Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 7)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

“ہیلو !!!!! اسلام وعلیکم!

“یس سر “

“ان شاءاللہ سر “

“میں حاضر ہوتا ہوں “

“اللّٰہ حافظ “کہتے ہی اس نے فون واپس سائیڈ پاکٹ میں ڈالا۔

“دادی جان مجھے ارجنٹلی جانا ہوگا ۔۔۔

آپ پلیز یہاں سب دیکھ لیجیے گا”وہ منت بھرے انداز میں شبنم گیلانی سے بولا ۔۔۔۔

“مگر میں اس لڑکی کو ایک لمحے کے لیے اس گھر میں برداشت نہیں کروں گی حرعین نے دو ٹوک انداز میں کہا ۔۔۔

“میں اسے ایسے ہی یہاں سے جانے نہیں دے سکتا مجھے بہت کچھ پوچھنا ہے اس سے “

“فی الحال یہ یہیں رہے گی “وہ فیصلہ کن انداز میں بولا ۔۔۔۔

“اکبر ٹھیک کہہ رہا ہے بے شک حرعین اب اکبر کی بیوی ہے ۔۔۔مگر یہ لڑکی بھی تو سب اکبر کی بیوی بن چکی ہے جب تک اکبر واپس آ کر کوئی فیصلہ نہیں کرتا یہ لڑکی یہیں رہے گی ۔۔۔۔

“مگر یہ اکبر اور میرے کمرے میں نہیں رہے گی ۔۔۔۔حرعین نے اٹل انداز میں کہا ۔۔۔

“وہ کمرہ اب بھی میرا ہے اس کا فیصلہ میں آ کہ کروں گا کہ وہاں کون رہے گا اور کون نہیں ۔۔۔۔

ٹھیک ہے اکبر تم دھیان سے جاؤ یہاں کی فکر مت کرو ۔۔۔۔تمہارے واپس آنے تک یہ لڑکی میرے کمرے میں میرے ساتھ رہے گی جبکہ حرعین اپنے روم میں ۔۔۔۔شبنم گیلانی نے فیصلہ کیا۔۔۔۔

“اکبر کب تک واپسی ہو گی ؟عیسی گیلانی نے پوچھا ۔۔۔۔

“بابا اس بار میری ڈیوٹی تبدیل ہو کر سیاہ چین بارڈر پر لگ گئی ہے اسی بات کی مجھے ابھی اطلاع ملی ہے ۔پہلے ہیڈ کوارٹر رپورٹ کروں گا پھر وہاں سے اپنی اگلی منزل پر نکل جاؤں گا “اکبر نے اپنی پلاننگ سے آگاہ کیا ۔۔۔۔

“مگر آپ وہاں کیسے رہے گے ؟وہاں تو بہت ٹھنڈ ہوتی ہے “حرعین نے تفکر بھرے انداز میں کہا ۔۔۔۔

“This is not your fair behavior…..

جودھا نے شکوہ کناں نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“حرعین کی بات پہ تو وہ خاموش رہا مگر جودھا کی بات پر تلملا کر رہ گیا ۔۔۔۔

“تم سے تو میں آ کہ نبٹتا ہوں “میرے سوالوں کے جواب تیار رکھنا “وہ جاتے جاتے اسے وارننگ دینا نا بھولا ۔۔۔۔۔

سب مہمان کھانا کھائے وہاں سے رخصت ہو گئے ۔۔۔جبکہ اکبر اپنے روم میں چلا گیا ۔۔۔۔

گھر کے مکین لاونج میں ہی جمع تھے ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وہ شیروانی تبدیل کیے اپنے مخصوص حلیے میں باہر آیا اور بڑوں سے سلام دعا لیتا ہوا سفری بیگ لیے بنا ان دونوں پہ ایک بھی نظر ڈالے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

وہ دونوں اپنی اپنی جگہ پر دل مسوس کر رہ گئیں۔۔۔۔۔

ہیڈ کوارٹر میں رپورٹ کرنے کے بعد وہ باہر نکلا تو تانیہ سے اس کا اتفاقاً ٹکراؤ ہو گیا ۔۔۔۔۔

“بچوں کے اغوا کے سلسلے میں جس لڑکی کو یہاں لایا گیا تھا اسے چھوڑا کیوں ؟”اکبر نے اس سے تفصیل جاننا چاہی ۔۔۔۔۔

تانیہ کچھ دیر تو خاموش رہی مگر پھر کچھ سوچ کر بتانا شروع کیا ۔۔۔۔۔

وہ ابھی تک اس خالی کمرے میں قید تھی ۔

دونوں بازو ٹیبل پر پھیلائے وہ سر ان پر دھرے گویا نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی ۔ اس نے کل صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا ۔اس نے بمشکل پلکیں وا کیں تو اسے تمام مناظر گھومتے ہوئے دکھائی دیئے ۔پلکیں بھاری ہورہی تھی

سوری سر ہم نے پوری کوشش کی لیکن یہ اپنا منہ نہیں کھول رہی،

اس کے سامنے کھڑے ہوئے شخص نے سر جھکائے ہوئے کہا

کیا مطلب منہ نہیں کھول رہی ؟

آفیسر نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔

تمہارا کام ہے یہ، منہ آسانی سے نہیں کھول رہی تو دوسرا طریقہ استعمال کرو تانیہ سے کہو اس کا منہ کھلوائے ہر صورت میں !

اسی دوران آفیسر کا فون رنگ کرنے لگا۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور دروازہ بند کیے کمرے سے باہر نکل گئے ۔

ہاں بولو! وہ فون کان سے لگاتے ہوئے بولے۔

سر وہ جس لڑکی کے بارے میں آپ نے انفارمیشن نکلوانے کے لیے کہا تھا ۔۔۔اسی بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔

وہ بھارت کی رہنے والی ہے ۔۔۔مگر اس کا ریکارڈ صاف ہے ۔

احمق انسان تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ! وہ خبری کی پیش گوئی پر بھڑکا ۔

سوری سر ، میں نے کال کی تھی مگر آپ نے اٹینڈ نہیں کی ،

ٹھیک ہے اسے انویسٹی گیشن روم میں لے آئو ، میں آرہا ہو! وہ تیزی سے کہتا لفٹ کی جانب بڑھا ۔

ایکسکیوزمی مس!

اس کی آواز پر تانیہ نہ سمجھی سے پلٹی ۔

کمانڈر آپ سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں ! اس نے پیغام رسانی کی۔

کون سعید احمد ؟؟

تانیہ نے بے خوفی اسے ان کا نام لے کر کہا ۔

جی جی ! اس شخص نے جھٹ سے سر ہلایا۔

وہ حیران ہوئی ۔ کیا بات ہو سکتی ہے آخر؟؟

پلیز میم دِس وے ! وہ شخص اسے راستہ دکھانے لگا۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی اسکے ہمراہ چلتی ہوئی ۔ ایک کمرے میں آگئی ۔ کمرہ صاف ستھرا کشادہ تھا ۔ مگر ایک ٹیبل کے گرد دو چیئر کے علاوہ کمرہ تمام تر خالی تھا۔ سامنے کی دیوار کے بیچ و بیچ کھڑکی نما گلاس نسب تھا۔ جسکے اس پار ایک اور کمرہ تھا جو یقیننا یہاں پر نظر رکھنے کے کام آتا ہوگا ۔ ایسا اس نے سوچا ۔اور ادھر سے ادھر چلنے لگی ۔

کچھ دیر بعد ایک لڑکی کو لاکر ایک چئیر پر بٹھا دیا گیا ۔۔۔۔

کمانڈر بھی وہیں موجود تھے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر کھڑے تانیہ کو اس کے طریقے سے اس لڑکی کو ہینڈل کرنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔

نام کیا ہے تمہارا ؟؟ وہ کڑک آواز میں اس کے مقابل بیٹھ کر بولی ۔۔۔

کیا؟؟؟ وہ تقریبا چلائی ۔

نام ؟نام بتاؤ ؟؟؟۔

“میری آسان زبان سمجھتی ہو یا پھر ہاتھ کی زبان سمجھاؤں تو جواب دو گی ؟تانیہ کا درشت لہجہ اسے چونکنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔

جودھا ! وہ شعلہ بار نگاہوں سے گھورتی ہوئی بولی ۔

پورا نام؟؟ وہ جھٹ سے بولا ۔

جودھا اگروال وہ لٹھ مار انداز میں بولی ۔

کرتی کیا ہو ؟ یعنی پروفیشن کیا ہے تمہارا ؟

اگلا سوال حاضر تھا ۔

“تمہیں اس سے مطلب ؟؟؟وہ الٹا اسے سوال کرنے لگی ۔۔۔

میرے سوال کا جواب دو ! وہ لفظوں پر زور دیتی ہوئی دانت پیس کر بولی ۔۔

نہیں دوں تو ؟ وہ اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورنے لگی۔

دیکھو لڑکی ! وہ ٹیبل پر ہاتھ جمائے اسکی طرف جھکی

“مجھے ہاتھ اٹھانے پر مجبور نہ کرو خاموشی سے میرے سوالوں کے جواب دو ، اسکے بغیر تم یہاں سے نہیں جا سکتی “

پروفیشن ؟ اس نے سوال دہرایا۔

“نتھنگ جسٹ سٹوڈنٹ آف فورتھ ائیر فرام کینیڈا یونیورسٹی ۔۔۔۔۔۔ ، وہ سرسری سا بولی ۔

کچھ سال پہلے تم راجستھان کے گاؤں میں رہتی تھی ؟

“ہاں تو “؟

“پاکستان میں کیا کر رہی ہو ؟”

“آپ کے پاکستانی جو بھارت میں کرتے ہیں ۔میں بھی وہی یہاں کرنے آئی ہوں کوئی اعتراض ؟”وہ صاف گوئی سے بولی ۔

“اگر تم عام انسانوں کی طرح رہتی تو بات اور تھی مگر جو تم نے بچوں کے گاڑی اغوا کرنے کا جرم کیا ہے اس کے بعد تو تمہاری سزا بنتی ہے “

کون تھے وہ لوگ جو تمہارا ساتھ دے رہے تھے ۔۔۔۔؟

“کیوں بتاؤں ؟وہ ایک بار پھر ضدی ہوئی ۔۔۔۔

تڑاخ ۔۔۔۔۔۔ایک زور دار تھپڑ کی گونج خالی کمرے میں گونجی ۔۔۔۔

تانیہ نے اسے جاندار قسم کا تھپڑ رسید کیا۔۔۔۔مگر وہ ڈھیٹ بنی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوئی۔۔۔۔۔

“بتاؤ ورنہ “وہ دھمکی آمیز انداز میں بولی۔۔۔اور اٹھ کر اس کے قریب آئی ۔۔۔۔

اپنی پینٹ کی بیلٹ اتار کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے ایک ہاتھ میں گھمانے لگی ۔۔۔۔جیسے اسے بیلٹ سے خوفزدہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہو ۔۔۔۔

“ہممممم بولو۔۔۔تانیہ نے آخری بار آرام سے بات کرنے کی کوشش کی۔

“یہیں پاکستان کے رہنے والے کرائے کے کچھ غنڈے تھے جو پیسوں کے لیے میرا ساتھ دینے پر آمادہ ہو گئے تھے “اس نے سپاٹ انداز میں کہا ۔۔۔۔

تانیہ کو اس پہ سخت تاو آیا۔

تم نے بچوں کی گاڑی کو کیوں اغوا کیا ،

ہاں کی تو ؟؟ وہ اسکی بات کاٹتے ہوئے بول پڑی ۔

“مجھے اس کی وجہ بتاؤ ؟؟؟

“یہ میرا ذاتی مسلہ ہے مجھے تمہارے ملک سے یا اس میں رہنے والے کسی انسان سے کوئی واسطہ نہیں ۔۔۔۔مجھے صرف ایک انسان سے مسلہ ہے اسی کی وجہ سے ہی یہ سب کیا! وہ منہ میں بڑابڑائی ۔

“اونچی آواز میں بولو “وہ غرائی۔

مجھے صرف اکبر سے مسلہ ہے اسی کی اٹینشن پانے کے لیے سب کیا ۔۔۔۔

وہ آدھے سچ میں جھوٹ کی ملاوٹ کر گئی ۔۔۔۔

آر یو شیور ؟؟ اسکی نظریں مسلسل اسی پر ٹکیں تھی ۔

افکورس ! جودھا نے نظریں چرائیں ۔

کب سے جانتی ہو تم اکبر کو ؟؟؟

وہ مطمئن انداز میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔

“یہ تمہارا مسلہ نہیں “وہ سپاٹ انداز میں بولی۔۔۔۔

“تمہارے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے مگر تم پہ نظر رکھی جائے گی فی الحال اس ایریا سے باہر جانے کی پرمیشن نہیں تمہیں۔۔ کمانڈر باہر نکل گئے ۔۔۔۔

۔۔۔۔تو تانیہ بھی اٹھ کر جانے لگی کہ پھر سے پلٹی ۔۔۔۔۔

“کہیں کیپٹن اکبر پہ دل تو نہیں آگیا ؟؟؟؟وہ تمسخرانا انداز میں جودھا کو دیکھ کر بولی ۔۔۔

ایسا ،ایسا کچھ نہیں ، ایک ہاتھ سے پیشانی سہلاتے ہوئے بولی ۔ تانیہ سے اسکی یہ حالت چھپی نہ رہ سکی۔ جلد ہی وہ حواسوں میں لوٹی۔

“کیوں تمہیں برا لگا ؟؟؟کہیں تمہارا دل تو نہیں آگیا تھا اس پہ ؟؟؟

جودھا بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پاس آئی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ابرو اچکا کر پوچھنے لگی ۔۔۔۔

“بکواس بند کرو “ورنہ گلہ دبا دوں گی ۔۔۔وہ دھاڑی ۔۔۔۔

“اکبر کے ساتھ صرف جودھا ہی جچتی ہے ۔چلو اچھا ہے تم اس سے دور ہی رہنا ورنہ “جودھا اسے دھمکی آمیز انداز میں آنکھیں دکھاتے ہوئے انگلی اٹھا کر وارن کرکہ بولی ۔۔۔۔

جا سکتی ہوں اب میں ؟؟؟ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔ جبکہ تانیہ کنپٹی پر انگلیاں جمائے پر سوچ انداز میں اس پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔کچھ تو تھا اس لڑکی میں جو وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔

جودھا ہنوز جواب کی منتظر یک ٹک کھڑی تھی ۔

جبکہ کچھ دیر میں تانیہ کی ہیل کی ٹک ٹک کی آواز سن کر ہوش میں آئی تب تک وہ روم سے باہر نکل چکی تھی ۔

ہمارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کسی مفروضے کے تحت ہم اسے تحویل نہیں میں رکھ سکتے !

تانیہ نے آخر کار اپنی بات کہہ ڈالی ۔

ہمممم ! بات تو ٹھیک ہے ،لیکن جو بھی ابھی تم نے بتایا ہم اس پر پوری تحقیق کرینگے کہ اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ فلحال کے لیئے ریلیز کردو لڑکی وہ حکم صادر کرتے ہوئے اپنی مخصوص کرسی پر براجمان ہوئے۔۔۔

تقریباً دو ماہ اسے یہاں رکھا گیا مگر اس کے خلاف ثبوت نہیں ملا۔۔۔اسی لیے اسے چھوڑ دیا گیا ۔۔۔۔اس پہ نظر رکھے ہوئے ہیں ہم ۔۔۔۔

مگر وہ یہاں سے چھوٹتے ہی آج تمہارے گھر گئی ۔۔۔۔

“لگتا ہے کافی جان پہچان رہی ہے تمہاری اس سے ۔۔۔۔”تانیہ اس پر طنز بھرا نشتر برسانا نہ بھولی ۔۔۔۔

“تمہاری کوئی کُل سیدھی نہیں “وہ تاسف سے سر ہلا کر بس اتنا ہی کہہ پایا ۔۔۔۔۔

But anyway thanks for the info …..

وہ گہرا سانس بھر کہ بولا پھر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔

تانیہ اسے جاتا دیکھ ایک ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئی۔۔۔۔۔

یہ شہزادوں جیسا شخص اس کے مقدر میں نہیں شاید ۔۔۔۔۔

اس کے دل میں جلتا ہوا آس کا دیا اب ہوا کے تیز جھونکے سے جھلملانے لگا تھا ۔۔۔۔

ان سات دہایوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان انہی سرحدی حدود کی خاطر تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں جن میں سے ایک کے نتیجے میں پاکستان کو ملک کے مشرقی حصے سے ہاتھ بھی دھونے پڑے تھے لیکن لاکھوں جانوں کے ضیاع کے باوجود سرحدی تنازعات جوں کے توں موجود ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود تنازعات کبھی بھی نا سلجھنے کا نام لیے ہوئے تھے

ان تمام تنازعات میں سے سب سے پیچیدہ، اور لاحاصل لڑائی دنیا کے سب سے اونچے میدان جنگ، سیاچن گلیشیئر پر گذشتہ 33 برسوں سے جاری ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ33 برس سے جاری اس جنگ میں انسانوں کا مقابلہ انسانوں سے کم اور قدرت سے زیادہ ہے۔ سردی کے موسم میں سیاچن گلیشیئر پر درجہ حرارت منفی 60 ڈگری تک گر جاتا ہے اور برفانی طوفان اور ہواؤں کے جھکڑ 200 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں اور اپنے ساتھ اوسطً 40 فٹ برفباری لاتے ہیں۔ اس گلیشیئر پر سالانہ آٹھ ماہ برفباری ہوتی ہے اور اونچائی کی وجہ سے صرف 30 فیصد تک آکسیجن رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہاں سانس لینا دشوار تر ہو جاتا ہے۔

وہاں موجود فوج کے سپاہیوں کی زندگی بس اللّٰہ کے رحم و کرم پہ ہوتی ہے ۔۔۔۔اتنی ٹھٹھرا دینے والی ٹھنڈ میں وہاں رہنا ہی جان جوکھوں کا کام ہے کحجا کہ دشمن کے وار کے لیے ہر پل چوکنا رہنا ۔۔۔۔ان کی کاروائی پر جوابی کاروائیوں کے لیے ہمیشہ تیار رہنا ۔۔۔۔

خون منجمد کر دینے والے موسم میں ہمارے نوجوان سیاچین پہ ایل او سی۔(لائن آف کنٹرول )کی حفاظت پہ معمور ہوتے ہوئے جن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ان کے بارے میں عام انسان تو سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔۔

اکبر گیلانی نے چھ ماہ جیسے وہاں گزارے یہ وہی جانتا تھا ۔۔۔۔

اپنی ڈیوٹی اس نے پوری جانفشانی اور ایمانداری سے نبھائی ۔۔۔۔۔

جب بھی کبھی آرام کرنے کا وقت ملتا اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچتا ۔۔۔۔۔

وہ تو ابھی ایک شادی کرنے پہ ٹھیک سے راضی نہیں تھا ۔۔۔۔۔اور کہاں دو دو شادیاں ۔۔۔۔کبھی کبھی تو اس بارے میں سوچ کر تو اس کا دماغ گھوم جاتا اور کبھی کبھی وہ بنا سوچے مسکرانے لگتا ۔۔۔۔۔

دل کی عجیب سی کیفیت تھی ۔۔۔۔

“تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ؟؟؟اکبر صرف میرا ہے۔۔۔میں بچپن سے اسے چاہتی ہوں “کچھ اسی طرح کے الفاظ تھے شاید حرعین کے ۔۔۔۔۔وہ سوچنے لگا اس کے بارے میں ۔۔۔۔

وہ اس دیوانی لڑکی کہ بارے میں سوچ کر مسکرا دیتا ۔۔۔۔۔

“Hey Army man I am in love with your voice ……

جودھا کی آواز کئی بار اس کے کانوں میں سنائی دیتی ۔۔۔۔وہ سر جھٹک کہ رہ جاتا ۔۔۔۔

آج چھ ماہ بعد وہ گھر واپس آیا تھا ۔۔۔۔۔

رات کا گہرا پہر تھا جب وہ گھر پہنچا ۔۔۔

حرعین جو کچن میں پانی لینے آئی تھی اکبر کو باہر سے گزر کر اپنے روم میں جاتے ہوئے دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔

وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔۔

جا کہ ایک نظر شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے اوپر ڈالی ۔۔۔۔

اپنے کپڑے تو ٹھیک لگے مگر چہرہ ۔۔۔

اس نے کچھ سوچتے ہوئے جلدی جلدی اپنے شانے تک آتے بالوں میں برش پھیرا ۔۔ اور پھر سے کیچر میں مقید کرتے ہوئے اپنے کٹاؤ دار ہونٹوں کو سرخ لپسٹک سے سجائے ایک ناقدانہ جائزہ لیا۔۔۔پھر دوپٹہ شانوں پر اچھے سے پھیلائے اور دبے پاؤں چلتے ہوئے اکبر کے روم کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔۔

جودھا جو شبنم گیلانی کے وضو کے لیے پانی گرم کرنے کچن کی طرف آ رہی تھی وہ آدھی رات کو حرعین کو یوں نک سک تیار دیکھ کر چونکی ۔۔۔۔

“ضرور دال میں کچھ کالا ہے ” کہیں اکبر تو نہیں واپس آ گیا؟اس نے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔

“کیا کروں ؟؟؟کیا کروں ؟؟اس نے دماغ کے گھوڑے دوڑائے۔۔۔۔

جلدی سے پانی لیے شبنم گیلانی کے روم میں گئی پھر وہاں سے نکل کر حرعین کے روم کے ڈریسر کے اوپر رکھی گئی لپسٹکس میں سے آتشی گلابی کلر کی لپسٹک کا انتخاب کرتے ہوئے اپنے لبوں پر لگائی اور باہر بھاگی ۔۔۔۔

جا کہ ہینڈل گھمایا تو ڈور اندر سے لاکڈ تھا ۔۔۔۔

حرعین کو مایوسی نے آن گھیرا ۔۔۔مگر وہ حوصلہ نا ہارتے ہوئے واپس سیڑھیاں نیچے اترنے لگی تاکہ نیچے لاونج میں لگے کیز سٹینڈ سے اس روم کی ڈپلیکیٹ کیز لے آئے ۔۔۔۔۔

جودھا نے حرعین کو لاونج میں دیکھا تو اکبر کے روم کا دروازہ کھولنا چاہا ۔۔۔

مگر اسے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔۔۔۔

اس کے دماغ میں فوراً ایک ترکیب آئی۔۔۔اور اس نے بنا ایک لمحہ بھی ضائع کیے ہوئے اس پہ عمل بھی کر ڈالا ۔۔۔۔۔

اکبر جو تھکاوٹ کے باعث آتے ہی شاور لینے چلا گیا تھا ۔۔۔۔باہر نکل کر خود اب کچھ بہتر محسوس کر رہا تھا۔۔۔

وہ ٹراؤزر پہنے شانے کے ایک طرف ٹاول رکھے ایک ہاتھ سے بالوں کو رگڑ کر سکھا رہا تھا کہ اپنے روم کی کھڑکی کے باہر اسے سرسراہٹ سی محسوس ہوئی ۔۔۔۔

اس نے اپنا وہم جان کر زیادہ توجہ نا دی اور ٹاول ایک طرف پھینکے کبرڈ سے اپنی شرٹ نکال رہا تھا کہ ۔۔۔۔۔

جودھا جو باہر لان میں رکھی ہوئی سیڑھی اٹھا کر اکبر کے روم کی کھڑکی کے زاوئیے پر رکھ کہ اوپر چڑھ آئی تھی اس کی کھڑکی کا شیشہ بجایا ۔۔۔۔

اکبر کبرڈ چھوڑے کھڑکی کی طرف آیا ۔۔۔۔

اس نے کھڑکی کے پٹ واہ کیے تو سامنے جودھا کو دیکھ کر حیران ہوا ۔۔۔۔

“پیچھے ہٹو “وہ تڑخ کر بولی ۔۔۔اور اندر آنے کے لیے کھڑکی کے پٹ کو پکڑ کر کودنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

اکبر جو بالکل سامنے کھڑا تھا۔۔۔کہ اس کے اندر چھلانگ لگانے سے دونوں خود کو سنبھال نہ پائے ۔۔۔۔

اکبر نیچے تو جودھا اس پہ گری ۔۔۔۔

اکبر جو اپنے اوپر اس نازک وجود کو گرے دیکھ خود سے دور کرنے کی کوشش میں تھا ۔۔۔۔

خود کے گال پہ ایک گداز سا لمس محسوس کیے ٹھٹھرا کر رہ گیا۔۔۔۔

اس نے غور کیا تو وہ لمس اس کے نرم گلابی لبوں کا تھا جو شاید اس کے یوں اچانک اوپر گرنے کی وجہ سے چھو گیا تھا ۔۔۔۔

اکبر اس کی گرے آنکھوں میں دیکھنے لگا جہاں خمدرا کپکپاتی ہوئی پلکیں سایہ فگن تھیں۔۔۔۔چہرہ ایسے سرخ تھا جیسے سارے جسم کا خون چہرے پر سمٹ آیا ہو ۔۔۔۔

حرعین جو دروازہ کھول کر اندر آئی تھی تاکہ اس سے کھانے کا پوچھ سکے ان دونوں کو فرش پہ نا قابل اعتراض حالت میں فرش پہ پڑے دیکھ حق دق رہ گئی۔۔۔۔۔

اسے اپنے ضبط کی طنابیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔وہ غصے سے آگ بگولہ ہوتے ہوئے تن فن کرتی پاؤں پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔۔

“رکو حرعین “

“ایسا کچھ نہیں جیسا تم سوچ رہی ہو “اکبر نے جودھا کو خود سے پیچھے دھکیلا اور تیز رفتار قدموں سے حرعین کی طرف باہر بڑھا ۔۔۔۔

حرعین نے اس کی آواز پہ پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔

نظر اس کے سنجیدہ چہرے پہ پڑی جہاں لپسٹک کا نشان واضح طور پہ دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔