Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 10)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
“آ…..آپ کب آئے ؟وہ لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی۔
“کچھ دیر پہلے ہی “
“آپ کو کچھ چاہیے ؟”
“کیا ؟”وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی۔
“کچھ نہیں “
کہتے ہی اس نے کروٹ بدل لی ۔
آن اٹھ کر واش روم میں گئی اور کچھ دیر بعد وضو کیے جائے نماز بچھا کر تہجد کی نماز ادا کرنے لگی ۔۔۔
اکبر جو آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹا تھا اسے تہجد کی نماز ادا کرتے ہوئے دیکھ حیران ہوا ۔۔۔
وہ بھی بحکم ِخداوندی ایک سچا مسلمان تھا ،پانچوں وقت کی نماز باقاعدگی سے ادا کرتا تھا ،جب وقت ملے تلاوت بھی کرتا تھا مگر کبھی شاذونادر ہی ہوا تھا کہ اس نے تہجد کی نماز پڑھی ہو ۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھائے آنکھیں بند کیے پورے جذب سے جانے کیا دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ نماز سے فراغت کے بعد اپنی جگہ پر واپس آئی تو اکبر اپنی جگہ سے اٹھ کر تھوڑا نیم دراز ہوا ۔۔۔۔
“کیا ہوا “؟
“کچھ نہیں “
“پھر آپ اٹھ کیوں گئے آرام کر لیں “
“تم نے ابھی تک چینج کیوں نہیں کیا اتنی شاپنگ کس لیے کی تھی جو یہی کپڑے پہننے تھے “
اکبر نے اسے وہی پرانے سے کپڑوں میں ملبوس دیکھا تو تلخ لہجے میں کہا۔
“وہ ۔۔۔۔بس اتنا ہی کہا کیوں کہ کہنے کو کچھ تھا ہی نہیں اس کے پاس ۔
اکبر اپنی جگہ سے اٹھا اور کبرڈ کے پاس جا کر اسے کھولا ۔۔۔
کبرڈ میں ڈھیر سارے شاپنگ بیگز جوں کے توں پڑے تھے ۔۔۔
“آخر میں بھی تو دیکھوں تم نے کیا خریدا تھا “
اس نے سارے شاپنگ بیگز غصے میں بستر پر الٹ دئیے ۔۔۔۔مگر ان میں سے نکلے ہوئے کپڑے دیکھ ساکت رہ گیا ۔۔۔
جن میں ایک جینٹس بلیک کرتا شلوار ، شرٹ اور کچھ ٹی شرٹس تھیں ۔۔۔
“یہ کیا ہے ؟”
“یہ میں نے آپ کے لیے خریدا تھا “
“کیوں میرے پاس کیا کپڑوں کا کال پر گیا تھا جو تمہیں میری فکر ہوئی اور تم نے اپنے کپڑے لینے کی بجائے میرے لیے لینا شروع کردئیے “؟
“یہ بلیک کلر کے کپڑے مجھے بہت پسند آئے تھے آپ کو پتہ ہے کہ میرے بھاء سا بھی گھر میں ایسے ہی کپڑے پہنتے ت۔۔۔ھ۔۔ے ۔۔۔۔الفاظ منہ سے پھسل تو گئے مگر اپنی بات کا احساس ہوتے ہی وہ آخری الفاظ منہ میں ہی دبا گئی ۔۔۔۔
“I am sorry.”
اگر آپ کو برا لگا تو ۔۔۔اس نےمعزرت خواہانہ انداز میں کہا ۔۔۔۔
“سمیٹو اسے “وہ کپڑوں کے پھیلاوے کو دیکھ کر بولا ۔
پھر بستر کی خالی جگہ پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
وہ چیزیں سمیٹ کر کبرڈ میں رکھتے وہاں واپس آئی ۔۔۔
“ایک بات کہوں ؟
آن نے پوچھا ۔
اکبر نے صرف اسے دیکھنے پہ اکتفا کیا۔
“مجھے معاف کردیں “
“وہ کس لیے “؟
“میں آپ سے اور حرعین دونوں سے معافی مانگنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔میں آپ لوگوں کی زندگی میں جس طرح زبردستی داخل ہوئی اس کے لیے ۔
“میں حرعین سے بھی معافی مانگنا چاہتی تھی مگر پھر ہمت نہیں ہوئی ۔۔۔
کہیں وہ مجھے معاف کرنے کے بدلے میں مجھے آپ کو چھوڑ دینے کی شرط نا رکھ لے۔۔۔۔
آپ کو کھونے کا حوصلہ نہیں مجھ میں ،آپ میرے حق میں دعا کرنا
کہ آپ سے بچھڑنے سے پہلے میری سانسیں مجھ سے بچھڑ جائیں ،،،۔
میں آپ کو کسی قیمت نہیں کھونا چاہتی ۔۔۔۔
اس لیے چاہ کر بھی اس سے معافی نہیں مانگ سکتی ۔
“مگر آپ سے تو مانگ سکتی ہوں نا !
وہ آس بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔
آپ کی اچھی بھلی زندگی میں ہلچل مچادی میں نے ۔۔۔۔۔
اکبر خاموشی سے اس کے لب و لہجے کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔۔
“آپ پلیز مجھے کبھی چھوڑئیے گا مت چاہیں تو اپنے کمرے میں کسی فالتو سامان کی طرح پڑا رہنے دیں ۔۔۔۔
بے شک مجھے ایک بے جان ۔۔۔یہ ۔۔۔جیسے گلدان ۔۔۔۔وہ سائیڈ ٹیبل پر پڑا ہوا گلدان ہاتھ میں لیے بولی ۔۔۔
اس گلدان کی طرح مجھے بھی بے جان شے سمجھ کر پڑا رہنے دیں ۔۔۔
میں ُاّف تک نہیں کروں گی۔۔۔۔
“تم بیوی ہو میری بے جان مورت تو نہیں “
“مجھے امید مت دلائیں ۔۔۔آپ کو پتہ ہے جب امید کا روشن چراغ بے یقینی کے تیز جھونکے سے بجھ جائے تو کبھی روشن نہیں ہوپاتا ۔”
امیدوں کے ٹوٹنے سے انسان بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔
میں ٹوٹنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔
رشتے کی پہلی سیڑھی اعتبار ہے ۔آپ مجھ پہ اعتبار کریں گے نا؟
وہ سوالیہ نظروں سے پوچھ رہی تھی ۔
“تم کبھی بے اعتباری کی وجہ ہی نا دینا “
وہ دو ٹوک انداز میں بولا
“کہو کیا چاہتی ہو “؟
وہ اس کی آنکھوں میں کچھ کھوج رہا تھا شاید ۔
“اگر ہو سکے تو اپنے قیمتی وقت میں
سے بس چند پل میرے نام کردیا کریں ۔
جس میں صرف میں ہوں اور آپ ہوں ہمارے درمیاں کوئی تیسرا نہیں ہو ۔۔۔
نا آپ کے دل میں نا دماغ میں ۔۔۔۔
میں آپ کو جی بھر کر دیکھوں اور آپ مجھے ۔۔۔۔۔
بس اتنی سی خواہش ہے ۔
“بہت سمجھایا ہے اس دل کو مگر تمہیں دیکھ جانے کیوں دھڑکنوں کی رفتار زور پکڑ لیتی ہے ؟
“تمہاری ان پرکشش آنکھوں میں اپنے لیے جنون پہچان سکتا ہوں ۔۔۔مگر دماغ مجھے تمہارے خلاف جانے پر اُکساتا ہے ۔”
“دل کی سنوں جس کی ہر دھڑکن تمہارا نام لیتی ہے یا دماغ کی سنوں جو تم پر چاہ کر بھی یقین نہیں کرنے دیتا ۔”
وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔
آن اسے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا دیکھ کر وہاں سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ اکبر نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔۔۔۔
ان دونوں کے بیچ کا فاصلہ بہت کم رہ گیا ۔۔۔۔
“وفا کرو گی ؟”
اس نے دل میں مچلتا ہوا سوال زبان پہ لایا ۔۔۔
“مرتے دم تک “وہ بنا ایک بھی لمحہ ضائع کیے بنا بولی ۔
“میں جس لمحے آپ سے بے وفائی کروں وہ میری زندگی کا آخری لمحہ ہو ۔۔۔مجھے موت آجائے”۔۔۔۔اس نے اپنے تئیں اسے یقین دلانا چاہا۔
جانے کتنے ہی فسوں خیز لمحات ان کے درمیان ٹہرے ۔۔۔وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں یونہی بنا پلکیں جھپکائے دیکھتے رہے ۔۔۔۔
کہ فجر کی اذان نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔
“آپ مجھے اتنی دیر سے کیوں ملے مجھے ہمیشہ اس بات کی شکایت رہے گی “وہ سرد آہ بھر کر بولی ۔۔۔
“مگر آپ خدا کا عطا کردہ انمول تحفہ ہیں میرے لیے ۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو میری نجات کا وسیلہ بنایا ۔۔۔آپ کے زریعے مجھے سیدھا راستہ دکھایا ۔۔اور دین اسلام میں داخل کیے ہدایت بخشی ۔۔۔۔۔نماز کی دعا میں اللّٰہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا تو بنتا ہے نا ؟
وہ نہایت متانت سے بولی ۔
“ہممممم”
اکبر اٹھ کروضو کیے مسجد روانہ ہو گیا ۔۔۔
اور آن فاطمہ نے کچن کا رخ کیا شبنم گیلانی کے لیے پانی نیم گرم کیا ۔۔اور جا کر انہیں وضو کرنے میں مدد دی ۔
وہیں ان کے ساتھ نماز ادا کی ان سے آج کی تفسیر کا سبق لیا ۔۔۔اور زبانی یاد کی گئی سورت سنائی ۔۔۔۔
دن تقریبا چڑھنے کو تھا جب وہ واپس کمرے میں آئی ۔۔۔
“آپ ابھی تک جاگ رہے ہیں ؟”
اس نے حیرت سے پوچھا ۔
“تمہارا انتظار کر رہا تھا “
آن کو اس کی آنکھوں میں نیند کی بجائے کچھ الگ ہی جذبات نظر آئے ۔۔۔
وہ اس کے پاس آنے کی بجائے بے وجہ ہی چیزیں اِدھر سے اٹھا کر ُادھر رکھنے لگی ۔۔۔۔
“ادھر آؤ “
اکبر کی آواز سن کر وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
چلتے ہوئے ایسا لگا کہ زمین گھوم رہی ہو ۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اس تک آئی ۔۔۔۔
“بیٹھو “
وہ بوجھل آواز میں بولا۔
“دیکھیں اکبر میں اس رشتے کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی۔۔بس یہیں تک ٹھیک ہے ۔۔۔آپ کا ساتھ ہی میرے لیے کافی ہے “وہ ڈرتے ہوئے دل کی بات کہہ گئی ۔
“میں بھی نہیں چاہتا “وہ بات چھوڑے رکا ۔۔۔۔
پھر گہرا سانس بھرا۔۔۔۔
“تو کیا بات بس دیکھنے دکھانے تک ہی رہے گی ؟؟؟
اس کی فضول گویائی پہ آن فاطمہ نے ہرنی جیسی سہمی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔
اس کا دل سکڑ کر پھیلا ۔۔۔۔
“مگر اس کمبخت دل کا کیا کروں ؟
جو ایسا چاہنے لگا ہے ۔۔۔۔
“میں پہلے ہی حرعین سے بہت کچھ چھین چکی ہوں اب اور نہیں ۔۔۔۔”
“چھین تو تم واقعی بہت کچھ چکی ہو ….مگر جو تم نے چھینا ہے اس کا تمہیں اندازہ نہیں۔۔۔۔وہ معنی خیز انداز میں بولا۔۔۔پھر اسے سنبھلنے کا موقع دئیے بغیر کلائی سے کھینچ کر پہلو میں گرا گیا ۔۔۔۔
“پلیز اکبر چھوڑیں مجھے “وہ اس کی مضبوط گرفت میں جل بن مچھلی کی طرح تڑپتے ہوئے اپنا آپ چھڑوانے لگی ۔۔۔۔آنکھوں کی پتلیاں ضرورت سے زیادہ پھیل گئیں اس کی گستاخی بھری جسارتوں پہ ۔۔۔۔
وہ جتنی زیادہ مزاحمت کر رہی تھی ۔۔۔اکبر کی گرفت اتنی مضبوط ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
اس کی سحر زدہ جنونیت آمیز قربت میں اسے سانس لینا بھی دوبھر لگا ۔۔۔۔اس وقت اس کی شدتیں سہہ پانا اسے محال لگ رہا تھا ۔۔۔۔
اک۔۔۔اکبر دس بج گئے ہیں سب نیچے انتظار کر رہیں ہوں گے اٹھ جائیں پلیز ۔۔۔اس کی خفگی بھری آواز کانوں میں سنائی دی تو اکبر نے خمار زدہ آواز میں کہا ۔۔۔۔
“کسی کو کیا پتہ کہ میں واپس آ چکا ہوں ۔۔۔۔
اس نے جواب دیتے ہوئے آنکھیں کھول کر دیکھا ۔۔۔
وہ اسی بلیک ڈریس میں ملبوس تھی جو اکبر نے دونوں کو تحفتاً دیا تھا ۔۔۔
اپنے گیلے سنہری کمر تک آتے لمبے بالوں میں برش پھیر رہی تھی ۔۔۔
جس میں سے پانی کی بوندیں موتیوں کی طرح ٹپک رہی تھیں ۔۔۔
وہ بستر سے نکل کر اس تک آ رہا تھا جوں جوں وہ اس کے قریب آ رہا تھا وہ الٹے قدم لیتے ہوئے پیچھے کبرڈ سے لگی ۔۔۔۔
“ا۔۔۔۔اکبر ۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔میں پہلے ہی ناراض ہوں آپ سے ۔۔۔وہ اس کی رات کی گئی زور زبردستی کو یاد کرواتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
“تو منا لیتے ہیں ابھی آپ کو “۔اس کی گرم سانسیں اپنے وجود پر محسوس کیے وہ سختی سے آنکھیں میچ گئیں ۔۔۔۔
اکبر نے کبرڈ کےدوسری سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اس میں سے ایک پیکٹ نکالا۔۔۔۔
اور اس کی طرف دیکھ کر ایک مسکراہٹ اچھالی اور کر واش روم میں بند ہو گیا ۔۔۔
آن نے واش روم کے دروازے کے بند ہونے کی آواز سنی تو ایک آنکھ کو تھوڑا سا کھول کر دیکھا ۔۔۔
جب اس کے آس پاس نہ ہونے کی تسلی ہوئی تو اس نے دونوں آنکھیں کھول لیں۔۔۔اور سکون بھرا سانس لیا ۔۔۔۔
وہ بال سکھا کر انہیں حسب معمول جوڑے کی صورت میں باندھ چکی تھی ۔۔۔۔
پھر کمفرٹر تہہ لگائے ایک طرف رکھا اور بستر کی چادر تبدیل کی ۔۔۔
کچھ بے ترتیب چیزوں کو ان کی جگہ پر رکھا ۔۔۔۔
اکیلے باہر جانے میں آج جانے کیوں اسے ہچکچاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
اتنا وقت ہو گیا ہے جانے سب باہر کیا سوچیں گے ؟وہ اسی سوچ میں گم تھی کہ اسے اپنا آپ کسی کے حصار میں لگا ۔۔۔۔
“بہت اچھی لگ رہی ہو اس ڈریس میں “اس کا سادہ سا تعریف کا انداز آن کو اندر تک سر شار کر گیا ۔۔۔۔
وہ اس کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر جھینپ گئی۔۔۔۔
نظر اٹھا کر اکبر کو دیکھا جو اس کے لائے گئے وہی سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس تھا ۔۔۔ہئیر کٹ میں برش پھیر کر انہیں سیٹ کیے اب وہ قمیض کے کف موڑ رہا تھا ۔۔۔۔
آن نے اس کے پاس جا کر اپنی آنکھ میں لگے کاجل کو ایک انگلی سے نکالا اور اکبر کے کان کے پیچھے لگا دیا ۔
“یہ کیا تھا “
“آپ کو نظر نا لگے اسی لیے “
اور مجھے کس کی نظر لگے گی ؟وہ ابرو اچکا کر شرارت بھرے انداز میں بولا۔
“آن نے ایڑیوں کے بل تھوڑا اوپر اٹھ کر اس کی بئیرڈ والی تھوڑی پہ لب رکھے ۔۔۔۔
“بہت شکریہ اسے پہن کر میرا مان رکھنے کا “
“چلیں باہر ؟”
اس نے پوچھا ۔
“یہ تو تمہاری طرف سے تعریف تھی ۔۔۔اب میری باری ۔۔۔۔
“پلیز چلیں نا “وہ سٹپٹا کر بولی ۔
کیونکہ اس کی تعریفیں سہنے کی ہمت فی الوقت وہ خود میں مفقود پا رہی تھی ۔۔۔۔
اکبر کا کمرہ اوپری منزل کے بالکل کارنر پر تھا ۔۔۔جہاں سے باہر نکلتے ہی سیڑھیاں شروع ہو جاتی تھیں ۔۔۔
وہ دونوں ایک ساتھ سیڑھیاں اتر کر نیچے آرہے تھے سب لوگ اس وقت لاونج میں جمع تھے ۔۔۔۔
دونوں سیاہ کپڑوں میں ملبوس ایک ساتھ بہت مکمل دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔
شبنم گیلانی کی نظروں میں ستائش تھی انہیں ایسے دیکھ کر ۔۔۔۔
حرعین کو انہیں یوں ساتھ اترتے دیکھ آنکھوں میں مرچیں سی بھرتی ہوئی محسوس ہوئیں ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں نمی اتری۔۔۔مگر وہ آنسوؤں کو پینے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
“اکبر تم کب آئے ؟جنت گیلانی نے پوچھا ۔۔۔
“اسلام وعلیکم مام !
میں رات کو دیر سے آیا تھا ….
“آج کہیں جانے کی تیاری ہے ؟انیقہ گیلانی نے آن کو معمول سے ہٹ کر نئے کپڑوں میں دیکھ کر طنز کیا ۔۔۔۔
“نہیں چچی جان کہاں جانا ہے ۔۔۔۔یہیں مل کر ویک اینڈ گزارنے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔اس کی بجائے اکبر نے جواب دیا ۔
“آج موسم بہت اچھا ہو رہا ہے ۔۔۔”
اکبر نے دن کے وقت بھی باہر گہرے بادل چھائے دیکھے تو کہا ۔۔۔۔
“ہاں کافی اچھی ہوا چل رہی ہے شاید بارش ہو .عیسی گیلانی نے کہا ۔۔۔
“ہاں ابھی نیوز میں سنا ہے آج بارش ہو گی ۔۔موسی گیلانی نے اطلاع دی ۔
“آپ ناشتہ کریں گے ؟”آن نے پوچھا ۔
“نہیں دل نہیں “
“آپ سب نے ناشتہ کر لیا ؟اس نے سب کی طرف دیکھ کر پوچھا ۔
“ہاں بھئی ہم نے تو صبح ہی کر لیا تھا ۔۔۔ انیقہ گیلانی نے بتایا ۔
“آن فاطمہ !
اکبر کی آواز میں جودھا کے لیے آن فاطمہ کا نام سن کر سب نے اس کی طرف حیرانگی سے دیکھا ۔
“کیا ہوا آپ سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟اکبر نے کہا ۔۔۔۔
اوہ ۔۔۔۔دراصل میں نے اس کا نام تبدیل کر کہ آن فاطمہ رکھ دیا ہے ۔
اس نے تفصیل سے بتایا ۔
“آن تم ایسا کرو چائے کے ساتھ کچھ اچھا سا بنا کر لے آؤ باہر لان میں ۔”
جی اچھا “اس نے کہا اور کچن میں چلی گئی ۔
“حرعین آؤ باہر “اس نے تب سے خاموش بیٹھی حرعین کو مخاطب کیے کہا ۔۔۔
“آپ سب بھی چلیں گے ہمارے ساتھ”؟
اکبر نے پوچھا
“نہیں تم لوگ جاؤ ہم یہیں اچھے ہیں “
شبنم گیلانی نے کہا ۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ باہر آگئی اور لان میں رکھی گئی چئیر میں سے ایک پر بیٹھی ۔۔۔
اکبر اس کے سامنے والی چئیر پر بیٹھا۔۔۔۔
وہ سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے اس کے چہرے کے بدلتے ہوئے رنگ دیکھ چکا تھا ۔
“ناراض ہو “؟وہ اس کی خفگی کے خیال سے بولا۔
“ہاں تھوڑا سا “وہ نروٹھے انداز میں بولی ۔
“مگر مجھے تو زیادہ سی لگ رہی ہو !….
“وہ منہ پھلائے دوسری طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
“یار اس بار اس کے کمرے میں رکنے کی باری تھی ۔۔۔وہ وضاحت دینے لگا ۔
اسے یوں منہ پھلائے دیکھ وہ دھیرے سے بولا ۔
“میں ناراض نہیں ہوں ،،،بس ویسے ہی خاموش ہوں ،ناراض تو وہ انسان ہوتا ہے جسے منائے جانے کا مان حاصل ہو ،جو جانتا ہو کہ کوئی اسے زیادہ دیر ناراض رہنے نہیں دے گا ،جن کے پاس توجہ کا سمندر ہو۔۔۔ وہ لاڈ اٹھواتے ہیں ،منہ پھلا کر بیٹھ جاتے ہیں لڑتے جھگڑتے ہیں ،کہ انہیں کوئی نا کوئی تو منانے آئے گا ،لیکن میں جانتی ہوں کہ میں کسی کہ لیے خاص نہیں اسی لیے ناراض نہیں ہوتی بلکہ خاموش ہو گئی ہوں ،میں نے اپنا بھرم قائم رکھنے کے لیے لفظ “ناراضگی”اپنی ڈکشنری سے نکال دیاہے ۔۔۔۔شاید آپ نے میرا دل رکھنے کے لیے اپنی زندگی کے کچھ پل مجھے دان کیے تھے ۔۔۔۔۔دل کی بھڑاس نکال کر وہ لب سختی سے بھینچ گئی ۔۔۔۔
اکبر نے اس کی گود میں دھرا اس کا مومی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔
سنو جاناں !
کبھی ناراض مت ہونا،گِلے چاہے بہت کرنا۔
رُلانا اور بہت لڑنا ۔
سنو ناراض مت ہونا !
کبھی ایسا جو ہو جائے ،
کہ تیری یاد سے غافل ،
کسی لمحے جو ہو جاؤں ،
بنا دیکھے تیری صورت،
کبھی جو میں سو جاؤں ،
تو سپنوں میں چلے آنا ،
مجھے احساس دلا جانا ،
سنو ناراض مت ہونا !
کبھی ایسا جو ہو جائے ،
جنہیں کہنا ضروری ہو ،
وہ مجھ سے لفظ کھو جائیں ،
انا کو بیچ مت لانا ،
میری آواز بن جانا،
کبھی ناراض مت ہونا ،
وہ اپنے انگوٹھے سے اس کے ملائم سے ہاتھ کی پشت کو سہلاتے ہوئے اس کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔۔۔
چہرے پر الوہی چمک اور لب دلکش مسکراہٹ میں ڈھلے ہوئے تھے ۔۔۔۔
حرعین اس کی ادا پر پل بھر میں اپنی ناراضگی بھلائے مسمرائز ہوئی ۔۔۔
“آج خیر تو ہے اتنی مہربانیاں پہلے حسین شاعری پھر رومینٹک انداز اوپر سے جان لیوا مسکراہٹ !!!!!
کہیں ایک ہی بار میں میری جان نکالنے کا ارادہ تو نہیں ۔۔۔؟
وہ اپنی خفگی بھلائے کھکھلا کر بولی ۔۔۔۔
اکبر نے اپنے ہاتھ میں تھاما ہوا اس کا ہاتھ اپنے قریب کیے اس پہ نرمی سے اپنے لب رکھے ۔۔۔۔
“ناراض مت ہوا کرو ایسے ہنستی ہوئی اچھی لگتی ہو “
وہ آنچ دیتے ہوئے لہجے میں بولا ۔
وہ اپنی تعریف پہ ہولے سےمسکرا دی ۔۔۔
“یہ چائے “آن نے ٹرے میں دو کپ چائے
اور کچھ لوازمات لیے وہاں آئی اور سامنے پڑے ہوئے ٹیبل پر سجانے لگی ۔۔۔
“آجاؤ آن تم بھی بیٹھو ہمارے ساتھ “اکبر نے اسے پیشکش کی۔
“نہیں پلیز آپ انجوائے کریں مجھے ابھی باقی سب کو بھی چائے دینی ہے “
وہ حرعین کی ناراضگی مزید مول نہیں لینا چاہتی تھی کباب میں ہڈی بن کر ۔
وہ کہہ کر تیزی سے اندر چلی گئی ۔۔۔۔
حرعین کا موڈ ایک دم بدل گیا ۔۔۔
“کیا ہوا اب ؟ابھی تو ٹھیک ٹھاک تھی ۔۔۔
“نہیں کچھ نہیں “وہ سرد لہجے میں گویا ہوئی۔
“حرعین !ادھر میری طرف دیکھو “
اس کا ہاتھ ابھی بھی اکبر کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔اکبر نے اسکے ہاتھ کو دبا کر کہا ۔۔۔
“جی کہیے “اس نے سر اٹھایا۔
“تمہیں پیار دوں گا ،عزت و مان دوں گا ،اپنا وقت دوں گا ،،چاند تارے توڑ کر لانے کے جھوٹھے وعدے نہیں کر سکتا کیونکہ وہ تو سب افسانوی باتیں ہیں مجھ سے جو بن سکا، وہ سب کروں گا ، مگر کیا تم مجھ سے ایک وعدہ کر سکتی ہو “؟
حرعین نے اس کی آخری بات پہ ناسمجھی سے دیکھا ۔
“آپ بتائیں “وہ پریشان انداز میں بولی ۔
“حرعین ! میں تم سے اس بارے میں بالکل بھی زبردستی نہیں کروں گا ۔۔۔جو تمہارا دل کیا تم وہ کرنا ۔۔۔۔اس نے اپنی بات کے آغاز کے لیے تمہید باندھی ۔
“بس ایک بار میری بات پہ غور ضرور کرنا ۔”
وہ ایک پل کو رکا پھر کہنا شروع کیا ۔
“آن فاطمہ فی الحال اس گھر میں اکیلی ہے ۔اس کے والدین، بہن، بھائی کوئی بھی تو اس کے پاس نہیں شئیرنگ کے لیے ۔۔۔۔
“تمہارے پاس تو تمہارے مما ۔بابا ہیں ۔جب بھی تمہیں کوئی مسلہ ہو دکھ ،تکلیف ہو ،یا کچھ بھی چاہیے ہو تم ان کے پاس جا کر سلجھا لیتی ہو ۔
مگر اس کے پاس ایسا کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔۔میں تمہیں اس سے دوستی کرنے کے لیے مجبور نہیں کر رہا ۔
مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اس سے بات تک کرنا گوارا نہیں کرتی ۔
اس بات سے ہٹ کر سوچو کہ وہ سوتن ہے تمہاری ۔۔۔۔ایک عام لڑکی کی طرح سوچو اس کے جذبات ۔
حرعین اس کی باتیں سن کر ششدر رہ گئی۔۔۔اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا،،، تصویر کا یہ پہلو جس پہ آج اس نے توجہ دلائی تھی ۔۔۔
“مجھے امید ہے کہ تم اسے تھوڑی سپیس دو گی یا پیش قدمی کرو گی تو وہ تمہیں کبھی مایوس نہیں کرے گی “
اکبر نے نا صحانہ انداز میں کہا ۔۔۔۔
