Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 13)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

بیس سال بعد!

سورج کی سنہری کرنیں آسمان پہ جلوہ افروز ہوئے ہر سو اپنی روشنی بکھیر رہی تھی ۔کہ گیلانی ہاؤس کی اوپری منزل کے دوسرے کمرے میں لگے سفید پردے کھڑکی سے آتی ہلکی ہلکی ہوا کے ساتھ ہل رہے تھے راؤنڈ شیپڈ بیڈ جس پہ سفید اور پرپل رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی پرپل کمفرٹر کے ساتھ ڈھکا ہوا تھا جو آدھا بیڈ سے زمین پہ لٹک رہا تھا اور آدھا اوپر تھا ۔۔۔بڑے بڑے تین چار ٹیڈی بئیرز کارپٹ کی زینت بنے ہوئے جبکہ رائٹنگ ٹیبل پر کچھ بے ترتیب اور ادھ کھلی کتابیں پڑیں ہوئیں تھیں کبرڈ کا دروازہ نیم واہ سا تھا ۔۔۔جس میں سے آدھے کپڑے باہر جھانک رہے تھے۔اور دوسری طرف کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔ٹشو پیپرز کا ڈھیر کارپٹ پہ بکھرا پڑا تھا ۔۔۔

جنت گیلانی نے گہری سانس اندر کھینچتے ہوئے اس کے قریب آئیں ۔۔۔

“آرزو بیٹا اٹھو نا ! سب نیچے ناشتے پہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں “

جی گرینڈ مام !اس نے نیند سے بوجھل مگر باریک سی آواز میں کہا ۔۔۔۔

وہ اٹھ کر بیٹھی اور کمفرٹر خود سے اتارا شب خوابی کے لباس میں ملبوس اچھی خاصی عمر کی ہونے کے باوجود بھی وہ کوئی ننھی سی گڑیا ہی معلوم ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔

وہ اٹھ کر واش روم میں چلی گئی ۔۔۔

جب باہر آئی تو اپنے کمرے کو دیکھ کر چونک گئی ۔۔۔۔

“یہ کس نے صاف کیا ؟”

“آرزو تم اتنی بڑی ہوگئی ہو مگر زرا بھی سلیقہ نہیں جب بھی تمہارے کمرے میں آؤ ہر جگہ اتنا پھیلاوا دیکھ کر تو میرا دل ہول جاتا ہے ۔۔۔اگلے گھر جاؤ گی تو سب سے باتیں کرواؤ گی مجھے ۔۔۔۔کہ دادی نے یہ پرورش کی ہے ۔۔۔۔

“تم مجھے ہی تنگ کرتی ہو تمہاری ماں ہوتی اسے اتنا تنگ نہیں کرتی نا ۔۔۔وہ خفگی سے بولیں ۔۔۔۔

“آئی لو یو گرینڈ مام “رئیلی۔۔۔۔بٹ مجھے بھی مام کی بہت یاد آتی ہے ۔

ثوبیہ کی وفات آج سے دس سال پہلے ایک کار ایکسیڈنٹ میں ہو چکی تھی تب سے آرزو حسن گیلانی گیلانی ہاؤس میں مستقل رہائش پذیر ہو چکی تھی ۔۔۔۔اور اس کی تعلیم و تربیت بھی جنت گیلانی نے کی ۔۔۔۔

“تمہاری سٹڈیز کمپلیٹ ہو چکیں ہیں آرزو اب تمہاری شادی کے لیے اچھا سا لڑکا ڈھونڈھ کہ تمہیں رخصت کردوں تو میں بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاؤں”وہ تفکر بھرے انداز میں بولیں۔

“اوہ نو گرینڈ مام ابھی مجھے سپیشلائزیشن کرنے آکسفورڈ یونیورسٹی جانا ہے پلیز ابھی مجھے شادی وادی نہیں کرنا ۔۔۔۔

“آرزو بیٹا اپنی عمر دیکھو پھر کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا ۔۔۔۔

“وہ اپنے گیلے سنہری کرلی بالوں کو آئینے کے سامنے سلجھاتے ہوئے خود کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔۔

پانچ فٹ ایک انچ قد صحت سے بھی ہاتھ کافی نہیں کچھ زیادہ ہی تنگ تھا ۔۔۔دھان پان سی چھوٹی سی گڑیا نما دکھنے والی لڑکی جس کی رنگت سرخ وسفید پرکشش چہرہ بڑی بڑی سیاہ آنکھیں ستواں ناک ،باریک لب گلابی پنکھڑیوں سے لب ،گھنگھریالے کمر تک آتے بال ،

گرینڈ مام آپ کو کہیں سے بھی میں شادی کے قابل لگتی ہوں ؟اتنی چھوٹی سی تو لگتی ہوں ۔۔۔وہ دانت تلے نچلا ہونٹ دبا کر بولی ۔۔۔۔اور آنکھوں پہ نظر کا چشمہ لگایا جو ڈریسنگ ٹیبل پہ موجود تھا ۔۔۔

“جبھی تو کہتی ہوں کچھ کھایا پیا کرو چڑیا جتنا تو کھانا ہے تمہارا ڈائٹنگ کے نام پر ۔۔۔۔

“کیا گرینڈ مام اگر ڈائٹنگ نا کروں تو موٹی ہوجاوں گی ایک تو ماشاءاللہ سے ہائٹ بھی اتنی اچھی ہے اوپر سے موٹی ہو گئی تو فٹ بال لگوں گی ۔۔۔

“لڑکی تمہاری بھی ہر کُل نرالی ہے خودی اپنے نقص گنوانے بیٹھ جاتی ہو ۔

“کیا ہوا جو قد چھوٹا ہے ۔تم کمزور ہو مگر میری گڑیا کا چہرہ تو بالکل پریوں جیسا ہے ۔۔۔۔وہ پیار سے اس کے گالوں کو چھو کو بولیں ۔۔۔۔

ایک تو یہ نظر کا چشمہ لگ گیا ہے تمہیں کتابیں پڑھ پڑھ کر ۔۔۔اب بس بھی کرو کتنا پڑھنا ہے ۔۔۔ایک دن پڑھ پڑھ کر اندھی ہو جاؤ گی ۔۔۔۔۔

گرینڈ مام …..وہ پھولے ہوئے گالوں کو خفگی سے اور پھیلاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

“مجھے بھی باتوں میں لگا دیا چلو شاباش جلدی سے تیار ہوکہ نیچے آؤ ….

“جی بس ابھی آئی “

“کیا مسئلہ ہے عائشہ اٹھو بھئی کالج نہیں جانا کیا”اس نے اپنی چھوٹی بہن کو جھنجھوڑا اور خود عجلت میں اپنے لمبے بالوں میں برش پھیر رہی تھی.

“آپی علی بھائی کے پاس نیو ماڈل کی کار ہے نا”عائشہ اسے کل سے اب تک دس مرتبہ یہ بات بتا چکی تھی اور اب بھی اٹھتے ہی یہی بات ذہن میں آئی تھی

“ہاں بہت پیاری ہے”اور اس نے ہر بار کی طرح اس بار بھی بہت تحمل سےکہا

“چلو اب ریڈی ہو کر نیچے آئو”اس نے مصروف انداز میں کہا

“آپی بابا کو آپ کہو نا مجھے بھی ویسی ہی نیو ماڈل کی کار لے کر دیں ؟ “وہ بہت آس سے بہن کو دیکھ رہی تھی

“عائشہ تم جانتی ہو سب پھر بھی بابا اس بات کو پسند نہیں کرتے لڑکیاں اکیلی ڈرائیونگ کریں آج کل حالات دیکھ ہی رہی ہو تم اپنے ملک کے لڑکیوں کے ساتھ کیسے کیسے حادثات ہو رہے ہیں وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہیں تمہیں فضول کی ضد نہیں لگانی چاہیے ورنہ میں مما کو بتادوں گی “اپنی چھوٹی بہن کو بہت تاسف سے دیکھا اور اسے مما سے ڈرانا چاہا ۔۔۔

“پلیز……. مما کو نا بتانا بابا تو چاہے کچھ نا کہیں مما نے خوب ڈانٹ پلانی ہے “عائشہ نے اپنی گرے آنکھیں سکیڑ کر کہا ۔۔۔۔

“اوکے”قرت العین نے کہا ۔۔۔

“آئی لو یو آپی”وہ یکدم خوشی سے جمپ لگا کر اس کے پاس آئی

“چلو جلدی کرو اب”بہت ضبط سے مسکراتی کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔

“قرت العین اتنی دیر سے نیچے کیوں آئی ہو؟؟؟ اور وہ عائشہ کہاں ہے”؟

حرعین کی آواز پہ قرت العین نے اپنی مما کی طرف دیکھا۔۔۔

“جی ماما آرہی ہے وہ بھی آپ بیٹھیں نا پلیز “

ڈائننگ ہال میں سب ہی موجود تھے قرت العین بھی چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گئی عائشہ بھی اس کے برابر میں ہی آ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

ایک طرف سے سیڑھیوں سے آرزو اتر کر آرہی تھی جس نے بلیو کلر کی شارٹ فراک اور کیپری پہنے شانے کی ایک طرف بے نیازی دوپٹہ رکھا ہوا تھا جو آدھا فرش کو سلامی پیش کر رہا تھا ۔۔۔۔

دوسری طرف سے علی اکبر گیلانی اپنے مخصوص انداز میں بلیو جینز اور بلیک شرٹ پہ بلیو بلیزر پہنے ہوئے پیشانی پہ بکھرے سلکی بالوں سے ہوا میں جیسے اڑتا ہوا دو دو سیڑھیاں اکٹھی پھیلانگتے ہوئے تیزی سے نیچے اتر رہا تھا ۔۔۔۔

ماشاءاللہ !آن فاطمہ نے سرگوشی نما آواز میں کہا جسکی آواز بمشکل اس کے اپنے کانوں میں سنائی دی تھی ۔

“گڈ مارننگ ایوری ون !

علی نے نیچے آکر ڈائنگ کے پاس پڑی چئیر سمبھالی اور ٹیبل پر رکھی ہوئی باسکٹ میں سے ایک چمکتا ہوا ایپل اٹھایا اور ایک بائٹ لی ۔۔۔

“بڑی مما حیدر کہاں ہے ؟”

“آج اس کی کلاسز جلدی سٹارٹ ہونی تھیں اسی لیے صبح جلدی نکل گیا ۔۔۔۔

“یہ لو آرزو تمہارا بریک فاسٹ جنت گیلانی نے اس کے سامنے بوائلڈ ایگز اور گرین ٹی کا مگ رکھا ۔۔۔۔

“آج تو میرا بوئلڈ ایگ کھانے کا من ہے ۔۔۔علی نے آرزو کے آگے سے کٹ کیے ہوئے ایگز اٹھائے جن پہ کالی مرچ چھڑکی گئی تھی ۔۔۔۔

“علی واپس کرو تم ہمیشہ میری چیزیں چھین لیتے ہو ۔۔۔وہ منہ پھلا کر بولی ۔

“آرزو کیا ہوا بیٹا انڈے ہی تو ہیں ابھی اور بوائل کر دیتی ہوں کھانے دو بھائی کو آن فاطمہ نے اسے کہا ۔۔۔۔

“مجھے نہیں کھانا کچھ بھی وہ پاؤں پٹختی ہوئی واپس روم میں جا رہی تھی ۔۔۔

“ڈئیر عینی (قرت العین )کبھی چوہیا کی ناک پہ لگا چشمہ دیکھا ہے ؟؟؟

وہ زرا اونچی آواز میں بولا تاکہ آواز جاتی ہوئی آرزو کے کانوں تک پہنچ جائے ۔۔۔۔

وہ جاتے ہوئے سیڑھیوں کے پاس پڑا گملہ پاؤں کی ٹھوکر سے گرا گئی ۔۔۔

علی بھائی کا غصہ اس بیچارے گملے پر ۔۔۔

عائشہ مسکرا کر قرت العین سے بولی ۔۔۔

“علی مت تنگ کیا کرو بڑی ہے وہ تم سے حرعین نے سے ٹوکا ۔۔۔۔

مگر علی اس کے غصے کی پرواہ کیے بنا مطمئن سا اب ایگ کا ایک پیس اٹھا کر منہ میں ڈال رہا تھا ۔۔۔لبوں پہ دھیمی سی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔

ان گزرے سالوں میں وقت گزرا تو اپنے ساتھ کچھ جیتی جاگتی ہستیوں کو بھی بہا کہ لے گیا تھا ۔۔۔۔

شبنم گیلانی رضائے الٰہی سے خالق حقیقی سے جا ملیں تھیں جبکہ ثوبیہ ایک حادثے کا شکار ہوئی۔۔۔۔

عیسی گیلانی اور موسی گیلانی ابھی بھی بزنس سنبھال رہے تھے اس لیے وہ وقت سے ہی ناشتہ کیے نکل چکے تھے ۔اکبر ہمیشہ کی طرح اپنا فرض نبھانے اپنی ڈیوٹی پر تھا فرق صرف اتنا آیا تھا کہ اب اس کی پرموشن ہو چکی تھی۔۔۔۔

حرعین کو ڈاکٹرز نے کبھی ماں نا بننے کا کہا تھا ۔۔مگر وہ اس بات سے انجان تھی ۔۔۔اور شاید قدرت کو اس کا یہی انجانا پن پسند آیا تھا جو اللّٰہ تعالیٰ نے اسے ایک بیٹی سے نوازا جس کا نام حرعین نے قرت العین رکھا ۔۔۔۔

آن فاطمہ کے دو جڑواں بچے تھے جو علی اکبر اور قرت العین سے چھوٹے تھے ۔۔۔عائشہ اور حیدر ۔۔۔۔۔۔

فیس بک لاگ ان کیے وہ سکرین کو سکرول کرتے ہوئے کسی دلچسپ چیز کی تلاش میں تھی ۔۔۔کہ ایک جگہ اس کی نظر رکی ۔۔۔۔

مگر انگلی کی تیز حرکت نے وہ منظر گزار دیا ۔۔۔۔

اس نے پھر سے سکرول ڈاؤن کیا اور اسی منظر کو ڈھونڈا ۔۔۔

جو جلدی ہی اس کی مرکزِ نگاہ بنا ۔۔۔۔

جہاں کسی کی مخروطی انگلیاں جن میں پینٹ برش پھنسا ہوا تیزی سے کینوس پر کوئی امیج بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔

“اور یہ کیا تھا اس نے لمحوں ہی لمحوں میں ایک شاہکار تیار کیا ۔۔۔۔

وہ حیران رہ گئی اس کی مہارت پر

ایک روتی ہوئی عورت کی شاندار تصویر بنی دیکھ وہ ساکت رہ گئی ۔۔۔

کچھ پل کے لیے تو ایسا لگا کہ وہ عورت سچ میں سامنے ہے اور وہ اس کے حقیقی آنسو ہیں ۔۔۔۔

کتنی ہی بار وہ بار بار اس ویڈیو کو چلا کر دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔

پہلے تو لائیو ویڈیو تھی ۔۔۔مگر پھر سیو میں جا کر دیکھتی رہی ۔۔۔۔وہ اس میں پوری طرح خود کو ڈوبا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔

جب ہوش نے سرا تھمایا تو حال میں لوٹی ۔۔۔۔چینل کا نام دیکھا جہاں لکھا تھا ۔۔۔

Sid Art.

اس نے فورا سے بیشتر اسے لائک اور فالو کیا۔۔جہاں اس کے پہلے سے ہی ون میلین سبکرائیبر تھے ۔۔۔پھر سیٹنگ میں جاکر فیورٹ میں ڈالا ۔۔۔تاکہ اسے کسی بھی ویڈیو کی سب سے پہلے نوٹیفکیشن مل سکے ۔۔۔۔

پھر اس کی بائیو میں گئی ۔۔۔۔

جہاں اس کی ڈیٹیلز میں لکھا تھا ۔۔۔۔

Dr.Sid.(ڈاکٹر)

Painting is my passion.

وہ پڑھ کر متاثر ہوئی پھر سے ویڈیو چلائی ۔۔۔۔۔

اس بار اس کی تلاش وہ ماہر تھا جس نے یہ شاہکار تخلیق کیا تھا۔۔۔۔

اس کے دل میں تجسس جاگا کہ وہ خود کیسا ہوگا ؟

اس کی نظر اس ساحر پر پڑی جس کے چہرے کا صرف سائیڈ کٹ کا کچھ حصہ ہی نظر آ رہا تھا ۔۔۔

سائیڈ سے دیکھ کر تو ستواں مغرور ناک اور کنپٹی سے کچھ نیچے سیاہ چمکتے ہوئے بال دیکھائی دئیے ۔۔۔چہرہ واضح نہیں تھا ۔۔۔۔اسے کچھ بھی ٹھیک اے دکھائی نہیں دیا تو وہ جھنجھلا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔

اس کی پوسٹ میں جا کر کئی ویڈیوز چھان ماری ۔۔۔مگر ہر ویڈیو میں اس کا یہی بے نیازی والا انداز تھا کہ وہ خود سامنے نہیں آتا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے برا سا منہ بناتے ہوئے فون بند کیے ایک طرف رکھا ۔۔۔اور خود بستر پر اوندھے منہ گر گئی ۔۔۔۔