف سے ایجاب و قبول کا سلسلہ ختم ہوا ۔۔۔۔۔

اکبر کے ایک طرف دلہن بنی حرعین بیٹھی تھی تو دوسری طرف ” وہ “