Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

وہ سٹیج ہر آئے تو فیصل کھڑا ہوکر زایان کے گلے لگا
کافی ڈیشنگ لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔زایان اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنائیت سے بولا
تیری سنگت کا اثر ہے سالے ۔۔۔۔۔۔ترکی با ترکی جواب آیا
بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔۔ فیصل کے بعد زایان نے ایمن کے سر پر ہاتھ رکھا
وہ شرم کے مارے سر جھکائے بیٹھی رہی
اسلام علیکم بھابھی کیسی ہے۔۔۔۔۔۔ آپ فیصل ربانیہ کو ایک سائڈ پر چپ کھڑا دیکھ مسکراتے ہوئے بولا
وعلیکم سلام میں ٹھیک ہو بھائی آپ کیسے ہیں۔۔۔۔۔
وہ بھی مٹھاس بھرے لہجے میں بولی
بھئی آپ کی سر سے نند کا بوجھ کا اتار رہا ہوں تو خود سوچ لے کیسا ہونگا۔۔۔۔۔
وہ ایمن کو دیکھتے ہوئے آنکھ دبائے ربانیہ سے بولا
ربانیہ تو اس کی اس بات پر پوری آنکھیں کھولے اسے حیرانی سے دیکھنے لگی
جبکہ ایمن اور زایان اسے خونخار نظروں سے دیکھنے لگے
وہ انھیں دیکھتے ہی فرمانبرداروں کی طرح ایمن کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا
۔۔۔۔
رایان کب سے انٹرنس پر کھڑا اس کا انتظار کررہا تھا فل وائیٹ سوٹ میں کلائی پر رسٹ واچ پہنے وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا
آخر وہ اسے آتی نظر آئی
ریڈ کلر کے لانگ فراک میں لمبے کالے بال کھولے ہائی ہیلز پہنے وہ اس کے پاس رکی
لوگ کافی مغرور ہوگئے ہیں۔۔۔۔ وہ اس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیتا بولا جو آج قیامت ڈھا رہی تھی
رایان پلیز آج مجھ سے نہیں لڑنا کیونکہ آج میں لاسٹ ٹائم آئی ہو یہاں ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے کافی اداس لگی
کیو کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔
ابھی ٹائم نہیں ہے بعد میں بتائو گی ۔۔۔۔۔
وہ اسے نظر انداز کرتی اندر چلی گئی اور وہ پیچھے سوچ میں پڑگیا
۔۔۔۔
وہ آغوش کے ساتھ چیئرز پر بیٹھی ہوئی تھی پھپھو زایان ایمن کے پاس سٹیج پر بیٹھے تھے
وہ بس انہیں دیکھ رہی تھی
اسے انٹرنس سے مامو آتے دکھائی دیے
انہیں دیکھتے ہی اس کے چہرے پر خوشی کھل اٹھی آخر ایک وہی تو تھے اس کے اپنے
وہ ان کی طرف بھاگتی ہوئی آئی اور ان کے سامنے جا کھڑی ہوئی
اسلام و علیکم مامو جان ۔۔۔۔۔۔
اس نے ان کے آگے سر جھکایا
انھوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
وعلیکم سلام میری بیٹی کیسی ہے۔۔۔۔۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
ان کی اس بات سے اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہوگیا
ارے رو کیو رہی ہو بیٹا ۔۔۔۔۔۔
انھوں نے اس کو روتے دیکھ اس کا سر اپنے سینے سے لگایا
مامو آپ کی بہت یاد آتی تھی آپ ایک بار مجھے دیکھنے بھی نہیں آئے ۔۔۔۔۔
وہ ان کے سینے سے لگی روتے ہوئے شکایت کرنے لگی
ارے بیٹا بس میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اچھا تم سے کسی کو ملوانا ہے۔۔۔۔۔ انھوں نے اس کو خود سے الگ کیا اور بتایا
وہ ان میں اتنی کھو گئی کہ اسے ان کے ساتھ کھڑی لڑکی اور بچی دکھائی ہی نہ دی
اس سے ملو یہ ہے سیرت تیمور کی بیوی۔۔۔۔۔۔۔
انھوں نے اپنے ساتھ کھڑی لڑکی کی طرف اشارہ کیا جو مسکرا مامو بھانجی کا پیار دیکھ رہی تھی
تیمور کی بیوی سن کر اس کی حیرت سے آنکھیں کھل گئی اس نے اپنی آنکھوں میں جمع پانی کو صاف کیا
اسلام و علیکم کیسی ہے ۔۔۔۔آپ سیرت نے مسکرا کر ربانیہ سے پوچھا
وعلیکم سلام میں ٹھیک ہو آپ کیسی ہیں ۔۔۔۔۔
اس نے خود کو نارمل کیا اور سیرت سے پوچھا جو دکھنے میں پچیس سال کی لگ رہی تھی اور عام شکلوصورت کی تھی
میں بھی ٹھیک ہو۔۔۔۔۔ اس نے خوش اخلاقی سے جواب دیا
بیٹا تم ربانیہ کے ساتھ جائو میں ذرا سلمی بہن سے مل آئو۔۔۔۔۔
عمر صاحب اسے تاکید کرتے سلمی بیگم کی طرف چلے گئے
وہ سیرت کو اپنے ساتھ لے آئی وہی جہاں کچھ دیر پہلے وہ اور آغوش بیٹھی تھی آغوش تو اب وہاں نہیں تھی وہ اس کے جاتے ہی ایمن کے پاس سٹیج پر چلی گئی
بیٹھے اس نے سیرت سے کہا تو وہ سر ہلاتی کرسی پر بیٹھ گئی
اس کے ساتھ ایک بچی کو بار بار ربانیہ کو دیکھ رہی تھی جو دیکھنے میں تین سے چار سال کی لگ رہی تھی اور وائیٹ فراک پر بالوں کی چھوٹی چھوٹی چوٹیاں بنائے بہت پیاری لگ رہی تھی
وہ انہی کے سامنے بیٹھی
مما آنٹی کو منو سے تو ملوائے ۔۔۔۔۔وہ سیرت سے کہ رہی تھی مگر ربانیہ کو دیکھ رہی تھی جو اسے بہت پیاری لگی وہ بیچاری کب سے انتظار کررہی تھی کہ کوئی اس کا بھی انٹرو کروائے مگر کسی نے اس پر دھیان ہی نہ دیا
ربانیہ یہ میری کیوٹ سی بےبی منہل ہے جائو بیٹا آنٹی کو ہلو کرو ۔۔۔۔۔۔
سیرت منہل سے بولی جو اسی کے ساتھ چیئر پر بیٹھی تھی ربانیہ تو بےبی لفظ ہر ہی چونک گئی
سیرت کو منہل نے چیئر سے نیچے اتارا تو وہ ربانیہ کی طرف آئی
ہلو آنٹی آئی ایم منہل۔۔۔۔۔ اس نے معصومیت سے ربانیہ کے آگے ہاتھ کیا ربانیہ جو پہلے سے ہی حیران تھی منہل کو دیکھ کر اور حیران ہوئی مگر اس نے اپنا ہاتھ گے بڑھایا اور منہل سے
ہائے بیٹا آئی ایم ربانیہ۔۔۔۔۔ ربانیہ بھی اس کی معصومیت پر فدا ہوگئی اور اس سے نرمی سے بولی
آنٹی کین آئی سیٹ ود یو۔۔۔۔۔ منہل نے پوچھا
وائے ناٹ پلیز کم ہیئر۔۔۔۔۔ ربانیہ نے اسے گود میں اٹھا لیا اسے بھی منہل کافی پیاری لگی
اس نے ربانیہ کے گال پر کس کردیا جس سے وہ حیرت سے سیرت کو دیکھنے لگی جو مسکرا کر اسی کو دیکھ رہی تھی
آپ مائنڈ مت کرنا جو اسے اچھا لگتا ہے یہ اس سے جلدی گھل مل جاتی ہے۔۔۔۔۔
سیرت ربانیہ کو دیکھتے ہوئے بولی جو منہل کو گود میں لیے بیٹھی تھی
ارے بلکل نہیں یہ تو بہت پیاری ہے ۔۔۔۔۔اس نے بلا تکلف ہوکر کہا اور منہل کا گال ہلکے سے کھینچا
جس سے وہ ہنسی
یہ آپ کی بیٹی ہے۔۔۔۔ ربانیہ نے پوچھا
جی یہ میری بیٹی ہے ۔۔۔۔سیرت نے جواب دیا
اسے لگا شاید سیرت بتانا ہی نہیں چاہتی اسی لیے وہ منہل کے ساتھ اسکی باتیں انجوائے کرنے لگی
۔۔۔۔
ربانیہ ذرا اپنے روم سے رنگز تو لے آئو زایان نے وہی رکھی ہے ۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم ربانیہ کے پاس آتی اس سے کہنے لگی جو منہل کے ساتھ بزی تھی
زایان جو پیچھے کھڑے سن رہا تھا موقع کا فائدہ اٹھائے روم میں چلا گیا
نمرہ بھی زایان کو روم کی طرف جاتا دیکھ رہی تھی وہ کب سے اس پر نظر رکھے ہوئے تھی اب تو اس کے پاس موقع تھا وہ بھی زایان کے پیچھے روم کی طرف چلی گئی
ربانیہ نے منہل کو گود سے اٹھا کر چیئر پر بٹھایا سلمی بیگم تو سیرے سے حال احوال پوچھنے لگی
وہ روم کی طرف جا ہی رہی تھی کہ اسے پیاس لگی وہ پہلے کچن میں آئی اور پانی پیا پھر روم کی طرف چلی گئی
ربانیہ نے روم کا دروازہ کھولا تو پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اندھیرے سے تو اسے ویسے بھی کوفت تھی اس نے سویچ آن کیا تو پورا کمرہ روشن ہوگیا مگر سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں جم گئی
نمرہ کا دوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا اور وہ زایان کو گلے لگائے کھڑی تھی ربانیہ کی طرف اس کی پشت کی تھی اور زایان بلکل اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا نمرہ کی بیک زپ کھلی ہوئی تھی جسے دیکھ کر ربانیہ کی سانس اٹک گئی
زایان نے جب اسے دیکھا تو اس کی آنکھوں میں حیرت آئی اس نے نمرہ کو جھٹ سے خود سے الگ کیا
“ایم سوری آپ ڈور لاک کرنا بھول گئے تھے۔۔۔۔
وہ ان دونوں کو دیکھ کر سرخ آنکھوں سے کہتی روم سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔
نمرہ روم میں آئی تو زایان نے پہلے سے لائٹس آف کردی رنگز وہ پہلے ہی سلمی بیگم کو بھجوا چکا تھا
اس نے نمرہ کو ربانیہ سمجھ کر اس کے ساتھ یہ سب کیا اور نمرہ وہ چپ چاپ اس کی ہر کاروائی برداشت کررہی تھی اس نے ذرا مذمت نہ کی
کون ہو تم اور یہاں کیا کررہی ہو۔۔۔۔ وہ نمرہ کو بازو سختی سے پکڑے لال آنکھیں لیے وہ دھاڑا
واٹ آ کوسچن بے بی اتنا سب ہونے کے بعد تم پوچھ رہے ہوں ۔۔۔۔۔
وہ ڈھٹائی سے معنی خیز بولی جو زایان کو ہرگز برداشت نہ ہوا اور وہ اسے بیڈ پر اوندھے منہ دھکا دیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا روم سے چلا گیا