Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

دو مہینے گزر گئے تھے اس سب کو مگر نہ زایان کے رویے میں تبدیلی آئی اور نہ ہی ربانیہ کے صبر میں جب سلمی بیگم نے اس سے پڑھائی کا پوچھا تھا تو اس نے یہ کہ کر منا کر دیا تھا کہ اب وہ آگے نہیں پڑھنا چاہتی سلمی بیگم اور ایمن نے اسے سمجھایا بھی تھا مگر وہ نہ مانی ولیمہ کا زایان نے منہ کیا تھا سب کو
روز ایک نئی اذیت اس کی راہ تکتی ہر بار اسے یہ باور کرایا جاتا کہ وہ اپنی ماں کا کیہ بھگت رہی ہے اس نے زایان سے کبھی نہیں پوچھا کہ آخر اس کی ماں نے ایسا کیا کیا تھا جو اسے ایسی سزا مل رہی ہے کیونکہ وہ جانتی تھی اس کی ماں ایسا کچھ نہیں کرسکتی اور وہ چپ چاپ سب برداشت کرلیتی حسان کا ایڈمیشن سلمی بیگم نے ایک اچھے درجے کے سکول میں کرایا تھا اسے اسی بات کی خوشی تھی کہ اس کا بھائی خوش ہے اب اسے اپنی قسمت سے اچھے کی امید نہیں تھی زایان کا ہر کام وہ خود کرتی گھر میں کئی نوکر ہونے کے باوجود زایان نے اسے کہا کہ وہ یہاں عیاشیاں کرنے نہیں آئی اب تو صبح کا ناشتہ بھی سب کیلئے وہی بناتی زایان اسے کئی بار کہتا کہ وہ اس کی موجودگی میں کمرے میں نہ آیا کرے مگر وہ کہا جاتی اگر وہ کسی اور کمرے میں سوتی تو پھپھو اس سے کئی سوال کرتی اس لیے وہ ڈھیٹ بن کر اپنے کمرے میں جاتی اور زایان ہمیشہ اس کی تذلیل کر دیتا۔۔۔۔
وہ زایان سے بات نہ کرتی اگر وہ بات کرتا تھا تبھی جواب دیتی دنبدن وہ کمزور ہوتی جارہی تھی سلمی بیگم اس کے حوالے سے بہت پریشان رہتی تھی ایک بار تو اس کا ڈاکٹر سے چیک اپ بھی کروایا مگر ڈاکٹر نے صرف اس کی ڈائٹ کا خیال رکھنے کیلئے کہا تھا
وہ اپنے کمرے میں زایان کے کپڑے پریس کررہی تھی جب زایان کمرے میں آیا
اسے نیچے حسان نے بلایا تو وہ غلطی سے استری شرٹ پر رکھ کر نیچے چلی گئی
زایان چینج کرکے واپس آیا تو پورے کمرے میں جلنے کہ سمل پھیلی ہوئی تھی
وہ جلدی سے آئرن سٹینڈ کی جانب آیا اور استری شرٹ پر سے ہٹائی اور جلی ہوئی شرٹ دیکھ کر وہ غصے میں آگیا
ربانیہ !!! اس نے زور سے آواز لگائی
وہ حسان کو میتھس کا سوال سمجھا رہی تھی
“حسان تم اپنا ہوم ورک کرکے سو جانا مجھے زایان بلا رہے ہیں ٹھیک ہے” وہ حسان کو ہدایت کرکے بھاگتی ہوئی کمرے میں آئی تو زایان آئرن سٹینڈ کے پاس کھڑا اپنی جلی ہوئی شرٹ کو غصے سے دیکھ رہا تھا
“کہا گئی تھی تم” وہ دھاڑا
“وہ۔۔وہ۔۔میں نیچے حسان کے پاس گئی تھی” ابھی وہ وضاحت دے ہی رہی کہ زایان کا ہاتھ اٹھا اور اس کے گال پر نشان چھوڑ گیا
“میں تو تم جیسی دوٹکے کی عورت کو دیکھنا بھی برداشت بھی نہیں کرتا اور تم یہ حرکتیں کرکے ثابت کیا کرنا چاہتی ہو کہ تم بہت پارساں ہو سب جانتا ہو میں تمہارے اور تمہارے اس عاشق تیمور کے کارنامے اس لیے اب تم نے کوئی بھی ایسی حرکت کی تو اپنا حشر دیکھنا “۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک ایک لفظ پر زور دیے وہ بیڈ پر جا بیٹھا
“کیا میں اتنی بری ہوں کہ آپ مجھے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے” وہ نم آنکھوں سے اس سنگدل سے پوچھ رہی تھی جو اسے تھپڑ رسید کرنے کے بعد بیڈ پر سکون سے لیٹا اپنی بیوی کی بےبسی کا تماشہ دیکھ رہا تھا
وہ یہ بات سنتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی بازو کو اپنے ہاتھ میں سختی سے جکڑا
“جب میں تمہیں کہتا ہوں کہ اپنی یہ منہوس شکل لے کر میرے سامنے مت آیا کروں تو کیو آتی ہو” ۔۔۔۔۔وہ چیخ کر بولا
اس نے درد کی شدت کے باعث بھی اس کی بات کا جواب دیا “اگر اتنی ہی بری ہوں اتنی ہی منہوس ہو تو چھوڑ دے مجھے دےدے طلاق ختم کرے اپنی زندگی سے اس عذاب کو “۔۔۔۔۔وہ نم آنکھیں لیے چیخ کر بولی کیونکہ اس نے اب اس کے کردار پر شک کیا تھا وہ یہ بات سنتے ہی غصے سے آگبگولا ہوگیا اور اسے بیڈ پے دھکا دے کر گرایا اور ساری رات اسے عزیت دیتا رہا اور اس کی سسکیاں پورے کمرے میں گونجتی رہی اب یہ سسکیاں اس کا مقدر بن چکی تھی اس کمرے کو بھی اس کی سسکیوں کی عادت ہو چکی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
آج فیصل مری آیا تھا اور اس نے سوچا کہ کیو نہ ایمن سے مل لے اس لیے اسے ملنے بلایا
وہ اور ایمن مری کی سڑکوں پر واک کرتے ہوئے باتیں کررہے تھے
“تو فائنلی تمہاری سٹڈیز کمپلیٹ ہوگئی ہیں” فیصل ایک ٹھنڈی آہ بھرے اس سے کہا
“جی بس اب ایک ماہ میں گھر چلی جائو گی اور پھر ہائوسنگ جاب”۔۔۔
“تو مطلب شادی کا دور دور تک کوئی پروگرام نہیں یار ایمن تم ہی نے کہا تھا کہ جب تک تمہاری میڈیکل کمپلیٹ نہیں ہوجاتی تب تک شادی کیلئے فورس نہ کرو بٹ اب بھی”۔۔۔۔
اس نے معصومیت سے شکوہ کیا
“ہاہاہاہا ارے میں نے ایسا کب کہا شادی کر بھی لو تو ہائوسنگ جاب تو کرنی ہی پڑے گی مجھے”۔۔
“یعنی اب میں اماں کو بھیجو تمہارے گھر”۔۔۔۔
وہ حیرانی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لیے اس سے پوچھنے لگا
“چلے آپ بھی کیا یاد کرے گے ڈن بھیج دے آنٹی کو”
ایمن نے اس پر احسان کیا
“یا اللہ تیرا شکر کہ اب میری بھی بیگم آئے گی”
فیصل نے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کیے
“اچھا ایمن تمہیں پتا ہے میں نے ہمارے بچوں کے نام بھی سوچ لیے ہیں اگر بیٹا ہوا تو ہم عمیر رکھے گے اور اگر بیٹی ہوئی تو خوشبو”۔۔۔۔
وہ ایک کے بعد ایک اپنی ساری پلیننگ ایمن کو بتا رہا تھا اور ایمن اس کی بات سن کر بلش کرنے لگی
۔۔۔۔۔
“پھپھو مجھے امی کی یاد آرہی ہے کیا میں کچھ دیر کیلیے اپنے گھر چلی جائو”۔۔۔ سلمی بیگم اپنے کمرے میں بیٹھی تھی جب ربانیہ آکر ان سے کہنے لگی
“ہاں بیٹا کیو نہیں بےشک جائو مگر زیادہ دیر نہ رکنا وہاں جلدی آجانا”۔۔۔۔
“جی پھپھو بہت شکریہ”۔۔۔ وہ خوشی خوشی ان کے گلے ملی
“ڈرائیور سے کہ دو تمہیں چھوڑ آئے گا اور جب آنا ہو تو کال کردینا لے آئے گا تمہیں”
“جی پھپھو “
۔۔۔۔۔۔
وہ آج پورے دو مہینے بعد اپنے گھر آئی تھی اسے کئی دنوں سے امی کی یاد آرہی تھی اس لیے وہ آئی تھی
دروازے کا تالا کھولا اور اندر آئی وہ گھر جو اس نے اور اس کی ماں نے مل کر سجایا تھا گرد کی لپیٹ میں آگیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ ہر چیز کو دیکھنے لگی اس گھر میں کبھی اس کی ماں کی خوشبوں پھیلی ہوتی تھی اب اس گھر میں کسی کا نام و نشان نہ تھا ۔۔۔۔
اس نے سوچا کہ کیو نہ صفائی کرلے اپنی چادر اور بیگ صوفے پر رکھ کر وہ جھاڑو لے آئی اور پورا گھر صاف کرنا شروع کیا
تقریبا دو گھنٹے میں اس نے پورا گھر صاف کیا پھر وہ کتنی دیر اپنی ماں کے کمرے میں بیٹھی رہی اچانک باہر سے بادل گرجنے کی آواز آئی وہ فورن باہر صحن میں آئی اور دیکھا کہ موسم گرد آلود ہو رہا ہے وہ کمرے میں آئی اور اپنے بیگ سے فون نکالنے لگی تاکہ وہ ڈرائیور کو کال کرکے بلا سکے مگر وہ جلدی میں اپنا فون گھر ہی بھول آئی تھی اب اسے پریشانی لاحق ہونے لگی وہ اپنے کمرے میں آئی اور اپنی الماری سے ایک سوٹ نکالا کیونکہ صفائی کرنے کی وجہ سے اس کا سوٹ پورا خراب ہوچکا تھا اس نے کپڑے چینج کیے اور دوپٹہ سیٹ کیے چادر کو شانوں کے گرد لپیٹے اس نے سارے دروازے اچھی طرح لاک کیے اور گھر کیلئے روانہ ہوئی
۔۔۔۔۔
ابھی وہ سڑک پر ہی پہنچی تھی تاکہ رکشہ لےکر گھر چلی جائے گی مگر موسم کی وجہ سے سڑک پوری ویران پڑی تھی “اب میں کیا کرو” وہ پریشانی میں پوری سڑک کو دیکھنے لگی اب ہلکی ہلکی بوندا بانڈی شروع ہوچکی تھی تبھی وہاں اس کے سامنے ایک گاڑی رکی
“ربانیہ” تیمور نے گاڑی کا شیشہ کھولے اسے پکارا
اس نے رب کا شکر ادا کیا کہ اس موسم میں کوئی تو اسے ملا
“تم یہاں کیا کررہی ہو”۔۔۔۔ وہ گاڑی سے نکلا اور اس سے پوچھنے لگا
“وہ میں گھر آئی تھی فون میں لانا بھول گئی اس لیے ڈرائیور نہیں آیا لینے “۔۔۔۔اس نے جلدی جلدی اسے سب بتایا
“اچھا چلو میں تمہیں ڈراپ کر دیتا ہو آئو جلدی”
تیمور کی بات سن کر اس نے اثبات میں سر ہلایا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی
اور تیمور نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی
“آپ مجھے اپنا فون دکھائیں میں پھپھو کو انفارم کردو وہ پریشان ہورہی ہونگی”۔۔۔۔
تیمور نے اسے اپنا فون دیا اس نے پھپھو کا نمبر ڈائل کیا مگر بارش کی وجہ سے سگنل نہیں مل رہے تھے
“کیا ہوا”۔۔۔۔۔ تیمور نے اس سے پوچھا
“سگنل نہیں ہے کوئی بات نہیں میں گھر جاکر انہیں انفارم کردو گی”۔۔۔۔
اس نے تیمور کو فون واپس کیا
اس کے بعد ان دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی
۔۔۔۔۔۔
بارش کی وجہ سے زایان جلدی گھر آگیا تھا اور آتے ہی اسے سلمی بیگم نے ربانیہ کا بتایا
“کیا ماما آپ نے اسے اکیلے کیو جانے دیا اتنی تیز بارش ہورہی ہے اور وقت دیکھا ہے آپ نے”۔۔۔۔ وہ پریشانی میں کہتا اس کا نمبر ڈائل کررہا تھا مگر سگنلز اشو کی وجہ سے وہ مسلسل بند جارہا تھا
“اچھا آپ پریشان مت ہو میں جاتا ہو اسے لینے”۔۔۔
وہ ان سے کہتا باہر نکلا
تبھی ربانیہ گیٹ سے اندر آئی اس کے کپڑے پورے گیلے تھے اسے گیڈ سے تیمور کی گاڑی نظر آئی اسے دیکھتے ہی وہ تیش میں آگیا
ربانیہ جب اندر آئی تو اس نے اسے کچھ نہیں کہا
“ربانیہ بیٹا تم ٹھیک تو ہو ناں”۔۔۔ سلمی بیگم اس کے پاس آکر پوچھنے لگی
“جی پھپھو میں اپنا موبائل بھول گئی تھی گھر پر اسی لیے کال نہیں کی “۔۔۔
وہ سلمی بیگم کو وضاحت دے ہی رہی تھی کہ زایان بولا
“پھر کس کے ساتھ آئی ہو”۔۔۔۔
ربانیہ اس کی نیچر سے اچھی طرح واقف تھی اگر وہ اسے تیمور کا بتاتی تو وہ یقینا کوئی نہ کوئی تماشہ ضرور کرتا
“وہ میں رکشے سے آئی ہوں”۔۔۔۔ ربانیہ کا اتنا کہنا تھا کہ زایان کا دماغ پھٹنے لگا
“کیا تم سوال پے سوال کیے جارہا دیکھ رہے ہو کہ وہ بارش میں آئی ہے جائو بیٹا چینج کرلو ورنہ تمہیں سردی لگ جائے گی”۔۔۔۔۔
سلمی بیگم نے اسے نرمی سے حدایت کی تو وہ اثبات میں سر ہلاتی اندر چلی گئی
۔۔۔۔۔
رات کے کھانے کے بعد جب وہ اپنے کمرے میں آئی تو زایان صوفے پر بیٹھا اسی کا انتظار کررہا تھا
“ادھر آئو”۔۔۔۔ وہ بیڈ پر سونے ہی جارہی تھی جب زایان کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی
وہ اس کے عین سامنے کھڑی ہوئی
“کس کے ساتھ آئی تھی تم”۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اترا خون ربانیہ صاف دیکھ سکتی تھی
ربانیہ کے ماتھے پر پسینے آنے لگے مگر خود کو نارمل کیے وہ بولی
“بتایا تھا کہ رکشے پر آئی ہوں”۔۔۔۔
اس کے بات سنتے ہی زایان کا چہرہ لال ہوگیا وہ صوفے سے اٹھا اور اس کے پاس آیا اس کے بالوں کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا
“جھوٹ بولتی ہو میرے سامنے خود دیکھا ہے میں تمہیں اپنے اس عاشق کا کار سے اترتے ہوئے کیا کررہی تھی تم اس کے ساتھ”۔۔۔۔
وہ دھاڑا
“بارش تھی تو کوئی رکشہ نہیں مل رہا تھا وہ مجھے سڑک پر مل گئے اسی لیے ان کے ساتھ آئی
پلیز چھوڑے مجھے درد ہورہا ہے”۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے اسے ساری وضاحت دینے لگی
اسے کھینچ کر اس نے زمین پر پھینکا
“اچھا تو تم کوئی آسمان سے اتری ہو جو وہ تمہاری مدد کو پہنچ گیا اور یہ تمہارے کپڑے کس نے چینج کیے ہاں جب میں صبح گیا تھا تب تو تم نے یہ ڈریس نہیں پہنا تھا”۔۔۔۔۔
ایک اور تماچہ جو لفظوں کی صورت میں اس کے منہ پر مارا گیا
“میں سچ کہ رہی ہو اور میں نے گھر کی صفائی کی تھی اسی لیے ڈریس چینج کیا تھا میرا یقین کرے ایسا کچھ بھی نہیں ہے”۔۔۔۔
وہ وہی گڑگراتی اسے اپنی صفائی دینے لگی
“تم دونوں ماں بیٹی ایک ہی خون ہو اس نے شوہر کے ہوتے ہوئے دوسرے مردو کو پھانسا اب تم بھی اس کے نقشے قدم پر چل پڑی ہو ناں ابھی تمہیں بتاتا ہو کہ مجھ سے جھوٹ بولنا تمہیں کتنا مہنگا پر گیا”۔۔۔
خونخار نظریں اس بےبس پر گاڑھے اس نے اپنی بیلٹ اتاری وہ آج خود پرستی کی انتہا ہر تھا
“میں سچ کہ رہی ہو میرا یقین کرے میں نے کچھ نہیں کیا”۔۔۔ وہ پیچھے کھسک رہی تھی مگر زایان پر حیوان طاری ہوگیا
وہ اس کی طرف بڑھا اور اس کی ایک درد ناک چیخ فضا میں گونجی
وہ اسے پےدرپے مرتا رہا اور وہ روتی گڑگراتی اس سے رحم کی بھیک مانگنے لگی
ان کا کمرہ اوپر تھا اور باہر بارش کی وجہ سے اس کی چیخیں کسی کو سنائی نہیں دے رہی تھی
جب اسے مار کر وہ تھکا بیلٹ وہی پھینک کر وہ کمرے سے چلا گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
وہ روتی درد سے تڑپتی وہی زمین پر سو گئی جب زایان واپس آیا تو اس کے سوتے وجود پر ایک حقارت بھری نظر ڈالے وہ بیڈ پر سونے کیلئے لیٹ گیا
صبح جب وہ اٹھی تو اسے اپنے جسم میں درد محسوس ہونے لگا اس کے کپڑوں پر ہلکے ہلکے خون کے داغ پڑ چکے تھے اس سے اپنا جسم نہیں اٹھایا جارہا تھا وہ ہمت کرتی اٹھی اور سامنے اور بیڈ پر اس شخص کو دیکھا جو اس بے گناہ کو سزا دے کر اتنے آرام سے سو رہا تھا وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئی اب وہ ڈھیٹ بن چکی تھی اسے اس سب کی عادت ہوچکی تھی وہ مارتا ظلم کرتا اس کی بےبسی کا مذاق بناتا اور وہ سب کو نارمل شو کرتی وہ چینج کرکے باہر آئی اور ناشتہ بنانے روم سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
آج ایمن آنے والی تھی آج پھپھو نے اسے کہا تھا کہ وہ اس کا کمرہ دوپہر میں سیٹ کرادے
صبح سے اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی سب کا ناشتہ بنانے کے بعد اس نے خود ناشتہ نہی کہا اور فریدہ سے کہا کہ کہ وہ باہر سب کو ناشتہ دےدے وہ اپنے کمرے میں آرام کرنے جارہی ہے۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے میں آئی تو اسے متلی شروع ہوگئی
وہ جلدی سے واشروم کی طرف بھاگی
۔۔۔
“ربانیہ کہا ہے فریدہ”۔۔ فریدہ ڈائننگ ٹیبل پر سب کا ناشتہ لگا رہی تھی تب سلمی بیگم نے اس سے پوچھا اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر رایان اور زایان بھی موجود تھے اور حسان صبح سات بجے سکول چلا گیا تھا
“پتا نہیں بیگم صاحبہ وہ کہ رہی تھی ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے” اور وہ اپنے کمرے میں آرام کرے گی
” یہ کیا بات ہوئی ناشتہ نہیں کرے گی جائو بلا کر لائوں اسے کہو کہ میں نے بلایا ہے “۔۔۔۔۔
سلمی بیگم کی بات پر فریدہ نے اثبات میں سر ہلایا اور اس کے کمرے کی طرف چلی گئی
۔۔۔۔
فریدہ نے دروازہ ناک کیا اور روم میں آئی تو ربانیہ وہاں نہیں تھی اسے واشروم سے پانی کہ آواز آئی
“ربانیہ بی بی کہا ہے آپ”۔۔۔
ربانیہ اس کی آواز سن کر باہر آئی اور آکر بیڈ پر بیٹھ گئی
ربانیہ کا چہرہ پورا پیلا پڑ چکا تھا “کیا ہوا بی بی سب ٹھیک تو ہے”۔۔ ربانیہ کی حالت دیکھ کر وہ بولی
“پتا نہیں کل رات سے طبیعت ٹھیک نہیں ہے رات سے ہی چکر آرہے ہیں اور صبح سے متلی نے تنگ کرکے رکھا”۔۔۔۔ یہ کہنے کی دیر تھی اسے دوبارہ متلی آئی اور وہ منہ پر ہاتھ رکھے واشروم میں بھاگ گئی
اس کی بات سن کر فریدہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور وہ نیچے چلی آئی
۔۔۔
زایان آفس جا چکا تھا ٹیبل پر صرف رایان اور سلمی بیگم ہی بیٹھے ہوئے تھے
“بیگم صاحبہ بیگم صاحبہ خوشخبری ہے”۔۔
وہ چہکتی ہوئی نیچے آئی اور زور زور سے سب کو بتانے لگی
“خدا کو مانو فریدہ تمہارا منہ ہو اور اس میں سے خوشخبری نکلے امپوسیبل”۔۔۔ رایان نے اسے شرارتا کہا اس کی بات سن کر فریدہ اسے گھورنے لگی
“کیا ہوا فریدہ بتائو”۔۔۔ سلمی بیگم نے اس سے پوچھا
“پہلے بیگم صاحبہ وعدہ کرے میری بات سچ نکلی تو مجھے دو جوڑے دے گی آپ”۔۔۔
فریدہ نے اپنی شرط سامنے رکھی
“اچھا بھئی وعدہ اب بتائو کیا بات ہے”
“بیگم صاحبہ آپ دادی بننے والی ہیں اس گھر میں ننھا مہمان آنے والا ہے”۔۔۔۔۔
فریدہ کی بات سن کر سلمی بیگم اور رایان اسے حیرت سے دیکھنے لگے
“کیا تم سچ کہ رہی ہو”۔۔۔ سلمی بیگم بے یقینی سے پوچھنے لگی
“ہا مجھے سو فیصد یقین ہے ربانیہ بی بی اپنے کمرے میں متلیاں کررہی ہیں اور انہیں کل رات سے چکر آرہے ہیں تو مطلب صاف ہے”۔۔۔
اس نے جیسے ہی ساری بات بتائی سلمی بیگم تو خوشی سے چہک اٹھی
رایان بھی حیران تھا
“فریدہ تیرے منہ میں گھی شکر اگر یہ بات سچ نکلی تو تجھے تین جوڑے دونگی “۔۔۔۔
ان کے چہرے پر خوشی صاف عیاں تھی
“میں ذرا ربانیہ کو دیکھ کر آئو اور رایان تم کہیں جانا نہیں ہو سکتا ہے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے”۔۔۔۔
رایان نے اثبات میں سر ہلایا وہ کہتے ہی اس کے کمرے کی طرف چلی گئی
“دیکھ لے چھوٹے صاحب منہ بھی میرا اور خوشخبری بھی میں نے سنائی ہیں”۔۔۔۔ فریدہ نے مغرور انداز میں رایان سے کہا
۔۔۔۔۔