Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Last Episode Last Part
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Last Part
پارٹ2
وہ تیار ہوکر نیچے آیا جہاں ہر طرف مہمانوں کی گہما گہمی تھی
رایان اور سلمی بیگم دوپہر سے ہی کہی گئے ہوئے تھے اور سارے کام وہی دیکھ رہا تھا
اسے بچے لان میں کھیلتے نظر آئے وہ یہاں آکر بہت خوش تھے رایان تو ان کا بسٹ فرینڈ بن گیا تھا
اور آغوش تو سارا دن ان کے ساتھ کھیلتی تھی
وہ رات کو اپنے کمرے میں سوتے زایان کے پاس جہاں بچوں کے آنے سے اس کی ویران زندگی میں سکون کے لمحوں نے اپنی جگہ بنائی تھی وہی ایک کونہ خالی تھا جو صرف ربانیہ کا تھا وہ جب آغوش اور رایان کو ساتھ دیکھتا اس کا بھی دل چاہتا کہ کوئی اس کا بھی ہو جس کے ساتھ وہ اپنے دل کی ہر بات کرے
اب جب بھی وہ ربانیہ کی آواز سنتا ٹوٹ جاتا جب وہ بچوں کو لینے گیا تھا تب وہ چاہتا تھا کہ وہ ربانیہ کو بھی لے جائے مگر اپنے کیے گناہ اس کے وجود کو ہلا کر رکھ دیتے وہ کس منہ سے ربانیہ سے کہتا کہ واپس چلو وہ مزید کچھ سننا نہیں چاہتا تھا جو اس کے دل پر وار کرے وہ اندر سے بکھر چکا تھا
تنہائی میں اس کے پاس بہانے کیلیے صرف آنسو ہوتے اب اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ مزید ربانیہ پر کوئی زور زبردستی نہیں کرے گا وہ جو چاہتی ہے وہی ہوگا وہ اس سے آزادی چاہتی تو ٹھیک ہے وہ اسے آزاد کردے گا اور اس سب کیلئے وہ خود کو تیار کررہا تھا
بچے اسے دیکھتے ہی اس کے پاس بھاگتے ہوئے آئے
تم دونوں ابھی تک تیار نہیں ہوئے ۔۔۔۔۔
وہ انہیں دیکھ کر پوچھنے لگا
ڈیڈ چاچی بزی ہیں اور دادی تو صبح کی گھر پر نہیں ہیں اسی لیے ہم تیار نہیں ہوئے ۔۔۔۔
ایان معصومیت سے بولا
کل ہی وہ ان دونوں کو ڈھیر ساری شاپنگ کرا کر لایا تھا
اچھا بس اتنی سی بات آج میں تم خود تم دونوں کو ریڈی کراتا ہو چلو ۔۔۔۔۔
وہ ان دونوں کو لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
بچوں کو نہلانے کے بعد انہیں تیار کرنے کے سے وہ خود پورا گیلا ہوگیا سفید کاٹن کی شلوار قمیض جو کچھ دیر پہلے اس کی گوری رنگت پر دمک رہی تھی اب وہ پوری گیلی ہوچکی تھی
بچے تیار ہوکر باہر کھیلنے چلے گئے تو وہ کالے رنگ کی شلوار قمیض نکال کر چینج کرنے چلا گیا
چینج کرنے کے بعد وہ جیسے ہی باہر نکلا
اسے چوڑیوں کی کھنکھناہٹ کی آواز آئی
وہ جو اپنی ہی دھن میں چلا آرہا تھا سامنے اس وجود کو دیکھ جم سا گیا
لال رنگ کی ساڑھی میں بالوں کا جوڑا بنائے وہ ڈریسر کے آگے کھڑی اپنی چوریاں پہن رہی تھی
آج تو وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی
وہ جب کمرے میں آئی تھی تو وہاں کوئی نہیں تھا اسی لیے وہ ایزی ہوکر جیولری پہن رہی تھی
تم۔۔۔
وہ پیچھے سے بولا
وہ جو اپنی ہی دھن میں لال رنگ کی چوڑیاں پہن رہی تھی اس کی آواز سن کر دھل گئی اور چوڑیاں چھوڑے پیچھے دیکھا
تو وہ مبہوت سا اسی کو دیکھ رہا تھا
ربانیہ نے بمشکل تھوک نگلا
وہ آہستہ قدم چلتا ہوا اس کے پاس آیا
کیا میں خواب دیکھ رہا ہوں کیا تم خوبصورت ڈائن بن کر مجھے ڈرانے آئی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ پوری کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہوا بولا
وہ جو تعریف کی جگہ ڈائن سن کر اسے گھور رہی تھی
میں آپ کو ڈائن لگ رہی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ ناک پر غصہ سجائے بولی
مجھے آنا ہی نہیں چاہیے تھا جارہی ہوں میں ۔۔۔
وہ اپنی جیولری چھوڑے جانے لگی
جب زایان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا وہ اسے کے سینے سے جا لگی
نہیں پہلے مجھے یقین تو کرنے دو کہ یہ تم ہی ہو۔۔۔۔۔
وہ اس کے چہرے کو چھو کر دیکھنے لگا
میں ہی ہوں کیا کررہے ہیں آپ ۔۔۔۔
اس کو بے خود سا ہوتے دیکھ وہ اسے دور دھکیلنے لگی
ربانیہ یہ تم ہی ہو ۔۔۔۔۔
زایان نے دیوانوں کی طرح اسے گلے لگا لیا
اتنے میں بچے دروازہ کھولے اندر آئے تو وہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہوئے
مما آپ!!!
دونوں اسے دیکھتے ہی خوشی سے جھوم اٹھے
میرے اینجلز کو تو مما کی یاد نہیں آئی اسی لیے مما ہی آگئی۔۔۔۔۔
وہ ان دونوں کو دیکھ کر معصوم شکل بنا کر بولی
نہیں مما وی مس یو ۔۔۔۔
وہ دونوں اس سے لپٹ گئے
اینڈ ڈیڈ آلسو مس یو ۔۔۔۔۔
وہ ربانیہ کے گلے میں پیچھے سے ہاتھ ڈالے بولا
وہ بچوں کے سامنے کوئی مذمت بھی نہ کرپائی
۔۔۔۔
وہ دن رات بچوں کیلئے بےچین رہتی
آج دوپہر میں پھپھو اور رایان اسے لینے آئے تھے
رایان نے اسے آغوش کے مذاق کے بارے میں بتایا تھا
پھپھو اسے دوبارہ لینے آئی تھی
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی جب نگار نے اس کے پاس آئی اور اسے سمجھانے لگی
“مگر ربانیہ وہ تمہارا شوہر ہے تمہارے بچوں کا باپ ہے ہاں وہ غلطی پر تھا گناہ کیا ہے اس نے مگر اب وہ مداوا کرنا چاہتا ہے اپنی ہر غلطی کا”۔۔۔۔۔
نگار اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے سمجھا رہی تھی
“آپا گناہ بھی اس کے مداوے بھی اس کے سزا بھی مجھے ملی اور معافی بھی میں دو اب زایان ملک چاہے مر بھی جائے میں اس کے پاس ہر گز نہیں جائو گی”۔۔۔۔
اس نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسوں صاف کیے جو
“چلو میں مانتی ہو وہ غلطی پر تھا بہک گیا تھا وہ تم تو اس کے بغیر ساری زندگی رہ بھی لو مگر اس کے بچے وہ کیسے رہے گے اس کے بغیر تم بھول گئی وہ ان کے پاس نہ ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس تھا وہ بار بار تم سے اس کا پوچھتے رہے تم انہیں ٹالتی رہی مگر اب تو وہ اپنے باپ سے مل چکے ہیں وہ خود اپنے بچوں سے مل چکا ہے اب وہ وقت آئے گا جہاں تمہیں بار بار ٹوٹنا پڑے گا تم اس سے جتنی دور جائو گی اس کی اولاد اس کے اتنی قریب تم کچھ بھی کرلو اب وقت زایان ملک کی مٹھی ہے”۔۔۔۔۔۔
اس نے نگار کو گلے لگا لیا
آپا میں اسے معاف کرچکی ہوں مگر میں ڈرتی ہوں جیسے اس کے باپ کیا ان سب پر آیا ویسے ہی اگر زایان کا کیا میرے بچوں پر آیا تو میں کیا کرونگی۔۔۔۔۔۔۔
نگار نے اسے بیڈ پر بٹھایا
اور خود اس کے ساتھ بیٹھ گئی
ربانیہ تم تو نماز پڑھتی ہوم قرآن پڑھتی ہوں پھر تمہاری سوچ ایسی کیو ہے
قرآن میں ہمیں یہ صاف صاف بتایا گیا ہے کہ باپ کیا بیٹے پر نہیں آئے گا اور بیٹے کا کیا باپ پر نہیں آئے گا
کئی بار زندگی میں چیزیں محض ہماری اصلاح کیلئے ہوئی ہیں ایمن کے ساتھ جو بھی ہوا یہ اس کا نصیب تھا کیونکہ اس کی زندگی میں تیمور کو آنا تھا ۔۔۔۔۔۔
زایان کے ساتھ جو ہوا یہ اس کا نصیب تھا جو کچھ ہم کرتے وہ اسی دنیا میں ہم پر مکافات عمل بن کر آتا ہے
زایان نے جو تمہارے ساتھ کیا وہی اس کے ساتھ ہوا
پہلے تم نے اپنی اولاد کھوئی پھر وہ اپنی اولاد سے دور ہوا
وہ تو اپنی سزا کاٹ چکا ہے اب بس کرو خدا بار بار موقع نہیں دیتا ۔۔۔۔۔
وہ لوگ تمہیں لینے آئے ہیں تمہاری ساس بڑی ہیں دوسری دفع تمہیں لینے آئی ہیں میرا بیٹا جائو ایک خوشحال زندگی تمہاری منتظر ہے۔۔۔۔
انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
آپا آپ سے ایک بات پوچھو ۔۔۔۔
آپ عبدالمالک کو کیسے جانتی ہیں ۔۔۔۔۔
وہ پہلے پہل عبدالمالک کا ذکر سن کر اتنا غور نہ کرپائی مگر اب کی بار وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی
سمیرا کی ایک راز دار میں بھی تھی جس طرح تم مجھ سے ہر بات کوئی ہوں وہ بھی کرتی تھی
وہ شام میں پھپھو اور رایان کے ساتھ گھر واپس آئی تھی اور آغوش اور ایمن کے ساتھ تیار ہورہی تھی
اسے بچوں کا خیال آیا تو وہ جیولری کا سامان لے کر اپنے کمرے میں آئی کہ بچے وہاں ہونگے مگر وہاں کسی کو نہ پاکر وہ اپنی تیاری کرنے لگی
۔۔۔۔۔
نکاح کی رسم کیلئے سب جمع ہوئے زایان بھی ربانیہ اور بچوں کے ساتھ کھڑا تھا
وہ ربانیہ کا ہاتھ پکڑے درمیان میں آیا وہ سمجھ نہ پائی کہ وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے
سب لوگ حیران نظروں سے اسی کو دیکھ رہے تھے
ماما آپ کہتی ہیں نہ جب ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہو جائے تو معافی مانگتے وقت جھجھکنا نہیں چاہئے۔۔۔۔۔
زایان نے سلمی بیگم کی جانب دیکھا
وہ ربانیہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
اور اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا
تو میں آج تم سے معافی مانگتا ہوں اپنے ہر اس گناہ کی جو میں نے کیے تمہارے ساتھ جو غلط کیا سب کا مداوا کرونگا تمہیں وہ ساری خوشیاں دونگا جو میں آج تک نہ دے سکا ۔۔۔۔۔۔
وہ بےخود سی اسے دیکھ رہی تھی
یہ تو کوئی اور ہی زایان تھا
ربانیہ کی آنکھوں میں پانی آگیا جسے زایان نے آٹھ کر صاف کیا
اب ان آنکھوں میں کبھی آنسوں نہیں آنے دونگا یہ میرا وعدہ ہے تم سے
وہاں موجود سب ان دونوں کو سراہتی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور ان کیلئے تالیاں بجانے لگے
نکاح کی رسم ادا ہوئی تو ایمن رخصت ہوکر تیمور کے گھر چلی گئی
عبیر اور منہل آج رات ملک ولا رکے تھے کیونکہ ساری بچہ پارٹی آج رات وہاں پارٹی کرنے والی تھی
ربانیہ کے جانے کے بعد حسان ڈپریشن کا شکار ہونے لگا تھا گھر کے چپ ماحول سے اسے الجھن ہونے لگی تھی
اسی لیے زایان نے اسے بورڈنگ بھیج دیا تھا
وہ کل ہی واپس آیا تھا نکاح کیلیے ربانیہ نے جب گھر میں پہلا قدم رکھا تو سب سے پہلے حسان سے ملی وہ اس سے ناراض تھا
اس نے اسے منایا اسے گلے لگایا وہ بڑا پوچکا تھا سمجھدار بھی تھا اسی لیے جلدی مان گیا اس کے بعد اس نے آغوش کی کلاس لی کیونکہ زایان کی دوسری شادی کا کہ کر اسی نے ربانیہ کو ڈرایا تھا
۔۔۔۔۔۔
ایمن کمرے میں بیٹھی تیمور کا انتظار کررہی تھی
پنک کلر کی لانگ میسکی میں ہلکی جیولری اور میک اپ کے ساتھ وہ حسین لگ رہی تھی
اسے یہ نیا رشتہ قبول کرنے میں وقت ضرور لگے گا مگر وہ اپنی ذمہ داری نبھانا اچھے سے جانتی تھی اور یہی سوچ کر وہ آئی تھی
کمرے میں زیادہ ڈیکوریشن تو نہ کی گئی تھی ذرا سی گلاب کی پتیاں کمرے میں لگائی گئی تھی
کچھ دیر میں تیمور دروازہ کھولے اندر آیا
اور ایمن کے سامنے بیٹھ گیا
آج ایمن ایک بات نوٹس کررہی تھی کہ اس نے اپنا چشمہ نہیں پہنا تھا
آپ کمفرٹیبل تو ہیں ۔۔۔۔۔
اسے دیکھتے ہی پہلا سوال پوچھا گیا
ایمن نے ہاں میں سر ہلایا
ایمن میں زیادہ بات کرنے کا عادی میں ہو مگر اب آپ میری زندگی میں شامل ہوچکی ہیں اسی لیے آپ سے صرف اتنا کہو گا کہ زندگی اب تک جیسی تھی ویسی تھی ہم دونوں ایک پاک رشتے میں بندھ چکے ہیں اسی لیے میرا آپ سے ایک وعدہ ہے میں آپ کی زندگی خوشیوں سے بھرنے کی پوری کوشش کرونگا آپ کو ہر وہ خوشی دونگا جس کی آپ حقدار ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے کہے رہا تھا
اور بدلے میں آپ مجھ سے بھی یہی چاہے گے ۔۔۔۔۔
ایمن نے اس کا ادھورا جملہ مکمل کیا تو وہ مسکرایا
جی بلکل ۔۔۔۔۔
اس نے ایمن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اپنی جیب سے ایک ڈبی نکالی
اس میں ایک خوبصورت سا پینڈنٹ تھا
وہ اسے لے کر ڈریسر کے آگے آیا اور خود اس کے پیچھے کھڑا ہوا
ایمن کا دوپٹہ جو سر پر سجا ہوا تھا اسے اتارا اور وہ پینڈنٹ اس کے گلے میں پہنایا
بہت خوبصورت لگ رہا ہے یہ ۔۔۔۔۔۔
تیمور نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائی
۔۔۔۔۔۔
وہ بچوں کو چینج کرانے کے بعد حسان کے کمرے میں سلا آئی تھی
وہ تھوڑی جھجک رہی تھی زایان کے کمرے میں جانے سے مگر پھر ہمت کرکے آئی
وہ روم میں نہیں تھا
اسی لیے وہ اپنا سامان لے کر ڈریسنگ روم میں آئی
اسے آج بھی یاد تھی کہ اس کی الماری کون سی ہے اس نے اپنی الماری کھولی تو حیران رہ گئی سب کچھ ویسا تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئی کچھ بھی نہیں بدلا تھا اس کے کپڑے اپنی جگہ پر تھے
اس کی جیولری سینڈلز سب کیا زایان آج بھی ان چیزوں کو دیکھا کرتا تھا اسے یاد کیا کرتا تھا
وہ انہیں دیکھ رہی تھی کہ پیچھے سے اسے کسی نے اپنے حصار میں لیا
دیکھا تم نے سب ویسا ہے جیسا تم چھوڑ کر گئی تھی ۔۔۔۔۔
زایان نے اس کے کان میں سرگوشی کی
ربانیہ نے خود کو اس کی پکڑ سے آزاد کیا
دیکھ رہی ہوں اور یہ بھی کہ اب آپ کو میری ضرورت نہیں ہے اسی لیے آپ صرف بچوں کو لے کر گئے تھے مجھے تو پوچھا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ کر خفا انداز میں بولی
نہیں ایسی بات نہیں ہے میں تمہیں کس منہ سے کہتا کہ واپس چلو مجھے تو اپنے کیے گناہوں نے کرب کی زنجیروں میں باندھ رکھا تھا
وہ اس کے آگے آکر وضاحت دینے لگا اس کی آنکھوں میں صرف شرمندگی تھی
مجھے تم معاف کردو تم جتنا وقت لینا چاہتی ہو لو میں ساری زندگی انتظار کرنے کو تیار ہو مگر مجھے کبھی بھی چھوڑ کر نہ جانا تمہارے بغیر میں مر جائو گا ۔۔۔۔۔۔
زایان نے اسے خود میں بھینچ لیا
میں آپ کو کبھی بھی اپنے سامنے جھکا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔۔ وہ اس سے لگی بولی
آج سارے شکوے کی دیواریں دور ہونے والی تھی آج پھر وہ دونوں صرف ایک دوسرے کے ہونے والے تھے
وہ اس سے الگ ہوئی
میں نے آپ کو معاف کیا سچے دل سے میں ہمیشہ صرف آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہو صرف آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔
وہ پھر سے زایان کے گلے لگ گئی
۔۔۔۔۔۔
پانچ سال بعد ۔۔۔۔
رایان تم نے افشہ کو سر پر چڑھا کر رکھا ہے ۔۔۔۔
وہ ابھی آفس سے آیا تھا اور آتے ہی آغوش نے اس پر شکایتی بوچھاڑ لگائی تھی
اس کا نواں ماہ چل رہا تھا اور وہ ایک بیٹے کو جنم دینے والی تھی
ارے مس بلاسٹ کیا ہوا ہے کیو اتنا غصہ کررہی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ اسے بیڈ پر بٹھانے کے بعد خود اس کے ساتھ بیٹھ گیا
یہ تمہاری بیٹی آج کے ٹیسٹ میں زیرو مارکس لے کر آئی ہے سن لو تم کان کھول کر ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے غصے سے دیکھتے ہوئے بولی
تو کیا ہوگیا اگلے بار فل لے کر آئے گی ۔۔۔۔۔
وہ اسے ریلکس کرنے لگا
آغوش نے اسے گھورا
وہ افشہ کی ہر جائز ناجائز خواہش پوری کرتا اسی لیے وہ اتنی بگڑ گئی تھی
اچھا یہ سب چھوڑو یہ بتائو کل ازکا اور افزون کی تھرڈ برتھ ڈے ہیں تم نے کوئی گفٹس لیے ان کیلئے ۔۔۔۔۔۔
آج ہی تیمور نے اسے فون کرکے انوائیٹ کیا تھا
ارے میں تو بھول ہی گئی ۔۔۔۔
یہ تمہاری بیٹی مجھے چین سے جینے دے تو میں کچھ یاد بھی کرو ۔۔۔۔۔
اس نے اپنا سر پکڑ لیا
اچھا چلو تم صبح تیار رہنا افشہ کے سکول جانے کے بعد ہم مال چلے گے اور ان کیلئے گفٹس لے آئے گے بس ۔۔۔۔۔
رایان نے اس کی مشکل آسان کی تو اس نے سکھ کا سانس لیا
۔۔۔۔۔۔
ایمن یار کب تک آئو گی جلدی آئو ۔۔۔۔۔
وہ ازکا اور افزون کا برتھ ڈے کیک لے کر آیا تھا اور بارہ بجے انہیں ایمن اور تیمور وش کرنے والے تھے وہ کچن میں تھی ساری چیزیں ٹرے میں نکال رہی تھی جب تیمور اس کے سر پرآ کھڑا ہوا
منہل اور عبیر باہر بیٹھے ان کا انتظار کررہے تھے جبکہ وہ دونوں مہرانیاں اپنے کمروں میں سو رہی تھیں
تین سال پہلے ان کے یہاں جڑوا بیٹیاں ہوئی تھی ازکا اور افزون
ہاں بس ہوگیا چلے۔۔۔۔۔
اس نے ایک ٹرے تیمور کو پکڑائی اور ایک خود اٹھائی
جبکہ منہل اور عبیر باہر سنو سپرے اور سکوپرز لیے کھڑے تھے
چلو بچوں ۔۔۔۔ان دونوں نے منہل اور عبیر سے کہا اور وہ سب ان دونوں کے کمرے کی طرف بڑھے
وہ دونوں تھی تو تین سال کی مگر حد سے زیادہ چالاک تھی اور بےحد شرارتی
عبیر اور منہل کی وہ دونوں لاڈلیاں تھی
وہ سب دبے پائوں ان کے کمرے میں آئے اور ان کے سر پر کھڑے ہوگئے
عبیر نے ان دونوں کے کان کے پاس جاکر سکوپرز پھوڑے تو وہ دونوں جھٹکا کھا کر اٹھی
اور شور کی وجہ سے رونے لگی وہ دونوں نیند میں شور سن کر ڈر گئی
تیمور سے کہا برداشت تھا ان کا رونا اسی لیے اس نے ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا اور چپ کرانے لگا
جبکہ منہل اور عبیر ایمن کو خفا نظروں سے دیکھنے لگے ان کے سارے سرپرائز پر پانی پھر گیا تھا
ایمن نے کندھے اچکائے
اس میں اس کا کیا قصور تھا
بابا کی جان بس چپ کرو ہم آپ کی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے آئے تھے آپ کو ڈرانے نہیں۔۔۔۔۔
تیمور انہیں گود لیے مسلسل چپ کرارہا تھا
ان دونوں نے چپ کی تو سب نے مل کر ان کی برتھ ڈے سیلیبریٹ کی
عبیر نے پکچرز لی اور اور اپنے دونوں ماموں کو سنڈ کی
۔۔۔۔۔۔
زایان اور ربانیہ کی زندگی میں ڈھائی سال پہلے ایک فرد کا اضافہ ہوا تھا جو تھی ان کی بیٹی زینب
زینب میں زایان کی جان بستی تھی وہ اپنے تینوں بچوں سے بہت پیار کرتا تھا مگر زینب سے اسے ایک الگ لگاو تھا
کوئی اسے ڈانٹتا تو اس کی خیر نہ ہوتی اس معاملے میں وہ ربانیہ کی بھی نہ سنتا
آج جب وہ ایان روحان کے ساتھ ان کا سکول کا پروجیکٹ بنوا رہی تھی تو زینب نے اس کے پوری محنت پر پانی پھیر دیا پورے پروجیکٹ پر کلر گرا دیے
وہ تین گھنٹوں سے اس پروجیکٹ میں اپنا سر کھپا رہی تھی مگر زینب نے ایک ہی جھٹکے میں سارے کلرز چارٹ پر پھینک دیے
ربانیہ کا غصے سے اس پر ہاتھ اٹھ گیا اور غلط وقت زایان وہاں آگیا
زینب زایان کے سامنے رورہی تھی جو زایان کو کسی صورت برداشت نہ تھا
اس نے زینب کو لے کر ربانیہ سے خوب جھگڑا کیا حتی کہ ربانیہ کے آنسو نکل آئے
مگر وہ تو زینب کو چپ کرانے میں لگا تھا اسے کہا پرواہ تھی ربانیہ کی
اس نے تو یہ تک کہ دیا کہ اسے بچے پالنا ہی نہیں آتے
اب وہ اس سے ناراض تھی زایان زینب کے ساتھ بیڈ پر سویا ہوا تھا جبکہ وہ اس سے ناراض تھی تو صوفے پر سوئی ہوئی تھی
رات کے تین بجے زینب بھوک کی وجہ سے رونے لگی
تو زایان اسے چپ کرانے کیلئے اٹھا اور اسے گود میں اٹھائے کمرے میں ٹہل رہا تھا مگر وہ تھی کہ بار بار مما مما کہے جارہی تھی
ربانیہ اس کے رونے کی آواز سن رہی تھی مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلی
پالے وہ اکیلے بچے بہت شوق جو ہے انہیں ۔۔۔۔۔
وہ یہ سوچتے ہوئے دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی
جب زینب کا رونا کسی صورت کم نہ ہوا تو وہ ہار مان گیا اور ربانیہ کے سر پر آ کھڑا ہوا
ربانیہ اٹھ جائو یار کیسی ظالم ماں ہو تم میری بیٹی کب سے مما مما کہ رہی ہیں اور تم ہو کہ سنگدل بنی سوئی ہوئی ہوں ۔۔۔۔۔
وہ تھکی آواز میں بولا
مجھے تو بچے پالنا ہی نہیں آتے تو پالے آپ اپنے بچے بنے اس کی ماں۔۔۔۔۔
وہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے روکھے لہجے میں بولی
ربانیہ سوری نا اب بس کرو دیکھو اس کا گلہ بیٹھ جائے گا۔۔۔۔
وہ بیچارگی سے بولا تو اسے اٹھنا ہی پڑا
وہ ڈریسر پر رکھا زینب کا فیڈر اٹھا کر کچن میں اسے بوائل کرنے چلی گئی
اس کا دودھ بنا کر واپس روم میں آئی اور زایان سے زینب کو لے لیا اور بیڈ پر آئی
اسے دودھ پلاتے ہی وہ سوگئی
زایان جو صوفے پر بیٹھا نیند سے بوجھل آنکھیں لیے انہیں دیکھ رہا تھا زینب کے سوتے ہی اٹھا اور بیڈ پر آیا ربانیہ اسے دیکھتے ہی اٹھی اور صوفے پر جانے لگی زایان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ اس کے اوپر جاگری
سوری۔۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا معصوم بن کر بولا
اس نے زایان کے سینے پر مکا جڑا اور آٹھ کر کچن میں چلی آئی کیونکہ اس نے غصے کی وجہ سے کل رات کچھ نہیں کھایا تھا اور ابھی اسے زورو کی بھوک لگی تھی
وہ کچن میں اپنے لیے فروٹس کاٹ رہی تھی جب زایان نے پیچھے اسے اپنے حصار میں لیے
وہ چاقو پکڑے آگے ہوئی
زایان پیچھے ہٹے میں کہ رہی پیچھے ہٹے۔۔۔۔
اس نے زایان کو آنکھیں دکھاتے ہوئے چاقو آگے کیا
کیا ہوگیا ہے بس تھوڑا سا زیادہ کچھ نہیں کرونگا ۔۔۔۔۔
دونوں بازو اس کے گرد حائل کیے وہ بےباک ہوا
زایان کوئی آجائے گا ہٹے۔۔۔۔
وہ رو دینے کو تھی
کوئی نہیں آئے گا میں دیکھ کر آیا ہو سب اپنے کمروں میں ہیں ۔۔
زینب دیکھو تمہارے ڈیڈ کیا کررہے ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا تو زایان جلدی سے ہٹا اور پیچھے دیکھا
وہ قہقہ لگائے بھاگ گئی
پاگل ہے تو بھی ۔۔۔۔۔
زایان نے سر کھجایا
وہ مان تو جائے گی یہ تو اسے پتا تھا مگر تھوڑی محنت لگے گی
یہی سوچتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔
