Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 5)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

پاکستان کا ایک جنگلاتی علاقہ جہاں جنوری میں ہونے والی شدید برف باری نے اونچے نیچے راستوں ، بل کھاتی ہوئی سڑکوں ،اور سایہ دار گھنے درختوں کوبرف کی سفید چادر سے ڈھانپ رکھا تھا ۔۔۔۔۔

سردی کی شدت سے اس کا سپید چہرہ سرخ پڑ رہا تھا ۔۔۔۔اس کی گرے آنکھوں کی پتلیاں سکڑ کر پھیلیں ۔۔۔۔وہ جو کوئی بھی تھا اس نے ۔۔۔۔۔

بلیک جینز اور بلیک چست شرٹ کے ساتھ بلیک ہی لمبا اوور کوٹ پہنا ہوا، اپنے چہرے کو بلیک مفلر سے ڈھانپے ہوئے تھا۔۔۔۔صرف گرے آنکھیں ہی نمایاں تھیں ۔۔۔جن میں حد درجہ سفاکیت نمایاں تھی ۔۔۔۔

“جلدی لے چلو انہیں جنگل کی طرف”

وہ سکول وین سے سب بچوں کو نکال کر اب اپنے ساتھیوں سمیت جنگل کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اس کی درشت آواز ان کے کانوں میں سنائی دی۔۔۔

وہ سب اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بچوں کو گھسیٹتے ہوئے اب گھنے درختوں کے جھنڈ میں داخل ہوئے ۔۔۔۔۔

“اطلاع مل چکی ہوگی اب تک تو انہیں بچے اغوا ہونے کی ۔۔۔۔۔

“ہا۔ہا۔ہا ۔۔۔۔اس کی پر اسرار ہنسی کی آواز گونج کر درختوں سے ٹکرانے لگی۔۔۔۔

بچے تو بچے اس کے ساتھی بھی اس کی آواز سے سہم گئے۔۔۔۔۔

“مما کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ان میں سے ایک بچہ جو کافی ڈرا ہوا تھا ۔۔۔روتےہوئے نم آنکھوں سے بولا ۔۔۔۔

“ابے چپ بے فوجی کی اولاد ہو کہ اتنا ڈرپوک ۔۔۔۔”اس حبشی نما آدمی نے اس دس سالہ بچے کو یونیفارم کے کالر سے دبوچ کر گھمبیر آواز میں کہا ۔۔۔۔

پھر جھٹکے سے چھوڑا۔۔۔۔

وہ جو اس کے کالر دبوچنے سے آدھا ہوا میں معلق تھا ۔۔۔۔

جھٹکا کھا کر زمین پر گرا ۔۔۔۔

آدھے بچے رو رہے تھے تو آدھے سہمے ہوئے بالکل خاموش تھے ۔۔۔۔

“ان سب کے منہ اور ہاتھ پاوں باندھ دو “

اس کی کڑک، بارعب آواز سنائی دی ۔۔۔۔

تو اس کے ساتھیوں نے اس کا حکم بجا لایا ۔۔۔۔۔

وہ ہستی ہاتھ کی ایک انگلی میں ریوالور گھماتے ہوئے ادھر سے ادھر بے چینی سے چکر کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔

اس کی گرے آتش فشاں برساتی نظروں کے حصار میں بس ایک بچی ہی تھی ۔۔۔۔۔

جو اسے دیکھ تب سے سہمی ہوئی ایک کونے میں سر جھکائے تھر تھر کانپتی ہوئی دُبک کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اپنی لرزتی ہوئی پلکوں کو دھیرے سے اٹھا کر اسے دیکھتی ۔۔۔

وہ اس کے خوف کے باعث لرز رہی تھی ۔۔۔۔۔

اس ساری کاروائی میں اب دوپہر تقریبا رات میں ڈھل گئی تھی۔۔۔۔

چاروں طرف اندھیرا پھیلنے لگا ۔۔۔۔

رات کے اس چیر دینے والے سناٹے میں جہاں جنگلی جانوروں کی آوازیں گونج رہی تھیں ۔۔۔۔۔وہ بے خوفی سے اپنا کام سر انجام دے رہے تھے۔۔۔

اپنا وار وہ کر چکے تھے ۔۔۔

اب باری تھی تو فوج کی ۔۔۔

وہ کیا کریں گے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے ؟؟؟؟

” تم لوگ اچھی طرح سمجھ گئے نہ میں نے کیا کہا ؟؟؟؟؟

اس نے آخری بار اپنی بات مکمل کرکے ایک نظر اپنی ٹیم کی طرف دیکھا۔انکا پلان مکمل تھا وہ ایک بار پھر سب دوہرا رہے تھے کہ انہیں کب اور کیسے ان کو اپنے گھیرے میں لینا ہے ۔

رات کا گہرا پہر تھا وہ لوگ اس وقت شہر کے اس سُنسان جنگلاتی علاقے میں موجود تھے جہاں لوگوں کا آنا جانا شاز و نادر ہی ہوتا تھا۔چاروں طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی اور خاموشی میں کتوں کے بھوکنے کی آواز واضح سنائی دے رہی تھی جو اس خاموشی میں مزید خوفناک لگ رہی تھی

” یس سر ”

اسکی ٹیم کے باقی ساتھیوں نے اپنے آفیسرز کو یک زبان ہوکر کہا تو اُس نے صرف گردن ہلانے پر اکتفا کیا ۔۔۔۔

” بچوں کی جان بچانے کے لئے ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا۔۔۔میں تم میں سے کسی ایک کی بھی لاپروائی برداشت نہیں کرونگا از ڈیٹ کلئیر؟ “

اس نے ابرو اچکا کے چہرے پر سخت تااثرات لیے سب کو وارن کیا۔

دوپہر کو ہی انہیں بچوں کے سکول وین کے اغوا ہونے کی خبر مل چکی تھی ۔۔اسی سلسلے میں وہ اپنا لائحہ عمل تیار کیے نکل چکے تھے ۔۔۔۔

” یس سر” وہ سب یک زباں ہو کر جوش سے بولے تھے .

چٹیل میدان سے ہوتے ہوئے وہ سنگلاخ پہاڑوں سے گزرکر اب گھنے درختوں کے جھنڈ میں پہنچ چکے تھے مگر ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔۔۔۔

سردی کے باعث آگ جلا کر بیٹھنے کی غلطی ان مجرموں کو بھاری پڑنے والی تھی ۔۔۔۔جو آرمی کمانڈر کے لیے ان لوگوں کے سراغ لگانے کا باعث بنا۔۔۔۔۔

” تم لوگ الگ الگ درخت کے پیچھے چھپ جاؤ میرے ڈن کہنے پر سب ایک ساتھ اٹیک کریں گے۔ “

ٹیم کا کمانڈر اپنی ٹیم کو رعب دار آواز میں ہدایت دیتا ہوا نڈر انداز میں آگے بڑھ رہا تھا ۔۔۔ اسکا آرڈر ملتے ہی سب الگ جگہ پر چھپ گئے ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد اسکے اشارے کرنے پر فائرنگ شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ اس جگہ پر قبضہ کر چکے تھے ۔۔۔۔

آرمی کمانڈر اسکے ایک حبشی نما شخص کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ۔۔۔جبکہ باقیوں نے تمام بچوں کو بازیاب کروا لیا۔۔۔۔

مگر اس سب کاروائی کے پیچھے جس مین ہستی کا ہاتھ تھا وہ شاید بچ کر نکلنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

“آفیسر گو “ان کے سنئیر نے ان پانچوں کو اس اغوا کار کے پیچھے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔کیونکہ وہ اسے بھاگتا ہوا دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔

کچھ آرمی آفیسر بچوں کو ساتھ لیے واپس ہو لیے جبکہ ان میں سے کچھ اغوا کاروں کے لیڈر کے تعاقب میں تیز رفتاری سے نکلے ۔۔۔۔

شیفرڈ ان کے ساتھ ان کی مدد کر رہے تھے اسے ڈھونڈھنے میں ۔۔۔۔جگہ جگہ ان کی بو سونگھتے پھر رہے تھے۔۔۔۔

انہیں جھاڑیوں کے پیچھے کچھ سرسراہٹ محسوس ہوئی تو سب اسی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔۔

جبکہ اکبر مخالف سمت بھاگا ۔۔۔۔

اسے کوئی ہیولہ نظر آیا تو تیزی سے اسی طرف لپکا ۔

وہ اکیلا اس کا پیچھا کرنے لگا ۔۔۔۔

وہ کالا سایہ جو انہیں بھٹکانے کے لیے جھاڑیوں میں پتھر اٹھا کر پھینکتے ہوئے مخالف سمت بھاگا رہا تھا ۔۔۔۔۔

اپنے پیچھے کسی کو آتے دیکھا تو ایک گھنے درخت کی اوٹ میں ہوا ۔۔۔۔

اس نے کچھ دیر رک کر سانس بحال کیا جو مسلسل بھاگنے سے پھول چکا تھا ۔۔۔اس نے مڑ کر دائیں طرف سےپیچھے دیکھا ۔۔۔۔

جبکہ اکبر بائیں طرف سے اس پر قابض ہوا۔۔۔۔

اس کی بازو پکڑی تاکہ وہ فرار نہ ہوسکے ۔۔۔۔

مقابل نے پوری قوت لگائی اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی۔۔۔مگر اکبر کی مضبوط گرفت نے ایسا ہونے نا دیا ۔۔۔۔

“کون ہو تم “؟اکبر کی دھاڑ خاموشی میں گونجی ۔۔۔

ایک ہی جھٹکے سے اکبر نے اس کے چہرے کو سیاہ مفلر سے آزاد کیا۔۔۔۔

مقابل موجود شخصیت کے کالی گھٹاؤں جیسے ریشمی گیسو اس کے رُخِ روشن پہ بکھرے ۔۔۔۔۔

وہ اس اندھیری رات کا حصہ معلوم ہو رہی تھی ۔۔۔۔

وہ جھٹپٹا رہی تھی اس کی قید میں ۔۔۔۔

سر کو دائیں سے بائیں جھٹک کر بالوں کو چہرے سے ہٹانے کی تگ و دو میں تھی۔۔۔۔

اکبر نے ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈالے گرفت مزید سخت کی ۔۔۔۔

جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے سے گھنی سیاہ زلفیں ہٹائیں ۔۔۔۔

سب سے پہلے مقابل کی گرے چمکتی آنکھیں اس کی مرکز ِ نگاہ بنیں ۔۔

چاند سا روشن چہرہ کٹاؤ دار لب چہرے کے تنے ستواں نقوش ۔۔۔۔

چند فسوں خیز لمحات دونوں کے درمیان ٹہرے ۔۔۔۔

قریب ہی اپنے ساتھیوں کے قدموں کی چاپ سنائی دی تو اسے گھیرے ہوئے سب تک لایا ۔۔۔۔

اس کے کمانڈر نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے داد دی ۔۔۔

جسے اس نے تھوڑا سا سر کو خم دے کر وصول کیا ۔۔۔

مگر یہ منظر سب کی نظروں سے اوجھل رہا ۔۔۔۔

وہ سب اسے ساتھ لیے جنگل سے باہر کی طرف جا رہے تھے کہ کیپٹن ابرار نے گھڑی پر نظر ڈالی تو وہ نماز فجر کا وقت دکھا رہی تھی ۔۔۔مگر کہیں سے بھی اذان کی آواز سنائی نہیں دیے رہی تھی کیونکہ یہ گھنا جنگل شہر سے کافی دوری پر تھا ۔۔۔۔

“سر نماز کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔۔اس نے مطلع کیا ۔۔۔۔

“ہمممممم۔۔۔۔باندھو اسے درخت سے ہم نماز ادا کر لیں ۔۔۔۔

انہوں نے بارعب آواز میں کہا ۔۔۔۔

ابرار اور اکبر نے اسے درخت کے ساتھ لگا کررسیوں سے باندھ دیا ۔۔۔۔

“اکبر تم اذان دو “کمانڈر نے کہا ۔

“جی سر “

کہتے ہی پاکٹ سے رومال نکال کر سر پہ باندھا پھر اس نے اذان کے کلمات ادا کرنا شروع کیے

اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر۔

اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر۔

اشھد ان لا الہ الااللہ۔

اشھد ان لا الہ الااللہ۔

اشھد ان محمد رسول اللّٰہ۔

اسی طرح باقی کے اذان دی ۔۔۔۔

وہ اس کی پرسوز آواز میں کھو چکی تھی ۔۔۔

کتنا دلکش لب ولہجہ تھا اس کا اذان دیتے وقت اس پر رقت طاری ہوئی ۔۔۔۔

وہ ابھی تک اس کی دلسوز آواز کے سحر میں خود کو جکڑا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

اس کی امامت میں نماز ادا کی گئی۔۔۔

وہ سب دعا مانگے فارغ ہوئے ۔۔۔

اکبر اس کے پاس آیا تاکہ اسے کھول کر باقی کا راستہ طے کیا جائے ۔۔۔۔

Hey Army man …your voice is so much mesmerizing…..

وہ جو اس کے گرد بندھی ہوئی رسی کھول رہا تھا اس پر ایک سرد نگاہ ڈال کر رہ گیا ۔۔۔۔

“اے سنو “وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی ۔

“مجھے بھی مسلمان ہونا ہے “بلا اختیار اس کے منہ سے یہ الفاظ پھسلے ۔۔۔۔

وہ جھٹکا کھا کر مڑا ۔۔۔۔

مگر خاموش رہا ۔۔۔۔

“اکبر تمہیں کسی کو مسلمان کرنے کی سعادت نصیب ہو رہی ہے تو دیر مت کرو ۔۔۔۔

“سر مگر “اس نے کچھ بولنا چاہا۔۔۔۔

انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روکا اور کہا کہ ۔۔۔۔۔۔

سب سے پہلے آپ دیکھ لیں کہ وہ کافر ِ اصلی ہے یا کافر مرتد۔

کافر اصلی کا مطلب جو پہلے سے ہی کافر چلا آرہا ہو ۔

کافر مرتد کا مطلب جو پہلے مسلم تھا مگر پھر دائرہ اسلام سے باہر نکل گیا۔

اگر کافر اصلی ہو تو اسے صرف کلمہ پڑھا دیں ۔اور اس کا مفہوم سمجھا دیں وہ مسلمان ہو جائے گا۔

لیکن اگر مرتد ہو جاتا ہے مثال کے طور پر ایک مسلم اگر شرک والا مذہب اختیار کر لے تو اسے مسلمان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اسے ان عقائد باطلہ سے نفرت کا اظہار کرنا ہو گا ۔۔

یہ کہنا ہوگا کہ میں ان تمام عقائد کو باطل سمجھتا ہوں وہ غلط ہیں ۔پھر اسے کلمہ پڑھانا ہوگا ۔

پھر ہی اس کا کلمہ قبول ہوگا ورنہ نہیں ۔

یہ حکم ہے کہ جو بھی مسلمان ہونا چاہے اسے مسلمان کرنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر مت کرو ۔۔۔

“جی سر “اس نے اثبات میں سر ہلا کر کہا ۔۔۔۔

اکبر نے اس کے گلے میں لٹکتا ہوا مفلر کھول کر اس کے سر پر ڈالا ۔۔۔۔

میرے پیچھے پیچھے الفاظ دہراؤ ۔۔۔۔

اس نے تعوذ اور تسمیہ پڑھنے کے بعد اسے اول کلمہ پڑھانا شروع کیا۔۔۔

“لا الہ الااللہ محمد رسول اللّٰہ”

اس نے بھی پیچھے پیچھے الفاظ دہرائے ۔۔۔۔

پھر اکبر نے واضح الفاظ میں اسے کلمہ طیبہ کا مفہوم سمجھایا ۔۔۔۔

یہ موقع بھی خدا قسمت والوں کو دیتا ہے ۔۔۔۔

جو دل سے ہدایت مانگتا ہے خدا اسے ضرور نوازتا ہے کیونکہ اس کے بیش بہا خزانوں میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں ۔۔۔۔

وہ اسے ساتھ لیے اپنے اصل ٹھکانے پر پہنچ چکے تھے۔۔۔۔

انویسٹیگیشن روم میں وہ چئیر پر بیٹھی تھی ۔۔۔درمیان میں لکڑی کا میز تھا اور مقابل انویسٹیگیشن آفیسر ۔۔۔۔

سر کے اوپر ایک روشن بلب لٹک رہا تھا ۔۔۔۔

“کون ہو تم “؟

“Raw agent ?

یہاں آنے کا مقصد ؟؟؟

اس طرح کے کئی سوالات اس سے پوچھے جا رہے تھے ۔۔۔

جن کا وہ جواب دے رہی تھی ۔۔۔۔

مگر اس سب کو فی الوقت صیغہ ِراز میں رکھا گیا تھا ۔۔۔تب تک جب تک وہ اس کے بارے میں ساری معلومات نکلوا نہیں لیتے تھے ۔۔۔۔

“میری گڑیا “ثوبیہ اسے گلے لگاتے ہوئے پیار سے بولی اور چٹاچٹ بوسوں کی بوچھاڑ کر دی۔۔۔

اسے صحیح سلامت واپس آتے دیکھ اس کی جان میں جان آئی ۔۔۔وہی تو تھی حسن کے بعد اس کے جینے کا مقصد ۔۔۔

مگر یہ خبر سنتے ہی شبنم گیلانی کی طبیعت ایسی خراب ہوئی کہ انہیں ہسپتال لے جانا پڑا ۔۔۔۔

ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔۔وارڈ میں حادثات کے باعث زندگیاں سسک رہی تھیں۔

اکبر مشن مکمل کیے پچھلے ایک گھنٹے سے ہسپتال کے کاریڈور میں چکر کاٹ رہا تھا ۔جبکہ جنت دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے مسلسل قرآنی آیات کا ورد کر رہی تھی۔۔

“ایکسکیوزمی سسٹر۔۔۔” آئی سی یو سے باہرآتی ہوئی نرس کو اکبر نے روک کر کہا

“سس سسٹر وو وہ اندر۔۔۔۔!” اسکے آئی سی یو کی جانب اشارہ کرنے پر سسٹر نے فوراً پوچھا۔

” اس پیشنٹ کے ساتھ آپ ہیں کیا۔۔۔؟”

” جج جی۔۔۔مم میری دادی جان۔۔۔؟”

” پیشنٹ کی طبیعت اب پہلے سے بہتر ہے ۔۔۔مگر ابھی پوری طرح سے ٹھیک نہیں ۔۔۔۔آپ کو ان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا ہوگا مائینر ہارٹ اٹیک آیا تھا۔۔۔۔انہیں ہر طرح کی ٹینشن سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔سسٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں کہا ۔۔۔۔

وہ ہسپتال کے باہر کھلے میدان میں سنگی بینچ پر بیٹھا’ دونوں کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائے’ بازو پیچھے کی جانب موڑ کر ایک ہاتھ کی مٹھی پر تھوڑی ٹکائے’آسمان پہ موجود سورج کی آنکھوں میں اپنی سرخ انگارہ بنی آنکھیں گاڑھے کچھ دیر قبل رونما ہونے والے واقع کو سوچ رہا تھا۔۔۔۔

“اکبر ماں جی کو ہوش آ گیا ہے تمہیں بلا رہی ہیں ۔

جنت نے اسے آکر کہا تو وہ اپنی والدہ کی ہمراہی میں چل کر وارڈ میں آیا۔۔۔