Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

وہ آفس سے گھر آیا تو بہت تھکا ہوا تھا ایک دن کی بجائے آج وہ دودن کا کام ختم کرکے آیا تھا کیونکہ اس کا ارادہ تھا کہ کل وہ ربانیہ کو ڈاکٹر کے پاس لے جائے گا وہ حال میں آیا تو اسے کوئی بھی نظر نہ آیا وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا ا
وہ کمرے کی آیا تو ربانیہ وہاں نہیں تھی اس نے اپنا کوٹ اتار کر بیڈ پر رکھا اور اپنے شوز بھی اتار کر وہی پھینک دیے اور ڈریسنگ روم کی چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
ربانیہ کے آنے کے بعد اس کی روٹین میں کافی چینجز آئے تھے پہلے وہ اپنا ہر کام خود کرتا تھا کسی کو اجازت نہیں تھی کہ کوئی اس کے کمرے میں آئے مگر جب سے وہ آئی تھی اس کا ہر چھوٹا بڑا کام وہ خود کرتی تھی بس اسے یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ اس کی الماری کھولے یہ اس صبح اس کے کپڑے نکالے
وہ چینج کرکے واپس آیا تو اپنے بیڈ پر لیٹ گیا اس کے سر میں شدید درد ہورہا ہے تھا چائے تو وہ پیتا نہیں تھا جب بھی اس کے سر میں درد ہوتا وہ سلمی بیگم سے آئلنگ کرا لیتا اسی لیے وہ نیچے آیا اور فریدہ کو آواز لگائی تاکہ وہ سلمی بیگم کو بلوا سکے مگر کافی دیر ہوگئی وہ نہ آئی
اس نے پھر آواز لگائی ربانیہ کچن میں اپنے لیے چائے بنا رہی تھی سلمی بیگم ایمن کے ساتھ اپنی کسی دوست کے گھر گئی تھی اور حسان سو چکا تھا رایان بھی اپنے دوستوں کی طرف تھا اور “فریدہ آج جلدی چلی گئی تھی”
پہلی بار کی آواز تو اس نے نہیں سنی مگر دوسری بار کی آواز ذرا تیز تھی اس لیئے وہ باہر آئی
“فریدہ جاچکی ہیں”
اس نے پیچھے سے کہا
ربانیہ کی آواز سن کر وہ اس نے پیچھے دیکھا
“ماما کہاں ہے انہیں بلا کر لائو”
اس نے اپنا سر صوفے سے ٹیک لگایا اور ربانیہ سے کہا
“پھپھو آپی کے ساتھ اپنی دوست کے گھر گئی ہیں”
اس نے اتنا کہا اور وہ دوبارہ کچن میں چلی گئی
کچھ دیر وہ وہی سر پکڑے بیٹھا رہا اور لیٹ گیا اچانک فرحین دندناتی ہوئی ان کے گھر میں انٹر ہوئی اور اسے صوفے پر آنکھیں بند کیے لیٹے دیکھا وہ اس کے پاس آئی
زایان ……اس نے اسے پکارا
وہ اس کی آواز پر اٹھا اور اسے حیرت سے دیکھنے لگا
“تم یہاں کیا کررہی ہوں”۔۔۔۔ وہ حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا
“تم مجھ سے ناراض ہو نہ میں سوری کرنے آئی ہوں”۔۔۔۔۔ وہ اس سے کہتی اسی کے ساتھ بیٹھ گئی
زایان کو اس پر بہت غصہ آیا اس کے دماغ کی رگیں واضح ہونے لگی
“نہیں ہو میں تم سے ناراض یہاں سے جائو ابھی”۔۔۔۔
“کیو جائوں میں ہاں میں آج آنٹی کو بتانے آئی ہوں کہ تمہارا اور میرا کیا تعلق ہے دفعہ کرے اس مڈل کلاس کو اور دیکھنا پھر وہ تمہاری اور میری شادی کیلئے خود ہی مان جائے گیں”۔۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اس سے کہنے لگی
تمہارا دماغ ٹھیک ہے کیا بک رہی ہوں دیکھو میں خود ماما سے بات کرونگا مگر صحیح وقت آنے پر تب تک ریلکس کرو اور جائو یہاں سے”۔۔۔۔۔
وہ گھر ریلکس ہونے آیا تھا اسے ذرا بھی امید نہ تھی کہ فرحین یہاں بھی آجائے گی اور اس سے یہ سب کہ گی
“نہیں جائو گی میں آج میں آنٹی سے بات کرکے رہوں گی”۔۔۔۔۔۔
وہ اسے غصے سے کہتی سلمی بیگم کے کمرے کی طرف جانے لگی زایان اس کے پیچھے بھاگا اور اس کا ہاتھ پکڑا
“دیکھو ابھی ماما گھر پر نہیں ہے جب وہ آئے گی میں خود ان سے بات کرونگا مگر ابھی میری بات سمجھو گھر پر کوئی نہیں ہے تم ابھی جائو”۔۔۔۔۔
وہ اسے شانوں سے تھامے سمجھانے لگا
“اور تمہاری وہ بیوی اور بچہ اس کا کیا ہوگا”
وہ آنکھیں سیکڑے زایان سے پوچھنے لگی
” جب میں اسے بیوی مانتا ہی نہیں تو وہ یہاں کیو رہے گی اور رہا سوال بچے کا تو وہ میرا بچہ ہے ایک بار ڈلیوری ہوجائے میں اس سے بچہ لےکر نکال دونگا اسے ہمیشہ کیلئے اور پھر صرف ہم دونوں ہونگے صرف ہماری لائف بس”۔۔۔۔۔
وہ یہ سب اتنی آسانی سے کہ رہا تھا اس نے یہ بھی نہ دیکھا کہ پیچھے کھڑی ربانیہ سب ان رہی ہے
فرحین نے زایان کو گلے لگایا
“میں جانتی تھی کہ تم کبھی مجھے چھوڑ ہی نہیں سکتے تم صرف میرے ہوں”۔۔۔۔۔
اس کی آواز میں صرف خوشی تھی جو ربانیہ کو اندر سے کاٹ رہی تھی
“چلو روم میں چلتے ہیں باقی باتیں وہی کرنا”۔۔۔ زایان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے روم میں لے گیا
۔۔۔۔۔
ربانیہ کو یقین نہیں ہورہا تھا کہ وہ شخص اتنا بھی گر سکتا ہے اس سے اس کا بچہ چھین لے گا اس پر بدکرداری کا داغ لگادیا اور خود وہ خود کیا کرہا ہے اگر اسے فرحین سے ہی پیار تھا اسے اپنی زندگی مانتا تھا تو ربانیہ کی زندگی کیو برباد کی
یہ سارے سوال اس کے دل کو چھلنی کرگئے تھے
وہ حال میں بیٹھی یہ سب سوچ کر رورہی تھی کہ فرحین اور زایان نیچے آئے اس نے فرحین کو شانوں سے تھاما ہوا تھا اور وہ اس سے قہقہے لگائے باتیں کررہی تھی
اس نے جلدی سے اپنے آنسوں صاف کیے کیونکہ وہ زایان کے سامنے خود کو بے بس ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
ان دونوں نے اسے دیکھا جو انہیں نظر انداز کیے سامنے دیکھ رہی تھی
“زایان تمہیں نہیں لگتا کہ اب اس گھر سے ایکسٹرا لوگوں کو نکال دینا چاہیے”۔۔۔۔۔
وہ ربانیہ کو دیکھتے ہوئے زایان کو بولی
زایان نے اسے آنکھوں سے ہی چپ رہنے کا اشارہ کیا
کیونکہ فرحین اسے دیکھ چکی تھی کہ وہ ان کی ساری باتیں سن رہی ہیں
چلو خیر اب مجھے جانا چاہیے “وہ اسے گلے لگی اور چلی گئی
غیروں کو بھی کرتے ہو محبت سے اشارے
کیا اتنی کافی نہیں توہین ہماری💔💔
:میرے لیے کافی بنا کر روم میں لے کر آئو”۔۔۔۔
فرحین کے جانے کے بعد اس نے ربانیہ سے کہا جس کا چہرہ دوسری طرف تھا
وہ جانے لگا
“جب آپ کی ہونے والی بیوی آئی ہوئی تھی تو اس سے کہتے مجھ سے کیو کہ رہے ہیں”۔۔۔۔۔۔
اسے جاتا دیکھ ربانیہ بولی
اس کے بات سن کر وہ رکا
“چلو تمہیں پتا چل گیا کہ وہ کون ہے اور کیو آئی تھی مجھے زیادہ ایکسپلین نہیں کرنا پڑا خیر کافی روم میں لے آنا”۔۔۔۔۔
وہ ریلکس اسے کہتا ہوا روم میں چلا گیا
ربانیہ کی آنکھوں سے آنسوں نکلنے لگے اسے لگا کہ شاید زایان کہ دے کہ یہ سب اس نے فرحین کو بہلانے کیلئے کہا تھا مگر نہیں وہ غلط تھی زایان جیسا شخص کبھی نہیں بدل سکتا وہ تو اسے بچپن سے چاہتی تھی اس سے محبت کرتی تھی اسے اپنا اب کچھ مانتی تھی مگر آغوش کی بات سچ تھی
“یک طرفہ محبت انسان کو برباد کردیتی ہے”۔۔۔۔ اسے برباد ہی تو کردیا تھا زایان نے اس کے احساس اس کے جذبات زایان کیلیے بےمول تھے وہ خود بےمول ہوگئی تھی اگر زایان فرحین کو پسند کرتا تھا تو اس نے شادی والے دن تیمور کے ساتھ ایسا کیو کیا اس کی زندگی کی خوشیوں کو کیو تباہ کیا یہ سب سوچ کر وہ رونے لگی ۔۔۔
ہماری داستان اسے کہا قبول تھی
میری وفائیں اس کیلئے فضول تھی
کوئی آس نہیں لیکن اتنا بتا دو
میں نے چاہا اسے کیا یہی میری بھول تھی 💘💘💘
۔۔۔۔
وہ کافی بنا کر روم میں لائی تو زایان وہاں نہیں تھا اسے لگا کہ وہ واشروم میں ہوگا
اس نے کپ اس کی سٹڈی ٹیبل پر رکھا اور جانے لگی تب زایان روم کا دروازہ کھولے اندر آیا
وہ اسے نظرانداز کرتی جانے لگی جیسے ہی وہ اس کے پاس سے گزری زایان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
وہ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کھینچنے لگی اسے بغیر دیکھے مگر زایان کی پکڑ سخت تھی
“چھوڑے مجھے”
اس کا اتنا کہنا تھا کہ زایان نے اسے کھینچا اور اسے دیوار کے ساتھ لگایا اس کے دائیں بائیں اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے
“یہ تمہاری آنکھیں کیو اتنی سوجی ہوئی ہیں”۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا
“آپ کو اس سے کیا آپ اپنے کام سے مطلب رکھے مجھے جانے دے”۔۔۔۔
وہ اس کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اسے دور کرنے لگی تاکہ وہ جاسکے مگر زایان اپنی
جگہ سے نہ ہلا
“اپنا کام ہی تو کررہا ہوں اب تم روئوں گی تو اس کا اثر ہمارے بےبی پر ہوگا اور میں نہیں چاہتا ہمارا بےبی تمہاری طرح کمزور ڈرپوک ہو”۔۔۔۔
ناجانے وہ اسے کیا باور کرانا چاہتا تھا
“جب آپ نے فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ آپ مجھے گھر سے نکال ہی دیں گے اور بچہ بھی لے لے گے تو پھر آپ یہ سب باتیں اس سے کیجیئے گا جو آپ کو اور آپ کے بچے کو سنبھالے گی مجھ جیسی سے نہیں”۔۔۔۔
آخر وہ اس سے شکوہ کر بیٹھی
“ہممم یہ تو تم نے بلکل ٹھیک کہا پھر جب تم سب جانتی ہو تو تمہاری آنکھوں میں یہ آنسوں کیسے”۔۔۔
اس نے اپنا انگلی سے اس کے آنسوں کو صاف کیا جو اس سے گال پر پھسل رہا تھا
یہ سنتے ہی اس کی آنکھوں سے زاروقطار آنسوں نکلے اور اس نے زایان کو زور سے گلے لگایا
“مجھے چاہے جیسے بھی رکھے مارے پیٹے گالیاں دے مگر مجھے گھر سے مت نکالیے گا میں آپ کے سامنے بھی نہیں آئو گی کبھی آپ کو تنگ نہیں کرونگی مگر مجھ سے میرا بچہ مت لینا “
وہ زایان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی اب تک وہ جو کچھ اس کے ساتھ کرچکا تھا وہ اتنا تو جان چکی تھی کہ اس گھر میں وہی ہوتا ہے ھو زایان چاہتا ہے سلمی بیگم بھی اس کے کمزور ہوجاتی اسی لیے اس نے اپنی انا اپنے نفس کو مار ڈالا ۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے اسے وہ سب یہ سب کہنے لگی زایان کو احساس ہوا کہ اس کی باتوں سے وہ بہت ہرٹ ہوئی ہے شاید اسے یہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا
مگر اس کو پھر خوش بخت نظر آئی وہ اس کی آنکھوں کے آگے آنے لگی زور زور سے رونے لگی
اس نے اسے بازو سے کھینچ کر دور کیا
“تمہارے یہ آنسوں مجھے کمزور ہرگز نہیں کرسکتے تمہیں میں نکالونگا بھی اور بچہ بھی لونگا”
وہ دھاڑا اور اسے کمرے سے باہر نکال دیا دروازہ اندر سے لاک کردیا
وہ روتے ہوئے سیڑھیوں سے اتری آخری دو سیڑھیوں سے اس کا پیر پھسلا اور وہ پیٹ کے بل نیچے گری اس کی ایک زور دار چیخ فضا میں گونجی وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھے درد سے تڑپ رہی تھی
حسان اس کی چیخ سن کر جاگا اور باہر آیا
آپی آپ کو کیا ہوا۔۔۔۔۔ وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا
زایان بھیا زایان بھیا۔۔۔۔۔ وہ زور زور سے اسے آواز لگانے لگا مگر زایان کے کمرے تک اس کی آواز نہ پہنچ سکی تب تک ربانیہ اپنی آنکھیں بند کرچکی تھی
وہ ربانیہ کا سر نیچے رکھ زایان کے کمرے کی طرف بھاگا اور دروازہ زور زور سے کھٹکھٹانے لگا
زایان جو اپنے بیڈ پر لیٹا تھا جلدی جلدی اٹھا اور دروازہ کھولا
“کیا ہوا اتنے پریشان کیو ہو”۔۔۔۔ تم حسان کی حالت دیکھ کر وہ پوچھنے لگا
“بھیا وہ آپی سیڑھیوں سے گرگئی ہیں آپ جلدی چلے”۔۔۔۔۔ اس نے جلدی جلدی زایان سے بولا
وہ نیچے کی طرف بھاگا تو وہ بےحوش ہوچکی تھی
وہ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا اسے بازوئوں پر اٹھایا اور باہر کی طرف بھاگا
۔۔۔۔۔۔
وہ پچھلے دو گھنٹے سے وارڈ کے چکر کاٹ رہا تھا وہ جس حالت میں ربانیہ کو لایا تھا یہ صرف وہی جانتا اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا تھا دل سے بار بار یہی دعا نکل رہی تھی کہ کوئی معجزہ ہوجائے آخر ڈھائی گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد ڈاکٹر روم سے باہر آئے وہ انھیں دیکھتے ہی ان کی طرف بھاگا ۔۔۔۔۔۔
“ڈاکٹر ہائو از شی”۔۔۔۔
پسینے سے شرابور چہرے کے ساتھ اس نے ڈاکٹر سے پوچھا
“مسٹر ملک شی از فائن نائو”۔۔۔۔
“اینڈ بےبی “۔۔۔۔
“ایم سوری ہم بےبی کو نہیں بچا سکے بکوز انجری جہاں ہوئی ہے اس سے بےبی کا بچنا بہت مشکل تھا”۔۔۔۔۔
ڈاکٹر اس سے پروفیشنل انداز میں کہتی جا چکی تھی مگر اس کے تو پیروں تلے زمین نکل گئی
۔۔۔۔۔
ربانیہ کو حوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی اس کی ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی جبکہ اس کے پاس سلمی بیگم بیٹھی ہوئی تھیں اور دوسری طرف رایان کھڑا تھا
“پھپھو”۔۔۔ اس نے سلمی بیگم کو آواز لگائی
:ربانیہ کیسی ہو بیٹا”۔۔۔۔ وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھے پوچھ رہی تھی
“پھپھو مجھے کیا ہوا تھا میں یہاں کیا ۔”
“ربانیہ ابھی آرام کرو ہم بعد میں بات کرے گے”۔۔
سلمی بیگم نے بات کو ٹالنا چاہا
مگر پھپھو میں تو۔۔۔ میں تو سیڑھیوں سے گری تھی پھپھو میرا بچہ وہ تو ٹھیک ہے نا
“ربانیہ کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے تم آرام کرو ہم بعد میں بات کرے گے نا”۔۔۔۔۔
اب کی بار رایان بولا
“پھپھو بس آپ مجھے بتائیں کہ میرا بچہ تو ٹھیک ہے نا”۔۔۔۔
وہ آس بھری نظروں سے سلمی بیگم سے پوچھنے لگی
“رایان تم ڈاکٹر کو بلا کر لائو”۔۔۔۔۔ جلدی سلمی بیگم نے رایان سے کہا تو وہ باہر ڈاکٹر کو بلانے چلا گیا
“پھپھو آپ کچھ بتاتی کیو نہیں ہے”۔۔۔۔ وہ آپے سے باہر ہونے لگی
اتنے میں ڈاکٹر آئے اور اسے نیند کا انجکشن دیا جس سے وہ غنودگی میں چلی گئی
۔۔۔۔
زایان نے سلمی بیگم کو کال کرکے ساری سیچوایشن بتائی تھی ان کے آنے کے بعد وہ خود وہاں سے چلا گیا تھا
اسے ربانیہ پر غصہ تھا یہ سب اس کی لاپرواہی تھی اسے لگتا تھا کہ ربانیہ جان بوجھ کر سیڑھیوں سے گری ہے اسے یہ بچہ چاہیے ہی نہیں تھا وہ اس وقت اپنے کمرے میں لیٹا یہ سب سوچ رہا تھا
“اب تمہیں چھوڑوں گا نہیں ربانیہ تمہیں ہر روز مارو گا تڑپائو گا تم نے میرے بچے کی جان لےلی” ۔۔۔۔
اس نے اپنا موبائل اٹھا کر زور سے دیوار پر دے مارا
۔۔۔۔۔
تمہیں خبر ہی نہیں
دل اس بار ٹوٹا نہیں مر گیا ہے