Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 18)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
مٹی کا گھڑا جو پانی سے بھرا ہوا تھا وہ اپنےسر پہ رکھے۔۔۔ تیزی سے قدم اٹھاتی ہوئی اکیلی واپس گھر آرہی تھی سورج کی تپش سے اس کا نازک بدن پسینے سے شرابور ہو چکا تھا ایک ہاتھ گھڑے پر تھا اور دوسرا کمر پر ۔۔۔۔ کبھی وہ سورج کی تپش سے بچنے کے لیے دوسرا ہاتھ چہرے پر چھاؤں کرنے کے لیے آگے کرتی ۔۔۔۔پاؤں بار بار نرم ریت میں دھنس رہے تھے۔ننگے پاؤں بھی گرم ریت میں جھلس رہے تھے ۔۔۔۔جیسے ابھی اس گرم ریت سے کوئلے بن جائیں گے ۔۔۔اسی لیےکسی بھی طرح جلدی واپس پہنچنے کی تگ و دو میں تھی ۔۔
وہ پانی کا گھڑا سر سے اتار کر ریت پہ رکھا اور گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر سانس لینے کے لیے ایک لمحے کو رکی ۔۔۔ریگستان میں چلتی ہوئی گرم لُو سے اسے اپنے حلق میں کانٹے اگتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔مگر میٹھے پانی میں سے زرا سا بھی کم ہوا تو وہ ضرور اس کی درگت بنا دے یہ سوچتی ہوئی اس نے پانی پینے سے گریز برتا اور واپس گھڑا سر پر رکھنے کی بجائے اب کی بار کمر پر رکھا ۔
سورج سوا نیزے پر تھا ،اس پہلے کے اسے دیر ہوتی وہ گھر کی طرف بھاگنے لگی۔۔۔۔۔ گرم ریت پہ مسلسل چلنے کے باعث پیروں میں چھالے پڑ گئے ۔۔۔۔اور اب تو اتنی گرم ریت تھی کہ پاؤں چھالوں میں سے خون رسنے لگا تھا ۔۔۔۔اس نے اپنے سوکھے لبوں پہ زبان پھیرکر اسے تر کیا۔۔۔مگر پیروں میں سے اٹھتی درد حد سے سوا تھی ۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔
وہ سسکیوں سے زار و قطار آنسو بہا رہی تھی اور درد سے تڑپ رہی تھی ۔۔۔۔
سامنے کھڑا وہ اس کی تڑپ اور درد سے سکون محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
جیسے جیسے اس کے پیروں میں سے خون رس رہا تھا اس کے دل میں سکون سرائیت کرتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
رات کی سیاہی ہر سو اپنے پر پھیلا چکی تھی ۔۔۔ آسمان پہ چمکتے ہوئے ستارے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھے۔
مدھم مدھم چلتی ہوئی ہوا سے ہاسٹل کے اوپری منزل کے ایک کمرے کی کھلی ہوئی کھڑکی کے پردے ہوا کے دوش پر پھڑپھڑا رہے تھے ۔۔۔۔۔
وہ اپنے مخصوص سیاہ لباس بلیک جینز اور بلیک ہڈی میں ملبوس اس کے پیروں کی طرف کھڑا وہ وہاں حقیقیت میں موجود مگر خیالوں کا سفر طے کر آیا تھا ۔۔۔۔۔
مستقبل میں وہ کیا کرنے والا تھا اس کے ساتھ۔۔۔۔
اس کی نظر سوئی ہوئی آرزو کے شفاف بے داغ پاؤں پر تھی جو اس وقت کمفرٹر سے باہر تھے ۔۔۔۔۔
“کتنے بے داغ ہیں نا یہ پاؤں انہیں آبلوں اور خون سے نا بھر دیا تو کہنا “
وہ آنے والے وقت کا سوچ کر پر اسرار ہنسی ہنسا ۔۔۔۔
اور ایک نظر اس پہ ڈالتے ہوئے اسی کھڑکی سے باہر نکل گیا جہاں سے وہ کچھ دیر پہلے اندر آیا تھا ۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ یونہی ہی خاموشی کی نظر ہو گیا۔۔۔۔ نا تو وہ خود سامنے آیا اور نا ہی آن لائن ہوا ۔۔۔۔
وہ اسے ڈھیروں میسجز کر چکی تھی مگر کوئی ریپلائے نہیں تھا ۔۔۔۔
اس نے تھک ہار کر موبائل ایک طرف رکھ دیا ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں نوٹیفکیشن موصول ہونے کی آواز سنی تو جھٹ سے موبائل واپس اٹھایا ۔۔۔۔
“سوری بزی تھا کچھ “
“میں ناراض ہوں آپ سے “
“ناراضگی کیسے دور ہوگی ؟”
“آپ کے سامنے آنے سے “
“تو پھر جلد ہی ملاقات ہوگی “
“اس بار پکا نا پچھلی بار بھی وعدہ کر کے بھول گئے “اس نے شکوہ بھرا میسج کیا۔
“اس بار نہیں بھولوں گا “
“میری پینٹگ بھی نہیں بنائی اب تک “
“اس بار ضرور بناؤں گا “
“کب ملیں گے ؟
“کل صبح “
“کہاں ملیں گے ؟اپنا پتہ تو بتاتے نہیں آپ “
“وہ ضروری نہیں تمہارے لیے “
“آپ ہمیشہ مجھے کچھ بھی نہیں بتاتے اپنے بارے میں “
“تم جان کر کیا کرو گی ؟”
“آپ کو نہیں پتہ “؟
“ہممممم۔۔۔۔۔کچھ کچھ اندازہ تو ہے مگر تم سے سننا چاہتا ہوں “
“میں بھی اتنی جلدی نہیں بتانے والی کچھ بھی “
“تمہاری مرضی “
“آپ اتنا روڈ کیوں ہیں “؟
“میں ایسا ہی ہوں “
“مگر مجھے ایسے لوگ نہیں پسند اکڑو سے مجھے تو ۔۔۔۔۔
اس نے آدھا ادھورا میسج سینڈ کیا ۔۔۔
“پوری بات بتاؤ رک کیوں گئی ؟
“آپ جاننا چاہتے ہیں مجھے کیا پسند ہے ؟
“تم نے میرے بارے میں پہلی ہی ملاقات میں اتنا کچھ جان لیا تھا تو میں بھی تو کچھ جاننے کا حق رکھتا ہوں “
“رکیے ابھی بتاتی ہوں “
پھر تھوڑی دیر کے لیے دونوں طرف خاموشی چھا گئی ۔۔۔وہ دونوں آنلائن تھے ۔۔۔۔
نہ وہ فرشتہ ہو ،نا فرشتوں جیسا ہو،
مجھے تلاش ہے اسکی جو میرے جیسا ہو ،
میرے خلوص کو پہچانتا ہوبس کافی ہے ،
وہ کوئی بھی ہو ،کہیں بھی ہو ،کیسا بھی ہو ،
جو خواب دینے کو قادر ہو میری آنکھوں کو،
میری محبت کو پہچان سکے وہ ایسا ہو ،
میری خاطر مرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہو ،
اگر کبھی میں روٹھ جاؤں اس سے تو،
مسکرا کے منائے وہ ایسا ہو ،
جو بات بھی کرے تو نبھا بھی سکے ،
ارادوں میں وہ اپنے چاہتوں جیسا ہو،
دکھوں میں ہنسنے کا ہنر جانتا ہو ،
اک ایسا ہمسفر جو سمندر کی طرح گہرا ہو،
اس کے پیار کی ٹھنڈک ہو میرے لیے ایسی ،
کہ وہ بالکل آسمان کے چاند جیسا ہو ،
وہ صرف میرا ہو ،جو نگاہوں میں حیا رکھتا ہو ،
عمر بھر ساتھ چلنے کا حوصلہ رکھتا ہو،
آرزو نے اسے شاعری کے ذریعے اپنے دل کی بات کہہ دی۔۔۔۔
دوسری طرف سے میسج سین ہو چکا تھا مگر کوئی ریپلائے نہیں آیا ۔۔۔۔
وہ کافی دیر تک انتظار کرتی رہی پھر موبائل بستر پہ رکھے اپنی کتاب اٹھا لی اور دھیان لگا کر پڑھنے لگی ۔۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم گرینڈ پا !
قرت العین نے کالج سے واپسی پہ پہلے عائشہ کو گھر ڈراپ کیا پھر ڈرائیور کے ساتھ آفس آگئی ۔۔۔۔
“وعلیکم اسلام !
“آگیا میرا بچہ “
“جی گرینڈ پا “
“گرینڈ پا میں تو فرسٹ ٹائم آفس آئی ہوں سچ میں بہت شاندار ہے “وہ توصیفی نگاہیں سارے آفس میں ڈال کر بولی۔۔۔۔
“تمہیں پسند آیا ؟؟؟
“جی گرینڈ پا بہت زیادہ “
وہ خوشی سے لبریز لہجے میں بولی۔
“بیٹا جی آپ کو اب روز یہاں کام کرنا ہے “
“جی گرینڈ پا میں بہت ایکسائیٹڈ ہوں اس کے لیے “
“مگر بیٹا پہلے آپ کوکچھ کام سیکھ لینا چاہیے ۔۔۔کیوں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا میں “موسی گیلانی نے پیار بھرے انداز میں کہا ۔۔۔
“جی گرینڈ پا آپ نے بالکل ٹھیک کہا مجھے آفس ورک کے بارے میں ابھی کچھ بھی نہیں پتہ “
“بیٹا جی تو پھر کس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں ؟
“گرینڈ پا مجھے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ دیکھنا ہے ۔کیونکہ اکاؤنٹس میرا فیورٹ سبجیکٹ ہے۔
“چلیں ٹھیک ہیں تو پھر آپ کو کسی کی رہنمائی میں دیتے ہیں ۔۔۔ہمارے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہیں مسٹر سلطان آفندی وہ بہت ہی قابل انسان ہیں کم وقت میں انہوں نے اپنی محنت سے ہمارے گیلانی کنسٹرکشنز میں اپنا نام بنالیا ہے ۔۔۔
انہوں نے ٹیبل پر موجود فون اٹھا کر ریسیپشن پر کال ملا کر کسی کو بلایا تو کچھ ہی دیر میں ایک ٹپ ٹاپ سی لڑکی اندر آئی ۔۔۔
“یس سر “!
اس نے ڈور ناک کرتے ہوئے پوچھا۔
“مس صالحہ انہیں مسٹر سلطان آفندی کے کیبن میں لے جائیں۔۔۔۔۔
“جی سر “اس نے مؤدب انداز میں کہا۔
“قرت العین تم ان کے ساتھ جاؤ میں سلطان سے کال پہ بات کرکہ اسے تمہارے بارے میں بتا دیتا ہوں ۔”
“جی گرینڈ پا “وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور صالحہ کے پیچھے پیچھے باہر چل دی ۔۔۔۔
کچھ راہداریوں اور کیبنز کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ دونوں ایک شاندار کیبن کے پاس آئے ۔۔۔کیبن کے باہر سلطان آفندی کے نام کی نیم پلیٹ کنندہ تھی ۔۔۔
“میم دس روم “صالحہ اسے اشارہ کرتے ہوئے وہاں چھوڑ کر واپس چلی گئی ۔۔۔۔
اس نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا اور تھوڑا سا دروازہ کھول کر ناک کیا ۔۔۔۔
“مے آئی کم ان سر “!؟
“یس “اندر سے بھاری گھمبیر آواز سنائی دی۔۔۔۔
قرت العین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اندر آئی اور وہیں رک گئی ۔۔۔۔
سامنے ہی ریوالنگ چئیر پر ایک خوبرو شخص براجمان تھا ۔
بلیک پینٹ پر گرے شرٹ گلے میں گرے اور بلیک دھاریوں والی ٹائی لگائے۔۔۔شرٹ کے کف فولڈ کیے ہوئے کلائی میں بندھی ہوئی بلیک لیدر کے پٹے والی واچ،حلیے سے ہوتی ہوئی نظر چہرے پر گئی ۔۔۔صاف رنگت جاذب نظر نقوش مگر چہرے پر کوئی تاثر نا تھا وہ نظریں جھکائے ہوئے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپنگ کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
اس کی ماہرانہ انداز میں کی بورڈ پر چلتی ہوئی انگلیاں لمحہ بھر کو رکیں ۔۔۔۔اور اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا ۔۔۔۔
“جی فرمائیں “
“وہ ۔۔۔۔مجھے ۔۔۔وہ ۔۔میں قرت ۔۔۔۔میں وہ ۔۔۔گرینڈ پا۔۔۔نے ۔میرا مطلب مجھے موسی گیلانی نے ۔۔۔۔اس نے سامنے موجود شخصیت کے رعب کے زیر اثر لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں کہا۔۔۔۔۔اسے خود بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بول رہی ہے ۔۔۔۔
شاید پہلی بار کسی انجان مرد کے سامنے اس کی گھگھی بندھ گئی تھی وہ دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم پیوست کیے کنفیوژن کا شکار تھی ۔۔۔
“اوہ تو آپ ہیں مس قرت العین “
“جی “
“تو آپ کھڑی کیوں ہیں آئیے بیٹھیے نا پلیز “وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور جگہ خالی کی …..
وہ مخمصے کا شکار تھی کہ وہ اسے اپنی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے کہہ رہا ہے یا سامنے موجود وزیٹر کی سیٹ پر بیٹھنے کے لیے ۔۔۔۔
وہ کچھ سوچتی ہوئی چل کر اس کی خالی کردہ نشست پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اس کے عمل کو دیکھ رہا تھا پھر ایک ہاتھ نکال کر اپنا تھوڑی پر پھیرا ۔۔۔۔۔
“تو آپ اکاؤنٹس کے بارے میں کیا جانتی ہیں ؟”
“میں ابھی کچھ نہیں جانتی “وہ سرے سے ہی مکر گئی ۔۔۔۔کہیں وہ اس سے کچھ ایسا نا پوچھ لے جس سے اس کی سبکی ہو ۔۔۔۔۔
وہ اس کے جواب نا دینے پر چلتے ہوئے اس کے قریب آیا ۔۔۔۔
قرت العین کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ اس کی ریوالنگ چئیر کی پشت پر جمائے اس کی طرف جھکا ۔۔۔آ۔ آپ مجھے ہراساں کر رہے ہیں ۔۔۔۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں سہمے ہوئےبولی۔۔۔
Oh ….. Really….
اسے ہراساں کرنا کہتے ہیں ؟؟؟وہ تھوڑا اور جھک کر گھمبیر آواز میں بولا۔۔۔
یہ میرے دادا جان کا آفس ہے اور اگر آپ کو پتہ نا ہو تو میں آپ کی اطلاع کے لیے بتا دوں میرے بابا فوج میں ہیں ۔۔۔اس بار وہ تھوڑا سنبھل کر اعتماد سے بولی۔۔۔۔
“اوہ ۔۔۔تو آپ مجھے ان سے ڈرانا چاہتی ہیں ۔۔۔۔سٹرینج ۔۔۔۔
ہنہہہہ۔۔۔۔وہ ہنکارا بھر کر بولا۔۔۔
“جو بھی جو مرضی رتبہ رکھتا ہو
“I don’t care……
بس آپ یہ یاد رکھیں فی الحال میں آپ کا استاد ہوں اور آپ میری سٹوڈنٹ ۔”
By the way….
میری چئیر سے اٹھنا پسند کریں گی ؟؟؟
وہ ابرو اچکا کر تیکھے چتونوں سے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔
اپنی بعزتی پہ وہ دانت پیس کر رہ گئی۔۔۔۔
پہلے بیٹھنے کو کہتا ہے پھر خودی اٹھاتا ہے ۔۔۔وہ دل میں اسے لتاڑ کر رہ گئی ۔۔۔۔
مگر مرتی کیا نا کرتی کے مصداق وہ وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔۔
میں تو صرف آپ میں موجود گٹس چیک کر رہا تھا۔۔۔۔بہت محنت کی ضرورت ہے آپ پر ۔۔۔۔
خیر ہمدانی کنسٹرکشن کی فائل لائیں ابھی سے کام شروع کرتے ہیں “
“جی۔۔ی۔۔۔حیرت کی زیادتی سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔۔
جبکہ وہ مسٹر لوفر پلس کھڑوس ٹیبل پر موجود لیپ ٹاپ میں گھس چکا تھا ۔۔۔۔
اگلی صبح کی آمد نہایت خوبصورت انداز میں ہوئی۔۔۔اس نے کھلی ہوئی کھڑکی کے پردے ہٹائے جہاں سے آسمان پر اڑتے ہوئے پرندوں کی چہچہاہٹیں کانوں کو سکون دے رہیں تھیں ۔۔ وہیں ٹھنڈی ہوا اور اس دلکش موسم کی وجہ سے ہاسٹلز کی بیک سائیڈ پر بنے اس چھوٹے سے پارک میں انگریز اس حسین موسم کے پیش نظر انجوائے کر رہے تھے کچھ یوگا کر رہے تھے تو کچھ کانوں میں ہینڈ فری لگائے پارک کے چاروں اطراف میں تیزی سے واک کرتے نظر آ رہے تھے ۔۔۔۔وہ انہیں دیکھ محذوذ ہو رہی تھی کہ ۔۔۔۔
موبائل پر آنے والے نوٹیفیکیشن نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔وہ واپس پلٹ کر اپنے بستر کے پاس آئی اور اپنا موبائل اٹھا کر اس نے آنے والی نئی نوٹیفیکیشن کو چیک کیا ۔۔ اور جانے اس میں ایسا کیا تھا کہ اس کی آنکھوں میں چمک ابھری کٹاؤ دار لب مسکانے لگے ۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے اپنے کپڑے لیے واش روم گھس گئی ۔۔۔۔۔
واپس آکر اس نے اپنے گیلے بال سلجھائے اور انہیں رفلی جوڑے میں باندھ لیا ۔۔۔۔
جینز اور ٹاپ پر سکارف لیے وہ اپنے تئیں بالکل تیار تھی آئینے میں دیکھ کر خود پہ ایک نا قدانہ نگاہ ڈال ہی رہی تھی کہ ڈور ناک ہوا ۔۔۔۔
اس نے کمرے کا رودوازہ کھولا تو سامنے ہی سد کھڑا تھا ۔۔۔۔
“ہیلو “
“ہیلو “آئیے نا اندر پلیز …اس نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا ۔۔۔
“کیسے ہیں آپ؟
“ٹھیک “
“آپ بولتے کم ہیں یا مجھے ہی ایسا لگتا ہے ؟”
“ایسی تو کوئی بات نہیں “
“تم کہتی ہو گی فون پہ تو اتنی چیٹنگ کرتا ہے اور سامنے بولتا نہیں “اسی لیے شاید یہ سوچا ۔۔۔۔
“آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں کیا سوچ رہی ہوں ؟؟؟وہ حیرت انگیز لہجے میں استفسار کرنے لگی ۔
“یہ بھی ایک سیکرٹ ہے پھر بتاؤں گا کبھی “
“آپ آج بزی نہیں تھے ؟آرزو نے پوچھا ۔
“نہیں آج سنڈے ہے۔اور اسی لیے تو آپ بھی یونی ورسٹی کی بجائے ہاسٹل کے روم میں دکھائی دے رہی ہیں”
اس نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
“چلیں تو پھر شروعات کریں “
“جی میں ریڈی ہوں “
اسطرح پینٹنگ بنوائیں گی ؟؟؟
“کیوں کیا ہوا ؟؟؟
“آپ کے پاس کچھ ٹریڈیشنل نہیں ہے پہننے کو ؟؟؟
“میرے پاس شلوار قمیض ہے میں وہ پہن کر آجاتی ہوں ۔۔۔۔۔وہ کہہ کر پلٹنے لگی تھی ۔۔۔
“نہیں میرا مطلب وہ نہیں کچھ اور تھا ۔۔۔۔۔
وہ اچنبھے سے اس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
“ویٹ آ منٹ “
سد نے اپنا پینٹنگ کی اشیاء سیٹ کیں پھربیگ ایک طرف رکھا کر اس میں برشز اور پینٹ باہر نکالے پھر اسی بیگ میں سے ایک پیکٹ برآمد کیا ۔۔۔
“یہ لیں “اس نے وہ آرزو کی طرف بڑھایا۔۔۔
“یہ کیا ہے “؟
اس نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا ۔
“جب پہلی بار کسی کے گھر جاتے ہیں تو کچھ نا کچھ گفٹ لے کر جاتے ہیں ۔۔۔گھر نا سہی ہاسٹل ہی سہی ۔۔۔رسماً لیا ہے یہ گفٹ امید ہے آپ کو پسند آئے گا۔
“اس کی کیا ضرورت تھی “
“منع مت کرئیے گا پلیز “.
“اوکے تھینکس “
“اگر آپ کو برا نا لگے تو میں چاہوں گا کہ آپ اسے پہن کر پینٹنگ بنوائیں ‘
“جی ٹھیک ہے ایک آرٹسٹ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کیا اچھا لگے گا “
“تھینکس فار دا کمپلیمینٹ”وہ دھیمے سے مسکرا کر بولا۔
آرزو روم سے ملحقہ واش روم میں چلی گئی اور ڈریس پہن لیا مگر اسے یہ ڈریس قابل اعتراض لگا ۔۔۔۔
وہ کوئی کلچرل ڈریس تھا شاید اس نے سوچا ۔۔۔۔ام۔مممممم شاید راجستھان سائیڈ کا ہوگا ۔۔۔
وہ رنگ برنگی لہنگا چولی تھی اور اسی کا ہم رنگ دوپٹہ مگر یہ ڈریس پہننے سے اس کی کمر برہنہ ہورہی تھی ۔۔۔اس نے دوپٹے کو آگے سے آگے پیچھے لے جاکر ساری کمر کو کور کیا ۔۔۔۔اور باہر آئی ۔۔۔۔
“اب ٹھیک ہے “؟
آرزو نے آکر سد سے پوچھا جو مختلف پینٹ کو مکس کر کہ کوئی الگ رنگ بنا رہا تھا ۔۔۔۔
سد نے اسے اپنے لائے ہوئے ڈریس میں دیکھا تو اس کی گہری آنکھوں میں عجب سا تاثر ابھرا ۔۔۔۔اور آرزو کو لگا کہ وہ اسے ستائش بھری نگاہوں سے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔
“پرفیکٹ “اس نے ایک ابرو اچکا کر سپاٹ انداز میں کہا۔
آرزو کھڑی رہی اور وہ ماہرانہ انداز میں تیزی سے اس کی پینٹنگ بناتا رہا۔۔۔۔
آرزو یک ٹک اس کی سحر زدہ چہرے کے نقوش میں کھو چکی تھی ۔۔۔۔
سد اس کی محویت محسوس کر چکا تھا مگر بے نیاز بنا رہا ۔۔۔۔۔
آرزو اسے دیکھنے میں اس قدر محو تھی کہ اسے اپنے ڈریس کی بھی خبر نا ہوئی ۔۔۔۔اس کی کمرمیں پھنسا ہوا دوپٹہ کمر سے سرک گیا اور کمر واضح ہونے لگی ۔۔۔۔۔
سد کہ نظر اس کی برہنہ کمر پہ پڑی ۔۔۔آرزو جو اسے دیکھنے میں گم تھی اس کی یکدم بدلی ہوئی نگاہیں دیکھ ٹھٹھکی ۔۔۔۔۔اور اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کیے فورا اپنی کمر پہ ہاتھ رکھا جہاں سے دوپٹہ سرکا ہوا تھا ۔۔۔اس نے فورا اسے سمیٹ کر خود کو ڈھانپ لیا ۔۔۔۔
ایک عورت میں یہ حس ہمیشہ سے خداد داد ہے کہ وہ خود پر اٹھنے والی اچھی اور بری نظر میں پہچان کر سکتی ہے ۔۔۔
اس کے کانوں میں علی کے کہے گئے الفاظ گونجنے لگے اس کے ڈریس کو لے کر مگر وہ نظر انداز کر گئی۔۔۔۔۔
“آپ ٹھیک تو ہیں “؟
“ج۔جججی۔۔۔میں ٹھیک ہوں “
“سو سوری میں نے آپ کو کھانے کے لیے تو کچھ پوچھا ہی نہیں “
“نہیں اس کی ضرورت نہیں”
“ارے ایسے کیسے ضرورت نہیں آپ پہلی بار آئے اوراتنا پیارا گفٹ لائے اور میں آپ کو پہلی یہاں آ کر بنا کھائے پیئے جانے دوں گی بھلا ۔۔۔۔
اس نے کچھ کھانے پینے کی اشیاء ڈھونڈھنے کے لیے ارد گرد نگاہ دوڑائی۔۔۔
اس وقت صرف ایپل ہی availableہیں۔۔۔۔۔”اس نے معزرت خواہانہ انداز میں کہا۔
“اٹس اوکے “
آرزو نے ایپل کا چھلکا اتارنا شروع کیا ۔۔۔
“لائیں دیں اسے میں کٹ کرتا ہوں آپ یہ پینٹنگ دیکھیں کیسی بنی ؟
اس نے آرزو سے کہا اور اس کے ہاتھ سے نائف پکڑی۔۔۔۔
آرزو نے پینٹنگ کی طرف دیکھا جہاں وہ اسی کلچرل ڈریس میں ملبوس کھڑی تھی مگر اس کے ساتھ کوئی اور بھی تھا وہ کسی شخص کی پشت تھی ۔۔۔۔جو پینٹ شرٹ میں ملبوس تھا مگر اس کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔وہ اس کے بالکل قریب کھڑا اس کی برہنہ کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔۔
پل بھر کے لیے اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔۔۔۔
اس کے گلے کی گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔۔۔۔
“یہ میری پینٹنگ تو ب۔۔۔بہت اچھی بنی ہے مگر یہ ساتھ کون ہے ؟اس نے لبوں پہ مچلتا ہوا سوال زبان تک لایا ۔۔۔۔
“جسے آپ اپنے اتنے قریب دیکھنا چاہتی ہیں وہی ہے “اس نے مبہم سا جواب دیا ۔۔۔۔
مزید کچھ پوچھنے کی ہمت اس نے خود میں مفقود پائی۔
“آپ نے بتایا نہیں آپ کو پینٹنگ پسند آئی یا نہیں ؟؟؟؟
“پرفیکٹ ہے “آرزو نے اسی کے انداز میں جواب دیا ۔
سد جو ایپل کاٹ رہا تھا اسے کاٹتے ہوئے چھری ہاتھ پہ لگی ۔۔۔درد کے باعث اس نے چھری نیچے پھینکی اور ہاتھ کو جھٹکا ۔۔۔۔۔
اس کی انگلی سے رستا ہوا خون جھٹکنے کے باعث پینٹگ پہ گرا۔۔۔۔
آرزو نے پہلے اس کا ہاتھ دیکھا پھر پینٹنگ کی طرف ۔۔۔۔جہاں اس کے ماتھے کے درمیان میں خون کی دھاری گر کر اسے سرخ کر گئی تھی ۔۔۔۔۔
“اب ہوئی نا پرفیکٹ “سد نے دل میں کہا ۔۔۔۔جیسے ہندو شادی شدہ عورت کی مانگ میں سیندور ۔۔۔۔
اب یہ تو خدا بہتر جانتا تھا کہ سد اپنے عزائم میں کامیاب ہوتا ہے یا ناکام ۔۔۔۔۔
