Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

وہ بک میں سر دیے بیٹھی تھی جب اس کے موبائل پر رنگ ہوئی بیزاری سے فون اٹھایا اور دیکھے نام دیکھے بغیر یس کردیا
ہلو کون۔۔۔۔۔
فون اٹھائے ہی اس نے کیا
جبکہ دوسری طرف بیڈ پر لیٹے رایان کو حیرت ہوئی
تمہارا ہونے والا سب کچھ۔۔۔۔
دانت نکالے وہ بولا
اوہ تم ہو بولو کیا کام ہے ۔۔۔۔
کافی لاپرواہی سے جواب آیا
کیو مجھے کوئی کام ہوگا تبھی تمہیں کال کرو گا
آج مقابل کی خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ تھی
نہیں میں پڑھ رہی تھی تم بتائو کوئی ضروری بات ہے ورنہ میں فری ہوکر کال کرتی ہو ۔۔۔۔
ہاں بات تو ضروری ہے ۔۔۔
کیا بات ہے جلدی بتائو ۔۔۔۔
وہ اس کی باتوں سے بور ہورہی تھی
میں نے سب کو بتا دیا ہے کہ اب مجھے شادی کرنی ہے۔۔۔۔۔
جتنی آسانی سے اس نے بات کہی اتنا بڑا جھٹکا آغوش کو لگا
کیا مطلب ۔۔۔ وہ سمجھ نہ پائی
میں نے بتا دیا ہے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہو ۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔ وہ چونک کر بیڈ پر کھڑی ہوگئی
تم نے بتا دیا کیو سب لوگ کیا سوچ رہے ہونگے میرے بارے میں ۔۔۔۔
وہ تو سر پکڑے بیٹھ گئی
وہ بھی اس کے جواب پر اٹھ بیٹھا
کیا مطلب کیا سوچ رہے ہوگے یہی سوچ رہے ہوگے کہ ان کا بیٹا سمجھ دار ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔
ارے بدھو وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہے ہونگے کہ میں کیسی لڑکی ہو۔۔۔۔
وہ تقریبا رو دینے کو تھی
اوہووو یار میں نے انہیں بتایا ہے کہ مجھے تم پسند ہو وہ لوگ میرا رشتہ لے کر تمہارے گھر آئے یہ نہیں کہ میں اور تم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس کے کہتے ہی آغوش نے لمبا سانس لیا
اچھا پھر سب نے کیا کہا۔۔۔۔
اس نے پوچھا
ابھی تک تو کچھ نہیں کہا مگر ہوسکتا ہے اب وہ تمہارے گھر آئے۔۔۔۔
اس کی محبت بھری آواز اس کے کانوں میں رس گھول رہی تھی
وہ تو بلش کرنے لگی
اچھا جی۔۔۔۔
ہاں جی
ترکی با ترکی جواب آیا
۔۔۔۔۔۔۔
فرحین آج ایک الگ ہی کانفیڈنس سے زایان کے آفس میں داخل ہوئی
دو ہفتے پہلے ہی اس نے نعمان سے خلع لی تھی اب وہ زایان کے پیسوں پر عیش کی زندگی گزار رہی تھی
وہ بغیر اجازت اس کے کیبن میں داخل ہوئی
وہ لیپ ٹاپ پر کچھ میلز سینڈ کررہا تھا جب فرحین کی ہائی ہیلز کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
تم یہاں۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہی زایان نے پوچھا
ہاں
۔۔۔۔شاطرانہ مسکراتی ہوئی وہ اس کے سامنے بیٹھ گئی
بولو کیا کام ہے۔۔۔۔ دوبارہ لیپ ٹاپ پر جھک کر اس نے پوچھا
وہ کیا ہے با بےبی تم تو جانتے ہو کہ نعمان نے مجھے طلاق دے دی ہے تو اب تم مجھ سے۔۔۔۔
کیا تم مجھ سے۔۔۔۔ اس کے عجیب بیہیویر پر زایان نے سر اٹھا کر پوچھا
وہ آٹھ کر اس کی پشت کی طرف آئی اور دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ دیے
تم مجھ سے شادی کررہے ہو۔۔۔۔۔
اس کی گردن میں بازو حائل کرتے وہ بولی
زایان نے اریٹیٹ ہوکر اپنی گردن سے اس کے دونوں بازو ہٹائے اور کھڑا ہوگیا
آر یو آئوٹ آف یور سنسز ۔۔۔۔
اس کی طرف رخ کیے وہ غصے سے بولا
یس آئی ایم آئوٹ آف مائی سنسز تمہاری محبت نے پاگل کردیا ہے مجھے ہم دونوں تو ایک دوسرے سے کتنی محبت کرتے تھے تم ہی کہتے تھے کہ تمہاری اصل بیوی میں ہونگی تم اسے نکال دو گے پھر ہمارے درمیان ربانیہ کہا سے آگئی۔۔۔۔
وہ زایان کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیے دیوانوں کی طرح بولی
ربانیہ کا نام بھی مت لینا اپنی زبان سے اور کون سی محبت کی بات کررہی ہو وہ محبت نہیں صرف ضرورت تھی میری بھی اور تمہاری تھی جو اب ختم ہوگئی ہے ۔۔۔۔۔
وہ اس کے ہاتھوں کو جھٹکے سنگین لہجے میں اس سے بولا
تو تم نے مجھے صرف اپنے مطلب کیلئے استعمال کیا میں تمہارے لیے صرف ایک کھلونا تھی جسے تم نے خوب کھیلا اور جب تمہارا دل بھر گیا تو تم نے اسے بے مول سمجھ کر دور پھینک دیا ۔۔۔۔۔
وہ اس کا گریبان پکڑے چیخنے لگی
آواز نیچی رکھو اپنی یہ تمہارا گھر نہیں ہے میرا آفس ہے اور کیا ہا اگر میں نے تمہیں استعمال کیا تو تم نے مجھے کیو نہیں روکا تم اپنے نفس پر قابو کیو نہیں رکھ سکی میں ایک آواز دیتا تھا تو تم دس بار چلی آتی تھی۔۔۔۔۔
زایان نے اسے خونخار آنکھیں دکھاتے ہوئے وارن کیا
اور ربانیہ اس کے ساتھ جو تم کرتے رہے وہ
اسے بھی ضرورت کا نام دو گے تم ۔۔۔۔۔
وہ اس کے ضبط کو آزمانے لگی
وہ میری بیوی ہے اس کیلئے اپنے منہ سے ایک لفظ مت نکالنا وہ تمہارے جیسی نہیں ہے اگر وہ میری ضرورت ہوتی تو اس سے کبھی شادی نہیں کرتا میں تمہاری طرح اس کے ساتھ بھی میں جو چاہتا کرسکتا اور کئی بار میرے اس ذہن میں یہ خیال آیا بھی مگر اس کی معصومیت اس کی پاکیزگی نے کبھی بھی میرے ذہن کو مائوف نہیں ہونے دیا ۔۔۔۔
تم نے تم اپنے ان کپڑوں اپنی ڈریسنگ سے میرے دماغ کو سن کردیا تھا بہک گیا تھا میں مگر ربانیہ کے آتے ہی وہ سارے جذبات وہ سب کچھ ختم ہوگیا ۔۔۔۔۔
اچھا اور اگر میں اسے تمہارے اور اپنے ہر تعلق کے بارے میں بتا دو تو وہ سارے فوٹو گرافس وہ ڈی وی ڈی اس سب کے بعد تو وہ تم جیسے دوغلے انسان کے ساتھ کبھی نہیں رہے گی۔۔۔۔۔
وہ اس کا چہرہ تھپتھپاتی اسے وارن کرنے لگی
یہ سنتے ہی زایان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی جو فرحین کو آگ لگا گئی
وہ سب جانتی ہے میں اسے پہلے ہی سب کچھ بتا چکا ہو وہ تمہارے منہ پر وہ ساری فوٹوگرافز مارے گی بے بی سو ٹرائے کرکے دیکھ لو ۔۔۔۔
وہ اب فرحین کا چہرے پر انگلیاں پھیرنے لگا
اور اگر ربانیہ کے کرتوت میں تمہارے سارے کھول دو تو بقول تمہارے اس کی معصومیت اس کی پاکیزگی نے کبھی تمہارے ذہن کو مائوف نہیں ہونے دیا اگر وہی معصومیت وہی پاکیزگی تمہارے منہ پر بدنامی کے چھینٹے پھینک دے تو۔۔۔۔۔
وہ اب دل جلا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ زایان کو دیکھتی اسے بتانے لگی جبکہ زایان کے دماغ کے رگیں اب غصے سے واضح ہونے لگی
کیا بکواس کررہی ہو۔۔۔۔
ویٹ آ سیکنڈ وہ۔۔۔۔ اسے انگلی سے اشارہ کرتی اپنا پرس سے اپنا سیل فون اٹھا کر لائی
اور اسے زایان کے سامنے کیا
دیکھو کیا کرتی پھر رہی ہے وہ تمہارے ناک کے نیچے ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا موبائل اس کے آگے کرتی اسے کچھ فوٹو گرافس دکھانے لگی
زایان نے ان فوٹو گرافس کو دیکھا جس میں ربانیہ تیمور کا ہاتھ پکڑے آئس کریم پارلر میں کھڑی تھی اور وہ اسے سہارا دیے کھڑا تھا وہ پکچر لی ہی ایسے گئی کہ کوئی بھی انہیں دیکھ کر شک میں مبتلا ہوسکتا تھا
یہ کچھ دنوں پہلے کی ہی فوٹو گرافس ہیں جس میں صاف صاف دکھ رہی ہے اس کی پریگننسی ۔۔۔۔۔
وہ مزید موبائل اس کے سامنے کرتی اس دکھانے لگی
زایان نے اس کا موبائل اس کے ہاتھوں سے لیا اور اپنا کوٹ سنبھالے وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
وہ گھر میں کسی بھونچال کی طرح داخل ہوا
فریدہ حال کی صفائی کررہی تھی
ربانیہ کہا ہے۔
اس نے روکھے لہجے میں فریدہ سے پوچھا
جی صاحب وہ تو ۔۔۔۔۔
فریدہ اس کا غصے بھرا چہرہ دیکھ کر کچھ بول ہی نہ پائی
کیا وہ تو زبان نہیں ہے منہ میں ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے کاٹ دار لہجے میں بولا
وہ جی اپنے مامو کے گھر گئی تھی صبح شام کو آنے کا کہ کر گئی تھی۔۔۔۔۔
فریدہ نے اسے جیسے ہی بتایا اس کے غصے میں شدت آئی
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔
آپ پریشان مت ہو سب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔۔
وہ سیرت کے ساتھ حال میں بیٹھی اسے تسلی دے رہی تھی کچھ دنوں پہلے ہی اسے پتا چلا تھا کہ وہ ایکسپکٹ کررہی ہے مگر ڈاکٹر نے اس کی پریگننسی میں کومپلیکیشنز کا بتایا تھا جس کی وجہ سے وہ اور تیمور بچہ ابوٹ کرنے کا سوچ رہے تھے وہ اسی بات کو لے کر بہت پریشان تھی جب اسے اور تیمور کو پتا چلا تھا کہ وہ دونوں ماں باپ بننے والے ہیں تو تیمور کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا وہ بہت خوش تھا اور جب انہیں اس سب کا پتا چلا تھا تو تیمور کافی چپ چپ رہنے لگا تھا نہ کسی سے زیادہ بات کرتا تھا نہ ہی گھر پر رہتا تھا
سیرت اسی وجہ سے بہت پریشان تھی اور ربانیہ کو بلایا تھا
مگر ربانیہ تیمور کے رویے میں کافی تبدیلی آگئی ہیں وہ صبح ناشتہ بھی نہیں کرتے اور رات کو دیر سے آتے ہیں اب تو وہ منہل کو بھی ٹائم نہیں دیتے۔۔۔۔۔
وہ مایوس ہوکر اسے بتانے لگی
مگر جب دو ہفتے پہلے میں آئی تھی تب تو سب ٹھیک تھا ہم سب نے کتنا انجوائے کیا تھا اور تیمور بھائی نے تو خود ہمیں آئسکریم کی ٹریٹ دی تھی پھر اچانک ان کا یہ رویہ
وہ دو ہفتے پہلے جب آئی تھی تو منہل کا رزلٹ تھا اور وہ فرسٹ آئی تھی جس کی وجہ سے تیمور انہیں آئسکریم کھلانے لے کر گیا تھا
ہاں تب ہمیں ان کومپلیکیشنز کا نہیں پتا تھا اور ڈاکٹر کہ رہی ہے کہ منہل کے بعد کچھ ایشوز ہوئے ہیں جس کی وجہ سے یہ سب کومپلیکیشنز آرہی ہیں اور فلحال دو ماہ ہمیں ویٹ کرنا ہوگا ہوسکتا ہے میڈیسنز سے کچھ بات بن جائے ۔۔۔۔۔
وہ دکھی لہجے میں ایک ایک بات ربانیہ کو بتا رہی تھی
تو پھر آپ مایوس کیو ہو رہی ہیں ہو سکتا ہے دو ماہ بعد سب ٹھیک ہوجائے آپ اللہ پر بھروسہ رکھے اب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔۔۔
وہ اس کے ہاتھوں کا سہلاتی اسے تسلی دینے لگی
۔۔۔۔
وہ ابھی ڈرائیور کے ساتھ گھر پہنچی تھی
صبح اس کا جانے کا کوئی اردہ نہیں تھا مگر سیرت کی ارجنٹ کال پر اسے جانا پڑا زایان کو دو تین بار کال بھی کی مگر اس کا فون بزی جارہا تھا اسی لیے وہ سلمی بیگم کو بتا کر چلی گئی تھی
وہ نیچے زایان کی گاڑی دیکھ چکی تھی اسے ٹینشن ہونے لگی کیونکہ وہ اسے بغیر بتائے آئی تھی زایان نے اسے کہا تھا کہ جب بھی وہ گھر پر ہو وہ ہمیشہ اس کی آنکھوں کے سامنے رہے اسے لیے وہ جلدی جلدی کمرے میں آئی
کمرے میں آئی تو پورا کمرہ گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اس نے لائٹ آن کی تو سامنے زایان بیڈ پر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھے لیٹا ہوا تھا
اسے لگا شاید وہ سو گیا تھا اسی لیے وہ چینج کرنے چلی گئی
وہ چینج کرکے واپس آئی تو بیڈ کی دوسری سائڈ پر بیٹھ گئی
اسے حیرانی ہوئی کہ زایان پہلے تو اتنی جلدی آفس سے آتا ہی نہیں تھا اور آگیا تھا تو اسے کال کیو نہیں کی کہ وہ کہا ہے
یہی سوچتے ہوئے وہ زایان کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی
مگر اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب زایان نے اس کی کلائی کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں دبوچ لیا اور اٹھا
کہا گئی تھی تم ۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے زایان نے پوچھا جبکہ ابھی بھی اس کی کلائی زایان کے ہاتھ میں اس طرح جکڑی ہوئی تھی کہ اسے لگا اس کی ہڈیاں ٹوٹ جائے گی
مامو کے گھر گئی تھی ہاتھ چھوڑے میرا درد ہورہا ہے ۔۔۔ ۔
وہ حیرت سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنی کلائی چھڑانے لگی
کیو گئی تھی تم وہاں ۔۔۔۔۔۔
ایک اور سوال جو زایان کی آنکھوں میں جنونیت واضح کررہا تھا
زایان کیا ہوگیا ہے ہاتھ تو چھوڑے میرا بتاتی ہو میں ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کا رویہ سمجھنے سے قاصر تھی زایان نے بے دردی سے اس کی کلائی جھٹکی
وہ اپنی کلائی کو اپنے ہاتھوں میں لیے دیکھنے لگی جو اب بری طرح سرخ ہوچکی تھی
کیا ہوا ہے اتنا غصہ کیو کررہے ہیں کوئی بات ہوئی بتائے مجھے۔۔۔۔۔
وہ اپنی کلائی کی پرواہ کیے بغیر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیے پوچھنے لگی
میں نے تم سے جتنا پوچھا ہے اتنا بتائو ۔۔۔۔۔
اب کی بار زایان نے اس کی تھوڑی پکڑی
میں منہل سے ملنے گئی تھی آپ جانتے تو ہیں میں وہاں اس کیلئے جاتی ہو ۔۔۔۔۔۔
اس کی تھوڑی زایان نے اتنی زور سے پکڑی تھی کہ وہ بول بھی نہیں پارہی تھی
منہل سے ملنے گئی تھی یہ اس کے باپ سے ملنے گئی تھی ۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں کھولتا خون ربانیہ واضح دیکھ سکتی تھی
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا آپ شک کررہے ہیں مجھ ہے ۔۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں حیرت سے دیکھتے پوچھنے لگی
شک نہیں کررہا ہو پوچھ رہا ہو کہ منہل کے باپ سے ملنے گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کی تھوڑی چھوڑے بیڈ سے اٹھا اور اس کے گرد چکر کاٹنے لگا
آپ کو شرم نہیں آتی مجھ پر ایسا گھٹیا بات کرتے ہوئے۔۔۔۔۔
وہ وہی بیٹھی روتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
اچھا مجھے شرم نہیں آتی ۔۔۔۔۔
زایان نے ڈریسر پر رکھا فرحین کا موبائل اٹھایا اور وہ فوٹو نکال کر اس کے آگے کی
یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔
فوٹو دیکھتے ہی اسے وہ دن یاد آیا جب وہ سب آئسکریم کھانے گئے تھے
وہ واشروم سے واپس آرہی تھی کہ اسے چکر آیا اور تیمور نے اسے سنبھالا تھا
مگر اگلے ہی پل اس نے زایان کی کو شکوہ کن نظروں سے دیکھا
جب آپ نے سب کچھ دیکھ ہی لیا تو مجھ سے کیا پوچھ رہے ہیں یہی سچ ہے ۔۔۔۔۔
وہ اس سے نظریں چراتی بولی
زایان نے یہ سنتے ہی اسے بیڈ سے اٹھا کر دھکہ دیا کہ وہ پیٹ ہے بل نیچے جا گری اور ایک درد ناک چیخ اس کے حلق سے نکلی
ربانیہ۔۔۔۔ وہ نیند کے خمار سے شاک کیفیت میں اٹھا
کیا ہوا ۔۔۔۔۔
ربانیہ جو اس کے ساتھ بیٹھی اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھر رہی تھی اس کی اس حرکت پر ڈر گئ اور اس سے پوچھنے لگی
یہ احساس ہوتے ہی کہ یہ ایک خواب تھا اس نے اپنے چہرے کو صاف کیا جو پسینے سے گیلا ہوچکا تھا
کوئی برا خواب دیکھا ہے آپ نے ۔۔۔۔۔
وہ اس کی طرف پریشانی سے دیکھنے لگی
ہاں بہت برا خواب دیکھا ۔۔۔۔
خیر تم کب آئی
اپنے آپ کو نارمل کیے اس نے پوچھا
ایک گھنٹے سے آپ کے جاگنے کا انتظار کررہی ہو مگر جب میں آئی نیچے کوئی بھی نہیں تھا آپی کا کمرہ بھی خالی ہے کہیں گئے ہیں کیا سب
اچھا مجھے نہیں پتا جب میں آیا تھا تب بھی کوئی نہیں تھا ویسے بھی ڈنر کا ٹائم ہورہا ہے چلو وہی دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ اٹھا تو وہ بھی اسی کے ساتھ آٹھ کھڑی ہوئی
۔۔۔۔۔
وہ لوگ نیچے آئے تو نیچے کا منظر دیکھ کر حیران ہوگئے جگہ جگہ بلونز لگے ہوئے تھے اور ڈائننگ ٹیبل پر کیک اور باقی چیزیں دیکھ کر وہ دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے جیسے سمجھنے کی کوشش کررہے ہوں
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے ٹو ہو
ہیپی برتھ ڈے ڈیئر زایان
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ایمن اور رایان کچن سے نکل کر زور زور سے یہ گیت گانے لگے رایان نے زایان پر جھٹکے سے سنو سپرے کردیا کہ اس کے سارے بال سنو سپرے سے بھر گئے
فیصل اور سلمی بیگم نے بھی اسے مبارک باد دی
ہیپی برتھ ڈے۔۔۔۔ سب کے بعد ربانیہ نے اسے مسکراتے ہوئے وش کیا
تھینکیو مائی لائف اس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا
چلے چلے اب کیک کاٹے ۔۔۔۔۔
رایان نے اسے کیک کے آگے کھڑا کیا
اس نے کیک کاٹا رایان نے سکوپرز پھوڑے
سب کو کیک کھلانے کے بعد وہ لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے تھے
بھئ ایمن اپنے بھائی کو وہ گفٹ تو دو جس کا تین مہینے سے تم ویٹ کررہی تھی ۔۔۔۔۔
فیصل نے اپنے ساتھ بیٹھی ایمن سے کہا
ہاں بلکل ۔۔۔۔۔
وہ اٹھی تو زایان اور ربانیہ اسے ہی دیکھنے لگے
اہمممم اہمممم اس نے گلا کھنگارا
تو میرے پیارے بھائی اور بھابھی آپ کو بہت بہت مبارک ہو کیونکہ آپ دونوں ایک نہیں بلکہ دو دو چنو منو کے پیرنٹس بننے والے ہیں
ایمن نے کھلے عام اعلان کیا
تو سب لوگ انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے
مگر تمہیں کیسے پتا چلا ۔۔۔۔
زایان نے اس سے پوچھا
بھئ جب ربانیہ کا تھرڈ منتھ سٹارٹ ہوا تھا تو آئلہ نے مجھے کال کرکے بتایا تھا کہ ٹووینز ہیں مگر میں نے سوچا کہ کیو نہ یہ سرپرائز آپ کے برتھ ڈے پر آپ کو دے دیا جائے اسی لیے میں نے آئلہ کو منع کردیا تھا کہ وہ آپ کو کچھ نہ بتائے
تاکہ آپ کو ایک ساتھ بڑا جھٹکا لگے اور کچھ دن پہلے وہ میڈم اپنے آپ کو کنٹرول نہ کر پائی اور آپ کو سسپنس میں چھوڑ دیا
اور اس نے کچھ دن پہلے یہ بھی بتایا ہے کہ دونوں بے بی بوائز ہیں ۔۔۔۔
اس نے کسی سخی کی طرح ساری بات انہیں بتائی وہ دونوں تو پورا منہ کھولے انہیں سنتے رہے وہ تو انہیں سر پرائز کرنا چاہتے تھے مگر انھوں نے تو ان کے سر پر بم پھوڑا تھا
یہ تم لوگو نے اچھا نہیں کیا ایسا بھی کوئی کرتا ہے کسی کے ساتھ ۔۔۔۔۔
زایان نے ایمن سے شکوہ کرتے ہوئے کہا
کسی کے ساتھ نہیں اپنے بھائی کے ساتھ کیا ہے یہ مذاق ۔۔۔۔
فیصل نے اسے آنکھ دبا کر کہا
بہت ہی کوئی کمینے ہو تم لوگ