Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Preet Amar Krdo (Episode 12)

Meri Preet Amar Krdo By Hina Asad

“اکبر خدا کا خوف کرو تمہاری دونوں بیویاں ماں بننے والی تھیں ۔۔۔۔انیقہ گیلانی کی دلگرفتہ آواز نے اس کے اعصاب کو جھنجھوڑ ڈالا ۔۔۔

وہ بنا ایک بھی لمحہ ضائع کیے تیز قدموں سے سیڑھیاں پھیلانگتا ہوا نیچے اترا اور پہلے حرعین کو اٹھائے باہر کی طرف بھاگا کیونکہ وہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔ اسے گاڑی میں بٹھا کر ڈرائیور کو گاڑی سٹارٹ کرنے کا کہا ۔۔۔۔

پھر آکر تڑپتی ہوئی آن فاطمہ کو اٹھائے باہر آیا ۔۔۔انیقہ بھی اس کے پیچھے پیچھے باہر آئی اور گاڑی میں بیٹھ گئیں ۔۔۔۔

اکبر ڈرائیور کے ساتھ آگے جبکہ انیقہ ،حرعین اور آن کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔

وہ سب ہاسپٹل پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔ان دونوں کو ایک ہی وقت میں آئی سی یو میں لے جایا جا چکا تھا ۔

انیقہ نے فون کر کہ عیسیٰ گیلانی کو بھی بلا لیا تھا ۔۔۔۔

تقریبا دو گھنٹے ہو چکے تھے وہ تینوں آپریشن تھیٹر کے باہر بے چینی سے چکر کاٹ رہے تھے ۔۔۔۔

تبھی اندر سے ایک نرس باہر آئی ۔۔۔۔

“سسٹر رکیے !!!اکبر نے اسے روک کر کہا ۔۔۔۔

“پلیز بتائیے اندر سب ٹھیک ہے نا ؟؟۔

“دیکھیے ایک پیشنٹ کی بہت بلیڈنگ ہو چکی ابھی کچھ بھی کہنا مشکل ہے آپ لوگ دعا کریں ۔۔۔۔۔کہ ان کی اپنی جان بچ جائے ۔۔۔۔

“کیوں کیا ہوا ؟”

انیقہ نے آگے ہو کر کہا ۔۔۔۔

“ان فار چونیٹلی ایک پیشنٹ کے بے بی کی ہارٹ بیٹ یہاں آنے سے پہلے ہی بند ہو چکی تھی۔۔۔

ابھی ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوشش میں ہیں ۔۔۔آپ پلیز ان کے لیے دعا کریں ۔۔۔۔

“آپ کس کی بات کر رہی ہیں سسٹر بتائیں ۔۔۔۔کہیں میری بیٹی کی تو نہیں ؟

انیقہ نے دل پہ ہاتھ رکھے ڈوبتے ہوئے دل پوچھا ۔۔۔۔

“مجھے نہیں پتہ کون ہے ۔۔۔

اور دوسرے پیشنٹ کا ۔۔۔

ان کی حالت بھی کافی سیریس تھی ،ان کے بے سیو ہے ۔اور وہ خود بھی خطرے سے باہر ہیں ۔۔۔۔

مگر انہیں ابھی انڈر آبزرویشن رکھا جائے گا ۔۔۔۔

وہ اپنے پیشہ ورانہ انداز میں کہتے ہوئے چلی گئی ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد نرس ایک سفید رنگ کے کپڑے میں لپٹے ایک ننھے سے وجود کو لیے آئی اور لا کر اکبر کے ہاتھوں میں دیا ۔۔۔۔

وہ تینوں حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔۔۔انیقہ کے اشارہ کرنے پر اکبر نے اسے کھول کر دیکھا جس کی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔وہ نہایت کمزور سا تھا ۔۔۔وہ اک بے جان وجود تھا ۔۔۔

بہادر اور مضبوط دل والے کیپٹن اکبر گیلانی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے اور ننھے وجود پہ گرنے لگے ۔۔۔۔

“آج میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی دنیا اجاڑ دی ۔۔۔۔۔

“یہی سزا ہے میری “میری پہلی اولاد کی میں نے اپنے ہاتھوں سے جان لے لی ۔۔۔۔اس کے قدم لڑکھڑائے ۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ گرتا ۔۔۔

“اکبر سنبھالو خود کو “۔۔۔۔۔اسے ہمیں دفنانا ہوگا ۔۔۔۔۔چلو یہاں سے ۔۔۔۔۔

عیسی گیلانی اسے سنھبالتے ہوئے اس کے ساتھ ہسپتال سے باہر نکل گئے ۔۔۔۔

اور جاتے ہوئے انیقہ گیلانی کو حرعین اور آن کا خیال رکھنے کا اشارہ کر گئے ۔۔۔۔

انہوں نے بھی عیسی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی کہ میں ہوں یہاں ۔۔۔۔۔

“ڈاکٹر ۔۔۔۔۔ح۔۔۔حر۔۔۔حرعین ک۔۔۔کیسی ہے “۔۔۔۔آن فاطمہ نے ہوش میں آتے ہی ڈاکٹر سے پہلا سوال کیا ۔۔۔

“جو آپ کے ساتھ تھیں پیشنٹ بدقسمتی سے وہ اپنا بچہ کھو چکی ہیں ۔اور اب وہ کبھی دوبارہ ماں نہیں بن سکیں گی ۔۔۔۔

ان کی حالت اب پہلے سے بہتر ہے ۔۔۔۔

ڈاکٹر کی بات سن کر آن انگشتِ بدنداں رہ گئی۔۔۔۔

“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ڈاکٹر “

مجھے حرعین کے پاس جانا ہے “

“آپ کی اپنی طبیعت ابھی ٹھیک نہیں پلیز ابھی بستر سے مت اٹھیے ۔”ڈاکٹر نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ ہمت جُٹائے بستر سے نیچے اترنے لگی ۔۔۔۔

“مجھے جانے دیں مجھے ملنا ہے اس سے “

وہ چیزوں کا سہارا لے کر ڈگمگاتے ہوئے قدموں سےچلنے لگی ۔۔۔ڈاکٹر تاسف سے سر ہلا کر رہ گئی۔۔۔

ایک نرس نے اس کی حالت کے پیش نظر اسے سہارا دیا اور وہ چل کر اس وارڈ میں آئی جہاں کچھ دیر پہلے ہی حرعین کو منتقل کیا گیا تھا ۔۔۔

“حرعین اس بار خسارہ تمہارے نہیں میرے مقدر میں آئے گا “

وہ رندھی ہوئی آواز میں بولی۔

‘غلطی میری اور اکبر کی تو سزا تمہیں کیوں ملے ۔؟؟؟تم اس کی حق دار نہیں ۔۔۔۔۔

انیقہ گیلانی جو ڈاکٹر کے کہنے پہ حرعین کے لیے فارمیسی سے کچھ میڈیسن خرید کر لا رہی تھیں ۔آن فاطمہ کی بات سن کر ان کے قدم وہیں تھمے۔۔۔۔

“سسٹر میرا بچہ کہاں ہے ؟”آن نے پوچھا ۔۔۔

“وہ تو نرسری میں ہے”چائلڈ اسپیشلسٹ اسے چیک کر رہے ہیں ۔۔۔۔

“جب اس کا چیک اپ ہو جائے تو اسے حرعین کے خالی کارٹ میں رکھ دینا ۔۔۔

“جی ٹھیک ہے میم “

آن جس نرس کے ساتھ آئی تھی اسی کا سہارا لیے باہر نکلنے لگی تو انیقہ گیلانی دروازے کی اوٹ میں چھپ گئی ۔۔۔۔

“آپ مجھے وہیل چیئر پر بٹھا کر پلیز نیچے گیٹ تک چھوڑ دیں گی ۔آپ کا احسان میں ساری زندگی نہیں بھولوں گی ۔۔۔۔”اس نے منت بھرے انداز میں کہا ۔۔۔

“آئیے میرے ساتھ “وہ اسے ساتھ لیے تھوڑا دور آئی تو ایک وارڈ بوائے جو خالی وہیل چیئر لیے جا رہا تھا نرس نے اسے روکا اور اس سے وہیل چیئر لے کر اسے بٹھایا اور لفٹ کا بٹن پریس کیا۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں وہ ہسپتال کے گیٹ کے پاس تھی ۔۔۔نرس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو اپنے دوپٹے میں چھپائے ہوئے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔۔

آپ نے مجھے پیار تو دیا اکبر مگر کبھی اعتماد کا مان نہیں بخشا۔۔۔۔

بھروسہ اور اعتماد ہی تو کسی رشتے کے منزل کی جانب کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے اور آپ نے پہلی سیڑھی سے ہی گرا دیا مجھے ۔۔۔بے مول کر دیا میری محبت کو ۔۔۔۔

عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔

“یہی کہا تھا نا آپ نے کہ میں نا آپ کے گھر میں رہوں نا آپ کی نظروں کے سامنے ۔۔۔تو ٹھیک ہے اب میں کبھی آپ کے سامنے نہیں آؤں گی چلی جاؤں گی آپ کی نظروں سے دور بہت دور جہاں آپ چاہ کر بھی مجھے ڈھونڈھ نہیں پائیں گے ۔۔۔۔

اکبر اور عیسی گیلانی واپس آئے تو اکبر نڈھال وجود سے وارڈ میں آیا جہاں حرعین تھی ۔۔۔۔

“حرعین ٹھیک ہے “؟

اس نے شکستہ لہجے میں پوچھا ۔۔۔

“جی اب یہ پہلے سے بہتر ہیں کچھ دیر میں ہوش آجائے گا ۔۔۔”ڈاکٹر کو پاس کھڑے اس کا معائنہ کر رہی تھیں انہوں نے اکبر کو آگاہ کیا ۔۔۔

“ڈاکٹر آن فاطمہ کیسی ہے “

آپ آئیے میرے ساتھ وہ اسے لیے باہر آئیں ۔۔۔۔

“وہ سامنے وارڈ میں انہیں کچھ دیر پہلے شفٹ کیا گیا ہے “انہوں نے اشارے سے بتایا ۔

“ڈاکٹر ؟…..

وہ سمجھ گئیں کہ وہ کیا جاننا چاہتا ہے ۔۔۔۔

“دیکھیں مسٹر ۔۔۔۔

“اکبر نام ہے میرا “

جی مسٹر اکبر دراصل حرعین پیشنٹ کا بچے کو ہم نہیں بچا پائے اور آئیندہ وہ ماں بننے کی صلاحیت سے محروم رہیں گی اس حادثے کے باعث ۔۔۔۔

جبکہ آن پیشنٹ ٹھیک ہیں مگر انہیں ابھی بہت کئیر کی ضرورت ہے اور ان کا بے بی ٹھیک ہے ابھی نرس اسے چیک اپ کے بعدآپ کو دے جائے گی ۔۔۔

اکبر ڈھیلے وجود سے چلتا ہوا ڈاکٹر کی بتائی ہوئی وارڈ کی طرف آیا ۔۔۔

ساری وارڈ چھان ماری مگر آن فاطمہ کہیں دکھائی نہیں دی ۔۔۔۔

اس نے ہسپتال کا چپہ چپہ چھان مارا اسے ڈھونڈنے کے لیے ۔۔۔مگر اسے نا ملنا تھا وہ نا ملی ۔۔۔۔۔

نرس آپ نے آن کو ایک پیشنٹ تھیں انہیں دیکھا ۔۔۔۔

“اوہ آپ کہیں ان کی بات تو نہیں کر رہے جن کی دوپہر کو ڈیلیوری ہوئی تھی ۔۔۔۔؟

“جی جی ۔۔۔”آپ کو پتہ ہے کہاں ہیں وہ ؟

“جی وہ تو کافی دیر سے ہی ہسپتال سے چلی گئیں ۔۔۔”

اس نے اکبر کے سر پر گویا دھماکہ کیا ۔۔۔۔

اسے اپنے پیروں پہ کھڑا رہنا دوبھر لگا ۔۔۔۔۔

“سر آپ کا بچہ “ایک دوسری نرس نے اسے لاکر ایک بچہ تھمایا ۔۔۔۔

وہ الٹے قدم لیتے ہوئے کوریڈور کی دیوار سے جا لگا ۔۔۔۔

نرس اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے وارڈ میں داخل ہوئی جہاں حرعین لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔

اس نے جاکر اس کے پاس پڑے ہوئے کارٹ میں بچہ رکھ دیا ۔۔۔۔

“مما یہ ۔۔۔میرا بچہ .؟؟؟؟حرعین نے نقاہت زدہ آواز میں کہا ۔۔۔

انیقہ گیلانی نے اسے ہوش میں آتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے اس کے قریب آئیں ۔۔۔۔

“نہیں میم یہ آپ کا بچہ ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ نرس اپنی بات مکمل کرتی ۔۔۔انیقہ گیلانی نے اسے روک دیا ۔۔۔۔

“تم جاؤ یہاں سے اپنا کام کرو “

وہ منہ ٹیڑھا کیے بھناتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔۔۔

انیقہ گیلانی نے اس بچے کو اٹھا کر حرعین کے پاس لٹایا ۔۔۔۔

“مما کتنا پیارا ہے یہ “وہ خوشی سے لبریز لہجے میں بولی ۔۔۔۔

“ہاں بہت پیارا ہے بالکل تمہارے جیسا “انیقہ نے جھٹ کہا ۔۔۔۔

دو دن بعد حرعین کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا ۔۔۔۔

وہ گھر آچکی تھی ۔۔۔۔

اپنے اور اکبر کے مشترکہ روم میں تھی ۔۔۔۔

شبنم گیلانی،جنت اور موسی گیلانی بھی آج صبح ہی واپس آئے تھے ۔۔۔

انیقہ سے انہیں سب پتہ چلا تو ان سب کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔۔۔

“شبنم گیلانی کا حال تو سب سے برا تھا “

کتنی دعائیں کیں تھیں انہوں نے حرعین اور آن کی صحت یابی کیلئے مگر کچھ دعائیں ہی کن کا درجہ پاتی ہیں اور کچھ کو آخرت کے لیے سنبھال کر رکھ لیا جاتا ہے ۔۔۔۔

جنت گیلانی بھی آن کو لے کر کافی افسردہ تھیں ۔۔۔۔

آخر کو ایسا کیا ہوا اس کے اور اکبر کے درمیان کے اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا اور اس گھر کو چھوڑ گئی ۔۔۔۔۔

سب اسی معمے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

“آپ سب پلیز حرعین کو مت بتائیے گا کہ یہ بچہ اس کا نہیں آن فاطمہ کا ہے

ورنہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائے گی ۔۔۔۔۔

انیقہ نے لجاجت سے کہا ۔

“اکبر کو پتہ ہے سب تو وہ اسے بتا دے گا “جنت بولی

“نہیں میں نے اکبر سے بھی منت کی ہے کہ وہ حرعین کو کچھ نا بتائے ۔۔۔

“تو کیا وہ مان گیا ہے ؟موسی گیلانی نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا

“کہا تو کچھ نہیں بس خاموش سا ہے “

شبنم گیلانی نے ننھے وجود کو ہاتھوں میں لیے اسے پیار کیا ۔۔۔۔

“اس کا نام آج سے علی اکبر ہے “انہوں نے اس کا نام تجویز کیا ۔

“بہت پیارا نام ہے ماشاءاللہ !” جنت نے کہا ۔۔۔۔

سب حرعین سے ملنے اس کے کمرے میں گئے ۔۔۔کسی نے بھی اس سے کوئی فالتو بات نہیں کی اور حال دریافت کیے باہر آ گئے ۔۔۔۔

اکبر ڈیوٹی سے واپس آیا تو حرعین بستر پہ بیٹھی ہوئی تھی ننھے علی کے ساتھ پیار بھری باتیں کر رہی تھی ۔۔۔

“اسلام وعلیکم !

اس نے اکبر کو دیکھ کر کہا ۔

وہ خاموشی سے کبرڈ سے آرام دہ سوٹ نکالے یونیفارم چینج کرنے چلا گیا ۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد واپس آیا اور اپنی خالی جگہ پہ دراز ہوا ۔۔۔

“آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے “؟

حرعین نے اس کی خاموشی کو نوٹ کرتے ہوئے سوال پوچھا ۔

“ہہمممم۔۔۔وہ آنکھیں موند گیا ۔

“کھانا نہیں کھائیں گے ؟

“بھوک نہیں “وہ سرد مہری سے بولا۔

“اکبر آپ نے خود ہی غلط کیا ہے اب خود ہی پچھتا بھی رہے ہیں ۔۔۔

آپ کو اس کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔

آپ سے ناراض ہو کہ وہ بیچاری نا جانے کہاں گئی ہو گی ۔۔۔۔۔وہ یاسیت بھرے انداز میں بولی۔

“آخر کو آپ مجھے بتائیں گے بھی کہ بات کیا ہوئی تھی آپ دونوں کے بیچ؟؟؟

شاید میں آپکی کوئی مدد کر سکوں اس کا حل نکالنے میں ۔۔۔۔۔

“سو جاؤ حرعین وہ قطعیت سے بولا ۔

“سو کیسے جاؤں ؟زبردستی ہے کیا؟؟؟وہ تنک کر بولی ۔

“مجھے میری بات کا جواب چاہیے “

وہ پختہ لہجے میں بولی۔

“کیا بتاؤں تمہیں ۔؟

ہاں ۔۔بولو ۔۔۔۔کیا بتاؤں تمہیں ۔۔۔۔؟؟؟؟

“یہ بتاؤں کہ میں نے اپنے ان گنہگار کانوں سے سنا تھا کہ وہ کسی بات کر رہی تھی ہمارے خاندان کی بربادی کی ۔۔۔۔وہ چلایا ۔۔۔۔

حرعین کو اپنے کان کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔۔اس کی تیز دھاڑ نما آواز پہ ۔۔۔۔

“اکبر آپ ایک بار اس سے آرام سے بات تو کر لیتے ۔۔۔۔اس سے نہیں تو مجھ سے پوچھ لیتے ۔۔۔۔

وہ ساکت سا اس کی بات سننے لگا ۔۔۔۔

“اس نے بتایا تھا مجھے شروع سے لے کر آخر تک سب کچھ “

“تمہیں “؟وہ حیرت انگیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔۔۔۔

“,ہاں جی مجھے ۔۔۔۔میری اور اس کی دوستی ہو چکی تھی اس نے مجھ سے اپنی ساری باتیں شئیر کیں تھیں۔ ۔۔۔

مجھے بتایا تھا اس نے کہ کیسے اس کے بھائی کی موت حسن بھائی کے ہاتھوں ہوئی ۔۔۔کیسے وہ حسن بھائی کی گولی کا نشانہ بنے ۔۔۔اس کے بھائی کی موت کا بدلہ لینے وہ پاکستان آئی تھی ۔۔اور اس کی دوست بندیا نے اس سارے کام میں اس کی مدد کی تھی ۔۔۔۔”

“مگر اس نے مجھے بتایا تھا کہ آپ کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں اسے آپ سے محبت ہو گئی تھی ۔”

اس نے آپ کی خاطر اپنے بھائی کی موت کا بدلہ بھلا دیا ۔۔۔سب بھلا دیا کہ وہ یہاں کیوں آئی تھی ۔۔۔اسے یاد تھا تو صرف آپ ۔۔۔۔

علی اکبر نے ایک دم رونا شروع کیا تو رونے نے شدت اختیار کر لی ۔۔۔

“اسے بھوک لگی ہے میں اس کے لیے فیڈر بنا کہ لاتی ہوں ۔۔۔۔”

اس کے لیے مجھے دودھ گرم کرنے کے لیے کچن میں جانا ہوگا ۔۔۔آپ پکڑیں اسے ۔”

وہ علی کو اکبر کی گود میں ڈال کر خود باہر چلی گئی ۔۔۔۔

علی نے اس کے ہاتھوں میں گلہ پھاڑ کر رونا شروع کردیا ۔۔۔۔

اکبر اس کے چہرے پر غور کرنے لگا ۔۔۔۔

اس کی گہری سیاہ آنکھیں بالکل اکبر کی طرح اس کی ستواں ناک ہو بہو آن فاطمہ جیسی تھی ۔۔۔۔

اس نے تھوڑا سا جھک کہ اس کے گال پہ بوسہ لیا۔۔۔۔

چند پل تو ایسے لگا جیسے اسے آن فاطمہ کا لمس اس میں محسوس ہوا ہو ۔۔۔۔

اس کی آنکھیں ضبط کی شدت سے سرخی مائل ہوئیں ۔۔۔۔۔

حرعین جو دودھ لیے واپس آئی تھی اکبر کی سرخ آنکھیں دیکھ ٹھٹھکی ۔۔۔۔

وہ بنا کوئی بات کیے کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

اور پھر آن فاطمہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔

وہاں اس کی ہر چیز جوں کی توں موجود تھی ۔۔۔۔۔

وہ ایک ایک چیز اٹھا کر اس میں آن کا لمس محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

“اکبر بیٹا پولیس اسٹیشن میں آن فاطمہ کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروا دو …شبنم گیلانی نے اسے کہا ۔

“نہیں ۔۔۔۔پہلی بات تو وہ لوگ میری بیوی کی گمشدگی کی وجہ پوچھیں گے دوسرا اس کی تلاش کے لیے اس کی تصویر مانگیں گے ۔۔۔۔دونوں ہی باتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں ۔۔۔۔میں خود ہی اسے اپنے طور پہ ڈھونڈھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔

“اسلام وعلیکم چاچو !

وعلیکم السلام میری گڑیا کیسی ہے ؟

اکبر نے پاس آکر مسکراتی ہوئی گڑیا کے گال پہ بوسہ دیتے ہوئے جواب دیا ۔

“میں ٹھیک ہوں ۔۔۔

چاچو آپ کب گھر آتے ہیں کتنی دیر ہو گئی آپ سے ملے ہوئے ۔۔۔۔

” بیٹا آپ کو تو پتہ ہے نا کہ چھ ستمبر قریب ہے اور اسی حساب سے دفاعی تقریب کے لیے بھی بہت سی تیاریاں اور پریکٹس شروع ہے ،اسی میں مصروف ہوں “

وہ اسے اپنے ساتھ صوفے پہ بٹھاتے ہوئے بولا ۔۔۔۔

“چاچو مجھے بھی اپنے سکول میں تقریب کے لیے سپیچ تیار کرنی ہے ۔۔۔

مجھے بھی چھ ستمبر ڈیفینس سے کے بارے میں کچھ بتائیں نا جو میرے کام آ سکے “

“آرزو بیٹا تنگ نہیں کرو چاچو کو “ثوبیہ نے اسے تیکھے چتونوں سےگُھرکا ۔۔۔۔

“نہیں بھابھی رہنے دیں میں بتاتا ہوں اسے ‘”اکبر نے کہا ۔۔۔

شبنم گیلانی مطمئن سی مسکرا دیں ۔۔۔

6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک بھارت نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک یعنی پاکستان پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔

چھ ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد حجاہد سے لبریزقوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے’’پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا‘‘ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔ پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔۔۔۔

ہمارے اسکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے کم وقت میں دشمن کے پانچ طیارے مار گرائے ۔۔۔

اس کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاددہانی ہے تا کہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے بطریق ءاحسن نمٹا جا سکے

ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے،

“واؤ چاچو ۔۔۔۔وہ اس کے جوش و ولولے سے لبریز الفاظ پہ خوشی سے تالیاں بجانے لگی ۔۔۔

مگر چاچو یہ تو بہت مشکل تھا مجھے آسان الفاظ میں بتائیں نا ۔۔۔۔۔

سب اس کی بات پہ کھلکھلا کر ہنس پڑے ۔۔۔۔

“میں بتاؤں گی اپنی گڑیا کو حرعین نے اسے اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔

“واؤ کرنا پیارا بے بی ہے “وہ علی اکبر کی چیکس پہ ہاتھ لگا کر بولی اور اسے پیار کرنے لگی جس کو حورعین نے اپنے گود میں اٹھا رکھا تھا ۔۔۔۔

وہ جب بھی آن ڈیوٹی ہوتا اپنا فرض نبھانے میں زرا سی بھی کوتاہی نہیں کرتا ۔۔۔پوری ایمانداری سے اپنا کام سر انجام دیتا ۔۔۔۔

مگر رات ڈھلتے ہی اس کے سوئے ہوئے غم سر اٹھاتے ۔۔۔۔اور اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ۔۔۔۔اسے احساس دلاتے کہ وہ اس پہ یقین نا کر کہ اپنی زندگی کی کتنی بڑی غلطی کر چکا ہے ۔۔۔۔

سورج بھی نکلتا ہے شام بھی ڈھلتی ہے ،شب و روز یونہی بے نام سے گزرتے ہیں ۔۔۔۔یوں اتنا یاد آ کر مجھے بے چین کیوں کرتے ہو ؟

کیا یہی سزا کافی نہیں میرے لیے کہ میرے پاس نہیں ہو تم ؟؟؟؟

“وہ وقت وہ گزرے دن یاد کرو جب مجھ سے بھی زیادہ میری فکر کرتی تھی ۔۔۔۔تم تو کہتی تھی کبھی مجھ سے دور نا رہ پاؤ گی اب کہاں گئے وہ تمہارے عہدو پیمان ؟؟؟

وعدہ شکن ہو تم ۔۔۔۔میں اپنے وعدے کا پاس نہیں رکھ پایا تو تم نے بھی سزا میں مجھے تنہا کردیا ۔۔۔۔

زندگی ویراں ہو گئی ہے تم بن آکر دیکھو اک بار ۔۔۔

وہ آن کے ان دیکھے عکس سے مخاطب ہوتا ہوا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔

جسے وقت سے چرا کر میں نےاپنا بنایا تھا وہ آج کھو گیا مجھ سے ۔۔۔۔اے خدا مجھے ملا دے اس سے ایک بار ۔۔۔۔

کبھی وہ اپنے رب سے مخاطب ہوئے کہتا ۔۔۔۔

ریت کی مانند ہاتھوں پھسل کر کھو گیا ہے وہ مجھ سے ۔۔۔اے میرے پروردگار اسے مجھ سے ملا ایک بار اس سے معافی مانگ لوں اپنے کیے کی ۔۔۔۔

کب سنو گی اس سلگتے ہوئے جذبات کی دہائیاں ۔۔۔۔

ہر سانس سانس زخمی ہے تم بن ،

اک بار آ کہ دیکھ جاؤ ۔۔۔۔آن تمہارا دیوانہ آج کا طرح تمہارے عشق میں پور پور ڈوب چکا ہے ۔۔۔۔۔

“میں کیسے کسی غیر سے کوئی شکوہ کروں ۔

جب اپنی بربادی کا ذمہ دار میں خود ہوں ۔۔۔

جانے کیسے کوئی سہتا ہے جدائی ۔۔۔

آج تمہاری جدائی کاٹ رہا ہوں تو پتہ چلا کہ جدائی کاٹنا دنیا کا مشکل ترین امر ہے ۔۔۔

میرے دل میں اسکے پیار کی اگن لگا کہ دھڑکنوں کو بڑھا کہ جدائی کیوں لکیروں میں لکھ دی کیوں اے میرے مولا۔۔۔۔۔؟؟؟؟اس کی آنکھوں میں بھڑکتے ہو شعلوں کی سی لپک تھی ۔۔۔

اس میں سے نکلتی ہوئی چنگاری جیسے سب کچھ جلا کر بھسم کر دے گی ۔

ہماری منزل تو ایک تھی ۔۔۔تم نے راہیں کیوں بدل لیں کیوں ؟؟؟

“کیوں آن کیوں “؟

وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرا۔۔۔اور بے آواز رونے لگا ۔۔۔۔۔

تمہیں اک بات کہنی ہے ،

مگر ناراض مت ہونا ،

کہ تم جو ہر گھڑی مجھ کو

اتنا یاد آتے ہو ،

ہمیں اتنا ستاتے ہو

نا اتنا یاد آؤ تم

نا اتنا یوں ستاؤ تم

کہ اتنا یاد آکر تم

ہمیں پاگل بنا کر تم

فقط اتنا بتادو تم

ہماری جان لو گے تم ؟

مگر یہ بھی حقیقت ہے

تمہاری یاد ہی تو ہے ۔

جو ہر پل ساتھ رہتی ہے ۔

خوشی میں بھی غموں میں بھی

اداسی کے پلوں میں بھی

تمہاری یاد ہی تو ہے۔

جو ہر پل یہ بتاتی ہے۔

مجھے احساس دلاتی ہے ۔

کہ

“تم بن ادھورے ہیں ہم

اللّٰہ تعالیٰ سے دوستی کے بعد پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آپ کو تنہائی سے ڈر نہیں لگتا ،اکیلے رہنا برا نہیں لگتا ،آنکھوں میں سے جن کی وجہ سے آنسو گرتے ،جن کی وجہ سے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا ہوئی ان کا غم برداشت ہوجاتا ہے ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ہیں جو اپنے بندے سے چاہیے کتنا ہی خفا کیوں نا ہوں اس کا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔۔۔۔

“آج میں اس بھری دنیا میں تنہا ہوں ۔

مگر تنہا ہو کہ بھی تنہا نہیں کیونکہ آپ میرے ساتھ ہیں ۔۔۔

وہ لان میں موجود ایک بینچ پہ بیٹھی ہوئی اپنے پروردگار سے مخاطب تھی ۔۔۔۔

“آن فاطمہ کہاں گم ہو “؟

پیچھے سے ایک شناسا آواز سن کہ اس نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔۔۔