Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 11)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
آج سارا دن ان دونوں نے مل کر گزارا خوب باتیں کیں۔۔۔شام کا کھانا بھی باہر ہی بیٹھ کر کھایا ۔۔۔۔
رات کی سیاہی نے چاروں اوڑھ اپنے پنکھ پھیلا لیے تھے ۔۔۔۔
مگر آسمان سرخی مائل تھا۔۔۔موسم ابر آلود دکھائی دے رہا تھا۔ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے بارش کی آمد سے مطلع کر رہے تھے ۔۔۔دیکھتے ہی دیکھتے موسم نے انگڑائی لے اور گھنگھور گھٹائیں برسنے کو بے تاب ہوئیں ۔۔۔۔
ہلکی پھلکی برستی بوندوں نے اب تیز بوچھاڑ کا روپ دھار لیا۔۔۔۔
“حورعین اندر چلو “بارش تیز ہو رہی ہے “اکبر نے اسے کہا اور ہاتھ پکڑ کر اندر لے جانا چاہا ۔۔۔۔
“پلیز اکبر مجھے اس برستی بارش میں آپ کے ساتھ بھیگنا ہے ۔۔۔”وہ آسمان کی طرف اپنا چہرہ اٹھا کر اوپر دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ۔۔۔مگر تیز بارش نے اسے جلد ہی آنکھیں بند کرنے پر مجبور کردیا ۔
“پاگل ہو اس بارش میں بیمار پڑ جاؤ گی “
“آپ ہیں نا مجھے سنبھالنے کے لیے “وہ مسکرا کر بولی ۔
آن فاطمہ جو کھلی ہوئی کھڑکی کا پردہ برابر کرکہ کھڑکی بند کرنے آئی تھی کہ بارش اندر نا آئے ۔۔۔ لان میں اکبر اور حورعین کو ایک ساتھ بارش میں بھیگتا ہوا دیکھ اس کے لبوں پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھری ۔۔۔۔
وہ کھڑکی بند کرتے ہوئے آسودگی سے اپنے بستر پر آکر لیٹ گئی ۔۔۔۔
اور سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔اسے جلدی اٹھ کر تہجد بھی ادا کرنی تھی اور آج رات اکبر بھی حرعین کے پاس رکنے والا تھا ۔اسی لیے وہ مطمئن سی اکبر کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کے بارے میں سوچتے ہوئے میٹھی سی مسکان لیے نیند کی آغوش میں چلی گئی ۔۔۔۔۔
“وہ تو ہے میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں “اکبر نے اس کے شانے کے گرد اپنا حصار بنا کر کہا ۔
“چلو نا اندر مجھے تمہیں ایک ضروری بات بھی بتانی ہے “
“تو پھر یہیں بتائیں نا ! ” اب مجھ سے صبر نہیں ہونا جلدی بتائیں ۔۔۔”
“نہیں یہاں نہیں اندر جا کر آرام سے بات کریں گے “
“دیکھو سردی سے تمہارے ہونٹ نیلے پڑ رہے ہیں ۔۔اب بس کرو چلو اندر کافی بھیگ چکے ہیں ہم ۔۔۔بخار ہو جائے گا ۔۔۔۔
“نہیں اکبر ابھی نہیں ابھی اور …..”
اکبر نے مسکرا کر اس کے ضدی انداز کو دیکھا مگر اس کے چہرے کی نیلاہٹ میں اضافہ ہوتے دیکھ اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اندر کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
“یہ کیا کر رہے ہیں اکبر مجھے نیچے اتاریں کوئی دیکھ لے گا ….
اس نے دونوں پاؤں جھلاتے ہوئے کہا ۔
“دیکھتا ہے تو دیکھ لے اپنی بیوی کو ہی اٹھایا ہے کسی غیر کو تو نہیں ۔۔۔”
وہ اسے لیے اندر آیا اور نیچے اتارا ۔۔۔
حورعین اپنے کپڑے لیے واش روم میں چلی گئی اور چینج کیے باہر آئی تو اکبر بھی گیلے کپڑے چینج کیے اب ٹراؤزر اور شرٹ پہنے آیا ۔۔۔
حرعین ڈریسر کے سامنے سٹول پر بیٹھے ٹاول سے بال سکھا رہی تھی ۔۔
اکبر نے ڈریسر پہ پڑا ہوا برش اٹھایا اور اس کے بال سلجھانے لگا ۔۔۔
“میں کر لوں گی “حرعین نے اس کے ہاتھ سے برش لینا چاہا ۔۔۔کیونکہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ اکبر اس طرح کرے ۔۔۔
“کیوں تمہیں اچھا نہیں لگا حور “
وہ آئینے میں ہی اسکی طرف دیکھ کر بول رہا تھا ۔
“حور “لفظ سن کر اسے کے لبوں کے گوشوں پہ مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔جو آہستہ آہستہ ہنسی میں تبدیل ہو گئی ۔
“آپ کو پتہ ہے آپ نے آج میرے دل کی بات جان لی ۔۔۔میری کتنی خواہش تھی کہ آپ مجھے اس نام سے بلائیں ۔۔۔آپ نے کیسے جان لیا سب ؟؟؟
وہ اکبر کہ طرف پلٹ کر استفسار کرنے لگی ۔
“دل کو دل سے راہ ہوتی ہے جب دل ملتے ہیں تو ایک کے دل میں کیا چل رہا ہے دوسرا دل خود ہی جان لیتا ہے ۔”وہ دلنشیں انداز میں ٹہر ٹہر کر بولا ۔
وہ اس کے سحر میں خود کو جکڑا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔یک ٹک اس کے خوبرو چہرے پر نظر جمائے ہوئے تھی ۔
“چلو اب بستر میں لیٹ جاؤ ۔۔۔آرام کرو “وہ اس کا گال تھپتھپاکر کر بولا اور بستر کی ایک طرف آکر لیٹا ۔تو حرعین دوسری طرف آگئی اور پاؤں پسارے کمفرٹر کھول کر اوپر لیا ۔۔۔۔
“یہ دیکھو کیسا ہے “؟
اکبر اپنا موبائل کھولے اس میں سے کچھ سرچ کرنے کے بعد سکرین کا رخ حرعین کی جانب کیے مشورہ لے رہا تھا ۔
“یہ تو موبائل ہے !
“ہاں موبائل ہی ہیں ۔مگر ان میں سے پسند کر لو کونسا چاہیے ۔”
“مگر میرے پاس تو موبائل فون ہے ۔۔۔”
“تمہارے پاس تو ہے مگر آن فاطمہ کے پاس نہیں “
“اوہ ۔۔۔اچھا ۔۔۔۔وہ تکیہ درست کیے بولی ۔
“ویسے وہ ضروری بات کیا تھی اب بتائیں “
“ہممم۔مجھے بتانا یہ تھا کہ مجھے ایک سیکرٹ مشن کے سلسلے میں آؤٹ آف سٹی جانا ہو گا ۔۔۔”
“اس میں کونسا نئی بات ہے آپ پہلے بھی تو جاتے ہی ہیں نا “
“پہلے کی بات اور تھی میں ایک دو ماہ میں واپس آجاتا تھا مگر اس بار شاید مجھے کچھ ماہ لگ جائیں “
“اسی لیے میں آن فاطمہ کے لیے بھی موبائل خریدنا چاہتا تھا کہ بات ہو سکے ۔۔۔
اگر اسے لے کر دے رہا ہوں تو تمہارے لیے بھی خریدنا چاہتا ہوں ۔
تم پسند کر لو ایک دو دن میں ڈیلور ہو جائے گا دونوں کا ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے “وہ سکرین سکرول کر کہ موبائل فون دیکھنے لگی ۔۔۔
“یہ ۔۔۔یہ والا اچھا ہے “اس نے ایک نیو ماڈل موبائل فون پسند کیا ۔
“ٹھیک ہے “
اکبر نے ویسے دو موبائل فون آرڈر کر دئیے ۔
“مجھے صبح جلدی نکلنا ہے “میں پیکنگ کر لیتا ہوں “
“آپ بیٹھیں میں کر دیتی ہوں “
“نہیں تم رہنے دو میں خودی کر لوں گا ۔۔۔”تم آرام کرو ۔۔۔۔
“اچھا چلو بعد میں کر لوں گا ادھر آؤ “
اس نے تکیے پر بازو پھیلائی تو حرعین نے اس پہ اپنا سر رکھا ۔۔۔۔
“شکریہ اکبر “وہ اسے دیکھ کر بولی ۔
“وہ کس بات کا “؟
“آج کا سارا دن میرے نام کرنے کا “
مجھے بہت اچھا لگا آج سارا دن آپکے ساتھ باتیں کرنا ،آپ کو اپنے اتنے قریب محسوس کرنا ۔۔۔۔
“مجھے بھی “
وہ اس کے نم بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلا رہا تھا ۔۔۔حور اس کے پیار بھرے لمس سے سکون محسوس کرنے لگی اور جلد ہی پرسکون نیند سو گئی ۔۔۔۔
اکبر بھی اپنی واپسی کے متعلق سوچتے ہو سو گیا ۔۔۔
“فجر کی آذان پہ اس کی جاگ کھلی وہ جلدی سے بستر سے نیچے اترا اور پہلے کبرڈ کے اوپر سے بیگ اتارا اور اپنا یونیفارم اور کچھ ضروری سامان اس میں ڈالا ۔۔۔۔
پھر وضو کیے آج مسجد جانے کی بجائے وہیں نماز ادا کی ۔۔۔اور کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی پہ وقت دیکھتے ہوئے حرعین کے پاس آیا ۔اس پہ نظر ڈالی جو ابھی بھی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔حرعین !اس نے دھیرے سے آواز دی ۔۔۔اٹھ کر نماز پڑھ لو ۔۔۔
“جی ابھی اٹھ جاؤں گی “اس کی نیند سے بوجھل آواز سنائی دی ۔۔۔۔۔
“میں جا رہا ہوں “اس نے بتانا ضروری سمجھا ۔
“جی اچھا “اس نے بمشکل تھوڑی سی آنکھیں کھول کر دیکھا ۔۔۔۔اکبر نے اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھے ۔۔۔
“اپنا خیال رکھنا “
حرعین نے مندی ہوئی آنکھوں سے فقط سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
وہ اس کی طرف ایک مسکراہٹ اچھالتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
اب اس کا رخ آن فاطمہ کے کمرے کی طرف تھا ۔۔
اکبر نے ہلکی سی دستک دی ۔۔۔
“آجائیں “اندر سے اس کی آواز آئی ۔
اکبر نے اندر قدم رکھا تو وہ جائے نماز تہہ کیے ایک طرف رکھے دروازے کی طرف ہی آ رہی تھی ۔
“آپ کہیں جا رہے ہیں “؟
اکبر کے ہاتھ میں سفری بیگ دیکھ کر آن نے سوال کیا ۔
“ہاں ۔۔۔میں جا رہا ہوں ۔۔۔یہ لو ۔۔۔
“یہ کیا ہے ؟
“یہ ِسم ہے اس ِسم میں میرا نمبر سیو ہے ۔۔۔ایک دو دنوں میں تمہیں موبائل مل جائے گا اس میں یہ ڈال لینا ۔۔۔جب بھی مجھے وقت ملا تم سے بات کروں گا ۔۔۔
“لیکن اس کی کیا ضرورت تھی ؟
“اس بار زیادہ وقت لگے گا واپسی میں اسی لیے ۔۔۔۔
کیا تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی ۔؟
“میں نے ایسا کب کہا ؟”
وہ خفگی بھرے انداز میں بولی۔
“تو پھر بات کرنا چاہتی ہو ؟”
وہ اس کی بات پر چند ثانیے خاموش رہی ۔۔۔۔۔۔
“میں اتنے عرصہ آپ کو دیکھ نہیں پاؤں گی تو کیا کروں گی ؟
اچانک ہی اس کی آنکھوں میں سے آنسوؤں کا سیلاب امڈنے لگا ۔۔۔۔
جسے روکنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی مگر وہ کسی بھی طور رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ۔
وہ اکبر کے کمر کے گرد دونوں بازو باندھے اس سے لپٹ گئی اور سسکیوں سے رونے لگی ۔۔۔
اکبر تو اس افتاد پہ بوکھلا کر رہ گیا ۔
“کیا ہوگیا ہے آن ؟
“میں واپس آجاؤں گا “اس نے آن کے گرد بازو پھیلائے اسے تسلی دینی چاہیے ۔
“آپ نہیں جانتے اکبر میرے بھاء سا بھی گئے تھے وہ پھر کبھی واپس نہیں آئے ۔۔۔۔میں آپ کو کھونا نہیں چاہتی اکبر ۔۔۔۔پلیز مت جائیں ۔۔۔۔
“میرا حوصلہ ہو تم “مجھے یوں کمزور مت کرو مضبوط بنو جیسا کہ ایک فوجی کی بیوی کو ہونا چاہیے۔۔
دیکھو تم سے بہادر تو حرعین ہے اس نے تو مجھے ایک بار بھی نہیں روکا ۔۔۔اسے پتہ ہے جانا میرا فرض ہے اسی لیے وہ میری راہ کی رکاوٹ نہیں بنی ۔۔۔۔
“تم بھی ویسی بہادر بنو “
“میں بہت بہادر ہوں اور اس کا نمونہ آپ پہلی ملاقات میں دیکھ چکے ہیں کہ میں کیا کر سکتی ہوں ۔۔۔۔
“لوگ جھوٹ کہتے ہیں کہ پیار انسان کو مضبوط بناتا ہے سچ تو یہ ہے کہ جب انسان کو پیار ہو جاتا ہے نا کسی سے تو وہ بہت کمزور ہوجاتا ہے ایک ایک لمحہ اسے اپنے محبوب کے بنا کاٹنا مشکل لگتا ہے ۔کحجا کہ اتنے دن دور رہنا ۔پیار میں انسان کھونے سے ڈرتا ہے ۔۔۔۔مجھ میں آپ کو کھونے کا حوصلہ نہیں ۔”
اکبر نے اس کی گرے آنکھوں میں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو اپنے لبوں سے چُنا ۔۔۔۔
“یہ۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں ؟….
وہ اتنے افسردہ ماحول میں بھی اس کی جسارت پر سٹپٹا گئی ۔۔۔
“جانے سے پہلے کچھ حسین یادوں کو ساتھ لے جانا چاہتا ہوں “وہ خمار زدہ آواز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا ۔
آن اس کے دلکش انداز پر نم جھلملاتی ہوئی مژگانیں جھکا گئی …..
اکبر نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر اس کے ایک ایک نقش کو اپنے لمس سے معتبر کیا ۔۔۔۔
وہ دھڑکتے ہوئے دل سے ساکت کھڑی تھی ۔۔۔۔
“اپنا خیال رکھنا “کہتے ہوئے وہ وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
آن فاطمہ کھڑکی سے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی ۔۔۔وہ تب تک وہیں کھڑکی میں کھڑی رہی جب تک وہ نکل نہیں گیا ۔۔۔۔
وہ اس کے حفاظت کے لیے چند قرآنی آیات کا ورد رہی ۔۔۔ ۔
“وقت گہرے سمندر میں گرا ہوا وہ موتی ہے جس کا دوبارہ ملنا نا ممکن ہے “
اور ہاں وقت ایسا پنچھی ہے جو ایک بار اڑ جائے تو کبھی واپس نہیں لوٹتا “
اکبر کو گئے ہوئے آٹھ ماہ بیت چکے تھے ۔۔۔۔
اس کے جانے کے اگلے ماہ ہی حرعین اور آن فاطمہ دونوں کو اکٹھا ہی خوشخبری ملی تھی ۔۔۔۔
سارا گھر اس خوشی میں خوش تھا ۔۔۔حرعین کے تو خوشی کے مارے پاؤں ہی زمین پہ نا ٹک رہے تھے ۔۔۔۔
جبکہ آن فاطمہ بھی اپنے وجود میں ہونے والی اس نئی تبدیلی پہ پھولے نہیں سما رہی تھی۔۔۔۔
کون کہتا ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے جب تمہیں کسی کا انتظار ہو تو وقت گزرتا ہی نہیں اور وہ لمحہ پانے میں لگتا ہے صدیوں گزر گئے ۔۔۔۔
ان دونوں کو ہی اکبر کی واپسی کا انتظار تھا مگر دوسری طرف سے فی الحال کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔
عیسی گیلانی نے ہیڈ کوارٹر فون کر کہ اکبر کے بارے میں پتہ کیا ۔۔۔
انہوں نے اکبر کے ٹھیک ہونے کی اطلاع دی مگر اس سے فی الوقت بات نا کروانے کا کہا ۔۔۔کہ وہ اس وقت جہاں ہے وہ بات نہیں کر سکتا ۔
کچھ دنوں میں وہ خود ہی فری ہو کر بات کرے گا ۔
شبنم گیلانی اپنی فیملی ڈاکٹر سے ہر ماہ حرعین اور آن دونوں کا منتھلی چیک اپ کرواتی ۔۔۔۔
اس سال قرعہ اندازی میں جنت گیلانی،شبنم گیلانی اور عیسی گیلانی تینوں کا نام آیا تھا ۔۔۔
اس لیے وہ تینوں حج کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونے والے تھے اسی سلسلے میں گھر میں ایک چھوٹی سی گٹ ٹو گیدر رکھی تھی جس میں انہوں نے ثوبیہ اور گڑیا کو بھی بلایا تھا ۔۔۔گڑیا ان دنوں ہاسٹل سے چھٹیوں پہ واپس آئی ہوئی تھی ۔۔جب سے گڑیا کہ ساتھ اغواء والا واقعہ پیش آیا تھا ثوبیہ نے اسے مستقل طور پر گرلز ہاسٹل داخل کروا دیا تھا تاکہ وہ راستے کے آنے جانے والے خوف سے محفوظ رہے ۔۔
“,اسلام وعلیکم گرینڈ مام !گڑیا نے گیلانی ہاؤس میں آتے ہی ثوبیہ کا ہاتھ چھوڑے شبنم گیلانی کی طرف بھاگی ۔۔۔
“وعلیکم السلام ! میری گڑیا آئی ہے ۔۔۔شبنم گیلانی اسے خود میں بھینچ کر بولیں۔
پھر چٹاچٹ اس کے چہرے پر بوسوں کی بوچھاڑ کر دی۔۔۔۔
گڑیا بھی مسکرا کر انہیں دیکھنے لگیں ۔۔۔
وہ حرعین اور باقی سب سے ملی مگر آخر میں ایک انجان لڑکی کو گھر میں دیکھ کر وہ حیران ہوئی ۔۔۔۔
اکبر کی شادی کے دوران بھی وہ ہاسٹل سے نہیں آ سکی اس لیے آن فاطمہ کی موجودگی سے بے خبر تھی ۔۔۔
آج سے کافی عرصہ پہلے دیکھی گئی وہی پر اسرار گرے آنکھیں۔۔۔۔چھم سے اس کے ذہن کے پردوں پہ لہرائیں۔۔۔۔۔
وہ خوف کے باعث وہ ثوبیہ کے پیچھے چھپنے لگی ۔۔۔۔
“کیا ہوا گڑیا ؟”ثوبیہ نے اس سے پوچھا ۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔۔۔
“میں دیکھتی ہوں “آن اس کا ڈر سمجھ چکی تھی ۔۔۔اسی لیے اس نے گڑیا سے خود بات کرنے کا سوچا ۔۔۔۔
“ہاں جاؤ بچی سے پوچھو کیا بات ہے شبنم گیلانی نے متانت سے کہا ۔
آن فاطمہ گڑیا کے پیچھے باہر آئی ۔۔۔وہ گلابوں کی کیاری کے پاس بیٹھی ہوئی کسی سوچ میں گم تھی ۔۔۔۔
تبھی آن فاطمہ اس کے پاس جا کر بیٹھی ۔۔۔۔
“آپ گندی ہیں جائیں یہاں سے “وہ سراسیماں نظروں سے اسے دیکھتے بولی پھر وہاں سے بھاگنے کے لیے پر تولنے لگی۔۔۔۔
آن نے اسے اٹھتے ہوئے دیکھا تو اس کی بازو پکڑ کر ایسا کرنے سے روکا ۔۔۔
“میری ایک بار بات سن لو “
گڑیا نا چاہتے ہوئے بھی رک گئی ۔۔۔
“بیٹھو یہاں پہ “۔۔۔۔۔
اس کے بیٹھنے پر آن نے بات کا آغاز کیا۔
“میں تمہیں بہلانے کے لیے تم سے جھوٹ نہیں بولوں گی۔۔۔ہاں وہ میں ہی تھی جس نے تمہیں اغوا کیا تھا ۔۔۔
مگر میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
میرا یقین کرو ۔۔۔مجھ سے غلطی ہو گئی تھی کیا تم میری غلطی پر مجھے معاف نہیں کرو گی ؟
“آئی ایم سوری “آخر اس نے کان پکڑے ہوئے مسکرا کر کہا ۔۔۔۔
“مما کہتی ہیں کہ اپنے کیے پہ شرمندہ ہو اور معافی مانگے اسے معاف کر دینا چاہیے میں نے آپ کو معاف کیا “وہ اپنی میٹھی آواز میں بولی ۔
“تھینک یو سو مچ “آن فاطمہ نے اسے شانے سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔۔
“یو آر سو سویٹ “کہتے ہی اس کے نرم گال پہ بوسہ لیا ۔
“آپ بھی “گڑیا نے کہا ۔۔۔
“ہماری گڑیا کا نام کیا ہے ؟؟؟
“میرا نام ہے آرزو حسن گیلانی”
اور آپ کا ؟
“میرا نام آن فاطمہ “اور آپ کا نام آرزو مجھے بہت پیارا لگا ۔۔۔وہ آرزو کے گال پہ چٹکی بھر کر پیار بھرے انداز میں بولی۔
“آپ کونسی کلاس میں پڑھتی ہو “؟
“میں فائیو کلاس میں پڑھتی ہوں”
واؤ یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔۔
دونوں آپس میں باتیں کرتے ہوئے اندر بڑھ گئیں ۔۔۔۔آج کے دن کا اختتام بہت خوشگوار ماحول میں ہوا ۔۔۔۔
پھرشبنم گیلانی ساری ذمہ داری انیقہ گیلانی اور عیسی گیلانی پہ ڈال گئیں کہ وہ دونوں حرعین اور آن فاطمہ دونوں کا خیال رکھیں ۔اور وہ سب خود سفر پر روانہ ہوگئے
یونہی دن اپنی رفتار سے گزر رہے تھے
آج عیسی گیلانی اور انیقہ دونوں اتوار ہونے کے باعث مارکیٹ گروسری سٹور گئے تھے ۔۔۔۔
حرعین لاونج میں موجود صوفہ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
کہیں اور جگہ نا ملی تو گراؤنڈ فلور کے ہی ایک کمرے کے ملحقہ واش روم کے ایک واش بیسن کی طرف بھاگی ۔۔۔
کچھ دیر میں وہ ہانپتی ہوئی واپس آرہی تھی کہ چکر کھا کر گرنے ہی لگی تھی کہ آن نے اسے گرنے سے بچانا کے لیے اس کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔
“آرام سے “
حرعین نے اس پہ ایک سرد سی نظر ڈالی ۔۔۔مگر اس وقت اس کی مدد لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔۔۔کیونکہ وہ ایسی حالت میں کوئی بھی نقصان نہیں اٹھانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
بس اسی وجہ سے وہ اس کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہوئے اسی کا ہاتھ پکڑ کر صوفے تک آئی ۔۔۔۔
“تمہارے لیے جوس لاؤں “؟
آن نے سادہ سے انداز میں پوچھا ۔
“نہیں “مجھے جوس نہیں پینا مجھے سینے میں جلن سی محسوس ہو رہی ہے میرا دل برف کھانے کو کر رہا اگر لا سکتی ہو تو وہ لا کر دے دو پلیز ۔۔۔۔
“ایسی حالت میں برف کھانا اچھا نہیں صحت کے لیے “وہ نا صحانہ انداز میں بولی۔
“نہیں لا کر دینی تو صاف منع کردو بہانے مت بناؤ ۔۔۔حرعین نے بیزاری سے کہا
“ایسی بات نہیں لا دیتی ہوں “وہ کہہ کر کچن کی طرف چلی گئی اور پھر واپس آئی تو ہاتھ میں ایک باؤل تھا جس میں آئس کیوبز موجود تھے ۔
“یہ لو “آن نے باؤل اس کے آگے کیا ۔
“کچھ اور چاہیے ؟”آن نے پوچھا
“نہیں “حرعین نے کہا ۔
“سنو ! اس سے پہلے کہ آن پلٹ کر جاتی حرعین نے اسے روکا ۔۔۔
“یہاں بیٹھ جاؤ میں بور ہو رہی ہوں اکیلے “
آن نے چونک کر اس کی طرف دیکھا جو آج پہلی بار اسے پاس بیٹھنے کی آفر کر رہی تھی ۔
“عصر کی نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے میں نماز پڑھ لوں پھر آتی ہوں ۔۔آن نے کہا ۔۔
“ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔۔۔وہ شانے اچکا کر بولی ۔۔۔
“اگر تمہیں برا نا لگے تو ایک بات کہوں ؟”آن نے جھجھکتے ہوئے کہا ۔
“ہاں بولو “
“ایسی حالت میں تمہیں بھی تلاوت کرنی چاہیے اور نماز پڑھنی چاہیے “
“مجھ سے ایسی حالت میں نماز نہیں پڑھی جاتی جب سجدے میں جاتی ہوں ایسے لگتا ہے سب کھایا پیا منہ میں آگیا ہے ۔”بار بار وومٹنگ ہوتی ہے “
اور نیچے ہو کہ وضو بھی نہیں کیا جاتا ۔۔۔۔
“تمہیں وضو کرنے میں مدد میں کردیا کروں گی ۔۔۔میں پانی ڈالوں گی تم وضو کر لینا اور اگر زیادہ دیر کھڑے نہیں ہوا جاتا تو بیٹھ کر پڑھ لو ۔۔۔۔
اس نے مسلے کا حل نکالا ۔۔۔
“اچھا کل سے پڑھوں گی ۔۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔۔۔میں ابھی آتی ہوں ۔
کچھ دیر بعد آن نماز پڑھ کر واپس آئی تو حرعین وہیں صوفے پر بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں محو تھی ۔۔۔۔
“یہ کیا کر رہی ہو “؟
حرعین نے آن کو اپنے پاؤں پکڑے ہوئے دیکھا تو حیرت سے کہا ۔
“کچھ نہیں انہیں اوپر رکھو گی تو سوجن کم ہو گی “
آن نے حرعین کے دونوں پاؤں اٹھا کر سامنے پڑی ٹیبل پر رکھے ۔۔۔۔
اور خود اس کے ساتھ والے صوفے پر بیٹھ کر اپنے پاؤں بھی ویسے ہی اوپر رکھ لیے ۔۔۔۔
ڈاکٹر نے کہا تھا کہ جب سوجن ہو تو پاؤں کو نیچے لٹکا کر نہیں بلکہ اوپر رکھنا ہے ۔
“اوہ میں تو بھول ہی گئی تھی۔۔میں بھی نا بڑی بُھلکڑ ہوں “وہ اپنے سر پہ چپت لگا کر بولی ۔۔۔
“تم کچھ کھانے سے پہلے وومٹنگ والی ٹیبلٹ لے رہی ہو جو ڈاکٹر نے لکھ کر دی تھی ؟
آن فاطمہ نے پوچھا ۔۔۔
“نہیں میرا دل نہیں کرتا کوئی بھی میڈیسن لینے کو “,وہ بے دلی سے چینلز سرچ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
کچھ بھی پسند نہیں آ رہا تھا تو ٹی وی کے ریموٹ سے ٹی وی آف کر دیا اور ریموٹ ایک طرف پھینکا ۔
“جیسے مجھے برف کھانے کا من کرتا ہے ۔۔۔تمہارا دل بھی تو کچھ کھانے کا کرتا ہو گا تم کیا کھاتی ہو ؟؟؟
“کہیں کھٹا تو نہیں ؟؟
“نہیں میں کچے چاول کھاتی ہوں ۔۔کبھی کبھی چھپ کر ۔۔۔آن نے اسے سیکرٹ بتایا ۔۔۔
حرعین اس کی بات سن کر ہنسنے لگی ۔۔۔۔دونوں کی گفتگو نے آہستہ آہستہ طول پکڑ لیا ۔۔۔۔۔یہ ان کی پہلی گفتگو تھی ۔۔۔۔۔
“یہ لو فاطمہ “
“یہ کیا ہے “؟
آن فاطمہ نے اس کے ہاتھ میں موجود کپڑوں کو دیکھ کر پوچھا ۔
“یہ میرے کچھ ڈریس ہیں ۔سچی میں نے ایک بار بھی نہیں پہنے ۔۔۔تم پہن لو ۔۔۔
“اس کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔میرے پاس کپڑے ہیں تو “
“ہاں میں دیکھ ہی رہی ہوں دادو جان کے پرانے کپڑے پہنتی ہو۔۔۔۔
رکھ لو ۔۔۔نہیں پسند تو صاف صاف بتا دو ۔۔۔
“نہیں ایسی کوئی بات نہیں لاؤ دو “آن نے اس کے ہاتھ سے کپڑے لے لیے ۔۔۔
“میں لان میں واک کے لیے جا رہی ہوں تم چلو گی ؟؟؟
“ہممم۔۔۔۔چلتے ہیں ۔۔۔۔آن وہ کپڑے کبرڈ میں رکھ کر اس کے ساتھ باہر لان میں آگئی ۔۔۔۔
دونوں ساتھ ساتھ چہل قدمی کرنے لگی ۔۔۔۔
حرعین !!!!!
ہمممم۔۔۔۔۔
“کیا تم مجھے معاف کر سکتی ہو ؟
“کس بات کے لیے ؟”
“وہ تم اچھے سے جانتی ہو میں کس بات کے معافی مانگ رہی ہوں “
“کیا کہہ سکتی ہوں میں اس بارے میں ۔۔۔؟؟؟؟.
آہ !!!! شاید ہماری قسمت میں یہی لکھا تھا ۔۔۔۔
“ہم دونوں کی دعاؤں میں شاید ایک جیسی تڑپ تھی۔۔۔جو اللّٰہ تعالیٰ نے اُسے ہم دونوں کو عطا کردیا “۔۔۔۔
حرعین نے آہ بھر کر کہا ۔۔۔۔
“ویسے تمہاری عمر کیا ہے ؟حرعین نے پوچھا ۔
“بیس سال “
اوہ تو پھر تو تم مجھ سے چھوٹی ہوئی آن مگر تم مجھے آپی نہیں کہہ سکتی ۔۔۔ورنہ میں برا مان جاؤں گی۔
آن اس کی بات پہ ہنسنے لگی ۔
“نہیں کہتی “
تم مجھے حرعین ہی کہو۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔
“آن تمہارے فون پہ کسی کی کال آ رہی ہے ….”حرعین نے ٹیبل پر بجتا ہوا فون دیکھ کر اسے آواز دی ۔۔۔۔
آن کچن میں تھی اپنے لیے اور حرعین کے لیے ملک شیک بنا رہی تھی ۔۔۔۔
“تم دیکھ لو میں بس ابھی آئی “آن نے کچن سے ہی ہانک لگائی۔
“ہیلو اسلام وعلیکم !
نمستے !
ہیں یہ کون ؟؟؟
حرعین نے نمستے سن کر فون کان سے ہٹایا اور اسے عجیب نظروں سے گھورا ۔۔۔
“کس کا ہے ؟”آن نے ملک شیک کا گلاس اس کے سامنے رکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
“,پتہ نہیں کس کا ہے تم خودی دیکھ لو “
اسلام وعلیکم !
آن نے شستہ لب و لہجے میں کہا ۔
“کیسی ہے جودھا تو ؟”دوسری طرف سے بے چینی سے پوچھا گیا ۔۔۔۔
“بھابھی سا آپ ؟؟؟وہ ان کی آواز پہچانتے ہی خوشی سے لبریز لہجے میں بولی ۔۔۔
“ہاں تھاری سکھی سے تھارا نمبر لیا تھا ۔۔۔بتا کب واپس آ رہی ہے ؟
“بھابھی سا میں جلد ہی آپ سے ملنے آؤں گی ۔آپ بتاؤ مارا راجا کیسا ہے ؟؟؟
“تھارا راجا ایک دم بھلا چنگا ہے سارا دن بس موئی کتابوں میں سر گھسائے رکھتا ہے “
“اچھا چلیں آپ اسے مارا پیار دینا “میں تھارے اور راجا کو بہت یاد کرتی ہوں “
“منے بھی تو تھاری یاد آوے تھی تبھی تو فون کیا “سریتا نے کہا ۔
پھر چند ایک باتوں کے بعد آن نے فون بند کر دیا ۔
“یہ ہماری بھابھی سا تھیں “
آن نے فون ایک طرف رکھ کر کہا ۔
“اوہ اچھا “تم نے کبھی بتایا ہی نہیں اپنے بارے میں “
“تم نے کبھی پوچھا ہی نہیں “
“اچھا چلو اب ہی بتا دو “
“حرعین میرا دل کرتا ہے آج تمہیں سب بتادوں “دل پہ بہت بوجھ ہے میں اس سے اپنا پیچھا چھڑوانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔
حرعین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا کہ وہ کون سی بات کے بارے میں بات کرنا چاہتی ہے ۔۔۔۔
پھر آن نے بولنا شروع کیا اور اسے شروع سے لے کر آخر تک سب بات بتا دی ۔۔۔۔۔
آخر میں وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکا گئی ۔۔۔جیسے بھاری بوجھ سے آزادی ملی ہو ۔۔۔۔
حرعین نے اس کی بات سن کر گہرا سانس لیا ۔۔۔۔
“تم کیا چوبیس گھنٹے میری بیٹی کے سر پر سوار رہنے لگی ہو ۔۔۔کوئی کام دھندا ہے یا نہیں تمہیں ؟؟؟؟
“خبردار جو میری بیٹی کے قریب بھی پھٹکی ۔۔۔۔ اور اسے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھائیں ۔۔۔۔۔جانے کیا ہر وقت کھسر پھسر کرتی رہتی ہے اس سے ۔۔۔۔
انیقہ گیلانی نے اسے حرعین سے بات کرتے ہوئے دیکھا تو تلخ لہجے میں اس پہ برس پڑیں۔۔۔۔
آن نے انہیں ان کی کسی بھی بات کا جواب دینا مناسب نا سمجھا کیونکہ اس کے خیال میں یہ بدتمیزی کے ذمرے میں آتا ہے ۔وہ خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے جانے لگی ۔۔۔اپنا بھاری بھرکم سراپا اس کے لیے بھی باعث امتحان تھا ۔۔۔۔
“آو گاڈ مام پلیز میں کوئی بچی نہیں ہوں جو کسی کے کہنے میں آؤں گی ۔۔۔
وہ مجھے کوئی پٹیاں نہیں پڑھا رہی تھی بس ویسے ہی نارمل بات کررہے تھے ۔۔
“مت بھولو وہ سوتن ہے تمہاری “
مام پلیز ہر بات کا منفی پہلو ہی کیوں دیکھتی ہیں ۔۔۔۔
مثبت ہو کہ سوچیں جس مرحلے سے میں گزر رہی ہوں وہ بھی ویسے ہی محسوس کر رہی ہے ۔آپ میری طرح اس کا خیال نہیں رکھ سکتی مت رکھیں ۔۔۔مگر ایٹ لیسٹ اسے ٹینشن مت دیں ۔۔۔۔
“یہ تم کہہ رہی ہو حرعین “؟وہ حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“جی مام میں نے اپنے نصیب پر راضی برضا ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔۔۔میں اسے سوتن کی طرح نہیں ایک عام انسان کی طرح دیکھتی ہوں ۔۔۔۔تو مجھے بھی اس کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے ۔
“تم سے تو کچھ کہنا ہی فضول ہے جاؤ جو دل کرتا ہے کرو “میری بلا سے ۔۔۔وہ ُتنک کر کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئیں۔۔۔۔۔
“حرعین آؤ چھت پہ چلیں ؟”
“اتنی سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر کون جائے مجھ میں تو ہمت نہیں “آن نے کاہلی دکھاتے ہوئے کہا ۔۔
“کیا ہوا آج بہت سست سی دکھائی دے رہی ہو ؟”
“پتہ نہیں کیا بات ہے آج صبح سے ہی طبیعت کچھ عجیب سی ہے “
“میرا دل بھی بہت گھبرا رہا ہے “پتہ نہیں شاید بی پی لو ہو رہا ہے ۔۔۔حرعین نے کہا ۔
“تم ڈاکٹر کو کال کر لو “
“نہیں رہنے دو ۔۔۔آن تم نیچے کسی کمرے میں شفٹ ہو جاؤ میں تو فی الحال نیچے ہی کہ ایم کمرے میں منتقل ہو گئی ہوں بار بار سیڑھیاں چڑھنا اترنا میرے سے نہیں ہوتا ۔۔
“نہیں میں یہیں ٹھیک ہوں ۔یہاں میرے اور اکبر کی یادیں ہیں ۔۔۔ان سے الگ ہوئی تو جی نہیں پاؤں گی “آن فاطمہ نے یاسیت بھرے انداز میں کہا۔
“یاد تو مجھے بھی بہت آ رہی ہے اکبر کی مگر کیا کیا جائے اس ظالم انسان کا جو جا کر ہمیں بھول ہی گیا ہے ۔۔۔۔
وہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی ۔۔۔
آؤ نا حرعین بیٹھو یہاں آرام سے “آ
