Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 4)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
“اکبر ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر براجمان تھا۔بظاہر لاونج میں ٹی وی کی آواز گونج رہی تھی لیکن اسکا سارا دھیان موبائل کی طرف تھا۔
” اسلام وعلیکم اکبر جی آج کل کہاں غائب ہوتے ہیں۔ ؟” حرعین لاؤنج میں داخل ہوئی اور بے تکلفی سے صوفے پر اسکے ساتھ جُڑ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
اس سے پہلے اکبر اسکی اس بے ہودہ حرکت پر سخت رد عمل ظاہر کرتا اسکی نگاہ لاؤنج کے داخلی دروازے سے اندر آتی ثوبیہ بھابھی اور حسن پر پڑیں۔ وہ دونوں اپنے دھیان میں مسکراتے ہوئے آ رہے تھے۔جب نظر ہال میں صوفے پر بیٹھے نفوس پر پڑی تو مسکرا کر رہ گئے ۔۔۔۔
حرعین ، اکبر کے ساتھ چپک کر بیٹھی اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ہوا تھا۔
“بھائی آئیں بیٹھیں نا “اکبر نے فورا سے بیشتر اپنے ہاتھ پر دھرا حرعین کا ہاتھ بے دردی سے جھٹکا۔
“نہیں تم لوگ انجوائے کرو ہم زرا آرام کریں گے ۔۔۔۔حسن نے کہا اور ثوبیہ کے ساتھ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
مس حرعین ۔۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ۔۔۔اور اب آخری بار کہہ رہا ہوں ۔۔اپنے کان اچھے سے کھول کر سن لو ۔مجھے ایسی بے تکلفی نہیں پسند۔آئیندہ فاصلے پر رہ کر بات کرنا ۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ ” اکبر نے سرد نگاہ اسپر ڈالی اور اسے وارن کرتا تن فن کرتا گھر سے ہی نکل گیا۔
” تم کیوں بھول گئے ہو کہ ہمارا ر شتہ بچپن سے طے ہے۔اب جلد ہی امی کو کہہ کر تایا جان سے ہماری جلدی شادی کرنے کا کہنا پڑے گا۔” حرعین غصے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔
وقت پر لگا کر اُڑتا ہوا جا رہا تھا ۔
“گزرتا ہوا ہر دن زندگی کی کتاب سے کسی بوسیدہ ورق کی طرح پھٹتا جا رہا ہے ہر گزرتا لمحہ زندگی سے دور اور موت کے قریب لے جا رہا ہے اور نادان انسان کی خوش فہمی کہ وہ اپنی حیات میں آگے بڑھ رہا ہے۔۔مگر ان دونوں کا وقت تو جیسے اسی جگہ تھم چکا تھا ۔۔۔۔ارجن کے چلے جانے کے بعد اپنے رسم ورواج کے مطابق اس نے سفید ساڑھی پہن رکھی تھی ۔۔۔۔
غم کی تصویر بنی وہ سارا دن یونہی ارجن کی تصویر سے باتیں کرتی رہتی ۔۔۔۔اور خالی گھر میں بولائی بولائی پھرتی۔۔۔۔
شام کا وقت تھا۔ڈوبتے ہوئے سورج کی نارنجی شعاعیں زمین پر بکھرتی ہوئی ماحول کو خوبناک سا بنا رہی تھیں۔ سریتاکو ہمیشہ سے ڈوبتے ہوئے سورج کا یہ دلکش منظر دیکھنا بہت پسند تھا۔وہ اور ارجن جب گھر ہوتا تو ملکر اسے دیکھتے ۔۔۔۔اسے کیا پتہ یہ ڈوبتا ہوا سورج اس کی زندگی کو بھی ایسے کی ڈبو دے گا
۔۔۔اب بھی وہ چھت ہر موجود اس دلفریب نظارے کو اپنی نم آنکھوں میں جذب کر رہی تھی۔۔اور ساتھ ساتھ چھت پر رکھے پنجرے میں قید رنگ برنگے طوطوں کو دانے کھلانے اور ان سے باتوں میں مشغول تھی۔اسے آس پاس کا کوئی ہوش نا تھا ۔۔۔۔
“ابو آپ نے یاد کیا۔۔۔؟” اکبر کمرے میں آیا تو اس کے والد کے ساتھ والدہ بھی موجود تھیں۔اور ساتھ میں شبنم گیلانی بھی ۔۔۔
اس نے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ کر بیڈ پر بیٹھے ابو کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“جی برخودار آگے کیا سوچا ہے؟
“ابو فی الحال تو فرسٹ سٹیپ لیا ہے فوج میں وہیں ڈیوٹی پر واپسی کا ہی پلین ہے اور کیا ہوگا بھلا ۔۔۔” اسنے صوفے کی بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے ریلکس انداز میں کہا۔
” میں نے اس لیے بُلایا تھا کہ تمہارے اور حسن کے جانے سے پہلے میں تمہارا اور حرعین کا نکاح کردوں ۔”
“واٹ۔۔۔؟ ابو یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔؟” ابو کی بات پر وہ بجلی کی سی سرعت سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“کیا مطلب کیا کہہ رہا ہوں۔۔؟ تم دونوں کا رشتہ بچپن سے طے ہے۔۔۔یہ بات اچھے سے جانتے ہو تم اب نکاح کا فریضہ سر انجام دے دینا چاہیے۔”
“لیکن میرا ابھی ایسا کوئی پلان نہیں ابو پلیز مجھے فورس مت کیجئے گا۔
اکبر تڑخ کر بولتا ہوا وہاں سے جانے لگا جب عیسی گیلانی کی گرجدار آواز نے اسکے قدموں میں بیڑیاں ڈالے اسے رکنے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔
“تو کب کا پلان ہے ؟ کچھ روشنی ڈالنا پسند کرو گے۔۔؟ میں نے بہت ڈھیل دے رکھی ہے تمہیں۔اور بہت ہی ناجائز فائدہ اٹھا چکے ہو تم میری نرمی کا ۔لیکن اب مزید نہیں۔۔ میں تمہیں تمہاری من مانی نہیں کرنے دوں گا۔حرعین ہی اس گھر کی بہو بنے گی اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔۔؟”
“اکبر بیٹا بات سنو۔۔۔۔
اس کی والدہ نے پیچھے سے پکارا مگر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
اکبر اور حسن دونوں ہی اپنی اپنی ڈیوٹی پر واپس جا چکے تھے ۔۔۔۔
گھر کے تمام افراد شام کو ٹی۔وی لاونج میں اکٹھا ہوئے نیوز چینل دیکھ رہے تھے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی گفتگو کر رہے تھے ۔۔۔۔
کہ اچانک ٹی۔وی پر چلنے والی نیوز نے ان سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔۔۔۔۔
پاک فوج کی گاڑی لسوا میں حادثے کا شکار ہوئی۔۔۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوران تعینات پاک فوج کی کوئیک رسپانس فورس (کیو آر ایف) ٹیم کی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید اور سول ڈرائیور سمیت دیگر 4 جوان زخمی ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک آرمی کی کیو آر ایف ٹیم آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات 2021 میں امن امان قائم کرنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔۔۔۔
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاک فوج 25 جولائی کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دے گی، پاک فوج کی تعیناتی کوئیک ری ایکشن فورس کے تحت 22 سے 26 جولائی تک کے لیے ہوگی۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ زخمی اہلکاروں کو ضروری طبی امداد کے لیے قریبی میڈیکل سینٹر منتقل کردیا گیاتھا۔۔۔
خیال رہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں امن امان برقرار رکھنے کے لیے آزاد کشمیر پولیس اور دیگر صوبوں سے سول، آرمڈ فورسز اور فوج کے مجموعی طور پر تقریباً 43 ہزار 500 اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن نے پاک فوج کو سیکیورٹی انتظامات کے لیے طلب کیا گیا تھا ۔۔۔
“ام۔۔۔۔امی یہاں پر تو ح۔حس۔۔۔حسن کی ڈیوٹی لگی تھی ۔۔۔۔ثوبیہ کے منہ سے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ برآمد ہوئے۔۔۔۔
اور وہ کیا وہاں موجود ہر فرد بھونچکا رہ گیا۔۔۔۔
عیسی گیلانی نے فورا ہیڈ کوارٹر فون ملا کر اس واقع کی تصدیق کرنا چاہی ۔۔۔۔
اور آگے سے جو خبر انہیں سننے کو ملی ان سب کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ۔۔۔۔ایسے لگا کہ ساتوں آسمان ان کے سر پر ٹوٹ پڑے ہوں ۔۔۔۔
ثوبیہ تو یوں منجمد ہوئی جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔۔۔
ہر شخص اس دلدوز واقعہ پر زار زار رونے لگا ۔۔۔۔۔
وقت کا کام ہے گزرنا سو وہ اپنی مخصوص رفتار سے گزرتا رہا ۔۔۔۔مگر یہ وقت کا سمندر اپنے ساتھ ساتھ کئی زندگیاں بہا کر لے گیا ۔۔۔۔
آج حسن کو گزرے کئی ماہ بیت چکے تھے ۔۔۔۔
ثوبیہ عدت کے دن گزار کر اپنی والدہ کے گھر جا چکی تھی ۔۔۔۔
شبنم گیلانی کا دل گڑیا سے ملنے کو مچلنے لگا ۔۔۔اس میں انہیں اپنے بیٹے حسن کی پرچھائی نظر آتی ۔۔۔ثوبیہ ایسا گئی کہ واپس نہیں آئی۔۔۔
اس لیے آج وہ خود اس سے ملنے اس کے میکے چلی آئیں۔۔۔۔
اسلام وعلیکم !
انہوں نے اندر داخل ہوتے ہی کہا ۔
وعلیکم السلام امی !کیسی ہیں آپ ؟
میں ٹھیک ہوں ۔۔ امی کہتی تو ہو مگر مانتی نہیں تم مجھے ۔۔۔۔وہ شکوہ کناں انداز میں بولیں ۔
“ایسا کیوں کہہ رہی ہیں آپ ؟ایسا مت سوچیے میں آپ کو بالکل اپنی مما کی طرح ہی مانتی ہوں ۔”
“ٹھیک ہے پھر میری ایک بات کا مان رکھو ۔۔۔وہ بولیں ۔
“کونسی بات امی ؟”
“پہلے وعدہ کرو انکار نہیں کرو گی ۔۔۔
“امی ایسی کونسی بات ہے ؟؟؟آپ بتائیے مجھے ۔۔۔پلیز مجھے پریشانی ہو رہی ہے اب “
“میں چاہتی ہوں تم دوبارہ سے ہمارے پاس آجاؤ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے “اور گڑیا بھی ۔۔۔۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟؟بنا رشتے کہ میں وہاں کیسے ؟؟؟لوگ ہزاروں باتیں بنائیں گے ۔۔۔۔ثوبیہ نے جھنجھلا کر کہا۔
“کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔۔میں چاہتی ہوں اکبر سے ۔۔۔۔۔
“بس امی یہیں رک جائیے “وہ تڑخ کر بولی اس بار ۔۔۔سارا ادب و لحاظ بھلائے ۔۔۔۔
“آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے ؟”
وہ میرے لیے چھوٹے بھائیوں جیسا ہے ۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس کا چہرہ اہانت کے احساس سے سرخی مائل ہو رہا تھا ۔۔۔۔
“اس کی اور حرعین کی نسبت بچپن سے طے ہے ۔۔۔۔
سب سے آخری اور اہم بات میں حسن کے بعد کسی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔میں دوسری شادی کرنے کی بجائے شہید کی بیوہ بننا زیادہ پسند کروں گی ۔۔۔۔
وہ اٹل انداز میں بولی ۔۔۔۔
آج صبح ہی گڑیا اپنے سکول کے ٹرپ پر گئی تھی ۔۔۔۔ نیوز میں پتہ چلا کہ کسی دہشت گردوں نے اس سکول وین کو ٹریپ کیے بچوں کو اغوا کر لیا ۔۔۔
یہ سنتے ہی ثوبیہ کے تو ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے حسن گیلانی کے چلے جانے کا غم کیا کم تھا کہ ایک اور مصیبت کا پہاڑ اس کہ سر پہ ٹوٹ پڑا ۔۔۔۔
اس نے خود بمشکل سنبھالا۔۔۔۔
اس مشکل وقت میں صرف اکبر ہی میری مدد کر سکتا ۔۔۔۔
اس کے ذہن میں یہ سوچ جھماکے کی طرح گزری ۔۔۔۔
“ہیلو اکبر “
دوسری بیل پر ہی فون اٹھا لیا گیا ۔۔۔۔
“جی بھابھی “اس نے فون کی سکرین پر نمودار ہوا نمبر دیکھ لیا تھا اسی لیے بولا ۔
“اکبر ۔۔وہ ۔۔وہ گڑیا بھی اسی سکول وین میں تھی ۔۔۔جسے اغوا کیا گیا ہے
وہ تڑپ کر بولی ۔۔۔۔
“بھابھی آپ فکر مت کریں ہم اسی سلسلے میں بس نکلنے ہی والے ہیں “کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔۔۔
