Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 1)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

پاکستان کا ایک جنگلاتی علاقہ جہاں جنوری میں ہونے والی شدید برف باری نے اونچے نیچے راستوں ، بل کھاتی ہوئی سڑکوں ،اور سایہ دار گھنے درختوں کوبرف کی سفید چادر سے ڈھانپ رکھا تھا ۔۔۔۔۔

سردی کی شدت سے اس کا سپید چہرہ سرخ پڑ رہا تھا ۔۔۔۔اس کی گرے آنکھوں کی پتلیاں سکڑ کر پھیلیں ۔۔۔۔وہ جو کوئی بھی تھا اس نے ۔۔۔۔۔

بلیک جینز اور بلیک چست شرٹ کے ساتھ بلیک ہی لمبا اوور کوٹ پہنا ہوا، اپنے چہرے کو بلیک مفلر سے ڈھانپے ہوئے تھا۔۔۔۔صرف گرے آنکھیں ہی نمایاں تھیں ۔۔۔جن میں حد درجہ سفاکیت نمایاں تھی ۔۔۔۔

“جلدی لے چلو انہیں جنگل کی طرف”

وہ سکول وین سے سب بچوں کو نکال کر اب اپنے ساتھیوں سمیت جنگل کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اس کی درشت آواز ان کے کانوں میں سنائی دی۔۔۔

وہ سب اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بچوں کو گھسیٹتے ہوئے اب گھنے درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوئے ۔۔۔۔۔

“اطلاع مل چکی ہوگی اب تک تو انہیں بچے اغوا ہونے کی ۔۔۔۔۔

“ہا۔ہا۔ہا ۔۔۔۔اس کی پر اسرار ہنسی کی آواز گونج کر درختوں سے ٹکرانے لگی۔۔۔۔

بچے تو بچے اس کے ساتھی بھی اس کی آواز سے سہم گئے۔۔۔۔۔

“مما کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ان میں سے ایک بچہ جو کافی ڈرا ہوا تھا ۔۔۔روتےہوئے نم آنکھوں سے بولا ۔۔۔۔

“ابے چپ بے فوجی کی اولاد ہو کہ اتنا ڈرپوک ۔۔۔۔”اس حبشی نما آدمی نے اس دس سالہ بچے کو یونیفارم کے کالر سے دبوچ کر گھمبیر آواز میں کہا ۔۔۔۔

پھر جھٹکے سے چھوڑا۔۔۔۔

وہ جو اس کے کالر دبوچنے سے آدھا ہوا میں معلق تھا ۔۔۔۔

جھٹکا کھا کر زمین پر گرا ۔۔۔۔

آدھے بچے رو رہے تھے تو آدھے سہمے ہوئے بالکل خاموش تھے ۔۔۔۔

“ان سب کے منہ اور ہاتھ پاوں باندھ دو “

اس کی کڑک، بارعب آواز سنائی دی ۔۔۔۔

تو اس کے ساتھیوں نے اس کا حکم بجا لایا ۔۔۔۔۔

وہ ہستی ہاتھ کی ایک انگلی میں ریوالور گھماتے ہوئے ادھر سے ادھر بے چینی سے چکر کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔

اس کی گرے آتش فشاں برساتی نظروں کے حصار میں بس ایک بچی ہی تھی ۔۔۔۔۔

جو اسے دیکھ تب سے سہمی ہوئی ایک کونے میں سر جھکائے تھر تھر کانپتی ہوئی دُبک کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اپنی لرزتی ہوئی پلکوں کو دھیرے سے اٹھا کر اسے دیکھتی ۔۔۔

وہ اس کے خوف کے باعث لرز رہی تھی ۔۔۔۔۔

اس ساری کاروائی میں اب دوپہر تقریبا رات میں ڈھل گئی تھی۔۔۔۔

چاروں طرف اندھیرا پھیلنے لگا ۔۔۔۔

رات کے اس چیر دینے والے سناٹے میں جہاں جنگلی جانوروں کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔۔۔۔۔وہ بے خوفی سے اپنا کام سر انجام دے رہے تھے۔۔۔

اپنا وار وہ کر چکے تھے ۔۔۔

اب باری تھی تو فوج کی ۔۔۔

وہ کیا کریں گے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے ؟؟؟؟

” تم لوگ اچھی طرح سمجھ گئے نہ میں نے کیا کہا ؟؟؟؟؟

اس نے آخری بار اپنی بات مکمل کرکے ایک نظر اپنی ٹیم کی طرف دیکھا۔انکا پلان مکمل تھا وہ ایک بار پھر سب دوہرا رہے تھے کہ انہیں کب اور کیسے ان کو اپنے گھیرے میں لینا ہے ۔

رات کا گہرا پہر تھا وہ لوگ اس وقت شہر کے اس سُنسان جنگلاتی علاقے میں موجود تھے جہاں لوگوں کا آنا جانا شاز و نادر ہی ہوتا تھا۔چاروں طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی اور خاموشی میں کتوں کے بھوکنے کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی جو اس خاموشی میں مزید خوفناک لگ رہی تھی

” یس سر ”

اسکی ٹیم کے باقی ساتھیوں نے اپنے آفیسرز کو یک زبان ہوکر کہا تو اُس نے صرف گردن ہلانے پر اکتفا کیا ۔۔۔۔

” بچوں کی جان بچانے کے لئے ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔۔۔میں تم میں سے کسی ایک کی بھی لاپروائی برداشت نہیں کرونگا از ڈیٹ کلئیر؟ “

اس نے ابرو اچکا کے چہرے پر سخت تااثرات لیے سب کو وارن کیا۔

دوپہر کو ہی انہیں بچوں کے سکول وین کے اغوا ہونے کی خبر مل چکی تھی ۔۔اسی سلسلے میں وہ اپنا لائحہ عمل تیار کیے نکل چکے تھے ۔۔۔۔

” یس سر” وہ سب یک زباں ہو کر جوش سے بولے تھے

چٹیل میدان سے ہوتے ہوئے وہ سنگلاخ پہاڑوں سے گزرکر اب گھنے درختوں کے جھنڈ میں پہنچ چکے تھے مگر ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔۔۔۔

سردی کے باعث آگ جلا کر بیٹھنے کی غلطی ان مجرموں کو بھاری پڑنے والی تھی ۔۔۔۔جو آرمی کمانڈر کے لیے ان لوگوں کے سراغ لگانے کا باعث بنا۔۔۔۔۔

” تم لوگ الگ الگ درخت کے پیچھے چھپ جاؤ میرے ڈن کہنے پر سب ایک ساتھ اٹیک کریں گے۔ “

ٹیم کا کمانڈر اپنی ٹیم کو رعب دار آواز میں ہدایت دیتا ہوا نڈر انداز میں آگے بڑھ رہا تھا ۔۔۔ اسکا آرڈر ملتے ہی سب الگ جگہ پر چھپ گئے ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اسکے اشارے کرنے پر فائرنگ شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس جگہ پر قبضہ کر چکے تھے ۔۔۔۔

آرمی کمانڈر اسکے ایک حبشی نما شخص کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ۔۔۔جبکہ باقیوں نے تمام بچوں کو بازیاب کروا لیا۔۔۔۔

مگر اس سب کاروائی کے پیچھے جس مین ہستی کا ہاتھ تھا وہ شاید بچ کر نکلنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

“آفیسر گو “ان کے سنئیر نے ان پانچوں کو اس اغوا کار کے پیچھے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔کیونکہ وہ اسے بھاگتا ہوا دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔

کچھ آرمی آفیسر بچوں کو ساتھ لیے واپس ہو لیے جبکہ ان میں سے کچھ اغوا کاروں کے لیڈر کے تعاقب میں تیز رفتاری سے نکلے ۔۔۔۔

حی علی الفلاح!

حی علی الصلاۃ!

فجر کی آذان نے کانوں میں رس گھولا تو سب نیند سے بیدار ہوئے اور فریش ہونے کہ بعد باوضو ہوئے ۔۔۔۔

حسن اور اکبر دونوں بھائی قریبی مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے روانہ ہوئے ۔۔۔۔

حسن گیلانی پاکستان آرمی میں ایک اچھے عہدے پر فائز تھا،جبکہ اکبر گیلانی ابھی کاکول اکیڈمی میں ٹرینگ حاصل کر رہا تھا ۔

گھر کی خواتین بھی وضو کر کہ نماز کی ادائیگی کے لیے تیار ہوئیں۔۔۔۔

گیلانی ہاؤس کی سربراہ شبنم گیلانی اب نماز پڑھنے کے بعد قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول تھیں کہ ان کی بڑی بہو ثوبیہ ان کے لیے چائے اور بوائلڈ ایگز لے کر آئی۔کیونکہ اس وقت وہ تلاوت سے فراغت کے بعد یہی نوش فرماتی ،باقی کا ناشتہ صبح کے ساتھ بجے اکٹھے ڈائنگ پر کیا جاتا۔

اس گھر میں شبنم گیلانی کے ساتھ ان کے دو بیٹے رہتے تھے بڑا بیٹا عیسی جس کی بیوی ثوبیہ اور ان کے دو بیٹے حسن گیلانی اور اکبر گیلانی تھے ۔

جبکہ دوسرا بیٹا موسی گیلانی اس کی بیوی انیقہ گیلانی اور ان کی اکلوتی بیٹی حرعین رہتی تھیں ۔

سورج اپنی سونے جیسی کرنیں بکھیرے ہر جگہ کو روشن کر چکا تھا ۔۔۔ گھر کے سارے مکین اس وقت ڈائیننگ ہال میں موجود تھے ۔۔۔۔

یہ ایک بڑے سے ہال نما لاؤنج کا منظر تھا ہال یہاں کے مکینوں کے بہترین ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔ نہایت قیمتی فانوس اس ہال کے وسط میں لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔دیوراوں پر جدید نقش نگاری کی گئی تھی ۔۔۔غرض ہر چیز ہی عمدہ ترین تھی ۔۔۔جو اس محل نما گھر کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھی ۔۔۔۔۔

” گڑیا ناشتہ کرو ٹھنڈا ہو رہا ہے پھر سکول وین آ جائے گی تو ناشتہ رہ جائے گا۔”

حسن کی بیوی اور گڑیا کی والدہ جنت نے ایپل ملک شیک کا گلاس اس کے سامنے رکھا جو ٹیبل پہ رکھے بریڈ اور آملیٹ کو نا پسندیدہ نظروں سے گھور رہی تھی چہرے پہ بیزاری واضح دکھائی دے رہی تھی۔

” بی جان کی پیاری سی گڑیا ناشتہ کیوں نہیں کر رہی؟ “

شبنم گیلانی اپنا پراٹھا ختم کیے اپنی لاڈلی پوتی گڑیا کی طرف متوجہ ہوئیں۔

اس نے ایک پل کے لئے اپنی بڑی بڑی چمکتی ہوئی غزال چشماں سے ان کی طرف دیکھا اور پھر سے نروٹھے انداز میں گھنی پلکوں کی چلمن گرا دی۔

“اسلام وعلیکم!

صبح بخیر!

حسن گیلانی نے سب کو مشترکہ طور پر کہا ۔۔۔۔

وعلیکم السلام!

صبح بخیر !

اللّٰہ پاک اپنی رحمتوں کا سایہ اس گھر پر ہمیشہ برقرار رکھے ۔۔۔۔شبنم گیلانی نے دعائیہ انداز میں کہا ۔

“آمین ثم آمین”ثوبیہ نے جوابا ً کہا ۔۔۔

” بھئی کیا بات ہے آج ہماری گڑیاکا صبح ہی صبح موڈ کیوں آف ہے؟ “

حسن گیلانی نے اس کی چھوٹی سی سنہری بالوں کی پونی ٹیل کو ہولے سے چھو کر پوچھا ۔۔۔۔اور پھر اپنی چئیر پر بیٹھا۔۔۔

بھئی ہماری گڑیا ناراض کیوں ہے ؟

وہ خاموشی سے سر جھکائے ہوئے بیٹھی رہی ۔۔۔۔

“جب تک آپ بتاؤ گی نہیں تو پتہ کیسے چلے گا۔۔۔؟”

باہر سے سکول وین کے ڈرائیور نے ہارن بجا کر اپنی آمد کی اطلاع دی تو وہ اپنا سکول بیگ اٹھائے آنسو چھلکاتی ہوئی آنکھوں سے ایک شکوہ کناں نگاہ اپنے پاپا حسن گیلانی پر ڈال کر بنا ناشتہ کیے باہر کو بھاگ گئی ۔۔۔۔

سب اسے یوں نمناک آنکھوں سے بھاگتے ہوئے دیکھ پریشان ہوکر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔جیسے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں کہ اسے کیا ہوا ؟؟؟؟؟

ٹن ۔۔۔ٹن ۔۔۔۔ٹن

گھر میں بنے چھوٹے سے مندر سے آتی ہوئی گھنٹیوں کی آواز سن کر سریتا جلدی سے بستر سے باہر نکلی ۔۔۔

“کہاں ؟؟؟

ارجن نے اس کی کلائی کھینچتے ہوئے اپنی مندی ہوئی آنکھوں سے دیکھ کر پوچھا ۔

“ساسو ماں مندر میں پہنچ بھی گئیں ہیں ابھی تک پرشاد بھی نہیں بنایا۔۔۔

اور عارتی کی تھالی بھی ۔۔۔۔

“جانے دو نا…..نہیں تو تھاری ماں نے سنانی ہے “

وہ اپنی علاقائی زبان میں بولی ۔۔۔۔۔

ارجن نے مسکرا کر اس کا ہاتھ چھوڑا اور پھر سے منہ پر کمفرٹر اوڑھ لیا ۔۔۔۔

سریتا نہا کر صاف ستھری چنری نما لہنگا چولی زیب تن کیے سر پر اچھے سے دوپٹہ اوڑھے رسوئی گھر کی طرف بڑھی ۔۔۔۔

شیلا دیوی جو عارتی کی تھالی خودی تیار کر چکی تھی ۔۔۔بھگوان کی پوجا کرتے ہوئے اپنا کوئی بھجن پڑھتے ہوئے آنکھیں کھول کر ایک تیکھی نگاہ رسوئی گھر میں جاتی ہوئی سریتا پر ڈالنے لگیں۔

انہیں یہ قطعا پسند نہیں تھا کہ کوئی بھی رسوئی میں بنا نہائے جائے اور جوتا لے کر جائے ۔اور اسی بات کا سریتا خاص دھیان بھی رکھتی وہ ہمیشہ جوتے باہر اتار کر ہی جاتی ۔۔۔

اصولوں کے معاملے میں اس کی ساس شیلا دیوی بہت سخت تھیں۔

جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے اس نے سوجی بھون کر حلوہ تیار کیا اور تھالی میں کٹوری رکھے مندر تک پہنچی ۔۔۔۔

تھالی بھگوان کے پیروں میں رکھ کر خود بھی آنکھیں بند کیے دونوں ہاتھ اپنے بھگوان کے سامنے جوڑے اپنی ساس کے پیچھے پیچھے وہی مخصوص الفاظ دہرانے لگی جو وہ دہرا رہی تھیں ۔۔۔۔۔

بھارت میں تھر کا علاقہ جو راجھستان کہلاتا ہے۔

ان صحراؤں میں چھوٹے چھوٹے گاؤں آباد تھے اور ان میں چھوٹے اور بڑے گھر ۔۔۔جن میں سے ایک گھر تھا اگروال کا ۔۔۔

پانی سے بھرا ہوا مٹکا سر پہ رکھے جودھا تیزی سے قدم اٹھاتی ہوئی اپنی سہیلیوں کے ساتھ گھر واپس آ رہی تھی ۔۔۔۔ پاؤں بار بار نرم ریت میں دھنس رہے تھے۔مگر وہ پاؤں میں کھسہ پہنے کسی بھی طرح جلدی واپس پہنچنے کی تگ و دو میں تھی ۔۔

وہ پانی کا مٹکا سر سے اتار کرکمر پہ ٹکاتی ہوئی ایک لمحے کو سانس لینے کے لیے رکی۔۔۔۔

اتنی جلدی کاہے کی ہے ؟؟؟اس کی سہیلی بندیا نے پوچھا ۔۔۔

“بھا سے بات کرنی ہے “دوبارہ سر پر مٹکا رکھے اب کی بار تو تقریبا دوڑ لگا دی ۔۔۔۔۔

بندیا اسے یوں جاتا دیکھ مسکرا کر رہ گئی۔۔۔۔۔

پانی سے بھرا گھڑا ایک طرف رکھے وہ اپنے دوپٹے سے ہی اپنے ہاتھ پونچھتے ہوئی صاف فرش پر بچھی دری پہ آکر بیٹھی جہاں سب ایک لائن بنا کر بیٹھے ناشتہ شروع ہی کرنے لگے تھے ۔۔۔

“بھا تھارے سے بات کرنی تھی “جودھا نے اپنی آس بھری آنکھوں سے ارجن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“ہاں بول نا کیا چاہیے “؟

ارجن نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے استفسار کیا ۔۔۔۔

دونوں بہن بھائیوں میں بلا کا پیار تھا ۔۔۔دونوں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے ۔

“بھا میں نے دس پاس کر لیں اب آگے پڑھنے مجھے باہر جانا ہے ۔۔۔۔۔

“نا ماتھا پھر گیا تیرا چھوری ؟؟؟؟شیلا دیوی کی کاٹ دار آواز گونجی ۔۔۔

“ماں سا !!!! ارجن نے انہیں ٹوکا ۔۔۔

“واہ بوا پڑھنے باہر جائیں گی ۔۔۔۔راجا خوشی سے لبریز لہجے میں بولا ۔۔۔۔

“تو چپ کر “سریتا نے اپنے بیٹے کو تنبیہی نظروں سے دیکھ کر گُھرکا ۔۔۔۔

وہ اپنے سکول کا بستہ اٹھائے برا سا منہ بناتے ہوئے وہاں سے نکلنے لگا ۔۔۔۔

“اے چھورے تھاری ماں نے تجھے پاٹ نہیں پڑھایا ۔۔۔۔۔گھر سے نکلتے ہوئے کیا کرنا ہے ؟؟؟؟شیلا دیوی نے درشت آواز میں راجا سے کہا ۔۔۔۔

وہ واپس پلٹا اور آکر باری باری سب کے پاؤں چھوئے ۔۔۔۔۔

پھر باہر نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔

“کہاں جانا ہے ؟ارجن پھر سے جودھا کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔۔

“بھا کینیڈا ۔۔۔۔۔وہاں بھابھی جی کے گھر والے رہتے ہیں ان کے پاس ۔۔۔۔۔

“ہممممم۔۔۔۔۔کہتے ہوئے وہ گہری سوچ میں ڈوبا۔۔۔۔

جبکہ شیلا دیوی تلملا کر رہ گئیں ۔۔۔۔

دراصل وہ اپنے بچوں کو اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینا چاہتی تھیں ۔۔۔۔۔

فیس بک لاگ ان کیے وہ سکرین کو سکرول کرتے ہوئے کسی دلچسپ چیز کی تلاش میں تھی ۔۔۔کہ ایک جگہ اس کی نظر رکی ۔۔۔۔

مگر انگلی کی تیز حرکت نے وہ منظر گزار دیا ۔۔۔۔

اس نے پھر سے سکرول ڈاؤن کیا اور اسی منظر کو ڈھونڈا ۔۔۔

جو جلدی ہی اس کی مرکزِ نگاہ بنا ۔۔۔۔

جہاں کسی کی مخروطی انگلیاں جن میں پینٹ برش پھنسا ہوا تیزی سے کینوس پر کوئی امیج بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔

“اور یہ کیا تھا اس نے لمحوں ہی لمحوں میں ایک شاہکار تیار کیا ۔۔۔۔

وہ حیران رہ گئی اس کی مہارت پر

ایک روتی ہوئی عورت کی شاندار تصویر بنی دیکھ وہ ساکت رہ گئی ۔۔۔

کچھ پل کے لیے تو ایسا لگا کہ وہ عورت سچ میں سامنے ہے اور وہ اس کے حقیقی آنسو ہیں ۔۔۔۔

کتنی ہی بار وہ بار بار اس ویڈیو کو چلا کر دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔

پہلے تو لائیو ویڈیو تھی ۔۔۔مگر پھر سیو میں جا کر دیکھتی رہی ۔۔۔۔وہ اس میں پوری طرح خود کو ڈوبا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔

جب ہوش نے سرا تھمایا تو حال میں لوٹی ۔۔۔۔چینل کا نام دیکھا جہاں لکھا تھا ۔۔۔

Sid Art.

اس نے فورا سے بیشتر اسے لائک اور فالو کیا۔۔جہاں اس کے پہلے سے ہی ون میلین سبکرائیبر تھے ۔۔۔پھر سیٹنگ میں جاکر فیورٹ میں ڈالا ۔۔۔تاکہ اسے کسی بھی ویڈیو کی سب سے پہلے نوٹیفکیشن مل سکے ۔۔۔۔

پھر اس کی بائیو میں گئی ۔۔۔۔

جہاں اس کی ڈیٹیلز میں لکھا تھا ۔۔۔۔

Dr.Sid.(ڈاکٹر)

Painting is my passion.

وہ پڑھ کر متاثر ہوئی پھر سے ویڈیو چلائی ۔۔۔۔۔

اس بار اس کی تلاش وہ ماہر تھا جس نے یہ شاہکار تخلیق کیا تھا۔۔۔۔

اس کے دل میں تجسس جاگا کہ وہ خود کیسا ہوگا ؟

اس کی نظر اس ساحر پر پڑی جس کے چہرے کا صرف سائیڈ کٹ کا کچھ حصہ ہی نظر آ رہا تھا ۔۔۔

سائیڈ سے دیکھ کر تو ستواں مغرور ناک اور کنپٹی سے کچھ نیچے سیاہ چمکتے ہوئے بال دیکھائی دئیے ۔۔۔چہرہ واضح نہیں تھا ۔۔۔۔اسے کچھ بھی ٹھیک اے دکھائی نہیں دیا تو وہ جھنجھلا کر رہ گئی ۔۔۔۔۔

اس کی پوسٹ میں جا کر کئی ویڈیوز چھان ماری ۔۔۔مگر ہر ویڈیو میں اس کا یہی بے نیازی والا انداز تھا کہ وہ خود سامنے نہیں آتا تھا ۔۔۔۔۔

اس نے برا سا منہ بناتے ہوئے فون بند کیے ایک طرف رکھا ۔۔۔اور خود بستر پر اوندھے منہ گر گئی ۔۔۔۔