Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 3)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

“کیا کہہ رہے ہو ؟”ارجن کو اپنے جونئیر کی بات پر یقین نہیں آیا۔۔۔

“اوپر سے آرڈر آیاہے “

اس نے ارجن اگروال کو تفصیلًا معلومات بہم پہنچائیں ۔۔۔۔

“یہ دیکھو سریندر پرکاش نے اسے ٹوئٹر کھول کر دکھایا ۔۔۔۔جہاں ٹویٹ واضح دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔

“بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ٹویٹ کیا: ’ہم پاکستان کو ایف 16 طیارے فروخت کیے جانے کے سلسلے میں اوباما انتظامیہ کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیے جانے سے مایوس ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا ’بھارت امریکہ کے اس خیال سے اتفاق نہیں رکھتا ہے کہ ان طیاروں کی فروخت سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملےگی ۔۔۔۔

بھارت پاکستان کو ایف سولہ طیارے ملنے کی وجہ سے سخت برہم ہوا۔۔۔

اور اسی کا بدلہ چکانے کے لیے اس نے

پاکستان کے بارڈر پر فائرنگ کرنے کا حکم دیا۔۔۔۔۔

“سر لفٹیننٹ حسن گیلانی جی۔ایچ۔کیو ں سے رپورٹ کررہے ہیں۔”

جنید آفندی نے کرنل سعید علی کو ریسور تمھاتے ہوۓ مخصوص فوجی لہجہ اپنایا جبکہ کرنل سعید احمد دوسری طرف سے دی جانے والی رپورٹ کو بغور سننے لگے جہاں سے انٹیلجنس ادارے کی طرف سے جی۔ایچ۔کیو میں موجود لفٹیننٹ حسن گیلانی کو دہشگردی کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا جو حکام اعلیٰ کو اس خطرے سے آگاہ کر رہے تھے ۔

کرنل سعید احمد نے ریسور کریڈل پہ رکھا اور پُرسوچ انداز میں آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگے۔

انکے اور انکی ٹیم کے پاس وقت کم تھا جبکہ چیلنج بڑا لیکن انکو اپنی ٹیم پہ پورا بھروسہ تھا کے وہ دشمن کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے اپنی ٹیم اس کے بارے میں آگاہ کیا ۔۔۔۔۔

‘سر اس جنگ مجھے شہادت کے عظیم ترین رتبے سے سرفراز ہونا ہے ۔۔۔۔

شہادت بہت بڑا مقام ہے جو قسمت والوں کو ملتا ہے اور وہی خوش قسمت اسے پاتے ہیں، جن کے مقدر میں ہمیشہ کی کامیابی لکھی ہوتی ہے۔۔۔۔

کراس بارڈر فائرنگ کے واقعات میں دونوں ملکوں کی افواج اور سرحدی محافظوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا۔ اس کے علاوہ سب سے زیادہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع علاقے اور ان کے مکین متاثر ہو رہے تھے۔

ارشادِباری تعالیٰ ہے:’’اورجولوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں، انہیں مُردہ مت کہو (وہ مردہ نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں(ان کی زندگی کا) شعور نہیں ہے‘‘۔(سورۃ البقرہ)

اسی طرح ایک اورمقام پرارشادہوا:’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، تم انہیں مردہ مت خیال کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی دیاجاتا ہے‘‘۔(سورہ آل عمران)

دونوں طرف سے گولہ باری ہو رہی تھی ۔چاروں طرف سے فائرنگ اور بمباری کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔پاکستانی فوجی جوان دشمن کو پسپا کرنے کے لیے کوشاں تھے ،،اندھیرے میں بھی پاکستان کڑیل جوان وطن کی حفاظت کے وعدے کو وفا کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے ۔۔۔

’’ سورۃ النساء ‘‘ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے شہدائے کرام کوان لوگوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جن پراللہ تعالیٰ نے اپناخاص فضل وکرم اورانعام واکرام فرمایا اور انہیں صراطِ مستقیم اور سیدھے راستے کامعیاروکسوٹی قرار دیا ہے۔

اندھا دھند فائرنگ کے دوران دونوں جانب کے سیکڑوں شہریوں کی جانیں گئیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے اور املاک کا بھی نقصان ہوا۔بارڈر کے قریبی لوگوں نے بھی شدید قسم کے جانی نقصان کا سامنا کیا ۔۔۔۔

پاکستان کی جوابی کاروائی جو صف اول میں کھڑے ہوئے لیفٹیننٹ حسن گیلانی نے کی تھی ۔۔۔۔

اپنے کمانڈر کے آرڈر پر وہ ہاتھوں میں کلاشنکوف تھامے دشمن کے مدمقابل آیا۔۔۔ بھارت کی طرف سے اپنی ڈیوٹی نبھاتے ہوئے بھارتی فوجی ارجن اگروال کو اپنے پیٹ میں ایک چیرتی ہوئی گولی لگی ۔۔۔اسے ایسا لگا جیسے کسی نے گرم سلاخ اس کے پیٹ میں گھسا دی ہو ۔۔۔۔ابھی وہ اسی سے نبرد آزما تھا کہ دوسری تیز رفتار سنسناتی گولی اس کا سینہ چیر کر اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے موت کی نیند سلا گئی ۔۔۔۔۔

اسے لگا کہ اب وہ کبھی بھی اپنی ماں کا اپنی بیوی اور بیٹے کا چہرہ دوبارہ نہیں دیکھ پائے گا ۔۔۔۔وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرا۔۔۔۔آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں۔۔۔۔سارے چہرے دھندھلانے لگے۔۔۔آپس میں گڈ مڈ ہونے لگے ۔۔۔۔۔بس زندگی نے اتنی ہی مہلت دی ۔۔۔۔اور چند لمحوں میں اس کا وجود اور آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو گئیں ۔۔۔۔۔

بارود سے بوجھل ساری فضا تھی ۔۔۔

بھارت نے جب اپنے فوجی کو مرتے ہوئے دیکھا تو پھر سے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔۔۔۔۔

پاکستانی فوج کے سپاہیوں نے بھی جام شہادت نوش کیا۔۔۔۔

ارشادِخداوندی ہے:’’جوکوئی اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺکی(ایمان اورصدقِ دل کے ساتھ) اطاعت کرتاہے،پس وہ(روزِقیامت)ان لوگوں کے ساتھ ہوگا، جن پراللہ تعالیٰ نے (اپناخاص ) انعام فرمایا ہے، جوکہ انبیاءؑ، صدیقین، شہداء اورصالحین ہیں اور یہ کتنے بہترین ساتھی ہیں‘‘۔(سورۃ النساء)

حضرت انس بن مالکؓ رسول اﷲ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا:جو شخص بھی جنت میں داخل ہو تا ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور اسے دنیاکی ہر چیز دے دی جائے، مگر شہید (اس کا معاملہ یہ ہے)کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ لوٹ جائے اور دس مرتبہ قتل کیا جائے۔ (راہِ خدا میں باربار شہید کیا جائے) (صحیح بخاری)

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شہید کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں سات انعامات ہیں ( 1) خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے۔ ( 2) اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔ (3) عذاب قبر سے اسے بچا دیا جاتا ہے۔ (4) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے اسے امن دے دیا جاتا ہے۔ (5) اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ (6 ) بہتّر حور عین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔ ( 7) اور اپنے اقارب میں ستّر آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ ( مسند احمد )

لفیٹننٹ حسن گیلانی اور محمد مبشر کو ہیڈ کواٹر میں رپورٹ کرنی تھی انہوں نے بھرپور جانفشانی سے یہ مشن مکمل کیا ۔۔ انکی پلاننگ بہت اچھی تھی۔۔۔اسی لیے وہ سرخرو ہوئے۔۔۔

کرنل سعید احمد نے حسن گیلانی اور اسکی ٹیم پر اک طائرانہ نگاہ ڈالی اپنی بات کا آغاز کرنے سے پہلے۔۔۔

تو ینگ مین آپ آپریشن ایل ۔سی ۔او میں کامیاب ہوۓ۔۔۔ مطلب ہم اب کسی بھی بڑے سانحے کیلئے تیار رہیں کرنل کی آواز سے جھلکتا مدبرانہ پن انکی اندرونی حالت کو بیان کرہا تھا انہیں اپنے انتخاب پہ اب بھی یقین تھا کہ حسن گیلانی سے بڑھ کے کوئی آپریشن ایل ۔سی ۔او مکمل نہ کر پاتا شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور حسن گیلانی نے انکے یقین کی لاج رکھی بھی۔۔۔

۔۔۔۔

پاکستانی خفیہ ایجنسی نے بھارت کی جانب سے بھیج گئے کچھ جاسوس کی ملک کی موجودگی کی اطلاع دی تھی اور ساتھ یہ بھی خبر دی گئی تھی کہ انکا اگلا ٹارگٹ آرمڈ فوردسسز کے حساس ادارے ہیں جنکی پشت پناہی ملکی مقامی باشندے کر رہے ہیں اور کچھ سیاست دان بھی فوج سے کینہ پروری میں ملک سے غداری کرہے تھے۔۔۔

اس کی جلد واپسی پر سارے گھر میں خوشی کے باعث شادی ِ مرگ کا سماں تھا ۔۔۔۔

ہر طرف ہنسی کھلکھاہٹیں ،چہل پہل اور مشن میں کامیابی پر مبارکباد کی آوازیں گونج رہی تھیں۔۔۔۔۔

“بب بابا بابا۔” وہ اچانک ہی خوشی سے چیخی تو ثوبیہ بوکھلا کر اپنے پیچھے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

“بابا میرے بابا۔” گڑیا چہکتی ہوئی اُس کے گلے میں بانہیں ڈالے اُس سے لِپٹ گئی۔۔۔۔

“میری گڑیا ۔۔۔۔اب اپنے بابا سے ناراض تو نہیں ؟؟؟۔” باری نے اُسے دیکھ کر پیار بھرے انداز میں بولا۔۔۔ مگر وہ اور بھی زیادہ زور سے اُس کے گلے میں بانہیں ڈالے اُس سے چِپک گئی۔۔۔۔

اُس نے بھی اپنی گڑیا کے گِرد اپنے بازو حائل کرتے اُسے خود میں بھینچ لیا۔ گڑیا کی آنکھیں بے ساختہ نم ہوئی تو وہ حیران رہ گیا۔

“میرے بابا آگئے۔۔ اب مجھے چھوڑ کر مت جانا ورنہ میں آپ سے بہت زیادہ ناراض ہو جاؤں گی ” اُس نے حسن کی گردن میں منہ چُھپایا تو وہاں موجود ہر فرد کو یہ نظارہ دیکھ کر اپنی آنکھوں میں نمی محسوس ہوئی۔۔۔ اُس نے گڑیاکو خود سے الگ کر کے اپنے سامنے کیا تو اُس کے گالوں پہ آنسو بہہ رہے تھے۔ اُس نے گڑیا کو اُٹھایا اور صوفہ پہ لے آیا۔۔ اُسے اپنے ساتھ بٹھا کہ اُس کے ہاتھ تھامے اور غور سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگا۔ سُرخ و سپید رنگت، گہری بھوری بڑی بڑی خم دار پلکوں والی آنکھیں، جو بالکُل حسن کی آنکھوں جیسی تھیں، ستواں کھڑی تیکھی ناک،، بھرے بھرے پھولے ہوئے گال، ایک گال پہ پڑتا گہرا سا ڈِمپل، اور معصوم سے نین نقوش، وہ اُسے دیکھ کر بولا ۔۔۔

“میری گڑیا تو بہت بہادر ہے اپنے بابا جیسی ۔۔۔اب میں تمہیں روتا ہوا نا دیکھوں ۔۔۔۔۔

“I promise baba .

۔” اُس نے زور زور سے سر ہلاتے اُس کی بئیرڈ کو چھوا اور اپنے دونوں ہاتھ اُس کی تھوڑی پہ ٹِکا لیے۔۔۔

“اچھا تو یہ بتاؤ میری گڑیا کیا کھائے گی ؟؟؟

“برگر اور پیزا بھی اور ساتھ میں فرائز اور کوک بھی کھانے ہیں۔” وہ ایک ہاتھ پہ گِن گِن کر بتانے لگی۔۔۔ تو وہ بے ساختہ مُسکرایا۔

“اوکے ابھی سب کُچھ آ جائے گا۔” اُس نے گڑیا کا گال تھپتھپاکر فون پر ہوم ڈیلیوری کا آرڈر دیا۔۔۔۔۔

تیز ہوا کا جھونکا کھڑکی میں لگے ونگ چیم کو ہلا گیا ۔۔۔وہ چونکی۔۔۔۔

درپن (شیشے )کے سامنے کھڑی ہاتھوں میں بھر بھر کر سہاگ کا سرخ چوڑا اپنی سونی کلائیوں میں بھرا ۔۔۔

ہوا میں اس کے آنے کا اس کی سانسوں کی مہک پھیلی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔

سرخ لپسٹک سے ہونٹ سجائے ۔۔۔اپنی سہاگ کے استقبال کے لیے خود کو تیار کرتے ہوئے وہ اس کے جلد سے جلد واپس آنے کی تیاری میں تھی ۔۔۔۔

کہ کچھ دیر بعد ہی گھر کے سامنے فوجیوں کی گاڑی رکی ۔۔۔

شیلا دیوی،سریتا اور راجا تینوں بھاگ کر باہر نکلے ۔۔۔۔۔

مگر یہ کیا ارجن کی بجائے کچھ اور لوگ تھے جنہوں نے گاڑی میں سے ایک تابوت برآمد کیا ۔۔۔۔۔

اور فوجی انداز میں عزت سے وہ تابوت ان کے سامنے رکھا ۔۔۔۔۔

انہیں کچھ انہونی کا شائبہ ہوا ۔۔۔تو اپنی دھڑکنیں رکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔۔۔۔۔

ان تینوں نے ایک دوسرے کو حیران کن نظروں سے دیکھا ۔۔۔۔

جو بھی انہیں سمجھ آ رہا تھا کاش ویسا کچھ نا ہو ۔۔۔۔

وہ تینوں اپنی جگہ سہم چکے تھے ۔۔۔۔

جب کچھ دیر بعد ایک آرمی آفیسر نے انہیں ارجن اگروال کی موت کے بارے میں بتایا ۔۔۔۔اور اس کی بہادری پر اسے جلد ہی “ویر چکر “اپنا تیسرا فوجی اعزاز نوازنے کا بتایا ۔۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سارا گاؤں اکھٹا ہوگیا ۔۔۔۔

ایک عورت جس نے ساڑھی کا پلو منہ میں دبا رکھا تھا۔۔۔آگے بڑھی اور یک ٹک کھڑی سریتا کے دونوں چوڑیوں سے بھرے ہوئے ہاتھوں کو دیوار کے ساتھ مار کر اس کی چوڑیاں توڑ دیں ۔۔۔۔۔وہ حق دق رہ گئی۔۔۔۔۔

گورے گال آنسو سے بھرے دل دو ٹکڑوں میں بٹتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔

راجا تو تابوت کھولے اس کے زخمی وجود سے لپٹا ۔۔۔۔۔

جنگ تو چند روز ہوتی ہے۔مگر جن کا اپنا ان سے دور ہو جائے ،، زندگی بھر کا رونا ان کا مقدر بن جاتا ہے ۔۔۔۔

شیلا دیوی تو اپنے جواں سال بیٹے کو یوں دیکھ اپنے حواس کھو بیٹھیں۔۔۔۔

اور دیوار کے ساتھ لگے گھسٹتی ہوئی فرش پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔۔

آنکھیں خالی اور بنجر ہوئیں ۔۔۔۔

جیسے جینے کی وجہ ہی ختم ہوگئی ۔۔۔

کیا ساری عمر کا رونا میرا مقدر بن گیا ؟؟؟؟

اپنے باپو سا کو ایسے دیکھ راجا کے چہرے کے ساتھ دل بھی پتھر ہوا

“کب تک یہ سرحدیں اپنی نفرتوں میں ہم ماؤں کے پیٹوں کو نگلتی رہیں گی؟؟؟؟؟

کب تک ؟؟؟؟شیلا دیوی کی آواز میں اتنا کرب تھا کہ شاید ان کا اپنا دل بھی نا سہہ پایا اور مزید دھڑکنے سے انکار کرگیا ۔۔۔۔

“ماں تو ماں ہے وہ چاہے ایک پاکستانی فوجی کی یا ہندو فوجی کی ۔۔۔۔ایک ماں کہاں برداشت کر پاتی ہے اپنے اپنے بیٹے کی موت کا دکھ ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد شمشان گھاٹ میں راجا اپنے باپو سا اور شیلا دیوی دونوں کی چتا کو اگنی دے کر ہٹا تھا ۔۔۔۔

آگ کے جلتے ہوئے شعلوں کی روشنی اس کی آنکھوں کو بھی جھلسائے دے رہی تھی ۔۔۔۔اس وقت ایسا لگا کہ اس کی آنکھوں سے بھی آگ کے شعلے نکل رہے ہیں ۔۔۔۔۔