Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8 Pt.1

“اب زندگی مجھ سے کیا چاہتی ہے “
رات کے دوسرے پہر وہ چھت پر کھڑی آسمان کی طرف آنکھیں بند کیے خود سے باتیں کررہی تھی
آج جب امی نے اسے ماموں اور تیمور کے آنے کا بتایا تو اس کا دل زور سے دھڑکا شاید اس سے اسکی منزل بہت دور جارہی تھی وہ ابھی تک تیمور کے سامنے نہیں آئی تھی ہاں وہ ماموں سے ضرور ملی تھی وہ بھی تب جب تیمور ان کی میڈیسن لینے گیا تھا ماموں کیلیئے کمرا سیٹ کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی گئی اور تب سے شام ہوگئی مگر وہ باہر نا نکلی اس دکھ نہیں تھا کہ اسے اس کی محبت نہیں ملی یہ پھر اس کا رشتہ تیمور سے طے کیا جارہا تھا جس میں اس کی رضامندی شامل نہ تھی وہ اداس تھی کہ اس نے اس ناکام محبت کے جذبے کو بڑھاوا کیو دیا آغوش کو بھی اس نے اس بارے میں کچھ نہ بتایا تھا ایمن سے وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی
وہ کھڑی اپنے دل میں ہزاروں وسوسوں کی جنگ لیئے مگن تھی تب اسے اپنے پیچھے قدموں کی آواز سنائی دی
اس نے آنکھیں کھولی اور پیچھے مڑی اسے لگا حسان ہے کیونکہ امی تو اوپر آتی ہی نہیں تھی
مگر پیچھے اس شخص کو دیکھ کر جسے وہ صبح سے چھپ رہی تھی اس کو زور دار جھٹکا لگا ہاں وہ تیمور تھا
پہلے تو وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہی بت بن گئے ربانیہ شاکڈ تھی اور تیمور اس کی ان جھیل جیسی نیلی آنکھوں کے سحر میں کھو گیا
حال پوچھ کر پھر وہ ہی حال کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرق جب دونوں کے عشق میں نہیں ہے
“اسلام وعلیکم”
ربانیہ نے اسی میں عافیت جانی
تیمور بھی اس کی آواز سن کر ہوشوحواس میں واپس آیا
“وعلیکم سلام”
تیمور نے اپنی حالت کی توقع اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا وہ اس وقت ٹرائوزر شرٹ میں ملبوس تھا
صبح سے اس کی نظریں جس کا تواف چاہتی تھی رات کے اس وقت وہ اسے چھت پر کھڑی ملی جو دنیا جہاں سے بیگانی اپنی دنیا میں مگن تھی یہ سوچے بغیر وہ اس سے کیا بات کرے گا اس کی طرف آگیا
ربانیہ جانے لگی ابھی وہ تیمور کے قدموں سے دو قدم ہی دور گئی ہوگی کہ
“ربانیہ”
تیمور کی میٹھی آواز نے اس کے چلتے قدم روکے
وہ پیچھے مڑی اور اس کی طرف دیکھا جس کی پیٹھ ابھی بھی اسی کی طرف تھی
“مجھے لگتا ہے تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں اور ابا جان یہاں کس حوالے سے آئیں “
وہ یک ٹک اس کی پیٹھ کو گھور رہی تھی
“جی علم ہے مجھے”
ربانیہ نے بھی پیٹھ کرکے اسے جواب دیا
“ہمم تو کیا اس رشتے میں تمہاری رضامندی شامل ہے”
ایک اور سوال جو اس کے زخم پر نمک چھڑک رہا تھا
“آپ مجھ سے کیا جاننا چاہتے ہیں”
وہ جھوٹ بولنا نہیں چاہتی تھی اس لیے اس نے بات کو دوسرا رخ دیا
تیمور مڑا اور ربانیہ کو بھی مڑنا پڑا
نظروں کا تبادلہ پھر ہوا
“ربانیہ تم اس رشتے سے خوش ہو میں تمہاری رضامندی جاننے اور تمہیں اپنے دلی جذبات بتانے آیا ہو کیا تم کل مجھے اپنے کچھ لمحے دے سکتی ہو میں چاہتا ہو اس نئے رشتے میں بندھنے سے پہلے ہمارے دلوں میں جو بھی ہے ہم ایک دوسرے کو اپنے جذبات سے آگاہ کرے “
اس کا اتنا بولنا تھا کہ ربانیہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہے گیا
“میں جارہا ہو پھپوں سے میں نے اجازت لے لی ہے کل شام کو تیار رہنا ہم کہی باہر جائے گیں”
ربانیہ کے وہموگمان میں بھی نہ تھا کہ تیمور یہ سب بولے گا
وہ جاچکا تھا مگر ربانیہ ابھی بھی اس کی کہی باتوں کو حصار سے نہ نکل پائی
💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟💟
“ماما یہ کس سے سارا دن فون پے لگی رہتی ہیں آپ “
زایان ابھی ابھی آفس کی لیئے تیار ہوکر آیا تھا اور سلمی بیگم کو فون پے باتیں کرتے سنا تو ان سے پوچھنے لگا
“ہاں وہ سمیرا کا فون تھا”
ان کا اتنا بولنا تھا کہ زایان نے پانی کا گلاس دور پھینکا جس سے وہ ٹکڑوں میں تبدیل ہوگیا
“جب میں آپ سے کہتا ہو کہ اس بدچلن عورت کا نام میرے سامنے نہ لیا کرے تو کیو لیتی ہیں آپ “
وہ دھاڑا اس نے یہ تک نہ سوچا کہ سامنے اس کی ماں ہے
سلمی بیگم بیٹے کی اس حرکت پر آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی
وہ یہ سب کرنے کے بعد ٹیبل سے اپنی چیزیں اٹھائے غصے سے چلا گیا
اور پیچھے سلمی بیگم کی سماعتیں کام کرنا چھوڑ گئی
💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔💔
“کھانا کھا لو”
وہ اپنی بیوی کو آگے کھانا سجانے کے بعد چمچ آگے کیے اسے کھلانے کی کوشش کرہا تھا
“مجھ جیسی عورتیں اس عزت کے قابل نہیں ہوتی”
وہ اتنا کہتی بیڈ سے اٹھی اور جانے لگی
تب اس کے شوہر نے اس کاہاتھ پکڑ کر زور سے اسے بیڈ پر دھکیلا
“مجھے سختی کرنے پر مجبور نہ کرو”
شہادت کی انگلی اس کی طرف کیے وہ دھاڑا
“مجھے اب آپ کی ان باتوں کی کوئی پرواہ نہی”
اس نے اپنی آنکھیں صاف کی اور بیڈ پر سے پھر اٹھی
اس کے شوہر نے پھر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچا وہ توازن برکرار نہ رکھ سکی اور اس کی گود میں گری
اس کے شوہر نے اس کی کمر کو اپنی بازوں می دبوچ لیا
“مجھے تمہاری بھی کوئی پرواہ نہیں مجھے پرواہ ہے تو صرف اپنے بچے کی”
اس کے چہرے کو چھوتی آوارہ لٹیں اس کے کان کے پیچھے کرنے کے بعد اس کیلے کان میں سرگوشی کی اور اس کی آنکھوں سے اس کے چہرے پہ آئیں آنسوئوں کو صاف کیا
وہ اس کی پکڑ میں پھڑپھڑانے لگی مگر گرفت سخت تھی
وہ بچہ جس کا آپ کو یقین نہیں تھا کہ یہ آپ کا ہے اور جب ٹیسٹ سے یہ بات کلیئر ہوگئ تو بچہ آپ کا ہے
جب اسکے حسار سے نکلنے کی تمام کوششیں بےکار ہوگئی تو وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی
اس کے شوہر کو غصہ تو بہت آیا مگر اس کی حالت کے مدنظر اسے کچھ نہیں کہا اور اسے آرام سے بیڈ پر لٹایا اس نے اٹھنے کی بہت کوشش کی مگر اس کے شوہر نے اسے اٹھنے ہی نہ دیا اور اس کے ماتھے پر اپنے پیار بھرا لمس چھوڑ کر بیڈ کی دوسری سائڈ پر سو گیا