Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 24)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
آج بارات تھی سب اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھے ،قرت العین ،آرزو پارلر جانے لگی۔ عائشہ بھی ضد کیے ان کے ساتھ تیار ہونے کے لیے پارلر چلی گئی ۔۔۔
اس سے پہلے کہ گھر میں حیدر کے بارے میں کسی کو پتہ چلتا علی وقت رہتے ہی حیدر کے کالج کے پرنسپل کےپاس پہنچ چکا تھا۔
اس رات کی ساری ریکارڈنگ پرنسپل کے روم میں لگے ہائیڈ کیمرہ میں ہو چکی تھی جس میں واضح طور پر حیدر ان کی الماری میں سے پیپرز نکالتے ہوئے دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔
“مسٹر علی آپ اور کتنی بار اس ایک ہی ویڈیو کو دیکھیں گے ؟؟؟پرنسپل نے بیزاری سے کہا ۔
“سر پلیز گیو می آ ون مور چانس “اس نے ویڈیو کو تھوڑا سا فاروڈ کیا ۔۔۔۔
جب حیدر پیپرز لیینے آیا اس نے پیپرز بے شک نکال کر ہاتھ میں پکڑے تھے مگر اس کی آنکھیں بند تھیں اس نے وہ پیپرز واپس اسی جگہ رکھ دئیے جہاں سے اس نے اٹھائے تھے ۔جیسے ہی وہ پرنسپل کے روم سے باہر نکلا تو کوئی بہت مہارت سے کھڑکی سے کود کر اندر آیا اس کی جسامت کافی ورزشی اور وہ دراز قد تھا۔بالکل سیاہ لباس میں ملبوس چہرے پر سیاہ ماسک لگائے ہوئے تھا ۔۔۔
اس کا ڈیل ڈول دیکھ کر علی اکبر کو کسی کا شائبہ ہوا مگر وہ اپنے خیال کی نفی کرتے ہوئے سر جھٹک گیا ۔۔۔
“نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔اس کا بھلا۔ یہاں کیا کام “اس نے دل میں سوچا ۔
“سر یہ دیکھیں یہاں کوئی اور تھا جس نے پیپرز چرائے ہیں ۔میں مانتا ہوں حیدر کی غلطی ہے اسے اس غیر اخلاقی کام کے لیے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا مگر وہ اپنے دوست کے مجبور کرنے پر یہاں آیا ۔۔۔اسے پھنسایا جا رہا ہے ۔۔۔
اس کا دوست فہد جو اسے اس کام کے لیے اکسا کر یہاں لایا تھا ۔ضرور وہ کسی کے کہنے پر ایسا کر رہا ہے ۔۔۔۔اس سازش کے پیچھے کسی اور کا ہاتھ وہ ضرور حیدر کا فیوچر خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے مگر میں ایسا ہونے نہیں دوں گا
۔پلیز آپ حیدر کے خلاف کمپلینٹ واپس لے لیں ۔۔اصل مجرم کو میں خود آپ کے سامنے لاؤں گا “۔علی نے انہیں اصلیت سے آگاہ کیا
“ہممممم۔۔۔۔یہ سب دیکھ کر تو مجھے بھی اندازہ ہو رہا ہے برخوردار ۔۔۔ٹھیک ہے میں حیدر کے خلاف لیا ایکشن واپس لے لوں گا اور کالج میں بھی یہ بات پھیلنے سے روک دوں گا ۔ناو یو ڈونٹ وری ینگ مین “انہوں نے علی کے شانے پر ہاتھ رکھ کر تشفی بخش انداز میں کہا ۔۔۔۔
“تھینک یو سو مچ “اس نے تشکرانہ انداز میں کہا اور وہاں سے نکلا ۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھا تو اپنے ہاتھ میں بندھی رسٹ واچ پر نظر پڑی جہاں رات کے آٹھ بج چکے تھے ۔۔۔اس کا فون گاڑی میں ہی رہ گیا تھا اس نے فون اٹھا جہاں ڈھیروں ڈھیر مسڈ کالز شو ہو رہی تھیں ۔۔۔۔
“علی نے جنت گیلانی کی مسڈ کالز دیکھیں تو انہیں کال بیک کی ۔
“اسلام وعلیکم گرینڈ مام !
“وعلیکم اسلام !”علی بچے کہاں ہو تم سارے مہمان پہنچ چکے ہیں ۔۔۔تم ابھی تک تیار بھی نہیں ہوئے “
“سوری گرینڈ مام ایک بہت ضروری کام نبٹانے گیا تھا ۔۔۔بس گھر واپس آ ہی رہا ہوں راستے میں ہوں “اس نے کہا ۔
“علی ایسا کرو راستے میں ہوتو پارلر سے تینوں بچیوں کو بھی لے آؤ “
“جی ٹھیک ہے گرینڈ مام “اس نے تابعداری سے کہا۔اور گاڑی کا رخ پارلر جانے والے راستے کی طرف کر دیا۔
کچھ ہی دیر میں وہ پارلر کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔وہ ایک بڑا سا پلازہ تھا۔۔جہاں مختلف شاپس تھیں جس کے تیسرے فلور پر ایک بیوٹی سیلون موجود تھا جہاں وہ تینوں موجود تھیں ۔
علی اکبر گاڑی کو لاک کیے بنا ہی جلدی سے پلازے کے پاس آیا ۔۔۔
“سنو یہ زرا گاڑی کا دھیان رکھنا میں بس ابھی آیا “علی وہاں کھڑے ہوئے گارڈ سے بولا اور خود سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آیا ۔۔۔
اس نے ریسپیشن سے ان تینوں کے بارے میں پوچھا ۔۔۔۔
تو تھوڑی دیر بعد ہی عائشہ باہر آئی ۔۔۔
“بھائی ابھی آرزو کا میک اپ ہی ہوا ہے ۔قرت العین کا بس لاسٹ ٹچ ہے وہ پانچ منٹ تک آجائے گی ۔۔۔۔
“اور تم ابھی تک ایسے ہی ہو وقت دیکھا ہے ؟؟اس نے گھڑی دیکھ کر کوفت سے کہا۔
“اب ان دونوں کے منہ پر پینٹ کرنے میں اتنا وقت لگا تو میرا کیا قصور ؟؟؟
آپ ایسا کریں ان دونوں کو لے جائیں میں آدھے گھنٹے میں ریڈی ہو جاؤں گی ۔۔آپ ایسا کرنا ڈرائیور کو بھیج دینا تاکہ وہ آکر مجھے لے جائے ۔
“اچھا ٹھیک ہے تم جاؤ اور انہیں بھیجو ۔۔۔۔
“جی ٹھیک ہے بھائی ۔۔عائشہ اسے کہتے ہوئے واپس اندر چلی گئی ۔۔۔۔
“سر ریسپیشن پر پیمنٹ جمع کروا دیں ایک ہیلپر نے آکر علی سے کہا۔
“جی ٹھیک ہے “علی ریسپیشن کی طرف بڑھ گیا۔
“آرزو تیار ہو کر باہر آئی اسے سامنے کوئی بھی نظر نہیں آیا وہ اپنا بھاری ملبوس بمشکل اٹھائے ہوئے خود ہی باہر نکل گئی ۔۔
“شاید باہر گاڑی میں ویٹ کر رہے ہوں گے اس نے اندازہ لگایا ۔
رات ہو چکی تھی پلازے کی کافی شاپس بند ہو چکیں تھیں اور کچھ بند ہو رہی تھیں ۔۔۔وہ سیڑھیاں اتر کر باہر روڈ پر آئی تو باہر اکا دکا ہی لائٹ جل رہی تھی۔ باقی بند ہو چکیں تھیں۔
وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ سامنے ہی اسے علی کی ریڈ سپورٹس کار کھڑی نظر آئی ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اس کار کی طرف بڑھتی کسی نے اندھیرے میں اسے اپنی جانب کھینچ لیا ۔۔۔۔۔
عیسی گیلانی اور موسی گیلانی گیٹ کے اینٹرینس پر کھڑے ہوئے تھے اور مہمانوں کا گرمجوشی سے استقبال کر رہے تھے ۔مہمانوں میں ان کے دوپار کے رشتے دار کچھ سوسائٹی کے لوگ اور باقی ان کے بزنس پارٹنرز بھی شامل تھے ۔۔۔
اکبر بھی تیار ہو کر سارے انتظامات چیک کر رہا تھا۔
بارات کی آمد کا وقت ہوا تو سلطان آفندی جس نے میرون کلر تھری پیس سوٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے چمچماتے جوتے پہنے پہلے سے زیادہ شاندار دکھائی دے رہا تھا ۔اس کے چہرے پر اپنی محبت کو پا لینے کی الوہی چمک نمایاں تھی ۔
وہاں موجود لڑکیوں نے بارات میں آئے مہمانوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔۔۔۔
ارمان جو علی اور آرزو کے لیے گفٹ لینے کے مارکیٹ گیا ہوا تھا بارات کے ساتھ شامل نا ہوسکا اس نے وقت پر پہنچنے کا وعدہ کر لیا تھا عابدہ آفندی سے ۔۔۔اس لیے وہ سب مطمئن تھے ۔۔۔۔
سب وہاں آکر اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوئے۔۔۔۔
“ک۔۔۔کون ۔۔۔ہو تم چھوڑو مجھے “آرزو نے اندھیرے میں اس نا معلوم شخص کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر کہا۔
“آرزو میں ہوں “
سدھانت نے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے دھیرے سے کہا۔
“کیوں آئے ہو تم یہاں جھوٹھے دغا باز انسان ؟وہ چلائی ۔
“آرزو وہ جھوٹ بول رہا ہے میں مسلم ہوں میرا یقین کرو میرا نام سادات ہے ۔دیکھو میں صرف تمہارے لیے یہاں تک آگیا ۔۔۔آو یہاں سے دور چلے جائیں ۔۔چلو میرے ساتھ “
دور رہو مجھ سے دھوکے باز انسان۔۔۔ مجھے نہیں یقین تم پر
“آرزو مت بھولو تم نے ہی میری آرزو کی تھی …..وہ اسے ساتھ بیتے ہوئے لمحوں کی یاد دلا رہا تھا ۔۔۔۔
“آرزو کی سب آرزوؤں کا قتل کر چکے ہو تم ۔چلے جاؤ یہاں سے چھوڑ دو مجھے میرے حال پر ۔میں نہیں جاننا چاہتی کہ کون ہوتم ۔۔۔میری شادی ہو رہی ہے ۔جنہوں نے مجھے پالا مجھے سہارا دیا میں ایک بار ان کا مان توڑ کر بہت بڑی غلطی کر چکی ہوں اب اور نہیں ۔خدا کے واسطے میرا پیچھا چھوڑ دو ۔۔۔وہ ملتجیانہ انداز میں بولی ۔۔۔
“آرزو دیکھو ابھی بھی تمہاری آنکھوں میں صرف میں ہی دکھائی دے رہا ہوں ۔۔۔۔۔
وہ زارو قطار رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
“تمہارے آنسو بھی مجھ سے جدائی میں بہہ رہے ہیں ۔۔۔سدھانت نے کہا ۔
“ہاں میرے ان آنسوؤں کی وجہ تم ہو ۔۔۔مگر میری دعا ہے کہ ان آنکھوں سے یہ آنسو کبھی ختم ہی نا ہوں ۔نا یہ ختم ہونگے اور نا ان میں دوبارہ تمہیں کبھی سمانے کی جگہ مل سکے گی ۔”
وہ نمناک آنکھوں سے بولی ۔۔۔۔
علی جو قرت العین کو اپنے ساتھ لے کر باہر نکل رہا تھا ۔آرزو کو دیکھنے لگا کہ وہ گاڑی میں بیٹھ چکی ہے یا نہیں ۔۔۔گاڑی خالی تھی ۔۔۔اس نے قرت العین کو اس کے اندر بٹھایا۔۔۔۔
اور خود ارد گرد نگاہ دوڑائی۔۔۔دور اندھیرے میں اس کا زرق برق لباس دکھائی دیا مگر اسکے ساتھ کون تھا ۔وہ اندھیرے میں دیکھنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔
اس نے قرت العین کو اندر بٹھا کر کار کا دروازہ زور سے بند کیا ۔۔۔جس کی اونچی آواز آرزو کو متوجہ کر گئی ۔۔۔
وہ سدھانت سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر گاڑی کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
علی نے اسے واپس آتے دیکھ ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔۔۔۔
قرت العین کے سامنے وہ کوئی تماشہ کری ایٹ نہیں کرنا چاہتا تھا آج اس کی بہن کا سپیشل دن جو تھا۔آرزو سے بعد میں نبٹنے کا سوچتے ہوئے وہ گاڑی کی رفتار غصے میں خطرناک حد تک تیز کر چکا تھا۔۔۔۔
وہ آدھے گھنٹے کا سفر منٹوں میں طے کیے گھر پہنچا ۔۔۔۔
“وہ دونوں اتر کر اندر چلی گئیں ۔۔۔
“مما ڈرائیور کہاں ہے ؟؟؟
علی نے اندر آکر پوچھا
“بیٹا عائشہ نہیں آئی ؟؟؟
“مما وہ ابھی ریڈی نہیں تھی ڈرائیور کو دس منٹ تک بھیج دیں اسے لینے “
“بیٹا مگر ڈرائیور تو نہیں ہے کچھ مہمانوں کو لینے گیا ہے ائیرپورٹ سے ۔
“چلیں ٹھیک ہے پھر میں خود ہی لے آتا ہوں عائشہ کو ۔”
“علی پھر سے واپس جاؤ گے ابھی تک تم تیار بھی نہیں ہوئے “حرعین نے فکر مندی سے کہا۔
“ہوں جاؤں گا تیار مما وہ بیزاری سے بولا۔پھر واپس باہر نکل گیا ۔۔۔۔
ابھی اس نے پارلر والے راستے پر کچھ سفر ہی طے کیا تھا کہ راستے میں ایک سارجنٹ نے اسے روک دیا ۔۔۔۔
” گاڑی روکو “
“کیوں کیا ہوا ؟”علی نے گاڑی کا شیشہ ڈاؤن کیے سر باہر نکال کر کہا۔اتنے میں
پولیس وہاں پہنچ چکی تھی ۔۔۔
“آپ کی گاڑی کی تلاشی لینی ہے “پولیس والے نے ہاتھ میں موجود سٹک گاڑی کے بونٹ پر مار کر کہا
“ٹھیک ہے لے لیں اس نے بے دھڑک ہو کر کہا ۔۔۔
پولیس والے نے اس کی گاڑی کی تلاشی لی اور جب گاڑی کی ڈگی کھولی تو اس میں ڈرگز اور ہتھیار دیکھ اس نے علی اکبر کو گھور کر دیکھا ۔۔۔۔
“یہ سب کیسے آیا میری گاڑی میں ؟؟؟
“یہ سب میرا نہیں ہے “علی نے بے یقینی سے ان چیزوں کو دیکھ کر کہا۔
“سب چور پکڑے جانے پر یونہی مُکر جاتے ہیں “لگاؤ ہتھکڑی اور لے چلو اسے خاطر مدارت کریں گے تو سب سچ اگل دے گا ۔۔۔۔
انسپکٹر نے اپنے ساتھ کھڑے سپاہی سے کہا ۔۔۔
“یس سر “اس نے حکم کی تعمیل کی ۔۔۔
“علی کی پاکٹ میں پڑا موبائل بجنے لگا ۔۔۔۔
“ہا۔۔۔ہا۔۔۔۔ہا ۔۔۔علی نے موبائل نکال کر کان سے لگایا۔۔۔تو اس میں سے کسی کی بے ڈھنگے انداز میں ہنسنے کی آواز آئی ۔۔۔۔
“کون ہو تم “؟
“بڑا کھلاڑی سمجھتے ہوئے نا اپنے آپ کو۔۔۔۔پہلے اپنے بھائی حیدر کو بچا لیا میرے جال سے ۔۔۔پھر آرزو کو بھی بچا کر لے گئے ۔۔۔۔۔۔
اب خود کو بچاؤ گے یا اپنی بہن عائشہ کو ؟؟؟؟اس کی طنزیہ آواز سپیکر پر گونجی ۔
“Who are you rascal..?
علی اکبر دھاڑا۔۔۔۔
دوسری طرف سے فون کٹ ہوچکا تھا۔۔۔۔
“عائشہ ۔۔۔۔میری عاشو خطرے میں ہے ۔۔۔پلیز انسپکٹر مجھے جانے دیں ۔۔۔فی الحال میرا جانا بہت ضروری ہے وہ منت بھرے انداز میں بولا۔
“اوئے کہاں چل ہمارے ساتھ “
انہوں نے علی کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگا دی اور پولیس وین کی طرف اسے کھینچنے لگے ۔۔۔۔
“اچھا پلیز مجھے ایک کال کرنے دیں اس کا دماغ فوری کام کیا تو اس نے انسپکٹر سے کہا۔۔۔
“چل بلا لے خود کو بچانے کے لیے جسے مرضی ۔۔۔تو نہیں چھوٹنے والا ۔تجھ پہ لمبا کیس بنے گا۔۔۔۔
علی نے اس کی بات کو نظر انداز کیے فورا سے بیشتر ارمان کو کال ملائی ۔۔
“کہاں ہے تو ؟؟؟
میں ۔۔۔۔اس نے اپنی لوکیشن بتائی ۔۔۔
“ارمان عائشہ پارلر میں ہے اسے وہاں سے نکال کر بحفاظت گھر پہنچانا تیری ذمے داری ہے “
“کیوں کیا ہوا یار ؟اس نے حیرانی سے پوچھا۔
“ابھی یہ بتانے کا وقت نہیں بابا کو فون کر کہ بتا دے کہ میں پولیس اسٹیشن میں ہوں مجھے نکالیں وہاں سے “مجھے دوسری کال نہیں کرنے دیں گے یہ لوگ “
انسپکٹر نے اس کی بات بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ اس کے ہاتھ سے موبائل لے کر اپنے قبضے میں کیا ۔۔۔۔
ارمان نے علی کے بتائے ہوئے پارلر کے راستے پر گاڑی ڈالتے ہوئے اکبر کو کال ملائی ۔۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم انکل !
وعلیکم السلام ؟آپ کون ؟
“انکل میں ارمان بات کر رہا ہوں علی کو پولیس اپنے ساتھ لے گئی ہے آپ پلیز اسے دیکھیں جا کر “
“ارمان سارا گھر مہمانوں سے بھرا پڑا ہے بارات آ چکی ہے ۔میں ایسے میں کیسے سب چھوڑ کر ؟؟؟
“سب پوچھیں گے اس کا “کیا کروں وہ سوچنے لگے ۔
“اچھا ٹھیک ہے میں کچھ کرتا ہوں “
“آپ یہاں سب سنبھال لینا میں بس تھوڑی دیر میں آتا ہوں “اکبر ۔۔ موسی گیلانی کو کہتے ہوئے تیزی سے گھر سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
“میم آپ کو لینے کوئی باہر آیا ہے “عائشہ سے گارڈ نے آکر کہا ۔۔۔
عائشہ جو تیار ہوچکی تھی سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی ۔۔۔۔
ابھی وہ باہر آئی ہی تھی کہ کسی نے اس کے منہ پر کلوروفارم والا رومال رکھ دیا ۔وہ اس انجانی قید سے خود کو رہا کرنے کے لیے بہت جھٹپٹائی مگر زیادہ دیر مزاحمت نا کر سکی اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی۔۔۔۔
اسے ہوش آیا اس نے اردگرد نگاہ دوڑائی ۔۔۔وہ شاید کوئی بند شاپ تھی کیونکہ وہاں ہر طرف مختلف بے بی ڈریسز ہینگ کیے گئے تھے ۔۔۔۔اس نے مندی آنکھوں کو مل کر ٹھیک سے کھولا سامنے ہی ایک نقاب پوش آدمی تھا۔۔۔جو اسے ہوش میں آتے دیکھ اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔
“ک۔ک۔۔۔کون ۔۔ہو تم ۔۔۔۔وحشت کے باعث عائشہ کے منہ سے الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر برآمد ہوئے ۔۔۔۔۔
آواز حلق سے نکلنے سے انکاری ہوئی ۔۔۔
جیسے جیسے وہ قدم اٹھاتے ہوئے اس کے قریب آ رہا تھا اس کی زبان حیرت کے باعث تالو سے چپک گئی ۔۔۔۔
“Poor girl…..
چچچچچچچہ۔۔۔۔۔دراصل تمہاری یہ آنکھیں ہیں نا مجھے کسی بہت اپنے کی یاد دلاتی ہیں “اس کی گھمبیر آواز عائشہ کو اپنے کانوں میں سنائی دی۔
وہ اسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔مگر پہچان نا پائی ۔۔۔۔
“کاش میں تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جا سکتا “
“پر چلو کوئی نہیں اب میں تمہارے ساتھ وہ کروں گا نا کہ تمہارے گھر والوں کے پاس تمہیں مجھے سونپ دینے کے علاؤہ کوئی اور چارہ نہیں ہوگا “وہ اس کی بھاری آواز عائشہ کا دل دہلا رہی تھی اوپر سے اس کی جان لیوا باتیں ۔۔۔۔
وہ اس کے ڈر سے جی جان سے کانپنے لگی ۔۔۔۔
“پ۔۔۔۔پلیز مجھے جانے دو “وہ منت بھرے انداز میں بولی ۔۔۔
“پلیز۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی مقابل کی ایک ہاتھ کی مضبوط گرفت نے اس کی نازک گردن کو اپنی مٹھی میں قید کیا ۔۔۔۔۔
“شششششش ۔۔۔بالکل خاموش !!!!!
وہ دوسرے ہاتھ کی ایک انگلی اپنے منہ پر رکھ کر اسے چپ رہنے کا کہہ رہا تھا۔۔۔
عائشہ کی گرے آنکھوں کی پتلیاں درد کے باعث پھیلنے لگیں ۔۔۔۔
“چپ چاپ میری بات مان لو ورنہ تمہاری جان لے لوں گا ۔۔۔۔
عائشہ اس بار بولنے کی بجائے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
“اب بولو گی ؟؟؟
عائشہ نے جوابا پھر نفی میں سر ہلایا۔
“ڈیٹس لائک آ گُڈ گرل۔۔۔۔” جھٹکے سے اسے اپنے شکنجے سے آزاد کرتا وہ خباثت سے ہنسا ،
عائشہ اسکے گردن کو چھوڑ دینے پر سینے پر ہاتھ رکھے ہوئے اپنی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کررہی تھی ،خوف اور ضبط کے باعث اس کا چہرہ بلکل سرخ ہو چکا تھا۔اور گرے آنکھوں میں لال ڈورے واضح ہونے لگے،
“ویسے تم پاکستانی لڑکیوں کی ایک بات تو ماننی پڑے گی۔۔۔۔ہوتی تو تم لوگ ہندستانی لڑکیوں سے بھی زیادہ ہاٹ ۔
وہ عائشہ کے گال کو چھو کر خباثت بھرے انداز سے بولا ،عائشہ نے اس کا گلوز والا ہاتھ پیچھے جھٹکا ۔۔۔۔
“مجھے منع کرے گی تو ۔(۔۔۔۔)گالی ۔۔۔اس نے عائشہ کے دوپٹے کو نوچ کر دور پھینکا ۔۔۔۔۔عائشہ نے اس کا غلیظ ارادہ بھانپ کر اس سےبچنے کے لیے دوڑ لگائی ۔۔۔
اس نے عائشہ کو پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو اس کی شرٹ کا بازو اس کے ہاتھ میں آیا ۔۔۔مقابل نے عائشہ کو اسی شرٹ کےبازو سے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔اور عائشہ کی آستین پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آگئی۔۔۔۔عائشہ وہاں سے بھاگی مگر اندھیرا ہونے کی وجہ سے فرار کے لیے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیا ۔۔۔۔اتنی دیر وہ گھٹیا انسان اس کے قریب پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔
وہ کمزور لڑکی کہاں اس دیو ہیکل کا مقابلہ کر سکتی تھی وہ خود کا بچاؤ کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں چلانے لگی ۔۔۔اس کی دلخراش چیخیں گونجنے لگیں
“میں نے تمہیں کہا تھا خاموش رہنا ۔۔
یہ کہتے ہوئے مقابل نے ایک جاندار تھپڑ عائشہ کے منہ پر مارا ۔۔۔وہ لہراتی ہوئی فرش پر گری ۔۔۔اسکے ہونٹ کے کنارے سے خون رسنے لگا ۔۔۔۔
۔۔۔۔ارمان جو اسے ڈھونڈھنے آیا تھا ایک بند شاپ میں۔ سے اسے دلخراش چیخوں کی آواز سنائی دی تو اس نے ادھر ادھر دیکھا یہ آواز تو اسے کبھی بھول نہیں سکتی تھی ابھی کل ہی تو وہ اس کی خوبصورتی اور آواز کا دیوانہ ہوا تھا ۔
یہ آواز تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا ۔۔۔
اس نے شاپ کو دیکھا اس کا شٹر ڈاؤن تھا۔وہ پھر اس کی بیک سائیڈ پر گیا جہاں سے اندر جانے کا خفیہ راستہ بنایا گیا ۔۔۔۔
“کب سے اس کا فون پاکٹ میں وائبرئٹ ہو رہا تھا ۔جو سدھانت نے سائلنٹ موڈ پر لگا رکھا تھا ۔بے وقت کسی کی کالز پر کالز آتے دیکھ وہ عائشہ کے منہ پر ہاتھ رکھے اس کی چیخوں کو روکتے ہوئے فون کان سے لگایا گیا ۔
“ہاں بولو “اس نے اپنی بھاری آواز میں کہا۔
“سدھانت تھاری ماں پرلوگ سدھار گئی “دوسری طرف سے کسی کی درد سے ڈوبی آواز اور افسوسناک خبر سنتے ہی وہ عائشہ کے منہ سے ہاتھ ہٹائے اسے وہیں چھوڑے وہاں سے فرار ہوگیا ۔۔۔۔۔
ارمان بنا وقت ضائع کیے بھاگ کراندر داخل ہوا۔۔۔۔
عائشہ کو یوں بنا دوپٹے کے کسی کی گرفت میں سے آزاد ہوتا دیکھ اس کا فشار خون بلند ہوا ۔۔۔وہ تیر کی تیزی سے اس کی طرف بڑھا ۔۔۔مگر مقابل بھی شاید چوکنا تھا ۔۔۔۔عائشہ کو چھوڑے وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔۔
عائشہ نے آنکھوں میں آئی نمی کو بےدردی سے رگڑا اور ارمان کو دیکھا جو اس وقت اس کے لیے مسیحا بن کر آیا تھا۔
وہ بھاگ کر اس کے پاس گئی اور اس کے ساتھ لگے بھبھک بھبھک کر رونے لگی ۔۔۔۔
“آپ نہیں آتے تو وہ جانور آج میرے ساتھ پتہ نہیں کیا ۔۔۔۔۔”وہ بھیگے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔۔۔
ارمان نے اس کے گرد اپنے بازو حمائل کیے ۔۔۔۔
عائشہ کو ایسا لگا جیسے وہ مضبوط پناہوں میں آ گئی ہو ۔
اپنی بنا سوچی سمجھی کی گئی حرکت پر شرمندہ ہوتے ہوئے وہ اس سے دوری بنا گئی ۔۔۔۔
ارمان نے اس کا بکھرا ہوا حلیہ دیکھا ۔۔۔کاجل اور باقی میک اپ پھیل چکا تھا ،ہونٹ کے کنارے سے خون رس رہا تھا۔فراک کی آستین پھٹی ہوئی اور فراک کی بیک سائیڈ بھی بدتر حالت میں بھی ۔۔۔
اسے اپنے ضبط کی طنابیں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔وہ مٹھیوں کو بھینچ کر خود پر قابو پانے لگا۔
“چلیں سب انتظار کر رہے ہوں گے”اس نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔
“کوئی آپ کی اس حالت کے بارے میں پوچھیں تو بتا دیجیے گا کہ پارلر سے نکلتے ہوئے بے دھیانی میں ایک بائیک سے ٹکر کے نتیجے میں حادثہ پیش آیا۔۔۔۔
“جی “وہ فقط اتنا ہی بولی ۔
ارمان نے اپنا کوٹ اتار کر اس کے شانوں پر ڈالا۔۔۔۔
وہ خود کو بہت محفوظ تصور کرنے لگی ۔۔۔۔
ارمان اسے اپنے ساتھ گاڑی تک لایا اور اسے بٹھا کر گاڑی گھر کے راستے پر ڈال دی ۔
“آپکا بہت شکریہ ارمان اس نے رندھے لہجے میں کہا۔
“پلیز میں اب دوبارہ یہ الفاظ نا سنوں آپ کے منہ سے ۔۔۔۔”وہ سرد لہجے میں بولا ۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ گھر پہنچ چکے تھے ۔۔۔
گھر والے اس کی گمشدگی کو لے کر پریشان تھے اور گھر کے باہر ہی سب افراد جمع تھے ۔۔۔
ارمان کے ساتھ عائشہ کو گاڑی سے نکلتے ہوئے دیکھ سب کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں ۔۔۔۔
“ارے لڑکی کی حالت تو دیکھو !!!
“مجھے تو یہ کوئی دوسرا ہی چکر لگتا ہے “
“بھئی لڑکیاں آج کل یونہی بھاگ کر ایسے کارنامے کرتی ہیں پھر اجڑ کر واپس آجاتی ہیں۔
“مجھے تو اس لڑکے کا ہی کوئی چکر لگتا ہے ۔
“ہائے توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے لڑکیاں آدھی راتوں کو یوں لُٹی ہوئی حالت میں گھر آئیں تو ماں باپ کو تو شرم سے ڈوب کر مر جانا چاہیے ۔۔۔۔
وہاں بھانت بھانت کے لوگ تھے جو طرح طرح کی بولیاں بول رہے تھے کچھ بلا جھجھک اونچی آواز میں تو کچھ سرگوشی نما آواز میں۔۔۔۔۔
ایک عورت نے تو آگے بڑھ کر گیلانیز کا سر عام تماشہ بنوانے کے لیے عائشہ کے پاس سے گزرے ہوئے اس کے شانے سے ہاتھ مار کر ارمان کا پہنایا گیا کوٹ اتار دیا۔۔۔۔عورت ہی عورت کی عزت کی دشمن بن بیٹھی تھی۔
عائشہ جو ابھی ارمان کے دلاسے کچھ سنبھلی تھی اتنے لوگوں کے سامنے بنا دوپٹے کے خود کو برہنہ دیکھ آنکھیں میچ گئی ۔۔۔
آن فاطمہ کی تو اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر کرب کی آخری انتہا پر پہنچ چکی تھی۔۔۔ اس نے فوراً آگے بڑھ کر عائشہ کے ڈھیلے ہوتے ہوئے وجود کواپنی چادر میں چھپایا ۔۔۔۔
“اکبر جو علی کو ساتھ لے کر ابھی پہنچا ہی تھا ۔۔۔۔
وہاں بھیٹڑ دیکھے معاملے کوسمجھتے ہوئے آن کو تشکر آمیز نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
حرعین ان دونوں کو اپنے ساتھ لیے اندر بڑھنے لگی ۔۔۔
“ایسی حالت دیکھ کر بھی لڑکی کو گھر میں لے جا رہے ہو اسے یہیں سے رخصت کرو جس کے ساتھ یہ آدھی رات کو منہ کالا کر کہ آئی ہے ۔
“خبردار جو میری بیٹی کے کردار پر یا اس کی عزت پر کسی نے انگلی بھی اٹھائی میں اسکی جان لے لوں گا “اکبر گیلانی کی بارعب،گرجدار آواز گونجی تو سب ساکت رہ گئے ۔۔۔۔
“کس کس کا منہ بند کرواؤ گے ؟؟؟
“سب نے دیکھ لی اس کی اجڑی حالت کس کس کو اپنی بیٹی کی پارسائی کا یقین دلاؤ گے ؟؟؟وہی ایک جاننے والی عورت جو اکثر محلے میں پھپھے کُٹنیوں کا کردار ادا کرنے والیوں کی فہرست میں شامل ہوتی ہیں وہ پھر سے اونچی آواز میں بولی۔۔۔۔
“مام پلیز آپ اکبر انکل سے بات کریں میں ابھی کے ابھی عائشہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں “ارمان اٹل انداز میں بولا ۔
“مگر ارمان اس طرح ۔۔۔اتنی جلدی ۔۔۔
اور پھر عائشہ کی حالت ؟؟؟؟کئی سوال عابدہ آفندی کی زبان سے یکلخت نکلے ۔۔۔۔
“مام آپ کو اپنے بیٹے پر بھروسہ ہے نا کہ وہ اتنا بڑا قدم ایسے ہی نہیں اٹھا سکتا میں نے یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔پلیز مام یہی وقت ہے پلیز بات کیجیے “
“ابراہیم صاحب یہ دیکھیں ارمان کیا کہہ رہا ہے ؟عابدہ آفندی نے انہیں ایک طرف لے جا کر کہا ۔
“میں نے سن لیا ہے میں خود بات کرتا ہوں اکبر سے “وہ کہہ کر اکبر گیلانی کے پاس آئے ۔۔۔۔
“اکبر میں چاہتا ہوں ابھی کہ ابھی عائشہ اور ارمان کا نکاح علی اور آرزو کے ساتھ ہو جائے ۔۔۔”ابراہیم آفندی نے بلند آواز میں سب کے سامنے اپنا مدعا رکھا۔
“بابا میں نے کچھ غلط نہیں کیا ۔۔۔
اور ارمان اس سب کے زمہ دار نہیں ۔۔۔بابا میرا یقین کریں ۔۔۔عائشہ نے یہ بات سنی تو بھاگ کر اکبر کے ساتھ لپٹ کر روتے ہوئے کرب زدہ آواز میں بولی۔
اتنی دیر حرعین اسے اپنا دوپٹہ دئیے خود دوسری شال اوڑھ چکی تھی ۔
“علی مجھے ابھی نکاح کرنا ہے عائشہ سے “ارمان نے آکر بنا لگے لپٹے سیدھا علی سے کہا ۔جو وقت پر اپنی بہن کی مدد کے لئے نا پہنچ پانے پر پہلے سے خود کو ملامت کر رہا تھا چونک کر ارمان کو دیکھنے لگا ۔
Are you serious?
اس نے حیران کن نظروں سے پوچھا۔
Yah I am hundred percent sure.
ارمان نے پختہ لہجے میں کہا ۔
“بیسٹ بڈیز کس لیے ہیں ؟؟آخر دوست ہی تو ایک دوسرے سے کھل کر بات کر سکتے ہیں میں اپنے دوست ہونے کے ناطے یہ بات کر رہا ہوں ۔میری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں ۔میں اسے دل سے اپنانا چاہتا ہوں ۔تجھے کبھی میری طرف سے کوئی شکایت نہیں ہوگی اپنے بابا سے میری سفارش کردے ۔ساری عمر تیرا احسان مند رہوں ۔
“کیسی باتیں کر رہا ہے اس وقت تو میں تیرا احسان مند ہوں میری بہن کو با حفاظت واپس لانے پر اور پھر اب ۔۔۔۔وہ بات ادھوری چھوڑ گیا۔
“تو رک میں بابا سے بات کرتا ہوں ۔
اکبر جو شش و پنج میں مبتلا تھا ۔علی نے ان کے پاس آکر کان میں کچھ کہا تو انہوں نے علی کی طرف دیکھا ۔
“بابا ارمان میرے ساتھ کام کرتا ہے اس کی طرف سے میں گارنٹی دیتا ہوں “
وہ کہہ کر پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔
“مجھے اپنی بیٹی پر خود سے بھی زیادہ یقین ہے ۔اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ میری بیٹی میری خواہش کو کبھی رد نہیں کرے گی ….ہے نا ؟؟؟اکبر نے مان بھرے انداز میں پوچھا۔
“جی بابا “اس نے سر اٹھا کر اکبر کی طرف دیکھتے جواب دیا۔
“تو پھر میری یہ خواہش ہے کہ لوگوں کے تمہارا نکاح ارمان سے ہوجائے ۔ارمان بہت اچھا اور سلجھا ہوا بچہ ہے ۔”
“اپنے بابا کا فیصلہ منظور ہے یا نہیں ؟
اس نے آس بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
وہ پھر سے اکبر سے لپٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔
“بیٹا کوئی زور زبردستی نہیں اگر تم ایسا نہیں چاہتی تو کوئی بات نہیں دنیا کا تو کام ہے کہنا مجھے دنیا والوں کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔۔۔دنیا والے تو کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتے اور نہ کسی کو رہنے دیتے “اکبر نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“مجھے اپنے بابا کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔۔۔مجھے آپ کی ہر بات منظور ہے بابا “
“بہت شک
