Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

ربانیہ ابھی نیچے حال میں آئی اور سیدھا کچن میں چلی آئی چائے کیلئے دودھ چڑھایا کیونکہ کل سے وہ بھوکی تھی اور وہ ہمیشہ صبح کی نماز کے بعد چائے ہی پیتی تھی وہ ان پلوں کو یاد کررہی تھی جب وہ نماز کے بعد اپنے اور امی کیلئے چائے بناتی اور وہ دونوں چائے پیتے پیتے ڈھیر ساری باتے کرتے یہ سب باتیں سوچتے سوچتے اس کی آنکھوں میں آنسوں آگئے جسے اس نے فورن صاف کیا چائے بن گئی تھی اس نے کپ میں ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھی دروازہ کھولا اور وہ اندر آئی ۔۔۔۔۔۔
زایان بیڈ پر نہیں تھا اس نے واشروم کی جانب دیکھا تو اسے شاور سے ٹپکتے پانی کے قطروں کی آواز آئی وہ اندر شاور لے رہا تھا۔۔۔
وہ بالکونی میں آئی اور باہر کے منظر سے لطف اندوز ہونے لگی سورج کی ہلکی ہلکی کرنیں آسمان پر پھیلنے لگی تھی پرندے ہر طرف اپنی ہی دھن میں اڑ رہے تھے نیچے لان کا خوبصورت منظر دیکھتے ہوئے وہ چائے کا سپ لینے لگی
تبھی زایان واشروم سے باہر آیا وہ شرٹ لس تھا
اپنے چوڑے کندھوں پر ٹاول پھیلائے وہ ڈریسر کے سامنے کھڑا ہوا اسے شیشے سے بالکونی کا دروازہ کھلا نظر آیا اور ربانیہ کی پشت نظر آئی جسے دیکھتے ہی اس کے تاثرات غصے میں تبدیل ہوگئے
“میں نے تم سے شادی تمہاری اس ماں سے بدلہ لینے کیلئے کی تھی اور تم یہاں مزے لے رہی ہو “
اس کا پورا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا
اس نے بے دردی سے ٹاول بیڈ پر پھینکا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا بالکونی کی طرف بڑھا
بالکونی میں آتے ہی اس نے ربانیہ کی بازو کو زور سے کھینچا کہ وہ اس سب کیلئے تیار نہ تھی
اس کا چائے اس ہے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور ساری چائے اس کے پیر پر گری
آہ۔۔۔۔۔
ایک زور دار چیخ اس کے منہ سے نکلی
مگر زایان اس بے دردی سے کھینچتے ہوئے بیڈ روم میں لایا
اور اسے اپنے سامنے کھڑا کیا
چٹاخ!!!!
اس کے گال پر ایک تھپڑ دے مارا
کہ وہ بیڈ پر اوندھے منہ جا گری
“اب اگر تم مجھے میرے کمرے میں نظر آئی تو تمہارا حلیہ بگاڑ دونگا” وہ دھاڑا
تھپڑ کی شدت اتنی تھی کہ ربانیہ کے ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا اور خون بہ نکلا
“اٹھو اور نکلو میرے کمرے سے ابھی”۔۔۔۔ زایان نے اسے بازو سے پکڑ کر دوبارہ اپنے سامنے کھڑا کیا
مگر پیر جلنے سے وہ سیدھی کھڑی نہیں ہو پارہی تھی
چہرے پر تھپڑ اتنی شدت سے مارا گیا کہ وہ اس کا پورا گال سوج گیا
“میرا قصور کیا ہے”۔۔۔ وہ روتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی
“نا نا نا یہ غلطی کبھی مت کرنا اگر تمہیں تمہارا قصور بتا دیا نہ تو تم یہی کھڑے کھڑے مر جائو گی”۔۔۔۔۔ اس کی تھوڑی کو اپنی گرفت میں لیتا ہوا وہ اس نے کہا
“میں تو نیچے چلی جائو گی مگر جب پھپھو مجھ سے پوچھے گی کہ یہ سب کیسے ہوا تو کیا بتائو گی میں۔۔۔۔ وہ چیخی
آواز نیچی رکھو اپنی
تم اور تمہاری دونوں ہی دوسروں کی کمزوریوں کو پکڑنے میں ماہر ہو مگر نہ میں احمد ہو اور نہ عبدالمالک جو تمہاری ان ادائوں سے عاشق ہوجائو گا تمہارا یاد رکھنا اگر ماما کے آگے تم نے اپنی زبان کھولی تو ابھی تو تمہارا پیر جلا ہے اگلی بار یہ دونوں ٹانگیں توڑو گا اب ہٹو یہا سے۔۔۔۔۔۔
اس نے غراتی آواز میں کہا اور اسے دوبارہ بیڈ پر اوندھے منہ دھکا دیا اور خود ڈریسنگ روم میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔
رایان ابھی گھر میں داخل ہوا تھا تو حال میں سلمی بیگم کو صوفے پر بیٹھے دیکھا جو قرآن پاک کی تلاوت کررہی تھی
وہ انہیں کے پاس زمین پر بیٹھ گیا اور ان کی تلاوت سننے لگا
جب انھوں نے تلاوت مکمل کرلی تو قرآن پاک کو سامنے میز پر رکھنے لگی جسے رایان نے لے کر خود رکھا
“ماما آپ ابھی بھی مجھ سے ناراض ہیں” تیمور والی حرکت وہ ابھی بھی رایان سے ناراض تھیں
“تمہاری حرکت معاف کرنے والی ہے تم اپنی حرکت کا انجام دیکھ چکے ہو اس یتیم بچی کا باپ تو پہلے ہی نہیں تھا اس سے اس کی ماں کو بھی چھین لیا تم دونوں بھائیوں نے “۔۔۔۔
وہ رایان کی طرف شکوہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں
یہ بات سنتے ہی رایان نے شرمندگی سے سر جھکا لیا
“ماما میں ربانیہ سے بھی معافی مانگ لونگا اور آج ہی اس کے گھر جاکر مانگو گا پر پلیز آپ تو مجھ سے ناراض نہیں ہو”۔۔۔۔
اس نے سلمی بیگم کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا
“کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے گھر جانے کی میں رات ہی اسے یہی لے آئی تھی وہ زایان کے کمرے میں ہے اور رایان تم تو میرے فرمانبردار بیٹے ہو زایان تو پہلے ہی میری کوئی بات نہیں سنتا مگر تم اس قسم کی حرکت کرو گے مجھے اس کی بات کی امید نہ تھی”۔۔۔۔
“سوری ماما اب ایسا کچھ نہیں کرو گا آپ مجھے معاف کردے”
“ہممم اگر رابی تمہیں معاف کردیتی ہے تو میں بھئ معاف کردو گی اور ہاں اپنے بڑے بھائی کے نقشے قدم پر چلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے پتا نہیں کب سدھرے گا یہ لڑکا”۔۔۔۔
انھوں نے رایان کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
“ارے ماما اب آپ ٹینشن ہی نہ لے بھائی کی بیوی آگئی ہے نہ جوتے مار کے سدھارے گی ان کو”۔۔
ماں کے سیدھے ہوتے ہی وہ اپنی ٹون میں واپس آیا
“ہاہاہا بدمعاش رابی اس نالائق کو جوتے لگائے گی ارے وہ تو بہت صابر بچی ہے بس اللہ اب ان دونوں کی جوڑی سلامت رکھے آمین “۔۔۔۔۔
اور تمہارے بھائی کو عقل دے
انھوں نے اس کے سر پے چپیت لگائی
“آمین ماما اچھا ماما مجھے نیند آرہی ہے میں اپنے روم میں جارہا ہو پلیز کوئی ڈسٹرب نہ کرے آج ویسے بھی یونی کا آف ہے۔۔۔
وہ یہ کہ کر اٹھا اور اپنے روم میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی ڈریسنگ روم سے باہر آیا تھا اور ڈریسر کے آگے اپنے بالوں میں برش کرنے لگا اس نے ایک نظر شیشے سے بیڈ پڑی ربانیہ پر ڈالی جو ابھی بیڈ پر اوندھے منہ پڑی رورہی تھی
ٹائی باندھنے کے بعد اس نے اپنے اوپر سپرے کیا اور اپنی کلائی پر واچ باندھنے لگا
“بند کرو اپنا یہ رونا دھونا بہت ہو گیا جلدی اپنے یہ نشان چھپائو اور چلو میرے ساتھ نیچے”۔۔۔
وہ بیڈ کے سامنے صوفے پر بیٹھا اپنے شوز پہننے لگا
“میں تم سے کہ رہا ہو”۔۔۔ جب ربانیہ نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ اب غصے سے بولا
ربانیہ نے اپنے آنسو پوچھے اور بیڈ پر سے اٹھی اس کا دوپٹہ اس کے ساتھ بیڈ پر پڑا تھا جسے اس نے اٹھا اور سر پر پہنا اس کا پیر پورا جل چکا تھا اس سے نیچے قدم نہی رکھا جارہا تھا کونکہ پورے پیر پر چھالے نکل آئے تھے
اس کے پورے کپڑوں پر چائے کے نشان پھیل چکے تھے ایک ہی رات میں زایان نے اس کو بہت کچھ باور کرادیا تھا
“اب کیا موت ہے اٹھو اور جلدی کرو”۔۔۔ وہ وہی بیٹھا اس کی ساری کاروائی دیکھ رہ تھا
م۔۔مجھ۔۔سے۔۔چلا۔۔نہی۔۔جارہا اس کے آواز بمشکل ہی اسے سنائی دی وہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی
“یہی مرو اور نیچے آنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر تم نے ماما کے آگے اپنی زبان سے کچھ بولا یہ پھر کوئی بات مجھے پتا چلی تو تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا”۔۔۔۔
وہ دھاڑا
“اب جب میں واپس آئو تو نظر مت آنا کمرے میں”
ربانیہ نے نظریں نیچی کیے اثبات میں سر ہلایا
ٹیبل سے ایک فائل اٹھائے ایک سرد نظر اس پر ڈالے وہ دروازہ زور سے بند کیے چلا گیا
اور ربانیہ وہی بیڈ پر گرگئی
۔۔۔۔۔۔
وہ نیچے آیا تو سلمی بیگم ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھی تھی اور فریدہ ان کے آگے ناشتہ رکھ رہی تھی
Good morning mama
وہ اپنے کوٹ اور فائل میز پر رکھ کر بیٹھ گیا
Good morning
“رابی کہا ہے وہ نہیں آئی”۔۔
“سیڑھیوں سے گری ہے صبح کمرے میں بیٹھی رورہی ہے میں نے کہا چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں مگر وہ سنتی ہی نہیں بس روئے جارہی ہیں”۔۔۔
بلکل نارمل انداز میں جواب آیا
یا اللہ خیر کیسے گری وہ پریشانی سے ان کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوگئے
چائے بنانے آئی تھی صبح کپ لیے سیڑھیوں سے گرگئی پیر جل گیا اس کا اور پورا چہرہ سویل اپ ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔
“یا میرے خدا میں ابھی اسے دیکھ کر آتی ہو”۔۔۔
وہ آٹھ کر اس کے کمرے کی طرف چلی گئی
پیچھے وہ شاطرانہ ہنستہ ہوا کافی پینے لگا
۔۔۔۔۔۔
سلمی بیگم بھاگنے کے انداز میں کمرے میں آئی تو ربانیہ اوندھے منہ بیڈ پر پڑی رورہی تھی
ربانیہ ۔۔
سلمی بیگم اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی
اس کے باک بیڈ پر بکھرے پڑے تھے دوپٹہ بیڈ سے نیچے کارپٹ پر پڑا ہوا تھا اور اس کے آنکھوں سے آنسوں پانی کی طرح بہ رہے تھے
سلمی بیگم کی آواز سن کر وہ آٹھ بیٹھی اور انہیں زور سے گلے لگایا اور زاروقطار رونے لگی
وہ اس کی حالت دیکھ پریشان ہوگئی
“ربانیہ بس کرو بیٹا چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں کیا کرتی رہتی ہو بیٹا تم بھی”۔۔۔۔
وہ اس کے بال سہلانے لگی
میں۔۔نے۔۔کچھ۔۔نہیں۔۔کیا۔آنی ۔۔۔رونے کے درمیان اس کی آواز آئی
“ہاں بیٹا جانتی ہو مگر خیال رکھنا چاہیے تھا نہ ایسے کوئی گرتا ہے سیڑھیوں سے “۔۔۔۔
سلمی بیگم کی بات سن کر وہ ان سے دور ہوگئی اور حیرانی سے ان کی طرف دیکھنے لگی
“ہاں مجھے زایان نے ابھی ابھی بتایا ہے کہ تم سیڑھیوں سے گری ہو بیٹا دھیان رکھنا چاہیے تھا نا دیکھو ماتھے پر کٹ آگیا پورا چہرہ سوج گیا ہے اور یہ دیکھو پیر بھی جلا لیا چلو اٹھو شاباش ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں “۔۔۔۔۔
وہ اسے پیار سے سمجھانے لگی
اب کی بات سن کر اس نے اپنے آنسو پوچھے
“آنی میں ٹھیک ہو مجھے نہیں جانا کسی ڈاکٹر کے پاس”۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے بکھرے بال کو پیچھے کرنے لگی آنسو ابھی بھی اس کی آنکھوں سے جاری تھے
“نہیں بیٹے اپنی حالت تو دیکھو کوئی نئی دولھن والی لگتی ہے چلو میرا بیٹا اٹھو زایان ناشتہ کررہا ہے تم اپنا حلیہ درست کرو پھر وہ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے جائے گا”۔۔۔۔۔۔
وہ اسے بچو کی طرح سمجھانے لگی
زایان کا نام سنتے ہی وہ سہم گئی اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ یہ سب اس کے ساتھ زایان نے کیا ہے
“نہیں نہیں پھپھو میں ٹھیک ہو آپ پریشان مت ہو اور میں آئٹمنٹ لگائو گی ٹھیک ہو جائو گی”۔۔۔
وہ اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کرنے لگی
مگر بیٹا ۔۔۔۔۔۔
نہیں میں بلکل ٹھیک ہو آپ حسان کو ناشتہ کروا دیجیئے گا میں تو نیچے نہیں آسکتی ۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے پیر کی طرف اشارہ کرنے لگی جو بری طرح جلا ہوا تھا
ٹھیک ہے میں فریدہ سے کہتی ہو وہ تمہیں دوائی لگا دے گی اور زیادہ چلنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ٹھیک ہے۔۔۔۔۔
جی جی آنی وہ اپنا سر نیچے کیے انہیں کہنے لگی
سلمی بیگم اس کے کمرے سے چلی گئی
۔۔۔۔۔