Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 20)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
سلطان آفندی کسی شپ مینٹ کی ساری ڈیٹیل لیپ ٹاپ میں سیو کر رہا تھا ۔۔۔
لیپ ٹاپ پر کچھ امپورٹینٹ پوائنٹس سیو کرنے کے بعد فورا فون اٹھایا اور نمبر ملایا۔۔۔۔
“قرت العین فورا میرے کیبن میں آئیں جلدی۔۔۔۔۔”
سلطان آفندی نے کہتے ساتھ ہی فون رکھا اور واپس اپنے لیپ ٹاپ پر متوجہ ہوا۔۔۔۔
جبکہ قرت العین جس کی آج صبح سے ہی اچھی خاصی دوڑ لگ چکی تھی پھر ہانپتے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔
“جی سر!!!!
آپ نے بلایا مجھے؟؟؟”
“ہاں میں تمہیں ایک پیپر میل کررہا ہو۔۔۔۔
اس پیپر کا پرنٹ نکالنے کے بعد ان پر موسی سر کے سائن لینے ہیں ۔۔۔
اور یہ کام آج ہی یاد سے ہو جانا چاہیے۔۔۔۔”
سلطان آفندی لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے ہوئے بولا۔۔۔۔
“جی ٹھیک ہے سر میں سائن کروا کر پیپرز آپ کے پاس واپس لے آؤں گی ۔۔۔”
اوکے ۔۔۔سلطان آفندی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔
اور واپس باہر کی جانب چلی گئی۔۔۔۔
سامنے رکھے ہوئےفون پر بیل ہوئی تو سلطان آفندی نے فورا سے بیشتر ریسو کی ۔۔۔۔
“یس “!
“سلطان آج کچھ انٹرویوز ہیں تم زرا انہیں دیکھ لو کچھ نیو سٹاف کی ضرورت ہے تم ریکوائیرمینٹ کے حساب سے ہائیر کر لو ۔۔۔۔۔عیسی گیلانی نے اسے کہا ۔۔۔
“جی ٹھیک ہے میں دیکھ لوں گا “
کہتے ہی اس نے فون رکھا ۔۔۔۔
” لائبہ میں کہہ رہی ہو یار۔۔۔۔
ایک بار پھر سوچ لے۔۔۔۔
پتہ نہیں میرا دل کیوں گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا ہے یار!!!!”تم گھر والوں سے زیادہ دیر چھپ اس جاب کو جاری نہیں رکھ سکتی ۔۔۔
“ثانیہ تم چپ رہو میں نے دیکھا ہے یونہی شاندار آفس میں آکر وہاں کے باس کو پھنسا کر لڑکیاں شادی کرتی ہیں اور رات و رات امیر ہوجاتی ہیں میں بھی یہاں کے باس کو پھانس لوں گی “لائبہ اس نہایت مکارانہ انداز میں بولی ۔۔۔۔
قرت العین جوان کے پیچھے چل رہی تھی ان کی باتیں سن کر دنگ رہ گئی۔۔۔۔
“مجھے تو ڈر لگ رہا ہے لائبہ “ثانیہ نے ڈرے ہوئے انداز میں کہا۔۔
“بس بھی کردو کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔
میں ہوں ناں تمہارے ساتھ ۔۔۔۔
“تمہیں پتہ نہیں ہے لائبہ یہ ایک مشہور کمپنی ہے تم انجانے میں پنگا لینے چلی ہو ۔۔۔۔
تو پلیز اپنے وہم اور ڈر اپنے دل و دماغ میں رکھوں۔۔۔
میرا ارادہ پکا ہے مجھے مت بتاؤ کچھ بھی۔۔۔۔”
ثانیہ گہرا سانس لیتے ہوئے سیدھا ریسپشن کی جانب چلی گئی اور کچھ پوچھنے کے بعد واپس لائبہ کی طرف آئی۔۔۔
“اوپر تھرڈ فلور پر انٹرویو ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
چلوتو پھر چلتے ہیں دیر کس بات کی۔۔۔۔
آگے ہی بہت دیر ہو گئی ہے۔۔۔۔”
لائبہ ،ثانیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے آگے کو بڑھی۔۔۔۔
لفٹ کے ذریعے دونوں تھرڈ فلور پر پہنچی اور پھر وہی موجود سامنے ایک اور ریسپشن کی جانب چلنے لگیں۔۔۔۔
“جی بتائیے آپ کی کیسے مدد کرسکتی ہوں “ریسپیشنسٹ نے پوچھا ۔۔۔
“ہم یہاں انٹرویو کے لئے آئے ہیں ۔”
“اوہ ۔۔۔سو سوری میم مگر انٹرویو کا وقت تو ختم ہوچکا ہے اور سر انٹرویو لے بھی چکے ہیں ۔۔۔۔
“ارے ایسے کیسے میرا انٹرویو لیے بنا ہی وقت ختم ہوگیا “؟
لائبہ اونچی آواز میں لڑاکا انداز میں بولی ۔۔۔
دروازہ کھلا اور سامنے والے کیبن میں سے ایک خوبرو شخص پینٹ شرٹ پہ ٹائی لگائے ہوئے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے سیدھا ان کی جانب تیز قدموں سے چلتا ہوا آیا اور ان کے روبرو کھڑا ہوگیا۔۔۔
“آپ کوئی ملکہ الزبتھ ہیں جن کا انٹرویو لیے بنا وقت ختم نہیں ہو سکتا تھا ؟؟؟
ویسے کافی وقت کی پابند معلوم ہوئی ہیں آپ انٹرویو والے دن ہی!!!!”
سلطان آفندی اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں بولا ۔۔۔
لائبہ کے تو سر پہ لگی تلووں پر بجھی۔۔۔۔
“کیا ہوا سلطان “؟
“کچھ نہیں سر انٹرویو کا وقت ختم ہو چکا ہے پھر یہاں آکر بدمزگی پھیلا رہی ہیں اور فضول میں بحث کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔
“اچھا چلو لے ان کا بھی انٹرویو “وہ ٹہرے صدا کے رحم دل انسان ۔۔۔۔
سلطان ان کے حکم پر تعمیل کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا اسی لیے وہ سر اثبات میں ہلایا اور واپس اپنے کیبن میں چلا گیا۔۔۔۔
وہ دونوں اس کے پیچھے کیبن میں آئیں ۔۔۔۔
” وقت پہلے ہی کافی ضائع ہو گیا ہے تو میرے خیال سے انٹرویو کا آغاز ہونا چاہیے۔۔۔۔
“کچھ دیر میں ہی وہ ان دونوں سے انٹرویو لے چکا تھا ۔۔۔
“آپ کو کال کر کہ بتا دیا جائے گا کہ آپ اس انٹرویو میں سلیکٹ ہوئیں ہیں یا نہیں “سلطان آفندی نے ان دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے سپاٹ انداز میں کہا ۔۔۔۔
تو وہ دونوں باہر نکل گئیں۔۔۔
قرت العین ہاتھ میں فائل تھامے تیز قدموں سے سلطان آفندی کے کیبن میں داخل ہوئی ۔۔۔
“مے آئی کم ان سر !”
“یہ پیپرز جن پر آپ نےسائن کا کہا تھا۔۔۔۔”
قرت العین نے فائل سلطان کے سامنے رکھی۔۔۔
“اوکے “لیپ ٹاپ پر جھکے ہوئے سلطان آفندی کی آواز آئی تو وہ واپس مڑی ۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ تھوڑا اور دور جاتی اسے اپنے سر سے دوپٹہ سرکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔وہ رکی مگر اتنی دیر دوپٹہ اتر کر نیچے فرش پر گر چکا تھا ۔۔۔۔
وہ جارہانہ تیوروں سے پلٹی اور ریوالنگ چئیر پر موجود سلطان آفندی کے چہرے پر ایک جاندار طمانچہ جڑ دیا ۔۔۔۔۔
“اپنے یہ گندے حربے اپنی جیسی ان غلیظ سوچ کی حامل لڑکی پہ آزماو مجھے ہاتھ بھی لگایا تو تمہارا ایسے ہی منہ توڑ دوں گی ۔۔۔”وہ اسے حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئےچلائی۔۔۔
میرے گرینڈ پا اور سارے سٹاف کے سامنے جو تم اچھائی کا ڈھونگ رچاتے ہو سب کا پردہ چاک کر کہ تمہاری اصلی شکل دکھاوں گی گھٹیا انسان۔۔۔۔”
قرت العین اسے انگلی دکھاتے ہوئے وارن کرنے کے انداز میں اس پہ برس پڑی۔۔۔۔
سلطان آفندی سرخ چہرہ لیے کسی آتش فشاں لاوے کی مانند اپنے گال پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔
وہ اس کی ِاس نا قابل برداشت حرکت کو دیکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔۔۔
“چلانا چاہتی ہو۔۔۔۔
چلاؤ۔۔۔۔
لگاؤ تماشہ۔۔۔۔
کرو جمع لوگوں کو۔۔۔۔
مگر لوگوں کو اکٹھا کر کہ میری اصلیت دکھانے سے پہلے اپنی آنکھوں کا علاج کرواؤ اور اس سے بھی پہلے اپنے دماغ کا جس میں غلاظت بھری ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
بدنامی اگر میری ہوگی تو نام تمہارا بھی میرے نام کے ساتھ آئے گا مائنڈ اٹ !!!!!وہ دھاڑا۔۔۔اور اسے اپنے ہاتھ کا اشارہ دیا۔۔۔۔
قرت العین نے اس کے ہاتھ کے تعاقب میں دیکھا جہاں اس کے دوپٹے کا ایک کونا ٹیبل پر موجود ایک بلڈنگ سیمپل کے کارنر کے ساتھ الجھا ہوا تھا۔۔۔۔
اس کا چہرہ خفت کا شکار ہوا ۔۔۔۔۔
جس کمپنی کی کنسٹرکشن کرنی تھی یہ اس کی بلڈنگ کا ایک سیمپل تھا ۔۔۔
دوپٹہ ابھی بھی اسی سے اٹکا ہوا تھا اور باقی کا زمین کو سلامی پیش کر رہا تھا۔۔۔
قرت العین نے اپنی حالت کے پیش نظر لپک کر دوپٹہ اٹھانا چاہا ۔۔۔مگر
سلطان آفندی جارہانہ تیوروں سے قدم بڑھاتے ہوئے سے خون خوار مسکراہٹ لیے قرت العین کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔
“وہ دوپٹے کے بنا اپنے سینے پہ دونوں ہاتھ باندھے الٹے قدم لیتے ہوئے پیچھے چلنے لگی ۔۔۔۔
“دیکھو دور رہو مجھ سے “وہ تنبیہی انداز میں بولی ۔۔۔
“ورنہ کیا؟؟؟؟
کیا ورنہ!!!!!
“بولو !!!!
“تم نے مجھے ۔۔۔۔۔یعنی سلطان آفندی کو تھپڑ مارا۔۔۔۔۔وہ بھی بنا کسی وجہ !!!!!!
سلطان آفندی اپنے گال پر ہاتھ جمائے غرایا۔
وہ کسی سہمی ہوئی ہرنی کی مانند ساکت کھڑی تھی۔۔۔
سلطان نے اسےدونوں بازوؤں سے دھکا دئیے دیوار سے لگایا۔۔۔۔۔اور اس کےگرداپنی دونوں بازوؤں کا حصار بنایا۔۔۔
اس کی بھیگی ہوئی آنکھوں میں اپنی خون آشام نظریں گاڑھیں۔۔۔۔۔
“سو۔۔۔سور۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ معزرت مانگتی ۔۔۔۔
“خاموش!!!!!!
شششششششش!!!
ایک لفظ بھی اور نہیں جتنا بولنا تھا تم بول چکی ۔۔۔۔۔
“میں کسی کا کہا ٹالتا نہیں ۔۔۔جو الزام تم نے مجھ پہ لگایا ہے اسے پورا کرنا تو اب میرا فرض ہے ۔۔۔۔کیوں مس ورلڈ ۔۔۔۔۔؟؟؟
“یہی سمجھتی ہو نا اپنے آپ کو ؟؟؟؟
کیوں ؟؟؟؟
“جیسے کہ تمہیں چھونے کو دیکھنے کو مرا جا رہا ہوں میں۔۔۔”””
سلطان آفندی کی وحشت زدہ نگاہوں سے اسے اب اور بھی خوف آنے لگا۔۔۔۔
سلطان کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر اس کی آنکھوں سے سیال کی لڑیاں ٹوٹ کر سلطان آفندی کی بازو پر گریں جس سے اس نے قرت العین کو جکڑ رکھا تھا۔۔
قرت العین کا رونا اب ہچکیوں کی صورت اختیار کر گیا۔۔۔۔۔
سلطان آفندی نے اسے جھٹکا دے کر چھوڑا ۔۔۔۔
قرت العین سےمزید برداشت نا ہوا تو وہ اپنا گرا ہوا دوپٹہ اٹھا کر وہاں سے فورا باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔
قرت العین کے وہاں سے نکلتے ہی سلطان آفندی نے ایک پنچ دیوار پر مارا۔۔۔ پھر آنکھیں بند کیے وہی ہاتھ کی انگلیاں اپنے بالوں میں پھیرنے لگا۔۔۔۔
کسی فرشتہ صفت نے اسے سمندر میں گرتے ہوئے دیکھا تو گہرائی کی پرواہ کیے بنا وہ لمحے میں اس میں کود گیا ۔۔۔۔اور مہارت سے سوئمنگ کرتے ہوئے سمندر کی من موجی لہروں سے لڑتا ہوا سمندر کی گہرائی میں جانے لگا جس طرف ابھی آرزو ڈوب رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ چند منٹوں کا سفر طے کیے اسے سمندر کی گہرائی سے سطح پر لے آیا اور اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے باہر خشکی تک لایا ۔۔۔
زمین پہ اس کے وجود کو لٹائے۔۔۔وہ اسے دیکھنے لگا جس کا سانس نا ہونے کے برابر تھا۔۔۔۔
اس نے ماہرانہ انداز میں اس کا پیٹ دبایا تو منہ میں سے پانی باہر نکلا مگر ابھی بھی اسے ٹھیک سے سانس نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
اس نے آرزو کے گال تھپتھپاکر کر اسے اٹھانا چاہا مگر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھی ۔۔۔۔
“ِشٹ”
She need to breath ……
Damn it ۔
نا چاہتے ہوئے بھی اس نے اسے مصنوعی سانس دینے کا فیصلہ لیا۔۔۔۔
گہری سانس لے کر آنکھیں بند کیں اور اپنے عنابی لب اس کے گلابی لبوں پہ رکھے اس میں اپنی سانسیں منتقل کرنے لگا ۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹا ِبناکوئی پیش رفت دیکھ کر ۔۔۔
پھر سے ایک بار کوشش کی ۔۔۔۔
اس کا چہرہ اپنے قریب کیے اس بار شدت سے سانسیں انڈیلیں ۔۔۔۔
اس نے نیم واہ آنکھوں سے اسے دیکھنا چاہا ۔۔۔۔
مگر آنکھوں کے سامنے سب دھندھلا رہا تھا کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔بہت قریب سے مونچھوں کی چبھن محسوس کیے وہ زور سے کھانسنے لگی ۔۔۔
“یہ سد تو نہیں ۔۔۔۔۔اسکی مونچھیں نہیں ۔۔۔۔وہ تو کلین شیو ہے ۔۔۔پھر کون ؟؟؟؟؟
وہ اس کی سانسوں سے بھی قریب تھا مگر وہ اسے اپنی پھر سے بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے دیکھ نہیں پائی تھی ۔۔۔۔۔
اور ایک بار پھر سے اپنے حواس کھو گئی۔۔۔۔
اس نے اسے نارمل سانس لیتے دیکھا تو اسے بانہوں میں بھر کر واپسی کے راستے پر گامزن ہوا۔۔۔۔
رات گئے وہ اسے اس کے ہاسٹل کے روم میں چھوڑنے آیا ۔۔۔۔
اس پر کمفرٹر کھول کر ڈالا پھر روم کا ہیٹر آن کیا تاکہ اس کے نم کپڑے سوکھ جائیں ۔۔۔۔اور آہستگی سے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔
وہ آفس سے واپس آئی تو پورچ میں گاڑی کھڑی تھی جسے وہ پہچان نہیں پائی تھی بھلا یہ کس کی گاڑی ہوگی ۔۔۔وہ سوچتے ہوئے اندر آئی ۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ عیسی اور موسی گیلانی دونوں بھی اندر آئے ۔۔۔۔
لاونج میں ہی سب موجود تھے ایک صوفے پہ اکبر اور جنت گیلانی بیٹھے ہوئے تھے ۔۔اکبر آج دوپہر میں ہی لوٹا تھا اسی لیے قرت العین اس کی واپس سے بے خبر تھی ۔۔۔جبکہ دوسرے تھری سیٹر صوفے پہ انیقہ گیلانی ،حرعین اور فاطمہ بیٹھی ہوئی تھیں۔
ٹو سیٹر صوفے پر دو انجان لوگ تھے ۔۔۔جن میں ایک مرد تھا اور دوسری عورت ،دیکھنے میں وہ کسی اچھے گھرانے کے معلوم ہو رہے تھے ۔۔۔۔
عیسی اور موسی گیلانی کے بیٹھنے کے لیے جگہ بناتے ہوئے حرعین اور فاطمہ وہاں سے اٹھ گئیں ۔۔۔۔
اسلامُ علیکُم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرت العین نے سب کو مشترکہ سلام کیا ۔۔۔
جس کا سب نے اکٹھے ہی جواب بھی دیا ۔۔۔۔
وہ دونوں بھی اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے عیسی اور موسی گیلانی سے ملے ۔۔۔۔
“تو یہ ہے ہماری بیٹی ؟عورت نے مسکرا کر قرت العین کی طرف دیکھا اور اس کے آگے اپنا ہاتھ کیا ۔۔۔
وہ اچنبھے سے اپنی ماں حرعین کی طرف دیکھنے لگی جیسے پوچھ رہی ہو کہ یہ کون ہے ۔۔۔۔
حرعین نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے ان کے پاس بیٹھنے کا عندیہ دیا۔۔۔۔
“سلطان کو تو آپ اچھے سے جانتے ہی ہیں عیسی صاحب ہمارا خود کا اتنا بڑا بزنس ہے مگر جناب کو اپنے باپ کا بنا بنایا بزنس نہیں سنبھالنا اسے اپنے بل پر خود کچھ کر دکھانے کی چاہ تھی اسی لیے وہ آپ کے پاس جاب کر رہا ہے ۔۔۔اپنی خواہش کے لیے۔۔۔۔
“آج ہم اسی کا رشتہ لے کر حاضر ہوئے ہیں آپ کے پاس بس آپ کی حامی کے منتظر ہیں ہمیں مایوس مت کیجیے گا ۔۔۔۔ہم ابھی مثبت جواب لے کر ہی جائیں گے ۔۔۔۔
سلطان آفندی کے والد ابراہیم آفندی نے کہا ۔۔۔۔
“اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطان آفندی ایک نہایت ہی قابل لڑکا ہے اس نے بہت جلد اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے ۔۔۔۔۔مجھے تو کوئی اعتراض نہیں۔۔۔باقی سب کیا کہتے ہیں ؟؟؟عیسی گیلانی نے باقی موجود افراد پر نظر ڈالی جیسے ان سے مشورہ لینا چاہتے ہوں ۔۔۔
“مجھے بھی رشتہ بہت مناسب لگا۔۔۔موسی گیلانی نے کہا ۔۔۔۔
“کیوں اکبر تم کیا کہتے ہو آخر کو قرت العین تم تمہاری بیٹی ہے “؟
“اکبر نے حرعین کی طرف دیکھا جس نے اثبات میں سر ہلا کر اپنی رضامندی ظاہر کی۔۔۔۔
“آپ سب بڑوں کا فیصلہ ہے مجھے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔۔۔۔اور اپنی بیٹی پر پورا بھروسہ ہے اسے اپنے بڑوں کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔۔اکبر نے مان بھرے انداز میں ابراہیم آفندی اور عابدہ آفندی کے درمیان گم سم بیٹھی ہوئی قرت العین کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔۔
آج تازہ ہی ہوئے واقعہ کے بارے میں سوچ سوچ کر پہلے ہی اس کا دماغ شل ہو چکا تھا اب یکدم نئی افتاد پر وہ بوکھلا کر رہ گئی۔۔۔۔
“ضرور سلطان آفندی اس تھپڑ کا بدلہ لینے کے لیے میری ساری زندگی اجیرن بنانے کا سوچ رہا ہوگا ۔۔۔۔
میں ایسا نہیں ہونے دوں گی ۔جو بھی ہوا بس ایک غلط فہمی کی بنا پر ہوا ۔۔۔۔میں ان سے شادی ہر گز نہیں کروں گی اس نے دل میں سوچا ۔۔۔نظریں اٹھا کر اپنے گھر کے مکینوں کی طرف دیکھا جو مان بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو امڈنے لگے مگر اس نے پوری کوشش کیے انہیں پیچھے دھکیلا۔۔۔۔
اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔۔
“بچی شرما گئی ہے ۔۔۔اس طرح کے موقعوں پہ لڑکیاں ایسے ہی شرما جاتی ہیں “انیقہ گیلانی نے کہا۔۔۔۔۔
“تو پھر ہم رشتہ پکا سمجھیں “؟
ابراہیم آفندی نے کہا۔
“جی “اکبر نے کہا ۔۔۔۔
تو سب اپنی جگہ سے اٹھے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے ۔۔۔۔
جاؤ عائشہ کچن سے مٹھائی لاؤ آن فاطمہ نے اسے کہا۔۔۔
“جی مما ابھی لائی “کہتے ہی وہ خوشی سے تقریبا بھاگتے ہوئے کچن کی طرف چلی گئی اور مٹھائی ٹرے میں سجائے باہر آئی اور سب کے آگے پیش کی ۔۔۔۔
“تو پھر اسی ہفتے ہی اس فرض سے فارغ ہوجائیں “ابراہیم آفندی نے خوشی سے لبریز لہجے میں کہا۔
“ابراہیم صاحب آپ تو ہتھیلی پہ سرسوں جمائے ہوئے ہیں،اتنی جلدی کیسے ممکن ہے یہ سب ہمیں تھوڑا وقت دیں ابھی تو قرت العین کی تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی ۔۔۔۔
“ہمیں ہماری بیٹی کے آگے پڑھنے سے کوئی اختلاف نہیں۔۔۔وہ جتنا چاہے پڑھے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔”
پھر بھی ابراہیم صاحب لڑکی کی شادی کی پر سو تیاریاں کرنی پڑتیں ہیں ۔۔۔۔موسی گیلانی نے کہا۔
“ہمیں ہماری بیٹی کے علاؤہ ایک چیز بھی نہیں چاہیے اللّٰہ پاک کا دیا سب کچھ ہے ہمارے پاس “
“پھر بھی بھائی صاحب یہ کچھ زیادہ جلدی نہیں ؟جنت گیلانی نے کہا ۔۔۔۔
“زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اس سے جتنی خوشیاں سمیٹی جا سکتی ہیں اتنی جلد سے جلد سمیٹ لینی چاہیے۔۔۔عابدہ آفندی نے کہا ۔۔۔۔
“وہ تو ٹھیک کہا آپ نے عیسی گیلانی نے کہا ۔۔۔۔
“ٹھیک ہے تو پھر اسی ہفتے کی کوئی تاریخ دے دیں تاکہ ہم جلد سے جلد اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جائیں ۔۔۔۔
“بتاؤ اکبر پھر کیا کہتے ہو ؟آخری فیصلہ تو تمہارا ہی ہوگا ۔۔۔انیقہ گیلانی نے کہا ۔۔۔۔
“اس جمعہ کو نکاح کا فریضہ انجام دے دیتے ہیں “اکبر نے باوقار انداز میں کہا ۔۔۔۔
“جی یہ تو بہت مناسب دن ہے “عابدہ آفندی بولیں۔۔۔۔
پھر آگے کے مراحل پر سب آپس میں گفتگو کرنے لگے ۔۔۔
حرعین اور آن فاطمہ دونوں کھانے کی تیاری کے لیے کچن کی طرف بڑھ گئیں ۔۔۔۔۔
“سد کیسے ہیں آپ “؟
سد نے اپنے موبائل پر آنے والا میسج دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا ۔۔۔۔
“یہ ذندہ ہے ؟؟؟
“بچ کیسے گئی “؟؟؟؟
وہ منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں ۔۔۔ تم کیسی ہو ؟؟؟
“اب میں ٹھیک ہوں “اس نے تسلی دی ۔۔۔
“سد کل کیا ہوا تھا مجھے کچھ بھی یاد نہیں “
“آرزو کل کروز میں اچانک پانی جمع ہو جانے کی وجہ سے تمہارا پاؤں پھسلا اور تم سمندر میں گر گئی ۔۔۔۔
میں نے تمہیں بچانے کی بہت کوشش کی تمہارے پیچھے پانی میں بھی کود گیا تمہیں بچانے کے لیے مگر تم مجھے کہیں نہیں ملیں۔۔۔۔
تم وہاں سے کیسے نکلیں ؟؟؟
“مجھے تو خود بھی نہیں یاد کچھ بھی پتہ نہیں میں واپس ہاسٹل بھی کیسے پہنچی ۔۔۔۔
اس نے میسج سینڈ کیا۔۔۔۔
“آرزو یہ ضرور کوئی ہمارا دشمن ہے جو ہمیں ایک ساتھ نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔
“سد ہمارا دشمن بھلا کون ہو گا یہاں ؟؟؟
“یہ تو میں بھی نہیں جانتا مگر اب میں مزید ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے رشتے کو ایک نام دے دیں اسے مضبوط بنا لیں تاکہ کوئی بھی دشمن ہمیں الگ نہیں کر سکے ۔۔۔۔
“سد یہ سب ممکن نہیں اتنی جلدی “
“کیا تم مجھ سے شادی کرنے سے انکار کر رہی ہو ؟؟؟
“سد میں اپنے گھر والوں کے بغیر اپنی زندگی کا اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا لوں ؟
“مجھ سے پیار کرتے وقت اپنے گھر والوں سے اجازت لی تھی جو تمہیں شادی کرتے وقت ان کی اجازت درکار ہے ؟؟؟؟
“سد تم مجھ سے ایسے بات نہیں کر سکتے “
“تو پھر کیا کروں ؟
“تم بتاؤ مجھے ؟
“نہیں کرنی مجھ سے شادی تو صاف صاف بتاؤ ؟
سد کے میسجز آ رہے تھے وہ صرف انہیں پڑھ رہی تھی ۔۔۔
“سد میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں مگر ایسے نہیں “اس نے سوچ سمجھ کر جواب دیا۔
“ٹھیک ہے تو پھر بھول جاؤ مجھے ۔۔۔
میں آج ہی واپس جا رہا ہوں یہاں سے اب کبھی واپس نہیں آؤں نا یہاں نا تمہاری لائف میں “سد نے اسے دھمکی آمیز میسج بھیجا۔۔۔۔
“سد ایسا نا کہو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی “
“تو پھر ٹھیک ہے تھوڑی دیر میں تیار ہو کر مجھے ہاسٹل کے گیٹ پر ملو ۔۔۔میں وہیں تمہارا انتظار کروں گا “
سد کی طرف سے ملا ہوا میسج پڑھ کر وہ اپنے بستر سے اٹھی اور تیار ہونے چل دی ۔۔۔۔۔۔
سد یہ ہم کہاں آئے ہیں ؟؟؟؟
“یہ چرچ ہے “سد نے اسے جواب دیا ۔۔۔
“مگر سد یہاں کیوں “؟
“ہم مسلم ہیں تو نکاح مسجد میں کریں گے “
“مسجد یہاں سے بہت دور ہے دوسرے شہر میں ہے وہاں کیسے جائیں اتنی جلدی ؟
“مگر سد جلدی کیاہے “؟
“تم نہیں سمجھو گی “
“تم یہ بتاؤ مجھ سے شادی کرنی ہے یا نہیں “
“اگر نا کرنی ہوتی تو یہاں تک نہیں آتی “
“ٹھیک ہے تو پھر یہیں رکو میں پادری سے بات کر کہ آتا ہوں “
وہ چرچ کی سیڑھیوں کے پاس کھڑی ہوئی اس کی واپسی کی راہ تک رہی تھی ۔۔۔۔
“میں ہندو تم مسلم شادی ہم کرسچنز کی طرح کریں گے ۔۔۔
“Wow what a fantastic deed !
(عمل)
“کیوں پادری “؟
اس نے اپنی تھوڑی کو سہلاتے ہوئے پر اسرار ہنسی ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
سامنے کھڑا ہوا پادری حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ وہ انگریز پادری اس کی بات سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔۔
پھر سد نے پادری سے اپنی اور آرزو کی شادی کی بات انگلش لب و لہجے میں کی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد سد واپس آیا اور آرزو کو لیے ۔۔۔
سد وہیں آئے ہوئے دو لوگوں کو وٹنیس بننے کے لئیے آمادہ کر چکا تھا ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ کرسچن رسم و رواج کے مطابق ان کی شادی شروع ہوتی وہ دونوں ایک ساتھ ایک اونچے میز کے سامنے کھڑے ہوئے تھے جس پر کپڑا بچھا کر موم بتیاں جلائی گئی تھیں۔۔۔
کسی نے آرزو کے قریب آتے اسے بازو سے گھسیٹ کر اس کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پہ رسید کیا کہ وہ لہراتی ہوئی ایک بینچ پر گری ۔۔۔۔
وہ فق نگاہوں سے اپنے گال پہ ہاتھ رکھے تھپڑ مارنے والے کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
“تف ہے تم پر “
“شرم نہیں آئی تمہیں اپنے اندھے عشق کے نام پہ مذہب کو بھلا کر ایسا کارنامہ انجام دیتے ہوئے”
اس کے لہجے میں اژدھوں کی سی پھنکار تھی ۔۔۔۔
“یہ ۔۔۔۔۔یہ ہے تمہاری پسند اس نے سد کا گلہ دبوچ کر سامنے پڑے کینڈلز کے ٹیبل پر لگایا ۔۔۔
سد اس کے لیے تیار نہیں تھا ۔۔۔
اس کا منہ چلتی ہوئی موم بتیوں سے جھلستا ہوا محسوس ہوا تو وہ فورا حواس میں لوٹا اور پلٹ کر مقابل کو دھکا دے کر اپنا آپ چھڑوایا ۔۔۔۔
اس نے سد کے پیٹ میں پنچ مارا تو وہ پیٹ پر ہاتھ رکھے اس سے دو قدم پیچھے ہوا ۔۔۔۔
“جانتی ہو کون ہے یہ ؟؟؟
جانتی ہو ؟؟؟؟وہ آرزو کی طرف دیکھے سد کو کالر سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے غرایا ۔۔۔۔
“یہ ہے سدھانت اگروال ایک ہندو آرمی ڈاکٹر ۔۔۔۔
“بول یہی ہے نا تیری اصلیت ؟؟؟؟
اس نے سد کے پیٹ میں کک ماری ۔۔۔
وہ آرزو کے پاس گرا ۔۔۔۔
پادری اور وہاں موجود افراد ان کی آپسی لڑائی دیکھ تھوڑا دور ہوگئے ۔۔۔۔
آرزو پھٹی ہوئی نگاہوں سے سد کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔
“یہ۔۔۔انسان جھوٹ بول رہا ہے آرزو میرا یقین کرو میرا نام سادات ہے میں مسلم ہوں ۔۔۔۔
تم کہو تو میں تمہیں کلمہ بھی سنا سکتا ہوں “
“میں تم سے پیار کرتا ہوں میرا یقین کرو آرزو یہ جھوٹ بول رہا ہے “”
اس نے آرزو کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنا یقین کروانا چاہا۔۔۔۔
“یہاں کی پولیس کو کال کی ہے کسی بھی وقت آتی ہی ہوگی “وہ اسے وارن کرتے ہوئے بولا۔
سد کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا اس بارے میں تو اس نے کوئی پلاننگ نہیں کی تھی فی الحال اس نے یہاں سے کھسک جانے میں ہی عافیت جانی۔۔۔۔
آگے کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے فی الوقت اس کا یہاں سے چلے جانا ہی بہتر تھا ۔۔۔
وہ پادری کو اس پر دھکا دئیے وہاں سے بھاگ گیا ۔۔۔۔
آرزو جو ابھی تک سکتے کی حالت میں گری ہوئی تھی ہمت کیے وہاں سے اٹھی ۔۔۔۔
“دیکھ لی اپنی محبت ؟؟؟وہ آرزو کے سر پر پہنچ کر غرایا ۔۔۔
آرزو نے چرچ میں نظر دوڑائی جہاں اسے سد کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔
وہ شکستہ وجود لیے تہی داماں وہیں ڈھ سی گئی۔۔۔۔۔
