Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 21)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

مہمانوں کے گھر سے چلے جانے کے بعد عائشہ جب اپنے اور قرت العین کے مشترکہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے جیسے ہی اندر قدم رکھا سسکیوں کی آوازوں نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔وہ قرت العین کو بستر پر گرے سسکیاں بھرتے ہوئے دیکھ چند ثانئے کو اپنی جگہ ساکت کھڑی رہ گئی۔۔۔۔

کمرے کی کھڑکی سے آتی چھن چھن کرتی چاندنی میں نہایا وجود شدت سے گریہ و زاری کرنے کے باعث ہچکولے کھا رہا تھا ۔۔۔۔ قرت العین نے کسی کی کمرے میں موجودگی کو محسوس کیا تو اپنی بھیگی نظریں اٹھا کر دیکھا ۔۔ وہ اور کوئی نہیں اس کی بچپن کی ساتھی۔۔۔

گھر میں سب سے قریبی تعلق رکھنے والی اس کی بہن عائشہ تھی جس سے وہ اپنے دل کی ہر بات بے دھڑک شئیر کر لیا کرتی تھی ۔۔اپنی ماں سے بھی زیادہ قرت العین عائشہ کے نزدیک تھی وہ چوبیس گھنٹے ایک دوسرے کے ساتھ جو گزارتی تھیں اسی لیے

“یہ تم نے اتنی سی دیر میں اپنی کیا حالت بنا لی ہے “؟

عائشہ نے بے یقینی سے اسے دیکھتے حیرت زدہ آواز میں کہا۔

قرت العین کی آنکھیں مسلسل رونے کے باعث سوجی ہوئی تھیں۔۔پپوٹے بھی ،آنکھیں اور ناک سرخی مائل اور چہرہ بھی زرد رنگ دکھائی دے رہا تھا۔۔۔اتنی سی دیر میں ایسا لگ رہا تھا کہ وہ صدیوں کا سفر طے کر آئی ۔۔۔۔اور کسی ڈر کے باعث اپنے آپ سے اندر ہی اندر جونج رہی ہو ۔۔۔

قرت العین نے ہاتھ میں پکڑی ڈائری اور بال پوائنٹ دونوں کو تکیے کے نیچے چھپایا۔۔۔۔

عائشہ کی نظروں سے اس کی یہ حرکت مخفی نا رہ سکی ۔۔۔

“آپی یار ۔۔۔۔ادھر دیکھو ۔۔۔۔وہ قرت العین کو منہ چھپاتے ہوئے دیکھ کر بولی ۔

“قرت العین مجھے بھی نہیں بتاؤ گی کہ کیا بات ہے ؟؟؟؟

وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے اس کے لاغر وجود کو جھنجھوڑنے لگی ۔۔۔

اس کی حالت کہاں اس سے برداشت ہوتی ۔۔۔وہ اسے یوں روتا دیکھ خود رونے لگی ۔۔۔۔۔۔

“قرت میرا دل بند ہو جائے گا بتاؤ مجھے کیا بات ہے ؟؟؟؟

خود پر بے تحاشہ ضبط کرتے ہوئے اس نے قرت العین سے پوچھا۔۔۔۔

قرت العین اپنی جگہ سے اٹھی پھر بے ساختہ اس کے گلے لگتے ہوئےپھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

“قرت العین تم اس شادی سے نا خوش ہو ؟؟؟؟….”

“اگر ایسا کچھ ہے تو سب سے بات کروں گی منع کردوں گی کہ تم یہ شادی نہیں کرنا چاہتی!!! وہ مضبوط لہجے میں اس کی ہمت بندھاتے ہوئے بولی تو قرت اپنی نم آنکھوں اسے دیکھنے لگی۔ ۔۔۔۔

“ن۔۔۔۔نہ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔عاشو ۔۔۔۔تم ۔۔۔تم کسی سے کچھ نہیں کہو گی ۔۔۔۔۔

اس کی آنکھوں کی پتلیاں سکڑ کر پھیلیں۔۔۔۔

عا۔۔۔۔شو۔۔۔۔وہ ۔۔۔وہ ۔۔۔مجھ۔۔۔سے بدلہ ۔۔۔۔۔لے۔۔۔گا۔۔۔۔۔

اس نے کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے کہا آنکھوں میں ڈر کے سائے لہرا رہے تھے ۔۔۔۔آپی کون آپ سے بدلہ لینا چاہتا ہے ؟؟؟؟مجھے بتائیں ۔۔۔پلیز یوں خود کو اذیت مت دیں ۔۔۔۔جو بھی آپ کے اندر غبار ہے اسے باہر نکال دیں ۔۔۔میں آپ کے ساتھ ہوں ۔۔۔اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی ۔۔آپ کو کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں!

عائشہ نے اپنائیت سے اس کا ہاتھ تھتھپاتے ہوئے کہا تو بے اختیار قرت العین کی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہنے لگیں۔

“”مجھے اکیلا چھوڑ دو ابھی پلیز !! وہ اذیت سے گھٹ گھٹ کر روتے ہوئے لرزتی ہوئی آواز سے بولی ۔۔۔۔۔

“قرت العین !!!!

تم نے کچھ کھایا ؟۔۔۔۔۔”۔

عائشہ نے اپنے ہاتھوں سے اس آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔

وہ نظریں جھکا گئی۔۔۔۔”میں ابھی آتی ہوں “,وہ کہہ کر باہر نکلی ۔۔۔۔اور کچن میں جا کر اس کے لیے کھانا نکال کر اوون میں گرم کیا پھر ٹرے میں رکھے اس کے لیے اندر آئی ۔۔۔۔۔

وہ بستر پر چت لیٹی کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔۔۔۔۔

“قرت کھانا کھا لو “اس نے لقمہ بنا کر اس کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی ۔۔۔”

قرت العین نے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹک دیا اور اوندھے منہ لیٹے ہوئے پھر سے رونے لگی ۔۔۔

“قرت اب تم نے واقعی مجھے پریشان کر دیا ہے جب تک مجھے وجہ بتاؤ گی نہیں مجھے پتہ کیسے چلے گا ۔۔۔۔؟

“سو جاؤ عاشو “اس کی کرب سے ڈوبی آواز اس کے کانوں میں سنائی دی تو عائشہ فی الحال اسے آرام کرنے کے لیے وقت دیتے ہوئے کھانے والا ٹرے اٹھا کر ایک طرف رکھا۔۔پھر لائٹ آف کیے آکر اپنی جگہ پہ لیٹ گئی ۔۔۔۔

رات کے تقریباً دو بجنے کو تھے ، جب وہ اپنے بستر سے نکلی ۔۔۔

“اکبر ابھی تک روم میں نہیں آئے ۔۔کہیں حرعین کے پاس تو نہیں چلے گئے ۔۔۔؟

اس نے دل میں سوچا ۔۔۔

“مگر حرعین کے تو سر میں درد تھا وہ تو کافی دیر پہلے ہی ٹیبلٹ لے کر سو گئی تھی ۔۔۔”کیا کروں اٹھ کر دیکھوں اکبر کو کہاں ہیں ؟؟؟؟آن فاطمہ سوچتے ہوئے کمرے سے باہر آئی اور حرعین کے روم کی طرف گئی ۔۔۔

“نہیں رات کے اس پہر کسی کے بھی روم میں دستک دینا مناسب نہیں “,وہ خودی سے ہمکلام ہوئی۔۔۔۔

پھر سیڑھیوں کے دوسری طرف کی راہداری میں بنی لائیبریری روم کی لائٹ جلتی ہوئی دیکھی تو حیرت سے دیکھا ۔۔۔

“اس وقت لائبریری میں کون موجود ہوگا ؟؟؟؟وہ اسی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔۔۔

وہ ہینڈل گھمائے اندر داخل ہوئی تو سامنے کا منظر دیکھ کر آن فاطمہ کی آنکھوں میں سکون سرائیت کرنے لگا۔۔۔۔

اکبر راکنگ چئیر پر جھولتا سینے پر ایک کتاب رکھے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

آن فاطمہ حیرت سے اکبر کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔

اکبر نے اس کی مخصوص مہک محسوس کیے فورا اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔

“تم ابھی تک سوئی نہیں ؟؟؟

“آپ بھی تو جاگ رہے ہیں ۔۔پھر مجھے نیند کیسے آتی ؟؟؟وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اس کے قریب آ رکی ۔۔۔۔اور یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔

“تمہارا جی نہیں بھرتا مجھے دیکھ کر ؟؟؟

اکبر نے اسے محویت سے خود کو تکتا ہوا پاکر مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے گلہ کھنکھارا تو وہ جو اسے تکنے میں دنیا جہاں بھلائے بیٹھی تھی ۔ چونکی۔۔۔۔

“آپ پریشان دکھائی دے رہے ہیں سب خیریت تو ہے نا ؟؟؟

“تم کیسے جان لیتی ہو ؟؟؟اکبر نے اپنی ہتھیلی آگے کی تو آن نے اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔

اکبر نے جذب سے اس کے ہاتھ پر اپنے لب رکھ دیئے۔

“تم آگئی ہو تو میری پریشانیاں بانٹ لو گی ۔۔۔۔

آن نے اثبات میں سر ہلا کر اسے اپنے ساتھ کا احساس دلایا ۔۔۔۔اکبر کو اپنے رگ و پے میں سا سکون سا اترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔

“نبی پاک نے فرمایا ہے !!!!

“دین دیکھو ،اخلاق دیکھو ،اور رشتہ کردو ،اگر بچہ اپنی پسند کا اظہار کرے تو اسے نا فرمانی نا سمجھو ،اور اگر بچی اپنی پسند کا اظہار کردے کہ میری یہاں شادی کردو ، تو بے قدر ،بے حیا نا سمجھو “

“میں نے ایک بار بھی اپنی بیٹی سے اس کی مرضی جاننے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔اور اب کچھ اتنی جلدی طے کردیا مجھے خود بھی بہت عجیب لگ رہا ہے ۔۔۔مجھے پہلے ایک بار خود قرت العین کی مرضی جان لینی چاہیے تھی ۔۔۔۔

میں صبح ہوتے ہی اس سے اکیلے میں بات کروں گا ۔۔۔اگر وہ اس رشتے پر دل سے راضی ہوگی تو ہی یہ نکاح ہوگا اور اگر وہ ایسا نہیں چاہتی تو میں انہیں کل ہی انکار کردوں گا ۔۔۔۔

“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ؟؟؟اکبرآپ انہیں نکاح کے لیے جمعہ کا دن دے چکے ہیں “

آن نے حیرانگی سموئے ہوئے انداز میں کہا۔

“مجھے میری بیٹی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ‘

“میری زبان بھی نہیں “

“جب سے میں نے اسے جاتے ہوئے دیکھا ہے جانے کیوں میرے میں دل کچھ غلط ہونے کا اندیشہ پھن پھیلائے ہوئے ہے۔مجھے ایک پل بھی چین نہیں ۔۔۔اب تو وہ سو چکی ہوگی ابھی اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں میں کل صبح اس سے اس ٹاپک پر بات کروں گا “

اکبر نے اس سے اپنی پریشانی شئیر کی ۔۔۔۔

“ٹھیک ہے اکبر آپ کی بات بھی میں متفق ہوں آپ سے ۔۔۔آپ ضرور پوچھ لیجیے قرت العین سے “آن نے بھی حامی بھری ۔۔۔۔

چلیں اب آپ بھی روم میں چل کر آرام کریں صبح کی بات صبح ہوگی ۔۔۔۔آن نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا۔۔۔۔

اکبر نے اٹھ کر آن کو خود بھینچ لیا۔۔۔۔

آن کا نرم و گداز سراپا اسے سکون بخشنے لگا ۔۔۔

اس سے بات کر کہ وہ خود بہت ہلکا پھلکا سا محسوس کرنے لگا تھا ۔۔۔۔ اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھتے ہوئے اسے خود سے علیحدہ کیا تو آن نے آسودگی سے اپنے شریک حیات پر پیار بھری نگاہ ڈالی ۔۔۔۔پھر دونوں ایک دوسرے کی ہمراہی میں اپنے کمرے کی طرف چلنے لگے ۔۔۔۔۔

آج صبح عائشہ جلدی اُٹھ گئی تھی کیونکہ آج اُس کی امپورٹنٹ اسائنمنٹ سبمٹ کروانی تھی ۔۔وہ فریش ہو کے باہر آئی تو ہمیشہ جلدی اٹھنے والی قرت العین آج بستر پر ہی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔اس نے آج قرت العین کو کالج جانے کے لیے نہیں اٹھایا ۔۔۔۔اس کی حالت کے پیش نظر۔۔۔۔تاکہ وہ آرام کر لے ۔۔۔۔مگر کمرے سے نکلنے سے پہلے ایک آخری نظر اس پر ڈالنا نا بھولی ۔۔۔۔

عائشہ کی نظر اس کے تکیے کی اوٹ سے جھانکتی ہوئی ڈائری پر پڑی جو رات قرت العین اس سے چھپا رہی تھی ۔

عائشہ دبے پاؤں اس کے قریب آئی اور ہاتھ بڑھا کر وہ ڈائری اچک لی ۔۔۔پھر بنا آواز کیے اپنے بیگ میں ڈال لی اس نیت سے کہ کالج جاکر آرام سے پڑھوں گی اور جان لوں گی کے اس میں رات کو قرت العین نے کیا لکھا تھا ۔۔۔

وہ باہر آئی تو تقریباً سبھی ڈائننگ ٹیبل کے گرد جمع تھے وہ سر پہ دوپٹہ سلیقے سے جمائے گہری بڑی بڑی گرے آنکھیں بالکل اپنی ماں آن فاطمہ کی طرح۔۔۔ جن میں کاجل کی ہلکی سی لکیر لگا کر انہیں مزید حسین بنایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔پتلی سی باریک ستواں ناک اور باریک لب ،کانوں میں سونے کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس پہنے چہرے پر ہمیشہ کی طرح معصومیت کے ساتھ ساتھ شرارتی انداز نمایاں تھا ۔۔۔۔۔

“قرت العین کہاں ہے وہ نہیں آئی ابھی تک اسے کالج نہیں جانا ؟حرعین نے اسے نا دیکھ عائشہ سے سوال کیا۔۔۔۔

“ارے اب اس ہفتے اس کا نکاح ہے اچھی بات ہے اسے مت جانے دو کالج آج سے تو شادی کی خریداری شروع ہوجائے گی ۔۔۔انیقہ گیلانی نے حرعین سے کہا ۔۔۔۔

“وہ قرت العین۔۔۔میرا مطلب آپی کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں “عائشہ نے سب کو اس کی طبیعت سے آگاہ کرنا مناسب سمجھا۔

“کیا ہوا قرت العین کو اکبر اپنا ناشتہ چھوڑ کر اٹھنے ہی لگا تھا کہ ۔۔۔۔

“آپ ناشتہ کیجیے میں دیکھ کر آتی ہوں حرعین نے اسے منع کیا اور خود اٹھ کر اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔

عائشہ جلدی جلدی ناشتہ کرنے لگی ۔۔۔۔

آرام سے کھاو عائشہ کس بات کی جلدی ہے آن نے اسے ٹوکا۔۔۔۔.

ماما آج جلدی جانا ہے ایک بہت ضروری اسائنمینٹ سبمٹ کروانی ہے۔۔۔۔۔ وہ جوس کا گلاس ایک ہی بار میں ختم کر کے ڈائننگ پر رکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی اور خدا حافظ کہتے ہوئے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔

سلطان آفندی اپنے مخصوص وقت پر آفس پہنچا چکا تھا۔۔۔۔مختلف فائلز کھولے کبھی کچھ دیکھ رہا تھا کبھی کچھ ۔۔۔کبھی لیپ ٹاپ کھولتا کبھی بند کر دیتا ۔۔۔ کسی بھی کام میں دل ہی نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔دماغ بس ایک ہی بات میں اٹکا پڑا تھا ۔۔۔۔

“نجانے اس نئے رشتے پر اس کا ری ایکشن کیسا ہوگا ؟؟؟؟؟

“پتہ نہیں وہ کیا سوچ رہی ہوگی میرے بارے میں ؟؟؟؟

وہ یہ سب اچانک سے دیکھ ٹھیک بھی ہو گی یا نہیں؟؟؟؟؟

“کہیں وہ میرے اسطرح رشتہ بھیجنے کا الٹا مطلب نا نکالے ۔۔۔۔۔اس نے خود کلامی کرتے ہوئے لب بھینچے۔۔۔۔

“اگر ایسا ہوا تو ؟؟؟ اُس کے زہن میں یہ بات آتے ہی وہ اضطراب میں مبتلا ہوا ۔۔۔۔۔

“نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔۔وہ میرے بارے میں کچھ برا نہیں سوچ سکتی میں نے اسے ایسا تو کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔۔میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہا ہوں۔”

“کب آؤ گی آفس ؟”وہ اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھ کر کہنے لگا ۔۔۔۔

“آج تو ایک ایک پل کٹنا مشکل لگ رہا ہے ۔۔۔آگے تو ایک بجے تک آفس آ جاتی ہے ۔۔۔۔”کیوں نا آج میں خود اسے کالج سے پک کر کہ اسے سرپرائز دوں ؟؟؟

اس نے سوچتے ہی ٹیبل سے اپنی گاڑی کی کیز اٹھائیں موبائل پاکٹ میں ڈالا اور باہر نکل گیا ۔۔۔۔

“آصف !!!!سنو ۔۔۔۔

“جی سر !!!

“کوئی بھی میرا پوچھے تو بتا دینا کہ ضروری کام سے گئے ہیں تھوڑی دیر میں آجائیں گے “

“جی سر ٹھیک ہے میں بتا دوں گا “

سلطان آفندی آفس سے باہر نکل گیا اور گاڑی کا رخ قرت العین کے کالج کی طرف کیا ۔۔۔۔۔۔

کالج کا وقت ختم ہونے کے بعد عائشہ ڈرائیور کے انتظار میں کالج کے گیٹ کے باہر کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

“ڈرائیور انکل آپ کب آئیں گے کب سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں “؟؟؟عائشہ کو دھوپ میں وہاں مزید کھڑا ہونا دوبھر لگا تو اس نے ڈرائیور کو کال کر کہ اس سے پوچھا۔۔۔

“بی بی جی راستے میں آتے ہوئے گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوگیا ہے ۔۔۔کچھ وقت لگ جائے گا “اس نے اپنے لیٹ ہو جانے کی وجہ سے آگاہ کیا۔۔۔۔

عائشہ نے بے دلی سے فون بیگ میں ڈالا ہی تھا کہ اس نے اپنے پاس کسی گاڑی کی چڑچڑاہٹ کی آواز سنی تو بدک کر پیچھے ہوئی ۔۔۔

بلیک کلر کی چمچماتی ہوئی گاڑی کا شیڈ نیچے کیے وہ اور کوئی نہیں سلطان آفندی ہی تھا ۔۔۔۔۔

“کالج میں چھٹی کا وقت ہوگیا ؟؟؟اس نے عائشہ سے پوچھا ۔۔۔

“جی چھٹی تو کب کی ہو چکی “عائشہ نے اسے بتایا ۔۔۔

سلطان باہر نکلی ہوئی لڑکیوں میں سے اسے تلاش کرنے لگا ۔۔۔۔

پھر ڈرائیور کے آنے کا انتظار کرنے لگی اور وقت گزاری کے لیے یاد آنے پر قرت العین کی ڈائری نکال کر ابھی کھولی ہی تھی کہ اس کی نظر اس خوبرو انسان پر پڑی جو لڑکیوں کی بھیڑ میں کسی کی تلاش میں تھا ۔۔۔

“سنیں بھائی !!!! آپ کسی کو ڈھونڈھ رہے ہیں “؟

“جی ایکچولی مجھے کسی کی تلاش ہی ہے “سلطان نے اس پرکشش چہرے والی لڑکی کو دیکھ کر جواب دیا ۔۔۔

“مجھے بتائیں شاید میں آپ کی کچھ مدد کرسکوں “

“قرت العین نام ہے اس کا بی۔کام شاید ڈیپارٹمنٹ ۔۔۔اس نے کان کھجاتے ہوئے آئیڈئیے سے کہا ۔۔۔۔

“اوہ آپ کہیں قرت العین اکبر گیلانی کی بات تو نہیں کر رہے ؟؟؟

“آپ جانتی ہیں اسے “

“ارے بغل میں بچہ اور شہر میں ڈھنڈورا یہ تو وہی بات ہوئی ۔۔۔وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔

“آپ یقینا سلطان بھائی ہیں جن کے ساتھ آپی کی شادی طے ہوئی ہے “

“اوہ تو آپ اسے جانتی ہیں “

“جی بالکل مابدولت کو ان کی سب سے پیاری بہن ہونے کا شرف حاصل ہے “

وہ اترا کر بولی ۔۔۔

“لیکن افسوس کے ساتھ مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ کی قرت العین کے ساتھ فی الحال ملاقات نا ممکن ہے “””

“ایسا کیوں “؟اس نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔

“کیوں کہ قرت العین کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لیے آج وہ کالج نہیں آئی اور آفس بھی نہیں آ سکے گی ۔۔۔

اس کی بات سن کر سلطان آفندی کے چہرے کی خوشی ایک دم ماند پڑ گئی۔۔۔۔

“چلیں ٹھیک ہے کوئی بات نہیں پھر کبھی سہی ….

ویسے آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں گھر نہیں جانا کیا ؟؟؟

“مجھے کوئی شوق تھوڑی نا ہے دھوپ میں کھڑے ہو کر رنگ کالا کرنے کا ۔۔وہ تو ڈرائیور انکل کی وجہ سے میں دھوپ میں جل رہی ہوں ۔۔۔۔وہ یاد آنے پر بھنا کر بولی ۔۔۔۔

“چلیں آئیں پھر سالی صاحبہ آپ کو میں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں “اس نے پیشکش کی۔۔۔

“ارے نہیں دلہا بھائی میں چلی جاؤں گی اس نے دلہا بھائی پر زور دیتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔۔

“وہ اس کی بات پر مسکرایا ۔۔۔۔

“اب دلہا بھائی مان ہی لیا ہے تو اتنا فارمل ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔آئیں میں چھوڑ دیتا ہوں “

“اچھا چلیں ٹھیک ہے آپ بھی کیا یاد کریں گے کیسی فراخ دل لڑکی سے پالا پڑا تھا ۔۔وہ فرضی کالر اچکا کر بولی ۔۔۔

وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے تو سلطان آفندی نے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔

عائشہ نے ڈرائیور کو فون کر کہ بتا دیا تھا کہ وہ گاڑی ٹھیک کروا کر گھر لے جائے وہ خودی گھر پہنچ جائے گی ۔۔۔۔

“اچھا چلیں مجھے کچھ قرت العین کی پسند نا پسند کے بارے میں بتائیں ؟؟؟؟سلطان نے اس سے پوچھا ۔۔۔

“امممم۔۔۔۔قرت العین بہت اچھی فرمانبردار بچی ہے ۔۔۔جبکہ میں تھوڑا بگڑی ہوئی ہوں ۔”

“وہ وقت کی پابند ہے مگر میں ہمیشہ اسے روز صبح اٹھنے پر تنگ کرتی ہوں ۔”

“وہ بہت سیدھی سی ۔۔اور میں ٹیرھی کھیر “

“وہ اپنی ہر بات مجھ سے شئیر کرتی ہے ۔۔۔۔مگر ۔۔۔۔وہ سوچ میں پڑ گئی ۔۔۔۔

“مگر کیا ؟؟؟اس نے عائشہ سے پوچھا ۔۔۔

“مگر کل رات سے وہ بہت اپ سیٹ تھی ۔۔۔میں نے پوچھا بھی مگر اس نے کچھ بتایا ہی نہیں ۔۔۔۔۔

“کہیں اس نے میرے بارے میں کچھ الٹا سیدھا سوچ کر نا ٹینشن لی ہو ؟؟؟

میں اسے یہی تو آج مل کر بتانا چاہتا تھا کہ میں اسے پہلے دن سے پسند کرنے لگا تھا ۔۔۔مجھے ایسے ہی مضبوط کردار کی لڑکیاں پسند ہیں ۔۔۔مجھے اس کی سادگی اٹریکٹ کر گئی تھی ۔۔۔۔اس کا مجھ سے ڈر جانا ،اس کا لرز جانا ہی تو بھا گیا ۔۔۔۔میں اسے اپنی پسند سے آگاہ کرنے ہی والا تھا کہ کل کا واقعہ پیش آگیا ۔۔۔اور غصے میں اسے میں نجانے کیا کیا کہہ گیا ۔۔۔

میں اسی سلسلے میں اس سے معزرت کرنا چاہتا تھا مگر آج وہ مجھے ملی ہی نہیں وہ اپنی توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کیے یہ سب دل میں سوچ رہا تھا ۔۔۔۔۔

عائشہ نے اسے گائیڈ کیا تو سلطان نے اسے گھر کے باہر اتارا ۔۔۔

“آئیے نا دلہا بھائی گھر چائے پی کر جائیے گا ساتھ ہی قرت العین سے مل لیجیے گا ۔۔۔

“کیوں شادی سے پہلے اپنے گھر والوں سے پٹوانے کا ارادہ ہے جو یہ پیشکش کی جا رہی ہے ۔۔”سلطان نے بھی اسی کے شرارتی انداز میں جواب دیا ۔۔۔۔

“چلیں ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی ۔۔۔اور بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔

“My pleasure….

اس نے خوشدلی سے کہا اور گاڑی کا رخ موڑ لیا ۔۔۔۔۔

ابھی وہ کچھ دور ہی گیا تھا کہ ساتھ والی سیٹ پر ایک ڈائری پڑی ہوئی نظر آئی ۔۔۔۔

سلطان آفندی نے گاڑی کی رفتار کو سلو کیا اور ڈائری اٹھائی جس کے پہلے صفحے پر قرت العین کا نام لکھا تھا ۔۔۔۔

اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔

“اوہ تو یہ آپ کی ڈائری ہے ۔۔۔دیکھتے ہیں کیا لکھا ہے میڈم نے ؟؟؟؟

جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا اس کی آنکھیں حیرت سے کُھلتیں گئیں ۔۔۔۔۔

Hello Everyone……

علی اکبر کی آواز سن کر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔۔

دروازے کی دہلیز پر علی اکبر اور آرزو کو ایک ساتھ کھڑے دیکھ سب اپنی جگہ سے اٹھے ۔۔۔۔

“آرزو تم اتنی جلدی واپس کیسے آگئی ؟؟؟؟جنت گیلانی نے پوچھا اور چل کر اس کی طرف آئی ۔۔۔

“دراصل گرینڈ مام اسے قرت العین کی شادی کا پتہ چلا تو اس نے کہا کہ مجھے بھی اس شادی میں شریک ہونا ہے ۔۔۔یہ ائیر پورٹ پر پہنچ چکی تھی تو اس نے مجھے کال کر کہ بلایا تو میں اسے لیے سیدھا یہاں آ گیا ۔۔۔۔

علی نے سادہ سے انداز میں جواب دیا۔

جبکہ آرزو خاموشی سے سر جھکائے ہوئے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔

“اکبر قرت العین کو بہت تیز بخار تھا ۔میں صبح سے اسے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں کر رہی تھی مگر اب تو وہ بالکل ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی ہے بالکل بھی حرکت نہیں کر رہی آپ جلدی دیکھیں آکر اسے کیا ہوا ہے ۔۔۔حرعین نے وہیں قرت العین کے دروازے پر کھڑے ہوئے زور سے چِلا کر کہا ۔۔۔۔

علی تو سب سے پہلے اس کے کمرے کی طرف بھاگا ۔۔۔

اس کے پیچھے پیچھے اکبر اور پھر باقی گھر کے افراد بھی ۔۔۔۔

علی نے قرت العین کو بستر پر بے سدھ پڑے دیکھا تو فورا اسے بازوؤں میں اٹھائے باہر کی طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔

اکبر بھی اس کے ساتھ تھا قرت العین کا گال تھپتھپاکر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

اکبر نے ڈرائیور کو ہٹا کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور قرت العین کو لیے وہ سب فورا سے بیشتر ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے ۔۔۔۔