Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 2)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
ابھی وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھا اپنی بیٹی گڑیا کے روئیے کے بارےمیں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک نظر سامنے بیٹھی اپنی شریک حیات کو دیکھا تو اس کا بھی منہ ناراضگی سے پھولا دیکھ کر جھٹ سے اس کے ذہن میں کچھ کلک ہوا۔
” اوہ شٹ ۔۔۔۔مجھے اب یاد آیا گڑیا کیوں ناراض تھی ۔۔۔۔وہ سر پر ہاتھ مار کر بولا۔۔۔۔۔
“کیوں حسن “؟شبنم گیلانی نے پوچھا ۔۔۔۔اماں بی ۔۔وہ جب مجھے ہیڈ کواٹر سے کال آئی تھی تو اس نے میری بات سن لی تھی کہ مجھے واپس جانا ہے ارجنٹلی ۔۔۔۔
آئی ایم رئیلی ویری سوری ثوبیہ ۔۔۔۔میں اپنا وعدہ نہیں نبھا پایا ایک ماہ کی چھٹیاں گھر گزارنے کا ،،،ہیڈ کواٹر سے کال آئی ہے جانا ضروری ہے ۔”
وہ پریشانی سے اپنی پیشانی کو مسلتے ہوئےکرسی سے اٹھ گیا۔
” پلیز اماں بی اب ایسے تو مت گھوریں ۔۔آپ تو اچھے سے جانتی ہیں کہ میرا جانا کتنا ضروری ہے ۔میرے ملک کو میری ضرورت ہے ۔۔۔۔”
اس نے جب اماں بی کے کڑے تیور دیکھے تو فوراً صفائی پیش کی۔
” ثوبیہ لاؤ حسن کا کھانا مجھے دو آج میں اسے اپنے ہاتھ سے کھلاؤں گی ۔۔۔جیسے بچپن میں کھلایا کرتی تھی۔۔اور بیٹھو تم ۔۔۔۔۔”شبنم گیلانی نے کھانے کی پلیٹ اپنے پاس رکھتے ہوئے ایک لقمہ حسن کے منہ میں ڈال دیا۔۔۔۔
“میری لاڈلی پوتی کو بھی تم نے ناراض کر کہ بھیج دیا ۔۔۔۔شبنم گیلانی نے شکوہ کیا۔۔۔
” آپکی پوتی میری بیٹی بھی ہے مجھے اس بات کا قلق رہے گا کہ اسے یوں ناراض چھوڑے جا رہا ہوں ۔۔۔۔
اس سے مل کر گیا تو وہ اپنے آنسوؤں سے مجھے جانے نہیں دے گی ۔۔۔۔
اگر خدا نے چاہا تو واپسی پر ضرور منا لوں گا اسے ۔۔۔۔۔۔
“ان شاءاللہ”ثوبیہ کے منہ سے بے اختیار نکلا ۔۔۔۔
اس کی بات سن کرشبنم گیلانی بھی سوچ میں پڑ گئیں ۔
” بھائی میری بھی آج کا پی- ایم۔اے(پاکستان ملٹری اکیڈمی) میں واپسی ہے۔۔۔ اگر لیٹ ہوا تو ڈانٹ پڑنے کے پورے چانسز ہیں ۔۔۔”اکبر نے حسن سے بولا۔
مجھے بھی جاتے ہوئے کالج ڈارپ کردیں ۔۔۔حرعین نے اکبر سے کہا اور ناشتہ ادھورا چھوڑ کر جلدی سے کاندھے پر بیگ ڈال کر ہاتھ میں فائل اور بکس لیے ریڈی ہوئی ۔۔۔
اکبر نے بے دلی سے اسے دیکھا ۔۔۔
جس کی آنکھوں میں کچھ الگ رنگ ہی دکھائی دے رہے تھے ۔۔۔۔
“اکبر تم حرعین کو راستے میں ڈراپ کرتے ہوئے چلے جانا مجھے ابھی پیکنگ میں ٹائم لگے گا ۔۔۔۔
حسن اپنے چھوٹے بھائی اکبر کے شانے پر ہاتھ رکھ کر شرارت سے آنکھ ونگ کیے بولا ۔۔۔۔
گھر میں سب جانتے تھے کہ اکبر اور حرعین کا بچپن سے ہی رشتہ طے کر دیا گیا تھا ۔۔۔اسی لحاظ سے حسن نے اسے چھیڑا ۔۔۔۔۔
“او تو آپ بھی بھابھی کے ساتھ اکیلے میں وقت گزارنے کے لیے پیکنگ کا بہانہ بنا رہے ہیں ۔۔۔۔اکبر نے بھی جھٹ بدلہ چکایا ۔۔۔۔
“تیرا وقت بھی دور نہیں “حسن نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
وہ دونوں گلے ملے تو اکبر سب کو مشترکہ طور پر خدا حافظ کہتا ہوا باہر نکلا ۔۔۔۔۔
“واپس کب آئیں گے ؟حرعین نے گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلا سوال کیا ۔۔۔۔
“ابھی جانے تو دو پھر واپس بھی آ ہی جانا ہے “وہ سادہ سے انداز میں بولا اور گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔
“اتنا ناراض کیوں ہو رہے ہیں ۔۔۔تھوڑا وقت ہی مانگا ہے آپ سے ۔۔۔۔جانے سے پہلے آپ کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتی تھی ۔۔۔۔اس نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔
“تمہیں ایسا کب لگا کہ میں ناراض ہوں ؟”اکبر نے چہرے کارخ اس کی موڑ کر پوچھا ۔
“آپ کے ہر انداز میں بیزاری محسوس ہوتی ہے “
“تمہارے دماغ کا خلل ہے اور کچھ نہیں “
وہ آخری جملہ ادا کر کہ خاموش ہو گیا ۔۔۔باقی کا راستہ خاموشی سے گزر گیا ۔۔۔۔۔
اس کی بات سن کر حرعین نے ایک ناقدانہ نگاہ اس کی تیاری پر ڈالی بلیک سوٹ میں اس کی سرخ و سپید رنگت کھل سی گئی تھی ماتھے پہ گرے رہنے والے بال اب نفاست سے آرمی ہئیر کٹ میں اس کی شخصیت کو اور بھی وجیہہ بنا رہے تھے۔۔ چہرے پہ تازہ شیو کی نیلاہٹیں بکھری ہوئی تھیں۔۔۔حسن بھی وجیہہ تھا مگر اکبر گیلانی۔۔۔۔ خاندان کا سب سے ہینڈسم مرد تھا۔۔۔وہ اس کی آنکھوں ہی آنکھوں میں نظر اتارنے لگی ۔۔۔۔
اکبر اسے کالج کے گیٹ کے سامنے اتارا اور پھر وہاں سے گاڑی بھگا لے گیا ۔۔۔۔۔
حرعین اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہوئے اندر داخل ہوگئی ۔۔۔۔۔
ثوبیہ نے وہی ڈریس زیب تن کیا ہوا تھا جو حسن نے اسے پچھلی بار زبردستی اپنی پسند سے لے کر دیا تھا اس کی خوشی کے لیے ثوبیہ نے آج وہی جوڑا پہن لیا تاکہ اسے سرپرائز دے سکے ۔۔۔۔
اس کے کمرے میں آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی حسن کمرے میں آیا ۔۔۔۔۔
اس کی پشت پر کھلے بال دیکھ مسکرایا ۔۔۔۔اس نے نامحسوس انداز میں اپنے بالوں کو سمیٹا مگر حسن سے اسکی حرکت پوشیدہ نہیں رہی۔۔۔ اک تفصیلی نگاہ اسکے سراپے پہ ڈالی اور ہمیشہ کی طرح اسکا دل اسکے سراپے میں اٹک کر رہ گیا۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل سے گجرے اٹھائے اسکے پاس آیا ہاتھ اٹھائے پہنانا شروع کیے ۔وہ صبح جاگنگ سے واپسی پر لایا تھا ۔۔۔انہیں پہنانے کے بعد اسکے ہاتھوں پہ لب رکھے۔۔۔۔پھر اسے خود میں بھینچا ۔
تم مجھے اتنے اچھے سے رخصت کرو گی ۔۔۔تو جا نہیں پاؤں گا ۔۔۔۔
“,تو نا جائیے نا “اس نے حسن کے گلے میں بانہوں کا ہار ڈالتے ہوئے ننھی سی فرمائش کر ڈالی ۔۔۔۔
جناب مجھے ہوش میں رہنے دیں اور خود بھی ہوش میں آئیں ۔۔۔۔
“دعا کیجیے گا ہماری کامیابی کی ۔۔۔۔
میری ساری دعائیں صرف آپ کے لیے ہی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں اسکا چہرہ لیے اس کی پیشانی پر اپنے پیار کی مہر ثبت کرتا ہوا تھوڑا دور ہوا ۔۔۔۔
“اپنا اور میری گڑیا کا خیال رکھنا ۔۔۔
اپنا تیار شدہ بیگ ایک ہاتھ میں پکڑے وہ اس کا گال پیار سے سہلا کر بولا ۔۔۔
“حسن پتہ نہیں کیوں اس بار میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔
“ثوبی پلیز ۔۔۔تم تو میری طاقت ہو ۔۔۔مجھے کمزور مت کرو ۔۔۔۔میرا فرض مجھے پکار رہا ہے ۔۔۔۔میرے وطن کو میری ضرورت ہے ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ ثوبیہ کے بہتے ہوئے آنسوؤں کی تاب نہ لا پاتا ۔۔۔وہ اسے تنہا چھوڑے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
باہر لاؤنج میں شبنم گیلانی اسی کے انتظار میں تھیں ۔۔۔۔
وہ ان کے پاس گیا اور ان کے آگے اپنا سر جھکایا۔۔۔
شبنم گیلانی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے پیار دیا ۔۔۔
اور اس کی حفاظت کے لیے چند قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے اس پر پھونک ماری ۔۔۔۔
گھر کے تمام افراد سے مل کر وہ بھی اپنے سفر پر روانہ ہوگیا۔۔۔۔۔
وہ ابھی ابھی ناشتہ کر کے کمرے میں آیا تھا اور چائے جان بوجھ کر نہیں پی معلوم تھا کہ سریتا ہی کمرے میں آئے گی چائے لے کر اب وہ اسی کا انتظار کر رہا تھا۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور پھر بند ہو گیا۔۔۔۔ارجن کی دروازے کی طرف پشت تھی اسے معلوم تھا کہ سریتا ہی آئی ہے۔
” اچھا ہوا تم خود ہی آ گئی مجھے بات کرنا تھی . . . ضروری “
وہ مڑے بغیر بولا انداز میں تھوڑا تفکر چھلک رہا تھا۔
” جی بھا! کیا بات کرنا تھی تھارے کو ؟ “
جودھا کی آواز سن کر وہ حیرانگی سے پلٹا۔
” ت . تم . ؟؟؟. تمہاری بھابھی کدھر ہے؟ “
وہ ابھی بھی حیران تھا۔
” بھابھی سا تو رسوئی میں ہیں انھیں کام تھا میں آپ کے لئے چائے لائی ہوں اگر بھابھی سا سے کوئی کام ہے تو میں بھیج دیتی ہوں انہیں ۔”
جودھا چائے کا کپ اسے تھما کر پوچھ رہی تھی۔
” آ آ . . . نہیں کوئی کام نہیں ہے بس بعد میں کر لوں گا بات ۔”
وہ پیشانی مسلتا اسے منع کر گیا۔
” ٹھیک ہے آپ چائے پی لو میں چلتی ہوں۔”
“جودھا رکو “اس نے پیچھے سے آواز دی تو وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
“جی بھا “وہ اس کی اگلی بات کی منتظر تھی۔۔۔۔
“میں نے سارے کاغذات بنوا دئیے ہیں ۔اسی ہفتے تمہاری کینیڈا کی فلائٹ ہے ۔۔۔
“سچ بھا !؟؟”وہ خوشی اور حیرانی کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے بولی ۔۔۔۔
اس کے ایک ایک انداز سے خوشی پھوٹ رہی تھی۔۔۔۔
“ہمممم۔میں چاہتا ہوں تھاری ہر خواہش پوری کروں ۔۔۔۔
“بھا آپ بہت اچھے ہو ۔۔۔۔بلکہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ اچھے ۔۔۔۔وہ اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوئی ۔۔۔۔
اچھا اچھا ۔۔۔۔۔ جا کر اپنی بھابھی سا کو بھی یہ خوشخبری سنا ۔۔۔۔
“جی بھا “کہہ کر وہ خوشی سے جھومتے ہوئے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ سورج کی تیز روشنی اور تپش سے کھلی تھی رات کو چاند کی ٹھنڈی روشنی میں چھت پہ جتنا سکون تھا اب اتنی ہی گرمی تھی۔ریگستان میں ایسا ہی موسم ہوتا رات ٹھنڈی اور دن گرم ۔۔۔۔
سریتا نجانے کب وہاں سے اٹھ کر چلی گئی تھی اسے خبر ہی نا ہوئی تھی ۔
پوری رات وہ ایسے ہی اس کی آغوش میں پر سکون سا سویا رہا تھا بنا کچھ بولے بس اسے محسوس کرتا رہا ۔۔جانے پھر کب یہ آغوش میسر آئے ۔
صبح سے وہ اس سے بات کرنے کا بہانہ تلاش کر رہا تھا۔وہ اسے جانے سے پہلے اپنی ماں سا اور راجاکی ذمہ داری سونپنا چاہتا تھا ۔۔۔کیونکہ جودھا تو کچھ دن میں یہاں سے چلے جانے والی تھی ۔۔۔۔
مگر وہ شاید یہ جان چکی تھی کہ اس کی واپسی کا وقت ہوا چاہتا ہے اس لیے اس کے سامنے آنے سے کترا رہی تھی جبھی تو چائے بھی جودھا کے ہاتھوں بھجوائی تھی۔
وہ اپنا آرمی یونیفارم پہن چکا تھا اور شرٹ پر بیجز لگاتے ہوئے اس کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ دورازے سے اندر داخل ہوئی ۔۔۔
سرخ اور سبز امتزاج کے لہنگا چولی زیب تن کیے۔۔۔لبوں کو سرخ لپسٹک سے سجائے ہاتھوں میں بھر بھر کر سرخ چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔ماتھے پر مخصوص راجستھانی بندیا لگائے ۔۔وہ اس کے دل کا چین لوٹنے کی بھرپور تیاری میں تھی ۔۔۔۔۔
ارجن چائے کا کپ ایک طرف رکھے اٹھ کر اس کے قریب آیا ۔۔۔۔
وہ نظریں جھکائے ہوئے کھڑی تھی ۔۔۔
ارجن نے اس کی تھوڑی کو اپنی پوروں سے چھو کر چہرہ اوپر اٹھایا ۔۔۔
وہ ناراضگی سے رخ پھیر گئی ۔۔۔۔
“کچھ دن اور رک جاؤ نا ۔۔۔مارا دل بہت گھبرواے ہے ۔۔۔آپ چلے جاتے ہو تو یہ تھاری دی ہوئی مارے ہاتھوں کی چوڑیاں ۔۔۔یہ مارے ماتھے کی بندیا ۔۔۔ یہ تھاری دی ہوئی سرخ لالی سب تھارے کو بہت یاد کرتے ہیں ۔۔۔
یہ گھر بھی سونا سونا سا ہوجاتا ہے ۔۔۔
وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
“اور تم “؟وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہا تھا۔۔۔
“مارا دل تو جیسے دھڑکنا ہی بھول جاتا ہے “
ارجن نے تھوڑا سا جھک کر اس کے گالوں پر باری باری اپنے لب رکھے ۔۔۔۔
وہ اس کے عمل پر شرم سے دوہری ہوئی اور گالوں پر گلال ٹوٹ کر برسا ۔۔۔۔۔
ہمیشہ ایسے ہی ہنستی مسکراتی ہوئی رہا کرو ۔۔۔میں تمہیں کبھی روتا ہوا نا دیکھوں ۔۔۔۔اس نے سریتا کو پیار بھرے انداز میں ڈپٹا ۔۔۔۔
” کمرے میں کیوں نہیں آئی صبح سے ؟ “
وہ یونہی اسے کے قریب جھک کر پوچھنے لگا۔
” وہ . . وہ . . . کام تھا . . مارے کو فرصت ہی نہیں ملی۔”
وہ لڑکھڑاتی آواز میں بولی۔
” اتنے بھی کون سے ضروری کام تھے جو فرصت ہی نہیں ملی . . . ویسے فرصت نہیں ملی یا جان بوجھ کر نہیں آئی ؟
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اپنے ساتھ کا احساس دلانے لگا ۔۔۔۔
“تھارے کو جاتے دیکھنا مارے بس میں نہیں “
وہ دیکھو گھنٹیاں “
سریتا نے کمرے کی کھڑکی میں لگے ہوئے ونگ چیم کی طرف اشارہ کر کہ کہا (جو ارجن پچھلی بار اس کے لیے شہر سے لایا تھا )۔
جب بھی تھارے آنے کا پتہ چلتا ہے نا ہوا سے بجنے لگ جاتی ہیں ۔۔۔مجھے پتہ چل جاتا ہے کہ اب میرا بیند آنے والا ہے ۔۔۔اگلی بار جلدی آو گے وعدہ کرو ۔۔۔۔۔وہ اس کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے بولی ۔۔۔۔
ارجن نے اس کی ہتھیلی پر اپنا کشادہ بھاری ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
“میں وعدہ کرتا ہوں ضرور آؤں گا ۔۔۔
اگر میرا جسم نا آ سکا تو کیا ہوا میری آتما ہمیشہ تمہارے آس پاس رہے گی ۔۔۔
دیکھنا یہ گھنٹیاں تمہیں میری موجودگی کا احساس دلاتی رہے گی ۔۔۔۔
“ایسا نا کہو جی “وہ اس کے گلے لگے زور و شور سے رونے لگی ۔۔۔۔۔
“میں تھارے بنا کچھ نہیں “
“روتے ہوئے اپنے بیند کو بھیجو گی ؟
وہ اس کی گیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔
سریتا نے جلدی سے دوپٹے کے پلو سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔۔۔۔
اور چہرے پر مسکراہٹ لائی ۔۔۔۔
“ہممممم ۔۔۔۔اب ہوئی نا بات ۔۔۔۔
میرے بعد ماں سا اور راجا کا خیال رکھنا ۔۔۔۔
وہ ہولے سے اثبات میں سر ہلا گئی۔۔۔
“آؤ ماں سا سے بھی مل لوں پھر نکلتا ہوں ۔۔۔۔
“ارجن تو جا رہا ہے ؟”شیلا دیوی نے اسے آرمی یونیفارم میں ملبوس دیکھا تو پوچھا ۔۔۔۔
“جی ماں سا جانے کا وقت آگیا ۔”
وہ ان کے پاؤں کے پاس نیچے فرش پر بیٹھا ۔۔۔۔
پہلے ہاتھ لگا کر چھوا ۔۔۔۔
شیلا دیوی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے آشرواد دیا ۔۔۔۔
ارجن نے عقیدت مندانہ انداز میں اپنی ماں کے پیروں کو چوم لیا ۔۔۔۔
شیلا دیوی جو ہر وقت غصے کا خول خود پر چڑھائے رکھتی اپنے بیٹے کو واپس جاتے ہوئے دیکھ ان کا یہ خول چٹخا ۔۔۔۔
ان کے جھریوں زدہ چہرے پر اداسی چھائی ۔۔۔۔اور آنکھیں چھلکنے لگیں۔۔۔
“ماں سا آپ بھی ۔۔۔۔۔فوجیوں کی مائیں تو بہت بہادر ہوتی ہیں “
ماں تو ماں ہوتی ہے وہ چاہے فوجی کی ہو یا کسی اور کی ۔۔۔۔۔
ماں سا اس بار میری ڈیوٹی باڈر پر لگنے والی ہے ۔۔۔۔
“بھگوان رام جی تھاری حفاظت کرے۔۔۔
“بارڈر پاکستان کا ہے ۔۔۔اس نے اطلاع دینا مناسب سمجھا ۔۔۔
وہ خاموش رہیں۔۔۔۔بس اس کے نقش کو جی بھر کر دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
“میں چلتا ہوں ماں سا “
وہ کہہ کر اٹھا اور سفری بیگ ہاتھ میں پکڑا۔۔۔
“کتنی بار کہا ہے تھارے کو ۔۔۔میں چلتا ہوں نہیں کہتے ۔۔۔
“میں جا کر آتا ہوں کہتے ہیں “شیلا دیوی نے اسے گُھرکا ۔۔۔۔
“جی ماں سا جا کر آتا ہوں ۔۔۔
وہ خوشدلی سے کہتا ہوا ہاتھ ہلا کر وہاں سے باہر نکلا۔۔۔۔
راجا سکول سے واپس آ رہا تھا کہ ارجن کو گھر کے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔
“باپو سا ” وہ وہیں سے دوڑ لگاتے ہوئے اس کے قریب پہنچا اور اس کے ساتھ لپٹ گیا ۔۔۔۔۔
“اپنی ماں سا کا خیال رکھنا “ارجن نے اسے بھی تاکید کی ۔۔۔۔
“اگلی بار آؤں گا تو تیری فرمائشی ساری چیزیں لاؤں گا ۔۔۔۔
ارجن نے اس کے سر کے سیاہ بال پیار سے ہاتھ مار کےبگاڑ کر کہا ۔۔۔
“جی باہو سا میں انتظار کروں گا ۔۔۔۔
ارجن نے مڑ کر دیکھا جہاں دروازے میں اس کی بوڑھی ماں اور دلربا بیوی اسی پہ نظریں جمائے ہوئے تھی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ خود کو سنبھال نا پاتا ۔۔۔وہ بنا رکے تیزی سے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔۔
شیفرڈ ان کے ساتھ ان کی مدد کر رہے تھے اسے ڈھونڈھنے میں ۔۔۔۔جگہ جگہ ان کی بو سونگھتے پھر رہے تھے۔۔۔۔
انہیں جھاڑیوں کے پیچھے کچھ سرسراہٹ محسوس ہوئی تو سب اسی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔۔
جبکہ اکبر مخالف سمت بھاگا ۔۔۔۔
اسے کوئی ہیولہ نظر آیا تو تیزی سے اسی طرف لپکا ۔
وہ اکیلا اس کا پیچھا کرنے لگا ۔۔۔۔
وہ کالا سایہ جو انہیں بھٹکانے کے لیے جھاڑیوں میں پتھر اٹھا کر پھینکتے ہوئے مخالف سمت بھاگا رہا تھا ۔۔۔۔۔
اپنے پیچھے کسی کو آتے دیکھا تو ایک گھنے درخت کی اوٹ میں ہوا ۔۔۔۔
اس نے کچھ دیر رک کر سانس بحال کیا جو مسلسل بھاگنے سے پھول چکا تھا ۔۔۔اس نے مڑ کر دائیں طرف سےپیچھے دیکھا ۔۔۔۔
جبکہ اکبر بائیں طرف سے اس پر قابض ہوا۔۔۔۔
اس کی بازو پکڑی تاکہ وہ فرار نہ ہوسکے ۔۔۔۔
مقابل نے پوری قوت لگائی اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی۔۔۔مگر اکبر کی مضبوط گرفت نے ایسا ہونے نا دیا ۔۔۔۔
“کون ہو تم “؟اکبر کی دھاڑ خاموشی میں گونجی ۔۔۔
ایک ہی جھٹکے سے اکبر نے اس کے چہرے کو سیاہ مفلر سے آزاد کیا۔۔۔۔
مقابل موجود شخصیت کے کالی گھٹاؤں جیسے ریشمی گیسو اس کے رُخِ روشن پہ بکھرے ۔۔۔۔۔
وہ اس اندھیری رات کا حصہ معلوم ہو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ جھٹپٹا رہی تھی اس کی قید میں ۔۔۔۔
سر کو دائیں سے بائیں جھٹک کر بالوں کو چہرے سے ہٹانے کی تگ و دو میں تھی۔۔۔۔
اکبر نے ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈالے گرفت مزید سخت کی ۔۔۔۔
جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے سے گھنی سیاہ زلفیں ہٹائیں ۔۔۔۔
سب سے پہلے مقابل کی گرے چمکتی آنکھیں اس کی مرکز ِ نگاہ بنیں ۔۔
چاند سا روشن چہرہ کٹاؤ دار لب چہرے کے تنے ستواں نقوش ۔۔۔۔
چند فسوں خیز لمحات دونوں کے درمیان ٹہرے ۔۔۔۔
جنہیں ایک سرد ہوا کے جھونکے نے توڑا ۔۔۔۔
وہ اس حسن کی ملکہ سے زرا بھی متاثر ہوا دکھائی نہ دیا ۔۔۔۔
دائیں ہاتھ کے گرفت سے اس کی صراحی دار گردن کو دبوچا ۔۔۔۔۔
چاہتی کیا ہو تم ؟
کیوں کیا یہ سب ؟؟؟
اکبر اس کی آنکھوں میں اپنی آگ اُگلتی سرخ آنکھیں گاڑھ کر بولا ۔۔۔
“چھوڑو مجھے ،،،ورنہ تمہاری جان لے لوں گی ۔۔۔۔”
وہ کسی شیرنی کی طرح ایک ہاتھ چھڑوا کر اس کا کالر پکڑے غرائی۔۔۔۔
اکبر نے ایک فورا اس کا ہاتھ زور سے جھٹکا۔۔۔۔
اور چہرے پر سرد تاثر لیے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
اس کے گلے میں “اوم” والا لاکٹ دیکھ وہ پل بھر میں سارا ماجرا سمجھ گیا ۔۔۔۔
“یقیناً یہ حرکت بھارت کی ۔۔۔ہمارے ملک میں دہشت گردی کروانا تو ان کا پرانا شیوہ ہے ۔۔۔۔
مگر تف ہے ان پر بھیجا بھی تو کسے ۔۔۔۔وہ استہزائیہ انداز میں ہنسا ۔۔۔۔۔
ایک چوہیا کو ۔۔۔۔پاکستانی شیروں کا مقابلہ کرنے ۔۔۔۔ابھی تو چلو تمہیں زرا انویسٹیگیشن روم کی سیر کرواتے ہیں ۔۔۔وہاں سے رہائی ملے یا نہ ملے ۔۔۔
دوبارہ کوئی بھی گھٹیا حرکت کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا تمہیں زندہ درگور کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاوں گا “
اکبر کے انداز میں اتنی سرد مہری تھی کہ ایک پل میں اس کے اعصاب جھنجھنا اٹھے۔۔۔۔۔
