Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 23)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔آرزو نے علی کے رشتے کو لے کر خوب واویلا مچایا مگر جنت گیلانی نے اس کی ایک نہیں سنی اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ان کی تو برسوں کی خواہش جو پوری ہونے جا رہی تھی کہ ان کے دونوں پوتی اور پوتا ان کے سامنے رہیں گے ۔بے شک ان کی عمر میں کافی فرق تھا ۔مگر انہیں اس میں کوئی مسلہ نہیں تھا وہ تو بہت خوش تھیں اکبر کے اس فیصلے پر ۔۔۔انیقہ گیلانی نے بھی اسے سمجھایا ۔۔۔آرزو بہت چیخی چلائی اپنے حق میں مگر اس کی کسی نے نہیں سنی ۔۔۔بالاخر اس نے تھک ہار کر خاموشی سادھ لی۔۔۔۔
وہ شادی کے کسی بھی کام میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہی تھی بس سب سے الگ تھلگ کمرے کی ہوکر رہ گئی تھی ۔
جبکہ عائشہ تو قرت العین کی ہر کام اور خریداری میں پیش پیش تھی ۔۔۔
قرت العین بھی بہت خوش دکھائی دے رہی تھی ۔
علی اکثر راتوں گھر سے باہر نکل جاتا اور صبح گئے لوٹتا ۔۔۔۔
نانا کرتے ہوئے بھی اکبر نے شادی کی اریجنمیٹس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
موسی گیلانی اور عیسی گیلانی بھی اس کا بھرپور ساتھ دے رہے تھے ۔
وہ تو اکبر اس بار ایک ہفتے کی چھٹی پر آیا تھا اسی لیے سب کام خوش اسلوبی سے انجام دے رہا تھا۔
آخر کو گھر میں دو دو شادیاں اکٹھی ہونا انجام پائیں تھیں ۔۔۔۔
“آن !!!!اکبر نے اسے آواز دی جو ابھی تک کچن میں موجود ملازمین سے ان کے کواٹر میں جانے سے پہلے سارا چیزیں ان کی جگہ پر رکھوا رہی تھی ۔
“جی “اس نے پلٹ کر اکبر کی آواز سن کر کہا۔۔۔
“حیدر ابھی تک نہیں آیا ؟”
“اوہ میرا دھیان ہی نہیں گیا ۔۔۔وہ اپنے سر پر چپت لگا کر بولی ۔
“وقت کیا ہوا ہے “؟
“رات کے گیارہ بج گئے ہیں “اکبر نے اسے وقت بتایا۔
“مگر وہ تو روز نو بجے تک کوچنگ سے واپس آ جاتا ہے ۔۔۔آج پھر اتنی دیر کیوں ؟؟؟ وہ منہ میں بڑبڑائی۔۔۔
“کبھی گھر کے کاموں سے فرصت مل جائے تو بچوں پر بھی توجہ دے دیا کرو “
“اکبر یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں وہ میرا بیٹا ہے میں دھیان نہیں رکھوں گی تو اور کون رکھے گا ؟؟؟وہ تھوڑا سا تلخ لہجے میں بولی ۔
“دیکھ ہی رہا ہوں گھر رہ کر تماری بچوں پر کوئی توجہ نہیں ۔۔۔
“ایسا کب ہوا ؟؟؟میں تو عائشہ اور حیدر پر برابر توجہ دیتی ہوں ۔
“فی الحال میں بحث کے موڈ میں نہیں حیدر کو کال کرو اور پوچھو کدھر ہے وہ “اکبر نے سرد مہری سے کہا ۔۔۔۔
فاطمہ اس کے انداز پر پہلو بدل کر رہ گئی ۔۔۔۔
“جتنا بیٹا میرا ہے اتنا آپ کا بھی ہے ۔آپ گھر ہیں تو آپ کیوں نہیں توجہ دے لیتے اس پر “وہ غصے میں آکر پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔اسے اکبر کے بات کرنے کا انداز زرا نا بھایا ۔۔۔کبھی کبھی تو جان وارنے کو تیار ہوتے ہیں اور اپنی مرضی نا ہو تو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں ۔۔۔ہنہہ۔۔۔۔وہ ہنکارا بھر کر اپنے روم میں آئی اور اپنا موبائل اٹھا کر حیدر کو کال ملانے لگی ۔۔۔۔
مگر ہر بار ان ریچ ایبل آرہا تھا۔۔۔۔۔
جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا اس کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا ۔
کالج میں اس وقت کافی اندھیرا تھا ۔۔۔جب وہ دونوں گیٹ سے اندر آنے کی بجائے بیک سائیڈ سے دیوار پھیلانگ کر اندر آئے حیدر کے ہاتھ میں ٹارچ تھی ۔تو فہد سائے کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ۔۔۔وہ دونوں خالی کالج میں پرنسپل کے آفس کی طرف بڑھ رہے تھے رات کے اس پہر سارے کالج میں ہو کا عالم تھا۔
چاروں طرف اندھیرا اور سناٹے کا راج تھا۔۔۔
حیدر پڑھائی میں بہت اچھا تھا مگر اس کا دوست فہد پڑھائی میں بہت کمزور تھا ۔۔۔
فہد اس سے منتیں کرنے لگا کہ حیدر اس کی مدد کرے ۔۔حیدر نے اسے پڑھائی میں مدد کی پیشکش کی مگر دو دن بعد سے پیپرز شروع ہوجانے تھے ۔۔۔۔یہ خبر سن کر فہد کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ۔۔۔۔
اس نے حیدر سے پرنسپل کے آفس سے پیپرز چوری کرنے کے لیے کہا ۔مگر حیدر کو یہ ناجائز کام کرنا کسی طور گوارا نہ تھا۔اس نے پہلے تو منع کردیا مگر جس طرح فہد نے اس کے آگے ہاتھ پاؤں جوڑے اسے ماننا ہی پڑا ۔
اب وہ دونوں پرنسپل کے آفس کے سامنے آ رکے۔۔۔
“حیدر تم اندر جا کر پیپرز نکال کر لاؤ میں باہر کھڑے ہو کر پہرہ دیتا ہوں “فہد نے آہستہ آواز میں کہا۔
حیدر ڈرتے ہوئے اندر داخل ہوا اور ٹارچ کا رخ الماری کی طرف کیے اسے کھولنے لگا ۔۔۔۔۔
پن لگا کر لاک کھولا تو وہ تھوڑی سی تگ و دو کے بعد ُکھل گیا۔
حیدر نے پیپرز ہاتھ میں پکڑے مگر آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
چوکیدار جو کالج کے گیٹ کے باہر پہرا دے رہا تھا اسے پرنسپل کے آفس میں سے آتی ہلکی سی روشنی دکھائی دی تو وہ بنا آواز کیے دبے پاؤں چلتے ہوئے اندر گیا ۔۔۔۔
وہ دونوں آفس سے باہر نکل رہے تھے کہ انہیں اس نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔۔۔اور پہلے پرنسپل کو کال ملائی پھر پرنسپل کے کہنے پر پولیس کو ۔
پولیس ان دونوں کو پکڑ کر پولیس اسٹیشن لے جا چکی تھی ۔۔۔۔
وہیں سے انسپکٹر کا فون علی کو آیا تو علی معاملہ جاننے کے لیے فورا وہاں پہنچ گیا۔۔۔۔
سارا معاملہ جاننے کے بعد وہ حیدر کی حرکت پر ششدر رہ گیا ۔۔۔مگر گھر میں وہ کسی کو بھی اس بارے میں بھنک نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔
اسی لیے اپنی سورسز کے ذریعے حیدر کی بیل کروائی اور اسے گھر لے آیا۔۔۔۔۔
“علی بھائی !!!!وہ دونوں اس وقت گاڑی میں موجود تھے اور گھر واپس آرہے تھے کہ حیدر نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔
علی خاموش رہا ۔۔۔یہ اس کی خفگی کا اظہار تھا۔۔۔۔
“میرا کوئی قصور نہیں میں بے گناہ ہوں “
“میں فہد کے کہنے پر وہ پیپرز چوری کرنے گیا تھا ۔۔۔مگر میں نے ان پیپرز کو ایک بار بھی کھول کر نہیں دیکھا ۔اور واپس وہیں رکھ دئیے ۔۔۔مجھے لگا کہ میں غلط کر رہا ہوں ۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا بھائی میرا یقین کریں ۔۔۔میں وہاں گیا ضرور تھا مگر میں نے وہاں سے پیپرز چوری نہیں کیے ۔۔۔۔وہ نم لہجے میں تڑپ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگا۔۔۔۔۔
“اپنا منہ صاف کرو گھر میں کسی کو شک نا تم پر باقی کا معاملہ میں خود دیکھ لوں گا۔۔۔۔
“اگر تم کہہ رہے ہو کہ تم بے قصور ہو تم نے وہ پیپرز نہیں چرائے تو وہ پیپرز وہاں سے گئے کہاں ؟؟؟
“بھائی میں نہیں جانتا پیپرز وہاں سے کہاں گئے ؟اگر میں چراتا تو وہ میرے پاس ہوتے نا ؟؟؟
“ہمممم یہ بھی پوائنٹ ہے ۔چلو تم پریشان مت ہو میں خود اسے ہینڈل کر لوں گا ۔مجھے یقین ہے تم پہ ۔۔۔علی نے اپنی خفگی بھلائے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔تو حیدر نے اتنے عرصے میں پہلی بار سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔
آج مہندی تھی اور ایک دن بعد نکاح مہندی کی تھیم کے مطابق سارے گھر کو گیندے کے پیلے قدرتی پھولوں سے سجایا گیا تھا دیواروں پر لڑیوں کی صورت میں اور سیڑھیوں کی ریلنگ پر بھی گول گھما کر لڑیوں کی صورت میں پھولوں کی سجاوٹ عجب بہار دکھلا رہی تھی ۔۔۔۔سارے گھر کے باہر اور راہداری پر برقی قمقمے روشن تھے ۔۔۔ہر طرف روشنیوں کی چکا چوند تھی ۔۔۔۔
باہر لان میں بڑا سا سٹیج بنوا کر دو جھولوں کا انتظام کیا گیا تھا ۔۔۔۔
جھولوں کو بھی قدرتی پھولوں سے سجایا گیا تھا ۔۔۔
ایک طرف لان میں گدے بچھا کر ان پر بیٹھنے کے لیے بڑے بڑے کشن رکھے گئے تھے ۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف مہندی پر آئے جینٹس مہمانوں کے لیے الگ سے صوفے لگائے گئے تھے ۔۔۔۔
اطراف میں پیلے اور سبز امتزاج کے ریشمی پردے لگائے تھے ۔
آفندیز نے بھی یہیں آنا تھا ۔۔۔سب نے مشترکہ فیصلہ کیا تھا کہ مہندی کی رسم اکٹھا مل کر گیلانی ہاؤس میں کی جائے گی ۔۔۔۔
“حرعین دیکھو قرت العین تیار ہوئی یا نہیں “؟انیقہ نے عجلت میں اسے پکار کر کہا۔۔۔۔
“جی مما دیکھتی ہوں “حرعین جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر قرت العین کے کمرے کی طرف اسے دیکھنے گئی ۔۔۔
“ارے کوئی آرزو کو بھی دیکھ لو اس نے بھی کپڑے بدلے ہیں کہ نہیں میری بوڑھی ہڈیوں میں دم نہیں یہ بار بار موئی سیڑھیاں چڑھنے کا “جنت گیلانی اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے دہائی دیتے ہوئے بولیں ۔۔۔
“میں دیکھتی ہوں اسے” آن فاطمہ نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھے انہیں تسلی آمیز انداز میں کہا ۔۔۔۔۔
“عائشہ تمہاری اپنی تیاریاں نہیں ختم ہو رہی باہر مہمان آگئے ہیں جلدی ان کے لیے کولڈ ڈرنکس لے کر آؤ “
علی نے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر اندر جھانکتے ہوئے کہا ۔۔۔
“یہ کیا علی بھائی شادی والے دن بھی مجھ سے کام کروائیں گے ؟؟؟
وہ روہانسی آواز میں بولی ۔
“کونسا تمہاری شادی ہے ؟؟؟جب تمہاری ہوگی سچی تم سے ایک بھی کام نہیں کرواؤں گا ۔۔۔۔چلو جلدی نیچے اور یہ پاؤڈر تو کم لگانا بالکل چڑیل لگ رہی ہو “
وہ جاتے ہوئے بھی اسے چھیڑنا نا بھولا۔۔۔
اس نے ساری تیاری کو پس پشت ڈال کے اپنا لہنگا اٹھا کر علی کے پیچھے دوڑ لگائی ۔۔۔۔
“چڑیل ہو گی وہ آپ کی ہوتی سوتی آرزو “وہ اس کے قریب سے بھاگ کر گزرتے ہوئے اپنا بدلہ چکا گئی ۔۔۔۔
“پہلی بار سچ بولا ہے “علی نے اس بات سن کر پیچھے سے ہانک لگائی ۔۔۔۔
عائشہ ٹرے میں گلاس اچھے سے سجائے باہر آئی تو لڑکے والے آچکے تھے ۔۔۔۔
علی نے اسے اشارہ کیا مسز عابدہ آفندی اور ابراہیم آفندی کی فیملی کو کولڈ ڈرنکس پیش کرنے کے لیے ۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور ریشمی لہنگے کی وجہ سے سہج سہج کر قدم اٹھاتے ہوئے ان کے قریب آ رہی تھی معا ً کہیں لہنگے میں پاؤں نا اٹک جائے اور سب کے سامنے اس کی درگت نا بن جائے ۔۔۔۔۔
اس کا یہی سہج سہج کر چلنا ہی کسی کے دل کا قرار لوٹنے کا سبب بن رہا تھا ۔۔۔۔
وہ یک ٹک اسے دیکھے گیا۔۔۔۔
لائٹ پنک اور لائٹ گرین کلر کے ریشمی لہنگا چولی زیب تن کیے ،نازک سے ٹاپس کانوں میں صراحی دار گردن میں باریک سی چین ،درمیان کی مانگ نکال کر اس میں چھوٹی سی بندیا لگائی گئی تھی اور لمبے گیسوؤں کو رنگ برنگے پراندے میں مقید کیے شانے کی ایک طرف رکھا گیا تھا ۔۔۔
اس کا چہرہ شگفتگی اور تروتازگی کی زندہ مثال لگ رہا تھا ۔۔۔۔
لائٹ پنک نیچرل میک اس کے حسن کو مزید سحر انگیز بنا رہا تھا ۔اوپر سے جان لیوا گرے آنکھیں تو اس کے دل کی دھڑکنوں کو بڑھانے کا سبب بن رہی تھیں۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم “
کیسی ہیں آنٹی آپ ؟اس نے عابدہ آفندی کے قریب آتے انہیں سلام کیا اور پھر کولڈ ڈرنکس والا ٹرے ان کے آگے کیا تو انہوں نے اسکے سلام کا جواب دیتے ہوئے ایک گلاس اٹھا لیا۔۔۔۔
پھر اس نے ایسے ہی ابراہیم آفندی اور سلطان آفندی کو بھی کولڈ ڈرنک پیش کی ۔۔۔۔
سلطان آفندی کے ساتھ ہی ایک خوبرو نوجوان بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔اس نے رسما اس کے آگے بھی ٹرے کر دیا ۔۔۔۔
“عائشہ بیٹا یہ بھی میرا ہی بیٹا ہے۔سلطان کا چھوٹا بھائی ارمان آفندی آج ہی واپس آیا ہے”
“اسلام وعلیکم!عائشہ آداب و اخلاق کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسے بھی سلام کیا ۔۔۔۔
اور کولڈ ڈرنکس والا ٹرے اس کے آگے کیا ۔۔۔۔
ارمان آفندی اسے دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ گلاس کی بجائے محترمہ عائشہ صاحبہ کی کلائی پکڑ لی ۔۔۔۔
وہ جو اس کی دلفریب آنکھوں میں کھو چکا تھا ۔۔اس کے گھورنے پر ہوش میں آیا۔۔۔
اور اپنے ہاتھ میں اس کی کلائی دیکھی تو خجالت سے مسکرا کر اسے چھوڑا ۔۔۔۔۔
“اوہ ۔۔۔سوری ۔۔۔وہ ایک ہاتھ سے بال کھجاتے ہوئے دوسرے ہاتھ سے گلاس اٹھا گیا ۔۔۔۔
وہ تیکھے چتونوں سے گھورتے ہوئے واپس پلٹ گئی مگر جاتے جاتے اس کا دل چرا لے گئی ۔۔۔۔
سلطان آفندی نے بلیک کرتا اور شلوار پر چنری پٹکا گردن میں گول گھما کر
پہن رکھا تھا ۔۔ہلکی سی بئیرڈ میں وہ بہت وجیہہ لگ رہا تھا ۔۔۔جبکہ ارمان آفندی نے بھی اسی جیسا بلیک کرتے کے ساتھ بلیک ہی جینز پہن رکھی تھی ۔
علی اکبر بھی بلیک کرتا اور شلوار میں اپنے دراز قد اور سحرکن انداز میں پیشانی پر لاپرواہی سےبکھرے ہوئے سلکی بالوں سمیت سب کے دلوں پر چھا رہا تھا ۔۔۔ہمیشہ شرارتی انداز اپنائے رہنا والے علی کے انداز میں آج عجب خامشی اور متانت جھلک رہی تھی ۔
حیدر نے بھی بلیک کلر کی شلوار قمیض پہن کر اس پہ ملٹی کلر کی واسکٹ پہن رکھی تھی ۔۔۔۔
سب لڑکیوں اور خواتین نے پیلے اور سبز امتزاج کے دیدہ زیب ڈریس زیب تن کر رکھے تھے ۔۔۔
حرعین اور آن فاطمہ دونوں ہی ایک جیسے پیلے اور ہلکے سبز رنگ کے پروقار شلوار قمیض پہنے ہوئے سر پر اچھے سے دوپٹہ جمائے ہوئے تھیں آخر کو اب وہ دونوں ساس کے رتبے پر فائز ہونے جا رہی تھیں ۔۔۔۔
“بھئی اب دیر کس چیز کی سب مہمان آچکے ہیں دلہنوں کو بھی لے آئیں تاکہ رسم شروع کی جا سکے ۔۔۔
عابدہ آفندی نے حلاوت و شیرینی سموئے ہوئے لہجے میں جنت گیلانی سے کہا ۔۔۔۔
“حرعین !!!!! آن فاطمہ !!!!جاؤ بھئی بچیوں کو لے کر آؤ ۔۔۔۔جنت گیلانی نے انہیں آواز دے کر کہا ۔
“جی ٹھیک ہے “حرعین نے جواب دیا ۔۔۔
“عائشہ جاؤ مہندی اور ابٹن والا تھال لاؤ “حرعین نے اسے آواز دی۔
“جی ابھی لائی “,وہ کہتے ہوئے اندر لاونج میں گئی جہاں تھال پڑا تھا ۔۔۔
ارے اس میں تیل تو ہے ہی نہیں وہ تیل ڈھونڈھ کر اس میں ڈالتے ہوئے باہر لائی تو آرزو اور قرت العین درمیان میں تھیں اور آن فاطمہ اور حرعین سائیڈوں پر انہیں ساتھ لیے باہر آ رہی تھیں ۔۔۔۔
قرت العین نے زرد رنگ کا لانگ فراک اور شاکنگ پنک کلر کا چوڑی دار پاجامہ زیب تن کیے ہاتھوں میں زرد اور شاکنگ رنگ کی کانچ کی چوڑیاں بھر بھر کر ڈال رکھی تھیں ۔بالوں میں گجرے لگائے کانوں میں بڑے بڑے موتیے کے بالے پہنے ہوئے لائٹ پنک کلر کے میک اپ میں بہت دلکش دکھائی دے رہی تھی ۔
جبکہ آرزو نے بھی بالکل قرت العین کی طرح لانگ فراک اور چوڑی دار پاجامہ زیب تن کیے لائٹ پنک میک اپ میں موتیے کے گجرے اور اور موتے کے ہی بالے کانوں میں ڈال رکھے تھے ۔۔۔
آرزو اپنے گھنگھریالے بالوں کی ڈھیلی سے چٹیا جس میں موتیے کی ہی کلیاں پروئی ہوئی تھی اسے شانے کی ایک طرف رکھے نظریں جھکائے ہوئے سب کی ہمراہی میں باہر آ رہی تھی ۔۔۔
دونوں نے پاؤں میں نازک سی پائلیں اور کھسے پہن رکھے تھے ۔۔۔
دونوں کو سٹیج پر لا کر جھولے پر بٹھایا گیا ۔۔۔
قرت العین کے پہلو میں سلطان آفندی بیٹھا تو آرزو کے ساتھ والی خالی جگہ پر اکبر کے اشارہ کرنے پہ علی بھی سنجیدگی سے وہاں جا کر بیٹھا ۔۔۔
کیمرہ کی لائٹس دونوں کپلز پر تھیں ۔۔۔
سب سے پہلے جنت گیلانی ۔انیقہ گیلانی اور دوسری طرف سے عابدہ آفندی نے آکر انہیں گال پر ابٹن لگایا اور ہاتھ پر پان کے پتے رکھ کر اس پرمہندی لگائی پھر بالوں میں تیل لگانے کی رسم ادا کرتے ہوئے انہیں مٹھائی کھلا کر ان کا منہ میٹھا کروایا۔۔۔۔
ان کے بعد حرعین اور آن فاطمہ نے سٹیج پر آکر مہندی کی رسمیں نبھائیں ۔۔۔۔سب مہمان بھی باری باری رسم ادا کررہے تھے ۔۔۔۔۔
سب سے آخر میں عائشہ نے پہلے علی اور آرزو کے ساتھ رسم نبھائی پھر آکر قرت العین اور سلطان کے ساتھ بیٹھی ہی تھی کہ ارمان بھی ایک ہی جست لگا کر سٹیج پر آیا ۔۔۔۔
“بہت بہت مبارک ہو بھابھی جی !ارمان نے قرت العین کو خوشدلی سے کہا اور اس کے منہ میں چاکلیٹ کا ٹکڑا ڈالا۔۔۔۔
“بھائی اکیلے اکیلے ہی شادی کررہے ہیں بندہ کسی اور کے بارے میں بھی سوچ لیتا ہے ۔۔۔
ارمان نے سلطان سے کہا۔
سلطان نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو وہ عائشہ کو نظروں میں لیے ہوئے تھا مگر بات اس سے کر رہا تھا۔
“کنٹرول ارمان !!!!کیوں اپنے ساتھ مجھے بھی بھرے مجمعے میں ذلیل کروانا ہے “پہلے میری ہوجانے دے پھر تیری بھابھی سے کہہ کر تیری بھی بات کروادیں گے “
سلطان نے اسے تسلی دی ۔
“مجھ سے اتنا صبر نہیں ہونا ۔۔۔رہنے دیں آپ سے بھی کچھ نہیں ہونا میں خودی کچھ کرتا ہوں ،وہ کہہ کر سٹیج سے اترنے لگا تو نظروں کا زاویہ ابھی بھی عائشہ پر تھا ۔
وہ سٹیج سے اترتے ہوئے بے دھیانی میں زرا سا لڑکھڑا گیا ۔۔۔۔
اسے گرتے دیکھ عائشہ کی اچانک ہنسی چھوٹ گئی اور کھکھلا کر ہنسی۔۔۔۔
اس کی نقرئی ہنسی سن کر ایسا لگا جیسے چہار سو جلترنگ بج اٹھی ہو ۔۔۔
وہ جلدی سے خود کو سنبھال گیا اور نیچے اترا ۔۔۔۔۔
اپنی مما کے پاس موجود اپنا کیمرہ لیے وہاں سٹیج کے پاس واپس آیا اور سب کی تصویریں کھینچنے لگا ۔۔۔
عائشہ جو اپنے موبائل سے قرت العین کی کچھ یادگار تصویریں بنا کر اپنے پاس سیو کر رہی تھی ۔
“ایکسکیوز می!!!!
عائشہ نے پلٹ کر دیکھا تو وہ قریب ہی کھڑا تھا ۔۔۔
“جی “اس نے سپاٹ انداز میں کہا۔
“پلیز مجھے آپ سے ایک فیور چاہیے ۔۔وہ ممنون لہجے میں بولا ۔
“جی بتائیے!!!!
“دراصل جو آپ نے تصویر لی ہے بھابھی کی وہ بہت اچھی آئی ہے ۔
“تو پھر ؟؟؟وہ سوالیہ انداز میں بولی۔
“وہ میں یہ پک بھائی کو سینڈ کرنا چاہتا گفٹ کے طور پر آپ ایسا کریں آپ بھائی کا نمبر سیو کرلیں پھر انہیں خودی یہ پک سینڈ کر دیجئے گا ۔۔۔
“ٹھیک ہے میں کردوں گی “
“ویسے آپ کے پاس سلطان بھائی کا نمبر تو ہوگا ہی ….”
“نہیں میرے پاس نہیں ہے “
“او آئی سی ۔۔۔آپ سیو کر لیں میں آپ کو لکھوا دیتا ہوں ۔۔۔
عائشہ اس کا بتایا گیا نمبر اپنے موبائل میں سیو کرنے لگی ۔۔۔
ابھی نمبر سیو ہوا ہی تھا کہ ارمان نے اس کے ہاتھ سے موبائل اچک لیا ۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے ؟؟؟لائیں ادھر دیں میرا فون ؟؟؟اس نے غصے سے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کیا۔۔۔۔
اتنی دیر ارمان اس کے فون سے اس سیو کیے گئے نمبر پر بیل کر چکا تھا۔۔۔
اس کی پاکٹ میں موجود فون رنگ کرنے لگا ۔۔۔۔
“یہ لیں میرا کام تو ہوگیا “اس نے عائشہ کا فون اس کے ہاتھ پر واپس رکھا ۔۔۔۔
“سوری یہ میرا نمبر تھا اب آپ کے پاس آگیا اور میرے پاس بھی جب بھی دل کیا بات ضرور کیجیے گا ۔”
“نہایت ہی کوئی فضول قسم کے انسان ہیں آپ “وہ اس کی گھٹیا حرکت پر تلملا کر رہ گئی ۔۔۔گھر میں شادی کا ماحول تھا وہ کسی کو بھی یہ بات بتا کر ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
اسی لیے خامشی سے واپس سٹیج کی طرف متوجہ ہوگئی ۔۔۔۔
رسمیں ختم ہوئیں تو سب خواتین اور لڑکیاں ڈھولک لے کر بیٹھ گئیں ۔۔۔
“کیوں نا لڑکے والوں سے مقابلہ ہو جائے “؟ارمان آفندی نے انہیں مقابلے کے لیے ُاکسایا ۔۔۔
“کیوں نہیں ہم لڑکی والے کسی سے کم ہیں کیا انیقہ گیلانی نے جوابا کہا ۔۔۔
“آؤ بھئی عاشو میدان میں ۔۔۔۔۔قرت اور آرزو تو دلہن ہیں یہ کام تمہیں ہی کرنا ہے ۔۔۔۔
عائشہ آکر خواتین کے درمیان میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔
دوسری طرف کچھ لوگوں کے درمیان عائشہ کی بالکل سیدھ میں ارمان بیٹھ گیا ۔۔۔۔
“مقابلے میں گانا گانا ہے یا ٹپے ؟؟؟اور
شروعات لڑکے والوں سے کسی ایک منچلے نے کہا ۔۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے تم لوگ ہی کرو اور ٹپوں کا مقابلہ ہو گا ہم بھی دیکھیں کس میں کتنا ہے دم “ایک خاتون نے کہا ۔۔۔۔تو ارمان نے ٹپہ شروع کیا ۔۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا
باغاں وچ لائے ڈیرے
صدقے اوس رب توں
جنے نین بنائے تیرے ۔۔۔
ارمان نے عائشہ کی گرے آنکھوں کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے پہلا ٹپہ بڑے جذب سے گایا۔۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا۔
کوئی چاولاں دی ِپچھ ماہیا
میں کڑی ریشم جئی تو جنگلاں دا ریچھ ماہیا ۔
عائشہ ٹپہ گاتے ہی کھکھلا کر ہنسنے لگی ۔۔۔اور باقیوں نے بھی اس کی اسے دیکھا دیکھی مذاق اڑایا۔۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا۔
کوئی چٹی چھل کانے دی
اک توں مل ماہیا نئیں لوڑ زمانے دی ۔
ارمان نے ایک اور ٹپہ گایا ۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا۔
مینوں حُسناں دی تھوڑ نئیں ۔۔
اوئے ایویں نا تو بل کھاویں ۔۔ تیرا میرا کوئی جوڑ نئیں۔۔۔۔
عائشہ نے جوابا اترا کر ٹپہ گایا ۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا
کوئی سونے دی چین ہوے نی۔
سانوں تے مار سُٹیا تیرے سلے سلے نیناں نیں۔۔۔۔
ارمان آنکھ ونگ کیے ہوئے بولا۔۔۔
وہ سب کے سامنے اس کی بیہودہ حرکت پر صبر کے گھونٹ پی کر رہ گئی ۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا ۔
اگ بلدی میں سیکاں گی۔
ایویں نا تو بن سوھنیا پہلاں مل کہ میں ویکھاں گی ۔۔۔
عائشہ خاموش ہوئی تو ایک اور لڑکی نے یہ ٹپہ گایا ۔۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا۔
تیری تھوڈی اتے تل سوھنیے۔
آپے ہی تو رکھ دینا ساڈی تلی اتے دل سوھینے۔۔۔انہیں منچلوں میں سے ایک نے ٹپہ گایا ۔۔۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا۔۔۔
گنا گوڈے نال پنیا کر
اپنی منانا اے کدی ساڈی وی منیا کر
حیدر نے اپنی باری پر یہ ٹپہ اپنی گایا ۔۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا ۔
کوئی بوتل کھل گئی اے ۔
تیرے جھوٹھے لاریاں پچھے جند میری رُل گئی اے ۔ایک لڑکے نے گایا تو ارمان نے اسے روکے خود یہ ٹپہ گانا شروع کیا ۔۔۔
چھلا میرا جی ڈھولا
کہندا ارمان اے۔۔۔
کول میرے رہ سوھنیاوے ، پیار وچ اے ضروری اے
ہوگئی دکھاں دی اخیر سوھینے نی ۔۔۔
تینوں گل لا کے رکھاں گا کہندا اے ارمان سوھنیے ۔۔۔
اس کے بے ُ تکے ٹپے پر سب نے ہوٹنگ شروع کردی ۔۔۔۔
نا تو لڑکی والے ہار ماننے کو تیار تھے نا لڑکے والے خوب ہلہ گلہ ہو رہا تھا ۔۔۔
اسی شور شرابے میں دو لوگ تھے جو اپنی ہی دنیا میں گم تھے ۔۔۔۔
سب کی نظریں ڈھولک پر تھیں اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلطان نے قرت العین کا نازک سا مہندی سے بھرا ہوا ہاتھ اپنے قبضے میں کیا ۔۔۔۔
“کیا کر رہے ہیں کوئی دیکھ لے گا ؟؟قرت العین اس کی مضبوط گرفت میں سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی پوری کوشش کر رہی تھی ۔۔۔مگر سلطان نے اس کی زور آزمائی کو ناکام بنا دیا ۔۔۔
“ان ہاتھوں کی مہندی میرے لیے ہے تو اسے چھو کر دیکھنے کا حق بھی تو میرا ہے “سلطان نے اس کے ہاتھ کو اپنے لبوں تک لے جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی جسارت کردی ۔۔۔۔
قرت العین نے سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھا ۔۔کہیں کوئی انہیں دیکھ تو نہیں رہا ۔۔۔
“ارے مسسز ٹو بی !!!!آپ اتنا ڈرتی کیوں ہیں ؟؟؟
“ابھی تو ڈرانے والا میں نے کچھ کیا بھی نہیں ۔۔۔وہ ذومعنی انداز میں بولا تو قرت العین نے شرمگیں مسکان لیے فورا سے سر جھکایا ۔۔۔
دوسرے جھولے پر آرزو اور علی ایک ساتھ بیٹھے تھے ۔۔۔
آرزو نے نظر اٹھا کر اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے علی کی طرف دیکھا ۔۔۔جس نے ایک بار بھی اس کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
آرزو نے دیکھا کہ اس کا دوپٹہ علی کے اس کے ساتھ بیٹھنے پر تھوڑا سا نیچ دب گیا ہوا تھا تو اس نے اپنا دوپٹہ نکالنے کی کوشش کی ۔۔۔۔اس کاروائی کے دوران آرزو کا ہاتھ ہلکا سا علی کے ہاتھ سے چھو گیا ۔۔۔
تو علی نے قہر آلود نظر اس پہ ڈالتے ہوئے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا۔۔۔اور وہاں سے اٹھ کر دور جا کھڑا ہوا ۔۔۔۔
عائشہ نے مڑ کر دیکھا وہ ہاتھ میں کیمرہ لیے کھٹاکھٹ تصویریں کھینچ رہا تھا۔۔۔
بار بار کیمرے کا فلیش اسے چونکنے پر مجبور کردیتا۔۔۔
بالآخر اس کے صبر کا دامن چھلکا اور وہ ساری دید لحاظ بُھلائے چل اس کی طرف آئی ۔۔۔۔
“کیا ارادے ہیں مسٹر ؟”وہ کمر پہ ہاتھ رکھے کڑے تیوروں سے ایک تیکھی اس پہ ڈال کر پوچھنے لگی۔
“ارادوں کا مت پوچھیے وہ بڑے بے ایمان ہوئے چاہتے ہیں آپ جیسی حسینہ کو دیکھ “وہ شوخ نظریں اس کے سراپے پر جمائے سٹائل سے بولا۔
“بڑے ہی کوئی دل پھینک واقع ہوئے ہیں آپ تو “پر افسوس یہاں آپ کی دال نہیں گلنے والی
“ویسے آپ شروع سے شوخے ہیں یا ابھی تازہ تازہ کوئی بیماری لاحق ہوئی ہے ۔۔۔وہ گال پر انگلی رکھے سوچنے کے انداز میں بولی ۔
“آپ ہنستی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے موتی برس رہے ہوں ،
“آپ کی باتیں ہیں یا گویا منہ سے پھول جھڑتے ہوئے۔ قسم سے ۔۔۔”وہ توصیفی انداز میں بولا ۔۔۔۔
“قسمیں کھانے والے اکثر جھوٹھے ہوا کرتے ہیں “
جانے کیوں وہ بھی اس کی بے پر کی باتوں کا جواب دینے لگی تھی ۔
“آپ نے کبھی پہلی نظر کی محبت کے بارے میں سنا ہے “؟وہ اس کی آنکھوں میں کھوئے سوال پوچھ رہا تھا ۔۔۔
“سنا ہے مگر میں یہ پیار ویار والی باتوں پر یقین نہیں رکھتی کحجا کہ پہلی نظر کی محبت ۔۔۔میرے خیال سے یہ سٹوپڈٹی کے علاؤہ اور کچھ نہیں “وہ بے نیازی سے بولی ۔۔۔۔
“مگر مجھے تو لگتا ہے میرے دل پہ پہلی نظر کی محبت کی واردات ہوئی چاہتی ہے “
وہ جذب سے بولا۔
“اندازہ نہیں تھا آپ کو پہلی بار دیکھتے ہی یہ دل دھوکا دہی کر دے گا ۔
“آپ کا دماغ خراب لگتا ہے مجھے تو “وہ کہہ کر مڑنے ہی لگی تھی کہ پیچھے سے اس کی آواز آئی ۔۔۔۔
“تو رنگ شربتوں کا میں میٹھے گھاٹ کا پانی ۔
مجھے خود میں گھول دے تو میرے یار بات بن جائے ۔۔۔
وہ شاعرانہ انداز میں پورے سروں سے گایا ۔۔۔
“شربت میں زہر نا گھول دوں ؟؟؟وہ کاٹ دار لہجے میں بولی اور اپنے شانے پر رکھا پراندہ جھٹک کر مڑی ۔۔۔
پراندہ اس کے چہرے کو ہلکے سے چھو گیا ۔۔۔
“واللّٰہ ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔۔غضب۔۔۔ب۔۔۔وہ دل پھینک ادا سے بولا ۔۔۔۔
عائشہ مہندی کی بچی ہوئی چیزوں کو سمیٹنے لگی ۔۔۔
علی اکبر جو کب سے ارمان کو عائشہ کے گرد منڈلاتے ہوئے دیکھ رہا تھا اسکے پاس آکر اسکی گردن دبوچ لی ۔۔۔
“کیوں بے سالے تجھے میرا ہی گھر ملا تھا گھات لگانے کو ۔۔ڈائن بھی سات گھر چھوڑ کر وار کرتی ہے ۔۔تو تُو ڈائن سے بھی بدتر نکلا ….علی نے طیش زدہ لہجےمیں کہا۔۔۔
“پہلی بات تو میں تیرا سالا نہیں ۔۔۔۔پر مستقبل میں تجھے بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں “وہ اس کی گرفت سے اپنی گردن آزاد کرواتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔۔
“دانت مت نکال ورنہ توڑ دوں گ
