Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 27)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

اسلام وعلیکم !آپی کیسی ہیں آپ؟

“وعلیکم اسلام !میں بالکل ٹھیک ہوں تم کیسی ہو ؟

“میں بھی ٹھیک ہوں ۔آپی مجھے آپ کا ایک ڈریس چاہیے ۔انہیں بھیج رہی ہوں پلیز انہیں دے دیں۔

“اوووووو۔۔۔۔اُنہیں ۔۔۔۔اچھا جی یہ کب سے ہوا ؟؟؟قرت العین نے شرارتی انداز میں اسے چھیڑا۔۔۔۔

“قرت العین !!!!!وہ چیخی ۔۔۔میں بھائی کی وجہ سے تمہیں عزت دے رہی تھی آپی کہہ کر اور تم مجھے ۔۔۔۔

“اچھا اچھا ٹھیک ہے بھیج دو اپنے اُن کو “

“عاشو ویسے ایک بات تو تم نے سچ کردی “

“وہ کونسی “؟عائشہ حیرت سے بولی۔

“تم نے کہا تھا ناکہ تم میرا پیچھا نہیں چھوڑنے والی ہمیشہ میرے ساتھ رہو گی ،آج وہ بات بھی پوری ہوگئی ۔تم بھی ہمیشہ کے لیے میرے ساتھ اس گھر میں رہنے کے لئیے آگئی۔واو کتنا مزہ آئے گا نا ہم دونوں ہمیشہ اکٹھی رہیں گی ۔وہ خوشی سے لبریز لہجے میں بولی۔

“یہ تو ٹھیک کہا آپ نے “

“ہمارے دیور صاحب کیسے لگے “؟

“بہت اچھے ہیں وہ “اس نے آہستہ آواز میں کہا معا کہیں ارمان سن نا لے ۔

ارمان جو فریش ہونے کے لیے واش روم کی طرف جا رہا تھا ۔اس کی بات سن کر ہلکے سے مسکرایا مگر اسے محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ سن چکا ہے۔

” علی کے جانے کے بعد وہ وہیں بیٹھا دل ہی دل میں آن کے لئے دعا کر رہا تھا ..

رات سے صبح ہو گئی تھی مگر اک پل کے لئے بھی اس نے آنکھیں بند نہیں کیں تھیں۔

اس نے آن کو وارڈ سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کروا لیا تھا۔

اکبر کی نظریں بس آن کے چہرے پر ہی جمی ہوئی تھی ..

وہ اسکے چہرے کو دیکھتا۔۔۔اس کے پاس رکھی ہوئی چیئر پر بیٹھا۔۔۔

‘ “اسکے سر پہ پٹی بندھی ہوئی تھی چہرے پر ایک دو جگہ خراشیں پڑی ہوئی تھیں ..

رائٹ بازو پر پلاسٹر چڑھا تھا۔

اسکی چوٹ کو دیکھ کر اکبر کو اپنے دل میں درد سا محسوس ہوا تھا۔۔۔

آن بس کرو اب اٹھ جاؤ ..

بہت ڈرا لیا تم نے مجھے .۔۔

‘”اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کبھی اپنے آپ کو معاف نہیں کر پاتا ۔ایک بار مجھے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع تو دو ۔۔۔۔..

“آن تمہارے بغیر اکبر کی زندگی بالکل ادھوری ہے۔۔۔”

اس نے بہت ہی محبت سے آن کے چہرے پہ ہاتھ رکھا اور نرمی سے اسکی گال پر لگی ہوئی چوٹ کو اپنی پوروں سے سہلا رہا تھا “

“‘ ‘ کچھ سوچ کر وہ تھوڑا سا جھکا ہوئی اور آن کی پیشانی پر لگی چوٹ پر اپنے لب رکھے تھے ..

‘ “اسکی آنکھ سے اک آنسو ٹوٹ کرآن کے چہرے پر گرا تھا ..

اس وقت اسکے ہر اک انداز سے تفکر اور بےچینی جھلک رہی تھی ..

‘ ” یہ کیا ہو گیا تھا اس کے ساتھ؟..

اس نے ایسا تو کبھی نہیں چاہا تھا ..

وہ کبھی بھی آن فاطمہ کو اس حال میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا …

‘ ” میں مانتا ہوں کہ اس وقت میں بہت غصّے میں تھا۔مگر تم ایسا کیسے کر سکتی ہو ؟کیوں خود کو ہمیشہ مجھ سے دور کر کہ مجھے سزا دیتی ہو۔؟

” آن “

اس نے بہت آہستہ آواز میں اسکے لیفٹ شانے پہ ہاتھ رکھ کر اسکو پکارا ۔۔

آن فاطمہ نے کسی کے ہلانے پر اپنی آنکھیں کھولیں پھر سامنے اکبر کو دیکھ کر خفگی سے اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا۔

اکبر کو اپنے پاس کھڑا دیکھ کر اسکی آنکھوں میں یکدم سے غصّہ اور خفگی ابھر آئی۔۔۔

“چلیں جائیں یہاں سے مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی “….

اس کی نقاہت زدہ آواز سنائی دی ۔

” آن میں نے تو تمہیں کچھ کہا بھی نہیں پھر تم ناراض کس بات پر ہو ؟

“کبھی کبھی آنکھیں بھی وہ سب بیان کر دیتی ہیں جو زباں نہیں کہہ پاتی ۔”

“میرا یقین کرو میرے دیکھنے میں صرف غصے کا عنصر تھا اس کے سوا کچھ نہیں ۔”

” نہیں کرنا مجھے یقین آپ کی کسی بھی بات کا “

“زندگی میں صرف ایک چیز ایسی ہے جو انسان کو انسان کو جی بھر کر خوار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور وہ ہے محبت ،،،،محبت میں انسان کو لگتا ہے کہ وہ اپنی مٹھی میں سمندر کو قید کر سکتا ہے ،مگر کبھی وہی محبت انسان کو یقین کی سیڑھیوں سے اتنی زور سے دھکا دیتی ہے کہ انسان خود کے سامنے بھی سر اٹھا کر چلنے کی ہمت بھی نہیں کر پاتا ۔

“آن تم نے غلط اندازہ لگایا میری نظروں کا ۔میں صرف اس بات پر غصہ تھا کہ تم ابھی بھی اپنے میکے والوں سے رابطے میں ہو اور مجھے بتایا بھی نہیں ۔”

“میرا ان میں سے اب کسی سے بھی رابطہ نہیں ۔جب میں اس گھر میں دوبارہ واپس آئی تھی تب سے لے کر اب تک میں نے کسی سے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔۔۔وہ بھی صرف اس لیے کے آپ کو برا نا لگے ۔آپ کی خوشی کی خاطر میں نے سب کو بھلا دیا ۔اور کیا کروں اب کیا جان دے دوں تو یقین آئے گا آپکی کو مجھ پر؟”

“جان ہی تو دینے جا رہی تھی ۔مگر اسنے بھی مجھے دھوکا دیا آپ کی طرح “

“دیکھو آن اب یہ تم زیادتی کر رہی ہو میں نے کب تمہیں دھوکا دیا ؟؟؟.”میں نے کیا تیسری شادی کر لی ہے جو تمہیں میرا عمل دھوکا لگ رہا ؟

“بڑا شوق ہے تیسری شادی کا ؟؟؟

“کر کہ تو دیکھیں اس کی جان لے لوں گی میں “

“جب تم کہہ رہی ہو کہ میں چلا جاؤں یہاں سے تو پھر یہاں سے جا کر تیسری شادی کروں یا چوتھی تمہیں کیا فرق پڑتا ہے ؟

“مجھے آپ سے کوئی بھی بات ہی نہیں کرنی “

“بلائیں حیدر کو میں اس کے ساتھ یہاں سے کہیں دور چلی جاؤں گی “

“حیدر کو کس خوشی میں ساتھ لے جائیں گی محترمہ !!!! حیدر کو آپ جہیز میں لائیں تھیں ؟؟؟

“وہ میرا بیٹا ہے “

“سب آپکے کے اپنے ہیں سوائے میرے “وہ نروٹھے انداز میں آنسو بہاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

“آن کیوں مجھے تنگ کرتی ہو ؟

بار بار چھوڑ کر چلی جاتی ہو ….آنسو بہاتی ہو ۔۔۔۔

“تم کیا چاہتی ہو تمہارے سامنے روؤں گڑگڑاوں اپنے پیار کی بھیک مانگوں ؟؟؟

“یہی چاہتی ہو نا تم تو پھر ٹھیک ہے سنو !!!!

“اپنے خدا اور وطن کی مٹی سے محبت کے بعد جس سے سب سے زیادہ محبت کی ہے وہ تم ہو آن “

“جھوٹھے ہیں آپ “

“کبھی کبھی محبت آپ کو ایسے درد سے نوازتی ہے کہ اگر آپ کی آنکھوں کے سامنے آپ کے جسم کےٹکڑے بھی کردئیے جائیں تو آپکو وہ درد محسوس نہیں ہوتا جو آپکی محبت کے لہجہ بدلنے سے آپ کو ہوتی ہے ۔”

“تمہارا یہ رویہ مجھے تکلیف دے رہا ہے “

“مجھے تم سے محبت ہے اتنی سی بات تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی ؟؟

اکبر کی بات درمیان میں ہی رہ گئی۔

ڈاکٹر اس کے معائنے کے لیے وارڈ میں آئے ۔۔۔۔اور اس کی رپورٹس چیک کرنے لگے۔۔۔۔

“ڈاکٹر سب ٹھیک ہے رپورٹس میں “اکبر نے تفکر بھرے انداز میں پوچھا

‘” گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے انکے سر اور بازو پہ چوٹ آئی ہے اور چوٹ بھی زیادہ گہری نہیں ہے ..

کچھ وقت لگے گا ٹھیک ہونے میں ۔۔۔بازو پر پلاسٹر کردیا ہے ایک ماہ بعد پلاسٹر کھل جائے گا۔

وہ سو کر اٹھا تو آرزو بھی اسی حالت میں اسکے ساتھ سوئی تھی۔اس نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی ۔۔۔۔

میں اسے کیوں بتاؤں ۔

میں نے اس کو کتنا چاہا ہے۔

بتایا جھوٹ جاتا ہے۔

کہ سچی بات کی خوشبو

تو خود محسوس ہوتی ہے۔

میری باتیں میری سوچیں۔

اسے خود جان جانے دو۔

ابھی کچھ دن مجھے ۔

میری محبت آزمانے دو۔

وہ اس کے قریب سے اٹھا اور فریش ہونے واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔کچھ دیر بعد تیار ہوکر وہ ہسپتال جانے کے لیے نکل گیا ۔۔۔۔

وہ سب ڈائننگ ہال میں موجود ناشتہ شروع کر چکے تھے ۔

جیسے ہی سب نے ناشتہ ختم کیا ابراہیم آفندی نے عابدہ آفندی کو اشارہ کیا بات بتانے کا ۔

“عائشہ مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے “عابدہ آفندی نے سنجیدہ انداز میں بات شروع کی ۔

“جی مما “اس نے نیپکن سے ہاتھ پونچھتے ہوئے کہا۔

“بیٹا آپکی مما کا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔۔۔

“یہ بات سنتے ہی عائشہ اور قرت العین دونوں کے چہروں کا رنگ فق ہوا ۔۔۔

“لیکن بیٹا پریشانی والی بات نہیں اب وہ ٹھیک ہیں ۔آپ لوگ تیاری کر لیں ہم سب ساتھ چلتے ہیں ان کی خبر لینے ۔۔۔

اپنی مما کے بارے میں سن کر عائشہ کے آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے ۔۔۔

جبکہ قرت العین بھی دلگرفتہ ہو چکی تھی مگر خود کو سنبھال گئی۔۔۔۔

“عاشو چپ کر جاؤ ہم جا رہیے ہیں نا سب تم ان سے مل لینا ۔۔۔ایسے مت روؤ پلیز ۔سامنے بیٹھی ہوئی قرت العین نے عائشہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے تسلی دی۔

“عائشہ پلیز !!!!ارمان کا ہاتھ اسے اپنے شانے پر محسوس ہوا تو اس نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔

“کچھ نہیں ہوا ۔سب ٹھیک ہے “اسنے بھی تسلی آمیز انداز میں اسے تشفی دی ۔

پھر سب لوگ اکٹھاہوئے ہاسپٹل پہنچ گئے اور آن فاطمہ کی عیادت کی۔

سب آن کی عیادت کیے ابھی باہر ہی نکلے تھے کہ آگے سے علی آتا ہوا دکھائی دیا ۔۔۔۔

وہ سب سے خوشدلی سے ملا ۔پھر انہیں بتایا کہ ابھی وہ ڈاکٹر سے ملکر آیا ہے آن فاطمہ کو ڈسچارج کردیا گیا ہے ۔وہ ڈسچارج سلپ بنوائے ہی آ رہا تھاکہ وہ سب مل گئے ۔۔۔۔

“سنیں “عائشہ نے ارمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

“جی بتائیں “

“میں کچھ دن مما کے ساتھ رہ لوں جب تک وہ ٹھیک نہیں جاتیں “وہ جھجھکتے ہوئے ارمان سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔

اسکی بات عابدہ آفندی کے کانوں سے مخفی نا رہ سکی۔

“کیوں نہیں بیٹا ۔اس وقت تمہاری مما کو تمہاری ضرورت ہے۔اس نے کیا کہنا ہے ۔میں جو کہہ رہی ہوں تم چلی جاؤ ۔انہوں نے ارمان کو گھور کر دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔انہیں صاف لگ رہا تھاکہ ارمان اس کے جانے پر راضی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔مگر انہوں نے پھر بھی اجازت دے دی تھی ۔جن حالات میں اس کی شادی ہوئی تھی وہ بھی سمجھ سکتی تھی کہ اسے بھی اپنی ماں کا سہارا چاہیے اسوقت ۔

“ٹھیک ہے چلی جاؤ مگر میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں “وہ ٹوٹے ہوئے دل سے آہستہ آواز میں بولا۔

“منا لیا ڈیڈ آپ نے بڑی مام کو “؟

علی ہاسپٹل کے روم میں آیا تو اکبر کو دیکھ کر کہا۔

“کہاں یار !!! تم ہی سفارش کرو شاید قبول ہو جائے ۔

“مام !!!! آن فاطمہ نے چونک کر اسے

دیکھا مام کہنے پر ۔

بلا اختیار ہی اس کے منہ سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔

“اوہ سوری بڑی ماما پلیز ڈیڈ کو معاف کردیں نا …..

“اب میرے بیٹے نے کہا ہے تو میں اس بارے میں سوچوں گی ۔”آن نے پیار بھرے انداز میں کہا۔

“دیکھو !!! ابھی بھی سوچیں گی ۔اکبر نے اس کے کہے گئے الفاظ پر علی کی توجہ دلائی۔۔۔

“ڈیڈ دل چھوٹا نا کریں گھر جا کر یہیں سے کنٹینیو کرئیے گا ۔معافی مل جانے کے چانسسز بہت زیادہ نظر آتے ہیں۔

“میں آپ کو یہی بتانے آیا ہوں کہ بڑی مام کو چھٹی مل گئی ہے ۔میں ان کے ڈسچارج پیپرز بنوا کر لایا ہوں ۔انہیں گھر لے چلتے ہیں ۔

علی اور اکبر نے اسے سہارا دے کر گاڑی میں بٹھایا اور پھر وہ سب گیلانی ہاؤس کی طرف روانہ ہوئے ۔۔۔۔

وہ گہری سوچ میں گم تھا ،بہت سے شواہد اس کے ہاتھ لگ چکے تھے ،سب ہیڈ کوارٹر میں دکھا چکا تھا،

اسے آرڈر مل چکے تھے اس کے زندہ یا مردہ پکڑنے کے ۔

گاڑی ڈرائیو کے واپسی کے راستے پر گامزن تھا۔۔۔۔

جیسے جیسے گاڑی آگے بڑھ رہی تھی چاند بھی اس کے ہمقدم تھا۔۔۔

اس کی چاندنی کو دیکھے اسے کچھ یاد آیا۔۔۔۔

سنوچندا !!!

اسے کہنا!!

بہت بیتاب رہتا ہوں۔

بہت بارش بھی ہوجائے۔

میں پھر بے آب رہتا ہوں۔

قسم ہے اس کی چاہت کی۔

اسی سے عشق کرتا ہوں۔

محبت کی فراوانی

کو ہر پل یاد کرتا ہوں۔

مجھے کچھ دوست کہتے ہیں

میں وقت برباد کرتا ہوں۔

وہ ناداں یہ نہیں سمجھے۔

کہ جینا کس کو کہتے ہیں؟

محبت سے جو عاری ہو۔

وہ سینہ کس کو کہتے ہیں؟

میں جیتا ہوں تو کیا یارو؟

یہ کم ہے معجزہ دل کا ۔

کہ اس کے ہجر میں زندہ

ہے پھر بھی حوصلہ دل کا۔

کوئی امید باقی ہے۔

کوئی تو آس باقی ہے۔

ابھی احساس زندہ ہے۔

ابھی احساس باقی ہے۔

بلکتے سوکھتے پتوں کی

اب بھی پیاس باقی ہے۔

ابھی بھی پیاس باقی ہے !!!!!!

وہ اپنا کام نپٹا کر واپس گھر جا رہا تھا۔

ایک ہفتہ بیت چکا تھا آن فاطمہ کو ہسپتال سے گھر آئے ،اکبر گیلانی اس کے گھر آنے کے دوسرے ہی دن ڈیوٹی پر واپس روانہ ہوچکا تھا۔آن فاطمہ کی ناراضگی ہنوز قائم تھی۔حرعین اور عائشہ نے ملکر اس کا پورا خیال رکھا ۔آرزو بھی اس کے لیے پرہیزی غذا تیار کرنے میں مدد کرتی ۔

دوپہر کو وہ آن فاطمہ کے لیے تازہ سبزیوں کا سوپ بنا رہی تھی ۔چولہے کے آگے کھڑے اسے پیاس کا احساس ہوا تو اس نے شیشے کا گلاس اٹھا کر پہلے دھویا پھر اس میں پانی ڈالا۔۔۔۔

سوپ تیار ہوچکا تھا وہ چولہا بند کیے پانی کا گلاس لیے اپنے کمرے تک آئی ۔۔۔

“جس دن آن فاطمہ ہاسپٹل سے گھر واپس آئی تھی ۔علی انہیں چھوڑے کہیں چلا گیا تھا اور ابھی تک واپس نہیں آیا۔۔۔

گھر میں شاید سب کو پتہ ہو کہ وہ کدھر گیا ہے۔مگر وہ چاہتے ہوئے بھی کسی سے اس کے بارے میں پوچھ ہی نہیں پائی۔۔۔۔

ایسے لگ رہا تھا کہ گھر میں بالکل خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔ایک اس کے نا ہونے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے گھر بالکل خالی ہے۔۔۔۔۔

جانے کیوں دل اس کی ایک جھلک دیکھنے کو مچل رہا تھا۔

وہ خود اپنی کیفیت پر حیران تھی آخر یہ کیا ہو رہا ہے اس کے ساتھ ؟

“کیوں دل بار بار اسی کے بارے میں سوچنے لگا ہے۔؟

اسی کی راہ تکنے لگا ہے۔؟

“کیا مجھے علی سے پیار ؟؟؟

“نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ….

“اگر یہ پیار ہے تو پھر سدھانت اگروال سے کیا تھا “؟

“کیا وہ صرف وقتی اٹریکشن تھی “؟

“شاید نکاح کے بندھن کی تاثیر ہے کہ میرا دل اس کی طرف کھنچنے لگا ہے ۔اسکی طرف مائل ہونے لگا ہے ۔

وہ علی کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی کہ کمرے میں آنے کے بعد اسے محسوس ہوا کے واش روم میں کوئی ہے ۔۔۔

“کون ہے اندر ؟”اس نے دھیمی آواز میں پوچھا ۔۔۔۔

علی جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچا تھا شاور لیے بنا شرٹ کے باہر آیا شانے کے ایک طرف ٹاول تھا جس کی ایک طرف سے وہ اپنے سلکی سیاہ بالوں کو رگڑتا ہوا باہر نکلا ۔۔۔

وہ کو واش روم کے بالکل قریب کھڑی تھی ۔۔علی کو اچانک سامنے دیکھ اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھوٹ گیا۔۔۔

اور کمرے کے فرش پر گرتے ہی چھناکے کی آواز سے چھوٹی چھوٹی کرچیوں میں بدل گیا۔

“اوہ !!!اس نے ٹوٹے ہوئے کانچ کو اکٹھا کرنے کے لیے نیچے جھکی ۔۔۔۔

اتنی دیر علی بے دھیانی میں باہر آنے کے لیے پاؤں بڑھا چکا تھا۔اس سے پہلے کے وہ اپنا پاؤں ان کانچ کے ٹکڑوں پر رکھتا ۔۔۔۔

آرزو نے جلدی سے کانچ کے ٹکڑوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔

علی کا پاؤں اس کے ہاتھ پڑا۔۔۔

آرزو کے ہاتھ پے علی کے پاؤں رکھنے اے اس میں کانچ چبھ گئے ۔۔۔۔

یہ سب بس چند لمحوں میں ہوا۔۔۔

علی جو بے دھیانی میں باہر نکلا تھا ۔

اسے دیکھ فورا پاوں اٹھا کر اپنا قدم واپس لیا ۔۔۔

“آرزو کے ہاتھ سے خون رسنے لگا ۔۔۔

“اٹھو یہاں سے “علی نے ٹاول بستر پر پھینکتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے شانوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا۔

“یہ کیا کردیا “؟

اس نے آرزو کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر اس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

پہلے جلنے کی وجہ سے جلد جھلس چکی تھی اور اب کانچ چبھنے کہ وجہ سے ہاتھ کا برا حال تھا۔

“اسے ڈاکٹر کو دکھانا ہوگا ۔”وہ فکرمندی سے بولا۔

“م۔میں ٹھیک ہوں “اس نے نم آواز میں کہا۔

“تم چادر لو “اس نے تھوڑی سخت آواز میں کہا ۔

اور خود کبرڈ سے نکال کر شرٹ پہنتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لیے ڈاکٹر کے پاس جانے کےلیےباہر نکل گیا ۔۔۔