Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208

Meri Be Baasi Ka Khuda Gawaa By Ayeza Readelle50208 Last updated: 1 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Meri Bebaasi Ka Khuda Gawaa

By Ayeza

آغوش ابھی بکس شوپ سے نکل کر رکشے کا انتظار کررہی تھی کہ اچانک ایک گاڑی اس کے پاس سے گزری کہ سڑک پر پڑا سارا کیچڑ اس کے کپڑوں پر اچھلا اس کا پورا سفید جوڑا کیچڑ کی پکڑ میں آگیا ۔۔۔۔۔
"او آنکھوں کے اندھے گدھے کہیکے دیکھ کے گاڑی چلائو"۔۔۔۔ آغوش غصے سے آگ بگولا ہو گئ اتنے میں گاڑی دوبارہ ریورس آئ اور وہ شخص دروازہ کھول کر باہر آیا بلیک جینز پر وائیٹ شرٹ پہنے وہ شاندار شخص باہر آیا
"اندھے ہو دکھائ نہیں دیتا تمہیں لوفر کہیں کے "۔۔۔۔۔
آغوش تو اس پر برس پڑی آس پاس کے لوگ بھی انہیں کو دیکھ رہے تھے
"جب سڑک پر پری کھڑی ہو تو انسان اندھا ہوہی جاتا "۔۔۔۔۔۔۔رایان چہرے پر مسکان سجائے اس کی طرف دیکھ رہا تھا آغوش تو یہ سنتے ہی سرخ ہوگئ
"ابے او یہ اپنی لوفر گیریاں کسی اور کے آگے کرنا
ساری بکس خراب کردی اس کمینے نے"۔۔۔۔۔ وہ اپنی بکس کی طرف دیکھ رہی تھی جو پوری طرح کیچڑ کی لپیٹ میں آگئ تھی "میڈم آپ سچ میں لیڈئ ہے نہ" ۔۔۔۔۔رایان کو اس کی باتیں عجیب لگی
"او ہلو لیڈئ کس کو بولا بڈھے" ۔۔۔۔۔۔۔آغوش کو اس کا لیڈی کہنا بلکل نہ بھایا جسے سن کر آس پاس کے لوگ رایان کو دیکھ کر ہنسنے لگے "او میڈم آپ کو میں بڈھا لگتا ہوں"۔۔۔۔ اس نے انگلی کا اشارہ اپنی طرف کیا "جی تمہیں بولا دادا جی اب سیدھی طرح میرے نقصان کی بھرپائ کرو ورنہ" ۔۔۔۔۔وہ اسے انگلی دیکھاتے بولی "اوح ایم سوری رکے میں اپنا وولٹ لے کر آتا ہوں" ۔۔۔۔وہ شرمندہ ہوا "او مسٹر میں تمہارا وولٹ لے کر کیا کروں گی" ۔۔۔۔۔۔۔آغوش نے حیران ہوکر کہا "کیا مطلب کیا کرے گی میں آپ کو آپ کے نقصان کے پیسے دوں گا سمپل"۔۔۔۔ اس نے مشکل آسان کی "او مسٹر میں اپنے گھر اس حلیے میں گئ تو سب میری جان کو آجائے گے اس لیے سیدھی طرح سے ڈریس دلوائو نئ بکس لے دو اور مجھے گھر بھی چھوڑ دو"۔۔۔۔ آغوش نان سٹاپ بولی "مس مجھے لگتا آپ ٹھیک نہیں ہے یہ لے آپ کے پیسے ڈریس لےلینا بکس بھی لےلینا اور ٹیکسی لے کر گھر بھی چلی جانا "۔۔۔۔۔رایان نے اسے پیسے تھمائے اور اپنی گاڑی کی طرف چلاگیا اور گاڑی بھگادی آغوش سکتے کے عالم میں وہی جم گئ "ارے باجی آپ کو کہیں جانا ہے" ۔۔۔۔۔رکشے والے کی آواز پر آغوش حوش کی دنیا میں واپس آئی" اوئے باجی کس کو بولا"۔۔۔۔ اب وہ رکشے والے پر برسی" آپ کو باجی"۔۔۔۔ رکشے والا نے اس کی طرف اشارہ کیا "ابے چل نہیں جانا مجھے تیرے ساتھ نکل"۔۔۔ آغوش کہتے ہی چلی گئ "پاگل تھی کوئ" رکشہ والا بھی اس کی عقل پر ماتم کرتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
""کیا کروں فون کروں انھیں تین دن ہوگئے ہیں اس بات کو وہ کیا سوچے گے کہ میں مطلب پرست لڑکی ہو فون کرلے ربانیہ کرلے" ۔۔۔۔۔فون وہ فون ہاتھ میں پکڑے بڑبرا رہی تھی "بس کرلے فون زیادہ مت سوچ" ۔۔۔۔۔۔اس نے فون بک سے ایک نمبر نکالا جو شاید تین سال سے اس میں سیو تھا مگر آج تک اس نمبر کو اس نے استعمال نہیں کیا تھا اس نے جنھکتے ہوئے کال ملائی
اس کی ٹیون ایسی تھی طوبہ ہے اس دن کار میں اور اب موبائل میں ایسا گانا اللہ معاف کرے ربانیہ نے اپنے کان پکڑے کافی دیر بعد فون اٹھا لیا گیا ۔۔۔۔۔
"ہیلو زایان بھائی"۔۔۔۔۔ ربانیہ فون کان پے رکھتے ہی بول پڑی مگر دوسری طرف سے کوئ لڑکی بولی "کون ہو تم" ۔۔۔۔لڑکی نے روکھے پن سے پوچھا ربانیہ کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہے گیا وہ۔۔ "مجھ مجھے زایان بھائی سے بات کرنی ہے "۔۔۔۔ربانیہ نے لڑکھڑاتی آواز میں جواب دیا "وہ ابھی بزی ہے میرے ساتھ تم صبح کال کرنا اوکے "۔۔۔
اور پھر کال ڈسکنکٹ ہوگئ ربانیہ کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے" آپ ایسے نکلے میں نے آپ کو کیا سمجھا اور آپ کیا نکلے میں ہی بےوقوف تھی جو اس دن کے بعد سمجھ بیٹھی کہ آپ میری فکر کرتے ہیں۔۔۔۔۔ مگر آنسو اس کا پورا چہرہ بھگو رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔