Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 26)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

“ڈیڈ آپ مجھے ٹھیک سے بتائیں آپ دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا تو نہیں ہوا ؟؟”

“نہیں علی جھگڑا نہیں ہوا ۔۔۔میں نے سدھانت اگروال کو اس کے ساتھ باہر گیٹ پر باتیں کرتے دیکھا تو مجھے غصہ آگیا ۔۔۔۔جو لڑکا ہمیں برباد کرنے کی کوشش میں یہاں تک پہنچ گیا آن آرام سے کھڑے اس کی باتیں سن رہی تھی.

اسکے ساتھ کھڑی تھی بس یہی دیکھ کر مجھے غصہ آگیا ۔مگر میں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا۔

“ڈیڈ بڑی مام کو کیا پتہ کہ وہ گھٹیا انسان کیا کرتا پھر رہا ہے ۔آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا “

“وہ بے وقوف میرے وقتی غصے کو جانے کیا سمجھ بیٹھی ۔۔۔میں کب سے اسے ڈھونڈ رہا ہوں مگر گھر میں وہ کہیں نہیں ۔۔۔

“ڈیڈ کہیں سدھانت تو نہیں انہیں اپنے ساتھ ؟؟؟؟”

“نہیں وہ یہیں کھڑی تھی جب میں نے دیکھا تھا اسے ۔۔۔ تب تک سدھانت جا چکا تھا۔

“پھر بڑی مام گئی کہاں ؟؟؟

“میں سب قریبی رشتہ داروں کے ہاں کالز کر کہ پوچھ چکا ہوں وہ کہیں بھی نہیں “”اکبر نے پریشان کن انداز میں کہا۔

“ڈیڈ میں اپنی گاڑی میں ڈھونڈھتا ہوں انہیں آپ بھی دوسری گاڑی میں جائیں ۔جسے بھی پہلے پتہ چلے ان کا وہ دوسرے کو بتا دے ۔۔۔

“ٹھیک ہے چلو “وہ دونوں ایک ساتھ اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسے ڈھونڈھنے نکل گئے ۔۔۔۔

رات کے اس پہر کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ان کی سانسوں کی مدھم آواز کمرے میں گونجا رہی تھی کہ سائیڈ ٹیبل پر پڑے موبائل فون کی بیل نے اسکی نیند میں خلل ڈالا۔

ارمان جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی سویا تھا ۔

اپنے موبائل پر اس وقت کسی کی کال آتے دیکھ فورا ہاتھ بڑھا کر فون اٹھا گیا۔۔۔۔

“ہیلو “اس کی نیند میں بوجھل آواز ماوتھ پیس پر ابھری ۔

“کہاں ہے تو “؟

“ارمان نے پہلے اپنی آنکھوں پر زور ڈال کرموبائل کی سکرین پر دیکھا جہاں علی کا نام دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔

پھر اس کے پوچھے گئے سوال پر اپنی بانہوں کے گھیرے میں اپنی نئی نویلی دلہن کو دیکھا جو اس کے سینے میں منہ چھپائے خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہی تھی ۔

“جنت میں “ارمان نے مسکرا کر اسکے سوال کا جواب دیا۔

“تیری اصل جگہ تو دوزخ میں ہے تو کیسے جنت میں پہنچ گیا “علی نے اسکے الٹے جواب پر الٹا ہی وار کیا۔

“قسم سے رات کے اس پہر مجھے کال کرنے والا تو بالکل دوزخ کے باہر کھڑا پہرہ دار لگ رہا ہے ،جو پکڑ پکڑ کے دوزخ میں ڈالتا ہے “ارمان نے اپنی نیند خراب ہوجانے پر بیزاری سے کہا۔۔۔

“بتا کیوں فون کیا ؟؟؟ارمان نے پوچھا۔

“تجھ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے دفعہ ہوجا دوبارہ سے اپنی جنت میں “وہ بھڑک کر بولا۔

“زرا تمیز سے بات کر اب تیرا بہنوئی ہوں “ارمان نے اس پر رعب جھاڑنے کی کوشش کی ۔

“تجھے خوشی نہیں تیری شادی کی ،مجھے تو ہے ۔تو شاید بھول گیا میری بھی آج ہی شادی ہوئی ہے ۔”

“تو مل دیکھنا کیسے تیری عزت افزائی کرتا ہوں “وہ تلخ لہجے میں کہتے ہوئے فون کاٹ گیا۔۔۔۔

وہ جو آن فاطمہ کو ڈھونڈھنے میں ارمان کی مدد لینے والا تھا اس کی باتیں سن غصے میں کال کاٹ گیا۔۔۔

کئی کلو میٹر تک وہ روڈ کے اطراف میں دیکھتا ہوا گاڑی دوڑاتا رہا ۔پھر راستے میں آنے والے ہسپتال بھی چیک کر چکا تھا کہیں سے بھی اسے آن فاطمہ کے بارے میں پتہ نہیں چلا ۔اسی لیے اس نے تھک ہار کر ارمان سے مدد لینے کے لیے فون کیا۔

“ہیلو ڈیڈ !

“کچھ پتہ چلا ؟؟؟علی نے فون پر اکبر سے پوچھا

“نہیں علی ہر جگہ ہر موڑ پر دیکھ چکا ہوں اسکا کوئی سراغ نہیں مل رہا “

اکبر سے پریشانی سے کہا ۔۔۔۔

“ڈیڈ ابھی ایک چھوٹے سے گورنمٹ ہاسپٹل کے سامنے رکا ہوں ۔اس میں دیکھتا ہوں ۔وہ اکبر سے بات کرتے ہوئے گاڑی لاک کیے اندر آ رہا تھا ۔

ابھی اندر داخل ہی ہوا تھا کہ سامنے سٹریچر پر آن فاطمہ کو خون سے لت پت دیکھ وہ بھاگ کر اس کے قریب آیا۔

“بڑی مما !!!اس نے حیرانی سے اس کا گال تھپتھپاکر کر کہا۔

“علی بتاؤ مجھے آن ملی ہے ؟؟؟فون پر موجود اکبر نے فون پر اس کی آواز سن کے اندازہ لگایا۔

“جی ڈیڈ بڑی مما مل گئی ہیں ۔میں آپ کو ہاسپٹل کی لوکیشن سینڈ کرتا ہوں آپ جلدی آئیں۔

“ڈاکٹرز آپ ان کو ٹریٹ کیوں نہیں کر رہے ؟؟؟وہ قریب سے گزرتے ہوئے ایک ڈاکٹر کو روک کر بولا۔

“دیکھیں پیشنٹ کے ساتھ کوئی ہے ہی نہیں ۔کچھ لوگ انہیں یہاں چھوڑیں جا چکے ہیں۔یہ ایکسیڈینٹ کیس ہے ۔ایسے کیسے ؟؟؟؟

اس سے پہلے کہ ڈاکٹر کی بات مکمل ہوتی ۔وہ درمیان میں بولا۔

“ڈاکٹر میں ان کا بیٹا ہوں ۔جو بھی ہاسپٹل کا پرسیجر ہے میں کرنے کو تیار ہوں ۔آپ پلیز انہیں ٹریٹمینٹ دیں۔

“اوکے “

ڈاکٹر کے اشارہ کرنے پر نرس اور وارڈ بوائے ملکر اس کا سٹریچر لیے آئی۔سی ۔یو کی طرف بڑھ گئے۔۔۔

“کہاں ہے آن ؟”اکبر نے وہاں پہنچ کر پوچھا ۔

“ڈیڈ وہ اندر ہیں “اس نے آپریشن تھیٹر کی طرف اشارہ کر کہ بتایا۔

“پیشنٹ کا کافی خون بہہ گیا ہے انہیں فوری خون کی ضرورت ہے پلیز ان کے لیے بلڈ ارینج کریں”نرس نے باہر آکر بتایا۔

” آپ میرا خون لے لیں “اکبر نے آگے بڑھ کر کہا۔

“آئیے میرے ساتھ سیمل لے کر چیک کرلیتے ہیں کہ آپ کا بلڈ گروپ پیشنٹ سے میچ کرتا ہے یا نہیں ۔وہ اسے ساتھ لے گئی۔۔۔

سوری سر آپ کا بلڈ گروپ سیم نہیں۔

اکبر کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی مانند کوندا۔۔۔۔

اس وقت آن فاطمہ کی جان سے بڑھ کر کوئی راز نہیں کچھ نہیں میرے لیے ۔جسے جو پتہ چلنا ہے چل جائے ۔

“علی !!!!

اکبر نے کھوئے ہوئے اس آواز دی ۔

“جی ڈیڈ “

“بیٹا اپنا بلڈ گروپ ٹیسٹ کرواؤ “

“جی ڈیڈ “اسنے مؤدب انداز میں کہا اور نرس اس کا بلڈ سیمپل لینے لگی۔۔

کچھ دیر میں رپورٹ کے بعد پتہ چل گیا کہ علی کا بلڈ گروپ اس سے میچ کر گیا ہے۔

علی نے ایک بوتل خون دے دیا۔۔۔۔

اکبر اس سے نظریں چرائے ہوئے تھا۔جبکہ علی شاکی نگاہوں سے اپنے ڈیڈ کا جائزہ لے رہا تھا۔

“ڈیڈ آپ مجھے بتائیں گے یا میں خود پتہ کر لوں ؟”اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

“کیا علی ؟”

“وہی جو آپ مجھ سے چھپا رہے ہیں “.

“تمہیں پتہ ہے میں تم سے کچھ نہیں چھپاتا ۔سب سیکرٹ صرف ہم باپ بیٹے کے درمیان ہی رہتے ہیں۔

“ڈیڈ مگر مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ابھی بھی ایسا کچھ ہے جو آپ نے مجھ سے چھپایا ہوا ہے “

“علی مجھے مجبور مت کرو ۔میں کسی کے وعدے کا پابند ہوں “

“مگر مجھے جاننا ہے “وہ بضد ہوا۔

‘میری ایک شرط ہے ۔۔۔

“وہ کیا “

“تم بات جاننے کے بعد میری ایک بات مانو گے ۔

“ٹھیک ہے ڈیڈ “اب جلدی بتائیں ۔

“آن فاطمہ ہی تمہاری اصل ماں ہے ۔اسنے تمہیں پیدا کیا۔مگر حرعین اور میرے بیٹے کی موت کی وجہ سے آن نے تمہیں حرعین کی گود میں ڈال دیا۔

حرعین یہ بات نہیں جانتی کہ تم اس کے بیٹے نہیں ۔اور اسی بات کو ہمیشہ راز رکھنے کا وعدہ آن فاطمہ مجھ سے لے چکی ہے ۔میں نہیں چاہتا کہ آن کو پتہ چلے کہ میں نے اس کا وعدہ توڑا۔میں اس کی قربانی کو رائگاں نہیں جانے دوں گا۔

اور نا ہی یہ چاہتا ہوں کہ حرعین کو دُکھ ملے ۔یہ جان کر کہ تم اس کی سگی اولاد نہیں ۔تم سمجھ رہے ہو نا میری بات ۔

وہ اپنی جگہ ساکت کھڑا رہ گیا۔۔۔

مگر جلد ہی خود کو کمپوز کیے بولا۔

“ڈیڈ اس بارے میں ہم دوبارہ بات نہیں کریں گے ۔یوں سمجھیے نا آپ نے کچھ کہا اور نا میں نے کچھ سنا۔

پہلے بھی میری مما اور بڑی مما میرے لیے برابر تھیں اور سچ جاننے کے بعد بھی برابر رہیں گی۔

“I am proud of you my son.

اکبر نے علی کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

آن فاطمہ کو وارڈ میں منتقل کردیا گیا ۔

اس کے سر پر سٹیچز لگے تھے خدا کا شکر تھا کہ اندورنی چوٹیں نہیں آئیں تھیں۔اس کا رائٹ بازو فریکچر ہو گیا۔

باقی جسم پر بھی کئی جگہ چوٹیں اور خراشیں آئیں تھیں ۔وہاں بینڈج کر دی گئی تھی۔

“ابھی انہیں ہوش میں آنے میں چند گھنٹے لگ جائیں گے ۔نرس نے انہیں مطلع کیا۔

علی آکر کر اس کے پاس کھڑا ہوا ۔۔آن فاطمہ غنودگی میں تھی ۔اس کے ایک ہاتھ پر کینولہ لگا ہوا تھا ۔جس میں سے ڈرپ کے قطرے گرتے ہوئے اندر جا رہے تھے ۔۔۔

اس نے آن کے پاس آتے ہی اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے ۔

“I love you mom.

اس کے لبوں سے سرگوشی نما آواز میں یہ لفظ نکلے ۔۔۔۔اگر آن فاطمہ ہوش میں ہوتی تو کتنا خوش ہوتی اس کے منہ سے یہ الفاظ مام سن کر ۔

وہ اپنی مام کو پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پیچھے ہوا ۔۔۔۔

“علی بیٹا تم گھر جاؤ ساری رات ہوگئی ہے تمہیں جاگتے ہوئے جا کر آرام کر لو “

“ڈیڈ مجھے عادت ہے اس سب کی آپ جاکر آرام کرلیں ۔میں رکتا ہوں ان کے پاس ۔

“نہیں علی تم گھر جاؤ ۔مجھے تب تک سکون نہیں آنا جب تک آن کو ٹھیک دیکھ کر اس سے بات نا کر لوں “

“چلیں ٹھیک ہے ڈیڈ جیسے آپ کو ٹھیک لگے ۔بڑی مما کا خیال رکھیے گا “

وہ کہتے ہوئے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔اکبر آن فاطمہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیے اسے نہار رہا تھا۔

اس کے چلے جانے کے بعد آرزو نے اپنا ایک سوٹ لیا اور واش روم میں چلی گئی فریش ہو کر وضو کیا پھر جائے نماز بچھائے اس نے تہجد کی نماز ادا کی ۔

“جب انسان اپنے رب سے دور ہوجاتا ہے تو سب سے دور ہوجاتاہے۔

“اپنے رب کو بھلا کر انسان کبھی خوش نہیں رہ پاتا اس بات کا اندازہ اسے آج ہوا تھا۔

وہ اپنے رب کو بھول چکی تھی ۔اس کے احکامات بھول چکی تھی کہ وہ کیوں اس دنیا میں آئی ہے ۔کئی کئی دن نماز نا ادا کرنا اور نا ہی تلاوت کرنا جب سے ہاتھ میں موبائل آیا تھا وہ سوشل میڈیا کی رنگینیوں میں اس قدر ڈوب چکی تھی کہ اپنے اصل کو بھلا بیٹھی ۔

اس سوشل میڈیا کو انسان اپنے لیے مثبت طریقے سے بھی استعمال کر سکتا ہے اور منفی بھی ۔یہ استعمال کرنے والے انسان پر ڈیپینڈ کرتا ہے ۔اس نے اس کا منفی استعمال کیا۔

سدھارت کا پیج دیکھ کر اس کے لاکھوں فالوورز دیکھ کر ،اس کے کمینٹ سیکشن میں آنے والے لاکھوں تعریفوں بھرے میسجز دیکھ کر امپریس ہوئی ۔کوئی نا کوئی بات تو ہوگی اس انسان میں جو لاکھوں لوگ اس کے پیچھے پاگل ہیں ۔وہی عام سی پراگندہ سوچ،اور بس اتنے بڑے آرٹسٹ کو دیکھ کر اسے کی اٹینشن کی چاہ میں وہ کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی۔۔۔یہاں تک کہ وہ اپنے مذہب کو بھلائے ہوئے اس کی باتوں میں آکر چرچ میں شادی کرنے چلی تھی ۔

“پیار کے نام پر ایسے دھوکے دینے والے اور لڑکیوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں سے یہ سوشل میڈیا بھری پڑی ہے۔یہ تو خود ایک لڑکی پر ہے کہ وہ خود کو کیسے محدود رکھے ان سب سے کیسے اس کا جائز استمعال کرے ۔”

“میں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد کی ہے ۔

“اللّٰہ تعالیٰ آپ تو دلوں کے بھید خوب جانتے ہیں ۔میں صدق دل سے معافی کی طلبگار ہوں ۔میں مانتی ہوں مجھ سے گناہ ہوئے ۔مگر آپ تو رحمان و رحیم ہیں ۔بخشنے والے ہیں۔آپ نے کہا ہے کہ میرے در پر آنے والے گنہگاروں کے لیے توبہ اور معافی کے در ہمیشہ کھلے رہے گے ۔مجھے معاف کردیں ۔

“میں اپنے شوہر کے دل میں جگہ بناؤں گی ۔اس سے بھی معافی مانگ لوں گی ۔اے باری تعالیٰ میرے شوہر کے دل میں بھی میرے لیے نرمی پیدا فرمادیں۔۔۔۔وہ دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھائے رب سے مخاطب تھی ۔۔۔۔۔

نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو جا کر بستر پر لیٹ گئی وہ ابھی تک واپس نہیں آیا تھا صبح کی پو پھوٹنے ہی والی تھی ۔۔۔علی کے رات والے سلوک کے بارے میں سوچتے ہوئے اس نے آنکھیں موند لیں ۔۔۔۔

علی نے واپس آکر روم کا دروازہ کھولا تو وہ سامنے اسی کے بستر پر نیند کی آغوش میں تھی ۔۔۔۔

ہلکے پنک رنگ کے کپڑوں میں جس پر چھوٹی چھوٹی گلاب کی کلیاں بنی ہوئی تھی۔ لائٹ پنک کلر کا ہی دوپٹہ شانے کے ایک طرف لٹک رہا تھا اور باقی بستر سے نیچے ۔۔۔۔

وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا ۔شوز اتار کر ایک طرف رکھے اور بستر پر اس کے برابر میں اپنی جگہ لیٹ گیا۔۔۔۔

چہرے پر گھنگھریالے نم بال بکھرے ہوئے تھے ۔اس نے ایک ہاتھ کی انگلی سے انہیں ہٹایا۔۔۔یوں لگا جیسے چاند بدلی کی اوٹ سے نکل آیا ہو۔۔۔اس کے نم بالوں کی ایک لٹ کو انگلی پر لپیٹا پھر چھوڑ دیا۔۔۔۔

“کیوں کرتی ہو ایسے کام جو مجھے غصہ آجاتا ہے اور میں نا چاہتے ہوئے بھی وہ کر بیٹھتا ہوں جو میں تمہارے ساتھ نہیں کرنا چاہتا “

دراز خمیدہ مژگانیں شہابی گالوں پر ساکت تھیں،نگاہیں اس کے ہوشربا سراپے میں الجھ کر رہ گئیں۔۔۔۔

وہ تو اسے اتنے قریب سے دیکھ کر پچھتایا۔۔۔۔

اس کی دراز پلکوں پر آہستگی سے ایک جسارت کر ڈالی ۔

اس سے پہلے کے اس کے صبر کا پیمانہ چھلک جاتا وہ اس سے نگاہیں چرائے محو استراحت ہوا۔۔۔۔

مگر گستاخ دل اسے بار بار ایک بار پھر سے دیکھنے پر اکسانے لگا۔۔۔۔

اس نے آرزو کے گرد اپنی بازو کا حصار بنایا۔

وہ جو اس کے قریب آتے ہی جاگ چکی تھی ۔اس کی کلون کی مخصوص مہک اپنے اتنے قریب محسوس کیے۔جو اس کے رگ و پے میں سرایت کر رہا تھا۔

اوپر سے اس کی بات اور اور پیار بھرا انداز ُسن وہ دنگ رہ گئی۔۔

“تو کیا وہ پہلے سے ہی اس کے لیے اپنے دل میں جذبات رکھتا تھا۔؟

اس نے من میں سوچا۔

اور اب ایک دم سے اسے اپنے حصار میں لینا ۔کہیں میں واقعی میں خواب تو نہیں دیکھ رہی ۔؟آنکھیں ہنوز بند رکھیں ۔کہیں میں آنکھیں کھولوں اور وہ مجھے جاگتے دیکھ اپنے رات والے روپ میں واپس نا لوٹ آئے۔۔۔۔

میرا رب بہت غفور و رحیم ہے میری سچے دل سے کی گئی توبہ اتنی جلدی قبول ہو جائے گی ۔میں نے تو سوچا نہیں تھا۔سچ ہے بلاشبہ وہ مہربان رب ہر چیز پر قادر ہے۔اس کے خزانوں میں کسی بھی چیز کی کمی نہیں۔بس صدقِ دل سے ہاتھ اٹھانے کی دیر ہے ۔

وہ بے حس و حرکت اس کے قریب رہی ۔مگر اس کی قربت سہارنا بھی دوبھر لگ رہا۔۔۔۔تھوڑی ہی دیر میں دونوں ساری رات جاگنے کے باعث نیند کی وادیوں میں کھو گئے۔۔

“اگلا نیا دن طلوع ہوا تو آفندیز کے گھر خوشیوں کا بسیرا تھا ۔صبح صبح

گھر میں معمول سے زیادہ چہل پہل تھی۔

آفندی ہاؤس میں عابدہ آفندی صبح جلدی ہی اٹھ چکی تھیں اور ملازمین سے ڈھیر سارے انواع و اقسام کے ناشتے کے لوازمات تیار کروا چکی تھیں۔

“بچے ابھی اٹھے نہیں “ابراہیم آفندی نے پوچھا۔

“ابھی کہاں ؟؟؟اٹھ جائیں گے آپ فکر نا کریں “

عابدہ آفندی نے کہا۔

عیسی گیلانی کا فون آیا تھا بتا رہے تھے کہ عائشہ کی والدہ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ۔مگر اب ان کی حالت بہتر ہے ۔جس کی وجہ سے وہ لوگ ناشتے کی رسم کے لیے نہیں آ سکیں گے اسی لیے تمہیں کہا ناشتہ بنوانے کو ۔

“کوئی بات نہیں بچے اٹھ جائیں گے توانہیں بتا دیں گے اس طرح اچانک بتایا تو پتہ نہیں کیسے ری ایکٹ کریں ۔

“ہممم ٹھیک ہے “بچے اٹھ جائیں تو ملکر ناشتہ کرتے ہیں پھر ان کی عیادت کے لیے جائیں گے سب “

“جی ٹھیک ہے ۔میں دیکھتی ہوں مہمانوں نے ناشتہ کیا یا نہیں “عابدہ آفندی اپنی جگہ سے اٹھ کر اندر بڑھ گئی ۔۔۔۔

اس نے کروٹ بدلنی چاہی تو خود کو کسی کی گرفت میں محسوس کیے اپنی مندی ہوئی آنکھوں کو کھول کر دیکھا۔۔۔

اسے اپنی گردن کے قریب کسی کی گرم سانسوں کی تپش محسوس ہوئی۔

عائشہ نے اپنے بال دیکھے جو کھلے ہوئے آدھے تکیے پر تھے اور آدھے اس کے چہرے کو چھپائے ہوئے تھے ۔میرے اپنے ہی چہرے پر میرے بال آجائیں تو مجھے کتنی کوفت ہوتی ہے اور یہ ہیں۔۔۔

کتنے مزے سے وہ اس کے گیسوؤں تلے سو رہا تھا۔

اس نے اپنے بال سمیٹ کر پیچھے کیے

اور اس کی بازو ایک طرف کرتے ہوئے اٹھ بیٹھی ۔۔۔

سب کچھ کتنا بدل گیا ہے نا .اس نے بالوں کو جوڑے میں لپیٹتے ہوئے دل میں سوچا۔

“کبھی کبھار زندگی میں ایسا سب ہوجاتا ہے جس کا ہمیں گمان بھی نہیں ہوتا ۔اس نے کمرے میں نظر دوڑائی ۔۔۔

صاف ستھرا سا نفاست سے سجایا گیا تھا ۔کنگ سائز بیڈ جس پر وہ بیٹھی ہوئی تھی سامنے ڈریسر اور ڈریسر کے ساتھ ایک ڈور لگا تھا ۔شاید وہ ڈریسنگ روم تھا ۔دیوار پر ارمان آفندی کی انلارج سائز کی تصویر لگی ہوئی تھی جس میں وہ جینز اور ہڈی پہنے ہمیشہ کی طرح مسکرا رہا تھا ہاتھ میں گٹار تھا ۔۔۔

“اُف اب کیا کہوں انہیں ؟؟نام تو نہیں لے سکتی ۔۔۔

“ُسنیں اٹھیں نا پلیز “اس نے ارمان کا شانہ ہلا کر اسے اٹھانا چاہا ۔۔

“سونے دو نا یار “اس کی نیند سے بوجھل آواز سنائی دی۔

“باہر سے سب کی آوازیں آ رہی ہیں سب جاگ گئے ہوں گے ۔پلیز باہر چلیں نا ۔”

“یار رات کو تمہارا بھائی نہیں سونے دیتا اور صبح تم “

وہ خفگی بھرے انداز میں بولا۔

“میں نے کیا کہا ہے ؟جائیں میں نہیں بولتی آپ سے “وہ خود منہ پھلا کر بستر سے نیچے اترنے لگی۔

“اچھا پہلے مجھے مناؤ اور گڈ مارننگ وش کرو پھر اٹھوں گا۔

“ایسے ہی خواہ مخواہ۔۔۔۔ناراض میں ہوں آپ کو مجھے منانا چاہیے اور آپ خود ناراضگی دکھا رہے ہیں”

“آپ کس خوشی میں ناراض ہیں “؟

وہ اٹھ کر بیٹھتے ہوئے بولا۔

“ناراض خوشی میں تھوڑا نا ہوا جاتا ہے ۔آپ نے صبح صبح مجھے ڈانٹا ۔اسی لیے ناراض ہوں “

“اچھا اور ایسا کب ہوا ؟؟؟میں نے کہاں ڈانٹا ؟؟

“ابھی کہا نہیں کہ تم اور تمہارا بھائی مجھے ۔۔۔۔۔

“اوہ اچھا وہ ۔۔۔۔۔وہ سرکھجاتے ہوئے خفیف سا مسکرا دیا۔

“میں اپنے بھائی کے بارے میں کوئی بات نہیں سنوں گی ۔اس نے انگلی اٹھا کر دھمکی دی ۔

“اچھا جی اپنے معصوم سے شوہر پر پہلے دن ہی پابندیاں ۔۔۔۔

“بات سنیں نا …..وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولی ۔۔۔

“جی سنائیں نا ۔۔۔۔وہ پیار بھرے انداز میں بولا۔

“میں ان کپڑوں میں باہر نہیں جاؤں گی ۔پلیز آپ آپی سے کپڑے لا دیں ۔

“ہاں یہ تو ہے بھابھی سے لے لو “

“میں کیسے باہر جاؤں آپ لا کر دیں۔

“تم تو پکا مجھے جورو کا غلام کہلوا کر رہو گی سب ۔”اچھا ایک منٹ رکو یہ موبائل کس بلا کا نام ہے ۔ابھی دیکھو ۔

ہیلو !

دوسری طرف سے سلطان کی فریش سی آواز آئی ۔

“ہیلو بھائی ۔گڈ مارننگ ۔سوری ٹو ڈسٹرب یو ۔بھابھی سے بات کروا دیں عائشہ نے بات کرنی ہے۔”اس نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ دی ۔

“اچھا رکو “

“قرت !!!!

“جی “

“عائشہ سے بات کرلو “اس نے فون قرت العین کی طرف بڑھایا۔