Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 25)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
“جی میں !!!!! سدھانت اگروال آپ کا بھتیجا “
“میں آپ کو یہ بتانے آیا تھا کہ آپ کی بھابھی اور میری ماں سا اب اس دنیا میں نہیں رہی میں فی الحال تو جا رہا ہوں جلد ہی واپس آؤں گا ۔اپنا ادھورا کام پورا کرنے آپ نے تو سب کچھ بھلا دیا ۔مگر میں کچھ نہیں بھولا ۔۔۔۔
“دی۔۔۔دیکھو راجا تم ۔۔۔ایسا کچھ نہیں کرو گے بھا سا کہ ساتھ جو ہوا وہ ان کی قسمت میں لکھا تھا ۔۔۔۔یہ سب بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔
“بس۔۔۔۔اس نے ہاتھ اٹھا کر آن کو بات کرنے سے روکا۔
“چلو وہ تو ان کی قسمت میں لکھا تھا جو ان کے ساتھ ہوا مگر اس گھر میں رہنے والوں کی قسمت میں اپنے ہاتھوں سے لکھوں گا ۔۔۔۔وہ قہر بار نظروں سے دیکھتے ہوئے تنفر سے پھنکارا۔
“خود کو خدامت سمجھو ۔اتنا غرور و تکبر انسان کو لے ڈوبتا ہے “آن نے اسے اپنے تئیں سمجھانے کی کوشش کی۔
“اپنی دنیا کابھگوان میں خود ہوں “وہ گھمنڈ سے بولا۔
آن جب تعلیم حاصل کرنے اپنی بھابھی سا کے میکے والوں کے کینیڈا گئی تھی تو اس کے وہاں جانے اور اسکے بھائی ارجن اگروال کی موت کے بعد سدھانت بھی وہاں چلا گیا۔۔اور اب اس کے پاس کینیڈا نیشنلٹی تھی۔اس نے وہاں کی رہنے والی ایک لڑکی سے پیپر میرج کر رکھی تھی ۔جس بھی ملک میں جانا ہوتا وہ اپنی کینیڈا کی نیشنلٹی ظاہر کرتا اسی لیے اسے کسی بھی ملک میں جانے پر آسانی ہوتی ۔
اکبر جو مہمانوں کے چلے جانے کے بعد چینج کرنے کے لیے اپنے روم میں آیا تھاکمرے میں گھٹن اور حبس محسوس کیے کھڑکی کے پردے ہٹائے تو سامنے کا منظر اس کی آنکھوں کو حیرت سے دوچند کر گیا۔
اس نے خونخوار نگاہوں سے سدھانت اگروال کو دیکھا جو گیٹ کے پاس کھڑا آن فاطمہ کے سے باتیں کر رہا تھا ۔۔۔۔
اکبر ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے باہر آیا ۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ سدھانت کو پکڑ کر اس کی درگت بناتا وہ وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔۔۔
اکبر نے گیٹ کے پاس کھڑی آن فاطمہ کو تیغ صفت نظروں سے دیکھا ۔
آن سہم کرسراسیماں نظروں سے اکبر کو دیکھنے لگی۔
کیا نا تھا ان آنکھوں میں بیگانگی، غصہ، بد اعتمادی ، بے یقینی ،یا اشتعال انگیزی،
اکبر اسے وہیں چھوڑے غم و غصے کی تصویر بنے دروازہ دھاڑ سے بند کیے واپس اندر چلا گیا ۔۔۔۔
آن جو ابھی عائشہ کی رخصتی کے غم سے ہی پوری طرح باہر نہیں نکلی تھی اس پر سدھانت کا رویہ کسی نا گہانی آفت کی طرح ٹوٹا تھا ۔
اور رہی سہی کسر اکبر کی کاٹ دار بے یقین نگاہوں نے پوری کردی تھی ۔۔۔
آج وہ خود کو بہت اکیلا اور تہی داماں تصور کرنے لگی تھی۔جہاں سے چلی تھی آج سے تئیس سال پہلے آج بھی وہ خود کو اسی جگہ دیکھ رہی تھی ۔
کیا پایا تھا اس نے ان تئیس سالوں میں ؟؟؟
جسکی محبت کی خاطر خود کو سرتا پا بدل لیا آج وہی اسے شکی نظروں سے دیکھ کر گیا ۔جیسے اس نے کوئی بہت بڑا جرم کردیا تھا۔
“کیا اسے جینا کہتے ہیں ؟؟؟
اس نے پہلے بھی ایک بار اسے ایسے ہی گھر سے در بدر ہونے پر مجبور کیا تھا اس پر یقین نا کر کہ اس سے بنا صفائی مانگے اسے اپنا فیصلہ سنایا تھا ۔
اور آج وہ پھر اسے ایک بار اسی جگہ لاکر چھوڑ گیا ۔۔۔۔۔
“آپ نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھ پر یقین کریں گے “
“کیا یہی تھا آپ کا پیار ؟؟؟
“آپ نے کبھی بھی مجھ سے پیار کیا ہی نہیں۔۔۔
وہ سوچتے ہوئے لاپرواہی سے چلتے ہوئے سڑک کے کنارے پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔
“آپ نے پھر سے مجھے مشکوک نگاہوں سے دیکھا،پھر مجھ سے صفائی مانگے بغیر مجھے میرے پیار کر رسوا کیا ۔۔۔۔
“
وہ خودی سے مخاطب ہوکر بول رہی تھی ساتھ ساتھ رات کے اندھیرے میں چلتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
“اکبر میں اب کبھی بھی واپس نہیں آؤں گی چاہے جتنا مرضی بلائیں مجھے ۔۔۔میں آپ سے ہمیشہ کے لیے بہت دور چلی جاؤں گی ۔اتنا دور کہ کبھی بھی واپس نہیں آؤں گی ۔۔۔”
سڑک پر رات ہونے کی وجہ سے بھاری ٹریفک کی تعداد زیادہ تھی ۔جن میں اکثریت ٹرک کی تھی جو اس وقت ٹرک میں بھاری سامان لے جا رہے تھے ۔۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے تیز چلتی ٹریفک اور بدگمانی کے بادل چھانے لگے تو دماغ کچھ بھی سوچنے سے قاصر ہوا ۔۔۔
وہ لمحوں میں اک شدت پسند فیصلہ کر گئی اور بھاگتے ہوئے سڑک کے بیچ و بیچ پہنچ کر سامنے سے آتے ہوئے تیز رفتار ٹرک سے ٹکرا گئی۔۔۔زبردست ٹکر کے باعث ایک وہ ایک خطرناک حادثے کا شکار ہو گئی۔
ٹرک نے اچانک سامنے آنے والی ہستی کو اچھال کر دور پھینکا۔
اسکا وجود ہوا میں لہراتا ہوا دور جا گرا۔۔۔
اس کے آس پاس جابجا خون بکھرا ۔۔۔۔
ٹریفک چند پل کو رکی ۔۔۔۔لوگوں کا ہجوم جمع ہوا ۔۔۔۔
کچھ لوگ اس ترحم بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کچھ اس حادثے کو موبائل کے کمیرے میں قید کر رہے تھے۔ اور کچھ رحم دل انسان اسے فورا ہسپتال لے جانے کی بات کر رہے تھے ۔اس کی بند ہوتی آنکھوں کا یہ آخری منظر تھا جو اس نے دیکھا ۔۔۔اس کے بعد اس کی آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئی تو آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں ۔۔۔۔
ابراہیم آفندی اور عابدہ آفندی دونوں گاڑی سے نکل کر باہر آئے تب تک ارمان اور عائشہ کی گاڑی بھی پہنچ چکی تھی ۔
عابدہ آفندی نے اپنی رشتہ دار خواتین کے ساتھ ملکر اپنی دونوں بہوؤں پر گلاب کی پتیاں نچھاور کیں اور ان کا والہانہ استقبال کیے انہیں گھر کے اندر لائیں ۔۔۔
“عائشہ میں پہلے قرت العین کو اس کے روم میں چھوڑ آؤں پھر تمہیں تمہارا روم دکھاوں گی۔عابدہ آفندی نے کہا۔
کچھ رسموں کے بعد عابدہ آفندی اسے لے کر سلطان کے کمرے کے دروازے تک چھوڑنے آئیں ۔
“بیٹا جی یہ ہے سلطان کا روم اور اب سے آپ کا بھی “انہوں نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے پیار بھرے انداز میں کہا۔
انہوں نے دروازہ کھولا تو وہ اندر آئی۔۔۔
قرت العین جب روم میں داخل ہوئی تو کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا ۔۔۔۔
اس کی آنکھیں فی الوقت کچھ بھی دیکھنے سے قاصر ہوئیں ۔۔۔
اس نے سوئچ بورڈ پر ہاتھ رکھا تو یکدم سارا کمرہ روشنیوں سے نہا گیا۔۔۔۔۔
اس نے کمرے کا جائزہ لیا ۔۔۔۔
کمرے کے وسط میں جہازی سائز کا بیڈ لگا ہوا تھا جس کی اطراف میں تازہ پھولوں سے سجاوٹ کی گئی۔۔گلابوں کو لڑیوں کی صورت پرویا گیا تھا جو بیڈ کے اطراف میں لٹک رہی تھی۔بستر کے درمیان میں پھولوں کی پتیوں سے بڑا سا ہارٹ بنایا گیا تھا۔قدرتی پھولوں کی دلفریب محسور کن مہک نے سارے کمرے میں پرفسوں ماحول طاری کر رکھا تھا۔۔۔۔۔
بھینی بھینی خوشبو اسے اپنی سانسوں میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔۔
دیواروں پر مختلف پینٹگز اور سلطان آفندی کی انلارج سائز کی تصویر آویزاں تھی۔ایک طرف ڈریسنگ ٹیبل پر ضرورت کی اشیاء ترتیب وار سیٹ کی گئیں تھیں۔سائیڈ پر کینڈل سٹینڈز پر کینڈلز لگائی گئی تھیں۔
وہ اپنے پاؤں ہیلز سے آزاد کرتے ہوئے بیڈ پر سیدھی ہو کر بیٹھی ہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز پر چونک کر دیکھنے لگی ۔۔۔
سلطان آفندی پورے طمطراق سے اندر آیا۔۔۔
سلطان آفندی کی نگاہ قرت العین پر پڑی تو وہ اپنی جگہ مبہوت سا رہ گیا اس کے دو آتشہ حسن کو دیکھ۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم “
اس نے باوقار انداز میں کہا۔
وہ چپ رہی اور نظریں جھکائے ہوئے تھی ۔
“آپ کے ہاں سلام کا جواب دینے کا رواج نہیں “
وہ بظاہر تو سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا مگر لہجے میں شرارت کا عنصر نمایاں تھا۔
“۔۔وعلیک۔۔کم ۔اسلام ۔۔۔۔
وہ بے ربطگی سے بولی ۔
سلطان اپنا کوٹ اتار کر ایک طرف رکھتے ہوئے زرا ایزی ہوتا ہوا اس کے پاس آکر بیڈ پر بیٹھا۔
“نکاح مبارک “
سلطان نے اس کی تھوڑی کو اپنی پوروں سے اٹھا کر اس کا جھکا ہوا چہرہ اوپر اٹھاتے ہوئے کہا۔
“آپ کو بھی “
وہ شرمگیں مسکان لیے بولی ۔
“ایسے نہیں جیسے سب نے گلے لگا کر نکاح کی مبارکباد دی تھی مجھے ویسے ہی چاہیے۔”
“نکاح ہمارا ہوا ہے اصولاً تو ہمیں ہی ایک دوسرے کو اچھے سے مبارکباد دینی چاہیے “
وہ ذومعنی انداز میں بولا۔
قرت العین نے اپنی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو وارفتگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اس کی ذومعنی بات سن کر اسکے گال شرم سے تمتمانے لگے ۔۔۔۔۔
سلطان آفندی نے اس کے کان میں موجود آویزہ ہلکا سا چھو کر چھوڑا ۔۔۔
جو اب اس کی صراحی دار گردن کے احاطے میں ہچکولے کھا رہا تھا۔جیسے جیسے وہ آویزہ ڈول رہا تھا سلطان آفندی کو اسے اتنے قریب سے دیکھتے ہوئے اپنا دل بھی ڈولتا ہوا لگا۔۔۔۔
اسے فیصلہ کرنا کٹھن لگا کہ اس کے گالوں سے پھوٹتی یہ حیا کی سرخی زیادہ سرخ ہے یا اس کا زیب تن کیا عروسی لباس ۔۔۔۔
جن شوریدہ جذبات بھری نگاہوں سے وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔قرت العین کا وجود لرزنے لگا ۔۔۔۔
وہ پاؤں بستر سے نیچے کیے اٹھنے لگی ۔۔۔۔۔۔
“کہاں جا رہی ہیں ؟وہ اس کے یوں اٹھنے پر بولا۔
“وہ۔۔۔وہ میں چینج کرلوں “اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
“ابھی تو ہم نے آپ کو جی بھر کر دیکھا بھی نہیں “وہ سرد سی آہ بھر کر بولا ۔۔۔
“پہلے تو حسن کے جلوے بکھیرتی ہیں پھر جب آپ کا دیوانہ خراج تحسین پیش کرنےعشق پہ مائل ہوتا ہے تو جان چھڑواتی ہیں “
قرت العین کو سمجھ نہیں آ رہی تھی اس کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے جذبات کے آگے کیسے بندھ باندھے گی ۔۔۔وہ اپنی جگہ جامد کھڑی تھی ۔۔۔
“آج کی رات بھی کوئی اپنے ہزبینڈ کو یوں تنہا چھوڑ کر جاتا ہے بھلا ۔؟وہ نروٹھے انداز میں بولا۔
قرت العین نے اس کی بات پر تڑپ کر اسے دیکھا۔
“می۔۔۔میں کہاں جا رہی ہوں بس چینج ہی تو کرنے ۔۔۔۔آدھی بات اس کے منہ میں ہی رہ گئی۔۔۔ سلطان آفندی نے اس کا ہاتھ پکڑے اسے واپس بٹھایا۔۔۔۔
“اس کام میں شاید آپ کو ہماری مدد درکار ہوگی “
“ن۔۔نہیں میں خودی کر لوں گی “اس نے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لائے کہا۔۔۔مگر ابھی بھی اندر سے ڈر رہی تھی ۔۔۔
سلطان نے اس کا بھاری بھرکم دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا پھر ایک ایک کر کہ اس کی جیولری اتارنے لگا۔۔۔۔جھومر اور مانگ ٹیکا اتارا ۔۔۔۔
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے؟
اور سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے؟
سلطان نے اس کی کلائی میں سے ایک ایک کر کہ چوڑی آہستگی سے اتارتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ خود میں سمٹنے لگی۔۔۔۔
اس کے مرمریں وجود سے پھوٹتی ہوشربا شعاعیں اسے اپنے بس میں کر رہی تھیں۔
سلطان آفندی نے اس کی مخروطی انگلی میں نازک سی ہارٹ شیپڈ ڈائمنڈ رنگ پہنائی ۔۔۔۔”آپ کی منہ دکھائی میں یہ رنگ اور آپ کا شوہر دونوں آپکے کے ہوئے “وہ دلفریب انداز میں بولا۔۔
“تم خوش ہو ؟
سلطان نے اس سے پوچھا ۔
قرت العین نے اثبات میں سر ہلایا۔
“میرا وعدہ ہے تم سے کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دوں گا ۔تمہاری ہر ضرورت کا خیال رکھوں گا۔تمہیں مان ،عزت کے علاؤہ سب سے زیادہ پیار دوں گا۔وہ پیار پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔۔۔
“تو پھر اجازت ہے ؟اس نے شرارتی انداز میں ابرو اچکا کر پوچھا ۔۔۔
“کس بات کی ؟”وہ حیرانی سے بولی ۔
“آپ سے پیار کرنے کی “وہ رومانوی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا۔۔۔
قرت العین کو اس کی ذومعنی بات پر کہیں چھپنے کی جگہ نا ملی تو اس نے سلطان کے سینے میں اپنا منہ چھپا لیا۔۔۔۔وہ اسے خود سپردگی کے انداز میں اپنے قریب آتے دیکھ جی جان سے مسکرا اٹھا۔۔۔۔۔
اس کا جاندار قہقہہ پورے کمرے میں گونجا ۔۔۔۔
قرت العین وہ پہلی لڑکی تھی جو اس کی زندگی کا حصہ بنی تھی، اس کے اتنا قریب ہوئی تھی، جس کی معصومیت اور حیا کا وہ اسیر ہوا تھا۔۔۔ آج اس کے چہرے پر پھیلے حیا کے رنگ نے مزید اس کا اسیر بنا دیا تھا..
اس کے جھکے سر کو محبت پاش نظروں سے دیکھتے ہوئے بے اختیار ہو کر سلطان نے اپنا پہلا حق اس پر استعمال کیا..
اپنے بالوں پر اسکے ہونٹوں کا لمس محسوس کرکے قرت العین نے شرم سے آنکھیں میچ لیں، اس کا تیزی سے دھڑکتا دل جیسے باہر نکلنے کو بےتاب تھا،
سلطان نے اس نازک وجود کو پھولوں کی طرح نرمی سے خود میں سمیٹ لیا۔۔۔۔۔
عابدہ آفندی ،عائشہ کو لیے ارمان کے روم میں آئیں۔۔۔۔
“عائشہ آپ آرام کرو اب کافی تھک گئی ہو گی ۔ان شااللہ صبح ملاقات ہوگی ۔اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتو بلا جھجھک ارمان کو بتادینا ۔۔۔
“جی آنٹی “وہ دھیمے سے بولی ۔
“ارے آنٹی نہیں بیٹا ارمان مجھے مام کہتا ہے تم بھی مجھے وہی کہو گی تو مجھے بہت اچھا لگے گا۔
“جی مام “اس نے حد درجہ فرمانبرداری سے کہا۔
“ہمیشہ خوش رہو “انہوں نے اسے ساتھ لگا کر پیار کیا اور پھر دروازہ کھول کر اسے اندر بستر پر بٹھا دیا ۔۔۔
“ارمان شاید فریش ہو رہا ہے ۔میں بھی اب چلتی ہوں باہر مہمانوں کے لیے بھی رات گزارنے کے لیے بندوبست کرنا ہے “
وہ کہتے ہی باہر چلی گئیں۔۔۔
ایک ہی دن میں کتنا کچھ بدل گیا ۔۔۔
کبھی سوچا بھی نا تھا میری اتنی جلدی شادی ہو جائے گی ۔اوپر سے میری سٹڈی بھی ادھوری رہ گئی۔۔۔
وہ آج کے ہوئے کرب ناک حادثے کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ ارمان بلیک ٹراؤزر اور ٹی شرٹ پہنے بالوں کو ٹاول سے رگڑتے ہوئے باہر آیا۔۔۔اسے اپنے روم میں دیکھ اس کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ آ ٹہری ۔۔۔۔
وہ بظاہر ڈریسر کے سامنے کھڑا اپنے بالوں میں برش پھیر رہا تھا مگر نگاہیں اس مومی مجسمے پر جمی ہوئی تھیں۔
جو کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی ۔۔۔
“آ۔آ۔۔۔آہم۔۔۔۔اس نے ہلکا سا گلہ کھنکھارا۔۔۔
وہ اس کے ایسا کرنے پر اپنی سوچوں کے بھنور سے باہر نکلی ۔۔۔
“میرے خیال میں اب آپ کو یہیں رہنا ہے تو ایزی ہو جائیں اور چینج کر لیں ۔
“جی “وہ اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔۔
مگر پھر کسی سوچ کے تحت رک گئی ۔۔۔
“کیا ہوا ؟؟
“وہ میرے پاس تو کپڑے ہی نہیں ؟
“اوہ ۔۔۔شٹ یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں “
چلیں کوئی بات نہیں کل نئے لے لیں گے ۔۔۔
“نہیں میں کل گھر سے منگوا لوں گی ۔سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہ کچھ لینے کا موقع ہی نہیں ملا ۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے ہوئے بول رہی تھی ۔
رخصتی سے پہلے حرعین نے اسے تیار کرتے وقت سمجھایا تھا کہ اب اس کی شادی ہو رہی ہے اپنے شوہر کی ہر مانے اور اس کی تابعدار رہے ۔بس وہی باتیں سوچ کر ان پر عمل پیرا کرنے کی کوشش میں تھی ۔مگر دل تو کر رہا تھا کہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے ۔۔۔اسے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دیا جائے اور وہ تنہا کمرے میں چیخے چلائے دھاڑیں مار مار کر روئے اور اپنے اندر کا سارا غبار نکال دے ۔آخر میری کیا غلطی تھی جو میرے ساتھ یہ سب ہوا ؟؟وہ دل میں سوچ رہی تھی ۔آنکھیں خشک تھیں مگر آنسو دل پر گر رہے تھے۔
“ایک تو آپ کھڑے ہوئے بار بار مراقبے میں کیوں چلی جاتی ہیں۔”؟
اس کی آواز سن کر عائشہ نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
سرو قد،صاف رنگت ،نکھرا نکھرا سا شخص ،وجیہہ نین نقوش کا حامل ،سب سے بڑی خوبی اس نے بھری محفل میں اسے مان دیا تھا۔اور تنہائی میں اس کی عزت پامال ہونے سے بچانے والا اس کا مسیحا ۔۔۔
“آپ کا ہی ہوں ،اور عمر بھر صرف آپ کا ہی رہوں گا ‘ جی بھر کر دیکھتی رہیے گا ۔ابھی یہ کپڑے تبدیل کرلیں “اس نے کبرڈ سے نکال کر اپنا ٹراؤزر اور شرٹ اس کے آگے کی ۔
وہ بنا جواب دئیے اس کے ہاتھ سے کپڑے لیے واش روم میں چلی گئی ۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ باہر آئی تو ارمان کمرے کی لائٹ آف کیے سائیڈ لیمپ روشن کیے بستر پر نیم دراز سا تھا۔
اس نے اپنا ڈریس ایک طرف رکھا اور پھر اتاری گئی جیولری ڈریسر کے فرسٹ ڈراور کو کھول کر اس میں رکھی ۔۔۔
بالوں کو جوڑے سے آزاد کیے اس نے ان میں برش پھیر کر ایک دو بالوں والی پن سے ہی اطراف سے پکڑ کر باندھا تاکہ منہ پر نا پڑیں کیونکہ اسوقت اس کے پاس کیچر وغیرہ نہیں تھا ۔۔۔مگر بال وزنی ہونے کے باعث پن بار بار ڈھیلی ہو رہی تھی۔اس نے جھنجھلا کے پن اتار ڈریسر پر پھینکی اور پھر پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ارمان اسی کی طرف متوجہ تھا۔
وہ ننھی بچی کی طرح منہ پھلائے ہوئے جا کر صوفے پر لیٹ گئی۔۔۔اور آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔۔۔
“شادی شدہ کپل کے روم میں یہ صوفہ سب سے بڑا دشمن ہے “
اسے ارمان کی غصہ بھری آواز سنائی دی ۔مگر وہ ہنوز اپنی جگہ پر خاموشی سے لیٹی رہی ۔
“یہ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں ؟؟؟
“پہلے تم میرے سوال کا جواب دو !!!تم میری کیا لگتی ہو ؟؟؟”وہ تیکھے چتونوں سے گھورتے ہوئے بولا۔
عائشہ ابھی بھی اس کی بانہوں میں ہوا میں معلق تھی ۔اور کسمساتے ہوئے اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش میں تھی ۔
“یہ ارمان آفندی کی گرفت ہے اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹنے والی سو ساری کوشش بیکار ہیں ۔ان ننھی سی مزاحمتوں کو چھوڑ کر پہلے میری بات کا جواب دیں ۔
وہ گرنے کے ڈر سے بے ساختہ اس کی گردن کے گرد بازو حمائل کر گئی ۔۔۔
ارمان اس کے عمل پر دل سے مسکرایا ۔۔۔مگر چہرہ سپاٹ رکھا کہیں وہ اسے ہلکے میں نا لے ۔
“می۔۔۔میں آپ کی ب۔بی۔بیوی ۔۔۔۔وہ ہکلاتے ہوئے بولی ۔۔۔اس کی پناہوں میں اس کا نازک وجود جی جان سے کانپ رہا تھا۔۔۔۔
“اس کے جواب پر دل کے ساتھ ساتھ روح بھی سرشار ہوئی ۔۔چلو اس نے اسے اپنا شوہر تو تسلیم کر لیا۔۔۔۔وہ من ہی من ہنسا۔۔۔
“تو بیوی کی جگہ کہاں ہوتی ہے ؟
وہ ابرو اچکا کر پھر سے اگلا سوال داغ گیا۔
وہ لاجواب ہو کر کبوتر کی طرح آنکھیں میچ گئی ۔اب اس سوال کا کیا جواب دیتی ۔
ارمان نے اسے لاکر بستر پر لٹایا ۔۔۔
اور پھر اپنی جگہ پر لیٹا۔۔۔۔
لپمپ کی ملگجی سی روشنی میں اس کا نازک سراپا واضح ہونے لگا ۔۔۔
اس کی ڈھیلی سی شرٹ اور ٹراؤزر میں وہ بالکل ُچھپ سی گئی تھی ۔۔۔
ارمان کو خود کو تکتا پا وہ رخ موڑ گئی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد اسے اپنی پشت پر کسی کی انگلیوں کا احساس ہوا تو لرزنے لگی اور آنکھیں سختی سے میچ لیں ۔۔۔بیڈ شیٹ کو مٹھی میں جکڑے وہ ڈر رہی تھی ۔۔۔آخر وہ کیوں سب جانتے ہوئے بھی اس کا امتحان لینے پر تُلا ہوا تھا۔۔۔۔
ارمان کی انگلی شاید کچھ لکھ رہی تھی ۔اور وہ کچھ اور سمجھی ۔۔۔
اس نے گہری سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کیا۔۔۔پھر محسوس کیا آخر وہ کیا لکھ رہا تھا۔۔۔۔جب غور سے محسوس کیا تو پتہ چلا کہ موصوف
Arman Loves Ayesha .
لکھ رہے ہیں ۔
اس نے پلٹ کر اس کی طرف حیرانگی سے دیکھا۔۔۔۔
وہ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے ترچھا ہو کر لیٹا ہوا تھا اور نظریں اسی پر تھیں ۔۔۔۔
ارمان نے اپنا بازو پھیلایا ۔۔۔۔اور آنکھوں سے اشارہ کیا ۔
وہ اس کی آنکھوں کا اشارہ سمجھتی ہوئی پانی پانی ہوئی مگر اسکی ناراضگی کے ڈر سے وہ جھجھکتے ہوئے اپنا سر اس کی بازو پر رکھ گئی ۔۔
“بہت شکریہ اس مان کا “
وہ دھیرے سے اس کے کان کے پاس لب لے جا کر بولا۔
“میں جانتا ہوں آج آپ کے ساتھ جو بھی ہوا بہت برا ہوا مگر وقت رہتے سب ٹھیک ہوگیا۔آپ اس حادثے کو برا خواب سمجھ کر بھلا دیجیے۔کیونکہ آپ کی آنے والی زندگی میں کبھی بھی کسی برے سائے کو بھی آپ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی ۔میں ہمیشہ سایہ بن کر آپ کے ساتھ رہوں گا ۔آپ کے پاس آنے والے ہر غم کے آگے ڈھال بن کر کھڑا رہوں گا ۔غم آپ کی زندگی میں آنے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے ۔اب صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوگی ۔ہمارے درمیاں۔۔۔۔
اس کی تشفی بخش الفاظ سن کر بے اختیار اس کی آنکھوں میں چھپے ہوئے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نکلے ۔۔۔۔اور اس کے سرخی مائل گال بھگونے لگے ۔۔
ارمان خاموش رہا ۔اوراسے رونے دیا ۔۔تاکہ وہ ایک بار سارے درد کو بہا لے۔۔۔
رونے میں شدت آئی تو وہ ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔بس یہی تک تھا اس کے صبر کا پیمانہ، اس نے عائشہ کے گرد اپنے بازؤں کا حصار بناتے ہوئے اپنے گھیرے میں لیا تو وہ بھی بلا اختیار اس کا سہارا پاتے اسی سے لپٹے رونے لگی ۔۔۔۔
“اگر آج آپ نا آتے تو “”””
وہ کچھ کہنے لگی تھی کہ ارمان نے اس کے کٹاؤ دار لبوں پر اپنی انگلی رکھے اسے بولنے سے روکا ۔۔۔۔
“اب آپ اور تم ۔ختم آج سے صرف “ہم”
“جیسے آپ میری ہم قدم ، ہم سفر ،ہم نفس ،ہم ۔۔۔۔۔
“بس کریں مجھے سمجھ آگئی ۔۔۔۔وہ روتے ہوئے ۔۔۔ اس کی اتنی ہم ۔۔ہم ۔۔۔کی تکرار سے الجھ کر بولی ۔۔۔
ارمان وہی شوخ سی دکھائی دینے والی عائشہ کی ہی تو واپسی کا متمنی تھا۔اور وہ اپنے روئیے کی وجہ سے اس کھوئی ہوئی عائشہ کو پھر سے واپس لے آنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔۔۔
“آپ کو کل جب پہلی بار دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔سچے دل سے آپ کو پانے کی خواہش کی تھی ۔
میں اپنے رب کا بہت شکر گزار ہوں جنہوں نے اتنی جلد میرے دل کی سنی اور آپ کو بن مانگے مجھے عطا کردیا۔۔۔
آج مجھے اس بات پر یقین آگیا ہے اگر انسان سچے دل سے کوئی خواہش کرے تو وہ مہربان رب ضرور اسکی سنتا ہے ۔
آج تو جیسے وہ اسے سب حکایت ِ دل سنا دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
ارمان نے کہتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھا۔۔۔پلکیں ہولے ہولے لرز رہی تھیں ۔مگر وہ دلکش گرے آنکھیں جن کا وہ اسیر تھا ان خوابیدہ لرزتی ہوئی پلکوں تلے چھپی ہوئی تھیں۔۔۔۔
ارمان نے جھک کر اس کی آنکھوں کو اپنے لمس سے چھو کر معتبر کیا۔۔۔۔
اس کے عمل پر وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی۔۔۔۔دل جانے کیوں زوروں سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔۔
کیا اس پاکیزہ بندھن کا اثر تھا کہ وہ بھی اسی کے رنگ میں رنگنے لگی تھی ۔۔۔مگر شرم آڑے آرہی تھی ۔۔۔۔
مل جاتی اگر مجھے دو دن کی بادشاہی…
میری ریاست میں تیری تصویر کے سکے ہوتے
اس نے شاعرانہ انداز میں شعر پڑھا ۔۔۔
“اچھا جی آپ کو اتنی جلدی مجھ سے اتنی شدید قسم کی محبت بھی ہوگئی ؟؟؟وہ اس کے شعر پر آنکھیں پٹپٹا کر بولی ۔
“جی بالکل “
Love at first sight.
نے ہمیں کسی کام کا نہیں چھوڑا ۔
“مجھے بھوک لگی ہے “عائشہ تھوڑا سنبھلی تو اسے یاد آیا اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
“رات کے اس وقت میں کھانا کہاں سے لاؤں ۔یہ ویسے غلط بات ہے پہلی ہی رات آپ اپنے شوہر سے کام کروائیں گی ۔؟؟؟وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولا۔
“جی ۔۔۔۔ابھی تو آپ اتنے بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے محبت کے ۔۔۔پہلی ہی فرمائش پر سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے!!!وہ لڑاکا انداز میں بولی۔
“کچن میں جا کر دیکھتا ہوں ۔کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا تو ہاتھ میں ٹرے تھا جس میں چار بریڈ سلائس سینک کر رکھے گئے تھے ساتھ میں دو ہاف فرائی ایگ تھے ۔
اس نے ٹرے لاکر عائشہ کے سامنے رکھا۔
“ہے۔۔۔ےےےے۔۔۔یہ رات کے اس وقت بریڈ اور انڈہ کون کھاتا ہے ۔وہ رکھائی سے منہ بنا کر بولی ۔
“ایک تو سب کی نظروں سے چھپ چھپا کر محترمہ کے لیے بریڈ اور ایگ بنا کر لایا ہوں اور آپ کے ناک پر نہیں آ رہے ۔!!!
سارا کھانا لگتا ہے مہمان چٹ کر گئے فریج میں کچھ بھی نہیں تھا مجبورا یہی بنانا پڑا۔۔۔۔
“آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے میں نے کبھی کوئی کام خود نہیں کیا ۔اور آپ کے لیے پہلی بار کچھ بنا کر لایا ہوں اور کوئی تھینک یو نہیں کوئی عزت نہیں میری حد ہوگئی ۔۔۔۔
اور اوپر سے جان ہتھیلی پر رکھ کر سب کی نظروں سے چھپ کر آیا تاکہ لوگ مجھے پہلی رات کام کرتا دیکھ جورو کا غلام نا سمجھ لیں ۔اسکی بھی کوئی قدر نہیں ۔۔۔۔وہ مصنوعی ناراضگی سے منہ پھلا کر بولا۔
“ایک بات کہوں ؟؟؟وہ سلائس کے ساتھ ایگ کی بائٹ لے کر منہ میں رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔
وہ جو خفگی سے منہ موڑے ہوئے تھا اس کی بات پر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
“آپ روٹھے ہوئے بہت کیوٹ لگ رہے ہیں ۔۔۔۔وہ توصیفی انداز میں ہنستے ہوئے بولی ۔
“میں کوئی بچہ ہوں جو کیوٹ لگوں گا ۔تم ہینڈسم نہیں بول سکتی تھی ۔
“آپ کھائیں گے؟اسنے ارمان کی بات کو نظر انداز کیے اسے کھانے کی پیشکش کی۔
“بہت جلدی یاد آگیا ۔ختم ہولینے دیتی “۔اس نے ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔بھوک تو اسے بھی لگی تھی ۔اس سب میں اسنے بھی تو کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔
“چلیں نہیں تو نا سہی ۔۔۔عائشہ نے آخری سلائس منہ میں جلدی سے ٹھونس لیا۔۔۔۔اور ہنسنے لگی ۔۔۔۔
ارمان اپنے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھنے لگا اور پھر اس کے بھرے ہوئے منہ کو جو اب مسکرا کر اسے ٹھینگا دکھا رہی تھی ۔۔۔۔
“یہ تو نا انصافی ہوئی میرے ساتھ مجھے کھانے کے لیے کچھ نہیں ملا اب میں تمہیں کھا جاؤں گا “وہ اپنے دونوں ہاتھ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
عائشہ اپنی جگہ سے اٹھ کر بھاگی تو وہ اس کے پیچھے پیچھے ۔۔۔
کبھی وہ بیڈ پر چڑھتی تو کبھی بھاگ کر صوفے پر ۔۔۔۔تھوڑی دیر بھاگنے کے بعد وہ دونوں ہانپتے ہوئے بستر پر گرے اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ہنسنے لگے ۔۔۔۔۔
“سو جاؤ بہت وقت ہوگیا ہے “ارمان نے مسکرا کر اس کے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیر کر ان کی نرمائی محسوس کرتے ہوئےکہا ۔۔۔تو دونوں اپنی اپنی اطراف میں لیٹ کر تھوڑی ہی دیر میں نیند کی آغوش میں چلے گئے۔۔۔۔۔
علی اپنے روم کا دروازہ کھول کر اندر آیا تو وہ ڈریسر کے سامنے کھڑی تھی۔ ابھی اس نے اپنی جیولری اتارنا شروع ہی کی تھی ۔۔۔۔۔
“اس مصیبت کو تو میں بھول ہی گیا تھا کہ آج سے یہ میری زندگی عذاب بنانے میرے ہی کمرے میں میرے سر پر سوار ہونے والی ہیں ۔”وہ منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اندر آیا اور ڈور لاک کیا۔۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا وہ بالکل سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔
آرزو جو ہاتھوں میں پہنی ہوئی سرخ اور گولڈن امتزاج کی چوڑیوں کو اتار رہی تھی ۔۔۔۔اس کے تیور دیکھ کر ٹھٹھ
