Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Last updated: 1 September 2025
No Download Link
65.2K
68
Rate this Novel
Episode 1Episode 2Episode 3Episode 4Episode 5Episode 6Episode 7Episode 8 Pt.1Episode 8 Part 2Episode 9Episode 10Episode 11 Part 1Episode 11 Part 2Episode 12Episode 13Episode 14Episode 15Episode 15 Part 2Episode 16Episode 17Episode 18Episode 19 Part 1Episode 19 Part 2Episode 20Episode 21Episode 22Episode 23 Part 1Episode 23 Part 2Episode 24Episode 25Episode 26Episode 27 Part 1Episode 27 Part 2Episode 27 Part 3Episode 28Episode 29 Part 1Episode 29Episode 30Episode 31Episode 32Episode 33Episode 34Episode 35 Part 1Episode 35 Part 2Episode 36Episode 37Episode 38Episode 39EPISODE 40Episode 41 Part 1Episode 41 Pt.2Episode 42Episode 43Episode 44 Part 1Episode 44 Part 2Episode 45Episode 46Episode 47 Part 1Episode 47 Part 2Episode 47 Part 3Episode 48Episode 49Episode 50 Part 1 & 2Episode 51 Pt.1Episode 51 Part 2Episode 51 Part 3Last Episode pt.1Last Episode Last Part
Meri Bebaasi Ka Khuda Gawaa
By Ayeza
آغوش ابھی بکس شوپ سے نکل کر رکشے کا انتظار کررہی تھی کہ اچانک ایک گاڑی اس کے پاس سے گزری کہ سڑک پر پڑا سارا کیچڑ اس کے کپڑوں پر اچھلا اس کا پورا سفید جوڑا کیچڑ کی پکڑ میں آگیا ۔۔۔۔۔
"او آنکھوں کے اندھے گدھے کہیکے دیکھ کے گاڑی چلائو"۔۔۔۔ آغوش غصے سے آگ بگولا ہو گئ اتنے میں گاڑی دوبارہ ریورس آئ اور وہ شخص دروازہ کھول کر باہر آیا بلیک جینز پر وائیٹ شرٹ پہنے وہ شاندار شخص باہر آیا
"اندھے ہو دکھائ نہیں دیتا تمہیں لوفر کہیں کے "۔۔۔۔۔
آغوش تو اس پر برس پڑی آس پاس کے لوگ بھی انہیں کو دیکھ رہے تھے
"جب سڑک پر پری کھڑی ہو تو انسان اندھا ہوہی جاتا "۔۔۔۔۔۔۔رایان چہرے پر مسکان سجائے اس کی طرف دیکھ رہا تھا آغوش تو یہ سنتے ہی سرخ ہوگئ
"ابے او یہ اپنی لوفر گیریاں کسی اور کے آگے کرنا
ساری بکس خراب کردی اس کمینے نے"۔۔۔۔۔ وہ اپنی بکس کی طرف دیکھ رہی تھی جو پوری طرح کیچڑ کی لپیٹ میں آگئ تھی "میڈم آپ سچ میں لیڈئ ہے نہ" ۔۔۔۔۔رایان کو اس کی باتیں عجیب لگی
"او ہلو لیڈئ کس کو بولا بڈھے" ۔۔۔۔۔۔۔آغوش کو اس کا لیڈی کہنا بلکل نہ بھایا جسے سن کر آس پاس کے لوگ رایان کو دیکھ کر ہنسنے لگے "او میڈم آپ کو میں بڈھا لگتا ہوں"۔۔۔۔ اس نے انگلی کا اشارہ اپنی طرف کیا "جی تمہیں بولا دادا جی اب سیدھی طرح میرے نقصان کی بھرپائ کرو ورنہ" ۔۔۔۔۔وہ اسے انگلی دیکھاتے بولی "اوح ایم سوری رکے میں اپنا وولٹ لے کر آتا ہوں" ۔۔۔۔وہ شرمندہ ہوا "او مسٹر میں تمہارا وولٹ لے کر کیا کروں گی" ۔۔۔۔۔۔۔آغوش نے حیران ہوکر کہا "کیا مطلب کیا کرے گی میں آپ کو آپ کے نقصان کے پیسے دوں گا سمپل"۔۔۔۔ اس نے مشکل آسان کی "او مسٹر میں اپنے گھر اس حلیے میں گئ تو سب میری جان کو آجائے گے اس لیے سیدھی طرح سے ڈریس دلوائو نئ بکس لے دو اور مجھے گھر بھی چھوڑ دو"۔۔۔۔ آغوش نان سٹاپ بولی "مس مجھے لگتا آپ ٹھیک نہیں ہے یہ لے آپ کے پیسے ڈریس لےلینا بکس بھی لےلینا اور ٹیکسی لے کر گھر بھی چلی جانا "۔۔۔۔۔رایان نے اسے پیسے تھمائے اور اپنی گاڑی کی طرف چلاگیا اور گاڑی بھگادی آغوش سکتے کے عالم میں وہی جم گئ "ارے باجی آپ کو کہیں جانا ہے" ۔۔۔۔۔رکشے والے کی آواز پر آغوش حوش کی دنیا میں واپس آئی" اوئے باجی کس کو بولا"۔۔۔۔ اب وہ رکشے والے پر برسی" آپ کو باجی"۔۔۔۔ رکشے والا نے اس کی طرف اشارہ کیا "ابے چل نہیں جانا مجھے تیرے ساتھ نکل"۔۔۔ آغوش کہتے ہی چلی گئ "پاگل تھی کوئ" رکشہ والا بھی اس کی عقل پر ماتم کرتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
""کیا کروں فون کروں انھیں تین دن ہوگئے ہیں اس بات کو وہ کیا سوچے گے کہ میں مطلب پرست لڑکی ہو فون کرلے ربانیہ کرلے" ۔۔۔۔۔فون وہ فون ہاتھ میں پکڑے بڑبرا رہی تھی "بس کرلے فون زیادہ مت سوچ" ۔۔۔۔۔۔اس نے فون بک سے ایک نمبر نکالا جو شاید تین سال سے اس میں سیو تھا مگر آج تک اس نمبر کو اس نے استعمال نہیں کیا تھا اس نے جنھکتے ہوئے کال ملائی
اس کی ٹیون ایسی تھی طوبہ ہے اس دن کار میں اور اب موبائل میں ایسا گانا اللہ معاف کرے ربانیہ نے اپنے کان پکڑے کافی دیر بعد فون اٹھا لیا گیا ۔۔۔۔۔
"ہیلو زایان بھائی"۔۔۔۔۔ ربانیہ فون کان پے رکھتے ہی بول پڑی مگر دوسری طرف سے کوئ لڑکی بولی "کون ہو تم" ۔۔۔۔لڑکی نے روکھے پن سے پوچھا ربانیہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہے گیا وہ۔۔ "مجھ مجھے زایان بھائی سے بات کرنی ہے "۔۔۔۔ربانیہ نے لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا "وہ ابھی بزی ہے میرے ساتھ تم صبح کال کرنا اوکے "۔۔۔
اور پھر کال ڈسکنکٹ ہوگئ ربانیہ کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے" آپ ایسے نکلے میں نے آپ کو کیا سمجھا اور آپ کیا نکلے میں ہی بےوقوف تھی جو اس دن کے بعد سمجھ بیٹھی کہ آپ میری فکر کرتے ہیں۔۔۔۔۔ مگر آنسو اس کا پورا چہرہ بھگو رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
