Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 8)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

حرعین کے آنسو بلا اختیار ہی اس کے گالوں پہ پھسلے ۔۔۔۔۔

“ایسا کچھ نہیں جیسا تمہیں سمجھ آیا کبھی کبھی آنکھوں دیکھا بھی سچ نہیں ہوتا ۔۔۔۔وہ پیچھے مڑ کر جودھا پر تلخ نگاہ ڈالا گیا ۔۔۔

“ہائے رام تم کیا سمجھی؟”جودھا منہ پہ ہاتھ رکھ کہ بولی ۔۔۔

“یہ لفظ مت بولا کرو “اکبر نے جودھا کو سرد مہری سے کہا ۔

“اوپس۔۔۔۔کیا کروں عادت ہے بولنے کی بہت بار کوشش کی مگر چھوٹتی ہی نہیں ۔۔۔وہ شرمندگی سے بولی ۔

اکبر اس کی بات پوری سنے بغیر حرعین کے شانے پہ ایک ہاتھ رکھ کہ اسے ہلکا سا ساتھ لگایا اور دوسرے ہاتھ کی پوروں سے اس کے

موتی چنے ۔۔۔۔

“جاؤ جا کہ آرام کرو “صبح بات ہو گی اس بارے میں “وہ نرمی سے اسے کہنے لگا ۔۔۔

حرعین نے ایک جتلاتی ہوئی نگاہ جودھا پہ ڈالی ۔۔۔۔

وہ لب بھینچ کہ رہ گئی ۔۔۔۔

اور پھر واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ جودھا اپنی حرکت کی وجہ سے اکبر کے عتاب کا شکار بنتی اس نے وہاں سے فی الحال کھسک جانے میں ہی عافیت جانی ۔

وہ پیچھے سے ہوتی ہوئی اس کی نظروں سے بچ کہ نکلنے کی کوشش میں تھی کہ اکبر نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے جانے سے روکا ۔۔۔۔

اور اسے کھینچ کہ دیوار کہ ساتھ لگا گیا ۔۔۔۔

“کون ہو تم “؟

“You never know…..?

I am your wife ……

وہ بنا ڈرے بولی ۔۔۔اندر سے ڈر بھی تھا وہ اس کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر کچھ خوفزدہ تھی مگر اس پہ ظاہر نہ ہونے دیا ۔۔۔۔۔

“مجھے گھماؤ مت ۔۔۔جو پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دو ورنہ ۔۔۔۔۔

میرا میٹر گھوم گیا نا تو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا ۔۔۔۔

اس کی بارعب کڑک آواز سن کہ اس کے بدن میں کپکپی سی دوڑ گئی ۔۔۔

“جودھا “

وہ نظریں جھکائے ہوئے بولی۔۔۔

“جانتا ہوں آگے کا تعارف “اسے تمیز سے بات کرتے دیکھ اکبر نے بھی لہجہ دھیما کیا ۔۔۔

“ایڈوینچر کرنے آئی تھی پاکستان ۔۔۔تمہیں دیکھا تو سب سے پہلے تمہاری آواز سے عشق ہوا ۔۔۔

وہ پلکیں جھپکا کر انداز سے بولی۔

اکبر کا چہرہ اس کی بات پہ کسی بھی تاثر سے پاک تھا ۔۔۔۔

“پھر تم سے ۔۔۔۔اور اب تمہارے مذہب سے بھی “اس کے علاؤہ اور کچھ نہیں بتانے کو ۔۔۔آخری بات وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر سادہ سے انداز میں بولی ۔

“بیک گروانڈ ؟؟؟؟اکبر نے ایک اور من میں مچلتا ہوا سوال داغا ۔۔۔۔

“راجستھان میں رہتی تھی ،کینڈا سے تعلیم حاصل کی۔جو کہ ابھی نا مکمل ہے ۔ایک ماں سا تھی جو مر گئی ۔۔۔بھائی بھی نہیں رہا ۔۔۔۔ایک بھابھی اور راجا ہیں ۔اکیلی تھی ۔۔۔لیکن اب اکیلی نہیں رہی ۔۔۔تم جو مل گئے ۔۔۔۔

وہ اس کے سینے پہ انگلی رکھ کر پیار بھرے انداز میں بولی ۔۔۔

اکبر نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔

اور سرد نظروں سے دیکھا ۔۔۔

“اور کچھ پوچھنا ہے یا اتنا کافی ہے ؟؟وہ سوالیہ لہجے میں گویا ہوئی۔

” اگر اس کہ علاؤہ کچھ نکلا تو میرے ہاتھوں سے تمہیں دنیا کا کوئی شخص نہیں بچا سکتا ۔۔۔سمجھی تم ۔۔۔۔وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کرتے ہوئے انداز میں بولا ۔

“جاؤ یہاں سے “

مگر وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نا ہلی ۔۔۔وہیں کھڑی اس کے چہرے پر نظریں جمائے کسی دوسری دنیا میں پہنچی ہوئی تھی ۔۔۔۔

“I said go ……”

وہ دھاڑا۔۔۔۔

وہ ٹھٹھکی۔۔۔۔

پھر اس پہ ایک کٹیلی نگاہ ڈالتے ہوئے وہاں سے بھاگ کر نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔

وہ سر جھٹک کر اپنے کمرے میں واپس آیا اور بستر پہ گرنے کے انداز میں لیٹ گیا ۔۔۔۔

آنکھوں کے سامنے کبھی حرعین کا رویا ہوا چہرہ نظر آتا تو کبھی جودھا کی کاٹ دار نظریں ۔۔۔۔وہ تکیے میں منہ چھپائے ہوئے سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔کچھ دیر بعد ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا ۔۔۔۔۔

دو تین گھنٹوں کی نیند لینے کے بعد

صبح سویرے اٹھ کر حسب عادت فجر کی نماز ادا کر کہ مسجد سے واپس آیا تو اپنی دادی جان شبنم گیلانی سے ملنے کے لیے ان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔اسے پتہ تھا کہ وہ اس وقت جاگ رہی ہوں گی ۔

دروازہ کھولے اندر جھانک کر دیکھا تو شبنم گیلانی صوفہ پہ بیٹھی قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھیں جبکہ جودھا سر پہ دوپٹہ اچھی طرح نماز کے سٹائل سے اوڑھے دروازے کے قریب جگہ پر جائے نماز بچھائے نماز ادا کر رہی تھی ۔۔۔۔

وہ ایک غیر مذہب کی لڑکی کی اتنی جلدی کایا پلٹ پر حیران ہوا ۔۔۔۔

کمرے کے اندر آنے کی جگہ نہیں تھی ۔۔۔۔کچھ سوچ کہ وہ کچن کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔۔

کچن میں آکر اکبر نے دو کپ چائے تیار کی ۔۔۔اور کپ میں انڈیل کر ٹرے میں لیے پھر سے شبنم گیلانی کے روم میں آیا جہاں اب جودھا کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی وہ قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی ۔۔۔۔

شبنم گیلانی حافظہ تھیں ۔۔۔جودھا نے شادی پہ اکبر کے چلے کہ بعد شبنم گیلانی سے گزارش کی کہ جیسے اکبر پڑھتا ہے اذان وہ بھی دینا چاہتی ہے ۔

تو شبنم گیلانی نے اسے سمجھایا کہ وہ اذان نہیں دے سکتی ۔۔۔

اس نے کہا اسے بھی اکبر کی طرح نماز پڑھنی ہے ۔۔۔شبنم گیلانی نے اس کا شوق دیکھ کر اسے نورانی قاعدے سے شروع کیے پھر قرآن مجید کی تلاوت کرنا سکھانا شروع کیا ۔۔۔پھر نماز بھی ۔۔۔وہ بہت جلد سب سیکھ گئی ۔۔۔

اکبر چائے لیے شبنم گیلانی کے ساتھ والی خالی جگہ پر براجمان ہوا ۔۔۔۔

وہ قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹ کہ الماری کی اوپری شیلف پہ رکھتے ہوئے اس کی طرف ایک بھی نگاہ ڈالے بغیر باہر نکل گئی ۔۔۔۔

وہ اس نخرے اور انداز پہ تلملا کہ رہ گیا ۔۔۔

سمجھتی کیا ہے خود کو میں کیا مرا جا رہا ہوں کہ وہ مجھے دیکھے “وہ سوچ کر رہ گیا۔۔۔۔

جبکہ جودھا اس کے رات والے روئیے پہ خائف تھی جب اس نے اس پہ حرعین کو فوقیت دی تھی ۔۔۔۔

وہ کچن میں آ کر ناشتے کے لیے چیزیں تیار کرنے لگی ۔۔۔۔

ابھی وہ آٹا گوندھ کہ فارغ ہوئی ہی تھی کہ جنت گیلانی (ساس)کچن میں آئی ۔۔۔۔

“تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ میں خود ہی کر لیا کروں گی مگر تم سنتی ہی نہیں “

“کوئی بات نہیں میرے ہوتے ہوئے اس عمر میں آپ کام کرتے ہوئے اچھی لگیں گی کیا ۔۔۔وہ پیار بھرے لب و لہجے میں بولی۔

جنت گیلانی کا اس سے برتاؤ اتنا اچھا نہیں تھا تو اتنا برا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

جبکہ انیقہ گیلانی ابھی بھی اس سے خار کھائے ہوئے تھیں ۔۔۔۔

حرعین بھی لیے دئیے والا انداز اپنائے ہوئے تھی ۔۔۔۔

“اکبر آئے ہیں تائی جان آج میں ان کی پسند کا خود ناشتہ بناؤں گی ۔۔۔

حرعین کی چہکتی ہوئی آواز عقب سے آئی تو جنت نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

“صبح بخیر تائی جان !

صبح بخیر !انہوں نے جوابا کہا۔

“اے لڑکی کچن سے باہر نکلو ۔۔۔کیا صبح صبح منحوس صورت دیکھ لی اب سارا دن ہی منحوس گزرے گا ۔۔۔انیقہ کی تلخ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔

وہ بنا کچھ کہے کچن سے نکل کر باہر لان کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔

“انیقہ نا کہا کرو کچھ بھی اسے کیوں ہر وقت اس کے پیچھے پڑی رہتی ہو ؟؟؟وہ تو کچھ کہتی بھی نہیں تمہیں آگے سے ۔۔۔

“آپ کو کیوں اس پہ اتنا رحم آتا ہے ؟؟؟آپ کی اصل بہو یہ ہے ۔۔۔۔وہ حرعین کی طرف اشارہ کر کہ بولی ۔۔جو پراٹھے کے پیڑے بنا رہی تھی ۔

“انیقہ بنا ماں باپ کے بچی ہے ۔۔۔اللہ تعالیٰ نے یتیموں پہ رحم کرنے کا ان سے شفقت سے پیش آنے کا حکم دیا ہے ۔۔۔۔

“مجھ سے نہیں ہوتا ہے یہ سب آپ خودی کریں ۔۔۔وہ منہ دوسری طرف پھیر کر اب قیمہ بنانے کے لیے سامان نکالنے لگیں ۔۔۔۔

“اکبر کیا سوچا ہے تم نے پھر “؟

شبنم گیلانی تلاوت مکمل کیے اکبر سے مخاطب ہوئیں ۔

“کچھ سمجھ نہیں آ رہا “وہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

“میں کیسے کسی کو نا جانتے ہوئے ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی میں جگہ دے سکتا ہوں ۔۔۔۔

“آپ ہی کچھ مشورہ دیں دادی جان اسے طلاق دے کہ فارغ کردوں ؟؟؟

“یہ کس قسم کی باتیں کر رہے ہو تم ؟؟؟

“اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے نا پسندیدہ عمل طلاق ہے ۔

ایک بے آسرا بچی کو فارغ کر کہ گھر سے نکالو گے کیا ؟؟؟؟

میں کبھی بھی تمہیں اس کام کی اجازت نہیں دوں گی ۔۔۔۔

“مگر میں کیسے ؟؟؟وہ پریشان انداز میں بولا۔

“اکبر اسے ایک موقع تو دے کر دیکھو ۔۔میں اس کی سفارش نہیں کر رہی مجھے میری پوتی بھی اتنی پیاری ہے جتنی کہ وہ ۔۔۔۔دونوں کے درمیان تفاوت نہیں ڈالتی ۔۔۔۔برابر ہیں وہ دونوں میرے لیے۔۔۔

اور جیسے میرے لیے وہ دونوں برابر ہیں تم بھی انہیں برابری کا درجہ دو ۔۔۔

ہمارے لیے برابری کا کرنے کا حکم ہے ۔۔۔۔

اگر کبھی بھی تمہیں اس پہ کسی بھی قسم کا کوئی شک گزرے یا مسلہ ہو تو میں تمہیں نہیں روکوں گی ۔۔۔۔

چھ ماہ میں وہ میرے ساتھ رہی ہے ۔میں نے زمانہ دیکھا ہے ۔۔۔۔میری جہاندیدہ نظریں یہی کہتی ہیں کہ اس میں کوئی کھوٹ نہیں وہ بہت شفاف دل کی بچی ہے ۔۔۔۔۔

بس اپنی دونوں بیویوں کو برابری کے حقوق دو ۔۔۔۔

میرا تو یہی مشورہ ہے آگے تمہاری مرضی ۔۔۔

“جی دادی جان “وہ صوفے کے ساتھ ٹیک لگا گیا۔۔۔اس کی نظریں کسی غیر مرئی نقطے پہ مرکوز تھیں ۔۔۔۔۔

ناشتے پہ خاص اہتمام دیکھ کر وہ اچنبھے سے اپنی ماں جنت گیلانی کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔

“میں نے نہیں حرعین نے بنایا ہے “وہ توصیفی نگاہیں اس کی طرف کیے بولی۔

“ہممم بہت اچھا ہے “وہ پہلے بائٹ منہ میں ڈال کر بولا ۔۔۔

“تھینکس “حرعین کے چہرے پر مسکراہٹ رقصاں ہوئی ۔۔۔اس کی پہلی بار تعریف کرنے پہ ۔۔۔۔

شبنم گیلانی ایک طرف اپنی مخصوص ڈائننگ کی چئیر پر بیٹھی ہوئی تھیں تو عیسی اور موسی گیلانی بھی ساتھ ساتھ تھے جبکہ حرعین اور انیقہ ساتھ بیٹھی تھیں ۔۔۔جنت کے ایک طرف اکبر تو دوسری خالی جگہ پہ جودھا آکر بیٹھ گئی ۔۔۔

کسی نے بھی اس پہ کوئی خاص توجہ نہیں دی۔

عیسی اور موسی دونوں نے کبھی جودھا کو مخاطب نہیں کیا ۔۔۔۔

جنت نے جودھا کے سامنے پڑی ہوئی خالی پلیٹ میں ایک پراٹھا نکال کہ رکھا اور دوسری میں بھنا ہوا قیمہ ڈالا ۔۔۔

وہ سر جھکائے ہوئے چھوٹے چھوٹے لقمے لیے بے دلی سے کھانے لگی ۔۔۔۔

اکبر جلدی سے ناشتہ ختم کیے سب کو مشترکہ طور پر خدا حافظ کیے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

شام کو تھکا ہارا واپس آیا تو اپنے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔لائٹ آن کی ۔۔۔

ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ حرعین آتی دکھائی دی ۔۔۔۔اس نے اکبر کی گاڑی کی آواز سن لی تھی اسی لیے وہ اس کے کمرے میں آئی تاکہ رات کے کھانے کا پوچھ لے ۔۔۔۔

آپ کے لیے کھانا لگاؤں ؟؟؟وہ انگلیاں چٹخاتے ہوئے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔

“نہیں مجھے بھوک نہیں “

“تم جاؤ آرام کرو صبح بھی کام میں لگی ہوئی تھی “وہ اس کے آرام کے خیال سے بولا۔

“,آپ بار بار مجھے یہاں سے جانے کا کیوں کہتے ہیں ۔۔۔وہ اس بار نم آنکھوں سے بولی ۔۔۔۔

“اف یار ایک تو تم لڑکیوں میں کیا آنسوؤں کا سمندر آباد ہوتا ہے جو ہمہ وقت بہنے کے لیے تیار رہتا ہے ۔۔۔

“اچھا ادھر آؤ بیٹھو یہاں “وہ اسے اپنے پاس بستر پہ بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا پھر شوز اتار کر ایک طرف رکھے ۔۔۔۔

اور خود بستر پہ لیٹ گیا ۔۔۔اور اپنے اوپر کمفرٹر اوڑھا ۔۔۔۔

حرعین وہیں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔

“آپ کا سر دبا دوں ؟”

نہیں اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔

“آجاؤ لیٹ جاؤ یہاں “

“مجھے بہت نیند آرہی ہے میں اب سوؤں گا “کہتے ہی وہ رخ موڑ گیا ۔۔۔اور ہاں ڈور بند کردو باہر سے ٹھنڈی ہوا اندر آ رہی ہے ۔۔۔۔

حرعین دروازہ بند کرنے کے لیے اٹھی ہی تھی کہ جودھا جو وہاں سے گزر رہی تھی اکبر کے کمرے کی جلتی ہوئی لائٹ دیکھ کر وہاں آئی تو حرعین کو اکبر کے کمرے میں دیکھ ساکت رہ گئی ۔۔۔۔

“پیچھے ہٹو “وہ اسے شانے سے دھکا دے کر اندر آئی ۔۔۔۔

حرعین اس کی حرکت پر سخت بدمزہ ہوئی ۔۔۔۔

اور گھور کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔

اکبر تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ؟؟؟وہ اس کے سر پہ پہنچ کر غرائی ۔۔۔۔

“وہ جو سونے کی تیاری میں تھا جھنجھلا کر رہ گیا ۔۔۔۔۔

“لو جی شروع ہوگیا ڈرامہ آدھی رات کو “وہ دانت پیس کر بولا ۔۔۔۔

“اب میں نے کیا کردیا ملکہ عالیہ کی شان میں ؟” وہ تیکھے چتونوں سے گھورتے ہوئے بولا ۔

جودھا نے اس کے چہرے پہ نظر ڈالی جو پہلے سے خاصا کمزور دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔شاید سیاہ چین میں متوازن خوراک نا ملنے کی وجہ سے ،،،،آنکھوں کے نیچے نیند کی کمی کے باعث سیاہ حلقے نمایاں ہو رہے تھے ۔۔۔۔

“یہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟؟وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑاکا انداز میں بولی ۔۔۔

“بیوی ہے وہ میری “اکبر نے جواب دیا ۔

“بیوی تو میں بھی ہوں “

“بھئی بیویاں ہو تو پھر دونوں میرے سر پہ چڑھ کر ناچو “وہ سخت کھردرے پن سے بولا ۔۔۔

آنکھیں نیند سے بوجھل سرخی مائل دکھائی دے رہی تھیں ۔۔۔۔

“یہ میرے جڑے ہوئے ہاتھ دیکھ لو سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو ۔۔۔

حرعین نے جودھا کو گھورا تو جوابا جودھا نے بھی اسے گھور کر دیکھا ۔

اکبر بیڈ کے وسط میں لیٹا ہوا تھا ۔۔وہ دونوں اس کی اطراف میں آکر بیٹھیں ۔۔۔۔۔

اکبر میری طرف لیٹو ۔۔۔۔

حرعین نے اس کا بازو اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔

“نہیں اکبر تم میری طرف ۔۔۔۔۔

اس نے اکبر کا بازو اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔

وہ کب سے ان دونوں کی کھینچا تانی کا شکار بنا ہوا تھا ۔۔۔۔

“کیا مصیبت ہے سونے دو یار ؟”

جھنجھلا کر رہ گیا ۔۔۔۔اور اٹھ کر بیٹھا ۔۔۔

وہ دونوں کے درمیان خود کو ایسے محسوس کر رہا تھا جیسے کوئی برگر میں لگا کباب ۔۔۔۔

“یا اللہ میں نے کونسا گناہ کردیا تھا جس کی سزا مجھے ان دونوں کی صورت میں ملی ہے ؟؟؟

وہ اپنے فوجی ہئیر کٹ میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں پھنسائے ہوئے بے چارگی سے بولا ۔۔۔۔

اور ایک خفگی بھری نگاہ ان دونوں پر ڈالی ۔۔۔۔

“بندہ خود کشی کر لے مگر دو شادیاں ہر گز نا کرے “وہ چبا چبا کر بولا ۔۔۔

“اللّٰہ کرے اگلی بار غازی ہو کر لوٹنے کی بجائے شہید ہو جاؤں ۔۔۔۔۔”اس نے دلی جذبات تلخ لہجےمیں ادا کیے ۔

“اللّٰہ نا کرے “حرعین نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھنا چاہا ۔۔۔

عین اسی وقت” اس” نے بھی اکبر کے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

“ہائے رام ایسا تو مت کہیں “وہ دہلتے ہوئے دل سے بولی ۔۔۔۔

اکبر اس کے الفاظ سن کر مزید سیخ پا ہوا ۔۔۔۔

“کتنی بار کہا ہے یہ لفظ مت بولا کرو ۔۔۔۔

حرعین ” اس” کی بعزتی پر دل ہی دل میں مسکرائی ۔۔۔۔۔

اکبر ان دونوں کے درمیان میں سے اٹھ کر کمفرٹر پھینکتے ہوئے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ اس پر ڈالے باہر کی طرف بڑھا ۔۔۔۔

جتنا چاہو لڑو آپس میں ۔۔۔مگر خدا کا واسطہ ہے میری جان چھوڑو ۔۔۔۔دو راتوں سے سویا نہیں ہوں ۔۔۔سکون کی تلاش میں گھر آتا ہوں مگر ۔۔۔۔وہ بات ادھوری چھوڑ کر افسوس ذدہ آواز میں تاسف سے سر ہلایا تھا ۔۔۔۔۔

وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا۔۔

حرعین نے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔

اور منہ کے زاویے بگاڑے ۔۔۔

جبکہ اس نے نتھلی والا ناک سکوڑتے ہوئے سر جھٹک کر چہرے کا رخ دوسری جانب پھیرا ۔۔۔۔

“کیا ہوا اکبر رات کے اس وقت تم یہاں ؟؟؟شبنم گیلانی نے لہجے میں حیرانی سموئے ہوئے اسے پوچھا ۔۔۔

“دادی جان سکون چاہتا ہوں کچھ دیر میں یہاں آپ کے بستر پہ سو جاؤں ۔۔۔؟

“ہاں ہاں میرا بچہ کیوں نہیں ….آؤ ادھر ۔۔۔آرام سے لیٹو ۔۔۔۔

اکبر کے لیٹتے ہی وہ اس کے بالوں میں پیار سے انگلیاں چلانے لگیں تو وہ کچھ ہی دیر میں سو گیا ۔۔۔۔

شبنم گیلانی اسے سوتا ہوا چھوڑ کمرے سے باہر آئیں ۔۔۔۔

وہ دونوں اکبر کو ڈھونڈتے ہوئے باہر ادھر سے ادھر گھوم رہیں تھیں ۔۔۔

حرعین تم اپنے کمرے میں سو جاؤ اور جودھا تم فی الحال اکبر کے روم میں ۔۔۔۔آج اکبر میرے کمرے میں سو گیا ہے ۔۔۔ بیچارا بہت تھکا ہوا تھا ۔۔۔