Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 16)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

“تھینکس “

اس کے کمینٹس پہ جھٹ ریپلائے آیا۔۔۔

اس کا ریپلائے دیکھ آرزو تو خوشی سے جھوم اٹھی ۔۔۔ ۔۔۔

وہ سیدھی ہو کہ بیٹھی اور بار بار یہ لفظ منہ میں دہرانے لگی۔ ۔۔

“تھینکس ….تھینکس “…….

“سچ میں اس نے مجھے ریپلائے کیا ؟؟؟اسے اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل لگا ۔۔۔۔

اس نے جھٹ آئی بی جا کر میسج کیا۔

“”اتنا چھوٹا سا تھینکس ؟؟؟”

دوسری طرف سے اس کا میسج سین ہو چکا تھا مگر کوئی ریپلائے نہیں آیا ۔۔۔۔

“آپ کو پتہ ہے ۔کتنا برا لگتا ہے جب کوئی مسیج سین کر کہ ریپلائے نا کرے “آرزو نے ناراضگی والے ایموجی کے ساتھ یہ میسج سینڈ کیا۔۔۔۔۔

دو منٹ یونہی گزر گئے ۔۔۔وہ آن لائن نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔

“آپ چاہتی کیا ہیں “؟

دوسری طرف سے روکھا سا ریپلائے آیا۔

“آپ کو “پہلے ٹائپ کیا پھر خود ہی سر پہ چپت لگا کر اپنی جلد بازی پہ خود کو ڈپٹا ۔۔۔۔۔

“آپ کو دیکھنا چاہتی ہوں ایک بار “

آرزو نے لکھ کر سینڈ کیا ۔۔۔۔۔

“آمنے سامنے ملاقات ہوگی “دوسری طرف سے جواب موصول ہوا۔۔۔

“کیا ؟؟؟؟آپ سچ میں مجھ سے ملیں گے ؟؟”اس نے بے یقینی سے میسج ٹائپ کر کہ بھیجا ۔۔۔۔

“کوئی شک “؟

مقابل نے سینڈ کیا۔۔۔

“پھر کب اور کہاں ملیں گے “؟

“وقت آنے پر ۔۔۔۔۔”

وہ میسج کیے آف لائن ہو چکا تھا۔۔۔۔

آرزو ٹیسٹ کی تیاری بھلائے فون ہاتھ میں لئیے کئی بار اس کے چھوٹے چھوٹے ریپلائے پڑھتی رہی ۔۔۔کافی کا مگ ویسے کا ویسے ہی پڑا رہ گیا۔۔۔۔

اور وہ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے میٹھی نیند میں کھو گئی۔۔۔۔۔

“عائشہ اور حیدر کے پیپرز ۔۔۔۔۔۔

اکبر نے رات کو اپنے اور آن فاطمہ کے مشترکہ کمرے میں قدم رکھا تو

سامنے کا منظر دیکھتے ھی باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔۔

آن فاطمہ جو ہر وقت سادہ سے کپڑوں میں سر پہ ہمہ وقت دوپٹہ لیے ہوتی وہ آج نائیٹی میں ملبوس لبوں پہ لپسٹک لگائے آئینے کے سامنے کھڑی اپنے سنہرے بالوں کو سلجھا رہی تھی ۔۔۔۔

“یہ میں کسی غلط کمرے میں تو نہیں آ گیا ؟؟؟اکبر کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تو آن نے مڑ کر دیکھا مگر اسے دیکھتے ہی اپنی تیاری کے پیش نظر نگاہیں جھکا لیں ۔۔۔

“بالکل ٹھیک ہے “وہ آہستگی سے بولی ۔

“اگر کمرہ ٹھیک ہے تو اس میں رہنے والے مکین کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔۔۔”اتنا بڑا بدلاؤ کس خوشی میں ؟؟؟؟اکبر بستر پہ آکر بیٹھے ہوئے بولا ۔۔۔

“کسی کی خاموشی کو توڑنے کے لیے کبھی کبھی انسان کو ایسا قدم اٹھانا پڑ جاتا ۔۔۔۔آن نے ڈریسر سے پڑا ہوا پرفیوم اٹھایا اور خود پہ سپرے کیا ۔۔۔پھر ویسے ہی چلتی ہوئی اکبر کے پاس آئی اور اس پر بھی سپرے کیا ۔۔۔نظریں ملانے سے گریز برتا گیا۔۔۔۔

“لائٹ آف کردو مجھے نیند آ رہی ہے “اکبر اس کا ہوشربا سراپا نظر انداز کرتے ہوئے آنکھوں پہ بازو رکھے ہوئے لیٹ گیا ۔۔۔۔

آن بے آواز آنسو بہانے لگی ۔۔۔اور جا کر سوئچ بورڈ کا بٹن پریس کیا سارا کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا ۔۔۔۔

وہ چلتی ہوئی بستر پہ آئی اور اپنی خالی جگہ پہ کروٹ کے بل لیٹ گئی ۔۔۔

اس کا رونا کم ہونے کی بجائے بڑھتا گیا۔۔۔اب اس کی سسکیاں کمرے میں گونجنے لگیں ۔۔۔۔

اکبر نے آنکھوں سے بازو ہٹا کر اسے دیکھا۔۔۔۔

پھر ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔۔

“کیوں کرتی ہو ایسا جب سہنے کی ہمت نہیں “؟

“آ۔۔۔۔آپ مجھ سے بات کریں مجھ پہ غصہ ہوں جو جی میں آئے وہی کہیں مگر پلیز مجھے یوں خاموشی کی مار مت مارا کریں ۔۔۔۔اگر کچھ دیر اور آپ ناراض رہتے تو قسم سے میں نے ختم ہو جانا تھا “وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔۔

پھر تھوڑا سا اٹھ کر ہمیشہ کی طرح اس کی تھوڑی پہ لب رکھے ۔۔۔۔

“میڈم تھوڑی کے علاؤہ بھی باقی جگہ بھی آپ کی ملکیت میں ہیں کبھی انہیں بھی چھو کر مان بخشیں ۔۔۔۔

“اکبر بہت خراب ہیں آپ “وہ روہانسی آواز میں اس کے سینے پہ ہلکے سے مکا مار کر بولی۔۔۔۔

“آج تو آپ نے اچھے بھلے شریف آدمی کو بھٹکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔”اکبر نے اس کے کان کے قریب جاتے ہوئے خمار زدہ آواز میں کہا۔۔۔۔

“پتہ ہے مجھے کتنے شریف ہیں آپ ۔۔۔

“اچھا جی بتائیں کیا بے شرمی کی میں نے ؟؟؟

پتہ نہیں ۔۔۔۔می۔۔۔میں ابھی چینج کر کہ آ۔۔۔۔

آن نے اس کے پاس سے اٹھنا چاہا۔۔۔۔

“اس کی ضرورت نہیں “اب منایا ہے تو پوری طرح مناؤ ۔۔۔۔

اکبر نے کسی قیمتی متاع کی طرح خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔

“”عائشہ اٹھ بھی جاؤ یار دیکھو نہ کتنا وقت ہو گیا ہے۔۔۔روز تمہاری وجہ سے میں کالج سے لیٹ ہوجاتی ہوں ۔۔۔۔۔بس بھی کرو یار ۔۔۔اتنا سو کیسے لیتی ہو ؟؟؟

“قرت العین سوئی ہوئی عائشہ کے پاس جاکر اسکو اٹھاتی ہوئی بولی تھی جو اسکے اتنے بار اٹھانے پہ بھی نہیں اٹھ رہی تھی..

“”یار قرت سونے دو نہ تھوڑی دیر اور پلیزز !!!!!

وہ نیند سے بوجھل آواز میں بولی۔۔۔

“عائشہ تم اٹھ رہی ہو یا نہیں ورنہ میں جو اب کروں گی نہ یقیننا تمھیں بلکل اچھا نہیں لگے گا.یہ پانی سے بھرا ہوا جگ تم پہ انڈیل دوں گی ۔۔۔۔

“اس بار قرت العین نے اسکے اوپر سے کمفرٹر ہٹایا اور اسکو وارننگ دینے والے انداز میں بولی تھی.

“”یار کیا پریشانی ہے تمھیں کبھی تو مجھے سکون سے سونے دیا کرو ابھی تو میری آنکھ لگی تھی اور تم شروع ہو گئی اٹھ جاؤ اٹھ جاؤ …

“عائشہ جھنجھلا کر اٹھ بیٹھی تھی اور سخت نظروں سے اسکو گھورا تھا..

“خود تو تمہیں نیند آتی نہیں۔۔۔اور مجھے سونے نہیں دیتی ۔۔۔۔

“عائشہ کمر پہ ہاتھ رکھ کر لڑاکا انداز بولی۔۔

“ویسے تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے آج آرزو آپی جا رہی ہیں اور اس وجہ سے ہم آج کالج سے آف کرنے والے ہیں ۔۔۔

“میرا آج ایک امپورٹینٹ ٹیسٹ ہے میں چھٹی نہیں کرنے والی “قرت العین نے چلا کر کہا۔۔۔

“ایک دن چھٹی کر لینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا سسو کرلو نا یار ۔۔۔۔عائشہ اسے منانے لگی ۔۔۔کہیں اس کی وجہ اسے اسے بھی کالج نا جانا پڑ جائے ۔۔۔

“اچھا ٹھیک ہے کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو چھٹی کر لیتے ہیں کہیں آرزو آپی ناراض نا ہو جائیں کہ ہم نے انہیں ٹھیک سے الوداع بھی نہیں کیا ۔۔۔۔

قرت العین نے کہا تو عائشہ کی چھٹی کے نام پہ باچھیں کھل گئیں۔۔۔۔

قرت میں فریش ہوکر آتی ہوں پلیز میرے بال بنا دو نا “وہ لاڈ سے بولی ۔۔۔

“اچھا بنا دیتی ہوں مگر جلدی آنا واش روم میں کہیں سو مت جانا “قرت العین نے اسے پیچھے سے ہانک لگائی۔۔۔۔

عائشہ اور قرت العین ایک ہی روم شئیر کرتی تھیں اور ایک ہی کالج میں پڑھتی تھیں۔۔۔قرت العین اس سے ایک سال بڑی تھی اس لیے اس سے ایک سمیسٹر آگے تھی ۔۔۔۔۔

سوتیلی بہنیں ہونے کے باوجود بھی ان میں سگی بہنوں سے بھی بڑھ کر پیار تھا ۔۔۔۔۔۔

“گڈ مارننگ !آرزو نے صبح اٹھتے ہی اپنے موبائل سے اسے میسج ٹائپ کیے بھیجا پھر کوئی ریپلائے نا پاکر مایوسی سے وہ تیار ہونے چل دی

جب تیار ہو کہ باہر آئی تو موبائل پر نظر ڈالی کوئی نوٹیفکیشن آیا ہوا تھا اس کی آنکھوں میں چمک آئی۔۔۔

“اوہ شٹ واچ تو اندر ہی بھول آئی وہ واپس واش روم میں گئی واچ لینے ۔

علی جو اسے جلدی آنے کا کہنے کے لیے اس کے روم میں آیا تھا سامنے پڑے ہوئے موبائل کی سکرین روشن دیکھی تو نا چاہتے ہوئے بھی اس نے یہ غیر اخلاقی حرکت کردی ہی دی ۔۔۔۔

اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو کوئی بھی لاک نہیں لگا ۔۔۔نوٹیفکیشن اوپن کی ۔۔۔۔۔۔۔کتنی دیر وہ یوں ہی دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔ جب وہ یکدم ٹھٹھکا تھا۔ ایک عجیب سا تاثر اسکی آنکھوں سمیت دل میں ابھرا تھا اور جیسے جیسے اس نے پوری چیٹنگ پڑھی علی اکبر کا دماغ چکرا کررہ گیا ۔۔۔۔۔

اس کی سرخ انگارہ آنکھیں لہو چھلکا رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ واشروم سے نکلتی ہوئی آرزو اسے اپنے موبائل کو پکڑے دیکھ کر ایک پل کے لیے اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔۔۔۔۔ وہ تیر کی تیزی سے اسکی جانب لپکی۔۔۔۔ مگر اسے پہنچنے میں بہت دیر ہوچکی تھی۔

علی نے لال بھبھوکا چہرے لیے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اپنا ضبط کھو دیتا ۔۔۔۔اس نے اپنی مٹھیاں بھینچ کر خود کو نارمل کیا۔۔۔جاتے وقت وہ کوئی بھی بدمزگی پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

اس سے اس ٹاپک پر پھر کبھی بات کرنے کا سوچتے ہوئے وہ اس کا موبائل بستر پہ اچھال گیا ۔۔۔۔

آرزو خاموش کھڑی اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

“جلدی نیچے آؤ تمہیں ائیر پورٹ چھوڑ کر مجھے بھی ضروری کام سے جانا ہے ۔”اس کی برف سی سرد آواز نے اسے چونک جانے پہ مجبور کیا ۔۔۔۔

“ہنہہ۔۔۔آیا بڑا ۔۔۔۔اپنا غصہ اپنے پاس رکھو “وہ ناک سکوڑ کر بولی ۔۔۔

وہ جو باہر نکل رہا تھا اس کی بات سن کر پلٹا ۔۔۔۔

“وقت رہتے ہی سنبھل جاؤ “

علی نے ایک تفصیلی نظر اس پر ڈالی جو جینز اور شارٹ شرٹ پہن کر گلے میں سکارف لیے ہوئے تھی ۔۔۔۔

“بیرون ملک ابھی پہنچی نہیں وہاں کے چال چلن ابھی سے اپنا لیے ۔۔۔صد افسوس !!!!

“تم جیسے لوگ ہوتے ہیں غدار جو اپنے ملک کو باہر ریپرزینٹ کرنے کی بجائے ان کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں ۔۔۔

“گھر والوں کو تو میری اس ڈریسنگ سے کوئی مسلہ نہیں تو تمہیں کیا تکلیف ہے ؟”

“فار یور کائنڈ انفارمیشن ! میں بھی اسی گھر کا فرد ہوں ۔۔۔۔

Anyway do what you want to do…..

وہ بے نیازی سے کہتے ہوئے باہر نکل گیا ۔۔۔۔آرزو اپنا بیگ لیے باہر نکلی جہاں سب اس کے منتظر تھے ۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے جنت گیلانی اور انیقہ نے اس کے سر پر دست شفقت رکھا پھر عیسی اور موسی گیلانی نے ۔۔۔حرعین اور آن فاطمہ سے ملنے کے بعد وہ اکبر کے پاس آئی تو اکبر نے بھی اسے پیار دیا ۔۔۔۔

“آپ میرے لیے آپ باہر سے کیا لائیں گی “؟عائشہ نے گرمائش کی ۔

“جو تم کہو “….

آپی ایسا کرنا آپ میرے لیے نا وہاں سے میک اپ کِٹ لانا وہ جس میں بلیک سموکی میک اپ ہوتا ہے ۔۔۔مجھے وہ کرنا ہے آپ کی شادی پہ “

میک اپ والی بات تو ٹھیک ہے مگر شادی والی بات کی تو میک اپ کینسل ۔۔۔۔آرزو مسکرا کر بولی ۔۔۔۔

“حیدر تمہیں کچھ چاہیے ؟

وہ جو خاموشی سے کھڑا تھا آرزو نے اس سے پوچھا “نو آپی آپ بس اپنا خیال رکھیے گا ۔

Have a safe journey….

تھینکس حیدر ۔۔۔۔

“ائیر پورٹ وقت پر پہنچنا ہے یا میں جاؤں ؟؟علی نے اپنی رسٹ واچ کو دیکھ کر سخت آواز میں کہا۔۔۔

آرزو نے اس چشمے کی اوٹ سے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔اور سب کو خدا حافظ کہتے ہوئے اس کے پیچھے باہر آئی ۔۔۔۔

علی نے گاڑی سٹارٹ کی اور پھر وہ دونوں ائیر پورٹ کی طرف روانہ ہوئے۔۔۔۔۔سارا راستہ خاموشی سے گزر گیا ۔۔۔

علی اس کا بیگ اٹھائے اندر آیا ۔۔۔

آرزو کا سامان چیکنگ کے لیے چلا گیا ۔۔۔

“اے چشمش یہ لو ” اس نے ایک چین اس کی طرف بڑھائی ۔۔۔

“یہ کیا ہے ؟؟؟

آرزو نے جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔۔۔۔

“یہ گرینڈ مام نے دی تھی کہ تمہیں دے دوں “

اگر انہوں نے دینی تھی تو خود مجھے دیتی تمہیں کیوں دی مجھے دینے کو ؟؟؟وہ ابرو اچکا کر پوچھ رہی تھی ۔

“لینی ہے تو لو ورنہ تمہاری مرضی “اس نے لاپرواہی سے کہا اور چین واپس پاکٹ میں رکھنے ہی لگا تھا کہ ۔۔۔

“اچھا لاؤ دو “اس نے ہاتھ آگے کیا ۔۔۔

“یہ میرا کلچ پکڑو ۔۔۔آرزو نے اس کے ہاتھ میں اپنا کلچ پکڑایا ۔۔۔۔

اور خود اس کے ہاتھ سے چین کر گلے میں پہننے لگی ۔۔۔

“اے چشمش اب تم کچھ زیادہ ہی اوور ہو گئی ہو یہ کیا بیہودگی ہے کلچ میرے ہاتھ میں پکڑانے کی سو لڑکیاں میری طرف دیکھ رہی ہیں ۔۔۔ایک تو تمہیں ساتھ دیکھ کر منہ پھیر کر چلی اور باقی تمہارا کلچ پکڑے کر مجھے جورو کا غلام سمجھ رہی ہیں ۔۔۔

“پکڑاو مرو ۔۔۔تم اور تمہاری فضول لڑکیاں جن کے پاس تم جیسے وجیہہ لوفر کو دیکھنے کے علاؤہ اور کوئی کام نہیں “وہ جل کر بولی ۔۔۔۔

اس کے نام کی اناونسمنٹ ہونے لگی تو وہ جاتے ہوئے ایک نظر علی پر ڈال کر اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔

پھر علی اکبر اسے چھوڑ کر باہر آگیا ۔۔۔۔

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍﯼ ﺗﮭﯽ ﺍن ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﺎﮞ ” ﻭﮦ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ عائشہ کتابوں میں سر دئیے بیٹھی تھی ۔۔۔

” ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﭘﻮﭼﮫ ﺭﮨﯽ ﮬﻮﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﻭ ” ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ قرت العین ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﺎﻓﯽ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ

” ﻭﮦ جب بھی سب باہر جاتے ہیں تو اپنے گھر والوں کے وہاں سے کچھ نا کچھ لے کر آتے ہیں ایسا میں ڈراموں میں دیکھا ہے ۔۔۔میں نے انہیں کہہ دیا تو کیا برا کیا ؟؟؟

” بس فرمائشیں ہی کرنا کبھی پڑھائی پر بھی توجہ دے دیا کرو لاؤ دکھاؤ کیا پڑھ رہی ہو ؟؟؟قرت العین نے اس کے ہاتھ میں موجود کتاب لینی چاہی ۔۔۔

ارے قرت کیا کر رہی ہو چھوڑو میں خودی پڑھ لوں گی مجھے تمہاری ہیلپ کی ضرورت نہیں اس نے سینے میں کتاب چھپاتے ہوئے کہا ۔۔۔

“تم اور وہ بھی پڑھائی ۔۔۔یہ سورج کہاں سے نکلا ۔۔۔

اچانک اس کی کتاب میں چھپا ہوا ڈائجسٹ کتاب سے نکل کر اس کی گود میں گرا ۔۔۔۔

“اچھا تو یہ تھی تمہاری پڑھائی ؟؟؟وہ اسے خشمگیں نگاہوں سے گھور کر پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔

“قرت بس ناول کا اینڈ ہے پلیز پڑھنے دے نا مما کو نا بتانا ۔۔۔۔پلیز نا وہ اسے منتیں کرنے لگی۔۔۔۔

“تم تو نشئیوں کی طرح منتیں کر رہی ہو جیسے تمہارا نشہ ٹوٹ رہا ہے ۔۔۔

قرت تمہیں کیا پتہ ناولز کا نشہ ۔۔۔۔۔

وہ بستر پر اوندھے منہ گرے اب کی بار بے دھڑک ہو کر ناول پڑھنے لگی ۔۔۔۔

رات کا دوسرا پہر شروع ہو چکا تھا۔یونائیٹڈ کنگڈم کا گرلز ہاسٹل پورا اس وقت اندھیرے اورنیند میں ڈوبا ہوا تھا اسی وقت کسی کی پر اسرار آنکھیں چاروں طرف گھوم کر اس ہاسٹل کا جائزہ لے رہی تھیں۔

سیاہ لباس جس میں بلیک جینز اور بلیک ہڈی پہنے ہوئے اس کا کسرتی جسم خاصا نمایاں ہو رہا تھا ۔۔۔ گرلز ہاسٹل کی پچھلی سائیڈ پہ رک کر اس نے ایک نظر فرسٹ فلور کی بند کھڑکی پہ ڈالی اور اگلے ہی پل بنا کوئی چاپ پیدا کئے وہ اس دیوار پہ چڑھ رہا تھا ۔۔۔ تیزی اور مہارت سے۔

کھڑکی کے اوپر بنی شیڈ کے سہارے ہوا میں معلق ہو کر اس نے مہارت سے بند کھڑکی کا لاک کھولا اور بنا کسی بھی قسم کی آہٹ پیدا کئے کمرے میں کود گیا۔۔۔۔

جس طرح باہر موسم سرد تھا اندر بھی خنکی تھی ۔۔۔۔ اور سامنے ہی وہ بستر میں کمفرٹر اوڑھے دنیا جہان سے بے خبر محو استراحت تھی۔

نائٹ بلب کی روشنی میں اس کا چہرہ واضح تھا۔گھنگھریالے بال تکیے پہ بکھرے ہوئے تھے۔وہ ہاتھوں میں کتاب لیے شاید پڑھتے ہوئے وہیں سو چکی تھی ۔۔۔۔اسی لیے گلاسز اس کی بند آنکھوں پر تھے ۔۔۔۔

وہ آہستہ سے چلتا ہوا اس کے قریب آ رکا ، وہ بلکل اس کی آنکھوں کے سامنے تھی جس کے لئے وہ آیا تھا۔۔۔۔ایک چین اس کی صراحی دار گردن میں جگمگا رہی تھی۔۔۔

وہ جھکا اور آہستہ سے اس کے پاس نیچے زمین پہ پنجوں کے بل بیٹھ گیا۔

پھر اس کی آنکھوں پر موجود گلاسز اتار کر ایک طرف رکھے ۔۔۔۔

اب اس کا چہرہ پوری طرح اپنی جھب دکھلا رہا ۔۔۔۔کوئی روکاوٹ نہیں تھی ۔۔۔

اس کے سرخ وسفید نرم و ملائم گال،اس کی بڑی بڑی غزالی آنکھیں جو اس وقت بند تھیں ۔۔کٹاو دار بارک ہونٹ ۔شہ رگ پہ بنا تل اس کی توجہ کا مرکز بنا ۔۔۔۔۔

تم بے حد حسین ہو مگر چہہہہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افسوس بہت بد قسمت بھی۔۔۔۔آہ ۔۔۔۔۔

اس نے ہاتھ میں موجود تیز دھار چاقو کی نوک سے اس کی پیشانی پہ بکھری گھنگھریالی زلفیں ہٹائیں تو ایسا لگا کہ جیسے بادلوں کی اوٹ سے چاند نکل آیا ہو ۔۔۔۔

ایسا نہیں تھا کہ اس نے کبھی کوئی حسین چہرہ نہیں دیکھا تھا اس نے ایک سے بڑھ کر ایک حسین صورت دیکھی تھی مگر یہ معصومیت کہیں نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔۔

یہ روشن شفاف چہرہ دیکھ کر اسے پیار بھی آیا اور پھر دل نفرت کی آخری حدود کو بھی چھو گیا ۔۔۔۔

“تم یہاں صرف میرے لیے آئی ہو میری ہو تم صرف میری اب تمھیں کوئی بھی مجھ سے الگ نہیں کر سکتا کوئی بھی نہیں “”””

اس کے کان کے قریب جھک کر مدہم سرگوشی نما آواز میں کہا۔۔۔۔

آرزو جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی اپنے قریب کسی کی موجودگی محسوس کیے جاگ چکی تھی مگر کسی کی گھمبیر اور جان لیوا آواز سن کر اپنی آنکھیں کھولنے کی ہمت نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔کسی کی پر حدت سانسیں خود کے بہت قریب محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔اس نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں سے بیڈ شیٹ کو جکڑا ۔۔۔۔

آنکھیں ہنوز بند تھیں ڈر کے باعث۔۔۔۔

“ک۔ک۔کون ۔۔ہو ۔۔تم ؟اس کے خشک گلے سے ٹوٹی پھوٹی آواز بمشکل نکلی۔۔۔

“یمراج “(جان نکالنے والا ).

پہلے کی نسبت اونچی آواز میں بولتا ایک الوداعی نظر اس پہ ڈال کر وہ کھڑکی سے باہر نکل گیا اور جس تیزی سے آیا تھا اسی تیزی کے ساتھ اندھیرے کا حصہ اندھیرے میں غائب ہو گیا۔

جیسے ہی وہ وہاں سے باہر نکلا۔۔آرزو ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی اس کا حلق پیاس سے خشک ہو رہا تھا اس نے سائیڈ ٹیبل پہ رکھا پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں ختم کر گئی۔۔۔۔

“کون تھا یہ اور کیا کہہ کر گیا ؟؟؟وہ خود سے سوال کر رہی تھی ۔۔۔۔