Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 29) 2nd Last Episode

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

وہ کوچنگ سینٹر سے باہرنکلا ہی تھا کہ کسی نے اسے کھینچتے ہوئے ایک گاڑی میں ڈالا۔۔۔

حیدر نے مزاحمت کی کوشش کی مگر مقابل کے ہاتھ میں گن دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔

مقابل موجود جو بھی شخص تھا وہ اس سے قد اور جسمانی لحاظ سے دوگنا تھا۔

جس نے حیدر کے منہ پر ہاتھ رکھے اس کی آواز بند کی ۔جو مدد کے لیے چلانے ہی والا تھا

اس نے حیدر کی کمر پر گن لگا رکھی تھی ۔

“زرا سی چوں چراں کی تو یہیں ختم کرڈالوں گا “اس کی بھاری آواز حیدر کو اپنے کانوں کے قریب سنائی دی ۔

۔۔۔وہ اسے گاڑی میں ڈال کر اپنے ساتھ کسی ویران جگہ لا چکا تھا ۔۔۔

‘” کہو کیسا لگ رہا ہے میری قید میں آکر ؟؟؟وہ مکروہ ہنسی ہنسا ۔۔۔۔

“اسے کیا لگا ہر بار سب کو بچا لے گا میرے ہاتھوں سے بس اب اور نہیں ۔۔۔ ..بہت جلد میں اپنا ادھورا مقصد پورا کروں گا ”

وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے زمین پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔

“کون ہو تم ؟اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو “؟

حیدر نے اس کے منہ سے پٹی اتارتے ہی پہلا سوال اس سے پوچھا

“تمہارے گھر والوں نے پہلے مجھ سے میرا باپ چھینا پھر میری بوا کو بھی اپنی طرف کر لیا ۔۔۔۔

“آئی سمجھ …وہ حیدر کی کنپٹی پر گن رکھ کر بولا۔

“نہیں آئی تو بتاتا ہوں تجھے ،تو بھی کیا یاد رکھے گا ۔”

“تیری ماں میری بوا ہے ،ان کا نام جودھا تھا ،وہ اپنے بھائی ارجن اگروال کا بدلہ لینے پاکستان آئی مگر یہاں آکر سب بھول گئی ۔

اب ان کا ادھورا چھوڑا کام کسی کو تو پورا کرنا تھا ۔تو میں چلا آیا۔۔۔۔

“اب اس گھر کا ایک بیٹا چھین لوں گا “تو بتا ….تو مرے گا میرے ہاتھوں سے یا تیرے بڑے بھائی کو ٹپکاوں “؟

وہ گن کی نال پر پھونک مار کر بولا۔

چہرے پہ وہی شیطانی مسکراہٹ لئے وہ حیدر کے ڈر سے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ رہا تھا

‘” اگر میرا بھائی یہاں آ گیا نہ تو وہ تمھیں بھی نہیں چھوڑے گا اتنا ضرور یاد رکھنا تم ”

حیدر مضبوط لہجے میں بولا کیونکہ اسکو پورا یقین تھا کہ اسکا بھائی پچھلی بار کی طرح اسے بچانے کے لیے اس تک ضرور پہنچ جائے گا ۔

جبکہ اسکی بات سن کر کی شیطانی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی

وہ آہستہ سے قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا ۔۔۔۔

‘” یعنی کے تم دونوں ہی میرے ہاتھوں مرنا چاہتے ہو ؟؟؟؟”

وہ تمسخرانہ اڑاتی نظروں سے اسکو دیکھنے لگا اسکے اس طرح سے دیکھنے پہ حیدر نے نفرت سے اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا تھا

اسکے اس طرح سے منہ موڑنے پہ سدھانت اگروال مسکراتا ہوا سیدھا کھڑا ہوا۔۔۔

“اگر تم میری مما کے جاننے والے ہو تو مجھے مار کیوں رہے ہو ؟؟؟تمہیں شرم آنی چاہیے اپنی ہی پھپھو کے بچوں کو مارتے ہوئے ،

“ہا ہا۔۔۔ہا۔۔۔۔اس نے ایک جاندار قسم کا قہقہہ لگایا ۔۔۔۔

“جنگ میں سب جائز ہے “وہ اپنا بدلہ بھول سکتی ہیں تو میں کیوں نہیں بھول سکتا انہیں “

علی اور ارمان اس کی خبر رکھے ہوئے تھے ،انہوں نے سدھانت اگروال کی ساری انفارمیشن اکٹھی کر لیں تھیں ۔

وہ کینیڈا کا نیشنلٹی ہولڈر تھا۔اور اس نے اپنا آئی۔ڈی کارڈ سادات کے نام سے بنوا رکھا تھا۔اور مذہب والے آپشن میں خود کو مسلم بتایا تھا۔اسی لیے اسے پاکستان آنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی تھی ۔

علی ائیر پورٹ پر اس کی ساری انفارمیشن دے چکا تھا ۔اور انہیں آگاہ کر چکا تھا کہ اگر سادات نام کا بندہ پاکستان لینڈ کرے تو اسے فورا آگاہ کر دیا جائے ۔۔۔۔

اس کے پاکستان آتے ہی علی اور ارمان اپنے کمانڈر کے ساتھ اسے پکڑنے نکل چکے تھے اسے ٹریس کر رہے تھے ساتھ ساتھ ۔کیونکہ اس بار جو ٹھوس ثبوت ان کے ہاتھ لگے تھے اس میں سدھانت اگروال انڈین ایجینسی را کا Raw agent ظاہر ہوا تھا ۔کتنے روپ تھے اس کے ۔۔۔۔۔

اور یہ پکا ثبوت ملتے ہی انہیں آرڈر مل چکے تھے اسے زندہ یا مردہ پکڑنے کے۔

پاکستان میں موجود کچھ باہر کی ایجنسیاں تھیں جس کی اسے پشت پناہی حاصل تھی۔وہ انہیں کے بل پر اتنا سب کچھ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

علی اور ارمان کھڑکی سے کود کر بہت آہستہ سے اس خالی بلڈنگ میں میں داخل ہوئے تھے جو شہر سے زرا دوری پر واقع تھی یہ ایک ویران ،خستہ اور کھنڈر نما بلڈنگ تھی جو شہر کے سنسان علاقے میں موجود تھی۔۔ جہاں اس وقت سدھانت اگروال نے حیدر کو قید کیا ہوا تھا

‘” علی تم ایسا کرو تم اوپر کی طرف جاؤ …میں باہر سے دیکھتا ہوں کہیں باہر کوئی پوشیدہ خطرہ نا ہو کمانڈر نے کہا ۔۔۔اور باقی کچھ ساتھیوں کو نیچے کے ہال کی تلاشی کا حکم دیا۔۔

“ارمان تم میرے ساتھ آؤ ۔۔۔مگر اس کمینے سدھانت کو مت مارنا کیونکہ وہ میرا شکار ہے ۔اس نے میرے گھر والوں کو تکلیف دی ہے ،اسے بھی ایسی موت دوں گا کہ دنیا کانپے گی ”

اس لمحے اسکے انداز میں ایک وحشت تھی جو سامنے والے کو کانپنے پہ مجبور کر دیتی تھی “

علی اپنی گن لوڈ کرتے ہوئے اوپر جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھا ۔۔۔ارمان بھی اس کے پیچھے پیچھے تھا ۔۔وہ دونوں اس وقت دیوار کے ساتھ لگے ایسے چھپ کے کھڑے ہوئے تھے۔کہ کسی کی بھی نظر ان پر نا پڑے ۔وہ دشمن کو خطرہ بھانپ کر فرار ہونے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔۔

‘” سنو ارمان ”

اس نے بہت آہستہ آواز میں اسے پکارا تھا

“ہممم”وہ بھی آہستگی سے بولا۔

علی نے دیکھا اسکو دو کمرے روم نظر آ رہے تھے ۔۔۔

“تم لیفٹ سائیڈ والے میں جاؤ “

“میں رائٹ میں “

“اوکے “

یہاں کتنے آدمی چھپے ہوئے تھے وہ اس بات سے بے خبر تھا ۔مگر جان ہتھیلی پہ رکھ کر وہ بنا ڈرے آگے بڑھا ۔

ابھی وہ آگے بڑھا ہی تھا کے کمرے کے باہرایک آدمی ہاتھ میں گن لئے کھڑا ہوا تھا

علی اپنی گن پر سائلنسر لگایا ہوا تھا ۔۔۔وہ بہت آہستہ سے قدم اٹھاتے ہوئے آگے بڑھا اس آدمی کی پشت تھی علی کی طرف۔۔ اس لئے وہ اسکو دیکھ نہیں پایا۔۔۔۔

علی نے بنا ایک لمحہ بھی ضائع کیے اسے شوٹ کردیا ۔۔۔

اس سے پہلے کہ اس شخص کا بے جان وجود فرش پر گرتے ارتعاش پیدا کرتا ۔

علی نے اس کے مردہ وجود کو سہارا دئیے فرش پر لیٹایا ۔۔۔

اس شخص کو مارنے کے بعد علی نے کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھولا درواز کھول کر دیکھا تو حیدر منہ گھٹنوں میں دئیے بیٹھا تھا اور سدھانت اگروال اس کے پاس کھڑا اس پر گن تانے ہوئے تھا۔۔۔

حیدر اور سدھانت دونوں نے بیک وقت کھلتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے علی نڈر انداز میں اندر داخل ہوا تھا ۔

‘” بھائی ”

حیدر کی جیسے ہی اس پہ نظر پڑی تو اس نے تڑپ کر اسکو پکارا تھا ۔۔۔

ارمان جو دوسرا کمرہ خالی دیکھ جہاں علی گیا تھا اسی روم کی طرف آیا۔۔۔۔باہر ایک آدمی کی لاش دیکھ کر وہ اس پر سے پھیلانگ کر فورا اندر آیایہی سوچ کر کہ کہیں علی خطرے میں نا پڑ گیا ہو ۔

سدھانت نے علی کو سامنے دیکھ اس پر فائر کیا۔

وہ وقت رہتے بجلی کی رفتار سے نیچے ہوا اور سدھانت کا نشانہ چوک گیا ۔۔۔

جوابا علی نے اس پر فائر کیا ۔وہ بھی برق رفتاری سے پیچھے ہوا مگر گولی اس کی بازو پر لگی۔۔۔۔

“حیدر میری طرف آؤ “ارمان نے اسے آواز دی جو خوفزدہ نظروں سے ساری کاروائی دیکھ رہا تھا ۔ارمان کی آواز سنتے ہی اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔

“وہیں رک جاؤ حیدر ورنہ اپنی جان سے جاؤ گے “سدھانت نے اسے دھمکایا ۔۔۔

حیدر کے قدم اس کی دھمکی پر وہیں تھمے ۔

“Haider go …..”

علی کی جاندار غراہٹ اسے سنائی دی تو اس نے ارمان کی طرف دوڑ لگائی ۔۔۔

سدھانت نے فائر کیا ۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ فائر حیدر کو لگتا ۔

علی نے اس کے منہ پر ایک زوردار پنچ مارا ۔اس کی انگلی میں ایک مضبوط انگوٹھی تھی جس پر شیر بنا ہوا تھا ۔

اس کا کارنر سدھانت کے ناک پر لگتے ہی اسے چھیل گیا ۔۔۔اور ناک سے خون بہنے لگا ۔۔۔

سدھانت نے اپنے ناک پر ہاتھ لگا کر دیکھا اس کا اپنا ہاتھ اپنے ہی خون سے رنگا گیا ۔۔۔۔۔

اس نے طیش میں آکر علی کو کک ماری ۔۔۔۔ اور پھر استہزایہ انداذ سے ہنسا ۔۔۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کر اس بار پوری قوت لگا کر اس بار اسکے پیٹ میں مکا مارا

“سنا تھا تم ہندوؤں کے بارے میں کہ تم لوگ شاطر ہو ،مگر اتنے نیچ انسانیت کے نام پر دھبہ ،جو بدلے کی آگ میں اپنے سگے رشتوں کو نہیں بخشتے ان اسے اور امید بھی کیا کی جائے ۔”

“آج میں تمہاری جان لے لوں گا “

وہ سدھانت کا منہ دبوچتا ہوا دھاڑا ۔۔

‘” لگتا ہے تمہیں اپنے بھائی کی جان کی زرا بھی پرواہ نہیں۔۔جو اس وقت میرے نشانے پر ہے ..میری بس یہ ٹریگر دبانے کی دیر ہے۔سب ختم ۔۔ہا۔ہا۔ہا ۔۔۔ ”

اسکے چہرے پہ استہزیہ مسکراہٹ تھی

‘”ہمیشہ سے تم کتوں کا کام ہے پیچھے سے وار کرنا اور بھونکنا ۔جبکہ شیروں کا کام ہے سینہ تان کر تم جیسے کتوں کا مقابلہ کرنا ”

سدھانت نے طیش زدہ ہوتے ہوئے حیدر پر گولی چلائی ۔۔۔۔

اور خود کمرے کی کھڑکی سے نیچے کود گیا ۔۔۔

“Arman save Haider “

ارمان جو پہلے ہی حیدر کو سدھانت کے نشانے سے بچا چکا تھا ۔

اسے حفاظت سے اپنے ساتھ لیے نیچے اترنے لگا ۔۔۔۔

چند لمحوں میں بازی پلٹ گئی۔

نیچے موجود کمانڈر نے باقی ساتھیوں کے ساتھ نیچے کا حصہ کلیئر کیا۔۔۔۔۔۔

علی نے بھی سدھانت کے پیچھے کھڑکی سے نیچے جمپ لگا دی ۔

دوسری منزل سے نیچے جمپ لگاتے اس کی ایک ٹانگ تھوڑی سی بینڈ ہوئی اسے درد بھی ہوا ۔مگر اسے اپنے درد بھی محسوس نہیں ہوا ۔وہ سدھانت کے پیچھے بھاگا ۔

جو جنگل کی طرف لنگڑاتے ہوئے جا رہا ۔۔۔ایک ہاتھ اپنے گولی لگے زخمی بازو پر رکھے ہوئے تھا ۔۔۔۔

وہ علی کو دیکھ گھنی جھاڑیوں کی اوٹ میں ہوا۔۔۔

علی نے اس پر فائر کیا ۔۔۔۔

سدھانت چھپ کر پیچھے سے باہر آیا اور علی کے ہاتھ کی طرف پتھر پھینکا ۔۔۔

اس کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر نیچے گری ۔۔۔۔

سدھانت نے دوڑ لگائی ۔۔۔۔

علی نے گن ڈھونڈھنے میں وقت ضائع کیے بغیر اپنے لانگ شوز میں سے تیز دھار چاقو نکالا اور سدھانت کی طرف پھینکا ۔۔۔۔

جو رات کے اندھیرے میں سیدھا سدھانت کی گردن کے آر پار گیا ۔۔۔۔

اس کا سر دھڑ سے جدا ہو کر جھاڑیوں میں دور جاگرا ۔۔۔۔

گردن میں سے تیز دھارےخون کے نکلنے لگے ۔بس لمحوں میں وہ مردہ وجود میں بدل گیا ۔

“ہمارے ملک میں دہشت گری پھیلانے والوں اور دشمنوں کا یہی انجام ہوگا۔

اس ملک کے شیر جوان یونہی ہمیشہ اپنے ملک کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگائیں گے ۔تاکہ آئیندہ کوئی ہمارے ملک کو میلی نظر سے نا دیکھ سکے ۔۔۔۔

آئی ایس آئی کے کارناموں پر ہمیشہ ہمارے ملک کو فخر رہے گا ۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ہمارے ملک کا وہ ادارہ ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے قوم کے ان جانباز بیٹوں نے دفاع وطن کی جنگ ہمیشہ دشمن کے گھر میں گھس کر لڑی اور ملک و قوم کو ان گنت بڑے بڑے سانحات سے محفوظ رکھا اور جرات و بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں.

دیر سے ہی سہی مگر اس کے ملک کے اور خاندان کے دشمن کو اس کی دشمنی کی سزا مل گئی تھی۔۔۔اور

ایسی سزا ملی اس دشمن کو جو خود علی نے بھی نہیں سوچی تھی۔۔۔۔۔

اس نے گن ڈھونڈھ کر واپس اپنی بیلٹ میں ڈالی ۔

اور اپنے ساتھیوں کی طرف واپس بڑھا جہاں ارمان کے ساتھ حیدر بھی تھا ۔۔۔

“علی بھائی “

حیدر علی کو سلامت واپس آتے دیکھ اس سے لپٹ گیا ۔۔۔

“کچھ نہیں ہوا حیدر سب ٹھیک ہے “علی نے ہمیشہ کی طرح اس کے بال بگاڑتے ہوئے پیار بھرے انداز میں کہا۔

اس بار حیدر اس کے بال بگاڑنے پر ناراض ہونے کی بجائے ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔

ریسیپشن شہر کے مشہور ترین ہوٹل میں رکھا گیا تھا ۔سب مہمان تقریبا آ چکے تھے ۔قرت العین ،آرزو اور عائشہ بھی شہر کے سب سے اچھے بیوٹی سیلون سے تیار ہوئے کب کی ہال میں پہنچ چکی تھیں۔سب سے پہلے ہال میں قرت العین اور سلطان آفندی داخل ہوئے ،قرتالعین نے وائٹ نیٹ کی میکسی فراک زیب تن کر رکھی تھی جس کے بازو گلے اور دامن پر وائٹ خوبصورت پرلز کا دیدہ زیب کام کیا گیا تھا۔جبکہ سلطان نے اس سے میچ کیے پیور وائٹ تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔جو اس کی خوبرو شخص کو اور بھی جاذب نظر بنا رہا تھا ،دونوں کی جوڑی چاند اور سورج کی مثال پر پوری اتر رہی تھی۔

وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اندر آئے تو کمیرہ لائٹس اور مہمانوں کی نظریں ان دونوں کے چہروں پر ٹہر سی گئیں ۔ان پر گلاب کی پتیوں کی برسات ہوئی ۔۔۔اینٹرینس پر ۔۔۔

وہ دونوں چلتے ہوئے سٹیج پر بیٹھ گئے ۔

ان کے بعد عائشہ اور ارمان اندر داخل ہوئے ،تو الیکٹرک آتش بازی کا مظاہرہ ہوا ۔چہار سو روشنیاں بکھر گئیں ۔۔۔۔

وہ دونوں بھی ساتھ ساتھ چلتے سٹیج تک آئے ۔اور اپنی جگہ پر براجمان ہوئے۔۔۔۔عائشہ نے ڈارک بلیو کلر کی میکسی اور ارمان نے ڈارک بلیو کلر کا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا۔

دونوں ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہے تھے ۔۔۔۔

سب مہمان ان دونوں کپلز کو آکر وشز دے چکے تھے اور تیسرے کپل کے بارے میں پوچھ رہے تھے ۔انیقہ اور جنت گیلانی عابدہ آفندی کے ساتھ سٹیج پر بنے دوسرے صوفے پر بیٹھی ہوئیں تھیں ۔جبکہ اکبر ،وہیں کھڑا سب مہمانوں کو ڈیل کر رہا تھا ۔

عیسی گیلانی،موسی گیلانی اور ابراہیم آفندی تینوں اپنے کچھ بزنس پارٹنر کے ساتھ کاروباری گفتگو میں محو تھے ۔

حرعین اور آن فاطمہ نے آج ایک جیسی ساڑھیاں زیب تن کر رکھی تھیں۔حرعین نے لائٹ پنک کلر کی شفون کی ہلکے سے کام والی جبکہ آن فاطمہ نے لائٹ پرپل کلر کی ہلکے سے کام والی ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔دونوں ہلکے سے میک اپ میں بھی بہت عمدہ دکھائی دے رہی تھیں۔

حیدر نے براؤن کلر کا تھری پیس پہن رکھا تھا ۔اس کے کالج کے بھی ایک دو دوست مدعو تھے وہ انہیں سے باتوں میں مشغول تھا۔۔۔

“آن سب بار بار علی اور آرزو کا پوچھ رہے ہیں تم ایسا کرو آرزو کو سٹیج پر لے آؤ ۔۔۔

“مگر علی ؟”اسنے متفکر انداز میں کہا۔

“ابھی تک نہیں پہنچا وہ ۔کبھی بھی ایسی لاپرواہی نہیں کرتا یہ آج پتہ نہیں کیوں ؟شاید کوئی ضروری کام ہو …اکبر نے اندازہ لگایا۔۔۔

آن اور حرعین دونوں آرزو کو اپنے ساتھ لیے لاکر سٹیج پر بٹھا چکی تھی ۔۔۔

کافی دیر سے وہ اکیلی اسٹیج پر بیٹھی علی کی راہ تک رہی تھی۔۔۔سب لوگ ہنسی ٹھٹھولوں میں مگن تھے ۔سب پارٹی کا مزا لیتے ادھر ادھر گھوم رہے تھے۔، ایک وہی تھی جو ایک ہی جگہ چپک کر رہ گئی تھی، بھاری کامدار دوپٹہ سر پر جمائے، سیاہ رنگ کا بھاری گاؤن زیب تن کئے، جس کے بازو گلے اور بارڈر پر موتیوں کا نفیس سا کام کیا گیا تھا ۔ہلکی پھلکی جیولری اور سادہ سے میک اپ میں اس کا معصوم حسن کافی دمک رہا تھا، ناک میں موجود باریک سی نوز اس کے سادہ حسن کو چار چاند لگا رہی تھی،گھنگھریالے بالوں کو آج سٹریٹ کیے شانے کی ایک سائیڈ سے لاکر آگے رکھا گیا تھا۔

اس کی نظریں سارے ہال میں اسے ہی ڈھونڈھ رہی تھیں ۔اچانک نظر ہال کی اینٹرینس پر پڑی جہاں سے وہ بلیک کلر کے ٹکسیڈو کے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے ،پورے وقار سے چلتا ہوا اندر آ رہا تھا ،اپنے دراز قد ،وجیہہ پرسنالٹی اور بلیک سلکی بالوں کی وجہ سے وہ پوری محفل پر چھایا ہوا لگا ۔۔۔۔ وہ اندر آیا اور اکبر گیلانی سے ہنستے ہوئے بات کرتا دکھائی دیا اس ہلکی بڑھی ہوئی شیو اس کی سرخ و سفید رنگت کو اور بھی زیادہ وجیہہ بنا رہی تھی، شفاف سیاہ آنکھوں میں آج اک عجب قسم کی الوہی چمک تھی ۔۔۔اسے اپنے دل کی دھڑکنیں منتشر ہوتی ہوئی دکھائی دیں ۔۔۔

اسے دیکھنے میں وہ اتنا محو تھی کہ اپنے پاس آکر بیٹھے ہوئے حیدر کی موجودگی کو بھی محسوس نہ کر سکی۔

“آج بھائی بہت اچھے لگ رہے ہیں نا ،کبھی وہ ایسے فارمل تیار بھی نہیں ہوئے ہمیشہ وہی جینز شرٹ میں رہتے ہیں ۔۔۔۔

“ہمممم۔۔۔۔وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی ۔۔۔۔

“واقعی میں آپ کو بھائی پیارے لگے ؟؟؟

آرزو نے چونک کر دیکھا حیدر اس کا مذاق بنا رہا تھا ۔اور وہ اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ پتہ نہیں کیا بول رہی تھی اسکے سوال کے جواب میں ۔۔۔

“حیدر انسان بن جاؤ “آرزو نے اسے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے گھورا ۔۔۔جس میں اسنے کانٹیکٹ لینس لگا رکھے تھے ۔۔۔

“بھابھی گود بٹھائی کی رسم شروع ہوئی چاہتی ہے ۔”کہتے ہی حیدر اس کی گود میں بیٹھا ۔۔۔۔

“بھائی اس حیدر کی جراءت تو دیکھیں ٹرپل اے کو تنگ کر رہا ہے ۔عائشہ جو ارمان کے ساتھ سٹیج سے نیچے اتر کر ادھر ادھر گھوم رہی تھی علی کے پاس آکر بولی ۔۔۔۔

علی ٹرپل اے والی بات پر نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔

“نہیں آئی سمجھ ؟؟وہ حیرانی سے بولی۔

“بھائی آپ اے۔اے۔۔۔تو بھابھی ۔آرزو علی اکبر ۔ہوئی نا ٹرپل اے ۔

علی اس کی بات پر مسکرایا ۔۔۔

اس نے حیدر کو آرزو کی گود میں بیٹھتے دیکھ فورا سٹیج تک آیا ۔

“حیدر یہ کیا بدتمیزی ہے “

“علی اس بیچارے کو کیوں ڈانٹ رہے ہو ۔یہ تو رسم ہوتی ہے ۔دیور گود میں بیٹھتا ہے ۔جنت گیلانی نے بتایا۔

“اسے جلدی سے دے دلا کر فارغ کرو “علی نے آرزو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

اس نے اپنے لب بھینچ لیے ۔کیوں کہ اس وقت اس کا کلچ خالی تھا۔وہ الجھن کا شکار تھی کہ کیا کہے ۔

علی نے اسکے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگایا اور اپنے والٹ سے چند ہزار کے نوٹ نکال کر حیدر کے ہاتھ میں تھمائے ۔۔۔۔

تو وہ مسکراتے ہوئے نیچے اترا ۔۔۔۔

کھانے کا وقت ہوا تو اب اسی میں مشغول ہوگئے ۔

کھانے میں بہت سی ڈشز رکھی گئیں تھیں۔

جس میں فش کی مختلف ڈشز ،مٹن بریانی ۔چکن پلاؤ ،قورمہ ۔باربی کیو۔فورٹ سیلڈ ،میٹھے میں آئس کریم اور فِرنی تھی ۔۔۔۔

“اچھی جوڑی ہے دونوں کی..”قرت العین نے ستائشی نظروں سے عائشہ اور ارمان کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

ارمان اپنے ہاتھ میں بریانی کی پلیٹ پکڑے دوسرے ہاتھ سے بریانی کا چمچ بھر کر عائشہ کے منہ میں ڈال رہا تھا۔۔۔

“ہاں یہ تو ہے، اللّٰہ ان دونوں کو ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے..” سلطان نے دل سے ان دونوں کے لئے دعا کی جس پر قرت العین نے آمین کہا تھا..

“یونیورسٹی میں پچھلے چار سال سے میں تمہاری محبت میں پاگل ہوئی پھر رہی ہوں اور تم نے چپ کر کہ شادی رچا لی ، کیا بات ہے تھی اس میں ایسی جو مجھ پر تم نے اس لڑکی کو فوقیت دی.” تانیہ زہریلے لہجے میں بولتی ہوئی وہ مزید اس کے قریب ہو کر بولی ، اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔مگر الفاظ اور لہجے میں دہک ۔۔۔۔بظاہر انداز اتنا دوستانہ تھا کہ دیکھنے والا یہ سمجھ ہی پا رہا تھا کہ وہ اس سے کس بارے میں بات کر رہی ہے ۔۔۔دور سے بات کرتے ہوئے وہ دوست ہی لگے ۔جو ہنس ہنس کر بات کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

“اپنی بکواس بند رکھو میں نے تمہیں کبھی بڑھاوا نہیں دیا یہ سب تمہارے اپنے گھٹیا دماغ کی اختراع ہے”وہ زہر خند انداز میں مگر مسکرا کر بولا اور اپنے تاثرات چھپانے کے لیے ہاتھ میں موجود کولڈ ڈرنک کا گلاس منہ کو لگا کر دو گھونٹ بھرے ۔۔۔۔

آرزو دور سے ان دونوں کو آپس میں باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔

وہ لڑکی جو علی کے ساتھ باتیں کر رہی تھی وہ علی کے ساتھ کھڑی بہت حسین لگ رہی تھی ۔۔۔اس نے آزردگی سے دونوں کو ساتھ دیکھ کر نظریں چرا لیں ۔۔۔۔

“ویسے تمہارا ٹیسٹ بہت ہی خراب ہے اے ۔اے، مجھے بہت حیرانی ہوئی تمہاری وائف کو دیکھ کر..”

“کہاں تم اتنے اور ک۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اس کی بات پوری ہوتی علی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔۔۔۔

“اپنی عزت کی زرا سی بھی پرواہ ہے تو منہ بند کر کہ یہاں سے دفعہ ہوجاو ورنہ سب لحاظ بھلائے دھکے مار کر نکالوں گا۔اگر منہ بند نا کیا تو “

وہ پاؤں پٹخ کر دوسری طرف چلی گئی ۔۔۔۔

“اتنی دیر کیوں ہوئی آنے میں..؟” مہمانوں کی بھیڑ سے نکل کر وہ دونوں ایک طرف آئے تو اکبر نے علی سے پوچھا .

“ڈیڈ بس ایک امپورٹینٹ کام تھا اسے ہی نپٹانے میں کچھ وقت لگ گیا ۔۔۔

“وہ دیکھو دونوں تھانیدارنیاں ہم دونوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔

اکبر نے علی کی توجہ آن اور حرعین پر دلائی جو انہیں ہی گھور رہی تھیں۔

“اوہ ڈیڈ آپ کی ہمت کو سلام ہے ۔کیسے نپٹ لیتے ہیں دونوں سے “وہ مسکرا کر بولا۔

اکبر بھی اس کی بات پر مسکرا کر رہ گیا ۔۔۔

” تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ جاؤ اسٹیج پر آرزو کے پاس وہ کب سے تمہاری راہ دیکھ رہی تھی ۔اسے بھی تھوڑا وقت دو یہی وقت تو سپیشل ہے تم دونوں کے لیے ۔۔۔

“جی ڈیڈ “

آرزو نے اس کی طرف دیکھا جو خاموشی سے اس کے ساتھ آکر بیٹھا ۔

سر باقی دونوں کپلز کا فوٹو شوٹ ہوگیا ہے اب آپ کی باری ۔

علی اور آرزو سٹیج سے نیچے اتر کر ایک طرف چلے گئے جہاں فوٹو شوٹ کا انتظام کیا گیا تھا ۔فوٹو گرافر نے ان دونوں سے مختلف پوز بنوا کر چند یادگار تصویروں کا اپنے کیمرے کی آنکھ میں ہمیشہ کے لیے قید کر لیا۔

آخر میں فیملی تصویر لی گئی۔یوں ایک شاندار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی ۔۔۔۔

سب مہمان اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہونے لگے ۔

ارمان عائشہ کو اپنی گاڑی میں لیے عابدہ آفندی اور ابراہیم آفندی کے پیچھے روانہ ہوا ۔۔۔

جبکہ علی نے سب کے ساتھ آرزو کو گھر بھیج دیا اور خود ہال کے باہر سے اپنی گاڑی میں پتہ نہیں کہاں گیا ۔

تقریب سے واپسی پر سلطان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا سنجیدگی سے ڈرائیو کرتے گاہے بگاہے نظر قرت العین پر بھی ڈال لیتا جوگاڑی کی ونڈو سے باہر کے تیزی سے گزرتے ہوئے مناظر پر نظریں جمائے ہوئے تھی ۔۔۔۔

“ہم ادھر ہیں محترمہ اور آپ کی نگاہیں باہر کسے ڈھونڈھ رہی ہیں ؟..”

اس کی آواز پر وہ چونکی تھی، گردن موڑ کر اسے دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا…..

“مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی …” انداز الجھا ہوا تھا..

“کیوں کوئی بات نہیں کرنی ؟دیکھو قرت العین میں تمہیں منا چکا ہوں پہلے بھی اس بات پر کہ مجھے آرام سے جانے دو پلیز مجھے یوں خاموشی کی مار مت مارو ۔میں تمہاری خفگی لیے یہاں سے نہیں جا سکتا.”

“ایک بات بتائیں میں کون ہوں “؟

“تم میری جان ۔۔۔میرے دل کی دھڑکن میری بیوی ہو..” مسکرا کر اسے دیکھا، اس کے جواب پر ماہم کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئیں، ناراضگی سے اسے دیکھا..

“اگر میں بیوی ہوں تو آپ کو میری خوشی کا خیال بھی رکھنا چاہیے ۔میں نہیں چاہتی کہ آپ کہیں بھی جائیں ۔اگر آپ گئے نا مجھے چھوڑ کر تو ۔۔۔تو ۔۔۔میں کچھ کر ڈالوں گی ..” وہ جیسے پھٹ پڑی تھی..

سلطان نے مسکرا سے اس کے بپھرے انداز کو دیکھا..

مگر فورا چہرے کے تاثرات چھپائے ۔۔۔۔

عائشہ اور ارمان دونوں ایک ساتھ سیڑھیاں چڑھ کر اپنے روم کی طرف آئے ۔ارمان نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلا ۔۔۔

عائشہ نے ابھی اندر قدم ہی رکھا تھا کہ اس پر گلاب کی پتیوں کی بوچھاڑ ہوئی ۔۔۔اس نے دونوں ہاتھ پھیلا کر ان گرتی ہوئی نرم و ملائم پتیوں کو محسوس کیا ۔۔۔۔

ارمان نے ڈور کو لاک کیا اور اسکے تاثرات جانچنے لگا۔۔۔۔

سارا کمرہ گلاب کی محسور کن خوشبو سے مہک رہا تھا ۔بستر پر فرش پر ہو جگہ گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں۔غرض یہ کہ پورا کمرہ پھولوں سے سجا ہوا تھا۔فینسی لائٹس لگا کر کمرے کو سجایا گیا تھا ۔جن میں سے مدھم سی رنگین لائٹس نکل رہی تھی ۔کینڈلز کی روشنی نے کمرے کو مزید فسوں خیزی عطا کر رکھی تھی ۔

ارمان نے عائشہ کا ہاتھ تھامے اسے لاکر ڈریسر کے سامنے پڑے سٹول پر بیٹھایا ۔۔۔

اسکا وزنی دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھتے ہوئے ۔

ڈریسر کے دراز میں سے ایک مخملی کیس نکال کر اس میں سے ایک چین برآمد کی ۔

اور اسے عائشہ کے گلے کی زینت بنا ڈالا۔

وہ پلاٹینم کی باریک سی چین تھی جس میں ننھا سا ہارٹ شیپڈ ڈائمنڈ جگمگا رہا تھا۔

“تمہاری منہ دکھائی “کیسی لگی ؟؟؟

“واؤ ۔۔اٹس سو پریٹی!!!وہ تحیر آمیز نظروں سے خود کو شیشے میں دیکھتے ہوئے چین پر ہاتھ رکھ کر توصیفی انداز میں بولی ۔

“پہلے تو سب اچانک ہوگیا ۔اب وقت ملا تو سوچا ارمان اپنے سب ارمان پورے کر لے ۔۔۔

وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔۔