Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 17)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

آج پہلا دن تھا اسے آکسفورڈ یونیورسٹی میں آئے کچھ لیکچرز اٹینڈ کیے اب وہ وہاں کے گراؤنڈ میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔ابھی شروعات تھی تو کسی سے جان پہچان نہیں تھی ۔۔۔اسی لیے اکیلی ہے بیٹھی اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی ۔یہاں کے رہنے والوں کے علاؤہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے بھانت بھانت کے سٹوڈنٹس وہاں دکھائی دے رہی تھے جس میں زیادہ تر ویسٹرن ہی تھے ۔۔۔

اس نے اکتا کر اپنے قریب رکھے بیگ میں سے موبائل نکالا اور آئی۔بی چیک کیا وہاں کوئی میسج نہیں تھا ۔۔۔۔

اس نے پاکستان کال ملائی اور جنت گیلانی کو اپنی وہاں بخیر و عافیت پہنچ جانے کی اطلاع دی۔

پھر فیس بک لاگ ان کیا۔۔۔۔۔

Sid Art.

کا پیج اوپن کیا ۔۔۔اسے سد کے لائیو آنے کی نوٹیفیکیشن بھی ملی ہوئی تھی مگر موبائل سائلنٹ پہ ہونے کی وجہ سے پتہ نہیں تھا ۔۔۔۔

وہ ہاتھوں میں برش پکڑے کسی ویسٹرن لڑکی کی تصویر بنا رہا تھا اس کی صرف پشت دکھائی دے رہی تھی اور ہاتھ جو کینوس پر تیزی سے چل رہے تھے ۔۔۔وہ اس کی مہارت پہ دنگ رہ گئی۔۔۔۔

“یہ جگہ تو کچھ دیکھی دیکھی لگ رہی ہے “اس کا دھیان سد پر سے ہٹا تو اس نے اس کے آس پاس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“اوہ یہ تو اسی یونی ورسٹی کی بیک سائیڈ ہے جہاں سے گزر کر میں ہوسٹل سے صبح آئی تھی ۔۔۔۔

“کیا سچ میں وہ یہاں ہے ؟؟؟اس نے حیرت زدہ آواز میں خود سے کہا ۔۔۔

اپنی بکس بیگ میں ڈالیں اور موبائل بھی۔پھر گروانڈ کی بیک سائیڈ کی طرف دوڑ لگا دی معا کہیں وہ گم نا ہوجائے اس کے پہنچنے تک۔۔۔۔

وہ تیز سانس لیتے ہوئے تقریباً ہانپتی ہوئی وہاں پہنچی ایک انگریز لڑکی سامنے موجود بینچ پر بیٹھی ہوئی مسکرا رہی تھی اور وہ اس کی پینٹنگ بنانا رہا تھا ۔۔۔

آرزو دھڑکتے دل کے ساتھ چلتے ہوئے اس کی پشت سے ہوتے ہوئے سامنے آئی ۔۔۔۔

درازقد ،ورزشی جسامت ،گندمی رنگت،ستواں ناک ،باریک سختی سے بھینچے ہوئے لب ،ایک برش کان پر لگائے دوسرا ہاتھ میں پکڑے وہ اپنے کام میں بالکل محو تھا۔

ٹال ،ڈارک اینڈ ہینڈسم کی مثال پہ وہ پورا اترتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔

اس کے دل کی رفتار نے زور پکڑا۔۔۔۔

“ہیلو ڈاکٹر سد !

آرزو نے اس کے قریب آتے کہا ۔۔۔۔

“ہیلو !اس نے بنا اس کی طرف دیکھے جواب دیا ۔۔۔

“آپ نے مجھے پہچانا نہیں ؟آرزو نے حیرت سے کہا ۔

“آپ کون ؟”اس بار سد نے تیزی سے چلتے ہوئے ہاتھ کو روکے نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔

پل بھر میں اس کے دل کی دنیا کو زیر و زبر کر گیا۔۔۔۔

“دل چھین کر کہتے ہیں آپ کون ؟آرزو نے دل میں کہا ۔۔۔کیونکہ اس کے سامنے بولنے کی ہمت کہاں تھی ۔۔۔

“آپ کی پینٹنگ کی فین اور اب آپکی بھی …..”

“جی “اس نے حیرت سے اپنی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کو اور بڑا کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“آپ تو ڈاکٹر ہیں نا تو پھر آپ یہاں کیسے ؟کیا پھر سے پڑھنے کا شوق چرایا ہے ؟وہ لبوں پر دھیمی سی مسکان لیے پوچھ رہی تھی ۔

“کیوں ڈاکٹر بننے کے بعد پڑھنا منع ہوجاتا ہے ۔تو پھر سپیشلائزیشن کس مرض کی دوا ہے ؟وہ اسے لاجواب کر گیا۔۔۔

“یہ بات بھی ٹھیک ہے آپکی “

جتنی سحر انگیز شخصیت ہے اس سے بھی زیادہ سحرکن آواز ۔۔۔اس نے دل میں سوچا ۔۔۔

بلیو جینز پر لائٹ پنک شارٹ فراک اور گلے میں موجود سکارف پہننے،گھنگھریالے بالوں کا میسی سا جوڑا بنائے اس میں کلپ لگائے ۔اور جوڑے میں بال پوائنٹ پھنسائے ،آنکھوں پہ نظر کا چشمہ لگائے اتنی بڑی ہیلز میں بھی وہ اس دیو ہیکل وجود کے سامنے بالکل چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی۔۔۔۔

(اپنے سے بڑوں سے پنگے از ناٹ چنگے۔یہ میں نے کہا 😁)

“I like your boldness….”

سد نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔۔

“آپ کو میں کہاں سے بولڈ لگی ؟وہ اپنے اوپر تفصیلی نگاہ ڈال کر بولی ۔۔۔

“ضروری نہیں انسان کی ڈریسنگ دیکھ کر ہی اسے بولڈ کہا جائے ۔۔۔حاضر جوابی بھی بولڈنس کی ہی ایک قسم ہے ۔”

وہ کہہ کر دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا ۔۔۔

“آپ ہر جگہ اپنی پینٹنگ کا سامان ساتھ لیے گھومتے ہیں ؟؟؟

“برش سٹروک اور کینوس یا کاغذ کی ساخت کے لئے میری ترجیح ہر جگہ میرے ساتھ میرے ساتھ رہتی ہے،

“آپ کی پینٹنگز میں اک عجب سا درد محسوس ہوتا ہے ۔۔۔یہ کیسے کر لیتے ہیں آپ ؟؟آرزو نے من میں آیا ایک اور سوال پوچھا ۔۔۔۔

“یہ میری غیر متوقع صلاحیت ہے. بہت سارے ایسے حادثات ہیں جو روایتی پینٹنگ کو ایک روح دیتے ہیں.

میرے ہر برش کے ٹپ سے بنی ہوئی پینٹنگ میرے اندرونی احساسات کی نمائندگی کرتی ہے۔۔۔۔

میرے خیال میں ایک آرٹسٹ عام لوگوں کے برعکس زیادہ حساس ہوتا ہے۔ فطری حسن اسے متاثر کرتا ہے۔ اُسے بارشوں میں سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔ بانسری کی دُھن پکارتی ہے۔ ندی کچھ کہتی ہے۔ یہی بے چینی خودشناسی کی جوت جگاتی ہے، انجان راہوں پر لے جاتی ہے۔اسے وہ سب دکھائی دیتا ہے اور محسوس ہوتا ہے جسے عام انسان محسوس نہیں کر سکتا ۔۔۔وہ اپنے کام پر توجہ دیتے ہوئے اس کے سوالوں کا شائستگی سے جواب دے رہا تھا ۔۔۔۔

“آپ آج میرا انٹرویو لینے آئیں ہیں ؟سد نے بنا اسے دیکھے پوچھا ۔۔۔۔

“یہی سمجھ لیں “

“آپ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کا موقع کون گنوائے گا ؟؟؟

“ہمممم۔۔۔۔کبھی کبھی جاننے کے لیے اک لمحہ بھی کافی ہوتا ہے اور کبھی کبھی ہم صدیاں بھی ساتھ گزار لیں تو ایک دوسرے کو پہچان نہیں پاتے کے اس کے دل میں کیا چھپا ہے “

“آپ بہت گہری باتیں کرتے ہیں “

“یہ کمپلیمینٹ تھا یا کچھ اور ؟؟؟سد نے ابرو اچکا کر سپاٹ انداز میں پوچھا ۔۔۔

“آپ جو بھی سمجھ لیں۔

“اچھا یہ بتائیں آپ نے پینٹنگ کب سے شروع کی ؟؟؟

“پینسل اسکیچز پر تو گرفت بچپن سے ہی تھی، مگر استاد کی راہ نمائی میں رنگوں سے آشنا ہونے کے بعد کتنے ہی قدرتی نظارے خود بخود کینوس پر اترنے لگے۔ گاؤں میں جہاں میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کی اس فطری منظر میں رنگ بھرے۔ ریگستان کو اِس مہارت سے پینٹ کیا کہ دیکھنے والے عش عش کر اٹھے۔۔۔۔اور خود ہی میرے گرویدہ ہو گئے ۔۔۔۔

“آپ کے حساب سے خوبصورتی کیا ہے ؟؟؟؟

“میری پینٹنگ میں کمرشل ازم نہیں ملے گا۔ میں احساسات کو پینٹ کرتا ہوں۔ بے شمار لوگ ہیں جو کہتے ہو کہ جی فلاں جگہ خوب صورت ہے۔ فلاں لڑکی خوبصورت ہے اس کی پینٹنگ بناؤ ۔۔۔لیکن خو ب صورتی تو انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے، جن گلیوں، علاقوں ، میں اپنے اٹھا بیٹھا میرے لیے تو وہی سب سے خوب صورت ہے۔ آپ کی محبوبہ چاہے دنیا کی بدصورت عورت ہو لیکن آپ کے لیے وہ دنیا کی حسین ترین عورت ہوگی، کیوں کہ یہ احساس یہ کیفیت اس نے آپ کو دی ہے۔

خوبصورتی دیکھنے والے کی نظر میں ہوتی ہے میرے حساب سے ۔۔۔اس نے جواب دینے کے ساتھ ساتھ اس لڑکی کی پینٹنگ بھی مکمل کردی ۔۔۔

“ڈن “اس نے برش ایک طرف رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“Wow that’s wonderful…..

وہ انگریز لڑکی اپنی شاندار پینٹنگ دیکھ کر خوشی سے اس کے گلے لگی ۔۔۔۔

آرزو کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر ابھرا ۔۔۔۔

وہ اس کا شکریہ ادا کیے اپنی پینٹگ لیے وہاں سے چلی گئی مگر آرزو ابھی بھی وہیں کھڑی تھی ۔اور سد اپنا سامان سمیٹ رہا تھا ۔۔۔

“آپ نے اس کی پینٹنگ کیوں بنائی “انداز میں حسد واضح دکھائی دے رہا تھا۔

“یہ میری بہت پرانی فالورر ہیں میں نے ان سے پرامس کیا تھا جب بھی یہاں آیا ان کی پینٹنگ ضرور بناؤں گا ۔۔۔

“صرف پرانی فالورر کی ہی پینٹنگ بناتے ہیں یا کسی نیو فالورر کو بھی ایسا شرف بخشتے ہیں ؟؟؟

“اوہ ۔۔۔۔تو آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کی بھی پینٹنگ بناؤں ؟”

آرزو نے اس کی بات پہ اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔

“ٹھیک ہے ضرور بنادوں گا”

اس کے حامی بھرنے پہ اس کے لبوں پہ تبسم بکھرا ۔۔۔۔

وہ دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے اچانک چلتے ہوئے آرزو کا پاؤں مڑا اور وہ درد سے بلبلاتی ہوئی زمین پر گرنے کے انداز میں بیٹھی ۔۔۔۔

“آہ۔۔۔۔منہ سے ہلکی سی کراہ نکلی ۔۔۔۔

“کیاہوا ؟؟؟وہ جلدی سے گھٹنوں کے بل اس کے پاس نیچے بیٹھ کر فکرمندی سے بولا۔

“لگتا ہے پاؤں میں موچ آگئی ہے”اس کے چہرے پہ درد کے آثار نمایاں ہو رہے تھے۔

“آؤ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلوں “

“نہیں ۔۔۔نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔میں تھوڑی دیر آرام کروں گی تو ٹھیک ہوجاوں گی “وہ اسے کہہ کر اٹھنے ہی لگی تھی کہ پھر سے لڑکھڑائی۔۔۔۔

آپ تو خود ڈاکٹر ہیں ویسے ۔۔۔۔آرزو نے سوال کیا۔۔۔

مگر اس چیز کا نہیں ہارٹ کا ۔۔۔۔دلوں کو توڑنا جوڑنا ۔۔۔۔وہ مبہم سا مسکرایا۔۔۔۔۔

سد نے اپنا ہاتھ اس کے آگے کیا اسے سہارا دینے کے لیے ۔۔۔۔

آرزو نے اپنا ہاتھ اس کی چوڑی ہتھیلی پہ رکھ دیا ۔۔۔۔

اس نے اسے سہارا دئیے اٹھایا ۔۔۔۔

“کہاں رہتی ہیں آپ ؟؟؟

یہیں گرلز ہاسٹل میں”اور آپ ؟؟؟

“میں بھی اسی دنیا میں ہی رہتا ہوں” ۔وہ کہہ کر پہلی بار تھوڑا سا مسکرایا۔۔۔۔

“آپ سے ایک بات پوچھوں ؟؟؟آرزو نے اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھ کر کہا ۔۔۔۔جو پوری طرح اس کی ہتھیلی میں چھپ چکا تھا ۔۔۔۔

اس کے لمس میں عجب حدت تھی ۔۔۔اسے اپنا دل پہلے سے زیادہ زوروں سے دھڑکتا ہوا لگا ۔۔۔

“ہمممم ۔۔۔پوچھیں ۔۔۔۔”

آپ کے نزدیک حسن کیا ہے ۔۔۔مطلب آپ کو کس قسم کی لڑکیاں پسند ہیں ؟؟؟بالاخر اس نے دل میں آیا سوال زبان پہ لایا۔۔۔۔

“اُس نے حسن کی تعریف مانگی تھی مجھ سے ،

میں نے اسے آئینہ دکھا دیا ۔۔۔۔

وہ شاعرانہ انداز میں روانگی سے بولا۔۔۔

آرزو اس کے شعر پہ حق دق رہ گئی ۔۔۔

“یہ صرف شعر تھا یا سچ میں میری تعریف ؟؟؟؟

“کچھ باتیں بتائی نہیں جاتیں محسوس کیں جاتی ہیں ۔۔۔۔

“ہو نا جائے حسن کی شان میں گستاخی کہیں ،

تم چلے جاؤ کہ تمہیں دیکھ کر پیار آنے لگا ہے ،

“آپ کا ہاسٹل “اس نے شعر مکمل کیے سامنے موجود بلڈنگ کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔

وہ جو ابھی تک اس کے سحرکن آواز میں ڈوبی ہوئی تھی چونک کر سامنے دیکھا ۔۔۔۔

“اوکے ٹیک کئیر “وہ اسے چھوڑے آگے بڑھنے لگا ۔۔۔۔

“آپ میری پینٹنگ کب بنائیں گے یہ تو بتایا ہی نہیں “؟آرزو نے اسے پیچھے سے ہانک لگائی ۔۔۔۔

“کل ” وہ یک لفظی جواب دئیے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔

وہ وہیں کھڑی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گیا ۔۔۔پھر آہستہ آہستہ دیوار کا سہارا لیے اوپری منزل پہ جانے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔۔۔۔

“آرزو کی کوئی خیر خبر آئی ؟”عیسی گیلانی نے جنت گیلانی سے پوچھا ۔۔۔

“جی اس کا فون آگیا تھا بتا رہی تھی کہ سب ٹھیک ہے وہاں ….

وہ سب ڈنر کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر جمع تھے ۔۔۔۔

“علی بیٹا تم کب سے آفس جوائن کر رہے ہو ؟؟؟اب ان بوڑھی ہڈیوں میں اور ہمت نہیں اتنے بڑے بزنس کو سنبھالنے کے لیے ۔۔۔۔موسی گیلانی نے کہا۔

“گرینڈ پاپس !!!! یہ آپ اتنے ہینڈسم بندے کو آفس کی فائلوں میں الجھانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔؟وہ حیرت سے بولا ۔۔۔

“تمہارا باپ تو ملک کی خدمت کر رہا ہے ۔۔اب تم تو ہماری مدد کرو ۔۔۔۔

“اوہ نو ڈیڈ دیکھیں گرینڈ پاپس کیا کہہ رہے ہیں؟؟؟؟

پاپا ابھی علی پڑھ رہا ہے اس کو ابھی کچھ اور وقت دیں ۔۔۔۔آپ پلیز کسی قابل اعتماد بندے کو آفس کی رسپانسبیلٹی دے دیں ۔۔۔اکبر نے علی کی سائیڈ لیتے ہوئے انہیں مشورہ دیا ۔۔۔

“یہ حیدر کو لے جائیں اپنے ساتھ اسے سکھائیں کچھ “,علی نے مشورہ دیا ۔۔۔

“شاباش ” خود کی پڑھائی ضروری ہے ۔۔اور وہ تو ابھی بی ۔کام میں ہے ۔۔۔عیسی گیلانی نے تھوڑا سا غصہ دکھاتے ہوئے کہا۔

“دادا جان اگر آپ برا نا منائیں تو میں کچھ کہنا چاہتی ہوں “قرت العین نے ان سے ادب سےکہا ۔۔۔

“ہاں بولو بیٹا کیا بات ہے “؟

دادا جان میرا بی ۔کام کا لاسٹ پارٹ ہے میں چاہتی ہوں کہ میں آپ کے ساتھ آفس ورک کروں “اس نے جھجھکتے ہوئے اپنی بات کہی۔۔۔۔

اس بات پہ تھوڑی دیر کے لئے خاموشی چھا گئی۔۔۔سب ایک دوسرے کے چہرے دیکھنے لگے ۔۔۔

قرت العین نے سب کو خاموش دیکھا تو زور سے اپنی آنکھیں میچ لیں۔۔۔بعزتی کے ڈر سے ۔۔۔۔

کچھ دیر میں سب کے ہنسنے کی آوازیں اسے اپنے کانوں میں سنائی دی تو اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا ۔۔۔سب واقعی ہنس رہے تھے ۔۔۔

“ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے بھلا ۔۔۔جتنے ہمارے لیے بیٹے اہم ہیں ان کی خواہشات اہم ہیں اسی طرح بیٹیوں کی خواہش بھی ہمارے لیے اتنی ہی اہم ہیں ۔۔۔۔آپ تیار ہو جائیے گا پھر کل سے آفس جوائن کرنے کے لیے ۔۔۔عیسی گیلانی نے پیار بھرے انداز میں کہا ۔۔۔۔

“مگر تمہاری کالج ٹائمنگ “؟

حرعین نے قرت العین سے پوچھا ۔۔۔

“مما میں کالج سے فری ہوتے ہی آفس کے لیے نکل جایا کروں گی ۔۔۔۔

“لیکن قرت میں کالج میں اکیلی ہو جاؤں گی ۔۔۔عائشہ نے یاسیت سے کہا ۔۔۔

“کالج کے بعد جاؤں گی آفس ۔۔کالج میں ساتھ ہی ہوں گے ۔تم سیدھا گھر آجانا کالج سے اور میں آفس چلی جاؤں گی ۔۔قرت العین نے اسے پیار سے سمجھایا ۔۔۔۔

“گھر میں بھی بوریت ہوگی تمہارے بنا ۔۔۔وہ افسوسناک آواز میں بولی ۔۔۔

“عاشو ۔۔۔۔بس کرو ڈرامے بازیاں ۔۔۔علی نے اسے گُھرکا ۔۔۔۔

“اللّٰہ کرے آپ کی شادی دنیا کی سب سے بدصورت لڑکی سے ہو وہ روز آپ کے یہ سلکی بال نوچ کر آپ کو گنجا کردے ۔۔آپ سے سارے گھر کے کام کروائے ۔۔۔وہ اسے ہاتھ اٹھا کر بدعائیں دینے لگیں ۔۔۔۔

“رک ابھی بتاتا ہوں تجھے ” وہ علی کو جارہانہ تیوروں سے اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ وہاں سے بھاگی ۔۔۔

عائشہ آگے آگے اور علی اس کے پیچھے ۔۔۔۔۔

علی نے دوسرے ہی پل اسے جا لیا ۔۔۔

مگر پھر اسے ساتھ لگائے مسکرانے لگا ۔۔۔سب ان دونوں کے آپسی نوک جھوک اور پیار کو دیکھ کر مسکرا دئیے ۔۔۔۔

حرعین اور آن نے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔

ان کے بچے آپس میں سگے بہن بھائیوں کی طرح رہتے تھے کسی نے بھی ایک دوسرے میں فرق نہیں کیا ۔۔۔اور یہ دونوں کی ہی اچھی تربیت تھی کہ وہ لوگ اس طرح رہتے تھے ۔۔۔۔