Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad Readelle50351 Meri Preet Amar Krdo (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Meri Preet Amar Krdo (Episode 15)
Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad
“بابا ” اکبر کوگھر میں داخل ہوتے دیکھ عائشہ اور قرت العین دونوں بھاگ کر اس کے گلے لگیں ۔۔۔۔
“کیسی ہیں میری پرنسس ؟؟؟اکبر نے اپنے بازوؤں کے گھیرے میں ان دونوں کو لیتے ہوئے خوشی سے لبریز لہجے میں پوچھا ۔
“ہمارے بابا آگئے ہیں اب تو ایک دم فٹ ہو جائیں گے “عائشہ نے اکبر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اندر آرہی تھی ۔
“بابا آپ کو پتہ ہے مما مجھے ڈانٹتی ہیں جب آپ چلے جاتے ہیں “عائشہ اسے آن فاطمہ کی شکایت لگا رہی تھی ۔۔۔۔
“بابا یہ غلط فرمائش کرے گی تو بڑی مما سے ڈانٹ ہی پڑے گی نا اسے “
آپ اس کی وجہ سے بڑی مما کو کچھ مت کہنا “قرت العین نے آن فاطمہ کی طرف داری کی ۔
“بابا یہ تو میری مما کی چمچی ہے اس کی بات مت سنیے گا “اور مجھے بھی علی بھائی جیسی کار لے کر دیں “
وہ اکبر کا ہاتھ پکڑ کر لاڈ سے بولی ۔
“لو جی ہوگئی اس کی الٹی سیدھی فرمائشیں شروع ” قرت العین نے برا سا منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔
“ابھی ہماری پرنس کالج میں ہے تھوڑی اور بڑی ہو جائے اپنی بی۔ایس ۔سی کمپلیٹ کر لے پھر پرامس لے دوں گا “
“بابا پکا والا پرامس “؟
“جی بالکل پکا والا “
بابا آپ کے لیے پانی لاؤں ؟”قرت العین نے پوچھا ۔
“ہماری بیٹی لائے گی تو ضرور پئیں گے “
اکبر نے پیار بھرے انداز میں کہا ۔۔۔
“ابھی لائی وہ بھاگتی ہوئی کچن کی طرف گئی ۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم !
“یہ پانی ” آن فاطمہ نے اس کے آگے پانی کا گلاس کیا اور سلام کیا ۔۔۔
“وعلیکم السلام !
“ہماری بیٹی پانی لینے گئی ہے ۔۔وہی پیوں گا اسے رکھ دو “,.وہ ہمیشہ کی طرح بے اعتنائی برت رہا تھا ۔۔۔۔ایسا آن کو محسوس ہوا ۔۔۔۔۔
“آپ کب آئے ؟کیسے ہیں آپ ؟؟؟
حرعین نے اکبر کو صوفے پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو حیرت انگیز لہجے میں کہا ۔۔۔۔
“ابھی آیا ہوں “اس نے سپاٹ انداز میں جواب دیا ۔۔۔اور یونیفارم کی شرٹ کے اوپری دو بٹن کھول رہا تھا ۔۔۔۔
اتنی عمر گزرنے کے بعد بھی اس کی وجاہت میں کمی نہیں آئی تھی بلکہ وقت نے اسے مزید سوبر اور جاذب نظر بنا دیا تھا ۔۔۔اور آرمی یونیفارم میں ہمیشہ کی طرح وہ اپنی دونوں شریک حیات کے دلوں کو دھڑکانے کا سبب بنا ہوا تھا ۔۔۔۔
وہ دونوں اسے اتنے ماہ بعد ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں اور پیاسی نظروں کو سیراب کر رہی تھی مگر وہ بے نیاز بنا اپنی بیٹیوں کے لاڈ اٹھانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
“ہیلو ڈیڈ !حیدر نے کتابوں والا بیگ صوفے کے ایک طرف اچھالتے ہوئے اکبر کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
“ہیلو ینگ مین کیسے ہو “؟
“ڈیڈ فٹ اینڈ فائن “
“مسڈ یو آلاٹ “حیدر آکر اکبر کے ساتھ بیٹھتا ہوا اس کے گلے لگا ۔۔۔۔
“مجھے بھی تم سب کی بہت یاد آتی ہے ۔۔۔
But you know duty is duty….
اکبر نے لب بھینچ کر کہا۔
“Yeah ! Dad we know….
حیدر نے یاسیت بھرے انداز میں کہا ۔۔۔
سٹڈیز کیسی جا رہی ہیں “اکبر نے حیدر سے پوچھا ۔
“سب ٹھیک چل رہا ہے ۔۔۔۔بی ۔کام کا تو سٹارٹ ہی ہے ابھی ۔۔۔۔
“Hey little bro …..
علی نے اندر آتے ہی حیدر کے بال بگاڑے ۔۔۔۔
“کیا یار برو کتنی مرتبہ کہا ہے میرے بالوں کو مت چھیڑا کرو ۔۔۔۔
حیدر نے غصہ دکھاتے ہوئے کہا ۔۔۔وہ جب بھی اپنے بال جیل سے سیٹ کرتا علی جان بوجھ کر بگاڑ دیتا ۔۔۔
“اسلام وعلیکم مائی ہینڈسم ڈیڈ !علی نے اکبر کو دور کھڑے ہوئے ہی دو انگلیاں کنپٹی پہ رکھ کر ایک سٹائل سے سلام کیا ۔۔۔۔
“وعلیکم السلام !!!
“کہاں کی تیاریاں ہیں برخوردار !
علی کو نک سک تیار دیکھ کر اکبر نے سوال کیا ۔۔۔۔۔
“ڈیڈ کچھ نوٹس تیار کرنے ہیں لاسٹ سمیسٹر کے لیے ایک دوست کی طرف جا رہا ہوں شام تک آجاؤں گا “
“اکبر آپ اسے سمجھاتے کیوں نہیں یہ آدھی آدھی رات تک باہر رہتا ہے اس کے گھر آنے جانے کا کوئی وقت نہیں “حرعین نے اس کی شکایت لگائی ۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم چاچو !آرزو نے سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے خوشدلی سے کہا ۔۔۔
“وعلیکم اسلام کیسی ہے میری گڑیا “
“تھوڑی سی اندھی ، بونی اور دماغ سے پیدل “علی نے دھیمی آواز میں کہا مگر قریب سے گزرتی ہوئی آرزو سے اس کی یہ فضول گوئی مخفی نا رہ سکی ۔۔۔وہ تلملا کر رہ گئی مگر اکبر کے سامنے اسے جواب دینے سے گریز کیا ۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں چاچو مگر مجھے آپ کو ایک ضروری بات بتانا تھی ۔۔۔
“ہاں بتاؤ کیا بات ہے ؟
چاچو مجھے آکسفورڈ یونیورسٹی جانا ہے۔اس کے لیے گرینڈ مام نے سارے انتظامات مکمل کروا دئیے ہیں میں نے سوچا آپ کو بھی بتا دوں ۔
“یہ تو اچھی بات ہے وہ مثال نہیں سنی علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے ۔۔۔
میں تو یہی چاہتا ہوں تم زیادہ سے زیادہ پڑھو اور اپنے شہید والد کا نام روشن کرو ۔۔۔
اکبر کی بات سنتے ہی آرزو کی چشمے کے پیچھے چھپی ہوئی آنکھیں نم ہوئیں ۔۔۔۔
“کب جانا ہے ؟علی نے سوال کیا ۔۔
“کل شام کی فلائٹ ہے “آرزو نے اس کی طرف دیکھ کر جواب دینے کی بجائے اکبر کی طرف دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
“کمرے میں آنے کا دل نہیں تھا یا جان بوجھ کر دیر سے آئے “حرعین کے لبوں سے شکوہ پھسلا اکبر کو رات گئے کمرے میں آتے ہوئے دیکھ کر ۔۔۔۔
اکبر نے پینٹ کی پاکٹ سے موبائل اور والٹ نکال کر ایک طرف رکھا تو حرعین چلتی ہوئی اس کے قریب آئی ۔۔۔
“کیوں کسی کو انتظار تھا “؟
اکبر نے سادہ سے انداز میں پوچھا ۔
“کیوں شوہر اتنے دنوں بعد لوٹے اور بیوی کو انتظار بھی نا ہو ۔۔۔۔
وہ نروٹھے انداز میں بولتے ہوئے اس کی شرٹ کے باقی بٹن کھولنے لگی ۔۔۔
“کر لوں گا یار “اس نے حرعین کے ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔
“کیوں میرا قریب آنا آپ کو کھٹکنے لگا ہے ؟برا لگتا ہے ؟؟؟وہ سوالیہ نظروں سے پوچھ رہی تھی۔
“بچے بڑے ہوگئے ہیں اس عمر میں بھی آپ کو میری اٹینشن چاہیے ؟؟؟؟
اکبر نے ابھی بھی اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام رکھے تھے کہیں وہ ناراض ہو کر چھڑوا نا لے ۔۔۔۔
“جی بالکل ہم اتنے بڈھے ہو جائیں گے کہ لاٹھی کے سہارے چلنے لگے تب بھی مجھے آپ کی اٹینشن چاہیے ۔۔۔
بلکہ اگر میں آپ سے پہلے مر گئی تو مرنے کے بعد بھی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑوں گی ۔۔۔روز آپ کو دیکھنے کرنے آیا کرے گی یہ کنیز ۔۔۔۔مغل بادشاہ سلامت اکبر ! وہ کھکھلا کر بولی ۔۔۔۔
اکبر اسے ساتھ لیے بستر پر آیا ۔۔
“چلیں اب بتائیں کتنی اٹینشن چاہیے ؟؟؟؟وہ اس کے گال پہ لب رکھے پوچھا رہا تھا ۔۔۔۔
“ظل الٰہی اس سے کچھ زیادہ “
وہ خود میں سمٹتی ہوئی بولی ۔۔۔
“بندہ خاکسار حاضر ہے اپنی ملکہ عالیہ کے دربار میں “
اکبر کی گھمبیر آواز اس کے کانوں میں سنائی دی ۔۔۔۔
” کہاں سے آرہے ہو تم اس وقت ؟ “
وہ جو دبے پاؤں اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا آرزو کی تلخ آواز سن کر تیزی سے پلٹا وہ سامنے ہی ہاتھ میں مگ لیے کھڑی خونخوار تیور لئے اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔
” اے چشمش چوہیا آہستہ بولو ۔۔۔۔۔ کوئی ُسن لے گا اور خبر دار جو کسی کو بھی بتایا کہ میں رات لیٹ آیا۔۔۔ہاں اور اب اگر کچھ اور پوچھنا ہو میرے تو میرے روم میں آ کر پوچھنا۔”
وہ آہستہ آواز میں بولا اور سرد نگاہ اس پہ ڈال کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔وہ تیزی سے اس کے پیچھے پیچھے ہولی ۔۔۔کیونکہ آرزو اس کی بازو سے رستا ہوا خون دیکھ چکی تھی۔
” یہ خون کیسا ہے ؟ کیا ہوا ؟دیکھو علی سچ سچ بتانا مجھے ۔۔۔۔ورنہ میں ابھی جا کر بتادوں گی چاچو کو آج وہ گھر پہ ہی ہیں “وہ دھمکی آمیز انداز میں بولی۔۔۔
علی نے اپنی کلائی میں بندھی رسٹ واچ اتار کر ایک طرف رکھی ۔۔۔اور دوسرے ہاتھ پر موجود بندھے مختلف رنگوں کے بینڈز اتارے ۔۔۔۔ایک ہاتھ کی انگلی میں چھلا تھا جس پر شیر بنا ہوا تھا ۔۔۔اسے بھی اتارا۔۔۔۔
وہ خشمگیں نگاہوں سے اس کی سرگرمیاں دیکھ رہی تھی۔
” چشمش چوہیا اب کیا تم میرا ایکسرے کرنے کھڑی ہو ؟؟ کچھ دیر کے لئے میری جان چھوڑ دو ابھی مجھے اپنی بینڈیج کرنی ہے تم بعد میں آ کر انویسٹیگیشن کر لینا۔”
وہ اسے ہاتھ سے باہر جانے کا اشارہ کر رہا تھا ۔۔۔۔
آرزوکو اب کی بار اس کے چہرے پہ تکلیف کے آثار دکھائی دیئے تھے اس نے محسوس کیا کہ وہ آج سیریس تھا ورنہ ہر وقت شرارتی موڈ میں رہتا تھا ۔۔۔۔
” ایسے کیسے تمہیں اس حال میں چھوڑ کر چلی جاؤں ؟؟؟ پہلے تم مجھے بتاؤ کہ آخر ہوا کیا ہے اور تم تھے کہاں اور تمہیں چوٹ کیسے لگی؟۔
” کچھ نہیں دوست کے ساتھ راستے میں بس ایک چھوٹا سا ایکسیڈینٹ ہو گیا تھا تم گھر پہ کسی کو مت بتانا پلیز سب پریشان ہو جائیں گے میں ٹھیک ہوں۔”
اس نے آرزوکو تسلی دینا چاہی جو اب بھی شک بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
” تو ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں گئے تم خود کیسے کرو گے بینڈیج ، لاؤ میں کر دیتی ہوں۔”
وہ فرسٹ ایڈ باکس لے کر اس کے پاس آئی تو وہ بدک کر کھڑا ہو گیا۔
” آر یو سیریس تم میری بینڈیج کرو گی مطلب میں تمہارے سامنے شرٹ اتاروں ؟؟؟؟
ویسے اگر تمہیں کوئی اعتراض نہیں تو ایز یو وش ۔”
وہ اس کے ہاتھوں سے فرسٹ ایڈ باکس لے کہ ایک طرف رکھا اور پھر اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا ۔۔۔۔
“تم جیسا واہیات انسان میں کبھی اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ۔۔۔صحیح
کہتے ہیں نیکی بھی ان سے کرو جو ان کے قابل ہوں ۔۔۔۔مرو جو مرضی کرو میری بلا سے وہ غصے میں آگ بگولہ ہوتی ہوئی تن فن کرتے دروازہ کھٹاک سے بند کرتے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
اس کے باہر جاتے ہی علی نے تیزی سے کمرے کا دروازہ بند کیا اور بستر پہ آ کر بیٹھ گیا اس کے چہرے پہ اب شدید تکلیف کے آثار تھے جو کچھ دیر پہلے وہ دانستہ آرزو کے سامنےظاہر نہیں کر رہا تھا۔
اس نے آہستہ سے اپنی شرٹ اتار کراپنے زخموں کا جائزہ لیا۔بازو کازخم کافی گہرا تھا۔۔گولی ابھی بھی بازو میں پیوست تھی ۔اس نے بازو پہ وقتی طور پر بندھا ہوا رومال کھولا تو خون فوارے کی مانند پھوٹ پڑا۔۔۔۔ ۔
وہ یہ سب آرزوکو نہیں دکھا سکتا تھا۔آرزو تو کیا وہ گھر میں بھی یہ کسی کو بھی نہیں دکھا سکتا تھا کیونکہ پھر اسے بتانا پڑتا کہ وہ رات بھر کہاں تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بھی یہ بات جانے۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ ہمت کیے خود کے درد سے جونجتے ہوئے بالآخرگولی نکالنے میں کامیاب ہوا۔۔۔اب وہ لب باہم پیوست کیے اپنے زخموں پر پائیو ڈین لگا رہا تھا تکلیف کی شدت سے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا مگر وہ تکلیف برداشت کر رہا تھا۔
ﺍﺳﮯ ﺍپنے انٹری ٹیسٹ کی تیاری ﮐﺮﻧﺎ ﺗھی۔۔۔ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ابھی تک جاگ رہی تھی تیاری کرتے ہوئے اسے کاﻓﯽ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﮯ اپنے کمروں میں سو چکے تھے ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ اپنے لیے کافی بنانے کا سوچا اور وہ کچن کی طرف ہی آرہی تھی کہ راستے میں علی سے مڈبھیڑ ہوگئی اب وہ اس کے کمرے سے نکل کر ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺁئی اور مگ اٹھایا اس میں کافی پاؤڈر ڈالا ﺍﻭﺭ کاﻓﯽ ﺑﯿﭧ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ وائٹ شارٹ ﺷﺮﭦ ﺍﻭﺭ بلیک کیپری ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﯼ ﺭﻧﮕﺖ ﺩﻣﮏ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔
گلے میں بے توجہی سے پڑا سفید اور سیاہ امتزاج کا دوپٹہ جھول رہا تھا ۔۔۔اور اپنے گھنگھریالےﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ کیچر میں مقید ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮐﭽﮫ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﻟﭩﯿﮟ چہرے کو بوسہ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔۔
وہ جو سمجھ رہا تھا کہ آرزو بھی واپس جا کر سو گئی ہو گی ﻣﮕﺮ ﮐﭽﻦ ﺳﮯ ﺁﺗﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﺳﮯ ﻓﻮﺭﺍََ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﭽﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ آرزو ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﮕﻦ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐافی بیٹ کرتے ہوئے دیکھا ﻟﺒﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﮐﺮ ﻣﻌﺪﻭﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ فریج ﮐﮭﻮﻟﮯ ﮐﭽﮫ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻠﮑﮯ ﺳﮯ کچن کاڈور ناک ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺟﻮ فریج میں دودھ ڈھونڈھ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻓﻮﺭﺍً ﭘﻠﭩﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻝ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﺩﮬﮍﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ علی ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ایک ہاتھ دل پہ رکھے ﺳﮑﻮﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﻧس بھرا ۔۔۔
” ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮈﺭﺍ ﺩﯾﺎ ” ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﭽﻠﺘﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺑﺘﺎﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮈﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﻮﺍﮨﮯ .
” “تمہاری شکل ہی ڈراونی ہے تو بندہ ڈرے گا ہی نا “وہ بے اعتنائی سے کہہ گئی ۔۔۔۔
“ہا۔۔ہا۔۔۔ہا ۔۔۔وہ ہلکا سا قہقہ لگا گیا ۔۔۔
“انگور کھٹے ہیں “
اتنا ہینڈسم بندہ نا ملنے کا یقین ہوتو ایسا ری ایکشن تو بنتا ہے تمہارا”
“چچچچچچچہ۔۔۔۔بہت دکھ ہے تمہارے لیے ۔۔۔۔۔مگر کیا کیا جا سکتا ہے ؟
ناٹ انٹرسڈ !
“شٹ اپ یو چھچھوندر تمہیں گھاس ڈالتی ہے میری جوتی “
“شرم نہیں آتی اپنی بڑی بہن سے فضول کی ہانکتے ہوئے “وہ دانت پیس کر بولی۔۔۔۔
“فی الحال رات کے اس پہر مجھے شرم کھانے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ایسا کرو کھانے کھلانے کی بجائے مجھے کچھ پلا دو ۔۔۔۔۔
“ایسا کرو ایک کپ کافی میرے لیے بھی بنا دو ۔۔۔۔
“اور یہ تم ابھی تک جاگ کس خوشی میں رہی تھی ؟
” ﻣﺠﮭﮯ اپنے ٹیسٹ کی تیاری کرنی تھی ” ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ کافی بیٹ کرتے ہوئے ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ
” جب ﯾﮧ کاﻓﯽ بن جائے تو ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﮮ ﺟﺎﻧﺎ ” ﺍﺱ ﮐﯽ کافیﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ
” ﻧﻮﮐﺮ نہیں ہوں تمہاری جسے چاہیے اپنے لیے خود بنا لے ” وہ ﻏﺼﮯ ﺳﮯ ﺑﮍﺑﮍﺍﺗﯽ ﮐﭗ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ کاﻓﯽ ﺍﯾﮉ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ …اسے پتہ تھا اگر نا بنا کر دی تو صبح ہوتے ہی سب کے سامنے اسے زلیل کرے گا ۔۔۔۔
اس نے کمرے میں آکرفیس واش کیا اور ٹاول سے چہرہ صاف کرتے ہوئے واش روم سے ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﭨﯿﺒﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺑﺎﻝ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔۔
اس وقت وہ ﭨﯽ ﺷﺮﭦ ﺍﻭﺭ ایڈیڈاس کا ﭨﺮﺍﺅﺯﺭ ﭘﮩﻨﮯ ﮐﯿﺠﻮﻝ ﮈﺭﯾﺴﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺷﯿﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﺑﯿﮉﮐﯽ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﭨﯿﺒﻞ ﭘﺮ موجود کاﻓﯽ ﮐﮯ مگ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﭘﺮ ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﺍﺛﺮ ﭘﮍﺍ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﮯ کاﻓﯽ ﮐﯽ اشد طلب تھی، پہلا ﺳﭗ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯽ وہ دل میں اس کے ذائقے پر اسےﺩﺍﺩ ﺩﯾﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮧ ﺭﮦ ﺳﮑﺎ کاﻓﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﺑﯿﮉ پہ دراز ہوا اور ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﻭﺍﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ محو سفر ہوا ..
آرزو نے کمرے میں آکر کافی کا مگ ایک طرف رکھا خود بستر پر بیٹھی اور موبائل اٹھایا ۔۔۔۔
فیس بک آن کی تو سامنے ہی اس کا پیج تھا ۔۔۔آرزو نے اس کا پیج فیورٹ میں ڈالا ہوا تھا اس لیے سب سے پہلے اسے نوٹیفکیشن موصول ہو جاتی تھی اور پوسٹ اس کے پاس خود بخود آجاتی ۔۔۔۔
آج Sid کی برتھ ڈے تھی ۔۔۔ہزاروں لوگ اسے رات بارہ بجے سے ہی وش کر چکے تھے ۔۔۔ابھی بھی اس کے پیج پر میسجز آرہے تھے ۔۔۔۔
“اتنے لوگوں نے اسے وش کیا ہے اس نے کسی کو بھی ریپلائے نہیں کیا ۔۔۔
میرا میسج بھی تو عام لوگوں کی طرح نظر انداز کردے گا ۔۔۔آخر میں بھی تو اس کی عام سی فالورر ہی ہوں ۔۔۔میں نے آج تک کبھی اسے میسج نہیں کیا ۔۔۔آج بھی نہیں کروں گی “وہ خودی سے مخاطب آہستہ آواز میں بول رہی تھی ۔۔۔
“مگر میرا بہت دل ہے کہ اس کی سالگرہ پہ میں اسے وشز بھیجوں ۔۔۔۔
امممممم۔۔۔۔۔۔مگر کیا کروں کہ وہ میرا میسج بھی دیکھے اور پڑھے بھی “”وہ گال پہ انگلی رکھ کر سوچنے کے انداز میں بولی۔
“آئیڈیا “وہ چٹکی بجا کر بولی ۔۔۔
“میں اس کی آئی ڈی کے ٹائم لائن پہ میسج کرتی ہوں ۔۔۔۔
“آپ کو سالگرہ کا دن بہت بہت مبارک ہو ،اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا کی ہر خوشی دے ۔۔۔امید ہے آج کا دن آپ نے خوشی سے گزارہ ہوگا اپنی اس خوشی کے پلوں میں سے کچھ پل اگر کسی عام انسان کی نظر کردیں گے تو وہ بھی خوش ہو جائے گا ،آپ کی خوشیوں کا صدقہ نکل جائے گا،اگر آپ نے مجھے ریپلائے کیا تو ۔۔۔۔فرام آرزو ![]()
لکھ کر اس نے سینڈ کا آپشن پریس کیا ۔۔۔۔
اور جواب کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔۔۔
