Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 22)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

سلطان آفندی جب گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہونے لگا اسی وقت عیسی اور موسی گیلانی آفس کی بلڈنگ سے باہر نکل رہے تھے ۔۔۔

“کیا ہوا سر ؟؟؟سب خیریت تو ہے ؟سلطان نے ان دونوں کو تیز رفتاری سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ پریشان ہوکر پوچھا ۔۔۔

“وہ قرت العین کی طبیعت ٹھیک نہیں اسے ہاسپٹل لے کر گئے ہیں بس وہیں جا رہے ہیں ۔”عیسی گیلانی نے جواب دیا ۔

“کیا میں بھی آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں ؟اس نے جھجھکتے ہوئے مدعا بیان کیا ۔۔۔۔

“ہاں ٹھیک ہے آجاؤ تم بھی “موسی گیلانی نے کہا تو وہ ان دونوں کے ساتھ ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوگئے ۔۔۔۔

قرت العین اس وقت آئی سی یو میں تھی جہاں ڈاکٹر اسے اٹینڈ کر رہے تھے اور ابھی تک ان کی خیریت کی کوئی خبر نہیں آئی تھی۔۔۔۔ ایک گھنٹہ ہوگیا تھا تھا ڈاکٹرز کو اندر گئے ہوئے، مگر اس کی کنڈیشن سٹیبل ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔

دوگھنٹے بعد ڈاکٹرز باہر آئے تھے۔۔۔۔

ڈاکٹر میری بچی کیسی ہے ؟؟ وہ ٹھیک ہے نا ؟؟؟ اکبر نے بے تابی سے ڈاکٹر کے پاس جا کر پوچھا ۔۔

نہیں پیشنٹ کی کنڈیشن کچھ ٹھیک نہیں ہے نہ ہی ان کی کنڈیشن سٹیبل ہونے میں آرہی ہے ہم نے پوری کوشش کی مگر۔۔۔۔۔

“مگر کیا ڈاکٹر ؟؟؟؟یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں “؟اکبر کے لہجے میں تڑپ تھی ۔۔۔۔

“بچی نے کوئی مینٹل اسٹریس لی ہے جس کی وجہ سے اس کی یہ کنڈیشن ہوئی ہے۔۔۔۔مگر اب وہ پہلے سے بہتر ہیں آپ مل سکتے ہیں ان سے مگر پلیز ان سے زیادہ بات مت کرئیے گا ۔۔۔۔

ڈاکٹر کی پوری بات سن کر اکبر نے سکون کا سانس لیا۔۔۔۔۔

“بابا میں آپی سے ملوں گی پہلے “

عائشہ جو ابھی کچھ دیر پہلے ڈرائیور کے ساتھ دوسری گاڑی میں حرعین اور آن کے ساتھ آئی تھی جھٹ بولی ۔۔۔

“ٹھیک ہے جاؤ مل لو ۔۔۔۔۔

“علی تم جا کر فارمیسی سے یہ دوائیاں لے آؤ ۔۔۔اکبر نے اسے ڈاکٹر کی دی ہوئی پریسکرپشن پکڑائی ۔۔۔

“جی ابھی لے آتا ہوں “

اکبر ،عیسی اور موسی گیلانی کو قرت العین کی طبیعت کے بارے میں آگاہ کرنے لگا ۔۔۔۔۔

“سر اگر آپ کی اجازت ہو تو میں قرت العین سے ملنا چاہتا ہوں “سلطان آفندی نے سیدھا اکبر سے اجازت طلب کی۔۔۔۔

اکبر نے اپنے بابا موسی گیلانی کی طرف دیکھا تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔

“ٹھیک ہے مل لو “اکبر نے سپاٹ انداز میں کہا ۔۔۔۔۔

اندر داخل ہو کے اس کی نظر سامنے ہسپتال کے بستر پہ لیٹے اپنے جان سے پیاری بہن قرت العین پہ پڑی اور وہ روتے ہوئے اس سے لپٹ گئی۔۔۔۔

اچانک اس کے وجود میں حرکت سی ہوئی اور اس نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولنی شروع کیں ۔۔۔۔عائشہ نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اس کی آنکھیں نم تھیں ۔۔۔۔

رو کیوں رہی ہو دیکھو بلکل ٹھیک ہوں میں ۔۔۔۔

قرت العین نے دھیرے سے آنکھیں کھول لیں ۔۔۔۔اور روتی ہوئی عائشہ کو دیکھ کے اس کے گال پر ہاتھ رکھا ۔۔۔عائشہ نے سر اُٹھا کے اس کے چہرے کو چھوا ۔۔۔۔۔

“عاشو میں ٹھیک ہوں “, قرت العین نے اسے تسلی دینی چاہی۔۔۔

میں بہت ڈر گئی تھی، اگر تمہیں کُچھ ہو جاتا تو میں اکیلی رہ جاتی کیوں ستاتی ہو مجھے کیوں پریشان کرتی ہو ۔؟؟؟میرے بارے میں ایک بار بھی نہیں سوچا ۔۔۔کہ آپ کے پیچھے میرا کیا حال ہوتا ؟؟؟؟

پلیز جلدی سے ٹھیک ہو جاو نا۔۔۔

پہلے کی طرح جیسے مجھے ڈانٹ کر اٹھاتی تھی ۔۔۔مجھے سدھارتی ہوئی ہی اچھی لگتی ہو ۔۔۔۔”وہ نمناک آنکھوں سے بولی ۔۔۔۔

“اتنی جلدی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑنے والی “اس نے زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجائے ہوئے کہا تاکہ عائشہ اس کی وجہ سے پریشان نا ہو ۔۔۔۔

“میں بھی تمیارا پیچھا نہیں چھوڑنے والی ۔۔۔۔جہاں تم جاؤ گی میں بھی تمہارے پیچھے پیچھے وہیں چلی آؤں گی ۔۔۔۔

“فضول باتیں مت کرو “قرت العین نے اسے گُھرکا ۔۔۔

“فضول باتیں میں کرتی ہوں یا تم ؟؟؟

“خبردار جو آئندہ مجھ سے کوئی بھی بات چھپائی ۔۔۔۔۔

“کیا میں اندر آ سکتا ہوں “؟

دروازے کے باہر دستک ہوئی تو شناسا آواز سن کر عائشہ اور قرت العین نے دونوں نے بیک وقت پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔

جس وارڈ میں قرت العین کو حال ہی میں منتقل کیا گیا تھا سلطان آفندی اس دروازے کے بیچ و بیچ ایستادہ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔

“قرت العین میں ابھی آتی ہوں ۔۔۔عائشہ نے وہاں سے جانے کا سوچا ۔۔۔

“ن۔۔۔نہیں ۔۔۔عاشو ت۔۔۔تم یہیں رہو میرے پاس ۔۔۔۔قرت العین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جانے سے روکا ۔۔۔۔

“قرت العین بچی مت بنو دولہا بھائی تم سے اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہوں گے میں خواہ مخواہ کباب میں ہڈی کیوں بنوں ؟؟؟

“ن۔نہیں ۔۔۔پلیز اس نے منت بھرے انداز میں کہا۔

قرت ۔۔۔۔!!!!!

عائشہ نے اسے گھورا ۔۔۔۔

اور باہر نکل گئی ۔۔۔۔

سلطان آفندی کو سامنے دیکھ قرت العین نے نظریں پھیریں ۔۔۔۔

وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے بیڈ کے قریب آیا ۔۔۔

“کیسی ہیں ؟”اس کی گھمبیر آواز نے خاموشی کو توڑا۔۔۔

مگر جواب ندارد……

“خفا ہیں ابھی تک ؟؟؟؟

اس نے ایک اور سوال پوچھا ۔۔۔قرت العین نے زور سے آنکھیں میچ لیں ۔۔۔۔

سلطان قریب رکھے ہوئے وزیٹر بینچ پر بیٹھا ۔۔۔۔

اور اس کے دوپٹے کے سرے کو پکڑا ۔۔۔

قرت العین نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اس کا دوپٹہ اس کے ہاتھ میں موجود تھا ۔۔۔اس نے نظریں اٹھا کر سلطان کو دیکھا تو ساکت رہ گئی۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں تو کوئی اور پی جہاں آباد تھا ۔۔۔۔ اس کی رومانوی نظروں کی تپش سہارنا دوبھر لگا ۔۔۔وہ دھڑکتے ہوئے دل سے نظریں چرا گئی ۔۔۔۔

“جو بات دل میں ہو اسے زباں تک لانے میں کیسی عار ؟؟؟؟؟

سلطان آواز میں موجود بوجھل پن محسوس کیے اس کے دل نے تیزی پکڑی۔۔۔۔

“کس چیز کی سٹریس لی تھی آپ نے ؟؟؟سلطان نے سادہ سے الفاظ میں پوچھا ۔۔۔

قرت العین نے اس کے سوال پر شکوہ

کناں نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔

“اوہ کہیں آپ کو یہ تو نہیں لگا کہ میں آپ سے ابھی تک غصہ ہوں ؟؟؟

یا ناراض ہوں ؟؟؟

اور آپ سے یہ سب بدلہ لینے کے لیے کر رہا ہوں ؟؟؟؟

“آپ کو کیسے پتہ چلا “؟وہ اتنی دیر میں پہلی بار بولی ۔۔۔

سلطان ہولے سے مسکرایا ۔۔۔اس کی بات پر ۔۔۔

“یعنی کہ میرا اندازہ بالکل ٹھیک تھا ۔۔۔آپ میرے آنے والے روئیے کو لے کر پریشان تھیں ۔۔۔۔

“یہی بات ہے نا “؟

اس نے کنفرم کرنا چاہا۔۔۔

قرت العین نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

“ویسے آپ کو پریشان ہونا بھی چاہیے بدلہ تو میں لوں گا آپ سے مگر اپنے سٹائل میں ۔۔۔۔

قرت العین نے حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔

“آپکی یہ بڑی بڑی آنکھیں جب حیرت سے اور بھی پھیل جاتیں ہیں سچ میں اور بھی حسین لگتی ہیں “وہ توصیفی نگاہیں اسکی آنکھوں پہ جمائے بول رہا تھا ۔۔۔۔

قرت العین نے اس کی ڈائیریکٹ تعریف کرنے پر سٹپٹا کر ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔۔

“گھبرائیں مت کوئی نہیں آنے والا ۔۔۔میں سب کی اجازت سے ہی آپ سے ملنے آیا ہوں “

“ویسے ہم کہاں پر تھے “؟

“اوہ ۔۔۔۔یاد آیابدلہ ۔۔۔۔اس نے کنپٹی پر انگلی رکھ کر سوچنے کے انداز میں کہا۔۔۔۔

“بدلہ تو میں بھولنے والا نہیں مگر اسے لینے کے لیے پہلے ہم آپ کو اپنا پابند کرلیں پھر لیں گے ۔”وہ ذومعنی انداز میں بولا۔۔۔۔

“آپ تو پہلے دن سے ہی ہمیں پسند کرنے لگی تھیں چھپ چھپ کر ۔۔۔

قرت العین اس کی بات پر حیرت زدہ رہ گئی ۔۔۔۔

سلطان اس کی فاختائیں اڑتی ہوئی دیکھ کر حذ اٹھا رہا تھا۔۔۔۔

“آ۔۔۔آ۔۔۔۔آپ کیسے ؟؟؟؟وہ بشکل لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں بولی ۔۔۔

سلطان نے کوٹ کے اندر ہاتھ ڈال کر اسی کی ڈائری اس کے آگے لہرائی ۔۔۔

“یہ۔۔۔یہ آپ کے پاس کیسے ۔۔۔۔؟

“بس بائے لک یہ میرے پاس آگئی اور ہم پر آپ کے اندر چھپے ہوئے رازوں کا انکشاف ہوا ۔۔۔۔

خفت کے باعث قرت العین کا چہرہ سرخی مائل ہوا۔۔۔۔۔

وہ تھوڑا سا اس کے کان کے قریب جھکا اور سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔۔

“”””دل چاہتا ہے تجھے سانس بنا کر “””””رکھ لوں ایسے اپنے سینے میں “””””

“””””تم رک جاؤ تو میں نہیں “””””””

“”””””میں رک جاؤں تو تم نہیں “”””””

اس کی خمار آلود آواز قرت العین کی جان نکالنے کو کافی تھا ۔۔۔۔

اس کی پلکیں بار ِ حیا سے لرزنے لگیں ۔۔۔۔۔

سلطان اس دلفریب منظر سے نگاہیں نا ہٹا سکا ۔۔۔۔۔

و وہ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان کی اس قدر قربت پر اس سے تو بولا بھی نہیں جا رہا تھا ۔۔۔ پہلی بار تو وہ اس کے اتنا قریب آیا تھا فطری شرم اور گھبراہٹ سے وہ ہکلا کے رہ گئی۔

“کیا کہنا چاہتی ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟ اس کی سانسوں کی تپش قرت العین کو اپنے چہرے پہ پڑتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔ اسے لگ رہا تھا اس کا چہرہ جھلس جائے گا۔۔

” نن نہیں …م۔۔مم۔۔میں نے ن۔۔نہیں کی کوئی بھی ۔۔ بات ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اٹک اٹک کر بولنے لگی ۔۔۔۔

“چلیں باقی کا اظہار محبت اب ہم مضبوط بندھن جڑ جانے کے بعد عملاً کر کہ دکھائیں گے “””

وہ ۔۔۔۔۔ وہ اس کی صاف گوئی والے رومینس پہ سٹپٹا سی گئی۔۔۔شرم کے باعث اس کا چہرہ لال ٹماٹر سا ہو گیا

ہاں تم کیا ؟؟؟؟ وہ پھر سے سوالیہ ہوا

۔ وہ بے اختیار ہی اس کا ہاتھ میں ابھی تک پکڑا ہوا پلو عقیدت سے چوم گیا ۔۔۔۔۔ ابھی اسی تک محدود ہیں جب سارے جملہ حقوق اپنے نام کرلیں گے تب آگے کا سفر طے ہو گا “وہ آنکھوں میں شوریدہ جذبات لیے اسے اپنے دلی جذبات سے آگاہ کرگیا ۔۔۔۔

ایک دم ساکت سی رہ گئی اس کی یوں عزت دینے پر اور پھر محبت کا اظہار اتنے خوبصورت انداز میں دیکھ کر ۔۔۔۔۔

“بس ایک بات یاد رکھنا آپ صرف میری ہو صرف سلطان آفندی کی ۔۔۔۔

“کسی اور کو نا آپ کو دیکھنے کی اجازت ہے نا چھونے کی ۔۔۔۔۔۔

“صرف ایک بار مجھے بھی اپنے پیار کا مان بخش دو کہہ دو کہ قرت العین صرف سلطان آفندی کی ہے “

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مان بھرے انداز میں بولا۔۔۔۔

“اس بات کے جواب کے لیے آپ کو انتظار کرنا ہوگا “

وہ شرماتے ہوئے چہرے کا رخ پھیر گئی ۔۔۔۔

“آہ۔۔۔۔۔وہ آہ بھر کر رہ گیا ۔۔۔

“چلیں کرلیں ظلم کرنے کرنے اپنے ہزبینڈ ٹو بی پر ۔۔۔۔ہمارا دور بھی آئے گا ۔۔۔اور مجھے امید ہے وہ دن بھی زیادہ دور نہیں ۔۔۔۔

دونوں طرف سے کھلے انداز میں اظہار محبت نہیں ہوا تھا مگر دونوں کے دل ایک ہی لے پہ دھڑک رہے تھے۔۔۔۔

“اپنا خیال رکھنا میرے لیے کیونکہ تم صرف میری ہو ،اگر زرا سی بھی کوتاہی کی تو بہت برا پیش آؤں گا “وہ پیار بھری دھونس جما رہا تھا۔۔۔اوع قرت العین کو اس کی پیار بھری دھونس بہت بھلی لگ رہی تھی ۔۔۔

“اللّٰہ حافظ “کہہ کر وہ وہاں سے جا چکا تھا مگر اپنا سحر چھوڑے ۔۔۔۔

قرت العین نے فورا اپنے دل پہ ہاتھ رکھا جس کی دھڑکن معمول سے تیز تھی۔۔۔۔

وہ ابھی سارے گزرنے والے پلوں کو سوچتے ہوئے شرما گئی اور منہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔۔

وہ خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کرنے لگی ۔۔۔سچ میں ایسا ہوا ہے کیا ؟؟؟؟وہ خود سے مخاطب تھی ۔۔۔۔میں اکیلی اس راہ کی مسافر نہیں تھی۔۔۔وہ ۔۔۔وہ بھی مجھے چاہتا ہے ۔۔۔۔ میری پسند یکطرفہ نہیں تھی۔۔۔

بہت بہت شکریہ اللّٰہ تعالیٰ جی آپ کا ۔۔۔آپ نے بن مانگے مجھے وہ عطا کردیا جس کی چاہت کو میں نے خود سے بھی چھپا رکھا تھا ۔۔۔۔وہ دعائیہ انداز میں ہاتھ اٹھا کر جذب سے بولی ۔۔۔

“کیسی ہے میری پرنسس “اکبر نے سلطان کے باہر جاتے ہی اندر آکر قرت العین سے پوچھا ۔۔۔

“میں ٹھیک ہوں “

“سوری بابا میری وجہ سے آپ کو پریشانی اٹھانی پڑی ۔۔۔

“پریشان تو میں ہوں ۔۔۔۔اپنی پرنسس کو لے کر ۔۔۔کیا بات پریشان کر رہی ہے آپکو مجھے نہیں بتائیں گی ؟

“کوئی بات نہیں بابا ۔۔۔بس ویسے ہی پیپرز کو لے کر ٹینشن تھی میں آفس کے ساتھ سٹڈیز کو مینج نہیں کر پارہی تھی شاید اسی وجہ سے “اسنے بہانہ گھڑا ۔۔۔انہیں تسلی دینے کے لیے۔۔۔۔

“چلیں آج سے آپ کا آفس جانا بند صرف سٹڈیز پر توجہ دیں “

“مگر بابا “اس نے کچھ کہنا چاہا مگر خاموش ہوئی ۔۔۔

“آپ اس رشتے کو لے کر راضی ہیں یا نہیں ؟دیکھو قرت العین مجھے صاف صاف بتانا ۔۔۔مجھے بالکل بھی برا نہیں لگے گا ۔۔۔۔اگر تمہیں زرا سا بھی اعتراض ہے تو میں ابھی انکار کردوں گا ۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔نہیں بابا ایسی کوئی بات نہیں مجھے آپ کا کیا ہوا ہر فیصلہ قبول ہے ۔۔۔آپ میرے لیے اچھا ہی کریں ۔۔جیسے آپ کو اپنی بیٹی پر ہے ویسے ہی ۔مجھے بھی اپنے بابا پر اعتماد ہے ۔۔۔۔وہ اکبر کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تسلی آمیز انداز میں بولی ۔۔۔۔

“تم نے میرے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتار دیا ۔۔۔اب میں خود کو بہت پرسکون محسوس کر رہا ہوں ۔۔مجھے لگ رہا تھا کہیں میں انجانے میں اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی نا کر جاؤں ۔۔۔۔

“نہیں بابا آپ کبھی بھی کسی کے بھی ساتھ زیادتی نہیں کر سکتے ۔۔۔مجھے مان ہے اپنے پیارے بابا پر ۔۔۔

I love you so much my handsome baba…..

وہ مسکرا کر بولی۔۔۔۔

Baba loves you too…..

اکبر نے بھی جوابا کہا۔۔۔۔۔

حرعین اور آن فاطمہ بھی وہاں آئیں اور اسے پیار کرتے ہوئے اس کی خیریت دریافت کی۔۔۔۔۔

شام تک ڈاکٹر نے اسے ڈسچارج کردیا تو سب اسے ساتھ لیے واپس آئے ۔۔۔۔

” علی مجھ سے آکر لائیبریری میں ملو “

اکبر علی کو کہتے ہوئے خود لائیبریری کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔

سب لاونج میں موجود تھے اور شادی کی تیاریوں کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے ۔۔۔کہ اکبر ان سب کے درمیان میں سے علی کو کہتے ہوئے خود اٹھ کر چلا گیا۔

“جی ڈیڈ “وہ اکبر کے پیچھے پیچھے لائیبریری میں داخل ہوا۔۔۔۔

“دروازہ بند کردو “اکبر نے سپاٹ انداز میں کہا ۔۔۔

علی نے اس کے کہنے پر ویسا ہی کیا۔

“یہ سب کیا تھا ؟”

“کیا ڈیڈ ؟”

“تم جانتے ہو میں کس بارے میں پوچھ رہا ہوں “؟

“ڈیڈ میں نے آپ کو کال پر سب بتا تو دیا تھا کہ میں نے آرزو کی چین میں ڈیوائس لگا دی تھی میں اس ڈیوائس سے ساری باتیں سن رہا تھا ۔۔۔

“مگر کچھ باتیں جو وہ لوگ میسجز پر کرتے تھے اس سے نابلد تھا۔۔۔۔

آپ کے کہنے پر میں نے یہ سب کیا۔۔۔کیونکہ آپ ایسا چاہتے تھے ۔۔۔۔

“آرزو میرے اکلوتے مرحوم بھائی کی نشانی ہے ۔حسن بھائی اس سے بہت پیار کرتے تھے ان کے جانے کے بعد آرزو کے دیکھ ریکھ میری ذمہ داری ہے ۔میں نہیں چاہتا کہ اس پر کوئی بھی آنچ آئے ۔۔۔میں اسے مزید تعلیم حاصل کرنے سے منع تو نہیں کر سکتا مگر اس کی حفاظت تو کرسکتا ہوں نا “

“ڈیڈ یہاں پاکستان کے ادارے کیا کم ہیں کسی سے ؟؟؟؟

“مجھے تو آج تک یہ سمجھ نہیں آئی لوگ اپنے ملک کو چھوڑ کر دیار غیر میں کیوں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں ۔؟جس ملک نے انہیں اپنا نام دیا۔

اسے ہی چھوڑ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔

آخر ایسے کون سے لعل لگ جاتے ہیں آکسفورڈ کی ڈگری حاصل کرنے پر ؟؟؟

“علی زیادہ غصہ مت کیا کرو ،،،جانتا ہوں جوان خون جوش مارتا ہے مگر وہ میری بیٹی کی طرح ہے ،میں اس کی ہر خواہش پوری کرنا چاہتا ہوں “

“تو پھر اس کی شادی ہو لینے دیتے اس سدھانت اگروال سے ۔۔۔۔کیوں کہا مجھے کہ روک دو اسے جا کر ؟”

“دل تو کر رہا تھا کی آپ کی اس بے وقوف بچی کو ایک تھپڑ کی بجائے اتنے تھپڑ مارتا ناکہ اس کا منہ ٹوٹ کر گر جاتا۔۔۔مگر آپ نے مجھے اس سے بھی عین وقت پر روک دیا۔۔۔

اچھا ہوتا اس وقت میں کان سے وہ ڈیوائس اتار دیتا جس سے آپ رابطے میں تھے ۔۔۔۔

“علی !!!! میں اس کے بارے میں کوئی بھی بات نہیں سنوں گا ۔۔۔ابھی بچی ہے وہ نادان ہے آہستہ آہستہ سمجھ جائے گی ۔۔۔۔۔

اکبر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔۔

حرعین اور آن فاطمہ جو باہر بیٹھیں ہوئی تھیں اکبر کو یوں اچانک علی کو علیحدگی میں لے جاتے ہوئے دیکھ حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں ۔۔۔

“انہیں کیا ہوا “؟

حرعین نے آن فاطمہ سے اشارے میں پوچھا ۔۔۔

“پتہ نہیں “اسنے شانے اچکا کر کہا ۔۔۔۔

“چلو پھر “حرعین آن کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے چل پڑی ۔۔۔۔

وہ دونوں لائیبریری کے دروازے سے کان لگائے ہوئے کھڑی اندر ہونے والی گفتگوکی سُن گُن لے رہی تھیں۔۔۔۔

“علی میں تم سے اگر کچھ مانگوں تو انکار تو نہیں کرو گے “اکبر نے علی کا رخ اپنی جانب موڑتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“ڈیڈ آپ کو مانگنے کی کیا ضرورت آپ حکم کریں بس “

وہ اکبر کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے بولا ۔۔۔

“علی میں چاہتا ہوں میرے بھائی کی نشانی ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہے ۔۔۔۔

“تو ڈیڈ میں اس میں بھلا آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ؟”وہ حیران کن نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔

“تم آرزو سے شادی کر لو اس طرح وہ ہمیشہ میری نظروں کے سامنے ہمارے ساتھ رہے گی ۔۔۔۔

“ڈیڈ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں “وہ بدک کر پیچھے ہوئے جیسے اسے اکبر کی بات سن کر کرنٹ لگا ہو ۔

“She is not my type dad.

“اور وہ مجھ سے کتنی بڑی ہے “

“علی بیٹا لگتی تو نہیں نا تم سے بڑی “

“مگر ڈیڈ وہ چشمش چوہیا ہی رہ گئی تھی پوری دنیا میں میرے لیے ؟؟؟

“ہزاروں لڑکیاں مجھ پہ اپنے دل ہارے وارے بیٹھی ہیں اُن کا کیا ؟؟؟؟

اس نے ایک اور توجیہہ پیش کی ۔۔۔

“ان ہزاروں کو بھیجو بھاڑ میں جو میں کہہ رہا ہوں اس پر توجہ دو “

“ڈیڈ یہ سراسر نا انصافی ہے میرے ساتھ میرے اپنے بھی کچھ خواب ہیں اپنے ہمسفر کو لے کر جن پر وہ چشمش کسی بھی طور پوری نہیں اترتی “

“آخر میری ساری زندگی کا سوال ہے میں اتنا بڑا کمپرومائز نہیں کر سکتا ۔۔۔۔

“اور سب سے اہم بات میں شراکت داری بالکل بھی پسند نہیں کرتا۔۔۔

میں کیسے کسی ایسی لڑکی سے رشتہ جوڑ لوں جو پہلے ہی اپنے دلی جذبات کسی اور کے نام کر چکی ہے ۔۔۔

No …..No…..dad….

مجھ سے ایسی توقع مت رکھیے گا ۔۔۔

پلیز میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا “

حرعین اور آن فاطمہ جو کب سے باہر کھڑی ان کی گفتگو سن رہی تھیں ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ دونوں ایک ساتھ دروازہ کھول کر اندر آئیں ۔۔۔۔

“تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو “؟

اکبر کی جاندار غراہٹ نے ان کے چھکے چھڑا دیئے۔۔۔۔

وہ دونوں سہمے ہوئے اپنی جگہ پر کھڑی ہوئی۔۔۔وہ تو علی کے حق میں بولنے آئیں تھیں مگر یہاں تو ان کے اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔۔۔۔

“وہ علی ٹھیک کہہ رہا ہے اس کی ساری زندگی کا سوال ہے آپ میرے بیٹے کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔۔۔میں بھی علی کی بات سے متفق ہوں ۔”

حرعین نے بالآخر ہمت کیے کہہ ہی دیا۔

“اگر علی آرزو سے شادی نہیں کرنا چاہتا تو آپ کو اس پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے ۔۔۔آخر کب تک چلے گا یہ زبردستی کا جوڑا گیا بندھن ؟؟؟زور زبردستی سے جوڑے گئے رشتے کبھی کامیاب نہیں ہوتے “آن فاطمہ نے بھی بات میں اپنا حصہ ڈالا۔

“پہلی بات تو یہ کہ تم دونوں سے کسی نے رائے نہیں مانگی ۔۔۔دوسری بات یہ میرے اور میرے بیٹے کی آپسی بات ہے ۔میں نہیں چاہتا ہمارے بیچ تم دونوں بولو ۔۔۔۔

“ہاں علی میں تم سے آخری بار جاننا چاہتا ہوں تمہارا کیا فیصلہ ہے ؟؟؟؟

علی نے حرعین اور آن فاطمہ کی طرف دیکھا دونوں نفی میں سر ہلا رہی تھیں کہ وہ انکار کردے اگر وہ ایسا نہیں چاہتا تو ۔۔۔۔

“علی یہ یاد رکھنا تمہارے باپ نے پہلی بار تم سے کچھ مانگا ہے “اکبر نے اسے یاد دلایا۔۔۔۔

“ڈیڈ آپ مجھے ایموشنل بلیک میل کر رہے ہیں اب ۔۔۔”

“اُف خدایا کیا کروں میں “؟

وہ اپنی پیشانی پر بکھرے سلکی بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر بولا ۔۔۔۔

“ڈیڈ میں نکاح کرنے کو تیار ہوں مگر میری کچھ شرائط ہیں آپکی لاڈلی کو انہیں شرائط پر چلنا ہوگا ۔۔۔اگر تو وہ میری بات مانے گی تو ٹھیک ہے ورنہ یہ بات یہیں ختم “بالآخر اس نے اکبر کی جزباتی باتوں میں آکر اس کے حق میں فیصلہ دے ہی دیا۔

“Hey young man…

تم نے تو دل خوش کردیا اپنے ڈیڈ کا “

اکبر نے فرط مسرت سے لبریز انداز میں اسے اپنے گلے سے لگایا ۔۔۔۔

“مگر ڈیڈ میری شرائط تو سن لیں”

“ابے یار مجھے کیوں سنانے لگے شرطیں تم میں دم ہوگا تو خود پوری کروا لینا شرطیں جو بھی ہوں “

اکبر نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔

“تم دونوں کیا منہ اٹھا کر کھڑی ہو آکر اپنے بیٹے کو مبارکباد دو اس کا رشتہ طے ہوگیا ہے “اکبر نے ساکت کھڑی ہوئی آن اور حرعین کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

“مبارک ہو علی “آن نے دھیمے سے کہا ۔

“ہاں مبارک ہو “حرعین نے بھی پھیکے سے انداز میں کہا ۔۔۔۔

“ڈیڈ سنبھالیں اپنی دونوں شریک حیات کو ۔۔لگتاہے دونوں کو ناراض کردیا آپ نے چلیں اب شروع ہوجائیں معافیوں تلافیوں پر ۔۔میں تو چلا “وہ مسکرا کر شرارت سے کہتے ہوئے وہاں سے نکلا۔۔۔

علی باہر نکلا تو آن اور حرعین بھی اکبر سے بنا بات کیے باہر نکلنے لگیں ۔۔۔

“تم دونوں کدھر جا رہی ہو ؟؟؟اکبر کی درشت آواز سن کر وہ دونوں کو ناراضگی دکھائے باہر جا رہی تھیں واپس پلٹیں۔۔۔۔

“وہ م۔۔۔میں باہر سب کو اس رشتے کے بارے میں بتانے جا رہی تھی آن نے ہکلا کر کہا ۔۔۔۔اور اپنی جان چھڑوانی چاہی ۔۔۔۔

“میں نے سوچا قرت العین کے ساتھ اب علی کی شادی کی بھی تیاری شروع کر دوں “حرعین بھی اکبر کے غصے سے خائف ہوتے ڈرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

“چلو یہ بھی ٹھیک ہے جاؤ پھر دونوں اپنے اپنے کام پر لگو وہی جو ابھی مجھے بتائے ہیں انہیں پر ۔۔۔۔

“جی “وہ کہہ کر وہاں سے باہر نکلیں ۔۔۔

اکبر ان دونوں کی پُھرتی دیکھ مسکرایا ۔۔۔

“اگر میں یہاں زرا بھی ڈھیلا پڑتا تو دونوں نے مجھے خوب سنانی تھیں “وہ دل ہی دل میں خود کی ہمت کو داد دئیے بنا نہ رہ سکا ۔۔۔۔

وہ دنیا جہاں بھلائےاکیلی لان کی سیڑھیوں میں بیٹھی موبائل پر کینڈی کرش ساگا کھیل رہی تھی۔۔۔اچانک کسی نے اس کے ہاتھ سے موبائل ُاچک لیا ۔۔۔۔

“دوبارہ فون میں نے تمہارے ہاتھوں میں دیکھا نا تو قسم ہے خدا کی تمہارے ان ہاتھوں کو آگ نا لگا دی تو کہنا “وہ اس کے سر پر چڑھ کر دھاڑا۔۔۔۔

آرزو اس کی بات سن کر غصے میں آنے کی بجائے خود کو پشیمانی کی دلدل میں دھنستا ہوا محسوس کرنے لگی ۔۔۔۔

وہ جان چکی تھی کہ علی اس کی اور سدھانت اگروال کی فونک گفتگو کو لے کر خائف ہے۔

علی نے غصے میں آکر فون زور سے لان کی راہداری پر دے مارا جو ماربل سے بنی تھی ۔۔۔۔

فون ٹوٹ کر دو حصوں میں منقسم ہوا سکرین بھی بری طرح متاثر ہوئی تھی ۔۔۔۔

آرزو نے اپنے اتنے مہنگے ایپل فون کی ایسی حالت دیکھی تو چپ نا رہ سکی ۔۔۔اسے بھی اپنا خاندانی غصہ عود کر آیا۔۔۔۔

“تم ہوتے کون ہو میرا فون توڑنے والے “؟وہ اس کا کالر پکڑے زخمی ناگن کی طرح پھنکاری ۔۔۔۔

“بہت جلد پتہ چل جائے گا ۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھ سے اپنا کالر آزاد کرواتے ہوئے دانت پیس کر بولا

اور ایک نظر اس کے ٹوٹے ہوئے فون پر ڈالنے کے بعد تمسخرانہ انداز سے اسے دیکھتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔