Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

وہ بیڈ پر لیٹی گہرے سانس لے رہی تھی جب سلمی بیگم اس کے کمرے میں آئی
“ربانیہ” انھوں نے آواز دی تو وہ آٹھ کر بیٹھی
“پھپھو آپ مجھے بلا لیتی” اس نے سہولت کیلئے کہا
وہ اس کے پاس بیٹھی “کیا ہوا ہے تمہیں” اس کے پیلے زرد شکل کو دیکھ کر وہ بولی
“پتا نہیں پھپھو کل رات سے ہی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور صبح سے چکر اور متلیاں آرہی ہیں”
اس نے ساری وضاحت انہیں دی یہ سنتے ہی سلمی بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“تم تیار ہوجائو ہمیں ڈاکٹر کے پاس جانا ہوگا”
“ارے نہیں پھپھو میں ٹھیک ہو رات کچھ الٹا سیدھا کھا لیا ہوگا اسی لیے یہ سب ہورہا ہے آپ پریشان مت ہو میں خود ہی ٹھیک ہو جائو گی”
“نہیں ربانیہ بس تم جلدی سے تیار ہوجائو میں نیچے تمہارا انتظار کررہی ہو ٹھیک ہے” سلمی بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ اسے ہدایت کی اور نیچے چلی گئی
۔۔۔۔
وہ ابھی ڈاکٹر کے کلینک پہنچے تھے سلمی بیگم اسے اپنی دوست کے کلینک لے آئی تھی وہ اور ربانیہ ڈاکٹر کے کمرے میں تھیں جبکہ رایان باہر وارڈ میں انتظار کررہا تھا
“مبارک ہو سلمی تمہاری بہو امید سے ہے” ربانیہ کا چیک اپ کرنے کے بعد ڈاکٹر نے سلمی بیگم کو خبر دی جس سے ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا
“بہت شکریہ سائمہ” ربانیہ ابھی بھی سکتے کے عالم میں سلمی بیگم کے پاس کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی
“بہت مبارک ہو ربانیہ تمہیں” انھوں نے آٹھ کر اس کے سر پر بوسہ دیا وہ بس زبردستی ہلکا سا مسکرائی
“اب تمہیں اس کی ڈائٹ کا خاص خیال رکھنا ہے یہ بہت ویک ہے اور ہاں یہ میڈیسنز ٹائم پر دینا اسے”
ڈاکٹر سلمی بیگم کو سب سمجھا رہی تھی
کچھ دیر بعد وہ ربانیہ کو لے کر کمرے سے باہر آئی تو رایان ان کی طرف آیا
“کیا ہوا ماما سب ٹھیک ہے کیا کہا ڈاکٹر نے”۔۔۔۔
رایان جو کب سے باہر انتظار کررہا تھا انھیں باہر نکلتے دیکھا تو پوچھنے لگا
“مبارک ہو تمہیں چچا بننے والے ہو تم” سلمی بیگم نے اسے جیسے ہی یہ خبر سنائی وہ تو خوشی سے چہک اٹھا
“آپ کو بھی مبارک ہو ماما اور ربانیہ بہت مبارک ہو تمہیں” ربانیہ بس زبردستی ہلکا سا مسکرائی
“اچھا یہ میڈیسنز لے آئو ہم تب تک تمہارا گاڑی میں انتظار کرتے ہیں” سلمی اسے پرسکرپشن دیتی ربانیہ کو لے گئی
۔۔۔
وہ ایمن کو لے کر ایک گھنٹہ پہلے ہی گھر آیا تھا آفس میں آج کچھ زیادہ کام بھی نہیں تھا اس لیے وہ ایمن کو لے کر آنے کے بعد آرام کرنے کا ارادی رکھتا تھا
مگر جب وہ لوگ گھر آئے تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا فریدہ نے اسے بتایا تھا کہ ربانیہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لیے سب اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئے
اسے یہ بات سنتے غصہ آیا اگر وہ بیمار تھی اسے کہتی کہ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائے لیکن پھر وہ اپنے کمرے میں چینج کرنے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ گھر پہنچے تو سلمی بیگم ربانیہ کو شانوں سے تھامے اندر آئی کیونکہ کلینک سے نکلتے وقت اس کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ بےحوش ہوگئی تھی وہ کلینک میں ہی تھے اسی لیے اسے جلدی سے ڈاکٹر کے پاس لے گئے
ڈاکٹر نے اسے چیک کیا اور کہا کہ سٹریس لینے کی وجہ سے وہ بےحوش ہوئی ہے اور اکثر اس حالت میں ایسا ہوتا ہے
ایک گھنٹے تک اسے ہوش آگیا اور وہ لوگ گھر آئے
انھوں نے اسے صوفے پر بٹھایا اور فریدہ کو بلایا
وہ بھاگتی ہوئی آئی
“فریدہ ایک گلاس جوس لے کر آئو” انھوں نے فریدہ سے کہا اور وہ جوس لانے چلی گئی
رایان بھی گاڑی پارک کرکے اس کی میڈیسنز لیے اندر آیا
“ماما یہ لے اور ربانیہ کو میڈیسنز کھلا دے”
اس نے میڈیسنز انھیں دی
“یہ لے بیگم صاحبہ جوس” اس نے وہ گلاس سلمی بیگم کی طرف بڑھایا جسے انھوں نے ربانیہ کو دیا
“نہیں پھپھو ابھی نہیں بعد میں پی لو گی ابھی دل نہیں کررہا”۔۔ اس نے بیزاری سے کہا
“نہیں ابھی لو اور یہ دوائیاں لینی ہے تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا یہ جوس پی لو اور کھانا کھانے کے بعد میڈیسنز لے لینا”۔۔۔۔
انھوں نے اسے ڈانٹا اس نے وی جوس کا گلاس لیا اور بمشکل ایک ایک گھونٹ پیا
“بیگم صاحبہ اب بتا بھی دے کہ خوشخبری ہے کہ نہیں”۔۔۔۔۔
فریدہ کب سے کھڑی انتظار کررہی تھی کہ وہ لوگ اسے بتائے مگر کسی نے بھی اسے نہ بتایا آخر وہ خود بول پڑی
“ہا بھئ خوشخبری ہے اور تمہارے تین جوڑے بھی پکے”
سلمی بیگم نے اسے ہنستے ہوئے جواب دیا تو وہ خوشی سے چہک اٹھی
“ہے نا میں نے کہا تھا نہ بہت مبارک ہو آپ سب کو”۔۔۔
“فریدہ ایک گلاس پانی تو لا دو مجھے”۔۔۔۔
رایان نے صوفے پر بیٹھے اسے حکم صادر کیا
“اچھا لے آتی ہو اور بیگم صاحبہ ایمن بی بی اور صاحب گھر آچکے ہیں انھیں بھی یہ خبر سنا دے”
“اچھا پہلے انہیں بلا لائو اور پھر میری اس نکمی اولاد کو پانی دینا”۔۔۔۔
انھوں نے مزے سے صوفے پر بیٹھے رایان کی طرف اشارہ کیا جو اپنے موبائل پر سب کو دوستوں کو اپنے چچا بننے کی خبریں دے رہا تھا
“جی بیگم صاحبہ”۔۔۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتی چلی گئی
۔۔۔۔۔
زایان اپنے کمرے میں بالکونی میں کھڑا کافی پی رہا تھا جب فریدہ نے اسے سلمی بیگم کی بات کہی
وہ کپ فریدہ کو پکڑائے نیچے چلا آیا
ایمن بھی ابھی کمرے سے نکلی تھی اور سب سے مل رہی تھی
جب وہ نیچے آیا تو اسے ربانیہ ایمن کے ساتھ باتیں کرتی دکھائی دی
وہ ربانیہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا
“کیا کہا ڈاکٹر نے کیا ہوا ہے تمہیں”۔۔۔ اس نے ربانیہ سے کہا جو ایمن کے ساتھ بیٹھی تھی
اس کی بات سن کر ربانیہ نے اسے حیرت سے دیکھا وہ کب اس کی فکر کرتا تھا
“ربانیہ تم ڈاکٹر کے پاس گئی تھی مجھے بتایا کیو نہیں کیا ہوا ہے تمہیں”۔۔۔۔۔
و
ایمن اب پریشانی سے اس پوچھنے لگی
“ڈہئر سسٹر ڈاکٹر نے کیا کہا یہ میں آپ سب کو بتاتا ہو”۔۔۔۔
رایان جوشیلے انداز میں ان سب کے آگے کھڑا ہوگیا تو سب لوگ اس کی طرف متوجہ ہوئے اس نے اپنے فون کا مائک بنائے اپنی تقریر شروع کی
“ڈاکٹر نے کہا ہے کہ میں یعنی رایان ملک چچا بننے والا ہو اور ہمارے پیارے زایان بھائی پاپا بننے والے ہیں”۔۔۔۔
اس نے جس انداز سے کہا زایان کو تو سانپ سونگھ گیا وہ حیرت اور بے یقینی کے ملے جلے تاثرات لیے ربانیہ کو دیکھ رہا تھا جو سر جھکائے اس کے ساتھ بیٹھی تھی
“کیا رئیلی رایان سچ کہ رہے ہو” ایمن کو اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا
“یس بہنا”۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا
کانگریچولیشنز مائی ڈیئر بھائی اینڈ مائی ڈیئر رابی۔۔۔۔۔
ایمن بہت خوش تھی کیونکہ ان کے گھر میں پہلی خوشی آنے والی تھی
“زایان اب تم میری بات سن لو تم نے رابی کا بہت خیال رکھنا ہے ڈاکٹر نے خاص کہا ہے”۔۔۔
سلمی بیگم اسے کہ رہی تھی مگر وہ تو جیسے سن پڑ چکا تھا
“تم سن رہے ہو” اس کا کوئی رد عمل نہ دیکھ کر سلمی بیگم پھر بولی
“جی ماما سن لیا میں نے”۔۔۔ وہ ربانیہ کو دیکھتا ہوا بولا
“اچھا جائو اور ربانیہ کو کمرے میں لے جائو میں میڈیسنز بھجواتی ہو کھلا دینا”۔۔۔۔
انھوں نے اسے کہا جس پر وہ اپنی جگہ سے اٹھا
“جائو بیٹا اپنے کمرے میں آرام کرو “اب کی بار وہ ربانیہ سے بولی جو کب سے سر جھکائے بیٹھی تھی
“جی پھپھو”۔۔۔۔ وہ جیسے ہی اٹھی اسے چکر آئے اس پہلے وہ گرتی زایان نے اسے سنبھال لیا
کیا ہوا رابی ٹھیک ایمن اس کی طرف آئی زایان نے اسے کھڑا کیا
“جی آپی بس چکر آگئے تھے”۔۔۔۔
ایمن خود ایک گائناکولجسٹ بن چکی تھی اس لیے وہ ربانیہ کی کنڈیشن سمجھ گئی
” بھائی آپ اسے روم میں لے جائے ” اس نے زایان سے کہا چلو اس نے ربانیہ سے کہا وہ اس کے ساتھ روم میں چلی گئی
۔۔۔۔۔
روم میں آتے ہی اس نے دروازہ بند کیا اور ربانیہ کا ہاتھ پکڑ کر اس کی کمر لے پیچھے کیے مڑوڑا
جس سے اس کی چیخ نکلی
“کیا ڈرامہ ہے یہ سب کیا کہا ہے تم نے سب سے نیچے”
غصے سے ایک ایک لفظ پر زور دیے وہ چیخا
“پلیز ہاتھ چھوڑے مجھے درد ہورہا ہے”
اس نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اسے بازو سے پکڑ کر سیدھا کیا
“بتائو یہ کیا کہ رہے ہیں سب نیچے “۔۔۔وہ دھاڑا
“وہی جو آپ نے سنا “وہ بھی اسی لہجے میں بولی
ربانیہ کی بات سن کر اسے تو جیسے آگ سی لگ گئی
“تم صبح چلی گی ڈاکٹر کے پاس اور ختم کراوئوں گی اس کو”۔۔۔۔
“کیا ی۔۔۔۔ ۔کیا کہے رہے ہیں آپ “
اسے اپنے حواسوں پر یقین نہ آیا
“صحیح کہ رہا ہو تم یہ کام صبح ہی کروں اور جلد از جلد اس مصیبت کو دفع کرو”
اس ظالم نے یہ بات اتنی آسانی سے کہ دی
“آپ چاہتے ہے کہ میں اپنی ہی اولاد کا قتل کرو یہ ہم دونوں کی اولاد ہے آپ ایسا کیسے کرسکتے ہیں”
آنسوں بہاتی وہ اس حیوان کا بازو پکڑ کر پوچھنے لگی
“ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا میری” اس نے اپنی طرف اشارہ کیا
“اگر یہ میری اولاد ہوتی نہ تو میں اسے سینے سے لگالیتا اچھی طرح سے جانتا ہو کس کا گناہ لے کر گھوم رہی ہو “
اس کا ہاتھ جھٹک کر بے دردی سے اس کے منہ کو دبوچا
“کس کا گناہ ہے یہ” اس نے چیخ کر اس سے پوچھا
“اب یہ بھی میں بتائو” اس نے آنکھیں اچکا کر بولا
“میں تم سے سیدھے سیدھے کہ رہا ہو مجھے تم سے اولاد نہیں چاہیے سمجھی”
شہادت کی انگلی اس کی طرف کی
وہ یہ سنتے ہی حوش کی دنیا سے بیگانی ہوگئی
اور زمین پر بچھے کارپٹ پر گرگئی
مجھے تو سزا دے یہ اتنا بتا دے
کہ یہ ہے تیرا کیسا یہ ستم