Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

واشروم سے وضو کرکے وہ باہر نکلی اور دوپٹے کا بقل بناتے ہوئے اس نے ایک نظر بیڈ پر بیٹھے زایان کو دیکھا جو شکوہ کن نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا
اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ زایان کو ایک نظر اور دیکھتی اسی لیے وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی
نماز پڑھ کر باہر نکلی تو زایان کمرے میں نہیں تھا واپس سے بیڈ پر آگئی دوپٹہ اتار کر سائڈ پر رکھ دیا اور گھٹنوں میں سر دیے بیٹھ گئی
اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ وہ زایان کو اپنی بات کیسے سمجھاتے کیسے بتائے کہ وہ یہ بچہ کیو نہیں چاہتی
۔۔۔۔۔۔۔۔
سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے ڈنر کیلئے سوائے رایان کے آج اس کا اپنے دوست کے یہاں رکنے کا پلان تھا
فریدہ ربانیہ کو بلا کر لائو دوپہر سے کمرے سے نکلی ہی نہیں پتہ نہیں یہ لڑکی کب اپنی صحت پر توجہ دے گی
فریدہ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی جب سلمی بیگم ربانیہ کی لاپرواہی پر افسوس کرتی اس سے بولی
زایان جو جوس پی رہا تھا ایک نظر سلمی بیگم پر ڈالی
فریدہ رہنے دو تم اس کیلئے ڈنر مجھے ٹرے میں سیٹ کردو میں جاتے ہوئے لے کر جائو گا
بیٹا اس کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ
اس کی بات پر سلمی بیگم کو پریشانی نے آن گھیرا
جی ٹھیک ہے وہ
اس نے مختصر سا کہا اور ڈنر کرنے لگا
۔۔۔۔۔
وہ ابھی بھی گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی جب زایان اس ہاتھ میں ٹرے پکڑے اندر آیا
وہ دروازہ بند کرتا اس کے پاس آیا اور ٹرے کو اس کے سامنے رکھا اور خود اسی کے سامنے بیٹھ گیا
ربانیہ ڈنر کرلو ۔۔۔۔۔۔اس کے سو سو کرنے کی آواز وہ بھی سن رہا تھا اس لیے نرمی سے بولا
مگر ربانیہ نے سر نہ اٹھایا
تم کیا چاہتی ہو آخر ۔۔۔۔۔
ربانیہ کی ہٹ دھرمی دیکھ کر وہ بے بس ہوگیا
میں جو چاہتی ہو وہ آپ مجھے دے سکے گے
بھیگی آواز میں اس کا جواب آیا ۔۔۔۔۔۔
جو تم اب چاہتی اول تو وہ میری سمجھ سے باہر ہے آخر تمہیں کیو اتنی ان سکیور ہورہی ہو
ربانیہ نے اس کے جواب پر سر اٹھایا
اور سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا
تو پھر مجھے میرے حال پر چھوڑ دے
ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے وہ دانت پیس کر کہتی اپنا دوپٹہ اٹھائے جانے لگی
زایان نے جاتے ہوئے اس کی کلائی پکڑی اور خود بھی کھڑا ہوگیا
تم مجھ سے شیئر تو کرو کہ تمہیں کیا بات پریشان کررہی ہے
اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیے وہ نرمی سے اسے سمجھانے لگا
یہ سنتے ہی وہ اس کی سینے سے لگی اور آنکھیں میچ لی
بتائو مجھے کیا ہوا ہے
وہ اس کے بال سہلانے لگا
اگر کل کو آپ کو کچھ ہو گیا تو ۔۔
آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی
تو اس کے رکتے ہی وہ بولا
ادھر آئو زایان نے اسے بیڈ پر بٹھایا اور پانی کا گلاس اس کے آگے کیا جسے اس نے تھام لیا اور ہچکیوں لیتے ہوئے پیا
پانی پینے کے بعد گلاس اس کے ہاتھ سے لیا
اب بتائو مجھے
میں ابھی آرام کرنا چاہتی ہو
اسے محسوس ہورہا تھا جیسے اس کا اگلا سانس نہیں آئے گا
ٹھیک ہے مگر اپنی میڈیسنز لینے کے بعد
زایان نہیں چاہتا تھا کہ وہ مزید سٹریس لے اسی لیے وہ اس سے کسی اور دن پوچھنے کا ارادہ رکھتا تھا
زایان نے اس کے آگے جوس کا گلاس کیا جسے تھوڑا جھجھکتے ہوئے اس نے تھام لیا اور بمشکل دو گھونٹ لیے پھر زایان نے اسے میڈیسنز دی اس کو بلینکٹ اوڑھایا اور ٹرے لیے کمرے سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
زایان کچن میں ٹرے رکھنے کے بعد کمرے میں جارہا تھا جب سلمی بیگم نے اسے آواز دی
ماما آپ جاگ کیو رہی ہیں
وہ انہیں دیکھ کر ان کے پاس آیا
ہاں تم سے کچھ بات کرنی ہے میرے کمرے میں آئو
وہ ان کے پیچھے ان کے کمرے میں چلا گیا
جی بولے ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے پوچھا
زایان کیا تم دونوں کے درمیان ابھی بھی سب کچھ ویسا ہی ہے
ربانیہ کی لاپرواہی اور زایان کے اکھڑے رویے سے وہ پریشان ہوگئی اسی لیے انھوں نے پریشان کن لہجے میں پوچھا
نہیں ماما ہمارے درمیان سب ٹھیک ہو گیا ہے
تو پھر مجھے ربانیہ کی آنکھوں میں وہ خوشی کیو نظر نہیں آئی جو اس کے چہرے پر ہونی چاہیے تھی
میں خود نہیں سمجھ پارہا ہو اس کا رویہ وہ مجھ سے کہتی ہے کہ اس سے کسی نے پوچھا کہ وہ بچہ چاہتی ہے یا نہیں
وہ خود بہت پریشان لہجے میں بولا
کیا یہ وہ کہ رہی ہے مگر وہ تو ایسی نہیں ہے
یہی تو مجھے سمجھ نہیں آرہا
تم پریشان مت ہو میں کرتی ہو صبح اس سے بات کہ آکر کون سی بات اسے پریشان کررہی ہے
وہ اسے تسلی دیتی بولی
وہ بھی ہاں میں سر ہلائے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔
صبح کی نماز کے بعد وہ جب روم میں آئی تو زایان کو جاگتے ہوئے پایا
وہ بیڈ پر بیٹھا اسی کو دیکھ رہا تھا
کہا جارہی ہو
اسے جاتا دیکھ زایان نے پوچھا
مجھے آپ ہی نے کہا تھا کہ اس گھر میں عیاشیاں کرنے نہیں آئی ہو اسی لیے بریک فاسٹ بنانے جا رہی ہو
ربانیہ نے روکھے انداز میں جواب دیا
تم اتنا ہائپر کیو ہو رہی ہو
زایان کو امید نہ تھی کہ وہ ایسا جواب دے گی اسی لیے تنگ آگیا
آپ کو کوئی کام ہے تو بتائیں ورنہ میں جائو
وہ اس کے سامنے آئی
زایان لمبے لمبے ڈگ بھرتا اس کے پاس آیا اور اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا
آئندہ تم وہی کرو گی جو میں کہو گا زیادہ میرے سامنے نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے پہلے میرے کپڑے نکالو اور پھر دفعہ ہوجائو یہاں سے
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ ربانیہ اس کی کہی بات کو دل پر لے گئی ہے اس کی اس بات پر اس کا ضبط جواب دے گیا وہ اس کی بازو چھوڑتا واشروم میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
زایان کے صبح والا رویہ اس کے دل میں اٹھنے والے وسوسوں کو یقین کا رنگ دے گیا تھا دوپہر کے وقت وہ اپنے کمرے میں بیٹھی افسردہ سی اس کے صبح والے رویے کے بارے میں سوچ رہی تھی
تبھی سلمی بیگم اس کے کمرے میں آئی
پھپھو آپ آئے نہ وہ انہیں دیکھتے ہی اپنے تاثرات نارمل کرتے ہوئے چہرے پر اطمینان سجائے بولی
وہ اس کے پاس بیٹھی
کیسی ہو سلمی بیگم نے پوچھا
جی میں ٹھیک ہو پھپھو
اس نے مسکرا کر جواب دیا
ربانیہ کیا تم اس بچہ کے آنے سے خوش نہیں ہو
وہ مدعے پر آئی
ربانیہ سنتے ہی شرمندہ سی سر جھکا گئی
بیٹا میں تمہاری ماں کی جگہ ہو تم مجھ سے اپنی ہر بات شیئر کرسکتی ہو
انھوں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا
سلمی بیگم کا پیار بھرا لہجہ اس کی آنکھوں میں آنسو لے آیا
پھپھو مجھے لگتا ہے میرا دل پھٹ جائے گا
وہ ان کی گود میں سر رکھ کر افسردہ سی بولی
پھپھو اگر بابا کی طرح زایان کو کچھ ہو گیا تو پھر میرا اور اس بچے کا کیا ہوگا ہم بے گھر ہوجائے گے
سلمی بیگم حیرت سے اس کی ہر بات غور سے سننے لگی
پھر میری زندگی میں بھی امی کی طرح کوئی عبدالمالک آجائے گا جو میرا اور میرے بچے کا جینا مشکل کر دے گا پھر ایک اور ربانیہ کی زندگی میں زایان آئے گا جو اسے پل پل اذیت کی موت مارے گا اور جب اسے پتا چلے گا کہ اس کا تو کوئی قصور ہی نہیں تو وہ اپنے کیے کی معافی مانگے گا اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا
ایسا کیو ہوتا ہے پھپھو کہ مرد ہر قصور ہر غلطی کے باعث اس معاشرے میں سر اٹھا کر جیتا ہے اور عورت اس کی زرا سی توجہ پر اپنی انا اپنے نفس کو مار کر اس کی توجہ کیلئے سب بھول جاتی ہے
اسی لیے میں یہ بچہ نہیں چاہتی تاکہ ایک اور ربانیہ ایک اور زایان کی ذلت سے بچ جائے
سلمی بیگم کا دل ان کی باتیں سن کر خون کے آنسو رونے لگا شاید وہ سچ ہی کہ رہی تھی وہ اسے وہی چھوڑ کر کمرے سے باہر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ شام کو گھر آیا تو سلمی بیگم نے اسے ربانیہ کی کہی ہر بات بتائی جو اس کے دل پر کسی خنجر کی طرح چلی
اسے لگا جیسے یہ زمین پھٹ جائے گی اور وہ اس کے اندر سما جائے گا اس کے کیے ہر ظلم نے ربانیہ کے ذہن کو مائوف کردیا تھا
۔۔۔۔۔۔
جی اس سے اگلی ایپیسوڈ کچھ رومانوی لکھنے کا سوچ رہی تھی تو لکھ لی اور اب اس کے بعد وہی اپلوڈ کرونگی