Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15 Part 2

“صاحب جی یہ ربانیہ بی بی آپ کے کمرے میں کیا کررہی ہیں” فریدہ اس کے آگے ناشتہ رکھتے ہوئے پوچھنے لگی
اس نے ایک نظر فریدہ پر ڈالی جو موبائل پر کچھ ٹائپ کررہا تھا
تبھی سلمی بیگم وہاں آئی
“دولھن ہے اس کی شادی ہوئی ہے ان دونوں کی”۔۔۔۔ انھوں نے فریدہ کی باتیں سن لی تھی تبھی وہ کرسی پر بیٹھتی بولی
“ہے کیا بیگم صاحبہ آپ سچ کہ رہی ہیں” فریدہ پوری آنکھیں کھولے حیرانی سے بولی
“تو کیا یہ جھوٹ بولنے والی بات ہے”۔۔۔ تبھی زایان آنکھیں اچکائے بولا
“نہیں پھر بھی بیگم صاحبہ آپ کو مجھے تو بلانا چاہیے تھا نا آخر آپ کے پہلے بیٹے کی شادی تھی”۔۔۔۔
وہ خفا ہوگئی
“ہاں بس سب اچانک ہوا کسی کو نہیں بلایا اب ولیمہ کرو گی تو ضرور بلائو گی”۔۔۔۔
اچھا فریدہ تم زایان کے کمرے میں ائٹمنت اور رابی کیلئے ناشتہ لے جائو بیچاری بہت برے طریقے سے گری ہے ۔۔۔۔۔
زایان اب کی باتیں سن کر چہرے پر ہلکی مسکراہٹ سجائے ناشتہ کررہا تھا
“اچھا ماما میں چلتا ہو” ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنا کوٹ اور فائل سنبھالتا اٹھا
“اچھا سنو جب واپس آنا تو ربانیہ کو ڈاکٹر کے پاس لازمی لے کر جانا”
وہ ربانیہ کیلئے بہت پریشان تھی
ہممم ٹھیک ہے ۔۔۔۔
وہ چہرے پر مصنوعی سنجیدگی سجائے چلا گیا
۔۔۔ ۔
ربانیہ ابھی بھی بیڈ پر بیٹھی رورہی تھی اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ زایان نے اسے مارا ہے مگر یہ سوچ کر اس کا دماغ پھٹ رہا تھا کہ آخر اس کی ماں نے ایسا کیا کیا ہے جو زایان بار بار انہیں بدچلن کہتا ہے اور اس کا وہ جملہ اس کے ذہن میں نقش ہو گیا تھا
“نہ میں عبدالمالک ہو اور نہ ہی احمد جو تمہاری ان ادائوں سے تمہارا عاشق ہوجائو گا”۔۔۔۔
تبھی دروازہ نوک ہوا اور فریدہ اندر آئی ہاتھ میں ٹرے پکڑی ہوئی تھی جس میں ناشتہ اور میڈیسن تھی
اسے دیکھتے ہی ربانیہ نے اپنے آنسوں صاف کیے
“کیسی ہے ربانیہ بی بی” وہ ٹرے بیڈ پر رکھتے ہوئے بولی
م۔۔میں ٹھیک ہو آپ کیسی ہے ۔۔۔۔۔
وہ اس سے نظریں چرانے لگی وہ نہیں چاہتی تھی کہ فریدہ اس کو روتا ہوا دیکھے حالانکہ اس کی نیلی آنکھیں اب سرخ ہوچکی تھیں
“میں بھی ٹھیک ہو سمیرا بی بی کا سن کر بہت افسوس ہوا اللہ ان کی مغفرت فرمائیں آمین”۔۔۔۔
وہ اب نیچے کارپٹ پر بیٹھ چکی تھی
“ارے آپ نیچے کیو بیٹھ رہی ہیں اوپر بیٹھیں”۔۔۔۔
“نہیں بی بی میں یہی ٹھیک ہو آپ مجھے دوائی اٹھا دے ٹرے میں سے میں آپ کو لگا دو”۔۔۔۔۔
“نہیں میں خود لگا لو گی “۔۔۔۔
وہ اپنا پیر اس سے چھپانے لگی
“ارے بی بی لائیں میں لگا دو “۔۔۔اس نے زبردستی اس کا پیر آگے کیا اور اسے دیکھ کر دنگ رہے گئی
“بی بی آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے بہت بری طرح جل گیا ہے دیکھے تو کیسے چھالے نکل آئے ہیں”۔۔۔۔۔
وہ اس پر مرہم لگاتے ہوئے بولی
آہ۔۔۔۔
آرام سے لگائیں درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔اس نے درد کی وجہ سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا
جی بی بی بس جلدی آپ کی جلن کم ہوجائے گی
اچھا بی بی نئی نئی شادی ہوئی ہے آپ کی اور اتنی سادگی پتا ہے شوہر کو بیوی سجی سنوری ہی اچھی لگتی ہے آپ کوئی شوخیہ رنگ پہنے کوئی ہاتھوں میں گجرے ڈالے تب آپ لگے گی نئی دولھن ایسے سادہ رہے گی تو صاحب جی آپ سے اکتا جائے گے۔۔۔۔۔۔۔
فریدہ مرہم لگاتے ہوئے اسے بتا رہی تھی اور وہ غور سے اس کی ایک ایک بات سن رہی تھی
کیا آپ سچ کہ رہی ہیں؟؟؟
جی بی بلکل سچ۔۔۔۔ مرہم لگانے کے بعد وہ آٹھ کھڑی ہوئی
اچھا میں خیال رکھوں گی آئندہ بہت شکریہ آپ کا ۔۔۔۔۔
وہ ہلکی مسکراہٹ سجائے فریدہ سے بولی
اچھا یہ دوائیاں ہیں آپ ناشتہ کے بعد لے لینا میں جارہی ہو۔۔۔۔
وہ ٹرے میں رکھی میڈیسن کی طرف اشارہ کرتی بولی
جی کھا لو گی بہت شکریہ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
زایان اپنے کیبن میں بیٹھا ایک فائل کی سٹڈی کررہا تھا جب فرحین لمبے لمبے ڈگ بھرتی اندر آئی
یہ سب کیا ہے زایان ۔۔
اس کی آواز غصے سے بھری تھی
کیا وہ اسے نظر انداز کیے بولا
“شادی کے وعدے میرے ساتھ اور تم اس دوٹکے کی مڈل کلاس سے شادی رچا کے بیٹھے ہو”۔۔۔
وہ چیخی
“آواز نیچی رکھو یہ آفس ہے میں یہاں کوئی تماشہ برداشت نہیں کرونگا”…
شہادت کی انگلی سے اسے وارن کیا
“تو کیا ہا مجھے دوبئی بھیج کر یہاں عیاشیاں کررہے ہو اور کہتے ہو آواز نیچی رکھو۔۔۔۔
اب وہ باقائدہ رونے لگ گئی
وہ اپنی کرسی سے اٹھا
ادھر بیٹھو اسے شانوں سے پکڑ کر کرسی پر بٹھایا اور خود اس کے آگے ٹیبل پر بیٹھ گیا
دیکھو فرحین میں صرف تم سے محبت کرتا ہو یہ شادی مجبوری میں ہوئی ہیں مگر میں اسے جلد ہی فارغ کردو گا اور میری بیوی صرف تم بنو گی۔۔۔۔۔۔
اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامے وہ اسے سمجھا رہا تھا
:جھوٹے ہو تم”۔۔۔۔ وہ اس کے ہاتھوں کو جھٹک کر پھر رونے لگ گئی
Please farheen I am serious okay
“سچ کہ رہے ہو نہ”۔۔۔۔
تمہاری قسم۔۔۔۔۔۔ اس نے فرحین کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا
اچھا اب اپنا موڈ ٹھیک کرو اور چلو آج ڈنر باہر کرتے ہیں۔۔۔۔
ہممم چلو ۔۔۔۔۔۔وہ دونوں اٹھے اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چلے گئے
۔۔۔۔
شام ہوچکی تھی وہ ابھی تک سوئی ہوئی تھی اسی حالت میں نہ اس نے کپڑے چینج کیے اور نہ ہی اپنا حلیہ درست کیا
ایک بار بس حسان اس سے آکر ملا تھا
اس نے کروٹ لی اور موندی موندی آنکھوں سے گھڑی کو دیکھا جو شام کے سات بجا رہی تھی
وہ آرام سے اٹھی اور اپنے پیر کی جانب دیکھا جو پہلے سے کافی بہتر لگ رہا تھا اور وہ بیڈ سے اٹھی اور قدم نیچے بچھے کارپٹ پر رکھے اب وہ آرام سے چل سکتی تھی
وہ آہستہ آہستہ قدموں سے چلتی ہوئی ڈریسر کے سامنے آئی اور اپنا گال دیکھنے لگی جہاں تھپڑ کا نشان تو نہ تھا مگر اس کا ہونٹ پر ابھی بھی خون لگا ہوا تھا
بالوں کا رف جوڑا بنائے انہیں کیچر میں قید کیا اور ڈریسنگ روم آئی الماری میں سے ایک ڈریس نکالا جو بہت سادہ تھا اسے فریدہ کی بات یاد آئی
بی بی آپ اتنی سادہ پتا ہے شوہر کو بیوی سجی سنوری ہی اچھی لگتی ہے آپ کوئی شوخیہ رنگ پہنے کوئی ہاتھوں میں گجرے ڈالے تب آپ لگے گی نئی دولھن
اس نے وہ ڈریس واپس رکھا اور ریڈ کلر کا کرتا نکالا اور واشروم میں چلی گئی
۔۔۔
وہ گیلے بالوں کو ٹاول میں قید کیے ڈریسر کے سامنے آئی انہیں ٹاول سے پوچھا اور ان میں برش کرنے لگی برش کرنے کے بعد ناجانے اسے کیا سوجھی اور وہ ایمن کے کمرے میں آئی وہاں سے پنک کلر کا اٹھایا اور اپنے ہونٹوں پر لگایا
اب وہ آئینے میں اپنا جائزہ لے رہی تھی وہ واقعی خوبصورت لگ رہی تھی پھر وہ دوبارہ اپنے کمرے میں آئی اور اپنا دوپٹہ گلے میں سیٹ کیا
اور نیچے چلی گئی
۔۔۔۔۔
نیچے اسے سلمی بیگم اور حسان صوفے پر بیٹھے دکھائی دیے
حسان سلمی بیگم کو اپنے سکول کی باتیں بتا رہا تھا اور وہ ہنس کر سن رہی تھی
“اسلام علیکم پھپھو”۔۔۔۔
وہ ان کے سامنے آئی “وعلیکم سلام میری جان”۔۔۔ انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور وہ ان دونوں کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی
“ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو بیٹا”۔۔۔۔۔
انہوں نے اس کی دل اے تعریف کی جو آج غضب ڈھا رہی تھی
شکریہ پھپھو۔۔۔۔۔
“آپی آپ آج اتنا تیار کیو ہوئی ہیں آپ تو کبھی اتنا تیار نہیں ہوتی ۔۔۔۔
حسان اس سے معصومیت سے پوچھنے لگا
اس کی بات سن کر سلمی بیگم اور وہ ہنسنے لگی
بیٹا جب لڑکیوں کی شادی ہوتی ہے تو وہ ایسے ہی تیار ہوتی ہے۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے بتایا
“اچھا پھر جب میری شادی ہوگی تو میری دولھن بھی ایسے ہی تیار ہوگی پھپھو”۔۔۔۔۔
وہ اپنی ہی دھن میں بولے جارہا تھا
جبکہ اس کی بات سن کر ربانیہ تو حیران رہ گئی اور سلمی بیگم ہسنے لگیں
ہاں بیٹا ایسے ہی تیار ہوگی تمہاری دولھن ۔۔۔۔۔سلمی بیگم نے اسے گود میں اٹھایا
اچھا پھپھو میں باہر کھیلنے لان میں کھیلنے جائو۔۔۔۔
ہاں بیٹا جائو کھیلو۔۔۔۔” شکریہ پھپھو”
اور وہ لان کی طرف بھاگ گیا
“ربانیہ تمہارا پیر کیسا ہے”
“جی اب بہت بہتر ہے جلن بھی نہیں ہورہی”۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
اچھا تو ایک کام کرنا جب زایان آئے تو اسے کہنا تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جائے ایک بار چیک اپ ہوجائے گا تو ترسلی رہے گی میں ذرا ایک شادی میں جارہی ہو میری دوست کی بیٹی ہے تو دیر اے آئو گی ٹھیک ہے اور حسان بھی میرے ساتھ جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
مگر پھپھو حسان آپ کو تنگ کرے گا ۔۔۔۔۔وہ احتیاطن بولی
ارے نہیں اب تو گھل مل گیا ہے مجھ سے نہیں کرے گا مجھے تنگ تم پریشان مت ہو اور ہاں کھانا میں نے بنوا لیا ہے تم اور زایان کھا لینا میں بس آدھے گھنٹے تک جاتی ہو۔۔۔۔۔۔
جی پھپھو اس نے اثبات میں سر ہلایا
۔۔۔۔۔
زایان دس بجے آفس سے گھر آیا اور سیدھے اپنے کمرے کی جانب آیا
جب وہ کمرے میں آیا تو کمرا کو خالی پایا وہ بیڈ پر بیٹھ گیا اور اپنا کوٹ بیڈ پر پھینک دیا پھر اپنے جوتے اتار کر وہی پھینک دیے اور ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔
ربانیہ جب کمرے میں آئی تو زایان کی چیزوں کو بکھرا پایا وہ جلدی جلدی انھیں سمیٹنے لگی
سمیٹنے کے بعد وہ اب بیڈ پر بیٹھی اپنے پیر پر مرہم لگانے لگی ابھی وہ مرہم لگا ہی رہی تھی اتنے میں زایان چینج کرکے باہر آیا اس کی تیاری دیکھ وہ آگبگولا ہو گیا
“کیا کررہی ہو تم یہاں”۔۔۔ وہ اس کے آگے کھڑا ہوگیا
وہ دھاڑا
آپ کے کیے گئے کارناموں پر مرہم لگا رہی ہو ۔۔۔۔۔
وہ بھی اسی لہجے میں گویا ہوئی
اس نے اسے کھینچ کر دور پھینکا اور وہ بیڈ سے نیچے جا گری
“بکواس کرتی ہو میرے سامنے”۔۔۔۔ اس کے منہ کو دبوچ لیا
تو اور کیا کرو میں آپ کی ماں کو دکھائو کہ ان کے بیٹے نے کیا کیا ہے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
اس نے درد کی بلکل بلکل پرواہ نہ کی اور ڈرے بغیر جواب دیا آج وہ طے کرچکی گی کہ اگر زایان اسے عزت دے گا تو ہی عزت لےگا
اچھا ابھی تمہیں دکھاتا ہو کہ میں کیا کیا کرسکتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہی اسے بیڈ پر پھینکا
مجھ مجھے معاف کردے میں آئندہ کبھی ایسا نہیں کرو گی وہ اب گڑگرا رہی تھی مگر اس پر جنون سوار ہو گیا وہ ڈر کے مارے پیچھے ہوگئی اور بیڈ شیٹ کو اپنی مٹھیوں میں جکڑ لیا
وہ اب اپنے جنوں آخری حد تک پہنچ گیا
وہ سسکتی رہی روتی رہی مگر مقابل حیوان بنا رہا
اس کی تذلیل کرنے کے بعد زایان نے اسے بیڈ سے دھکا دے دیا وہ اس کی شدتیں برداشت نہ کر پائیں اور بےحوش ہوگئی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
وہ آئینے میں بہت دیر دیکھنا خود کو
پھر اپنے ضبط پر تالی بجا کے رو پڑنا
ایک ہی درد کے کے دو مختلف حوالے ہیں
کسی سے چھپ کر کسی کو بتا کے رو پڑنا
تیرا مذاق میں کہنا چھوڑ دونگا تجھے
اور ایک دم سے میرا مسکرا کے رو پڑن