Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 28)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

ان کی ایک مسکراہٹ پر ہم ہوش گنوا بیٹھے،

ہم ہوش میں آنے والے تھے وہ پھر سے مسکرا بیٹھے ،

سلطان نے شاعرانہ انداز میں شعر پڑھاقرت العین کے مسکرانے پر ۔

“پلیز ایسے نا کیا کریں “اس نے سلطان کی طرف دیکھ کر خفگی سے کہا۔

“کیا آپ کی تعریف کرنے پر بھی روک ٹوک ہے “؟

“قرت العین میں تمہارے ساتھ گزرا ہر لمحہ یادگار بنانا چاہتا ہوں ۔تاکہ جب ہم بوڑھے ہو جائیں تو اپنے بچوں کو بتائیں کہ ہم نے ساتھ میں کتنا اچھا وقت گزارا۔۔۔

“یہ بچے کہاں سے آگئے ؟؟؟اس کی بات سن کر قرت العین کی کانوں تک کی لوئیں سرخ ہو گئیں۔

“جب ہم بوڑھے ہو جائیں گے تو افکورس بچے بھی تو ہوں گے نا “

وہ سٹپٹا کر نظریں چرا گئی۔۔۔

“لگتا ہے تمہارا بڑھاپے تک یونہی شرمانا چلتا رہے گا “وہ شوخ انداز میں بولا۔

“مجھے نہیں پتہ تھا بظاہر اتنے سنجیدہ نظر آنے والے اندر سے اتنے رومینٹک ہوں گے ۔

“کیوں تم مجھ سے خائف ہو ؟یاد کیا کرو گی کبھی اتنا رومینٹک بندہ لائف میں آیا تھا “

“آپ میرے پاس ہوں گے تو یاد کیوں کروں گی بھلا ؟

“آپ کہیں جانے والے ہیں کیا ؟؟؟

“ہممممم۔۔۔۔ہاں ۔۔۔

وہ تھوڑا رکا پھر سوچ کر بولا

“کہاں جا رہے ہیں آپ ؟وہ سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی ۔

“ابھی تو نہیں ۔۔مگر جلد ہی جانا ہوگا ۔

“کہاں جانا ہے آپ کو سلطان پلیز مجھے جلدی بتائیں “وہ بے چینی سے بولی ۔

“جس کمپنی میں پہلے جاب کرتا تھا ،تب باہر جانے کی ویکینسی آئی تھی میں نے فارم فل کردیا تھا ،اب مجھے وہاں کی فارن کمپنی سے آفر آئی ہے ،

“آپ کہیں نہیں جائیں گے سلطان میں آپ سے کہے دے رہی ہوں “

“بات کو سمجھو قرت !!!

“ایسے موقعے بار بار نہیں ملتے ترقی کا بہت سکوپ ہے وہاں پر “

“آپ سمجھنے کی کوشش کریں ،اللہ پاک کا دیا سب کچھ ہے ہمارے پاس۔

مجھے کسی چیز کی چاہ نہیں سوائے آپ کے ساتھ کی ۔میں آپ کے بغیر کیسے رہوں گی ۔

وہ مضطرب انداز میں بولی ۔

“اچھی بیویاں ضد نہیں کرتیں”

“میں یہ بات قطعی نہیں مانوں گی ۔اس کی لیے چاہے آپ مجھے اچھی بیوی کی لسٹ سے خارج کردیں ،وہ دو ٹوک انداز میں بولی۔

“قرت العین پلیز ناراض مت ہونا ورنہ میں جا نہیں پاؤں گا ،وہ اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر گویا ہوا۔

“تو نا جائیے نا ،اگر میری خفگی کی اتنی پرواہ ہے ۔

“پلیز قرت مجھ پر اعتبار کرو ،میرے دل میں تمہارے سوا کوئی نہیں ۔

“مجھے آپ پر اعتبار ہے سلطان مگر میں آپ کو جانے نہیں دوں گی ۔

سلطان نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے پر حدت ہاتھوں میں لے لیے اس کی نم آنکھوں میں اپنا عکس دیکھتا رہا ۔۔۔۔

عائشہ شاور لے کر ابھی باہر ہی نکلی تھی کے کسی نے اپنی آہنی گرفت میں اس کی کلائی تھام کر اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔

اس سے پہلے کے وہ چیختی ۔کسی نے اس کے منہ سے نکلنے والی چیخ کا گلا گھونٹنے کے لیے اپنا بھاری ہاتھ اس کے منہ پر رکھا ۔۔۔

اس کے گرے آنکھیں ضرورت سے زیادہ پھیلیں ۔۔۔۔

اپنے سامنے ارمان آفندی کو دیکھ ۔۔۔

“My little wife ….

کیسا لگا سرپرائز “؟

اس نے عائشہ کے منہ سے اپنا ہاتھ ہٹا کر مسکراتے ہوئے پوچھا۔

“آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا “وہ جھنجھلا کر بولی ۔

“آپ کے اور میرے درمیان اب ایک جائز رشتہ قائم ہوچکا ہے ،پھر بھی یہ فاصلے ،یہ دوریاں ؟؟؟؟

وہ اس کا نکھرا نکھرا سا روپ اپنی آنکھوں میں اتارتے ہوئے بول رہا تھا

“اب اور کتنا امتحان لینے کا ارادہ ہے آپ کا ؟؟؟

“کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟میں کچھ سمجھی نہیں۔ “

“ایک ہفتہ جیسے میں نے آپ کے بنا گزارا ہے یہ میں یا میرا دل جانتا ہے ۔اب میرا دل آپ کے دل کر قریب آکر آپ کو یہ خود بتانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

وہ اس کے قریب آتے مخمور لہجے میں کہتے ہوئے اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے گیا۔۔۔۔

عائشہ کو کہاں اس سے ایسی شدت کی توقع تھی ۔اسے ارمان کی سخت گرفت میں اپنی پسلیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئیں ۔۔۔وہ اس کے پر حدت حصار میں گم سم سی کھڑی رہ گئی۔

جب ہوش آیا تو اسے جھٹکے سے خود سے پیچھے کر گئی ۔۔۔

وہ سرشاری انداز میں مسکرایا ۔۔۔۔

“بہت ہی کوئی بدتمیز ہیں آپ ؟وہ لجاتے ہوئے بولی۔

“آپ کب آئے ؟؟

“ابھی کچھ دیر پہلے “

“آپ اکیلے آئے ہیں “؟

“نہیں مام ڈیڈ ۔بھائی بھابھی سب ہیں ۔وہ سب آپ کے گھر والوں سے ملنے آئے ہیں “

‘اور آپ ؟”عائشہ نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔

“ہم صرف آپ کو دیکھنے آپ سے ملنے “

اس کی لو دیتی شوخ نگاہوں سے بچ کر وہ اپنا دوپٹہ بستر سے اٹھا کر گلے میں ڈالے باہر جانے لگی ۔

ارمان نے سرعت سے لپک کر اس کی کلائی تھامی ۔

عائشہ کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں ۔

“کب دوری مٹے گی “؟

” باہر سب انتظار کر رہے ہوں گے ہمیں چلنا چاہیے “اس نے جان چھڑوانے کے لیے کہا ۔

“کرتے رہیں انتظار ۔مجھے پہلے میری بات کا جواب چاہیے “وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنا چاہتا تھا جو شرم سے جھکی ہوئی تھی۔

“کل جب آپ مجھے لینے آئیں گے ،پھر بتاؤں گی “

“بہت ظالم ہیں آپ “وہ آہ بھر کر بولا۔

وہ کھکھلا کر باہر نکل گئی ۔۔۔۔

“کہاں جا رہے ہیں آپ “؟

وہ علی کو بیگ میں اپنے کپڑے ڈالتے ہوئے دیکھ کر اچنبھے سے بولی ۔

“ایک ضروری کام ہے ،کچھ دنوں تک آ جاؤں گا “

وہ پہلے تو اس کے آپ کہنے پر چونکا پھر نارمل انداز میں کہا ۔

“ابھی آج صبح ہی تو آپ واپس آئے ہیں پھر سے جا رہے ہیں “وہ یاسیت بھرے انداز میں بولی۔

علی نے اسکا بدلا ہوا انداز نوٹس کیا ۔

پہلے اسے کانچ لگنے سے بچانا اور اب صبح کا اس کے پیچھے پیچھے گھومنا ۔اس کا ہر کام خود کر رہی تھی ۔حالانکہ ہاتھ پر چوٹ بھی لگی تھی ۔

“لائیں مجھے دیں میں کر دیتی ہوں “اس نے علی کے ہاتھ سے کپڑے لینے چاہے۔

“تمہیں چوٹ لگی ہے ۔رہنے دو میں خودی کرلوں گا ۔تم آرام کرو “

وہ تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوئے کپڑے اندر رکھنے لگا ۔

آرزو بستر پر بیٹھے اسے کام کرتا دیکھنے لگی ۔

بلیو جینز پر بلیک ٹی شرٹ جس میں سے اس کے کسرتی سفید بازو نمایاں تھے ،حد سے زیادہ سفید رنگت جو کم ہی مردوں کی خصوصیت ہوتی ہے،اس کی سبز رگیں واضح ہو رہی تھیں ،ستواں مغرور ناک ،باریک عنابی بھینچے ہوئے لب، اس پر گھنی مونچھیں، بڑی بڑی روشن آنکھیں،اور پیشانی پر ہمیشہ کی طرح بکھرے ہوئے سلکی بال جو اس کی شخصیت کو مزید سحر انگیز بناتے تھے ،

وہ ہمیشہ بالوں میں انگلیاں ڈالے انہیں جس سٹائل سے پیشانی سے ہٹاتا ،یہی تو جان لیوا تھا ،

وہ انجانے میں اس کا اور اپنا موازنہ کرنے لگی ۔

میں عمر میں اس سے بڑی ہوں پھر بھی اسنے مجھے اپنا نام دیا ۔

وہ درازقد اور میں اس کے سامنے کتنی چھوٹی لگتی ہوں ۔

اس کی آنکھیں کتنی پرکشش ہیں اور مجھے چشمہ لگا ہے ۔اس نے اپنے چشمے کو چھو کر دلگرفتگی سے سوچا

اسے تو کوئی بھی اچھی لڑکی مل سکتی تھی ۔

شاید میں اسے ڈیزرو نہیں کرتی ۔۔۔وہ یہی سوچتے ہوئے اداس ہوئی ۔۔۔

“کیا ہوا “؟

وہ اس کے سامنے چٹکی بجا کر بولا ۔

“ن۔۔نہ۔نہیں کچھ بھی نہیں “وہ سوچوں کے بھنور سے باہر نکل کر بولی ۔

“میں جا رہا ہوں اپنا دھیان رکھنا اور ہاتھ کا بھی ۔اسے پانی میں مت ڈالنا ایک دو دن احتیاط کرنا “

وہ بیگ اٹھا کر دروازے کی طرف گیا ۔۔۔

وہ اسے جاتادیکھ اس کے پیچھے بھاگی ۔۔۔

اور اس کی کمر کے گرد بازوں باندھ دئیے ۔۔۔۔

علی حیرت سے پیچھے مڑا ۔۔۔۔

اور اسے شانوں سے تھام کر اپنے سامنے کیا ۔۔۔۔

“اسکے افسردہ چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔

“کیا ہوا ؟؟؟

اس کی آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے ۔

“پتہ نہیں ” وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔

“آپ کا جانا اچھا نہیں لگ رہا “

“کیوں ؟”وہ گہرا سانس لے کر اپنی پوروں سے اس کے چشمے کی اوٹ سے بہتے آنسو پونچھتے ہوئے دھیرے سے بولا۔

“I am really very sorry.”

وہ نظریں جھکائے شرمندگی سے کہنے لگی ۔ ۔

“For what ?”

اس نے سوالیہ انداز میں اس کی تھوڑی کو تھوڑا سا اوپر کرتے پوچھا ۔

“For everything”

“میں اس بارے میں واپسی پر بات کروں گا ابھی جانا ضروری ہے “

علی نے اس کا گال تھپتھپاکر کر نرم لہجے میں کہا۔

“جانا مجھ سے بھی زیادہ ضروری ہے ؟اس کے لبوں سے جانے کیوں اپنے آپ یہ الفاظ پھسل گئے۔

“یوں سمجھ لو ہمارے لیے ہی جا رہا ہوں “

“کب واپس آئیں گے “؟

“خدانے مہلت دی تو بہت جلد “

وہ کہہ کر تھوڑا مسکرایا۔

وہ اس کی دلکش مسکراہٹ سے نظریں چرا گئی ۔کہیں اس کی مسکراہٹ کو میری ہی نظر نا لگ جائے ۔

اور اپنا چشمہ درست کیا ۔۔۔

اس کی شرٹ کو دیکھتے ہوئے اسے مٹھیوں میں جکڑ لیا چہرے کو دیکھنے کی ہمت خود میں مفقود پائی تو ۔

شاید وہ جانے سے پہلے اس سے کوئی آس کی ڈوری اسے تھما کر جانے کی امید رکھتی تھی۔

علی نے اسے ہولے ہولے سسکتے ہوئے دیکھا تو اسے اپنے حصار میں لیتے زور سے خود میں بھینچ لیا۔

آرزو بھی پوری شدت سے اس سے لپٹ گئی۔

آج اسے احساس ہوا تھا کسی قیمتی متاع کو دور جاتے دیکھنا کیسا لگتا ہے ۔وہ اپنے شریک حیات کو خود سے دور ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی۔دل چاہ رہا تھا یہ پل یہیں تھم جائیں ۔

“میں بہت جلد آؤں گا “وہ کہہ کر رکا نہیں ۔۔۔روم سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔

عائشہ اور ارمان دونوں روم سے باہر آئے تو علی بھی ان کے ساتھ سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔

سب لاونج میں خوش گپیوں میں مشغول تھے ۔

تھری سیٹر صوفے پر انیقہ گیلانی،جنت گیلانی ،اور عابدہ آفندی براجمان تھیں۔جبکہ عیسی گیلانی۔موسی گیلانی اور ابراہیم آفندی سامنے بیٹھے تھے ۔حرعین اور آن فاطمہ بھی وہیں موجود تھیں۔

قرت العین اور سلطان ایک طرف کھڑے جانے کونسے راز و نیاز میں مصروف تھے۔

“سب یہیں ہیں کمی ہے تو صرف اکبر کی ۔وہ یہاں ہوتا تو دن ڈیسائیڈ کرلیتے بچوں کے ریسپیشن کا۔پہلے ہی آن کی طبیعت کی وجہ سے ولیمہ پوسٹ پون کرنا پڑا ۔۔۔

جنت گیلانی نے کہا۔

“آپ اکبر سے پوچھ لیں کس دن اس کی واپسی ہے ۔ہم اسی دن رکھ لیں گے فنکشن “ابراہیم آفندی نے کہا۔

“یہ بھی ٹھیک ہے “جنت گیلانی نے اپنے بیٹے اکبر کو فون ملایا جو تیسری بیل پر ریسو کر لیا گیا۔

“اسلام وعلیکم مام !

وعلیکم اسلام!

“کیسے ہو بیٹا “

“بالکل ٹھیک مام “

“بیٹا کب تک تمہاری واپسی ہے ؟دراصل بچوں کے ریسیپشن کی وجہ سے پوچھ رہے ہیں وہ ابھی تک پینڈنگ ہے اسی لیے ۔

“جی میں اس ویک اینڈ پر آجاؤں گا “

“چلو ٹھیک ہے تو پھر سنڈے کا دن رکھ لیں ؟

“جی مام جیسے سب کو مناسب لگے “

“چلو ٹھیک ہے تم اپنا خیال رکھنا۔اللہ پاک تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے۔آمین انہوں نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے فون رکھا ۔

“تو پھر اتوار کا دن ٹھیک ہے ؟.

“جی بالکل مناسب ہے ۔اس دن کاروباری افراد کو بھی چھٹی ہوتی ہے شادی پر کچھ دوست نہیں آسکے ۔ویک اینڈ پر فری ہونگے تو ریسپشن ٹھیک سے اٹینڈ کر لیں گے ۔ابراہیم آفندی نے کہا۔

“عابدہ جی میں نے عائشہ کی شادی پر بھی اس کے لیے کچھ نہیں کیا ۔میں چاہ رہی تھی اسے کچھ اسکی پسند سے شاپنگ کروا دوں ،اگر آپ کو برا نا لگے تو عائشہ فی الحال میرے پاس ہی رہنے دیں ریسپیشن پر واپس چلی جائے گی۔

عائشہ جو کب سے سنجیدہ کھڑی تھی اس بات پر ارمان کی ہونق زدہ شکل دیکھی تو کھکھلا کر ہنس پڑی ۔۔۔

سب نے مڑ کر اسے دیکھا ۔وہ شرمندہ ہوتے ہوئے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے باہر کی طرف بھاگی ۔ارمان اس کے پیچھے پیچھے باہر بھاگا۔۔۔

“ان دونوں کا بچپنا کب جائے گا ۔اب تو شادی شدہ بھی ہوگئے ۔؟عابدہ آفندی نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

سب ان دونوں کی طرف دیکھے ہنسنے لگے ۔

“تمہارے ساتھ تمہارے گھر والے بھی بہت ظالم ہیں ۔بچ لو جتنا بچنا ہے آخر آنا تو میرے پاس ہی ہے ۔اس نے لان میں بھاگتی ہوئی عائشہ کو پکڑ کر کہا۔

“ہا۔ہا۔ہا۔۔۔بہت مزہ آیا سچی ۔۔آپ کی شکل دیکھنے والی تھی ۔اس کی کھلکھاہٹیں دور تک پھیلیں۔

اس کی بات پر دونوں ہنسنے لگے ۔

“اچھا تو پھر میں بھی چلتا ہوں “

“علی تم کہاں جا رہے ہو “؟

حرعین نے پوچھا ۔

“مما ایک جگہ انٹرویو دیا تھا وہیں سے کال آئی ہے آؤٹ آف سٹی جانا ہے ۔اس نے بہانہ بنایا ۔۔۔

“علی ریسپیشن تک واپس آجاؤ گے نا ؟”

“جی مام کوشش کروں گا ۔

اس نے حرعین کے پاس آکر اس کی پیشانی پر لب رکھے ۔

“Mama loves you a lot.

اپنا خیال رکھیے گا”وہ پیار بھرے انداز میں بولا ۔پھر جاتے ہوئے دور سے پیار بھری نظر سے آن کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

اس کے دیکھتے ہی نظروں کا زاویہ پھیر گئی۔

وہ ان کے انداز پر پھیکا سا مسکرا دیا ۔

اور اپنا بیگ لیے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔